Baaghi TV

Category: چترال

  • گورنر خیبر پختونخوا نے جشنِ شندور فیسٹیول 2026 کا افتتاح کر دیا، پولو مقابلوں کا شاندار آغاز

    گورنر خیبر پختونخوا نے جشنِ شندور فیسٹیول 2026 کا افتتاح کر دیا، پولو مقابلوں کا شاندار آغاز

    لاسپور لوئر چترال نے غذر کو 9-0 سے شکست دے دی،

    یاسین گلگت بلتستان نے مستوج لوئر چترال کو 5کے مقابلے میں 8 گول سے ہرا دیا؛ فائنل 13 جون کو کھیلا جائے گا۔

    دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور میں روایتی شندور پولو فیسٹیول 2026 کا رنگا رنگ آغاز ہو گیافیسٹیول کا انعقاد خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان کی حکومتوں اور پاک فوج کے تعاون سے کیا جا رہا ہے،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بطور مہمانِ خصوصی شندور پولو فیسٹیول 2026 کا افتتاح کیا،گورنر خیبر پختونخوا نے شندور پولو فیسٹیول کے انعقاد کو قومی یکجہتی، ثقافتی ہم آہنگی اور سیاحت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا،فیسٹیول کے پہلے روز روایتی حریف چترال اور گلگت بلتستان کی ٹیموں کے درمیان دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آیا، شائقین نے دونوں ٹیموں کی شاندار کارکردگی کو بھرپورسراہا اور خوب لطف اٹھایا،تقریب کے دوران پیرا گلائڈنگ کا دلکش مظاہرہ بھی پیش کیا گیا، جس نے حاضرین کی بھرپور توجہ حاصل کی ،شندور پولو فیسٹیول 3روز تک جاری رہے گا جس میں ملک بھر سے سیاح اور کھیلوں کے شائقین شرکت کر رہےہیں

    چترال (فتح اللہ) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی وزراء، وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان، ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی اور دیگر معززین کے ہمراہ جشنِ شندور فیسٹیول 2026 کے افتتاحی میچ میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔شندور پہنچنے پر کمشنر ملاکنڈ ڈویژن مسعود احمد، ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان اور ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبر پختونخوا شاہد احمد نے گورنر اور دیگر معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان نے گورنر خیبر پختونخوا کو ضلع اپر چترال کو درپیش انتظامی، مواصلاتی، سیاحتی اور ترقیاتی مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ گورنر نے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔

    فیسٹیول کے پہلے روز کھیلے گئے پولو مقابلوں میں لاسپور لوئر چترال اے اور بی ٹیموں نے غذر گلگت بلتستان کی اے اور بی ٹیموں کو 9-0 سے شکست دے دی، جبکہ دوسرے میچ میں یاسین گلگت بلتستان کی پولو ٹیم نے مستوج لوئر چترال کی ٹیم کو 5 کے مقابلے میں 8گول سے شکست دی۔افتتاحی میچ کے دوران گورنر، وزیر اطلاعات، ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی، صوبائی وزراء اور دیگر معززین نے شاندار کھیل کا مشاہدہ کیا اور کھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی کو سراہا۔ میچوں کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔فیسٹیول کے شیڈول کے مطابق بی اور سی ٹیموں کے درمیان مقابلے جمعہ کو منعقد ہوں گے، جبکہ جشنِ شندور فیسٹیول 2026 کا فائنل معرکہ 13 جون بروز ہفتہ کھیلا جائے گا۔

    اس موقع پر گورنر خیبر پختونخوا نے جشنِ شندور فیسٹیول کے کامیاب انعقاد پر ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ شندور فیسٹیول خطے کی ثقافت، روایتی کھیلوں اور سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کے ذریعے علاقے کا مثبت تشخص دنیا بھر میں اجاگر ہوتا ہے۔

  • وادی کالاش رومبور ، جنگلات کے تحفظ ،فاریسٹ فائر سے بچاؤ کیلیے خصوصی آگاہی مہم

    وادی کالاش رومبور ، جنگلات کے تحفظ ،فاریسٹ فائر سے بچاؤ کیلیے خصوصی آگاہی مہم

    رومبور (فتح اللہ): وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، سیکرٹری جنگلات و ماحولیات اور ڈی ایف او چترال کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں سب ڈویژن چترال کے رومبور بلاک میں جنگلاتی آگ (فاریسٹ فائر) سے بچاؤ اور عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے ایک جامع آگاہی مہم کا انعقاد کیا گیا۔

