Baaghi TV

Category: چترال

  • انتخابی مہم،پیسے دینے کی ویڈیو وائرل،سینیٹر طلحہ محمود کی الیکشن کمیشن طلبی

    انتخابی مہم،پیسے دینے کی ویڈیو وائرل،سینیٹر طلحہ محمود کی الیکشن کمیشن طلبی

    الیکشن کمیشن نےچترال کے حلقہ این اے ون سے امیدوار طلحہٰ محمود کو طلب کرلیا

    الیکشن کمیشن کی جانب سے طلحہ محمود کو طلب کیا گیا ہے، طلحہ محمود کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں وہ ووٹر کو نہ‌صرف پیسے دے رہے ہیں بلکہ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ نتائج خود چیک کریں گے، طلحہ محمود یہ بھی کہتے ہیں کہ اچھا ریزلٹ چاہئے،ہر جگہ میرا پیغام پہنچائیں، راشن کی تقسیم کا کام شروع ہونے والا ہے،میں خود نتائج چیک کروں‌گا،ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طلحہ محمود ایک شخص کو پیسے دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیگ پکاؤ، سب کو کھانا کھلاؤ، باقی بعد میں ساری چیزیں دیکھتے ہیں.

    الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش نہ ہونےکی صورت میں طلحہٰ محمود کو کارروائی سے خبر دار بھی کردیا گیا ہے۔طلحہ محمود این اے ون سے جے یو آئی کے امیدوار ہیں،

    جمیعت علمائے اسلام کے امیدوار برائے قومی اسمبلی این اے ون چترال سینیٹر طلحہ محمود نے جامعہ ریحان کوٹ میں مدرسے کے طالب علموں اور علمائے کرام کی موجودگی میں اعلان کردیا کہ وہ کوہستان میں الیکشن سے دستبردار ہو کر صرف چترال سے الیکشن لڑیں گے۔ سینیٹر طلحہ محمود الیکشن کمیپن کے سلسلے میں ان دنوں چترال میں موجود ہیں اور چترال لوئر میں بھرپور انداز میں الیکشن کمپین چلا رہے ہیں ۔ چترال لوئر میں اپنے نگرانی میں سال دو ہزار چوبیس کے انتخابات کے حوالے سے رابط مہم کا آغاز کردیا ہے اس کے بعد چترال لوئر سے فارغ ہونے کے فوری بعد اپر چترال کے دورے پر جائیں گے۔

    جامعہ اسلامیہ ریحان کوٹ کے بعد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن میں منعقدہ پروگرام میں بھی بطور مہمان شرکت کی اور وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چترال میں الیکشن لڑانے کے لیے مدعو کیا گیا ہے اور اب کوہستان کے بجائے چترال سے الیکشن میں حصہ لینگے ۔ آج تک میں نے حکومتی خزانے سے ایک پناڈول تک کی گولی نہیں لیا ہے ہمیشہ دیانت داری سے کام لیا ہے ۔چترال سے کامیابی کے بعد چترال کا نقشہ یکسر مختلف ہوگی یہان حکومتی خزانے سے کام کے علاؤہ طلحہ محمود فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام سینکڑوں چھوٹے بڑے پراجیکٹ پر کام کریں گے جس سے چترال میں ترقی کے راہ ہموار ہونگے ۔

    صارفین کا کہنا ہے کہ "تنظیم سازی” کرنے والوں‌کو ٹکٹ سےمحروم کر دیا گیا

    شیر افضل مروت کی پریس کانفرنس سے لاتعلقی کا اظہار

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

     مروت کی گرفتاری کے بعد الیکشن کمیشن کس منہ سے کہتا ہے لیول پلینگ فیلڈ تحریک انصاف کو دی 

     ایسا ریکارڈ نہیں جس سے شیر افضل مروت کے خلاف کوئی کرپشن چارجز ہوں

  • باغی ٹی وی پر خبر شائع ہونے کے بعد وادی رومبور کی ڈسپنسری کو ادویات کی فراہمی

    باغی ٹی وی پر خبر شائع ہونے کے بعد وادی رومبور کی ڈسپنسری کو ادویات کی فراہمی

    ادویات کی فقدان کی خبر رنگ لے آئی لکشن بی بی کی طرف سے سول ڈسپنسری ہسپتال رومبور کو ادویات فراہم کر دی گئیں۔ غریب عوام کی دعائیں

