Baaghi TV

Category: چترال

  • چترال: آسمانی بجلی گرنے سے نوجوان چرواہا جاں بحق، دو زخمی، درجنوں مال مویشی ہلاک

    چترال: آسمانی بجلی گرنے سے نوجوان چرواہا جاں بحق، دو زخمی، درجنوں مال مویشی ہلاک

    چترال ( فتح اللہ ) چترال کی وادی رومبور کی بالائی اور دور افتادہ چراگاہ بہوک میں گزشتہ شب شدید بارش کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے ایک نوجوان چرواہا جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ افسوسناک واقعے میں درجنوں مال مویشی بھی ہلاک ہوگئے، جس سے مقامی چرواہوں کو بھاری مالی نقصان پہنچا۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی چترال لیویز، چترال پولیس اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر امدادی کارروائی کے لیے روانہ ہوئیں۔ دشوار گزار پہاڑی راستوں کے باوجود چترال لیویز اور چترال پولیس کے اہلکار رات ہی کے وقت جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور مقامی افراد کے تعاون سے امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ریسکیو 1122 نے خصوصی فور بائے فور ایمبولینس کے ذریعے زخمیوں تک رسائی حاصل کی۔ دونوں زخمیوں کو پہلے رومبور کی سول ڈسپنسری میں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے ریسکیو 1122 کی ایمبولینس کے ذریعے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چترال منتقل کر دیا گیا۔ادھر امدادی اہلکاروں، چترال لیویز، چترال پولیس اور مقامی رضاکاروں نے مشترکہ کوششوں سے جاں بحق نوجوان چرواہے کی میت بھی بہوک چراگاہ سے گاؤں منتقل کر دی، جہاں اہل خانہ کے حوالے کرنے کے بعد مقامی روایات کے مطابق آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔

    واقعے کے بعد وادی رومبور میں سوگ کی فضا ہے۔ مقامی افراد نے مشکل حالات اور دشوار گزار راستوں کے باوجود بروقت امدادی کارروائیوں پر چترال لیویز، چترال پولیس، ریسکیو 1122 اور رضاکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں نے بروقت کارروائی کر کے زخمیوں کو محفوظ مقام تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

  • وادی کالاش رومبور ، پولیس اور مقامی برادری  منشیات کے خاتمے کیلیے پرعزم

    وادی کالاش رومبور ، پولیس اور مقامی برادری منشیات کے خاتمے کیلیے پرعزم

    چترال ( فتح اللہ) وادیٔ کالاش کے علاقے رومبور میں امن و امان کی صورتحال، منشیات کی روک تھام اور عوامی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم امن جرگہ منعقد ہوا، جس کی صدارت ڈی ایس پی حسن اللہ نے کی، جبکہ ایس ایچ او عبد الرشید بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

    جرگے میں مسلم اور کالاش برادری کے عمائدین، منتخب نمائندوں، سماجی شخصیات اور خواتین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران علاقے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، کمیونٹی پولیسنگ، نوجوانوں کو منشیات سے محفوظ رکھنے اور باہمی تعاون کے فروغ سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ڈی ایس پی حسن اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وادیٔ کالاش میں پائیدار امن کے قیام کے لیے عوام اور پولیس کے درمیان مضبوط رابطہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی، جرائم پیشہ عناصر یا امن خراب کرنے کی کوشش کی فوری اطلاع پولیس کو دی جائے تاکہ بروقت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ، امن و امان کی بحالی اور منشیات کے ناسور کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

    اس موقع پر ایس ایچ او عبد الرشید نے بھی شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقامی آبادی کے تعاون سے جرائم کی روک تھام اور امن کے قیام میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قانون کی پاسداری کریں اور معاشرے کو منشیات اور دیگر سماجی برائیوں سے پاک بنانے میں پولیس کا ساتھ دیں۔اجلاس میں موجود مقامی عمائدین، کمیونٹی نمائندوں اور خواتین نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے علاقے میں امن، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے پولیس کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔جرگے کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ رومبور میں امن و امان کو مزید مستحکم بنانے، نوجوان نسل کو منشیات سے محفوظ رکھنے اور پولیس و عوام کے درمیان اعتماد کو فروغ دینے کے لیے ایسے رابطہ اجلاس مستقبل میں بھی باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے۔

