Baaghi TV

Category: چترال

  • چترال کے سرحدی علاقے ارندو میں عوام کی پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی ریلی

    چترال کے سرحدی علاقے ارندو میں عوام کی پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی ریلی

    حالیہ پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں چترال کے سرحدی علاقے ارندو میں عوام کی بڑی تعداد نے پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک ریلی کا انعقاد کیا۔

    مظاہرین نے سرحد پار سے پاکستان میں کی جانے والی فتنہ الخوارج کی دہشتگردی کی کارروائیوں کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔عوام علاقہ نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ریلی کے شرکاء نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور سرحدوں کے تحفظ میں کردار کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا اعلان کیا اور ہر مشکل وقت میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کیا۔ریلی کے دوران قومی پرچم لہرائے گئے اور ملک کی خودمختاری، استحکام اور امن کے لیے بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ریلی کے اختتام پر ملکی سلامتی، سرحدوں کے تحفظ اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

  • چترال،روسی شہری کا68 ہزار ڈالر میں کشمیری مارخور کا شکار

    چترال،روسی شہری کا68 ہزار ڈالر میں کشمیری مارخور کا شکار

    چترال کے دور افتادہ اور پہاڑی علاقے گہریت گول میں غیر ملکی شکاری نے کشمیری مارخور کا شکار کر لیا۔ محکمہ جنگلی حیات کے مطابق یہ شکار کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد نایاب جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو براہِ راست معاشی فوائد فراہم کرنا ہے۔

    محکمہ جنگلی حیات کے حکام نے بتایا کہ روس سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی شکاری نے مارخور کے شکار کے لیے 68 ہزار امریکی ڈالر کے عوض باقاعدہ لائسنس حاصل کیا تھا۔ شکار کیے گئے کشمیری مارخور کے سینگوں کی لمبائی 41 انچ ریکارڈ کی گئی ہے، جو اس نسل کے بالغ اور صحت مند جانور کی نشاندہی کرتی ہے۔ حکام کے مطابق شکار سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور مقررہ ضوابط کے مطابق نگرانی میں کارروائی کی گئی۔محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ اس رقم سے علاقے میں تعلیم، صحت، بنیادی انفراسٹرکچر، روزگار کے مواقع اور قدرتی وسائل کے تحفظ سے متعلق منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے، جس سے مقامی افراد کی معاشی حالت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

    حکام کے مطابق اس پروگرام کا بنیادی مقصد جنگلی حیات، خصوصاً نایاب اور محفوظ نسلوں کے جانوروں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ محدود اور سائنسی بنیادوں پر دیے جانے والے شکار کے اجازت ناموں کے ذریعے نہ صرف جانوروں کی آبادی کو کنٹرول اور محفوظ رکھا جاتا ہے بلکہ مقامی لوگ بھی جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ترغیب پاتے ہیں۔محکمہ جنگلی حیات نے مزید کہا کہ کمیونٹی کی شمولیت کے باعث غیر قانونی شکار میں نمایاں کمی آئی ہے اور مقامی آبادی اب جنگلی جانوروں کو نقصان پہنچانے کے بجائے ان کے تحفظ کو اپنے مفاد سے جوڑ کر دیکھتی ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ بھی ایسے پروگرام شفافیت، قانون اور ماحولیاتی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری رکھے جائیں گے تاکہ قدرتی ورثے کا تحفظ اور مقامی ترقی ساتھ ساتھ ممکن بنائی جا سکے۔

  • کیلاش قبیلے کا تین روزہ قدیم مذہبی اور ثقافتی تہوار "چلم جوشی” اختتام پذیر

    کیلاش قبیلے کا تین روزہ قدیم مذہبی اور ثقافتی تہوار "چلم جوشی” اختتام پذیر

    چترال میں کیلاش قبیلے کا تین روزہ قدیم مذہبی اور ثقافتی تہوار "چلم جوشی” اپنی تمام تر رنگینیوں اور عقیدت کے ساتھ اختتام پذیرہو گیا

