Baaghi TV

Category: چترال

  • نو منتخب رکن قومی اسمبلی عبداللطیف اور ڈپٹی سپیکر کےپی اسمبلی ثریا بی بی کی چترال آمد پر والہانہ استقبال کیا گیا

    نو منتخب رکن قومی اسمبلی عبداللطیف اور ڈپٹی سپیکر کےپی اسمبلی ثریا بی بی کی چترال آمد پر والہانہ استقبال کیا گیا

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ) چترال سے منتخب رکن قومی اسمبلی عبد اللطیف اور ضلع اپر چترال سے رکن صوبائی اسمبلی ثریا بی بی جو خیبر پختون خواہ اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر بھی ہے ان کی چترال آمد پر والہانہ استقبال کیا گیا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے لواری ٹنل جاکر ان کا استقبال کیا او ران کو قافلے کی شکل میں چترال لایاگیا۔ اس دوران زیارت، عشریت، دروش، سید آباد ، بروز، چمرکن اور چترال شہر میں جگہ جگہ کارکنان ان کے انتظار میں کھڑے تھے اور ان کی آمد پر ان کے گلے میں ہار ڈالتے ہوئے ان کو خوش آمدید کہتے رہے۔ چمرکن میں دو ننھی پریوں نے جو سید مختار علی شاہ ایڈوکیٹ کی بیٹیاں ہیں انہوں نے آنے والے پارلیمنٹیرین کو پھولوں کا گلدستہ پیش کرتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔

    دروش میں ایک پلازے کے چھت پر ایک مختصر تقریب بھی منعقد ہوئی جس کی صدارت حاجی گل نواز خان صدر تحصیل دروش نے کی۔ انہوں نے اس موقع پر نو منتخب اراکین اسمبلی کو مبارک باد دینے کے ساتھ ساتھ بطور بزرگ سیاست دان ان کو نصیحت بھی کی کہ اقتدار کی یہ کرسی عارضی ہے اگر انہوں نے عوام کی بے لوث خدمت کی تووہ دوبارہ بھی کامیاب ہوسکتے ہیں ورنہ عوام پرانے نمائندوں کی طرح ان کو بری طرح مسترد کریں گے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہویے رکن قومی اسمبلی عبداللطیف نے کہا کہ انہوں نے سیاست میں اس عزم کے ساتھ قدم رکھا ہے کہ وہ قوم کی خدمت کرے انہوں نے کہا کہ چترال ایک سیاحتی ضلع ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پسماندہ ضلع بھی ہے اور یہاں پر کوئی کارخانہ، انڈسٹری یا بڑا کاروبار نہیں ہے ۔ ہمارے پاس سیاحت کے کافی ذرائع موجود ہیں اور اگر ہم سیاحت کو فروغ دینے کیلیے ٹھوس اقدامات اٹھائے تو اس سے اس علاقے کو بھِی ترقی ملے گی۔

    انہوں نے کہا کہ سیاحت کو ترقی دینے کیلیے سب سے پہلے سڑکوں کو بہتر بنانا ہے مگر بدقسمتی سے چترال کی سڑکوں کی حالت نہایت خراب ہیں ہماری کوشش ہوں گی کہ قومی اسمبلی کے فلور پرچترالی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے اس کیلیے بھر پور انداز میں آواز اٹھائیں گے۔

    انہوں نے عوام پر بھی زور دیا کہ وہ مطمئن رہیں اور اپنے علاقے کے جو بھی مسائل ہوں ان کے نوٹس میں ضرور لایا کریں۔ تقریب سے حاجی سلطان، ڈپٹی سپیکر خیبر پحتون خواہ اسمبلی ثریا بی بی اور دیگر نے بھِی اظہار خیال کیا۔

    یہ قافلہ جب چترال پہنچا تو گورنر کاٹیج میں تحصیل چترال کے ناظم شہزادہ امان الرحمان نے ان کا استقبال کیا اور ان کے اعزاز میں افطار پارٹی بھی دی گی جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔

  • کیلاش ویلی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے کیلاش وادی کے طلباء میں چار ہزار پودے مفت تقسیم کئے

    کیلاش ویلی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے کیلاش وادی کے طلباء میں چار ہزار پودے مفت تقسیم کئے

    چترال ,باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)کے وی ڈی اے نے کیلاش وادی کے طلباء میں چار ہزار پودے مفت تقسیم کئے

    کیلاش ویلی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے تحت گورنمنٹ ہای سکول برون بمبوریت کے طلباء و طالبات میں مفت پودے تقسیم ہویے۔ اس موقع پر ڈایریکٹر جنرل کے وی ڈی اے منہاس الدین مہمان خصوصی تھے۔ اس سلسلے میں ہائی سکول برون میں ایک مختصر تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں سکول کے پرنسپل اور دیگر ماہرین نے درختوں اور پودوں کی اہمیت اور فوائد پر روشنی ڈالی۔

    شجرکاری مہم میں محکمہ جنگلات نے ان کو مفت پودے دیے تھے اور ایک غیر سرکاری ادارے کی تعاون سے یہ پودے طلباء میں مفت تقسیم ہوئے ۔ اس موقع پر ان کو پودوں کی اہمیت اور موسمیاتی تبدیلی پر ان کی مثبت اثرات پر روشنی ڈالی گئی۔ اسی سکول میں پچیس سو پودے مفت تقسیم ہوئے۔

    ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے ڈایریکٹر جنرل منہاس الدین نے بتایا کہ اس کے علاوہ انہوں نے سات سو پھل دار پودے بھِی لوگوں میں مفت تقسیم کیے اور مقامی لوگوں کو ان کی اہمیت بھی بتائی تاکہ وہ ان پودوں کو نہ صرف لگائیں بلکہ اس کی آبیاری بھی کریں اور اسے کامیاب کرنے تک ان کا خیال رکھیں۔

    منہا س الدین نے مزید بتایا کہ چترال ایک خشک زون ہے یہاں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتی جس کی وجہ سے اکثر اوقات سیلاب کی صورت میں ہم بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے اس تقریب میں سکول کے بچوں اور اساتذہ کو یہ بات واضح کردی کہ اگر ہم زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں تو سیلاب کی نقصان سے اتنا ہی بچ سکتے ہیں کیونکہ یہ پودے بڑے ہوکر جب تناور درخت بنیں گے تو یہ ایک قدرتی چیک ڈیم کا کام کریں گے۔ سیلاب کا پانی جب پہاڑوں سے نیچے اتا ہے تو اس کا رفتار بہت تیز ہوتا ہے مگر یہ درخت ان کی راہ میں رکاوٹ بن کر اس کی رفتار کو کم سے کم کرتے ہیں۔

    سکول کے پرنسپل ثناء اللہ نے بتایا کہ بچے نئے کام کے بہت شوقین ہوتے ہیں ہر کام اپنی مرضی سے کرناچاہتے ہیں اسلئے ہم نے ان کیلئے آج یہ شغل رکھا کہ ان میں مفت دیار کے پودے تقسیم کرکے یہ ان سے لگوائیں گے جب یہ خود ان پودوں کو لگائیں گے تو اسے پانی بھی ڈالتے رہیں گے اوراسکی آبیاری کرتے ہوئے انہیں کامیاب بھی کرائیں گے۔ جبکہ ان کو ہم نے یہ بھی بتادیا کہ ان پودوں اور درختوں کے کتنے فوائد ہیں۔ ان سے ہم پھل، ایندھن، چارہ لیتے ہیں اور اس کے سائے تلے بھی بیٹھتے ہیں۔

    اویس احمد پراجیکٹ منیجر نے بتایا کہ ہم نے چار ہزار سے زیادہ مفت پودے وادی کیلاش میں تقسیم کئے ہیں اور آج کی تقریب میں بچوں کو ان پودوں کی فوائد اور اہمیت پر بھِی بتادی ۔ ایک پودا سال میں ہمیں ستر ہزار روپے سے زیادہ مفت آکسیجن فراہم کرتا ہے اور یہ پودے بڑے ہوکر ہمارے ماحولیات پر نہایت مثبت اثرات ڈالتے ہیں اور چترال کو اس کے ذریعے سر سبز و شاداب اور صاف رکھ سکتے ہیں۔ پروگرام کے آخر میں سکول کے بچوں میں مفت پودے بھی تقسیم ہوئے۔

  • سعودی کنگ سلمان ریلیف سنٹر کے تعاون سے دیر بالا میں 1200سے زائد غرباء میں فوڈ پیکج تقسیم

    سعودی کنگ سلمان ریلیف سنٹر کے تعاون سے دیر بالا میں 1200سے زائد غرباء میں فوڈ پیکج تقسیم

    چترال ،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)سعودی کنگ سلمان ریلیف سنٹر کے تعاون سے دیر بالا میں 1200سے زائد غرباء میں فوڈ پیکج تقسیم

    سعودی حکومت نے ہر مشکل میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور پاکستانیوں کی مدد کی ہے سعودی کنگ سلمان ریلیف سنٹر کے تعاون سے ضلعی انتظامیہ اور احصار فا ونڈیشن نے دیر بالا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 1200سے زائد نادار عریب یتیم اور لاچار افراد میں فوڈ پیکج تقسیم کر کے حوالےکیا

    فوڈ پکیج میں آٹا ،گھی ،چائے ،دالیں ،کجھور ودیگر خوراک کی اشیا ء شامل تھیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کنگ سلمان ریلیف سنٹر کے نمائندوں نے کہا کہ سعودی حکومت کنگ سلمان ریلیف سنٹر کے تعاون سے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اب تک ہزاروں افراد میں فوڈ پکیج کے علاوہ ونٹر پکیج بھی تقسیم کئے جاچکے ہیں

    انہوں نے کہا کہ حالیہ شدید برفباری سے متاثرہ افراد اور رمضان میں فوڈ پکیج کی تقسیم کا مقصد متاثرہ افراد کے مدد اور ریلیف فراہم کرنا تھا اور یہ سلسلہ آئندہ کے لئے بھی جاری رہیگا

    احصار فاونڈیشن نے کنگ سلمان ریلیف سنٹر کے تعاون سے اس سےقبل بھی خیبر پختونخواہ کے سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں ہزاروں افراد میں فوڈ اور ونٹر پکیج تقسیم کئے ہیں

  • چترال:ایس پی انویسٹی گیشن کی ملازمت سے سبکدوشی، الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا

    چترال:ایس پی انویسٹی گیشن کی ملازمت سے سبکدوشی، الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا

    چترال،باغی ٹی وی (نامہ نگارگل حماد فاروقی)ایس پی انویسٹی گیشن کی ملازمت سے سبکدوشی، الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا

    ایس پی انوسٹی گیشن لوئر چترال محمد ستار خان مدت ملازمت مکمل کرکے ملازمت سے سبکدوش ہویےجن کے اعزاز میں پولیس لاین چترال میں الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔لوئر چترال پولیس کی جانب سے محکمہ سے ریٹائرڈ ہونیوالے فرض شناس پولیس افیسر ایس۔پی محمد ستار خان کے اعزاز میں الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس سادہ مگر پروقار تقریب میں ریٹائرڈ ہونے والے پولیس افیسر کے اعزاز میں خصوصی افطار پارٹی کا بھی اہتمام کیا گیا ۔

    تقریب میں ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر لوئر چترال ایاز زرین، ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرز اقبال کریم، ڈی ایس پی سرکل چترال سجاد حسین، ڈی ایس پی سرکل بمبوریت حسن اللہ، ڈی ایس پی سرکل دروش احمد عیسیٰ، ڈی ایس پی سرکل لٹکوہ تمیز الدین، ڈی ایس پی سکیورٹی لاوی پاور پروجیکٹ مبارک احمد، ڈی ایس پی ٹوارزم پولیس شیر راجہ، تمام ایس ایچ اووز، ایڈیشنل ایس ایچ اوز، آفس سٹاف و دیگر اعلی افسران سمیت سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سبکدوش ہونے والے ایس پی محمد ستار خان نے کہا کہ پولیس میں رہتے ہوئے شوق اور لگن اور ایمانداری سے اپنے فرائض سر انجام دیے ،انہوں نے کہا کہ لوئر چترال پولیس ایک پروفیشنل پولیس ہے ہر جگہ ہر وقت جیسے بھی حالات ہوں میں نے اس کو ہمیشہ پروفیشنل پایا۔ امید ہے کہ آئندہ بھی اسی طرح پروفیشنل طریقے سے اپنی عوام کی خدمت کرتے رہینگے۔

    تقریب سے دیگر شرکاء نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ایس پی محمد ستار خان کے ملازمت کے کامیاب دورانیہ کو سراہا۔

    الوداعی تقریب کے آخر میں ریٹائرڈ ہونیوالے پولیس افیسر کو تحائف پیش کئے گئے اور باوقار طریقے سے محکمہ پولیس سے رخصت کیا گیا۔

    محمد ستار خان کا تعلق ضلع اپر چترال کے تحصیل تورکہو سے ہے وہ 1983 میںپولیس میں بطور سپاہی بھرتی ہوا تھا مگر اپنی قابلیت اور لگن کے بناء پر ترقی کرتے ہوئے محتلف تھانوں میں بطور ایس ایچ او بھی خدمات سرانجام دیں۔ ترقی کرتے ہوئے وہ ڈی ایس پی کے عہدے پر تعینات ہویے ۔

    وہ پشاور ، اسلام آباد اور دیگر اضلاع میں بھی بطور ڈی ایس پی تعینات رہے۔ انہوں نے آپریشن میں بھی ڈیوٹی کی ہے زیادہ عرصہ چترال میں رہے۔ اس کے بعد پولیس انوسٹی گیشن یعنی تفتیشی میں بہترین خدمات انجام دیے۔

    انہوں نے چالیس سال ملازمت کی اور اس دوران محکمہ پولیس میں مختلف شعبوں میں تعینات رہے۔ ان کی خدمت کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
    الوداعی تقریب میں شرکاء نے ان کی خدمات کو نہایت سراہا اور انہیں بہترین طریقے سے فرائض انجام دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔

  • سیاحت کے فروغ کیلئے وادی کیلاش کامتبادل راستہ غوچارکوہ سڑک دوبارہ تعمیر کی جائے،میجر ریٹائرڈ شہزادہ سراج الملک

    سیاحت کے فروغ کیلئے وادی کیلاش کامتبادل راستہ غوچارکوہ سڑک دوبارہ تعمیر کی جائے،میجر ریٹائرڈ شہزادہ سراج الملک

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)سیاحت کے فروغ کیلئے وادی کیلاش کامتبادل راستہ غوچارکوہ سڑک دوبارہ تعمیر کی جائے،میجر ریٹائرڈ شہزادہ سراج الملک

    سیاحت کے فروغ کیلئےغوچارکوہ سڑک کی دوبارہ تعمیر وقت کا اہم تقاضا ہے، وادی کیلاش اور شیخانندہ چونکہ جنگلات پرمشتمل علاقہ ہے جہاں محکمہ جنگلات والوں نے ساٹ سال قبل دیار کی قیمتی لکڑی لانے کیلیے غوچارکوہ سڑک بنائی تھی جو پہاڑ کے دامن میں کش کان ٹیک گؤں سے گزرتی ہے ۔ اس راستے میں گھنے جنگلات،کھلے میدان اور نہایت خوبصورت سیاحتی مقامات بھی موجود ہیں۔