  • شدید بارشوں کے بعد لوئر چترال کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال

    شدید بارشوں کے بعد لوئر چترال کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال

    شدید بارشوں کے بعد لوئر چترال کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال، املاک کو نقصان، امدادی کارروائیاں جاری ہیں

    گزشتہ شب لوئر چترال اور ملحقہ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارشوں کے بعد مختلف مقامات پر اچانک سیلابی ریلے آنے سے گھروں، دکانوں، کھڑی فصلوں، مویشی خانوں اور رابطہ سڑکوں کو نقصان پہنچا۔اطلاعات کے مطابق اٹانی،ایون برساتی نالہ غیر معمولی طغیانی کا شکار ہوا، جہاں ایک مسجد، ایک دکان، دو گائیں اور دو موٹر سائیکلیں سیلابی ریلے کی نذر ہو گئیں۔دروش کے علاقوں اوسائیک اور لوٹگولے سمیت بروز، سین کوڑوم اور گولدہ میں بھی سیلابی ریلوں سے متعدد مکانات اور املاک متاثر ہوئیں جبکہ بعض مقامات پر آمدورفت عارضی طور پر معطل رہی۔

    ریسکیو 1122 کی ٹیمیں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ساجدعلی یوسفزئی کی نگرانی میں رات بھر امدادی سرگرمیوں اور متاثرہ علاقوں کی نگرانی میں مصروف رہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں نے بند سڑکوں کی بحالی کا کام جاری رکھا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، جبکہ شہریوں سے خراب موسم میں احتیاط اور غیر ضروری سفر سے گریز کی اپیل کی گئی ہے۔
    رپورٹ،فتح اللہ

  • کرپشن مٹاؤ، چترال بچاؤ کے عنوان سے وادی کالاش رمبور میں   احتجاج

    کرپشن مٹاؤ، چترال بچاؤ کے عنوان سے وادی کالاش رمبور میں احتجاج

    امیر جماعت اسلامی لوئر چترال وجیہ الدین کی ہدایت پر ضلع بھر کی طرح وی سی رمبور میں بھی ’’کرپشن مٹاؤ، چترال بچاؤ‘‘ مہم کے تحت احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ مین بازار رمبور میں بعد از نماز جمعہ منعقدہ احتجاج میں مقامی عوام نے شرکت کی اور کرپشن، بدعنوانی، عوامی مسائل اور ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کی۔

    شرکاء نے مطالبہ کیا کہ عوامی وسائل کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے اور ذمہ دار عناصر کا بلاامتیاز احتساب کیا جائے۔ احتجاج کے اختتام پر عوامی قرارداد بھی پیش کی گئی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ کرپشن میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے اور چترال میں مبینہ کرپشن کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔قرارداد میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی مبینہ بدعنوانی سے متعلق آگاہی رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے، خردبرد شدہ قومی رقم کی فوری ریکوری کی جائے اور اس میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

    قرارداد میں یہ بھی کہا گیا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام وضع کیا جائے اور شفافیت و احتساب کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

  • رومبور،  نوک تھوں چشمہ سے آیون واٹر سپلائی منصوبے کے خلاف عوام سراپا احتجاج

    رومبور، نوک تھوں چشمہ سے آیون واٹر سپلائی منصوبے کے خلاف عوام سراپا احتجاج

    رومبور (فتح اللہ) لوئر چترال کی وادی رمبور میں نوک تھوں چشمہ سے آیون کے لیے واٹر سپلائی پائپ لائن منصوبے کے خلاف مقامی عوام نے احتجاج ریکارڈ کرتے ہوئے منصوبے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور ضلعی انتظامیہ و متعلقہ اداروں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