    آگاہی مہم کے دوران رومبور بلاک کے فاریسٹ اسٹاف نے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے مقامی آبادی، طلبہ، سیاحوں، راہ گیروں اور دیگر متعلقہ افراد کو جنگلاتی آگ کے اسباب، نقصانات اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا۔ اس سلسلے میں سکولوں میں خصوصی پروگرامز منعقد کیے گئے جبکہ مقامی تھانے میں بھی آگاہی سیشن کا اہتمام کیا گیا۔فاریسٹ حکام نے عوام پر زور دیا کہ جنگلاتی علاقوں میں آگ جلانے، سگریٹ کے ٹکڑے پھینکنے اور دیگر ایسے اقدامات سے گریز کریں جو جنگلاتی آگ کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات قومی اثاثہ ہیں اور ان کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    مہم کے دوران شہریوں سے اپیل کی گئی کہ جنگلاتی آگ کی کسی بھی اطلاع یا مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر محکمہ جنگلات یا متعلقہ حکام کو مطلع کریں تاکہ قیمتی جنگلات، جنگلی حیات اور ماحول کو نقصان سے بچایا جا سکے۔عوامی سطح پر اس آگاہی مہم کو خوب سراہا گیا۔ مقامی افراد نے جنگلات کے تحفظ اور فاریسٹ فائر کی روک تھام کے لیے محکمہ جنگلات کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کا شکریہ ادا کیا اور اس نوعیت کی آگاہی سرگرمیوں کو مستقبل میں بھی جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • چترال: چلم جوشی تہوار سے قبل رومبور تھانے میں اہم اجلاس، سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات

    چترال: چلم جوشی تہوار سے قبل رومبور تھانے میں اہم اجلاس، سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات

    چترال میں زوشی (چلم جوشی) تہوار سے قبل رومبور تھانے میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکیورٹی اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پولیس حکام، مقامی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر تہوار کے دوران سیاحوں اور مقامی افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان ترتیب دینے پر زور دیا گیا۔حکام نے فیصلہ کیا کہ رومبور ویلی اور گردونواح میں سیکیورٹی مزید سخت کی جائے گی، داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا نظام بہتر بنایا جائے گا جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی ٹیمیں بھی تعینات کی جائیں گی۔اجلاس میں صفائی، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر سہولیات کی فراہمی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ چلم جوشی تہوار کے دوران آنے والے سیاحوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس اہم ثقافتی تہوار کو پرامن اور خوشگوار ماحول میں منعقد کروانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

  • وادی رومبور میں 104 مستحق افراد میں الیکٹرک چولہوں کی تقسیم، فلاحی اقدام کو سراہا گیا

    وادی رومبور میں 104 مستحق افراد میں الیکٹرک چولہوں کی تقسیم، فلاحی اقدام کو سراہا گیا

    وادی رومبور میں فلاحی کاموں کا سلسلہ جاری، اے وی ڈی پی (AVDP) اور اے کے آر ایس پی (AKRSP) کے تعاون سے ویلج کونسل رومبور میں مستحق افراد کے لیے ایک اہم تقریب منعقد کی گئی، جس میں 104 مستحق خاندانوں میں الیکٹرک چولہے تقسیم کیے گئے۔تقریب کی نگرانی چیئرمین ویلج کونسل سلطان نے کی، جنہوں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے فلاحی منصوبے نہ صرف غریب عوام کی مشکلات کم کرتے ہیں بلکہ ان کے معیارِ زندگی کو بھی بہتر بناتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹرک چولہوں کی فراہمی سے مہنگے ایندھن پر انحصار کم ہوگا، ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی اور گھریلو اخراجات بھی کم ہوں گے۔ یہ اقدام خاص طور پر خواتین کے لیے آسانی اور تحفظ فراہم کرے گا۔تقریب کے اختتام پر مستفید افراد نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اداروں کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ایسے فلاحی منصوبے جاری رہیں گے۔