    چلم جوشی تہوار وادی کالاش کی تہذیب، خوشی، ہم آہنگی اور فطرت سے محبت کی علامت بن چکا ہے، جو ہر سال ہزاروں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ سالانہ چلم جوشی فیسٹول 13 سے 17 مئی 2025 تک وادی کیلاش کی تینوں خوبصورت وادیوں رمبور، بمبوریت اور بریر میں منایا گیا۔ تہوار کا آغاز رمبور وادی میں رسم ورواج سے ہوا، دوسرے مرحلہ میں وادی بمبوریت میں سرگرمیاں جاری رہیں۔ آخری مرحلہ میں بریر وادی میں یہ خوبصورت تہوار رعنایوں کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ تہوار کو دیکھنے کے لئے 170 سے زائد غیر ملکی سیاحوں نے وادی کالاش کا رخ کیا۔ ان میں فرانس، جرمنی، امریکہ، آسٹریلیا، اٹلی، سوئٹزرلینڈ، روس، جاپان، چین، یونان، تائیوان، جنوبی کوریا، انگلینڈ، ہالینڈ، ملائشیا، انڈونیشیا اور رومانیہ سے تعلق رکھنے والے سیاح شامل ہیں۔ تہوار کے لئے مقامی پولیس کے ساتھ ساتھ فرنٹیئر کور نارتھ نے بھی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے۔ سیاحوں کا کہنا ہے کہ وادی کیلاش کی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ چلم جوشی تہوار ان کے لئے خوشگوار یادوں کا مجموعہ بن گیا ہے۔

  • ہسپانوی شکاری نے چترال میں سیزن کے دوسرے  مارخور کا شکار کرلیا

    ہسپانوی شکاری نے چترال میں سیزن کے دوسرے مارخور کا شکار کرلیا

    چترال کے علاقے میں ایک اور کشمیری مارخور کا شکار کیا گیا، جس کا شکار ہسپانوی شکاری نے کیا۔ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر (ڈی ایف او) وائلڈ لائف فاروق نبی کے مطابق، ہسپانوی شکاری نے یہ شکار چترال کے معروف علاقے گہریت گول کنزر وینسی میں کیا۔

    ڈی ایف او وائلڈ لائف فاروق نبی نے میڈیا کو بتایا کہ ہسپانوی شکاری کرسٹین ابیلو نے پانچ منٹ کے اندر 160 میٹر کے فاصلے سے مارخور کو نشانہ بنایا۔ شکاری نے اس شکار کے لیے پاکستانی حکام کو 2 لاکھ 20 ہزار ڈالر کے عوض ٹیکس ادا کیے۔یہ مارخور کا شکار سیزن کا دوسرا شکار تھا، جس سے قبل گزشتہ ماہ دسمبر میں امریکی شکاری رونالڈ جوویٹ نے بھی چترال میں ایک کشمیری مارخور کا شکار کیا تھا۔ حکام کے مطابق، رونالڈ جوویٹ نے اس شکار کے لیے اکتوبر میں پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی بولی دی تھی، جس میں اس نے 2 لاکھ 71 ہزار ڈالرز میں شکار کے پرمٹ حاصل کیے تھے۔

    پاکستانی حکومت اور مقامی حکام اس شکار کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم کو جنگلی حیات کے تحفظ اور علاقے کے مقامی باشندوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کشمیری مارخور کا شکار پاکستان میں خاص طور پر چترال میں بہت مقبول ہے، اور یہ بین الاقوامی شکاریوں کے لیے ایک بڑا کشش کا باعث بنتا ہے۔چترال میں کشمیری مارخور کے شکار پر پابندیاں اور قواعد و ضوابط موجود ہیں تاکہ ان جانوروں کی نسل کی حفاظت کی جاسکے۔

    گوجرانوالہ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کی تقریب منعقد، کیک کاٹا گیا

  • کیلاشی لڑکی سے شادی کے لئے چین کا شہری چترال پہنچ گیا

    کیلاشی لڑکی سے شادی کے لئے چین کا شہری چترال پہنچ گیا

    کیلاشی لڑکی سے شادی کے لئے چین کا شہری چترال پہنچ گیا
    سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی، بات شادی تک جا پہنچی، چینی شہری شادی کرنے کے لئے پاکستان کے شہر چترال پہنچ گیا،چینی شہری اوجن کی کیلاشی لڑکی شاہین آرا سے سوشل میڈیا پردوستی ہوئی جو بڑھتی چلی گئی، چینی باشندے اوجن اور نے چترال پہنچ کر کیلاشی لڑکی سے شادی کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی ہے، عدالت میں درخواست پر سماعت بھی ہوئی تا ہم چینی باشندے کی شادی میں رکاوٹ اس وقت پیدا ہوئی جب اسکو تصدیق کنندہ نہ ملا

    پولیس حکام کے مطابق چینی باشندہ کیلاش میں ہی ہے،اس نے تصدیق کنندہ پیش کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت مانگا ہے،چینی شہری 3 ماہ کے ویزٹ ویزے پر پاکستان آیا ہے ،چینی باشندہ اوجن لاہور میں کسی کمپنی کے ساتھ منسلک ہے،اسکے پاس تمام سفری دستاویزات بھی موجود ہیں، چینی باشندہ دو ہفتوں سے کیلاش میں موجود ہے