    چترال ( فتح اللہ) ایک ہفتے پہلے باغی ٹی وی پر سابق ویلچ کونسلر رومبور عنایت اللہ شیخ قریشی کا حوالہ دے کر ایک بیان جاری شائع کیا گیا تھا جس میں وادی رومبور کے سول ڈسپینسری ہسپتال میں ادویات کی فقدان اور دیوار کی تعمیر کے حوالے سے عنایت اللہ شیخ نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ادویات کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کوٹے سسٹم میں اضافہ کیا جائے تاکہ وادی رومبور جیسے دور افتادہ علاقے کے عوام بنیادی ادویات فری میں حاصل کر سکیں اور دیوار کو از سر نو تعمیر کیا جائے تاکہ باپردہ خواتین اور ہسپتال کے املاک حفاظتی دیوار کی وجہ سے محفوظ ہو ،باغی ٹی وی پر خبر شائع ہونے کے بعد نمائندہ باغی ٹی وی فتح اللہ سے لکشن بی بی نے رابطہ کیا اور بنیادی ادویات کی فراہمی میں مالی معاونت کا اعلان کیا ۔ جس کے بعد لکشن بی بی کی طرف سے پہلے مرحلے میں بنیادی ادویات فتح اللہ اور عنایت شیخ کی نگرانی میں سول ڈسپنسری ہسپتال کے انچارج کو حوالہ کر دیا گیا ہے ۔

    سابق ویلچ کونسلر و سماجی شخصیت عنایت اللہ شیخ قریشی نے کہا کہ لکشن بی بی کی بروقت ادویات کی فراہمی پر پورے علاقے کے لوگوں کی طرف سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ سات سمندر پار مقیم ہونے کے باوجود اپنے علاقے کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں ہیں ۔ مختلف اوقات میں یہاں کے بنیادی مسئلے اور غریبوں کی زاتی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ لکشن بی بی کی طرف سے سٹوڈنٹس کو ، ضرورت مندوں کو بیماروں کو ہمشہ امداد ملتے رہے ہیں ۔ ماضی میں بھی وادی رومبور کے تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کر چکی ہے اور مزید بھی توقع رکھتے ہیں کہ اس طرح علاقے کی فلاح و بہبود کی کوششیں جاری و ساری رہے تاکہ غریب اور پسماندہ علاقے کے لوگوں کو ریلیف مل سکیں ۔

    وادی رومبور کے سول ڈسپنسری ہسپتال میں ادویات کی فقدان 

    ادویات کی فراہمی پر علاقے کے لوگوں نے لکشن بی بی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس سرد موسم میں برفباری کے باعث امدورفت میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے اور سردیوں میں بیماریاں بھی بڑھ جاتی ہیں اور سول ڈسپنسری ہسپتال میں ادویات نہ ہونے کی وجہ سے بنیادی علاج سے محروم ہوتے آئے ہیں ۔اس بار لکشن بی بی نے خصوصی طور ہمدردی کیا ۔ جس پر ہم لکشن بی بی کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے دعا گو ہیں کہ وادی رومبور کے عوام کی درد رکھنے والی بیٹی کو اللہ تعالیٰ اپنے حفظ و امان میں رکھے اور ان کی اس کارخیر پر جان و مال میں برکت عطا فرمائے ۔ آمین

  • چترال،فنڈز کی کمی،مریضوں‌کی منتقلی ،ایمبولینس میں تیل ڈالنے کیلیے چندہ جمع کیا گیا

    چترال،فنڈز کی کمی،مریضوں‌کی منتقلی ،ایمبولینس میں تیل ڈالنے کیلیے چندہ جمع کیا گیا

    ایمرجنسی سروس کے لیے ایمبولینس میں تیل ڈالنے کے لیے فنڈز ندارد ، لوگ چندہ کرکے سرکاری ایمبولینس میں تیل ڈالنے پر مجبور

    چترال ( فتح اللہ ) گولدور چترال میں آتشزدگی کا ایک دلخراش واقعہ رونما ہوا جس میں گیس سلنڈر پھٹنے سے چھ بچوں سمیت تین خواتین جھلس گئیں ، ڈی ایچ کیو ہسپتال میں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد دی گئی تاہم مزید علاج کے لیے انھیں پشاور منتقل کرنے کے لیے ایمبولینس میں تیل ڈالنا بھی ایک الگ معمہ بن گیا ، موقع پر بتایا گیا کہ صحت کارڈ کی سہولت بند ہونے اور ایمبولینس میں تیل ڈالنے کے لئے فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے ادارہ مشکلات کا شکار ہے، جس کے باعث ڈپٹی کمشنر اور موقع پر موجود لوگوں کی طرف سے چندہ کرکے ایمبولینس میں تیل ڈالا گیا۔

