رومبور (فتح اللہ) چترال کے وادی کالاش رومبور میں محکمہ جنگلات لوئر چترال کے زیر اہتمام شجرکاری مہم اور پودوں کی تقسیم کی تقریب منعقد ہوئی، جس کا مقصد علاقے میں شجرکاری کو فروغ دینا، جنگلات کا تحفظ یقینی بنانا اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔اس مہم کا آغاز ڈی ایف او چترال لوئر آصف علی شاہ کی قیادت میں کیا گیا، جبکہ اسسٹنٹ ایس ڈی ایف او قاسم علی شاہ، بلاک آفیسرز اور فارسٹ گارڈز نے نگرانی کے فرائض سرانجام دیے۔ تقریب کا افتتاح مقامی عمائدین نے پودے لگا کر کیا۔اس موقع پر سیاسی و سماجی شخصیت اور سابق چیئرمین سیف اللہ جان کالاش، چیئرمین ویلج کونسل رومبور سلطان، سماجی رہنما غلام سرور قریشی، سابق کونسلر عنایت اللہ شیخ قریشی، حکیم خان، چترال لیویز فورس اور تھانہ رومبور کے اہلکاروں سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درخت لگانا نہ صرف صدقہ جاریہ ہے بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے صاف اور صحت مند ماحول کی ضمانت بھی ہے۔ چیئرمین ویلج کونسل رومبور سلطان نے محکمہ جنگلات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقے میں پودوں کی تقسیم ایک قابلِ تحسین اقدام ہے، جس سے عوام میں ماحولیاتی شعور بیدار ہو رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وادی رومبور کو سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات کا سامنا ہے، جن سے بچاؤ کے لیے شجرکاری نہایت ضروری ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر عوام، خصوصاً نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں۔تقریب کے دوران مختلف اقسام کے جنگلی اور پھلدار پودے مقامی افراد میں تقسیم کیے گئے تاکہ وہ انہیں اپنے گھروں، کھیتوں اور اردگرد لگا کر ماحول کے تحفظ میں کردار ادا کریں۔ شرکاء نے محکمہ جنگلات لوئر چترال کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات مستقل بنیادوں پر جاری رہیں گے۔ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی شجرکاری مہمات ماحولیاتی آلودگی میں کمی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔
Category: چترال
-

رومبور: ایس ایچ او عبد الوکیل کا تبادلہ، ایک سالہ شاندار خدمات پر پروقار خراجِ تحسین
ایس ایچ او تھانہ رومبور عبد الوکیل کا تبادلہ، ایک سالہ کارکردگی پر شاندار خراجِ تحسین
رومبور ( فتح اللہ) چترال کی مشہور و معروف سیاحتی مقام وادی کالاش کے علاقے رومبور میں تعینات ایس ایچ او تھانہ رومبور عبد الوکیل کا تبادلہ تھانہ ارکاری کر دیا گیا ہے۔ وہ تقریباً ایک سال تک رومبور میں خدمات انجام دیتے رہے، جہاں انہوں نے بطور پولیس افسر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں۔تبادلے کے موقع پر مقامی پولیس اور علاقہ عمائدین کی جانب سے ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں ایس ایچ او عبد الوکیل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں خصوصاً منشیات کے خلاف مؤثر اقدامات کیے گئے، ایس ایج او صاحب کی ایک سالہ دورانیے میں علاقے میں امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہوئی۔
تقریب کے دوران مقامی روایات کے مطابق انہیں شومن کا ہار پہنا کر عزت افزائی کی گئی۔ اس موقع پر مولانا محمد اسحاق، برزنگی کالاش سمیت دیگر معززین بھی موجود تھے۔ویلج کونسل رومبور کے چیئرمین سلطان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عبد الوکیل ایک فرض شناس، دیانتدار اور عوام دوست پولیس افسر کے طور پر اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کا تبادلہ علاقے کے لیے باعثِ افسوس ہے، تاہم سرکاری ملازمت میں تبادلے ایک معمول کا حصہ ہوتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے ایس ایچ او عبد الوکیل کے لیے نئی ذمہ داریوں میں کامیابی کی دعا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی اسی پیشہ ورانہ لگن کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔ -

