Baaghi TV

Category: چترال

  • آیون میں دفاع صحابہ و استحکام پاکستان کانفرنس، بڑی تعداد میں عوام کی شرکت

    آیون میں دفاع صحابہ و استحکام پاکستان کانفرنس، بڑی تعداد میں عوام کی شرکت

    تین قراردادیں متفقہ طور پر منظور، سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی روک تھام، مہنگائی کے خاتمے اور دفاعی تعاون کی حمایت کا مطالبہ

    چترال (فتح اللہ) اہلسنت والجماعت چترال کے زیر اہتمام جنالی آیون میں ’’دفاع صحابہ و استحکام پاکستان‘‘ کے عنوان سے عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے ضلعی قائدین، علماء کرام اور چترال، آیون و دروش سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت اہلسنت والجماعت چترال کے امیر مولانا حافظ خوشولی خان نے کی۔

    کانفرنس سے سابق ناظم آیون مفتی عماد الحق، عنایت اللہ اسیر، عبدالولی خان ایڈووکیٹ، مولانا سراج الدین ندیم، عیدالحسین، مولانا قاضی سلامت اللہ اور مولانا شیر زمان خان سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ صحابہ کرامؓ نے نبی کریم ﷺ سے دین اسلام کی تعلیمات حاصل کرکے انہیں آگے امت تک پہنچایا، اس لیے صحابہ کرامؓ کی عزت و ناموس کا تحفظ مسلمانوں کی دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کے ذریعے مذہبی شخصیات اور صحابہ کرامؓ کی شان میں توہین آمیز مواد پھیلانے کی کوششیں قابل تشویش ہیں، جن کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔مولانا سراج الدین ندیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ چترال کے عوام کو اپنے دین کے ساتھ ساتھ اپنے ملک سے بھی گہری محبت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور استحکام ہر شہری کی ذمہ داری ہے اور ملک کی حفاظت کے معاملے میں قوم کو متحد ہوکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ چترال کے لوگ امن پسند ہیں اور ملک میں امن و امان کے قیام اور قومی یکجہتی کے لیے ہر مثبت کوشش کی حمایت کرتے ہیں۔

    مقررین نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا، اس لیے ملک میں دینی اقدار، قومی وحدت اور باہمی احترام کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی و مذہبی اختلافات اپنی جگہ، تاہم ملکی سلامتی اور امن کے معاملات پر پوری قوم کو متحد ہونا چاہیے۔کانفرنس کے دوران تین قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔ ایک قرارداد میں سوشل میڈیا پر صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخانہ مواد کی روک تھام اور ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ دوسری قرارداد میں ہوشربا مہنگائی پر قابو پانے اور غریب عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے پر زور دیا گیا، جبکہ تیسری قرارداد میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا گیا۔صدرِ اجلاس مولانا حافظ خوشولی خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ملکی سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے، اسی طرح ایمان اور دینی اقدار کا تحفظ بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن، نماز، روزہ، حج، تبلیغ اور دیگر دینی تعلیمات ہم تک صحابہ کرامؓ کے ذریعے پہنچیں، اس لیے ان کی عزت و مقام کا دفاع دراصل دین کی حفاظت کا اہم حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ صحابہ کرامؓ کے کردار اور مقام کے خلاف مہم کسی صورت نظر انداز نہیں کی جا سکتی، تاہم ایسے معاملات میں قانون اور پرامن طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دفاع صحابہ کا راستہ آسان نہیں بلکہ مشکلات سے بھرا ہوا ہے اور اس مقصد کے لیے ماضی میں کئی علماء اور اکابرین نے قربانیاں دی ہیں۔مولانا حافظ خوشولی خان نے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ باہمی اختلافات کو کم کرکے دین، ملک اور قومی سلامتی کے معاملات میں اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ آج مسلمان معمولی سیاسی اختلاف پر ایک دوسرے کے خلاف سخت رویہ اختیار کرتے ہیں، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ صحابہ کرامؓ کی عزت و ناموس کے معاملے میں بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کیا جائے۔