    جب نیچے دریا کے کنارے وادی کیلاش کیلیے راستہ بنایا گیا تو اوپر والی سڑک پر ٹریفک بند ہوگئی تھی مگر پھر بھی موٹر سائیکل سوار اور بعض سیاح پیدل اس سڑک پر سفر کرتے تھے۔ اب چونکہ وادی کی سڑک پرتوسیع اور تعمیر کا کام جاری ہے اور پہاڑ کی کٹائی کی وجہ سے اکثر اوقات کئی گھنٹوں تک سڑک بند ہوجاتی ہے، ٹریفک جام ہونے سےمسافروں اور سیاحوں کو نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    چترال کی معروف سماجی شحصیت اور ٹور آپریٹر میجر ریٹائرڈ شہزادہ سراج الملک اور مقامی شخص عبد الاکبر کا کہنا ہے کہ غوچارکوہ جیسے راستوں کو ملکی اور خاص کر غیر ملکی سیاح بہت پسند کرتے ہیں اگر یہ راستہ بن گیا تو وہ کبھی بھی نیچے والی سڑک پر سفر نہیں کریں گے بلکہ اسی سے گزریں گے کیونکہ آگے جاکر اس راستے میں نہایت وسیع میدان اور کئی سیاحتی مقامات موجود ہیں۔

    ان کے مطابق اگر غوچار کوہ والا راستہ بن گیا تو سیاح کبھی بھی دوسرے راستے پر نہیں جائیں گے۔ اسی سڑک پر آگے جاکر کش کان تیک گاؤں میں دو سو سے زیادہ لوگ آباد ہیں جن کو آنے جانے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عبد الاکبر اور دیگر مقامی لوگ بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سڑک پر دوبارہ ٹریفک بحال کی جائے تاکہ ان کو ضرورت کا سامان لانے میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

    مقامی ماہرین کے مطابق غوچار کوہ کی سڑک پر معمولی خرچے سے ایک ہفتے کے اندر دوبارہ ٹریفک بحال ہوسکتی ہے جس سے نہ صرف سیاحوں کو سفر کرنے کیلئے متبادل راستہ مل جائے گا بلکہ یہاں مقیم 230 لوگوں کو بھی آنے جانے میں آسانی ہوگی۔

    واضح رہے کہ اس سڑک کی دوبارہ تعمیر سے آبپاشی کی وہ ندی بھی بحال ہوسکتی ہے جو صدر ایوب کے دور میں شیخانندہ سے غوچار کوہ گاؤں لائی گئی تھا جس سے ہزاروں ایکڑ بنجر زمین بھی سیراب ہوسکے گی۔

    غوچار کوہ کی یہ سڑک آیون سے شروع ہوتی ہے اور وادی بمبوریت کے سلطان آباد گاؤں میں نیچے اتر کر مین سڑک سے جاملتی ہے۔ غوچارکوہ سڑک کی بحال ہونے سے سیاحت بھی فروغ پائے گی اور اس پسماندہ علاقے سے بھِی غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوسکے گا۔

  • چترال:وادی کیلاش کی سڑک کی محفوظ جگہ از سرنوتعمیراوردریائے رمبورسے ملبہ ہٹانے کامطالبہ

    چترال:وادی کیلاش کی سڑک کی محفوظ جگہ از سرنوتعمیراوردریائے رمبورسے ملبہ ہٹانے کامطالبہ

    چترال،باغی ٹی وی (گل حمادفاروقی کی رپورٹ)وادی کیلاش کی سڑک کی محفوظ جگہ از سرنوتعمیراوردریائے رمبورسے ملبہ ہٹانے کامطالبہ
    چترال کے خوبصورت اور سیاحتی علاقے وادی کیلاش کی سڑکوں کی حالت نہایت ناگفتہ بہہ تھی تاہم نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ان وادیوں کیلیے تقریبا 12 ارب روپے کی لاگت سے سڑکوں کی کشادگی اور تعمیر کا کام پچھلے سال شروع کیا تھا۔ وادی کیلاش کیلیے سڑک کو کیلاش کی پہلی گیٹ وے وادی آیون سے لے جایا جارہا ہے مگر لنک روڈ کو چھوڑ کر اسے ایک غیر مناسب اور غیر محفوظ جگہ سے لے جایا جارہا ہے ۔

    اس سڑک کو زرعی زمین کے بیچ میں سے دو سو فٹ اونچا گزارا جاتا ہے جہاں صرف مٹی اور ملبہ ڈال کر اسے اونچا کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ایک طرف زرعی زمین اور اس کیلیے آبپاشی کی نالے متاثر ہوئے ہیں تو دوسری جانب آس پاس کے مکانات کے رہائشیوں بے پردگی کاسامناکرناپڑرہا ہے جبکہ اس مصنوعی پہاڑ کے کناروں پر حفاظتی دیوار بھی نہیں ہے اور کسی بھِی سیلاب یا شدید بارش کی صورت میں یہ بہہ کر ختم ہوسکتا ہے۔

    چترال میں سڑکوں کی تعمیر اور بہتری کیلیے آواز اٹھانے والی رضاکار تنظیم سی ڈی ایم : چترال ڈیویلپمنٹ مومونٹ : کے سینیر اراکین میجر ریٹایرڈ شہزادہ سراج الملک، پرنسپل ریٹایرڈ لیاقت علی ، پراجیکٹ منیجر ریٹایرڈ عنایت اللہ اسیر، وادی ایون کے منتحب چییرمین وجیہ الدین اور محمد رحمان نے میڈیا ٹیم کے ساتھ ان علاقوں کا دورہ کیا۔