    زیر نظر تصویر میں ڈپٹی کمشنر چترال محمد عمران تیل کی کوپن پر دستخط کر رہے ہیں ۔
    chitral

  • وادی رومبور کے سول ڈسپنسری ہسپتال میں ادویات کا فقدان

    وادی رومبور کے سول ڈسپنسری ہسپتال میں ادویات کا فقدان

    وادی رومبور کے سول ڈسپنسری ہسپتال میں ادویات کی فقدان شدید اختیار کر گیا ۔ حفاظتی دیوار بھی موجود نہیں ،

    چترال ( فتح اللہ) وادی رومبور کا شمار سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے یہاں مقامی لوگوں سمیت ہزاروں سیاح سیر و تفریح کیلئے آتے ہیں۔ مگر یہاں صحت کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی سہولت موجود نہیں ہے ۔ وادی رومبور میں صحتِ عامہ کا مسئلہ حل طلب ہے بد قسمتی سے ابھی تک یہان کے سول ڈسپینسری ہسپتال میں سہولیات نہ ہونے کا برابر ہے ۔ جس کے باوجود بھی یہاں کے عملے عوام کی خدمت میں مصروف ہیں ۔

    عنایت اللہ شیخ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سول ڈسپنسری ہسپتال میں اسٹاف کی جانب سے فراہم کردہ خدمات سے مطمئن ہیں جبکہ یہاں پر ادویات کی کمی اسٹاف اور عوام کے درمیان بدنظمی کا ماحول پیدا کر رہا ہے جس کے لیے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر لوئر چترال کو چاہیے کہ وادی رومبور کے سول ڈسپنسری ہسپتال کو وافر مقدار میں ادویات فراہم کیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو ، یہ وادی چترال سے کافی دور ہے دور افتادہ ہونے کی وجہ سے یہان سے چترال یا آیون جانے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے جبکہ یہان موسم سرما کی شدت سردی کی وجہ سے نزلہ ،زکام ، گلے میں خرش اور بخار جیسے درجنوں بیماریوں میں اضافہ ہورہاہے ۔ جس پر کوئی بھی غریب عوام چالیس سے پچاس کلومیٹر سفر کرکے علاج نہیں کرسکتے ہیں ۔ لہذا ڈسٹرکٹ انتظامیہ خصوصی طور پر اس پر عملدرآمد کرایے تاکہ ہم بھی آسانی سے علاج کرانے میں کامیاب ہو جائے ۔

    مزید بتایا کہ یہاں ہسپتال کی حفاظتی دیوار بھی بارش کے باعث گر گیا تھا اور عرصہ دراز سے یہان پر بھی کوئی کام نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے یہان آنے والے باپردہ خواتین بھی پریشان ہیں جس کے علاؤہ یہاں کے املاک بھی غیر محفوظ ہیں ۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سے گزارش کرتے ہیں کہ وادی رومبور کے سول ڈسپینسری ہسپتال کے مسائل پر خصوصی توجہ دے کر فوری طور پر حل کیا جائے ۔

  • بزرگ سیاست چھوڑیں، گھر مدرسہ میں بیٹھ کر ملک کیلئے دعا کریں،بلاول نے ہاتھ جوڑ دیئے

    بزرگ سیاست چھوڑیں، گھر مدرسہ میں بیٹھ کر ملک کیلئے دعا کریں،بلاول نے ہاتھ جوڑ دیئے

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین، سابق وزیر خارجہ بلاول زرداری نے چترال میں ورکر کنونش سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں بے نظیر کے مکمل مشن کو مکمل کرنا چاہتا ہوں،پرانے سیاست دان سیاست چھوڑ دیں، انکے فیصلوں سے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے.