    کیلاش سے چینی باشندے کے ساتھ شادی کی خواہشمند شاہین آرا کے بارے میں سامنے آیا ہے کہ وہ رمبور کی مکین ہے اور تعلیم حاصل کر رہی ہے،بی ایس کی اسکی کلاسز چل رہی ہیں، شاہین آرا ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ویڈیو بنا کر شیئر کرتی تھی، سوشل میڈیا پر ہی شاہین آرا کی چینی باشندے سے دوستی ہوئی،

    کیلاش ویلی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے کیلاش وادی کے طلباء میں چار ہزار پودے مفت تقسیم کئے

    سیاحت کے فروغ کیلئے وادی کیلاش کامتبادل راستہ غوچارکوہ سڑک دوبارہ تعمیر کی جائے،میجر ریٹائرڈ شہزادہ سراج الملک

    چترال:وادی کیلاش کی سڑک کی محفوظ جگہ از سرنوتعمیراوردریائے رمبورسے ملبہ ہٹانے کامطالبہ

    شدید برف باری سے وادی کیلاش بری طرح متاثر ،مواصلاتی نظام درہم برہم

    وادی رمبور ،کیلاش قبیلے کی معروف شخصیت دورم شاہ انتقال کرگئے

    نصر اللہ سے شادی کرنے والی انجو کیلاش پہنچ گئی

    چترال :گلوف ٹو پراجیکٹ،حفاظتی دیواریں،کمیونٹی ہال کی تعمیر،لوگ سیلاب کی تباہ کاریوں سے مٖحفوظ ہوگئے

    چترال :دروش ،2 افراد کاجنگل میں سفاکانہ قتل۔ ورثاء کالاشیں روڈ پر رکھ کر احتجاج

    چترال :گلیشئیر پھٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہی

    شندور پولو فیسٹیول اختتام پذیر، چترال کی گلگت کو شکست

  • چترال سے نمائندہ باغی ٹی وی گل حماد فاروقی وفات پا گئے

    چترال سے نمائندہ باغی ٹی وی گل حماد فاروقی وفات پا گئے

    چترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے، سینئر صحافی گل حماد فاروقی وفات پا گئے

    گل حماد فاروقی کو دل کا دورہ پڑا، انہیں مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا تا ہم انکی موت ہو گئی،انا اللہ وانا الیہ راجعون،انہیں ان کے آبائی گاؤں چارسدہ میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

    مرحوم گل حماد فاروقی عرصہ ایک سال سے باغی ٹی وی کے ساتھ وابسہ تھے، انہوں نے کیلاش فیسٹول سمیت چترال کے اہم پروگراموں کو کور کیا تھا،مرحوم نے ہر مشکل وقت میں چترال میں صحافت کو زندہ رکھا۔ مختلف ٹی وی چینلز میں بطور چیف رپورٹر بھی کام کرتے رہے اور چترال کے چیدہ چیدہ مسائل ارباب اختیار تک پہچانے کی بھرپور کوشش کی، خاص طور پر سڑکوں کے لئے ان کے جہد وجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ آج ان کی رحلت سے پوری چترال قوم ایک توانا آواز سے محروم ہوگئی۔

    نمائندہ باغی ٹی وی گل حماد فاروقی کی وفات پر سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان ، باغی ٹی وی کی ٹیم نے افسوس کا اظہار کیا ہے، مرحوم کےلئے دعائے مغفرت کی ہے اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے.

    بے باک صحافت کے علمبردار گل حماد فاروقی کو چترال پریس کلب کی رکنیت سے محروم رکھا گیا تھا،
    انچارج نمائندگان باغی ٹی وی ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کہتے ہیں کہ "مرحوم گل حماد فاروقی سے کل ہی فون پر مختلف مسائل پر تفصیل سے بات ہوئی تھی ،ان کے بقول بے باک صحافت اور مسائل پر کھل کر بات کرنے کی وجہ سے انہیں چترال پریس کلب کی رکنیت نہ دی گئی ،کہاگیا یہ مقامی نہیں ہے ،حالانکہ اخونزادہ گل حماد فاروقی کا چترال میں اپنا ذاتی گھر تھا،ان کی بیوی کا تعلق بھی چترال سے ہے ،دنیا میں تو بیوی کی وجہ سے ملکی شہریت مل جاتی ہے ،فاروقی صاحب کو ان کی خواہش کے باوجود چترال پریس کلب کی رکنیت نہ دی گئی
    اخونزادہ گل حماد فاروقی کی ناگہانی موت پر بہت افسوس ہوا ،باغی ٹی وی ایک ایسے سینئر باکمال نمائندے سے محروم ہوگیا ہے ،مدتوں تک یہ خلا پورا نہیں ہوسکے گا۔