    کانفرنس کے اختتام پر مولانا حافظ خوشولی خان نے شرکاء سے ناموسِ صحابہؓ کے تحفظ اور اس مقصد کے لیے اپنی استطاعت کے مطابق کردار ادا کرنے کا عہد بھی لیا۔ بعد ازاں جماعت اسلامی کے مقامی رہنما اور سابق ناظم آیون مولانا رحمت نعیم شاہ المعروف ’’مولائی روم‘‘ نے دعا کرائی، جس کے ساتھ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔

  • کالاش قبیلے کا سالانہ مذہبی و ثقافتی تہوار ’’اوچاؤ‘‘ اختتام پذیر

    کالاش قبیلے کا سالانہ مذہبی و ثقافتی تہوار ’’اوچاؤ‘‘ اختتام پذیر

    چترال:کالاش قبیلے کا سالانہ مذہبی و ثقافتی تہوار ’’اوچاؤ‘‘ روایتی رنگوں اور رسومات کے ساتھ وادی رمبور میں اختتام پذیر ہوگیا۔چترال کی قدیم اور منفرد کالاش تہذیب کے اہم تہوار "اوچاؤ "میں ملکی و غیر ملکی سیاحوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور کالاش ثقافت کے مختلف رنگوں، روایتی رقص، موسیقی اور رسومات سے لطف اندوز ہوئے۔

    اوچاؤ تہوار 21 اگست کو شروع ہوا تھا جو موسم گرما کے اختتام پر گندم، جو اور دیگر فصلوں کی کٹائی مکمل ہونے کی خوشی اور قدرت کی نعمتوں پر اظہار تشکر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ تہوار کے دوران کالاش برادری نے اپنی صدیوں پرانی مذہبی روایات، ثقافتی اقدار اور رسم و رواج کو اجاگر کیا۔

    تہوار کی روایتی رسومات کے تحت پہاڑی علاقوں سے گندم اور مکھن آبادی تک لایا گیا، جبکہ مکھن ہمسایوں، رشتہ داروں، مہمانوں اور سیاحوں میں خوشی اور محبت کے اظہار کے طور پر تقسیم کیا گیا۔

    اس موقع پر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ڈانسنگ ہال میں جمع ہوئے، جہاں روایتی گیت گائے گئے اور مخصوص دھنوں پر رقص کرکے ثقافتی رسومات ادا کی گئیں۔

  • ڈی پی اوچترال کا  اچال فیسٹیول کے سلسلے میں وادی کالاش رومبور کا دورہ

    ڈی پی اوچترال کا اچال فیسٹیول کے سلسلے میں وادی کالاش رومبور کا دورہ

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر نے اچال فیسٹیول کے سلسلے میں وادی کالاش رومبور کا دورہ کیا اور فیسٹیول کے مقام سمیت اطراف میں سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

    رومبور ( فتح اللہ) ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لوئر چترال ریشم جہانگیر نے دورے کے دوران ڈی ایس پی اور دیگر متعلقہ پولیس افسران کے ہمراہ فیسٹیول کے مقام، داخلی و خارجی راستوں اور مختلف سیکیورٹی پوائنٹس کا معائنہ کیا۔ انہوں نے ممکنہ سیکیورٹی خدشات، پولیس نفری کی تعیناتی اور دیگر انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو سیکیورٹی ڈیوٹی سے متعلق ضروری ہدایات جاری کیں۔

    ڈی پی او ریشم جہانگیر نے اچال فیسٹیول کے دوران ڈرون کیمروں کے استعمال پر مکمل پابندی پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی، جبکہ میڈیا کوریج کے لیے مقررہ اجازت نامے اور این او سی کی پابندی یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔

    انہوں نے پولیس افسران کو ہدایت کی کہ فیسٹیول کے دوران مقامی آبادی، سیاحوں اور دیگر شرکاء کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں اور کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی خدشے سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات مکمل رکھے جائیں۔