    مقامی ماہرین کا کہنا ہے کہ این ایچ اے کے انجنیر نے شاید اسلام آباد میں بیٹھ کر اس کا نقشہ بنایا ہے کیونکہ یہاں پہلے سے بہترین سڑک موجود ہے اسی سڑک کو دونوں جانب سے کشادہ کرکے سڑک تعمیر ہوسکتی ہے جس پر خرچہ بھی کم آتا ہے اور محفوظ بھی ہے مگر انہوں نے سڑک کو ٹیڑھا کرکے زرعی زمین میں ایک مصنوعی پہاڑ بناکر اس پر سڑک بناتے ہیں جو زمین سے غالبا دو سو فٹ اونچی ہے جو سیلاب اور تیز بارش کی صورت میں تباہ ہوسکتی ہے۔

    انہوں نے وفاقی وزیر اور سیکرٹری مواصلات اور چیرمین این ایچ اے سے مطالبہ کیا کہ اس کیلیے دوبارہ ٹیم بھیجا جایے تاکہ اس سڑک کو محفوظ جگہہ سے گزارا جایے انہوں نے مقامی ماہرین اور انجنیروں کی مدد سے ایک نقشہ بھی تیار کروایا ہے جس میں یہ سڑک بالکل سیدھا گزرتا ہے۔

    سی ڈی ایم کے ٹیم نے وادی رمبور کے سڑک کا بھِی دورہ کیا جہاں سڑک کی کشادگی پر کام جاری ہے مگر اس سڑک کو توسیع کرنے کیلیے ٹھیکدار پہاڑ میں کئی فٹ لمبی سرنگ بناکر اس میں بھاری مقدار مِیں بارود ڈال کر دھماکے سے پہاڑ کو اڑاتا ہے جس کا سارا ملبہ اور ہزاروں ٹن وزنی پتھر رمبور کے دریا میں گرتے ہیں اب اس دریا میں مصنوعی جھیل سی بن چکی ہے اور اگلے آنے والے دنوں میں جب گرمی کی وجہ سے برف پگھل کر اس دریا میں آئے گی تو یہ عطاء آباد جھیل کا منظر پیش کرے گا۔

    میڈیا ٹیم سے باتیں کرتے ہویے مقامی لوگوں نے بتایا کہ ٹھیکیدار نے جو بڑے بڑے پتھر رمبور کی نہر میں ڈالا ہے اس کی وجہ سے پانی کا بہاؤ بند ہوچکا ہے اور یہ عطا آباد جھیل کا منظر پیش کررہا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس نالہ میں جو جھیل بن چکیے یہ ہمارے لیے خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ اس سال بہت زیادہ برف باری ہوئی ہے اور پہاڑوں پر برف پگھل کر جب پانی زیادہ ہوگا تو اس سے ہمارے مکان ، باغات اور کھیت بھی تباہ ہو سکتے ہیں جبکہ سیلاب کی شکل میں پوری آیون وادی کی تباہی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

    مقامی لوگوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ٹھیکیدار اس پہاڑ کے اندر کیئی میٹر لمبی سرنگ کرکے اس میں بہت زیادہ بارود اور یوریا کھاد ڈال کر زور دار دھماکہ کراتا ہے جس سے پورا پہاڑ دھڑام سے نیچے گرتا ہے اور یہ بارود اور کیمکل والا پانی نیچے جاکر اسے لوگ استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سےوہ محتلف بیماریوں میں بھی مبتلا ہورہے ہیں۔

    مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا کہ اس دریا نما نالہ سے فوری طور پر بڑے پتھر اور ملبہ ہٹاکر اسے صاف کیا جایے تاکہ پانی کی بہاو میں رکاوٹ نہ آیے ورنہ یہ بہت بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

    مقامی لوگوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ آیون سے بمبوریت تک پچاس سال قبل محکمہ جنگلات نے ایک سڑک بنائی تھی جس پر دیار کی لکڑی لایا کرتے تھے اگر محکمہ این ایچ اے اسی سڑک کو دوبارہ بحال کرے جو معمولی مرمت سے ٹھیک ہوسکتی ہے تو اس سے ایک طرف کیلاش سڑک پر کام میں رکاوٹ نہیں آئے گی لوگ اسی اوپر والی سڑک پر سفر کریں گے جبکہ دوسری طرف ملکی اور غیر ملکی سیاح بھی ایسے راستوں کو پسند کرتے ہیں جو پہاڑ کے بیچ میں سے گزرا ہو جہاں سے پوری وادی کا نظارہ کیا جاسکتا ہو۔

    ہمارے نمائندے نے چییرمین این ایچ اے ارشد مجید مہمند اور پراجیکٹ ڈایریکٹر ظہیر الدین سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی اور ان کو باقاعدہ تحریری پیغام بھیجا کہ وہ اس سلسلے میں اپنے موقف سے آگاہ کریں مگر ابھی تک انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