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ پرانے سیاستدانوں سے جان چھڑوانی ہے، میں اپنے بزرگوں کا احترام کرتا ہوں، ہم پی ٹی آئی کی طرح نہیں ہیں کہ گالی دینا شروع کر دیں، ہم عزت کا خیال کرتے ہیں، پرانے سیاستدانوں سے یہ اعتراض نہیں کہ وہ بزرگ ہیں ،اعتراض یہ ہے کہ وہ یہ سیاست کر رہے ہیں جس سے ملک تباہ ہوا، ستر سال سے یہی ہو رہا، میاں صاحب تیسری بار وزیراعظم بنے تو یہ کہا تھا کہ وہ پرانی سیاست کو چھوڑیں گے اور نئی سیاست لے کر آئیں گے، جب پی ڈی ایم کو حکومت ملی تو وہی پرانی سیاست، ہمارا بزرگوں سے احترام سے مطالبہ ہے کہ پرانا سیاست چھوڑ دیں، گھر بیٹھیں،مدرسہ میں بیٹھیں، ملک کے لئے دعا کریں، اب کام ہم نے کرنا ہے اور کر کے دکھائیں گے، نواز شریف کو جب وزیراعلیٰ پنجاب بنایا گیا تو عمر کیا تھی؟ مولانا فضل الرحمان نے جب سیاست شروع کی تو عمر کیا تھی، بینظیر جب مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنی تو سب سے نوجوان وزیراعظم بنیں، اور اب پاکستان کا ستر فیصد جوان ہے، انکو نظر آ رہا ہے کہ پرانا سیاستدان، ایک دو الیکشن جنہوں نے لڑنا وہ کتنا کام کر سکتے، فیصلے آج کی سوچ کے ہوتے ہیں کل کے لئے نہیں، ان فیصلوں‌کا بوجھ نوجوانوں کو اٹھانا پڑے گا،عمران خان کی حکومت ٹک ٹاکر کی تھی، نوازشریف کی حکومت اشرافیہ کی ہو گی

    https://twitter.com/NasirKashmiri07/status/1727267827839553887

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو قسمت اپنی ہاتھ میں لینی ہو گی، الیکشن ہونے جا رہے ہیں، ایسی جماعت کو کامیاب کروائیں جس کی تاریخ یہ ہے کہ جب بھی پی پی کی حکومت بنی تو پسماندہ علاقوں کی حکومت بنی،میں چاہتا ہوں اس ملک میں عوامی راج قائم کروں،میں سب کا شکر گزار ہوں کہ وفاداری کی آج چترال میں مثال قائم کی ہے، ہم ایک بار پھر چترا ل کی تین سیٹیں جیتیں گے اور ثابت کریں گے کہ چترال کے لوگ وفادا ر ہیں کل بھی بھٹو شہید کے ساتھ تھے اور آج بھی بھٹو شہید کے ساتھ ہیں، میرا آپ سے وعدہ ہے کہ قائد عوام اور بینظیر کے مکمل مشن کو میں اور آپ ملکر مکمل کریں گے، میرا وعدہ ہے سابق فاٹا کو پاکستان میں ٹیکس فری زون بنائیں گے تا کہ یہاں ترقی ہو اور میں افغانستان کو دکھاؤں کہ ہم فخر کرتے ہیں کہ کس طرح فاٹا کے لوگوں کے لئے کام کیا.میں صرف نعروں، وعدوں پر الیکشن نہیں لڑ رہا،چترال کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہم اسکو ختم کریں گے.یہاں کے لوگوں نے نعرہ مشہور کرایا تھابے نظیر آئے گی روز گار لائے گی،بلاول نے اپنا زمین اپنا مکان پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت میں آئے تو لوگوں کو گھر بنا کر دیں گے، کچی آبادیوں والوں کو مالکانہ حقوق دلواؤں گا.مجھے وفاق میں حکومت کی ضرورت ہے لیکن خیبر پختونخوا میں مجھے جیالا وزیراعلیٰ چاہیے، صوبائی حکومت چاہئے، اسکے لئے ڈبل محنت کرنی ہو گی، بار بار آنا پڑے گا تو آئیں گے، پختونخواہ کا حق ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے مطابق حق ملنے چاہئے.میں یہ حق دلواؤں گا.