  • چترال، کالاش برادری کا مذہبی تہوار اچال،سیکورٹی بارے اہم اجلاس

    چترال، کالاش برادری کا مذہبی تہوار اچال،سیکورٹی بارے اہم اجلاس

    رومبور (فتح اللہ) وادی رومبور میں تھانہ رومبور میں ڈی ایس پی حسن اللہ اور ایس ایچ او رومبور کی سربراہی میں اچال فیسٹیول کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں فیسٹیول کے دوران امن و امان، سیکیورٹی انتظامات، کیلاش برادری کو درپیش ممکنہ مسائل، مذہبی رسومات کے تحفظ، سیاحوں کی رہنمائی اور پولیس و مقامی عمائدین کے درمیان باہمی تعاون سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

    اجلاس میں سابق چیئرمین سیف اللہ جان، سابق کونسلر عنایت اللہ شیخ قریشی، مولانا محمد اسحاق، کسان کونسلر جاوید احمد، میر گوجر، گل فیروز، بشگالی خان، قاضی مجیب، قاضی کندھار خان، قاضی راماسن، خواتین مذہبی قاضیاں سمیت مسلم اور کیلاش برادری کے دیگر عمائدین نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ اچال فیسٹیول کے موقع پر کیلاش برادری کو اپنی مذہبی رسومات اور روایتی سرگرمیاں مکمل آزادی، تحفظ اور پُرامن ماحول میں ادا کرنے کے لیے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس مقصد کے لیے پولیس، کیلاش مذہبی پیشواؤں یعنی قاضیوں اور مقامی عمائدین کے درمیان مسلسل رابطے اور باہمی مشاورت کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا، تاکہ فیسٹیول کے دوران پیش آنے والے کسی بھی مسئلے کو بروقت حل کیا جا سکے۔

    شرکاء نے کہا کہ کیلاش برادری کی مذہبی رسومات، ثقافتی روایات اور اخلاقی اقدار کا احترام تمام متعلقہ افراد کی ذمہ داری ہے۔ فیسٹیول کے دوران ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے گا جو مذہبی رسومات یا معمول کی سرگرمیوں میں خلل کا باعث بن سکتے ہوں، جبکہ پولیس کی جانب سے کیلاش برادری کے تحفظ اور سیکیورٹی کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔اجلاس میں فیسٹیول کے دوران وادی میں آنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کے حوالے سے بھی اہم امور زیر بحث آئے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سیاحوں کو مناسب رہنمائی اور ضروری تعاون فراہم کیا جائے گا، تاہم انہیں کیلاش برادری کی مذہبی رسومات اور فیسٹیول کے طریقہ کار کا احترام کرنے کی تلقین کی جائے گی۔ اگر کسی سیاح کی سرگرمی سے کیلاش برادری یا فیسٹیول کی رسومات میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ ہو تو پولیس اور مقامی ذمہ داران بروقت مداخلت کرکے صورتحال کو بہتر بنائیں گے۔