  • چترال:تریچ جانے والے گاڑی کو حادثہ ایک شخص جاں بحق

    چترال:تریچ جانے والے گاڑی کو حادثہ ایک شخص جاں بحق

    چترال،باغی ٹی وی (گل حمادفاروقی کی رپورٹ) ضلع اپر چترال کے بونی بوزند روڈ استارو دیعیڑی کے مقام پر اج ایک انتہائی افسوس ناک حادثہ پیش آیا ہے عینی شاہدین کے مطابق ٹاون چترال سے تریچ جانے والی گاڑی پر اوپر پہاڑی سے اچانک پہاڑی تودہ اس وقت آگرا جب وہ پہاڑی تودے سے تباہ حال انتہائی دشوار گزار راستے پر صفائی میں مصروف تھی، اس افسوس ناک حادثے کے نتیجے میں تریچ شوچ سے تعلق رکھنے والے محمد اسحاق ولد زار گوڑی پتھروں کی زد میں اگیا اور نیچے گہری کھائی میں جاگرا جس کے نتیجے میں موقع پر جان کی بازی ہار گیا

    مقامی لوگوں نے ہمارے نمائندے سے فون پر بات کرتے ہویے بتایا کہ گزشتہ روز ہی متعلقہ حکام کی توجہ اس دشوار گزار مقام کی سنگین صورتحال کی طرف مبذول کرائی گئی تھی لیکن ان کے مطابق ان کی دہائیاں اورآہ وزاری صدا بصحرا ثابت ہوئیں اور پھر آج ایک اور معصوم جان ان کی عفلت ولاپرواہی اور بے حسی کی نظر ہوگئی۔

    مقامی لوگوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس روڈ کی بحالی نگہداشت اور صفائی سی این ڈبلیو کی فرائض منصبی میں شامل نہیں ؟

    کیا عوام کی بنیادی انسانی حقوق اور جان و مال کا تحفظ انتظامیہ کی ذمہ داری میں شامل نہی ہے۔ وادی تریچ کے لوگوں نے محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس کے اعلیٰ حکام اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بونی سے بوزند، تریچ سڑک سے فوری طور پر برف اور ملبہ صاف کرکے اسے ٹریفک کیلیے مکمل طور پر کھول دیا جایے تاکہ یہ خونی سڑک کسی اور مسافر کی جان نہ لے۔

    ذرائع نے بتایا کہ محمد اسحاق والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور اس سے پہلے اس کے والدین اور دو بہنیں بھی وفات پاگیے تھے اس کے چھوٹے بچے اور ایک بیوہ بے سہارا رہ گئی ہے کیونکہ یہ اپنے گھر کا واحد کفیل تھا۔اس کی موت کے بعد اس کے بچے اور بیوہ غم سے نہایت نڈھال ہیں کیونکہ ان کو پالنے والا اور کوئی نہیں ہے۔

  • چترال:غریب آدمی کامکان برفانی تودے میں دب گیا ،مدد کی اپیل

    چترال:غریب آدمی کامکان برفانی تودے میں دب گیا ،مدد کی اپیل

    چترال،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)غریب آدمی کامکان برفانی تودے میں دب گیا ،مدد کی اپیل

    لوئر چترال کے مضافاتی علاقے سینگور محلہ شاہ میراندہ میں محمد ولی نامی شحص نے اونچائی پر نیا مکان بنایا تھا، اسی سال شدید برف باری کے باعث آس پاس اور اس کے مکان کے اوپر پہاڑ پر بہت زیادہ برف جمع ہو گئی تھی ،

    گزشتہ دنوں وہ جمی ہوئی برف گرمی کی وجہ سے پگھل کر اچانک اس کے مکان کے اوپر آگر ی جس کے نتیجے میں محمد ولی کے مکان کی چھت بری طرح متاثر ہوئی۔ ٹین کے نیچے لگائے جانیوالے لکڑی کےشہتیر وغیرہ ٹوٹ گئے۔

    محمد ولی کا کہنا ہے کہ میں غریب آدمی ہوں میرے بیٹے بیرون ملک محنت مزدوری کرتے تھے اور ان کی خون پسینے کی کمائی سے یہ مکان بنایا تھا جو برفانی تودے تلے دب کر جزوی طور پر تباہ ہوا۔

    محمد ولی کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کے اہلکار بھِی یہاں آئے تھے انہوں نے اس کا جائزہ لیکر اسے نقصان زدہ فہرست میں درج بھی کیا تھا مگر ابھی تک مجھے کسی قسم کی امداد نہیں ملی جبکہ بعض بااثر لوگوں کو سات سات لاکھ روپے کے چیک بھی دیے گیے۔

    انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ ضلعی انتظامیہ سے بھی درخواست کی ہے کہ اس کی بھی مالی مدد کی جایے اور جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کیا جائے تاکہ وہ اپنا مکان دوبارہ تعمیر کرسکے۔

  • چترال: شجر کاری مہم کا آغاز کردیا گیا، 2 لاکھ پودے لوگوں میں مفت تقسیم کیے جائیں گے

    چترال: شجر کاری مہم کا آغاز کردیا گیا، 2 لاکھ پودے لوگوں میں مفت تقسیم کیے جائیں گے

    چترال،باغی ٹی وی(گل حماد فاروقی کی رپورٹ) شجر کاری مہم کا آغاز کردیا گیا، 2 لاکھ پودے لوگوں میں مفت تقسیم کیے جائیں گے