  • وادی کالاش رومبور میں شجرکاری مہم کا آغاز، پودوں کی تقسیم، ماحولیاتی تحفظ پر زور

    وادی کالاش رومبور میں شجرکاری مہم کا آغاز، پودوں کی تقسیم، ماحولیاتی تحفظ پر زور

    رومبور (فتح اللہ) چترال کے وادی کالاش رومبور میں محکمہ جنگلات لوئر چترال کے زیر اہتمام شجرکاری مہم اور پودوں کی تقسیم کی تقریب منعقد ہوئی، جس کا مقصد علاقے میں شجرکاری کو فروغ دینا، جنگلات کا تحفظ یقینی بنانا اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔اس مہم کا آغاز ڈی ایف او چترال لوئر آصف علی شاہ کی قیادت میں کیا گیا، جبکہ اسسٹنٹ ایس ڈی ایف او قاسم علی شاہ، بلاک آفیسرز اور فارسٹ گارڈز نے نگرانی کے فرائض سرانجام دیے۔ تقریب کا افتتاح مقامی عمائدین نے پودے لگا کر کیا۔اس موقع پر سیاسی و سماجی شخصیت اور سابق چیئرمین سیف اللہ جان کالاش، چیئرمین ویلج کونسل رومبور سلطان، سماجی رہنما غلام سرور قریشی، سابق کونسلر عنایت اللہ شیخ قریشی، حکیم خان، چترال لیویز فورس اور تھانہ رومبور کے اہلکاروں سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درخت لگانا نہ صرف صدقہ جاریہ ہے بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے صاف اور صحت مند ماحول کی ضمانت بھی ہے۔ چیئرمین ویلج کونسل رومبور سلطان نے محکمہ جنگلات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقے میں پودوں کی تقسیم ایک قابلِ تحسین اقدام ہے، جس سے عوام میں ماحولیاتی شعور بیدار ہو رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وادی رومبور کو سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات کا سامنا ہے، جن سے بچاؤ کے لیے شجرکاری نہایت ضروری ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر عوام، خصوصاً نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں۔تقریب کے دوران مختلف اقسام کے جنگلی اور پھلدار پودے مقامی افراد میں تقسیم کیے گئے تاکہ وہ انہیں اپنے گھروں، کھیتوں اور اردگرد لگا کر ماحول کے تحفظ میں کردار ادا کریں۔ شرکاء نے محکمہ جنگلات لوئر چترال کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات مستقل بنیادوں پر جاری رہیں گے۔ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی شجرکاری مہمات ماحولیاتی آلودگی میں کمی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔

  • رومبور: ایس ایچ او عبد الوکیل کا تبادلہ، ایک سالہ شاندار خدمات پر پروقار خراجِ تحسین

    رومبور: ایس ایچ او عبد الوکیل کا تبادلہ، ایک سالہ شاندار خدمات پر پروقار خراجِ تحسین

    ایس ایچ او تھانہ رومبور عبد الوکیل کا تبادلہ، ایک سالہ کارکردگی پر شاندار خراجِ تحسین
    رومبور ( فتح اللہ) چترال کی مشہور و معروف سیاحتی مقام وادی کالاش کے علاقے رومبور میں تعینات ایس ایچ او تھانہ رومبور عبد الوکیل کا تبادلہ تھانہ ارکاری کر دیا گیا ہے۔ وہ تقریباً ایک سال تک رومبور میں خدمات انجام دیتے رہے، جہاں انہوں نے بطور پولیس افسر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں۔تبادلے کے موقع پر مقامی پولیس اور علاقہ عمائدین کی جانب سے ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی۔ مقررین نے اپنے خطاب میں ایس ایچ او عبد الوکیل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں خصوصاً منشیات کے خلاف مؤثر اقدامات کیے گئے، ایس ایج او صاحب کی ایک سالہ دورانیے میں علاقے میں امن و امان کی صورتحال بھی بہتر ہوئی۔
    تقریب کے دوران مقامی روایات کے مطابق انہیں شومن کا ہار پہنا کر عزت افزائی کی گئی۔ اس موقع پر مولانا محمد اسحاق، برزنگی کالاش سمیت دیگر معززین بھی موجود تھے۔ویلج کونسل رومبور کے چیئرمین سلطان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عبد الوکیل ایک فرض شناس، دیانتدار اور عوام دوست پولیس افسر کے طور پر اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ان کا تبادلہ علاقے کے لیے باعثِ افسوس ہے، تاہم سرکاری ملازمت میں تبادلے ایک معمول کا حصہ ہوتے ہیں۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے ایس ایچ او عبد الوکیل کے لیے نئی ذمہ داریوں میں کامیابی کی دعا کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی اسی پیشہ ورانہ لگن کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتے رہیں گے۔