    اس موقع پر ڈی ایس پی حسن اللہ نے کہا کہ اچال فیسٹیول کے دوران امن و امان برقرار رکھنا پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ کیلاش برادری کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی جائے گی اور ان کی مذہبی رسومات، ثقافتی روایات اور اخلاقی اقدار کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ڈی ایس پی حسن اللہ نے کہا کہ فیسٹیول کو بہترین اور پُرامن ماحول میں منعقد کرنے کے لیے کیلاش قاضیوں، مقامی عمائدین اور پولیس کے درمیان باہمی رابطہ اور تعاون انتہائی ضروری ہے۔ کسی بھی مسئلے کی صورت میں متعلقہ افراد آپس میں مشاورت کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھیں گے تاکہ فیسٹیول کی سرگرمیاں خوشگوار ماحول میں جاری رہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ فیسٹیول میں شرکت کے لیے آنے والے سیاحوں کے ساتھ پولیس کی جانب سے بھرپور تعاون کیا جائے گا اور ان کی بہتر رہنمائی کی جائے گی، تاہم سیاحوں کو بھی مقامی مذہبی روایات اور رسومات کا احترام کرنا ہوگا۔ پولیس اس امر کو یقینی بنائے گی کہ سیاحوں کی آمد کی وجہ سے کیلاش برادری کو کسی قسم کی مشکل یا اپنی مذہبی سرگرمیوں میں رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    اجلاس میں میڈیا کوریج کے حوالے سے بھی ضابطہ کار واضح کیا گیا۔ ڈی ایس پی حسن اللہ نے کہا کہ اچال فیسٹیول کی کوریج کے لیے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ این او سی رکھنے والے میڈیا نمائندگان کو مقررہ ضابطے کے مطابق کوریج کی اجازت دی جائے گی، تاہم جن کے پاس این او سی موجود نہیں ہوگا، انہیں فیسٹیول کے مخصوص مقامات پر کوریج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی شخص صرف کیمرہ یا میڈیا نمائندے کا حوالہ دے کر کیلاش برادری کی مذہبی رسومات، خصوصاً خواتین کے مخصوص مقامات یا فیسٹیول کے حساس حصوں میں داخل ہو کر رسومات میں خلل پیدا نہیں کر سکتا۔ میڈیا کوریج بھی مقررہ ضابطے اور مقامی روایات کے احترام کے ساتھ کی جائے گی۔اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اچال فیسٹیول کے دوران سیکیورٹی، مذہبی رسومات کے تحفظ اور سیاحوں کی سہولت کے لیے تمام متعلقہ افراد اپنی ذمہ داریاں باہمی تعاون سے ادا کریں گے۔ اس حوالے سے پولیس اور کیلاش قاضیوں کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے پر بھی زور دیا گیا تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    واضح رہے کہ اچال فیسٹیول ہر سال 22 اگست کو کیلاش برادری کی جانب سے وادی بمبوریت اور رومبور میں اپنی قدیم مذہبی و ثقافتی روایات کے مطابق منایا جاتا ہے۔ فیسٹیول کے موقع پر کیلاش برادری مختلف مذہبی رسومات ادا کرتی ہے جبکہ بڑی تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح بھی ان وادیوں کا رخ کرتے ہیں۔

  • چترال: آسمانی بجلی گرنے سے نوجوان چرواہا جاں بحق، دو زخمی، درجنوں مال مویشی ہلاک

    چترال: آسمانی بجلی گرنے سے نوجوان چرواہا جاں بحق، دو زخمی، درجنوں مال مویشی ہلاک

    چترال ( فتح اللہ ) چترال کی وادی رومبور کی بالائی اور دور افتادہ چراگاہ بہوک میں گزشتہ شب شدید بارش کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے ایک نوجوان چرواہا جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ افسوسناک واقعے میں درجنوں مال مویشی بھی ہلاک ہوگئے، جس سے مقامی چرواہوں کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی چترال لیویز، چترال پولیس اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر امدادی کارروائی کے لیے روانہ ہوئیں۔ دشوار گزار پہاڑی راستوں کے باوجود چترال لیویز اور چترال پولیس کے اہلکار رات ہی کے وقت جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور مقامی افراد کے تعاون سے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ریسکیو 1122 نے خصوصی فور بائے فور ایمبولینس کے ذریعے زخمیوں تک رسائی حاصل کی۔ دونوں زخمیوں کو پہلے رومبور کی سول ڈسپنسری میں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کے ذریعے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چترال منتقل کر دیا گیا۔ادھر امدادی اہلکاروں، چترال لیویز، چترال پولیس اور مقامی رضاکاروں نے مشترکہ کوششوں سے جاں بحق نوجوان چرواہے کی میت بھی بہوک چراگاہ سے گاؤں منتقل کر دی، جہاں اہل خانہ کے حوالے کرنے کے بعد مقامی روایات کے مطابق آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔

    واقعے کے بعد وادی رومبور میں سوگ کی فضا ہے۔ مقامی افراد نے مشکل حالات اور دشوار گزار راستوں کے باوجود بروقت امدادی کارروائیوں پر چترال لیویز، چترال پولیس، ریسکیو 1122 اور رضاکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں نے بروقت کارروائی کر کے زخمیوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

  • وادی کالاش رومبور ، پولیس اور مقامی برادری  منشیات کے خاتمے کیلیے پرعزم

    وادی کالاش رومبور ، پولیس اور مقامی برادری منشیات کے خاتمے کیلیے پرعزم

    چترال ( فتح اللہ) وادیٔ کالاش کے علاقے رومبور میں امن و امان کی صورتحال، منشیات کی روک تھام اور عوامی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم امن جرگہ منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈی ایس پی حسن اللہ نے کی، جبکہ ایس ایچ او عبد الرشید بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