چترال کے سرحدی علاقے ارندو میں عوام کی پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی ریلی
حالیہ پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں چترال کے سرحدی علاقے ارندو میں عوام کی بڑی تعداد نے پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک ریلی کا انعقاد کیا۔
مظاہرین نے سرحد پار سے پاکستان میں کی جانے والی فتنہ الخوارج کی دہشتگردی کی کارروائیوں کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔عوام علاقہ نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ریلی کے شرکاء نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور سرحدوں کے تحفظ میں کردار کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا اعلان کیا اور ہر مشکل وقت میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کیا۔ریلی کے دوران قومی پرچم لہرائے گئے اور ملک کی خودمختاری، استحکام اور امن کے لیے بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ریلی کے اختتام پر ملکی سلامتی، سرحدوں کے تحفظ اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔
-

چترال،روسی شہری کا68 ہزار ڈالر میں کشمیری مارخور کا شکار
چترال کے دور افتادہ اور پہاڑی علاقے گہریت گول میں غیر ملکی شکاری نے کشمیری مارخور کا شکار کر لیا۔ محکمہ جنگلی حیات کے مطابق یہ شکار کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد نایاب جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو براہِ راست معاشی فوائد فراہم کرنا ہے۔
محکمہ جنگلی حیات کے حکام نے بتایا کہ روس سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی شکاری نے مارخور کے شکار کے لیے 68 ہزار امریکی ڈالر کے عوض باقاعدہ لائسنس حاصل کیا تھا۔ شکار کیے گئے کشمیری مارخور کے سینگوں کی لمبائی 41 انچ ریکارڈ کی گئی ہے، جو اس نسل کے بالغ اور صحت مند جانور کی نشاندہی کرتی ہے۔ حکام کے مطابق شکار سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور مقررہ ضوابط کے مطابق نگرانی میں کارروائی کی گئی۔محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ اس رقم سے علاقے میں تعلیم، صحت، بنیادی انفراسٹرکچر، روزگار کے مواقع اور قدرتی وسائل کے تحفظ سے متعلق منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے، جس سے مقامی افراد کی معاشی حالت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
حکام کے مطابق اس پروگرام کا بنیادی مقصد جنگلی حیات، خصوصاً نایاب اور محفوظ نسلوں کے جانوروں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ محدود اور سائنسی بنیادوں پر دیے جانے والے شکار کے اجازت ناموں کے ذریعے نہ صرف جانوروں کی آبادی کو کنٹرول اور محفوظ رکھا جاتا ہے بلکہ مقامی لوگ بھی جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ترغیب پاتے ہیں۔محکمہ جنگلی حیات نے مزید کہا کہ کمیونٹی کی شمولیت کے باعث غیر قانونی شکار میں نمایاں کمی آئی ہے اور مقامی آبادی اب جنگلی جانوروں کو نقصان پہنچانے کے بجائے ان کے تحفظ کو اپنے مفاد سے جوڑ کر دیکھتی ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ بھی ایسے پروگرام شفافیت، قانون اور ماحولیاتی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری رکھے جائیں گے تاکہ قدرتی ورثے کا تحفظ اور مقامی ترقی ساتھ ساتھ ممکن بنائی جا سکے۔
-

کیلاش قبیلے کا تین روزہ قدیم مذہبی اور ثقافتی تہوار "چلم جوشی” اختتام پذیر
چترال میں کیلاش قبیلے کا تین روزہ قدیم مذہبی اور ثقافتی تہوار "چلم جوشی” اپنی تمام تر رنگینیوں اور عقیدت کے ساتھ اختتام پذیرہو گیا
چلم جوشی تہوار وادی کالاش کی تہذیب، خوشی، ہم آہنگی اور فطرت سے محبت کی علامت بن چکا ہے، جو ہر سال ہزاروں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ سالانہ چلم جوشی فیسٹول 13 سے 17 مئی 2025 تک وادی کیلاش کی تینوں خوبصورت وادیوں رمبور، بمبوریت اور بریر میں منایا گیا۔ تہوار کا آغاز رمبور وادی میں رسم ورواج سے ہوا، دوسرے مرحلہ میں وادی بمبوریت میں سرگرمیاں جاری رہیں۔ آخری مرحلہ میں بریر وادی میں یہ خوبصورت تہوار رعنایوں کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ تہوار کو دیکھنے کے لئے 170 سے زائد غیر ملکی سیاحوں نے وادی کالاش کا رخ کیا۔ ان میں فرانس، جرمنی، امریکہ، آسٹریلیا، اٹلی، سوئٹزرلینڈ، روس، جاپان، چین، یونان، تائیوان، جنوبی کوریا، انگلینڈ، ہالینڈ، ملائشیا، انڈونیشیا اور رومانیہ سے تعلق رکھنے والے سیاح شامل ہیں۔ تہوار کے لئے مقامی پولیس کے ساتھ ساتھ فرنٹیئر کور نارتھ نے بھی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے۔ سیاحوں کا کہنا ہے کہ وادی کیلاش کی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ چلم جوشی تہوار ان کے لئے خوشگوار یادوں کا مجموعہ بن گیا ہے۔
-