    احتجاجی اجتماع سے برزنگی کالاش، میر گجر، اقلیتی کونسلر نور شالی، دوردن صوبیدار، ریاض احمد، رحمت حاصل ودا، آبی حیات، قادر نواز، مولانا اسحاق، صورم خان صوبیدار، شیر تاج، سابق چیئرمین ویلج کونسل رمبور، نائب چیئرمین، رحمت زار، موجودہ چیئرمین ویلج کونسل رمبور سلطان، خواتین نمائندہ رکیم گل، فلم، رابی گل اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ نوک تھوں چشمہ سے گومبیک تک آباد کالاش اور مسلم برادری صدیوں سے اس پانی پر انحصار کرتی آرہی ہے۔ ان کے مطابق یہ چشمہ صرف پینے کے پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ گھریلو ضروریات، زرعی آبپاشی، پن چکیوں، مقامی توانائی ذرائع اور روزمرہ زندگی کا بنیادی حصہ ہے۔مقررین نے الزام عائد کیا کہ منصوبے کے حوالے سے مقامی آبادی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی عوامی مشاورت کی گئی۔ ان کے مطابق چند افراد کی رضامندی کو پورے علاقے کی اجتماعی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    اس موقع پر برزنگی کالاش نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوک تھوں چشمہ کیلاش برادری کے لیے مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے خصوصی اہمیت رکھتا ہے اور مقامی لوگوں کے نزدیک یہ محض پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ وادی کے طرزِ زندگی اور شناخت سے جڑا ہوا مقام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقامی آبادی کے تحفظات کے باوجود منصوبہ نافذ کیا گیا تو عوام خود کو اپنی ہی وادی میں غیر محفوظ اور بے اختیار محسوس کریں گے اور ایسی صورتحال پیدا نہ کی جائے جس سے لوگوں میں اپنے آبائی علاقے سے محرومی یا نقل مکانی کا احساس جنم لے۔

    احتجاجی شرکاء نے متبادل تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اگر آیون کے لیے پانی درکار ہے تو نوک تھوں سے نیچے موجود دیگر چشموں اور متبادل آبی ذرائع کا تکنیکی جائزہ لے کر اجتماعی حل تلاش کیا جائے، تاہم مکمل نوک تھوں چشمے کا رخ بڑی پائپ لائن کے ذریعے منتقل کرنا قابل قبول نہیں۔مقررین نے خدشہ ظاہر کیا کہ مجوزہ منصوبے سے مستقبل میں پانی کی دستیابی، مقامی زراعت، ماحولیاتی توازن، بجلی کی پیداوار اور کالاش مذہبی و ثقافتی سرگرمیوں پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے کسی بھی فیصلے سے قبل آزادانہ ماحولیاتی، سماجی اور قانونی جائزہ ناگزیر ہے۔

    اس موقع پر خواتین مقررین نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وادی کے آبی وسائل کے تحفظ کے لیے خواتین بھی اپنا کردار ادا کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مقامی آبادی کے تحفظات کو نظر انداز کیا گیا تو خواتین اور بچیاں بھی احتجاجی عمل میں شامل ہوں گی اور مطالبہ کیا کہ انتظامیہ معاملے کو مزید کشیدہ ہونے سے پہلے مقامی تجاویز اور متبادل ذرائع پر سنجیدگی سے غور کرے۔احتجاجی رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ منصوبے پر فوری طور پر عمل درآمد روکا جائے، تمام قانونی، ماحولیاتی، سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، منتخب نمائندوں، عمائدین، خواتین، نوجوانوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل مشترکہ جرگہ یا اجلاس بلایا جائے اور وادی کے دیرپا آبی حقوق اور عوامی مفاد کو ترجیح دی جائے۔عوام نے ضلعی انتظامیہ کو سات دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر مقررہ مدت کے اندر پیش رفت نہ ہوئی تو عوام آئینی اور پُرامن طریقے سے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے مزید لائحہ عمل اختیار کریں گے، جبکہ کسی بھی ممکنہ کشیدگی سے بچنے کے لیے بروقت اقدامات ناگزیر ہیں۔