    کسی کو چوتھی بار وزیراعظم بنانے کے بجائے ہمیں موقع دیں،بلاول

    کیا شہباز شریف اور انکے ساتھی 16 ماہ کی کارکردگی پر الیکشن لڑ سکتے ہیں؟بلاول

    طعنوں کی سیاست سے پرہیز کرنا چاہئے، احسن اقبال کا بلاول کو مشورہ

    ایک الیکشن میں انکو کچھ تکلیف ہے تو ویلکم ٹو دی کلب

    اگر اس بار الیکشن کی بجائے سلیکشن ہُوا تو عوام نقصان اٹھائیں گے، بلاول

  • پاک افغان سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز کا آپریشن،2 دہشتگرد ہلاک

    پاک افغان سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز کا آپریشن،2 دہشتگرد ہلاک

    چترال: پاک افغان سرحد کے قریب چترال کے علاقے ارسون میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر)کے مطابق آپریشن چترال کے علاقے ارسون میں7 اور 8 نومبر کی درمیانی رات کیا گیا، آپریشن میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 2 دہشت گرد ہلاک جبکہ 4 دہشت گرد شدید زخمی ہوئے،علاقے میں کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کے خاتمے کیلئے کلیئرنس آپریشن کیا گیا، علاقے کے لوگوں نے سکیورٹی فورسز کے آپریشن کو سراہا۔

  • چترال، پہاڑی کے کٹائی کے دوران ایک شخص زخمی جبکہ 8 گھر تباہ

    چترال، پہاڑی کے کٹائی کے دوران ایک شخص زخمی جبکہ 8 گھر تباہ

    چترال بونی کے سامنے پہاڑی پر کھدائی کے دوران دھماکے میں ایک شخص زخمی جبکہ آٹھ گھروں کو نقصان پہنچا ہے، ضلع چترال بونی کے سامنے پہاڑی پر دھماکے آٹھ گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ مقامی افراد کے مطابق بونی چترال سڑک کی کشادگی کیلیے پہاڑی کی کٹنگ کی جارہی ہے جس میں بارودی مواد کی مدد سے دھماکہ کر کے پہاڑ کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی تھی تاہم دھماکے سے ایک شخص زخمی جبکہ قریبی گھروں کو نقصان پہنچا ہے،
    مقامی افراد کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ بونی میں زلزلہ کی سی صورت حال پیدا ہوئی اور لوگ خوف و ہراس میں مبتلا ہوئے۔ تقریباً تین کلو میٹر تک دور جاکر پتھر لگنے سے آٹھ گھروں کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ ممتاز حسین نامی شخص زخمی ہوگیا جسے فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا۔
    مقامی لوگوں کی جانب سے متعلقہ تھانہ بونی کو رپورٹ کرکے این ایچ اے کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی گئی،۔ یاد رہے علاقے کے مکینوں نے بیس روز قبل ڈپٹی کمشنر اپر کو خطرات کی نشاندہی کی تھی لیکن ان کی طرف سے کوئی مدد نہیں ملی تھی،
     

  • اپر چترال میں چکن پاکس پھیلنے لگا،درجنوں افراد متاثر

    اپر چترال میں چکن پاکس پھیلنے لگا،درجنوں افراد متاثر

    اپر چترال میں چکن پاکس کی وباء سے سکول کے 30 سے زائد طالبات متاثر ہوئے ہے، اپر چترال کے علاقے لاسپور میں چکن پاکس بیماری سے گورنمنٹ گرلز مڈل سکول ہرچین کے ہیڈ مسٹریس سمیت 32 طالبات متاثر ہوئی ہیں۔مقامی افراد کے مطابق سکول سمیت ہرچین گاؤں میں اب تک درجنوں افراد چن پاکس بیماری سے متاثر ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر 9 سے لیکر 31 سال تک کے افراد شامل ہیں۔
    ڈی ایچ او اپر چترال کے مطابق چکن پاکس بیماری میں متاثره شخص يا خاتون کے چہرے پر دانے نمودار ہوتے ہیں اور وہ شدید بخار میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
    ان کا کہنا ہے کہ متاثرہ سکول اور علاقے کے لوگوں کی علاج کے لیے بی ایچ یو بروک سے میڈیکل ٹیمیں پہنچ گئی ہے اور انہوں نے متاثرہ لوگوں کو سحت کی سہولیات دے رہے ہے۔ڈی ایچ او کے مطابق چکن پاکس ایک وبائی مرض ہے تاہم اس میں خطرے کی کوئی بات نہیں ہے جبکہ میڈیکل ٹیموں نے متاثرہ بچوں کو گھروں میں رہنے کی تاکید کی ہے تاکہ یہ اس بیماری پر قابو پا لیا جائے۔
    ان کا مزید کہنا ہے کہ سکول انتظامیہ کو بھی آگاہ کردیا ہے کہ چکن پاکس سے متاثرہ بچوں کو گھروں میں ہی رکھا جائے،