ہسپانوی شکاری نے چترال میں سیزن کے دوسرے مارخور کا شکار کرلیا
چترال کے علاقے میں ایک اور کشمیری مارخور کا شکار کیا گیا، جس کا شکار ہسپانوی شکاری نے کیا۔ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر (ڈی ایف او) وائلڈ لائف فاروق نبی کے مطابق، ہسپانوی شکاری نے یہ شکار چترال کے معروف علاقے گہریت گول کنزر وینسی میں کیا۔
ڈی ایف او وائلڈ لائف فاروق نبی نے میڈیا کو بتایا کہ ہسپانوی شکاری کرسٹین ابیلو نے پانچ منٹ کے اندر 160 میٹر کے فاصلے سے مارخور کو نشانہ بنایا۔ شکاری نے اس شکار کے لیے پاکستانی حکام کو 2 لاکھ 20 ہزار ڈالر کے عوض ٹیکس ادا کیے۔یہ مارخور کا شکار سیزن کا دوسرا شکار تھا، جس سے قبل گزشتہ ماہ دسمبر میں امریکی شکاری رونالڈ جوویٹ نے بھی چترال میں ایک کشمیری مارخور کا شکار کیا تھا۔ حکام کے مطابق، رونالڈ جوویٹ نے اس شکار کے لیے اکتوبر میں پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی بولی دی تھی، جس میں اس نے 2 لاکھ 71 ہزار ڈالرز میں شکار کے پرمٹ حاصل کیے تھے۔
پاکستانی حکومت اور مقامی حکام اس شکار کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم کو جنگلی حیات کے تحفظ اور علاقے کے مقامی باشندوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کشمیری مارخور کا شکار پاکستان میں خاص طور پر چترال میں بہت مقبول ہے، اور یہ بین الاقوامی شکاریوں کے لیے ایک بڑا کشش کا باعث بنتا ہے۔چترال میں کشمیری مارخور کے شکار پر پابندیاں اور قواعد و ضوابط موجود ہیں تاکہ ان جانوروں کی نسل کی حفاظت کی جاسکے۔
گوجرانوالہ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کی تقریب منعقد، کیک کاٹا گیا
-

کیلاشی لڑکی سے شادی کے لئے چین کا شہری چترال پہنچ گیا
کیلاشی لڑکی سے شادی کے لئے چین کا شہری چترال پہنچ گیا
سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی، بات شادی تک جا پہنچی، چینی شہری شادی کرنے کے لئے پاکستان کے شہر چترال پہنچ گیا،چینی شہری اوجن کی کیلاشی لڑکی شاہین آرا سے سوشل میڈیا پردوستی ہوئی جو بڑھتی چلی گئی، چینی باشندے اوجن اور نے چترال پہنچ کر کیلاشی لڑکی سے شادی کے لئے عدالت میں درخواست دائر کی ہے، عدالت میں درخواست پر سماعت بھی ہوئی تا ہم چینی باشندے کی شادی میں رکاوٹ اس وقت پیدا ہوئی جب اسکو تصدیق کنندہ نہ ملاپولیس حکام کے مطابق چینی باشندہ کیلاش میں ہی ہے،اس نے تصدیق کنندہ پیش کرنے کے لیے ایک ہفتے کا وقت مانگا ہے،چینی شہری 3 ماہ کے ویزٹ ویزے پر پاکستان آیا ہے ،چینی باشندہ اوجن لاہور میں کسی کمپنی کے ساتھ منسلک ہے،اسکے پاس تمام سفری دستاویزات بھی موجود ہیں، چینی باشندہ دو ہفتوں سے کیلاش میں موجود ہے
کیلاش سے چینی باشندے کے ساتھ شادی کی خواہشمند شاہین آرا کے بارے میں سامنے آیا ہے کہ وہ رمبور کی مکین ہے اور تعلیم حاصل کر رہی ہے،بی ایس کی اسکی کلاسز چل رہی ہیں، شاہین آرا ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ویڈیو بنا کر شیئر کرتی تھی، سوشل میڈیا پر ہی شاہین آرا کی چینی باشندے سے دوستی ہوئی،
کیلاش ویلی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے کیلاش وادی کے طلباء میں چار ہزار پودے مفت تقسیم کئے
چترال:وادی کیلاش کی سڑک کی محفوظ جگہ از سرنوتعمیراوردریائے رمبورسے ملبہ ہٹانے کامطالبہ
شدید برف باری سے وادی کیلاش بری طرح متاثر ،مواصلاتی نظام درہم برہم
وادی رمبور ،کیلاش قبیلے کی معروف شخصیت دورم شاہ انتقال کرگئے
نصر اللہ سے شادی کرنے والی انجو کیلاش پہنچ گئی
چترال :گلوف ٹو پراجیکٹ،حفاظتی دیواریں،کمیونٹی ہال کی تعمیر،لوگ سیلاب کی تباہ کاریوں سے مٖحفوظ ہوگئے
چترال :دروش ،2 افراد کاجنگل میں سفاکانہ قتل۔ ورثاء کالاشیں روڈ پر رکھ کر احتجاج
-