    چترال :گلوف ٹو پراجیکٹ،حفاظتی دیواریں،کمیونٹی ہال کی تعمیر،لوگ سیلاب کی تباہ کاریوں سے مٖحفوظ ہوگئے

    چترال :دروش ،2 افراد کاجنگل میں سفاکانہ قتل۔ ورثاء کالاشیں روڈ پر رکھ کر احتجاج

    چترال :گلیشئیر پھٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہی

    شندور پولو فیسٹیول اختتام پذیر، چترال کی گلگت کو شکست

    گل حماد فاروقی اکیلا تھا مگر اپنے آپ میں ایک لشکر تھا،بیرسٹر سیف
    مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے گل حماد فاروقی کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ "آج صحافت کے درخشاں ستارے گل حماد فاروقی کی اچانک موت کا سن کر دل رنجیدہ ہوا،گل حماد فاروقی اکیلا تھا مگر اپنے آپ میں ایک لشکر تھا،اللّٰہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین”

    بلال یاسر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ "چترال ،ساری زندگی میڈیا کے ذریعے چترال اور چترالیوں کے لیے آواز بلند کرنے والے سنیئر صحافی گل حماد فاروقی کی لاش فلائنگ کوچ کی چھت پر رکھ کر آبائی علاقہ چارسدہ کے لیے روانہ کی جارہی ہے ، محسنوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ افسوسناک ہے”۔

  • چترال:1938سے قائم گورنمنٹ پرائمری سکول دروش میں "ہیلوتاس "کے تعاون سے داخلہ مہم ،آگاہی واک کی گئی

    چترال:1938سے قائم گورنمنٹ پرائمری سکول دروش میں "ہیلوتاس "کے تعاون سے داخلہ مہم ،آگاہی واک کی گئی

    چترال،باغی ٹی وی (نامہ نگارگل حمادفاروقی کی رپورٹ)1938سے قائم گورنمنٹ پرائمری سکول دروش میں "ہیلوتاس "کے تعاون سے داخلہ مہم ،آگاہی واک کی گئی

    چترال کی تحصیل دروش کے تاریخی سکول گورنمنٹ پرائمری سکول دروش میں غیرملکی این جی او ہیلو تاس اور محکمہ تعلیم کے اشتراک سے سرکاری سکولوں میں داخلہ مہم کے سلسلے میں ایک آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔ گورنمنٹ پرائمری سکول دروش 1938 میں قائم ہواتھا ،جس نے ایک صدی میں بڑے بڑے نامور شحصیات کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا ہے۔

    یہ واک اس تاریخی تعلیمی ادارے سےشروع ہع کر دروش کے پرانے بازار ،پھر نئے بازار میں سے ہوکر دروش چوک میں ایک تقریب کی شکل اختیار کر گئی۔ واک کی قیادت فیلڈ آفیسر اظہر اقبال، ڈی ای اوچترال، اے ڈی ای او لوئر چترال قاری جمال ناصر، سابق چیرمین ڈسٹرکٹ کونسل الحاج خورشید علی خان، صدر تاجر یونین دروش حاجی گل نواز، ویلیج کونسل دامیل چیئرمین شیر زمین، پرنسپل گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول دروش سلیم کامل، سکول کے ہیڈ ماسٹر اورتاجر یونین کے اراکین، سماجی کارکنان کے علاوہ کثیر تعداد میں سکولوں کے طلباء نے شرکت کی۔ طلباء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جس پر یہ نعرہ درج تھا کہ علم سب کیلئے۔

    ہیلویتاس اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس چترال کے اشتراک سے چترال میں داخلہ مہم جاری ہے، یہ مہم چترال ٹاؤن، دروش، کیسو اور کلکٹک میں چلائی گئی ،جسمیں شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد کے علاوہ اہل علاقہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تعلیم سب کے لئے کا نعرہ لیکر چلائی جانے والی اس مہم کا مقصد5 سال اور اس سے زائد عمر کے بچوں کے سکولوں میں داخلے کو یقینی بنانا تھا۔