  • گورنر خیبر پختونخوا نے جشنِ شندور فیسٹیول 2026 کا افتتاح کر دیا، پولو مقابلوں کا شاندار آغاز

    گورنر خیبر پختونخوا نے جشنِ شندور فیسٹیول 2026 کا افتتاح کر دیا، پولو مقابلوں کا شاندار آغاز

    لاسپور لوئر چترال نے غذر کو 9-0 سے شکست دے دی،

    یاسین گلگت بلتستان نے مستوج لوئر چترال کو 5کے مقابلے میں 8 گول سے ہرا دیا؛ فائنل 13 جون کو کھیلا جائے گا۔

    دنیا کے بلند ترین پولو گراؤنڈ شندور میں روایتی شندور پولو فیسٹیول 2026 کا رنگا رنگ آغاز ہو گیافیسٹیول کا انعقاد خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان کی حکومتوں اور پاک فوج کے تعاون سے کیا جا رہا ہے،گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بطور مہمانِ خصوصی شندور پولو فیسٹیول 2026 کا افتتاح کیا،گورنر خیبر پختونخوا نے شندور پولو فیسٹیول کے انعقاد کو قومی یکجہتی، ثقافتی ہم آہنگی اور سیاحت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا،فیسٹیول کے پہلے روز روایتی حریف چترال اور گلگت بلتستان کی ٹیموں کے درمیان دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آیا، شائقین نے دونوں ٹیموں کی شاندار کارکردگی کو بھرپورسراہا اور خوب لطف اٹھایا،تقریب کے دوران پیرا گلائڈنگ کا دلکش مظاہرہ بھی پیش کیا گیا، جس نے حاضرین کی بھرپور توجہ حاصل کی ،شندور پولو فیسٹیول 3روز تک جاری رہے گا جس میں ملک بھر سے سیاح اور کھیلوں کے شائقین شرکت کر رہےہیں

    چترال (فتح اللہ) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی وزراء، وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان، ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی اور دیگر معززین کے ہمراہ جشنِ شندور فیسٹیول 2026 کے افتتاحی میچ میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔شندور پہنچنے پر کمشنر ملاکنڈ ڈویژن مسعود احمد، ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان اور ڈائریکٹر جنرل سپورٹس خیبر پختونخوا شاہد احمد نے گورنر اور دیگر معزز مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔بعد ازاں ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان نے گورنر خیبر پختونخوا کو ضلع اپر چترال کو درپیش انتظامی، مواصلاتی، سیاحتی اور ترقیاتی مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ گورنر نے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری اقدامات کی ہدایت کی۔

    فیسٹیول کے پہلے روز کھیلے گئے پولو مقابلوں میں لاسپور لوئر چترال اے اور بی ٹیموں نے غذر گلگت بلتستان کی اے اور بی ٹیموں کو 9-0 سے شکست دے دی، جبکہ دوسرے میچ میں یاسین گلگت بلتستان کی پولو ٹیم نے مستوج لوئر چترال کی ٹیم کو 5 کے مقابلے میں 8گول سے شکست دی۔افتتاحی میچ کے دوران گورنر، وزیر اطلاعات، ڈپٹی سپیکر صوبائی اسمبلی، صوبائی وزراء اور دیگر معززین نے شاندار کھیل کا مشاہدہ کیا اور کھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی کو سراہا۔ میچوں کے اختتام پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔فیسٹیول کے شیڈول کے مطابق بی اور سی ٹیموں کے درمیان مقابلے جمعہ کو منعقد ہوں گے، جبکہ جشنِ شندور فیسٹیول 2026 کا فائنل معرکہ 13 جون بروز ہفتہ کھیلا جائے گا۔