چترال سے نمائندہ باغی ٹی وی گل حماد فاروقی وفات پا گئے
چترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے، سینئر صحافی گل حماد فاروقی وفات پا گئے
گل حماد فاروقی کو دل کا دورہ پڑا، انہیں مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا تا ہم انکی موت ہو گئی،انا اللہ وانا الیہ راجعون،انہیں ان کے آبائی گاؤں چارسدہ میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
مرحوم گل حماد فاروقی عرصہ ایک سال سے باغی ٹی وی کے ساتھ وابسہ تھے، انہوں نے کیلاش فیسٹول سمیت چترال کے اہم پروگراموں کو کور کیا تھا،مرحوم نے ہر مشکل وقت میں چترال میں صحافت کو زندہ رکھا۔ مختلف ٹی وی چینلز میں بطور چیف رپورٹر بھی کام کرتے رہے اور چترال کے چیدہ چیدہ مسائل ارباب اختیار تک پہچانے کی بھرپور کوشش کی، خاص طور پر سڑکوں کے لئے ان کے جہد وجہد ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ آج ان کی رحلت سے پوری چترال قوم ایک توانا آواز سے محروم ہوگئی۔
حالیہ شدید برف باری کے باعث چترال میں مواصلاتی نظام درہم برہم بجلی، ٹیلیفون، انٹرنیٹ، سروس معطل تاہم لواری سرنگ کے ساتھ اب دیگر وادیوں کے راستے بھی ٹریفک کیلیے کھولے جارہے ۔ تفصیل گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں#baaghitv #rain @DCLowerChitral pic.twitter.com/ldAeW6ZGOd
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) March 8, 2024
چترال شہر اور گردونواح میں بجلی کی کم وولٹیج , خراب ٹرانسفارمروں کی وجہ سے گھروں کے فریج، واشنگ مشین بجلی کا سامان جل جاتا تھا، مولانا عبد الاکبر چترالی کے صوابدیدی فنڈ سے ان لوگوں میں بجلی کے کھمبے اور ٹرانسفارمر تقسیم ہوئے ، تفصیل گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں pic.twitter.com/ZOazURQlnw
— Baaghi TV باغی ٹی وی (@BaaghiTV) September 14, 2023
نمائندہ باغی ٹی وی گل حماد فاروقی کی وفات پر سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان ، باغی ٹی وی کی ٹیم نے افسوس کا اظہار کیا ہے، مرحوم کےلئے دعائے مغفرت کی ہے اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے.
بے باک صحافت کے علمبردار گل حماد فاروقی کو چترال پریس کلب کی رکنیت سے محروم رکھا گیا تھا،
انچارج نمائندگان باغی ٹی وی ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کہتے ہیں کہ "مرحوم گل حماد فاروقی سے کل ہی فون پر مختلف مسائل پر تفصیل سے بات ہوئی تھی ،ان کے بقول بے باک صحافت اور مسائل پر کھل کر بات کرنے کی وجہ سے انہیں چترال پریس کلب کی رکنیت نہ دی گئی ،کہاگیا یہ مقامی نہیں ہے ،حالانکہ اخونزادہ گل حماد فاروقی کا چترال میں اپنا ذاتی گھر تھا،ان کی بیوی کا تعلق بھی چترال سے ہے ،دنیا میں تو بیوی کی وجہ سے ملکی شہریت مل جاتی ہے ،فاروقی صاحب کو ان کی خواہش کے باوجود چترال پریس کلب کی رکنیت نہ دی گئی
اخونزادہ گل حماد فاروقی کی ناگہانی موت پر بہت افسوس ہوا ،باغی ٹی وی ایک ایسے سینئر باکمال نمائندے سے محروم ہوگیا ہے ،مدتوں تک یہ خلا پورا نہیں ہوسکے گا۔چترال :گلوف ٹو پراجیکٹ،حفاظتی دیواریں،کمیونٹی ہال کی تعمیر،لوگ سیلاب کی تباہ کاریوں سے مٖحفوظ ہوگئے
چترال :دروش ،2 افراد کاجنگل میں سفاکانہ قتل۔ ورثاء کالاشیں روڈ پر رکھ کر احتجاج
چترال :گلیشئیر پھٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہی
شندور پولو فیسٹیول اختتام پذیر، چترال کی گلگت کو شکست
گل حماد فاروقی اکیلا تھا مگر اپنے آپ میں ایک لشکر تھا،بیرسٹر سیف
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر سیف نے گل حماد فاروقی کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ "آج صحافت کے درخشاں ستارے گل حماد فاروقی کی اچانک موت کا سن کر دل رنجیدہ ہوا،گل حماد فاروقی اکیلا تھا مگر اپنے آپ میں ایک لشکر تھا،اللّٰہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین”بلال یاسر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ "چترال ،ساری زندگی میڈیا کے ذریعے چترال اور چترالیوں کے لیے آواز بلند کرنے والے سنیئر صحافی گل حماد فاروقی کی لاش فلائنگ کوچ کی چھت پر رکھ کر آبائی علاقہ چارسدہ کے لیے روانہ کی جارہی ہے ، محسنوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ افسوسناک ہے”۔
چترال ۔ ساری زندگی میڈیا کے ذریعے چترال اور چترالیوں کے لیے آواز بلند کرنے والے سنیئر صحافی گل حماد فاروقی کی لاش فلائنگ کوچ کی چھت پہ رکھ کر ابائی علاقہ چارسدہ کے لیے روانہ کی جارہی ہے ، محسنوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ افسوسناک ہے۔ #journalism pic.twitter.com/qLjQ14twY1
— Bilal Yasir (@BilalYasirBjr) April 27, 2024
-