    تقریب میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ہر بچے کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی یہ مہم جاری رہے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے پانچ سال کی عمر کے بچوں کو ضرور سرکاری سکولوں میں بھیجیں، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے کہا کہ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو ضرور کسی بھی سکول بھیجیں تاکہ وہ تعلیم سے محروم نہ رہیں۔

    وی سی چیئرمین حاجی شیر زمین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ تعلیمی سال شروع ہوچکا ہے اور چار ماہ گزرنے کے بعد بھی سرکاری سکولوں میں ابھی تک مفت کتابیں نہیں بھیجی گئیں جس کی وجہ سے بچوں کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے، ایک طرف حکومت لوگوں پر زور دے رہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں بھیجیں جبکہ دوسری جانب سرکاری سکولوں میں چار ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک مفت کتابیں دستیاب نہِیں ہیں تو بچوں کو کیسے معیاری تعلیم دلاسکیں گے۔

    تاجر یونین حاجی گل نواز، الحاج خورشید علی خان، اظہار اقبال اور دیگر نے بھی اس موقع پر اظہارخیال کیا۔ داخلہ مہم کے سلسلے میں آگاہی واک اور تقریب کیلیے اس تاریخی سکول کو اس لئے منتخب کیا گیا کہ یہ 1938 کو وجود میں آیا تھا اور اس سکول میں پڑھنے والے طالب علم بیرون ممالک میں سفیر، چیف سیکرٹری، ڈاکٹر، پروفیسر، سول، فوجی اور پولیس افسران بھی ان میں شامل ہیں۔

    اس کا مقصد بچوں کو اس طرف راغب کرنا تھا کہ اگر وہ بھی دل لگاکر شوق سے پڑھیں گے تو بڑے ہوکر وہ بھی بڑا آدمی بن سکتے ہیں، پروگرام آخر میں اسی سکول میں اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر انعام اللہ نے چند بچوں کو داخل کراکے مہم کا باقاعدہ آغاز کروایا۔

  • چترال:علاقہ پرسن میں پہاڑ گرگیا،کئی ہفتوں سے راستے بند،اشیائے خوردونوش ختم،مریض گھروں میں مرنے لگے

    چترال:علاقہ پرسن میں پہاڑ گرگیا،کئی ہفتوں سے راستے بند،اشیائے خوردونوش ختم،مریض گھروں میں مرنے لگے

    چترال،باغی ٹی وی (گل حمادفاروقی کی رپورٹ)علاقہ پرسن میں پہاڑ گرگیا،کئی ہفتوں سے راستے بند،اشیائے خوردونوش ختم،مریض گھروں میں مرنے لگے

    تفصیل کے مطابق چترال کے علاقے پرسن میں پورا پہاڑ گرنے سے راستہ ہر قسم کے ٹریفک کیلئے بند پڑا ہے، لوگوں کے گھروں میں راشن اور دوسریاشیاءخوردنی بھی ختم ہو چکی ہیں۔دو روزقبل یہاں سے دو مریضوں کو اسٹریچر کے ذریعےچار گھنٹے پیدل چلنے کے بعد گاڑی تک پہنچایا گیا۔

    راستے بند ہونے کی وجہ سے علاقے میں مریض علاج کیلئے ہسپتال نہ پہنچ سکنے اور علاج نہ ہونے اور ادویات نہ مل سکنے کی وجہ سے مررہے ہیں ،لوگ اپنے پیاروں کو اپنی آنکھوں سامنے مرتا دیکھنے پر مجبور ہوچکے ہیں

    اوریہاں کی عوام نےمتعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ ان کے ساتھ بھر پور تعاون کرکے اس راستے کو فوری کھولا جائے تاکہ لوگ اپنے مریضوں کو تو علاج کیلئے کم از کم بر وقت ہسپتال پہنچا سکیں اور گھر میں پڑے ہوئے ان کی موت کا انتظار نہ کریں،اور اشیائے خوردنی بھی گھروں میں لاسکیں

  • چترال :ہیلویتاس کے اشتراک سے  سرکاری سکولوں میں داخلہ مہم ، آگہی واک اور  تقریب کاانعقادکیاگیا

    چترال :ہیلویتاس کے اشتراک سے سرکاری سکولوں میں داخلہ مہم ، آگہی واک اور تقریب کاانعقادکیاگیا

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی) ہیلویتاس اور محکمہ تعلیم کے اشتراک سے سرکاری سکولوں میں داخلہ مہم ، آگہی واک اور تقریب کاانعقادکیاگیا