    اس موقع پر گورنر خیبر پختونخوا نے جشنِ شندور فیسٹیول کے کامیاب انعقاد پر ضلعی انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ شندور فیسٹیول خطے کی ثقافت، روایتی کھیلوں اور سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس کے ذریعے علاقے کا مثبت تشخص دنیا بھر میں اجاگر ہوتا ہے۔

  • وادی کالاش رومبور ، جنگلات کے تحفظ ،فاریسٹ فائر سے بچاؤ کیلیے خصوصی آگاہی مہم

    وادی کالاش رومبور ، جنگلات کے تحفظ ،فاریسٹ فائر سے بچاؤ کیلیے خصوصی آگاہی مہم

    رومبور (فتح اللہ): وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا، سیکرٹری جنگلات و ماحولیات اور ڈی ایف او چترال کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں سب ڈویژن چترال کے رومبور بلاک میں جنگلاتی آگ (فاریسٹ فائر) سے بچاؤ اور عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے ایک جامع آگاہی مہم کا انعقاد کیا گیا۔

    آگاہی مہم کے دوران رومبور بلاک کے فاریسٹ اسٹاف نے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے مقامی آبادی، طلبہ، سیاحوں، راہ گیروں اور دیگر متعلقہ افراد کو جنگلاتی آگ کے اسباب، نقصانات اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کیا۔ اس سلسلے میں سکولوں میں خصوصی پروگرامز منعقد کیے گئے جبکہ مقامی تھانے میں بھی آگاہی سیشن کا اہتمام کیا گیا۔فاریسٹ حکام نے عوام پر زور دیا کہ جنگلاتی علاقوں میں آگ جلانے، سگریٹ کے ٹکڑے پھینکنے اور دیگر ایسے اقدامات سے گریز کریں جو جنگلاتی آگ کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگلات قومی اثاثہ ہیں اور ان کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

    مہم کے دوران شہریوں سے اپیل کی گئی کہ جنگلاتی آگ کی کسی بھی اطلاع یا مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر محکمہ جنگلات یا متعلقہ حکام کو مطلع کریں تاکہ قیمتی جنگلات، جنگلی حیات اور ماحول کو نقصان سے بچایا جا سکے۔عوامی سطح پر اس آگاہی مہم کو خوب سراہا گیا۔ مقامی افراد نے جنگلات کے تحفظ اور فاریسٹ فائر کی روک تھام کے لیے محکمہ جنگلات کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کا شکریہ ادا کیا اور اس نوعیت کی آگاہی سرگرمیوں کو مستقبل میں بھی جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • چترال: چلم جوشی تہوار سے قبل رومبور تھانے میں اہم اجلاس، سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات

    چترال: چلم جوشی تہوار سے قبل رومبور تھانے میں اہم اجلاس، سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات

    چترال میں زوشی (چلم جوشی) تہوار سے قبل رومبور تھانے میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکیورٹی اور انتظامی امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں پولیس حکام، مقامی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر تہوار کے دوران سیاحوں اور مقامی افراد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان ترتیب دینے پر زور دیا گیا۔حکام نے فیصلہ کیا کہ رومبور ویلی اور گردونواح میں سیکیورٹی مزید سخت کی جائے گی، داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ کا نظام بہتر بنایا جائے گا جبکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے خصوصی ٹیمیں بھی تعینات کی جائیں گی۔اجلاس میں صفائی، ٹریفک مینجمنٹ اور دیگر سہولیات کی فراہمی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ چلم جوشی تہوار کے دوران آنے والے سیاحوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس اہم ثقافتی تہوار کو پرامن اور خوشگوار ماحول میں منعقد کروانے کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔

  • وادی رومبور میں 104 مستحق افراد میں الیکٹرک چولہوں کی تقسیم، فلاحی اقدام کو سراہا گیا