  • چترال کے سرحدی علاقے ارندو میں عوام کی پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی ریلی

    چترال کے سرحدی علاقے ارندو میں عوام کی پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی ریلی

    حالیہ پاک افغان کشیدگی کے تناظر میں چترال کے سرحدی علاقے ارندو میں عوام کی بڑی تعداد نے پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک ریلی کا انعقاد کیا۔

    مظاہرین نے سرحد پار سے پاکستان میں کی جانے والی فتنہ الخوارج کی دہشتگردی کی کارروائیوں کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔عوام علاقہ نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں پوری قوم افواجِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ریلی کے شرکاء نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور سرحدوں کے تحفظ میں کردار کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا اعلان کیا اور ہر مشکل وقت میں پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کیا۔ریلی کے دوران قومی پرچم لہرائے گئے اور ملک کی خودمختاری، استحکام اور امن کے لیے بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ریلی کے اختتام پر ملکی سلامتی، سرحدوں کے تحفظ اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

  • چترال،روسی شہری کا68 ہزار ڈالر میں کشمیری مارخور کا شکار

    چترال،روسی شہری کا68 ہزار ڈالر میں کشمیری مارخور کا شکار

    چترال کے دور افتادہ اور پہاڑی علاقے گہریت گول میں غیر ملکی شکاری نے کشمیری مارخور کا شکار کر لیا۔ محکمہ جنگلی حیات کے مطابق یہ شکار کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد نایاب جنگلی حیات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو براہِ راست معاشی فوائد فراہم کرنا ہے۔

    محکمہ جنگلی حیات کے حکام نے بتایا کہ روس سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی شکاری نے مارخور کے شکار کے لیے 68 ہزار امریکی ڈالر کے عوض باقاعدہ لائسنس حاصل کیا تھا۔ شکار کیے گئے کشمیری مارخور کے سینگوں کی لمبائی 41 انچ ریکارڈ کی گئی ہے، جو اس نسل کے بالغ اور صحت مند جانور کی نشاندہی کرتی ہے۔ حکام کے مطابق شکار سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے اور مقررہ ضوابط کے مطابق نگرانی میں کارروائی کی گئی۔محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ اس رقم سے علاقے میں تعلیم، صحت، بنیادی انفراسٹرکچر، روزگار کے مواقع اور قدرتی وسائل کے تحفظ سے متعلق منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جاتی ہے، جس سے مقامی افراد کی معاشی حالت بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

    حکام کے مطابق اس پروگرام کا بنیادی مقصد جنگلی حیات، خصوصاً نایاب اور محفوظ نسلوں کے جانوروں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ محدود اور سائنسی بنیادوں پر دیے جانے والے شکار کے اجازت ناموں کے ذریعے نہ صرف جانوروں کی آبادی کو کنٹرول اور محفوظ رکھا جاتا ہے بلکہ مقامی لوگ بھی جنگلی حیات کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے ترغیب پاتے ہیں۔محکمہ جنگلی حیات نے مزید کہا کہ کمیونٹی کی شمولیت کے باعث غیر قانونی شکار میں نمایاں کمی آئی ہے اور مقامی آبادی اب جنگلی جانوروں کو نقصان پہنچانے کے بجائے ان کے تحفظ کو اپنے مفاد سے جوڑ کر دیکھتی ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ بھی ایسے پروگرام شفافیت، قانون اور ماحولیاتی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری رکھے جائیں گے تاکہ قدرتی ورثے کا تحفظ اور مقامی ترقی ساتھ ساتھ ممکن بنائی جا سکے۔