چترال:1938سے قائم گورنمنٹ پرائمری سکول دروش میں "ہیلوتاس "کے تعاون سے داخلہ مہم ،آگاہی واک کی گئی
چترال،باغی ٹی وی (نامہ نگارگل حمادفاروقی کی رپورٹ)1938سے قائم گورنمنٹ پرائمری سکول دروش میں "ہیلوتاس "کے تعاون سے داخلہ مہم ،آگاہی واک کی گئی
چترال کی تحصیل دروش کے تاریخی سکول گورنمنٹ پرائمری سکول دروش میں غیرملکی این جی او ہیلو تاس اور محکمہ تعلیم کے اشتراک سے سرکاری سکولوں میں داخلہ مہم کے سلسلے میں ایک آگاہی واک کا اہتمام کیا گیا۔ گورنمنٹ پرائمری سکول دروش 1938 میں قائم ہواتھا ،جس نے ایک صدی میں بڑے بڑے نامور شحصیات کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا ہے۔

یہ واک اس تاریخی تعلیمی ادارے سےشروع ہع کر دروش کے پرانے بازار ،پھر نئے بازار میں سے ہوکر دروش چوک میں ایک تقریب کی شکل اختیار کر گئی۔ واک کی قیادت فیلڈ آفیسر اظہر اقبال، ڈی ای اوچترال، اے ڈی ای او لوئر چترال قاری جمال ناصر، سابق چیرمین ڈسٹرکٹ کونسل الحاج خورشید علی خان، صدر تاجر یونین دروش حاجی گل نواز، ویلیج کونسل دامیل چیئرمین شیر زمین، پرنسپل گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول دروش سلیم کامل، سکول کے ہیڈ ماسٹر اورتاجر یونین کے اراکین، سماجی کارکنان کے علاوہ کثیر تعداد میں سکولوں کے طلباء نے شرکت کی۔ طلباء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جس پر یہ نعرہ درج تھا کہ علم سب کیلئے۔