    چترال میں شجرکاری مہم کا آغاز کردیا گیاہے اس سلسلے میں پولیس لائن چترال میں ایک سادہ تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں ڈویژنل فارسٹ آفیسر عبدالمجید، سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر یوسف فرہاد، اسسٹنٹ کمشنر چترال ڈاکٹر عاطف جالب، ڈایریکٹر ایگریکلچر، سوئل اینڈ واٹر کنزرویشن کے ڈسٹرکٹ آفیسر مجیب الرحمان، کمانڈنٹ چترال سکاوٹس کی جانب سے میجر ایڈمن، ڈی پی او اور دیگر محکموں کے سربراہان اور نمائندوں نے شرکت کی۔

    اس موقع پر ڈی ایف او چترال عبد المجید نے پودوں اور درختوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ جنگلات چترال پولیس کو مفت پودے دے رہا ہے، جسے وہ مختلف تھانوں میں لگائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ان پودوں اور درختوں کی وجہ سے نہ صرف چترال کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ یہ ہمیں ٹنوں کے حساب سے آکسیجن دیتےہیں، ان درختوں پر بہار کے موسم میں رنگ برنگے پرندے آکر بیٹھتے ہیں جن کہ چہچہانے سے انسان کی طبیعت ہشاش بشاش ہوجاتی ہے اور خزاں کے موسم میں ان درختوں کے پتے مختلف رنگوں میں بدل جاتے ہیں جس سے ان کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ان پودوں پر رنگ برنگ پھول لگتے ہیں جنہیں دیکھ کر انسان کی تمام تر بوریت اور تھکاوٹ دور ہوجاتی ہےاوروہ خوش ہوجاتا ہے۔ یہ درخت ہمیں ایندھن کے ساتھ ساتھ پھل بھی دے رہے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ چترال چونکہ ٹھنڈا علاقہ ہے یہاں سردی زیادہ پڑتی ہے اور یہاں کے لوگ خود کو سردی سے بچانے کیلیے اور کھانا پکانے کیلیے لکڑی کاٹ کر اسے جلاتے ہیں جس سے جنگلات پر بہت زیادہ بوجھ پڑتا ہے اور اگرصورت حال یہی رہی تو اگلے تیس سالوں میں درخت دوربین میں بھی نظر نہیں آئیں گے، سوائے فارسٹ کے درختوں کے۔

    انہوں نے تجویز پیش کی کہ چترال کے لوگوں کو اگر سستی بجلی یا ایل پی جی گیس فراہم کی جائے تو وہ لکڑی جلانے کی بجائے گیس یا بجلی کا ہیٹر استعمال کریں گے اور اس سے جنگلات پر بوجھ کم پڑے گا۔

    سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر یوسف فرہاد نے کہا کہ یہ درخت ایک قدرتی چیک ڈیم کا کام بھی کرتے ہیں کیونکہ چترال خشک خطہ ہے یہاں جب بارش برستی ہے تو بہت تیزی سے برستی ہے اور پہاڑوں سے ندی نالوں میں تباہ کن سیلاب کی شکل میں رونما ہوتے ہیں جو اکثر جانی اور مالی نقصان کا باعث بھی بنتا ہے، تاہم جن پہاڑوں یا میدان میں پودے اور درخت زیادہ ہوں تو وہ سیلاب کے پانی کی رفتار کو کم کرتا ہے اور اگر سیلاب کا پانی کم رفتار سے بہہ جائے تو اس کا اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا تیز پانی سے ہوتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ان درختوں اور پودوں کی وجہ سے ہم موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے بھی بچ سکتے ہیں۔ کیونکہ ابھِی دیکھ رہے ہیں کہ کبھِی طویل عرصے تک بارش یا برف باری نہیں ہوتی مگر کبھِی بغیر موسم کے بھی بارش اور برف باری ہوتی ہے یہ سب کلائمیٹ چینچ کے اثرات ہیں۔

    ہم جتنا زیادہ سے زیادہ پودے اور درخت لگائیں گے اتنا ہی اس کا ہمارے ماحول پر مثبت اثرات پڑا گا اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کی شرح کو کم کیاجاسکے گا۔

    تقریب کے دوران آنے والے مہمانوں نے پودے لگاکر شجر کاری مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا۔ بعد ازاں لوگوں میں مفت پودے بھی تقسیم کیے گیے۔ یہ تقریب دعائیہ کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

  • چترال بونی شندور روڈ کی زیرتعمیرحفاظتی  دیواریں خود بخود گرنے لگیں،غیر معیاری کام کی وجہ سے عوام پریشان

    چترال بونی شندور روڈ کی زیرتعمیرحفاظتی دیواریں خود بخود گرنے لگیں،غیر معیاری کام کی وجہ سے عوام پریشان

    چترال ،باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)چترال بونی شندور شاہراہ پر حفاظتی دیواریں خود بخود گرنے لگے۔غیر معیاری کام کی وجہ سے عوام پریشان۔

    چترال بونی شاہراہ پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے زیر نگرانی تعمیر کا کام کئی سالوں سے جاری ہے۔ اربوں روپے کی لاگت سے بننے والی اس سڑک پر ایک جانب تعمیری کام غیر ضروری تاخیر کا شکار ہوا تو دوسری جانب کام کا معیار بھی اچھا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی اکثر حفاظتی دیواریں تکمیل سے پہلے خود بخود گر رہی ہیں۔