  • کیلاش قبیلے کا تین روزہ قدیم مذہبی اور ثقافتی تہوار "چلم جوشی” اختتام پذیر

    کیلاش قبیلے کا تین روزہ قدیم مذہبی اور ثقافتی تہوار "چلم جوشی” اختتام پذیر

    چترال میں کیلاش قبیلے کا تین روزہ قدیم مذہبی اور ثقافتی تہوار "چلم جوشی” اپنی تمام تر رنگینیوں اور عقیدت کے ساتھ اختتام پذیرہو گیا

    چلم جوشی تہوار وادی کالاش کی تہذیب، خوشی، ہم آہنگی اور فطرت سے محبت کی علامت بن چکا ہے، جو ہر سال ہزاروں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ سالانہ چلم جوشی فیسٹول 13 سے 17 مئی 2025 تک وادی کیلاش کی تینوں خوبصورت وادیوں رمبور، بمبوریت اور بریر میں منایا گیا۔ تہوار کا آغاز رمبور وادی میں رسم ورواج سے ہوا، دوسرے مرحلہ میں وادی بمبوریت میں سرگرمیاں جاری رہیں۔ آخری مرحلہ میں بریر وادی میں یہ خوبصورت تہوار رعنایوں کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ تہوار کو دیکھنے کے لئے 170 سے زائد غیر ملکی سیاحوں نے وادی کالاش کا رخ کیا۔ ان میں فرانس، جرمنی، امریکہ، آسٹریلیا، اٹلی، سوئٹزرلینڈ، روس، جاپان، چین، یونان، تائیوان، جنوبی کوریا، انگلینڈ، ہالینڈ، ملائشیا، انڈونیشیا اور رومانیہ سے تعلق رکھنے والے سیاح شامل ہیں۔ تہوار کے لئے مقامی پولیس کے ساتھ ساتھ فرنٹیئر کور نارتھ نے بھی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے۔ سیاحوں کا کہنا ہے کہ وادی کیلاش کی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ چلم جوشی تہوار ان کے لئے خوشگوار یادوں کا مجموعہ بن گیا ہے۔

  • ہسپانوی شکاری نے چترال میں سیزن کے دوسرے  مارخور کا شکار کرلیا

    ہسپانوی شکاری نے چترال میں سیزن کے دوسرے مارخور کا شکار کرلیا

    چترال کے علاقے میں ایک اور کشمیری مارخور کا شکار کیا گیا، جس کا شکار ہسپانوی شکاری نے کیا۔ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر (ڈی ایف او) وائلڈ لائف فاروق نبی کے مطابق، ہسپانوی شکاری نے یہ شکار چترال کے معروف علاقے گہریت گول کنزر وینسی میں کیا۔

    ڈی ایف او وائلڈ لائف فاروق نبی نے میڈیا کو بتایا کہ ہسپانوی شکاری کرسٹین ابیلو نے پانچ منٹ کے اندر 160 میٹر کے فاصلے سے مارخور کو نشانہ بنایا۔ شکاری نے اس شکار کے لیے پاکستانی حکام کو 2 لاکھ 20 ہزار ڈالر کے عوض ٹیکس ادا کیے۔یہ مارخور کا شکار سیزن کا دوسرا شکار تھا، جس سے قبل گزشتہ ماہ دسمبر میں امریکی شکاری رونالڈ جوویٹ نے بھی چترال میں ایک کشمیری مارخور کا شکار کیا تھا۔ حکام کے مطابق، رونالڈ جوویٹ نے اس شکار کے لیے اکتوبر میں پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی بولی دی تھی، جس میں اس نے 2 لاکھ 71 ہزار ڈالرز میں شکار کے پرمٹ حاصل کیے تھے۔

    پاکستانی حکومت اور مقامی حکام اس شکار کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم کو جنگلی حیات کے تحفظ اور علاقے کے مقامی باشندوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کشمیری مارخور کا شکار پاکستان میں خاص طور پر چترال میں بہت مقبول ہے، اور یہ بین الاقوامی شکاریوں کے لیے ایک بڑا کشش کا باعث بنتا ہے۔چترال میں کشمیری مارخور کے شکار پر پابندیاں اور قواعد و ضوابط موجود ہیں تاکہ ان جانوروں کی نسل کی حفاظت کی جاسکے۔

    گوجرانوالہ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کی تقریب منعقد، کیک کاٹا گیا