  • بابو سر ٹاپ پر پیش آنے والے حادثے میں ایک  ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق ہوگئے

    بابو سر ٹاپ پر پیش آنے والے حادثے میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق ہوگئے

    ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد جان کی بازی ہار گئے، جب کہ 10 افراد شدید زخمی ہوئے ،حادثہ اس وقت پیش آیا جب وین سڑک سے اتر کر ایک تیز رفتار کار سے ٹکرا کر بابوسر ٹاپ کے قریب کھائی میں گر گئی۔یہ المناک حادثہ ضلع دیامیر کے خوبصورت گیتی داس سیاحتی مقام پر پیش آیا ،.حادثے کا شکار وین راولپنڈی کی طرف جارہی تھی کہ آنے والی گاڑی سے ٹکرا گئی۔تصادم کے باعث وین کا ڈرائیور کنٹرول کھو بیٹھا، جس کے نتیجے میں گاڑی سڑک سے اُلٹ کر گہری کھائی میں جاگری۔جاں بحق ہونے والے تمام افراد ایک ہی خاندان کے افراد تھے جن کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔باقی 10 زخمی مسافروں کو فوری طبی امداد کے لیے چلاس منتقل کر دیا گیا۔
    مقتولین کی لاشوں ناران اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

  • چترال : سول سوسائٹی اور آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد، گندم کی قیمت دگنا کرنے پراحتجاج، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال

    چترال : سول سوسائٹی اور آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد، گندم کی قیمت دگنا کرنے پراحتجاج، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال

    چترال،باغی ٹی وی(گل حماد فاروقی)سول سوسائٹی اور آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد، گندم کی قیمت دگنا کرنے پراحتجاج، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال
    تفصیلات کے مطابق چترال میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ آل پارٹیز کی کال پر اتالیق چوک میں ایک احتجاجی جلسہ بھی منعقد ہوا، جس کی صدارت امیر جماعت اسلامی مولوی جمشیدنے کی۔اس موقع پر مظاہرین نے اتالیق بازار میں واک کرکے مظاہرہ کیا بعد میں اس نے ایک بہت بڑے جلسے کی شکل اختیار کی۔ جلسہ میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے نمائندگان،تاجر یونین، ڈرائیور یونین، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور کثیر تعداد میں لوگو ں نے بھی شرکت کی۔

    اس موقع پر چترال بازار میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی رہی جبکہ مین پشاور چترا ل شاہراہ کو بھی بلاک کیا گیا۔احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ چترال کے لوگ بھی پاکستانی ہیں اور پر امن شہری ہیں مگر ان کے ساتھ حکومت سوتیلی ماں جیسا سلوک کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ صوبائی حکومت نے ایک نوٹیفیکشن جاری کرتے ہوئے ضلع بھر میں تمام پن چکیوں کو بند کرکے غیر مقامی لوگوں کو فلور مل کھولنے کی اجازت دی۔ انہوں نے کہا کہ ان ملوں میں نہایت ناقص آٹا عوام کو فراہم کیا جاتا ہے جو انسانوں کے کھانے کی قابل نہیں ہوتا جبکہ لوگوں کو رعایتی نرح پر گندم کی فراہمی بند کرائی گئی۔انہوں نے کہا کہ لوگوں نے یہ بھی برداشت کیا مگر ابھی حال ہی میں عبوری حکومت کے دور میں گندم کی قیمت یک دم سو فی صد بڑھائی گئی اور سو کلوگرام گندم کی بوری چھ ہزار کی بجائے اب بارہ ہزار روپے پر ملتی ہے جبکہ یہی گندم گلگت بلتستان میں صرف چار ہزار روپے میں ملتی ہے۔