    جرگے میں مسلم اور کالاش برادری کے عمائدین، منتخب نمائندوں، سماجی شخصیات اور خواتین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران علاقے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، کمیونٹی پولیسنگ، نوجوانوں کو منشیات سے محفوظ رکھنے اور باہمی تعاون کے فروغ سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ڈی ایس پی حسن اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وادیٔ کالاش میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عوام اور پولیس کے درمیان مضبوط رابطہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی، جرائم پیشہ عناصر یا امن خراب کرنے کی کوشش کی فوری اطلاع پولیس کو دی جائے تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کی بحالی اور منشیات کے ناسور کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

    اس موقع پر ایس ایچ او عبد الرشید نے بھی شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقامی آبادی کے تعاون سے جرائم کی روک تھام اور امن کے قیام میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور معاشرے کو منشیات اور دیگر سماجی برائیوں سے پاک بنانے میں پولیس کا ساتھ دیں۔اجلاس میں موجود مقامی عمائدین، کمیونٹی نمائندوں اور خواتین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علاقے میں امن، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔جرگے کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ رومبور میں امن و امان کو مزید مستحکم بنانے، نوجوان نسل کو منشیات سے محفوظ رکھنے اور پولیس و عوام کے درمیان اعتماد کو فروغ دینے کے لیے ایسے رابطہ اجلاس مستقبل میں بھی باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے۔

  • شدید بارشوں کے بعد لوئر چترال کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال

    شدید بارشوں کے بعد لوئر چترال کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال

    شدید بارشوں کے بعد لوئر چترال کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال، املاک کو نقصان، امدادی کارروائیاں جاری ہیں

    گزشتہ شب لوئر چترال اور ملحقہ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارشوں کے بعد مختلف مقامات پر اچانک سیلابی ریلے آنے سے گھروں، دکانوں، کھڑی فصلوں، مویشی خانوں اور رابطہ سڑکوں کو نقصان پہنچا۔اطلاعات کے مطابق اٹانی،ایون برساتی نالہ غیر معمولی طغیانی کا شکار ہوا، جہاں ایک مسجد، ایک دکان، دو گائیں اور دو موٹر سائیکلیں سیلابی ریلے کی نذر ہو گئیں۔دروش کے علاقوں اوسائیک اور لوٹگولے سمیت بروز، سین کوڑوم اور گولدہ میں بھی سیلابی ریلوں سے متعدد مکانات اور املاک متاثر ہوئیں جبکہ بعض مقامات پر آمدورفت عارضی طور پر معطل رہی۔

    ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ساجدعلی یوسفزئی کی نگرانی میں رات بھر امدادی سرگرمیوں اور متاثرہ علاقوں کی نگرانی میں مصروف رہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں نے بند سڑکوں کی بحالی کا کام جاری رکھا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جبکہ شہریوں سے خراب موسم میں احتیاط اور غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل کی گئی ہے۔
    رپورٹ،فتح اللہ

  • کرپشن مٹاؤ، چترال بچاؤ کے عنوان سے وادی کالاش رمبور میں   احتجاج

    کرپشن مٹاؤ، چترال بچاؤ کے عنوان سے وادی کالاش رمبور میں احتجاج

    امیر جماعت اسلامی لوئر چترال وجیہ الدین کی ہدایت پر ضلع بھر کی طرح وی سی رمبور میں بھی ’’کرپشن مٹاؤ، چترال بچاؤ‘‘ مہم کے تحت احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ مین بازار رمبور میں بعد از نماز جمعہ منعقدہ احتجاج میں مقامی عوام نے شرکت کی اور کرپشن، بدعنوانی، عوامی مسائل اور ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کی۔

    شرکاء نے مطالبہ کیا کہ عوامی وسائل کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ذمہ دار عناصر کا بلاامتیاز احتساب کیا جائے۔ احتجاج کے اختتام پر عوامی قرارداد بھی پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ کرپشن میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے اور چترال میں مبینہ کرپشن کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔قرارداد میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی مبینہ بدعنوانی سے متعلق آگاہی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے، خردبرد شدہ قومی رقم کی فوری ریکوری کی جائے اور اس میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

    قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام وضع کیا جائے اور شفافیت و احتساب کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

  • رومبور،  نوک تھوں چشمہ سے آیون واٹر سپلائی منصوبے کے خلاف عوام سراپا احتجاج

    رومبور، نوک تھوں چشمہ سے آیون واٹر سپلائی منصوبے کے خلاف عوام سراپا احتجاج

    رومبور (فتح اللہ) لوئر چترال کی وادی رمبور میں نوک تھوں چشمہ سے آیون کے لیے واٹر سپلائی پائپ لائن منصوبے کے خلاف مقامی عوام نے احتجاج ریکارڈ کرتے ہوئے منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور ضلعی انتظامیہ و متعلقہ اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

    احتجاجی اجتماع سے برزنگی کالاش، میر گجر، اقلیتی کونسلر نور شالی، دوردن صوبیدار، ریاض احمد، رحمت حاصل ودا، آبی حیات، قادر نواز، مولانا اسحاق، صورم خان صوبیدار، شیر تاج، سابق چیئرمین ویلج کونسل رمبور، نائب چیئرمین، رحمت زار، موجودہ چیئرمین ویلج کونسل رمبور سلطان، خواتین نمائندہ رکیم گل، فلم، رابی گل اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ نوک تھوں چشمہ سے گومبیک تک آباد کالاش اور مسلم برادری صدیوں سے اس پانی پر انحصار کرتی آرہی ہے۔ ان کے مطابق یہ چشمہ صرف پینے کے پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ گھریلو ضروریات، زرعی آبپاشی، پن چکیوں، مقامی توانائی ذرائع اور روزمرہ زندگی کا بنیادی حصہ ہے۔مقررین نے الزام عائد کیا کہ منصوبے کے حوالے سے مقامی آبادی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی عوامی مشاورت کی گئی۔ ان کے مطابق چند افراد کی رضامندی کو پورے علاقے کی اجتماعی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    اس موقع پر برزنگی کالاش نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوک تھوں چشمہ کیلاش برادری کے لیے مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور مقامی لوگوں کے نزدیک یہ محض پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ وادی کے طرزِ زندگی اور شناخت سے جڑا ہوا مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقامی آبادی کے تحفظات کے باوجود منصوبہ نافذ کیا گیا تو عوام خود کو اپنی ہی وادی میں غیر محفوظ اور بے اختیار محسوس کریں گے اور ایسی صورتحال پیدا نہ کی جائے جس سے لوگوں میں اپنے آبائی علاقے سے محرومی یا نقل مکانی کا احساس جنم لے۔

    احتجاجی شرکاء نے متبادل تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اگر آیون کے لیے پانی درکار ہے تو نوک تھوں سے نیچے موجود دیگر چشموں اور متبادل آبی ذرائع کا تکنیکی جائزہ لے کر اجتماعی حل تلاش کیا جائے، تاہم مکمل نوک تھوں چشمے کا رخ بڑی پائپ لائن کے ذریعے منتقل کرنا قابل قبول نہیں۔مقررین نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ منصوبے سے مستقبل میں پانی کی دستیابی، مقامی زراعت، ماحولیاتی توازن، بجلی کی پیداوار اور کالاش مذہبی و ثقافتی سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے کسی بھی فیصلے سے قبل آزادانہ ماحولیاتی، سماجی اور قانونی جائزہ ناگزیر ہے۔

    اس موقع پر خواتین مقررین نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وادی کے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے خواتین بھی اپنا کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقامی آبادی کے تحفظات کو نظر انداز کیا گیا تو خواتین اور بچیاں بھی احتجاجی عمل میں شامل ہوں گی اور مطالبہ کیا کہ انتظامیہ معاملے کو مزید کشیدہ ہونے سے پہلے مقامی تجاویز اور متبادل ذرائع پر سنجیدگی سے غور کرے۔احتجاجی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ منصوبے پر فوری طور پر عمل درآمد روکا جائے، تمام قانونی، ماحولیاتی، سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، منتخب نمائندوں، عمائدین، خواتین، نوجوانوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ جرگہ یا اجلاس بلایا جائے اور وادی کے دیرپا آبی حقوق اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے۔عوام نے ضلعی انتظامیہ کو سات دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر پیش رفت نہ ہوئی تو عوام آئینی اور پُرامن طریقے سے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید لائحہ عمل اختیار کریں گے، جبکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی سے بچنے کے لیے بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔

  • گورنر خیبر پختونخوا نے جشنِ شندور فیسٹیول 2026 کا افتتاح کر دیا، پولو مقابلوں کا شاندار آغاز

    گورنر خیبر پختونخوا نے جشنِ شندور فیسٹیول 2026 کا افتتاح کر دیا، پولو مقابلوں کا شاندار آغاز

    لاسپور لوئر چترال نے غذر کو 9-0 سے شکست دے دی،

    یاسین گلگت بلتستان نے مستوج لوئر چترال کو 5کے مقابلے میں 8 گول سے ہرا دیا؛ فائنل 13 جون کو کھیلا جائے گا۔

    دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور میں روایتی شندور پولو فیسٹیول 2026 کا رنگا رنگ آغاز ہو گیافیسٹیول کا انعقاد خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان کی حکومتوں اور پاک فوج کے تعاون سے کیا جا رہا ہے،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بطور مہمانِ خصوصی شندور پولو فیسٹیول 2026 کا افتتاح کیا،گورنر خیبر پختونخوا نے شندور پولو فیسٹیول کے انعقاد کو قومی یکجہتی، ثقافتی ہم آہنگی اور سیاحت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا،فیسٹیول کے پہلے روز روایتی حریف چترال اور گلگت بلتستان کی ٹیموں کے درمیان دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آیا، شائقین نے دونوں ٹیموں کی شاندار کارکردگی کو بھرپورسراہا اور خوب لطف اٹھایا،تقریب کے دوران پیرا گلائڈنگ کا دلکش مظاہرہ بھی پیش کیا گیا، جس نے حاضرین کی بھرپور توجہ حاصل کی ،شندور پولو فیسٹیول 3روز تک جاری رہے گا جس میں ملک بھر سے سیاح اور کھیلوں کے شائقین شرکت کر رہےہیں

    چترال (فتح اللہ) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی وزراء، وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان، ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی اور دیگر معززین کے ہمراہ جشنِ شندور فیسٹیول 2026 کے افتتاحی میچ میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔شندور پہنچنے پر کمشنر ملاکنڈ ڈویژن مسعود احمد، ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان اور ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبر پختونخوا شاہد احمد نے گورنر اور دیگر معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان نے گورنر خیبر پختونخوا کو ضلع اپر چترال کو درپیش انتظامی، مواصلاتی، سیاحتی اور ترقیاتی مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ گورنر نے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔

    فیسٹیول کے پہلے روز کھیلے گئے پولو مقابلوں میں لاسپور لوئر چترال اے اور بی ٹیموں نے غذر گلگت بلتستان کی اے اور بی ٹیموں کو 9-0 سے شکست دے دی، جبکہ دوسرے میچ میں یاسین گلگت بلتستان کی پولو ٹیم نے مستوج لوئر چترال کی ٹیم کو 5 کے مقابلے میں 8گول سے شکست دی۔افتتاحی میچ کے دوران گورنر، وزیر اطلاعات، ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی، صوبائی وزراء اور دیگر معززین نے شاندار کھیل کا مشاہدہ کیا اور کھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی کو سراہا۔ میچوں کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔فیسٹیول کے شیڈول کے مطابق بی اور سی ٹیموں کے درمیان مقابلے جمعہ کو منعقد ہوں گے، جبکہ جشنِ شندور فیسٹیول 2026 کا فائنل معرکہ 13 جون بروز ہفتہ کھیلا جائے گا۔

    اس موقع پر گورنر خیبر پختونخوا نے جشنِ شندور فیسٹیول کے کامیاب انعقاد پر ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ شندور فیسٹیول خطے کی ثقافت، روایتی کھیلوں اور سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کے ذریعے علاقے کا مثبت تشخص دنیا بھر میں اجاگر ہوتا ہے۔