ہیلویتاس اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفس چترال کے اشتراک سے چترال میں داخلہ مہم جاری ہے، یہ مہم چترال ٹاؤن، دروش، کیسو اور کلکٹک میں چلائی گئی ،جسمیں شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد کے علاوہ اہل علاقہ نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تعلیم سب کے لئے کا نعرہ لیکر چلائی جانے والی اس مہم کا مقصد5 سال اور اس سے زائد عمر کے بچوں کے سکولوں میں داخلے کو یقینی بنانا تھا۔

تقریب میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ہر بچے کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی یہ مہم جاری رہے گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے پانچ سال کی عمر کے بچوں کو ضرور سرکاری سکولوں میں بھیجیں، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے کہا کہ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو ضرور کسی بھی سکول بھیجیں تاکہ وہ تعلیم سے محروم نہ رہیں۔وی سی چیئرمین حاجی شیر زمین نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ تعلیمی سال شروع ہوچکا ہے اور چار ماہ گزرنے کے بعد بھی سرکاری سکولوں میں ابھی تک مفت کتابیں نہیں بھیجی گئیں جس کی وجہ سے بچوں کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے، ایک طرف حکومت لوگوں پر زور دے رہی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں بھیجیں جبکہ دوسری جانب سرکاری سکولوں میں چار ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک مفت کتابیں دستیاب نہِیں ہیں تو بچوں کو کیسے معیاری تعلیم دلاسکیں گے۔

تاجر یونین حاجی گل نواز، الحاج خورشید علی خان، اظہار اقبال اور دیگر نے بھی اس موقع پر اظہارخیال کیا۔ داخلہ مہم کے سلسلے میں آگاہی واک اور تقریب کیلیے اس تاریخی سکول کو اس لئے منتخب کیا گیا کہ یہ 1938 کو وجود میں آیا تھا اور اس سکول میں پڑھنے والے طالب علم بیرون ممالک میں سفیر، چیف سیکرٹری، ڈاکٹر، پروفیسر، سول، فوجی اور پولیس افسران بھی ان میں شامل ہیں۔

اس کا مقصد بچوں کو اس طرف راغب کرنا تھا کہ اگر وہ بھی دل لگاکر شوق سے پڑھیں گے تو بڑے ہوکر وہ بھی بڑا آدمی بن سکتے ہیں، پروگرام آخر میں اسی سکول میں اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر انعام اللہ نے چند بچوں کو داخل کراکے مہم کا باقاعدہ آغاز کروایا۔ -

چترال:علاقہ پرسن میں پہاڑ گرگیا،کئی ہفتوں سے راستے بند،اشیائے خوردونوش ختم،مریض گھروں میں مرنے لگے
چترال،باغی ٹی وی (گل حمادفاروقی کی رپورٹ)علاقہ پرسن میں پہاڑ گرگیا،کئی ہفتوں سے راستے بند،اشیائے خوردونوش ختم،مریض گھروں میں مرنے لگے
تفصیل کے مطابق چترال کے علاقے پرسن میں پورا پہاڑ گرنے سے راستہ ہر قسم کے ٹریفک کیلئے بند پڑا ہے، لوگوں کے گھروں میں راشن اور دوسریاشیاءخوردنی بھی ختم ہو چکی ہیں۔دو روزقبل یہاں سے دو مریضوں کو اسٹریچر کے ذریعےچار گھنٹے پیدل چلنے کے بعد گاڑی تک پہنچایا گیا۔
راستے بند ہونے کی وجہ سے علاقے میں مریض علاج کیلئے ہسپتال نہ پہنچ سکنے اور علاج نہ ہونے اور ادویات نہ مل سکنے کی وجہ سے مررہے ہیں ،لوگ اپنے پیاروں کو اپنی آنکھوں سامنے مرتا دیکھنے پر مجبور ہوچکے ہیں
اوریہاں کی عوام نےمتعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ ان کے ساتھ بھر پور تعاون کرکے اس راستے کو فوری کھولا جائے تاکہ لوگ اپنے مریضوں کو تو علاج کیلئے کم از کم بر وقت ہسپتال پہنچا سکیں اور گھر میں پڑے ہوئے ان کی موت کا انتظار نہ کریں،اور اشیائے خوردنی بھی گھروں میں لاسکیں