    چترال کے سرکاری سکولوں میں داخلہ مہم کے سلسلے میں ایک واک اور گورنمنٹ پرائمری سکول چترال میں ایک تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا۔ واک کی قیادت اسسٹنٹ کمشنر چترال ڈاکٹر عاطف جالب کررہے تھےجبکہ ان کے ہمراہ سکول کا ہیڈ ٹیچر اور محکمہ تعلیم کے اہلکار بھی موجود تھے۔

    سکولوں میں داخلہ مہم اور عوام کو ان کی طرف راغب کرنے کیلئے اس واک اور تقریب کا اہتمام ہیلویٹاس کے تعاون سے منعقد کرایا۔ اس واک میں محکمہ تعلیم کے اہلکار بچے اور بچیاں اور اساتذہ بھی شامل تھے۔

    واک چترال بازار سے ہوتے ہوئے گورنمنٹ پرائمری سکول میں اختتام پذیر ہوئی۔ اس کے بعد اسی سکول میں ایک تقریب بھی منعقد ہوئی، تقریب سے محکمہ تعلیم کےآفیسران ، اساتذہ اور ضلعی انتظامیہ کے افسران نے بھِی اظہار خیال کیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ایجوکیشن آفیسر شاہد حسین نے کہا کہ سرکاری سکولوں میں کوشش کی جاتی ہے کہ طلباء معیاری تعلیم حاصل کریں۔

    اے سی چترال ڈاکٹر عاطف جالب نے کہا کہ سرکاری سکول اب معیاری تعلیم میں کسی سے کم نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ میں یقین سے کہتا ہوں کہ جو بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں سبق پڑھتے ہیں وہ کسی بھی طرح نجی سکولوں میں پڑھنے والے بچوں سے پیچھے نہیں ہے۔

    انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرائیں اور کم از کم ہفتہ دو ہفتے بعد سکول جاکر ان کی کارکردگی بھی پوچھا کریں، اس سے ایک طرف بچے اور ان کے اساتذہ کو بھی احساس ہوگا کہ ان کی نگرانی بھی کی جارہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ان سرکاری سکولوں کی معیار بہتر کرنے کیلیے ہر طرح کی کوشش کررہی ہے عوام کو چاہیے کہ وہ اس سے بھر پور طریقے سے استفادہ حاصل کرتے ہوئے اپنے بچوں کو ان سکولوں میں داخل کرائیں۔

    انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا جو نعرہ ہے کہ علم سب کیلئے اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں چاہیے کہ ہر بچے کو سکول بھیجیں تاکہ کوئی بھی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے۔

    سرکاری سکولوں میں داخلہ مہم یکم مارچ سے شروع ہوئی تھی جو تیس اپریل تک جاری رہے گی۔ اس دوران پاکستانی بچوں کے ساتھ ساتھ افغان مہاجرین کے بچے بھِی ان سکولوں میں داخل کرائے جاتے ہیں تاکہ وہ بڑے ہوکر اعلے تعلیم یافتہ بن سکے اور تعلیم سے محروم رہ کر کسی قسم کے منفی سرگرمیوں یا جرائم پیشہ نہ بن جائیں

    محکمہ تعلیم کے اہلکاروں نے کہا کہ لوئر چترال کے لیے اس سال داخلے کا ہدف 5416 مقرر ہے جن میں سے2700بچوں نے ان سکولوں میں داخلہ لیا ہوا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ان میں سے 1300طلباء نجی تعلیمی اداروں سے آکر سرکاری سکولوں میں داخلہ لے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی سکولوں سے اپنے بچوں کو نکال کر سرکاری سکولوں میں داخل کرنے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عوام کا ان سکولوں پر اعتماد بحال ہوچکا ہے۔

    ڈی ای او شاہد حسین نے کہا کہ گزشتہ سال لوئر چترال کارکردگی کے لحاظ سے صوبہ بھر میں ٹاپ تھری پوزیشن میں رہا جو ایک خوش آئند بات ہے اور داخلہ بھی اپنے ہدف سے زیادہ ہوا تھا۔

    ہیلوٹاس کے فیلڈ آفیسر اظہر اقبال نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ادارہ 1980میں قائم ہوا ہے اور ملک بھر میں افغان مہاجرین کے بچوں اور بچیوں کو فارمل اور نان فارمل تعلیم دلانے میں بھر پور انداز سے کوشش کررہے ہیں ۔ اس تنظیم کے تعاون سے سکول میں آنے والے نئے بچوں اور بچیوں کو سکول بیگ بھی دیے گیے جن کا اے سی چترال نے باقاعدہ داخلہ رجسٹر میں انٹری کرکے ان کو داخل کروایا۔