    وادی رومبور میں 104 مستحق افراد میں الیکٹرک چولہوں کی تقسیم، فلاحی اقدام کو سراہا گیا

    وادی رومبور میں فلاحی کاموں کا سلسلہ جاری، اے وی ڈی پی (AVDP) اور اے کے آر ایس پی (AKRSP) کے تعاون سے ویلج کونسل رومبور میں مستحق افراد کے لیے ایک اہم تقریب منعقد کی گئی، جس میں 104 مستحق خاندانوں میں الیکٹرک چولہے تقسیم کیے گئے۔تقریب کی نگرانی چیئرمین ویلج کونسل سلطان نے کی، جنہوں نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے فلاحی منصوبے نہ صرف غریب عوام کی مشکلات کم کرتے ہیں بلکہ ان کے معیارِ زندگی کو بھی بہتر بناتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ الیکٹرک چولہوں کی فراہمی سے مہنگے ایندھن پر انحصار کم ہوگا، ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی اور گھریلو اخراجات بھی کم ہوں گے۔ یہ اقدام خاص طور پر خواتین کے لیے آسانی اور تحفظ فراہم کرے گا۔تقریب کے اختتام پر مستفید افراد نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اداروں کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ایسے فلاحی منصوبے جاری رہیں گے۔

  • وادی کالاش رومبور میں شجرکاری مہم کا آغاز، پودوں کی تقسیم، ماحولیاتی تحفظ پر زور

    وادی کالاش رومبور میں شجرکاری مہم کا آغاز، پودوں کی تقسیم، ماحولیاتی تحفظ پر زور

    رومبور (فتح اللہ) چترال کے وادی کالاش رومبور میں محکمہ جنگلات لوئر چترال کے زیر اہتمام شجرکاری مہم اور پودوں کی تقسیم کی تقریب منعقد ہوئی، جس کا مقصد علاقے میں شجرکاری کو فروغ دینا، جنگلات کا تحفظ یقینی بنانا اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔اس مہم کا آغاز ڈی ایف او چترال لوئر آصف علی شاہ کی قیادت میں کیا گیا، جبکہ اسسٹنٹ ایس ڈی ایف او قاسم علی شاہ، بلاک آفیسرز اور فارسٹ گارڈز نے نگرانی کے فرائض سرانجام دیے۔ تقریب کا افتتاح مقامی عمائدین نے پودے لگا کر کیا۔اس موقع پر سیاسی و سماجی شخصیت اور سابق چیئرمین سیف اللہ جان کالاش، چیئرمین ویلج کونسل رومبور سلطان، سماجی رہنما غلام سرور قریشی، سابق کونسلر عنایت اللہ شیخ قریشی، حکیم خان، چترال لیویز فورس اور تھانہ رومبور کے اہلکاروں سمیت دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درخت لگانا نہ صرف صدقہ جاریہ ہے بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے صاف اور صحت مند ماحول کی ضمانت بھی ہے۔ چیئرمین ویلج کونسل رومبور سلطان نے محکمہ جنگلات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دور دراز علاقے میں پودوں کی تقسیم ایک قابلِ تحسین اقدام ہے، جس سے عوام میں ماحولیاتی شعور بیدار ہو رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وادی رومبور کو سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات کا سامنا ہے، جن سے بچاؤ کے لیے شجرکاری نہایت ضروری ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر عوام، خصوصاً نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں۔تقریب کے دوران مختلف اقسام کے جنگلی اور پھلدار پودے مقامی افراد میں تقسیم کیے گئے تاکہ وہ انہیں اپنے گھروں، کھیتوں اور اردگرد لگا کر ماحول کے تحفظ میں کردار ادا کریں۔ شرکاء نے محکمہ جنگلات لوئر چترال کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ایسے اقدامات مستقل بنیادوں پر جاری رہیں گے۔ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی شجرکاری مہمات ماحولیاتی آلودگی میں کمی، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے اور قدرتی آفات سے نمٹنے میں مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