    چترال میں سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کیلئےے آواز اٹھانے والی رضاکار تنظیم سی ڈی ایم چترال ڈیویلپمنٹ مومنٹ کے اراکین نے اس سڑک کا معائنہ کیا۔ ماہرین نے انکشاف کیا کہ سڑک کی تعمیر کا کام عمر جان اینڈ کمپنی کو ٹھیکے پر دیا گیا تھا مگر انہوں نے چھوٹے چھوٹے ٹھیکیداروں میں یہ کام بانٹا ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سڑک کے کنارے حفاظتی دیواریں بغیر کسی بنیاد کے ریتلی زمین کے اوپر بنائی گئی ہیں جس کی تعمیر میں سیمنٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے اور صرف کچرا اندر ڈال کر باہر سے پلستر کیا ہوا ہے دوسرا اس پر پانی سے ترائی بھی نہیں ہوئی یعنی بروقت پانی کا چھڑکاؤ نہیں کیاگیا ہے جس کی وجہ سے یہ سیمنٹ بھی بوسیدہ ہوکر خود بخود گر رہی ہے۔

    سی ڈی ایم کے اراکین کے علاوہ راہگیروں نے بھی سیمنٹ کی بنی ہوئی دیواریں ہاتھوں سے توڑ کر اسے نہایت غیر معیاری اور ناقص قراردیا۔

    معروف قانون دان سید برہان شاہ ایڈوکیٹ، سماجی کارکن عنایت اللہ اسیر، محمد اشرف، طالب علم کامران، سلطان محمود،ذکریا اور راہ چلتے ہوئے دیگر لوگوں نے بھِی اس بات پرنہایت حیرت کا اظہار کیا کہ چترال بونی شاہراہ پر اگر ایسا ناقص کام کھلے عام ہورہا ہو جس پر ہزاروں لوگ روزانہ گزرتے ہیں تو جہاں زیادہ لوگوں کی آمد و رفت نہ ہو وہاں این ایچ اے کے کام کا کیا معیار ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ عام طور پر اگر کوئی اپنے گھر کی دیواریں تعمیر کرتا ہے تو دیوار کیلئےپہلے تین چار فٹ بنیادیں کھودتے ہیں اور پتھروں میں سمینٹ ڈال کر دیوار بنائی جاتی ہے، تعمیر کے بعد اس پر باقاعدگی سے ہفتہ دس دن ترائی کی جاتی ہے تاکہ وہ مضبوط ہو۔ یہاں حفاظتی دیواروں کے اندر چھوٹے پتھر اور کچرا ڈالا گیا ہے جس کے اندر سیمنٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور دیوار کو باہر سے پلستر کیا ہوا ہے جس سے یوں لگتا ہے کہ پوری دیوار میں سیمنٹ استعمال ہوا ہے ،مگر اس پر ترائی نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے جولائی اگست میں سیمنٹ بوسیدہ ہوکر ناکارہ ہوچکی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ دیواریں خود بخود گررہی ہیں۔ جہاں دیواریں گری ہیں وہاں نہ تو سیلاب آیا ہے اور ان پر کوئی بڑا پتھر گرا ہوا ہے بلکہ نیچے بنیاد نہ ہونے کی وجہ سے دیوار سرک گیا ہے اور پوری دیوار دھڑام سے گررہی ہیں۔

    سی ڈی ایم کے اراکین نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ اس کام کی معیار کو چیک کرنے کیلئے نیسپاک یعنی نیشنل انجنیئرنگ سروسز پاکستان کی جانب سے کنسلٹنٹ ریذیڈنٹ انجنیر عرفان الحق نے ایک مرتبہ بھی سائٹ پر جاکر اس کام کے معیار کا معئنہ نہیں کیا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ان کی شکایت این ایچ اے کے پراجیکٹ ڈایریکٹر کو بھی کی گئی تھی مگر ان کا جواب تھا کہ وہ دل کا مریض ہے اور چلنے پھرنے کا قابل نہیں ہے۔

    ہمارے نمائندے نے این ایچ اے اور نیسپاک کے ذمہ داروں سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر رابطہ نہ ہوسکا اور ان کو باقاعدہ ان کے نمبر پر پیغام بھیجا کہ وہ اس بابت اپنا موقف دیں تاکہ دونوں جانب کا موقف سامنے رکھاجائے مگر ابھی تک ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔

    معروف قانون دان سید برہان شاہ ایڈوکیٹ اور سی ڈی ایم کے دیگر اراکین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم پاکستان، وفاقی وزیر اور سیکرٹری مواصلات اور این ایچ اے کے چیئرمین سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ناقص کام کی جوڈیشل انکوائری کرکے اسے دوبارہ سپیسیفکیشن یعنی مروجہ معیار کے مطابق بنوایا جائے ،کہیں ایسانہ ہوکہ سڑک مکمل ہونے کے بعد جب بھاری ٹرک اور سواریوں سے بھرے ہوئے کوسٹر جب گزریں گے تو یہ ناقص دیواریں ان کی بوجھ برداشت نہ کرتے ہوئے دریا برد نہ ہوجائیں کیونکہ یہ دیواریں ابھی سے اکثر ایسی جگہوں سے گررہی ہیں جہاں نہ تو اس پر کوئی بھاری ملبہ گرا ہے اور نہ ہی سیلاب کا پانی اس پر گزرا ہے بلکہ نیچے بنیاد نہ ہونے کی وجہ سے خود بخود گررہی ہیں۔