    اس تقریب میں کثیر تعداد میں طلباء، اساتذہ اور سماجی کارکنوں نے بھِی شرکت کی جو بعد میں مولوی محمد ولی انصاری کی دعاعیہ کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

  • پاک افغان سرحدی علاقے” ارندو” کی سڑک دو دن کھلنے کے بعد برساتی نالہ میں طغیانی کی وجہ سے دوبارہ  بند

    پاک افغان سرحدی علاقے” ارندو” کی سڑک دو دن کھلنے کے بعد برساتی نالہ میں طغیانی کی وجہ سے دوبارہ بند

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ) سرحدی علاقے” ارندو” کی سڑک دو دن کھلنے کے بعد برساتی نالہ میں طغیانی کی وجہ سے دوبارہ بند

    چترال میں بارشوں اور ندی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے پاک افغان سرحدی علاقہ ارندو میں بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچ گئی ہ، میر کھنی سے ارندو، لنگوربٹ، دامیل نثار، کوتائی اور رام رام سڑک پر جگہ بھاری پتھر اور پہاڑی تودے گرنے اور اس سڑک پر موجود مختلف ندی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے یہ سڑک ہر قسم کے ٹریفک کیلئے بند ہو گئی تھی۔ تاہم ڈپٹی کمشنر چترال اے سی دروش، ایگزیکٹیو انجنئیر محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس ( سی اینڈ ڈبلیو) انجنیر طارق مرتضے کی ہدایت پر شاہ محمد ٹھیکیدار نے فوری ان سڑکوں کی صفائی پر بھای مشینری لگاکر ان کی صفائی کا کام شروع کروایا۔

    مسلسل محنت کے بعد ان سڑکوں کو ہر قسم کے ٹریفک کیلیے کھول دیاگیا تھا جبکہ لنگور بٹ سڑک پر بھی صفائی کی کام کا آغاز آج ہونا تھا، تاہم جمعرات کے شب سے چترال میں ایک بار پھر بارشوں کا سلسلہ جاری ہوا جس کی وجہ سے مختلف ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔

    لنگور بٹ کے مقام پر برساتی نالے میں طغیانی کی وجہ سے ارندو کی سڑک ایک بار پھر بند ہوگئی،جس کی وجہ سے مسافروں کو کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا اور کئی مسافر گاڑیاں سڑک کے کنارے کھڑی رہیں جن میں خواتین اور بچے بھِی موجود تھے۔ تاہم محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے ہدایت پر ٹھیکیدار کی مشینری سٹینڈ بائی کھڑی ہے اور بارش رکنے کی انتظار میں ہے جونہی سیلاب کا سلسلہ بند ہوگا اس سڑک کو دوبارہ ٹریفک کیلئے کھول دیا جایے گا۔

    اس کے علاوہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے دروش گول کے برساتی نالے میں بھی بلڈوزر اور ایکسیویٹر مشین لگاکر اس کی بھل صفائی کا کام شروع کروایا دیا ہےاور اس نالے کے بیچ میں سے ملبہ کناروں پر ڈالتے ہوئے اس کی صفائی کا کام شروع کردیاگیاہے تاکہ پانی کی سطح بلند ہونے کی صورت مِیں اس نالے کے کنارے آباد دکانوں اور مکانوں کو نقصان نہ پہنچے۔ ان ندی، نالوں کی صفائی کے ساتھ ساتھ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے بیوڑی سڑک، جنجیریت، ارسون، سویر، شیشی مڈگلشٹ اور کوتائی کی سڑکوں کو بھی صاف کرکے ان کو ہر قسم کے ٹریفک کیلیے کھول دیا۔

    گذشتہ روز محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے سپرنٹنڈنٹ انجنیر منیر احمد اور ایگزیکٹیو انجنیر طارق مرتضے نے خود ہی ارندو سڑک کا معائنہ کیا اور اپنے عملہ کے ساتھ ساتھ متعلقہ ٹھیکیدار کو بھی ہدایت کی کہ وہ اپنی مشینری تیار رکھے جب بھی یہ سڑکیں بند ہوتی ہیں انہیں فوری طور پر کھول دیا کرے۔