    انہوں نے اس موقع پر فلور ملز مافیا مردہ باد وغیرہ کے بینرز بھی لگائے تھے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ چترال میں تمام فلور ملوں کو بند کرکے پرانے نظام کے تحت لوگوں کو گندم سیل پوائنٹ سے فراہم کی جائے تاکہ یہ لوگ اپنے مرضی سے اسے پن چکیوں میں پیس کر استعمال کریں کیونکہ مل میں جو گندم پیسا جاتا ہے اس میں سے خالص میدہ الگ، سفید آٹا الگ، چوکر الگ اور نہایت ناقص معیار کا آٹا الگ کیا جاتا ہے جسے عوام کو فروخت کیا جاتا ہے۔ حکومتی پالیسی کے مطابق چترال میں چلنے والے مل ستر فی صد آٹا سستے نرح پر عوام کو فروخت کرے گا جبکہ تیس فی صد آٹا وہ اپنی مرضی سے فروخت کرنے کا مجاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو رعایتی آٹا عوام کو فروخت کیا جاتا ہے وہ کھانے کی قابل بھی نہیں ہے اور اکثر مل مالکان یہاں سے آٹا دوسرے اضلاع کو بھی اسمگل کرتے ہیں۔ جلسہ میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور ہوئی۔ قراراداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ گندم کی نرخ میں فی بوری اچانک چھ ہزار روپے اضافہ کرنا ایک ظالمانہ فیصلہ ہے اس کے نتیجے میں شدید غم و غصہ اور تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ دو وقت کی سوکھی روٹی کیلئے بھی ترس رہے ہیں۔ آل پارٹیز اور سول سوسائٹی یہ مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت اس فیصلے کو فوراً واپس لے۔

    قرارداد کے ذریعے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ چترال کے عوام کو بھی گلگت بلتستان کے نرح پر گندم فراہم کی جائے کیونکہ چترال اور گلگت کے عوام کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔چترال میں لوگ آٹا ملز کے مالکان کی من مانیوں سے تنگ آچکے ہیں جو چترال کے کوٹے کا گندم خرید کر اور اس سے بننے والا آٹا دگنی نرح پر عوام کو فروخت کررہے ہیں جو معیاری بھی نہیں ہوتا اور چترال سے آٹا ضلع سے باہر بھی بھیج رہے ہیں۔ قرارداد کے ذریعے محکمہ حوراک سے مطالبہ کیاگیا کہ چترال میں آٹا ملوں پرپابندی لگا کر عوام کو گودام سے گندم فراہم کی جائے نیز گوداموں میں لوگوں کو بے جا تنگ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے اور عوام کی ضرورت کے مطابق گندم کی فراہمی کا انتظام کیا جائے۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر ہمارے مطالبات منظور نہیں ہوئے تو عوام شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے اور حالات کی کشیدگی کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوں گی۔
    انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ جس دن غلہ گوداموں میں گندم کی فراہمی بند کرتے ہوئے مل مالکان کو آٹا دینے کی نوٹیفیکیشن آیا اس وقت ان گوداموں میں ایک مہینے کا سٹاک موجود تھا مگر وہ اچانک غائب ہوا اس سلسلے میں بھی تحقیقات ہونا چاہئے۔

    ہمارے نمائندے نے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر رحمت ولی خان کے دفتر جاکر ان سے بھی موقف لیا ان کا کہنا ہے کہ گندم کی نرح بڑھانے میں ان کا کوئی عمل دحل نہیں ہے وہ حکومت کا فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے مطالبے پر نو دن آٹا ملوں کو گندم کی فراہمی بند ہوئی تھی بعد میں صوبائی حکومت کی مداحلت پر یہ سلسلہ دوبارہ جاری ہوا۔ تاہم چترال کے سرکاری گودام سے روزانہ دو سو من گندم عوام کو دی جاتی ہے اسی طرح دروش کے گودام سے 180 من گندم روزانہ عوام کو فراہم کی جاتی ہے یہ گندم آٹاملوں کو فراہم کرنے کے علاوہ ہے۔انہوں نے کہا کہ آٹا ملوں کیلئے کوٹے کا سرکاری نرح مقرر ہے اور اسی نرح پر عوام کو آٹا فراہم کیا جاتا ہے۔ ہمارے نمائندے نے مل مالکان سے بھی رابطہ کرکے ان کی موقف لینے کی کوشش کی مگر انہوں نے فون اٹینڈ نہیں کیا۔ جلسہ میں چترال سے منتحب صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین پر بھی کڑی تنقید کی گئی جو ووٹ کے وقت عوام کا ہاتھ چھومنے سے دریغ نہیں کرتے مگر مصیبت کے اس گھڑی میں اب وہ غائب ہیں۔
    اس احتجاجی جلسہ میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں، تاجر یونین، ڈرائیور یونین، سول سوسایٹی کے نمائندگان نے بھی اظہارخیال کیا جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ بعد میں مولوی جمشید کی دعائیہ کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