    دروش کے ایک بزرگ شہری عبد الرحمان بابا نے کہا کہ دروش گول نالہ کی وجہ سے ہمیں بار بار نقصان کا سامنا کرنا پڑتا تھا ،انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی (ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ) اس نالے کی بھل صفائی نہیں کرتے اور کئی سالوں سے اس میں ملبہ جمع ہوتا رہہاے جس کی وجہ سے جب بھی معمولی سا سیلاب آتا ہے تو پانی ہماری کھیتوں، گھروں، اور دکانوں کو تباہ کردیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے پہلے اس نالے کی بھل صفائی کرکے اس سے ملبہ صاف کرنا چاہیے تاکہ یہ علاقے کے لوگوں کیلئے مصیبت کا باعث نہ بنے۔

    کورو سے تعلق رکھنے والے محمد شعیب نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ جب بھی اس نالے مِیں سیلاب آتا ہے تو ہم لوگ ڈر کی وجہ سے سو نہیں سکتے کہ کہیں سوتے وقت سیلاب آکر ہمیں بہاکر نہ لے جائے اب جب سے اس نالے میں صفائی کا کام شروع ہوا ہے تو ہم سکون کی نیند سوتے ہیں۔

    ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر دروش محمد علی نے بتایا کہ مسلسل بارشوں کے بعد دروش گول نالے میں سیلاب آتا رہتا ہے اور اس کے کنارے آباد لوگوں کو شدید خطرہ لاحق ہے اب ہم نے ٹھیکیدار کے ذریعے اس کی صفائی کا کام شروع کروایا ہے، جس سے کافی حد تک خطرہ ٹل جائے گا۔ انہوں نے تصدیق کرلی کہ سیلاب سے پہلے اس نالے نے ملبہ ہٹانا چاہیے تاکہ طغیانی کی صورت میں لوگوں کیلئے جانی اور مالی نقصان کا باعث نہ بنے۔

    ارندو سے تعلق رکھنے والے حاجی سلطان نے بتایا کہ ارندو وہ بدقسمت علاقہ ہے کہ کچھ تو سرکار کی عدم توجہ کی وجہ سے پسماندہ ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس جدید دور میں بھی سرکاری بجلی، موبائل فون، انٹرنیٹ ، ڈی ایس ایل ، ڈاکٹر وغیرہ نہیں ہے اور کچھ قدرتی آفات کی وجہ سے یہ علاقہ بری طرح متاثر ہورہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ارندو کی اس خوبصورت مگر پسماندہ علاقے پر توجہ دینا چاہیے اور مستقل بنیادوں پر یہاں ترقیاتی کاموں کا آغاز کرناچاہیے تاکہ ان لوگوں کی زندگی مِیں آسانیاں پیدا ہوسکیں۔

    شہزادہ جان اس علاقے کا باشندہ ہے اس نے کہا کہ یہ سڑک دس دنوں سے بند پڑی تھی کل محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے اسے ٹریفک کیلئے کھول دیا تھا مگر آج پھر بارش کے بعد طغیانی آئی اور ایک بار پھر سے یہ سڑک بند ہوگئی ہے.

    حبیب اللہ بھی ارندو کا باسی ہے جو سیلابی پانی میں جان جوکھوں میں ڈال کر اسے پیدل عبور کیا ان کا کہنا ہے کہ وہ صبح بھی اسی برساتی نالے میں پیدل گیا تھا اور واپس اس میں اندر داخل ہوکر پیدل اسے عبور کرکے گھر جارہا ہے، جس مِیں اس کی جان بھی جاسکتی ہے، مگر کیا کرے مجبوری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بد قسمتی سے اس علاقے میں نہ تو موبائل فون ہے اور نہ انٹرنیٹ کی سہولت تاکہ ہم کسی بھی ہنگامی صورت حال میں ریسکیو 1122ا،فائربریگیڈ یا ایمبولنیس والوں کو اطلاع دے سکیں یا مصیبت کے گھڑی میں اپنے رشتہ داروں کی خیر خیریت دریافت کرسکیں۔

    واضح رہے کہ چترال کے دیگر علاقوں کی طرح پاک افغان سرحد پر واقع ارندو کے علاقے میں بھِی بڑے پیمانے پر سیلاب نے تباہی مچائی ہے جہاں سڑکوں، آبپاشی کی ندیوں،پینے کے پانی کی پائپ لائن کے ساتھ ساتھ لوگوں کے مکانات، دکانیں بھی گرچکے ہیں مگر ابھی تک یہ متاثرین حکومتی امداد کی راہ تک رہے ہیں۔

    متاثرہ لوگوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جن کا نقصان ہوا ہے ان کی مالی امداد کی جائے اور جہاں سڑکیں، راستے، پل وغیرہ سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوچکے ہیں انہیں جلد دوبارہ بحال کیا جائے تاکہ ان لوگوں کی مشکلات میں کمی لائی جاسکے۔