Baaghi TV

Category: چترال

  • چترال میں سی ڈی ایم کے اراکین اور سول سوسائٹی کا مشترکہ احتجاجی جلسہ۔

    چترال میں سی ڈی ایم کے اراکین اور سول سوسائٹی کا مشترکہ احتجاجی جلسہ۔

    چترال میں سی ڈی ایم کے اراکین اور سول سوسائٹی کا مشترکہ احتجاجی جلسہ۔ چترال کی سڑکوں پر فوری کام شروع کروانے کا پرزور مطالبہ
    چترال(گل حماد فاروقی)چترال ڈیویلپمنٹ مومنٹ (سی ڈی ایم) کے زیر اہتمام سول سوسایٹی کے اراکین اور محتلف سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے رہنماؤں کا مشترکہ جلسہ ہوا۔ جلسے کی صدارت مولوی اسرار الدین الہلال نے کی۔اس جلسہ میں پہلی بار شہزادہ سراج الملک نے شرکت کرکے اظہار حیال کیا۔جلسہ میں ایک متفقہ قرارداد بھی منظور ہوا۔قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ لواری ٹنل سے شندور اور درہ پاس تک تمام سڑکوں پر دوبارہ فوری کام شروع کیا جائے۔گرم چشمہ سڑک کیلئے فنڈ دوبارہ منظور کیا جائے۔قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ آیون اور وادی کیلاش کی سڑکوں پر کام بند نہ کیا جائے اور اس سڑک میں آنے والے زمینوں کے مالکان کو فوری ادایگی بھی کی جائے۔مقررین نے کہا کہ چترال میں قیمتی معدنیات کے پہاڑ اور ذحائیر موجود ہیں مگر اس کی لیز غیر مقامی بااثر افراد کو دی گئی ہے جس سے مقامی لوگ استفادہ نہیں کرسکتے قرارداد ک ذریعے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ان معدنیات کے ذحائیر سے مقامی لوگوں کو فائدہ دیا جائے۔

    قرارداد کے ذریعے دروش سے مڈگلشٹ کی سڑک کی تعمیر کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ارندو جو کہ ماضی میں ایک بڑا تجارتی مرکز بھی تھااس سڑک پر بھی فوری کام شروع کرکے زمین کے مالکان کو ادایگی کی جائے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بیوٹیفیکشن آف چترال کے نام پر جو 28 کروڑ روپے کا فنڈ آیا ہوا ہے اس فنڈ سے بھی معیاری کام کرکے چترال کی خوبصورتی کا کام جلد سے جلد مکمل کیا جائے۔قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ماضی کی طرح چترال کے سرکاری غلہ گوداموں سے مقامی لوگوں کو رعایتی نرح پر گندم فراہم کیا جائے۔ مطالبہ کیا گیا کہ سرکاری غلہ گوداموں سے جو گندم فلور مل مالکان کو دی جاتی ہے وہ آئے روز آٹے کی قیمت بڑھاتے رہتے ہیں اس سلسلے کو بند کیا جائے لوگوں کو ان گوداموں سے گندم بھی دی جائے تاکہ وہ اپنے مرضی سے پن چکی میں اس سے آٹا پیس کر اسے استعمال کرے۔چترال میں چار سو سے زیادہ پن چکیوں کو بند کیا گیا ہے جس سے چار سو گھرانے متاثر ہوئے ہیں قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ان پن چکیوں کو دوبارہ بحال کیا جائے اور یہ ظالمانہ فیصلہ واپس لیا جائے جس میں صرف مل مالکان کو خوش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔چترال میں 107 میگا واٹ پن بجلی گھر گولین میں تعمیر ہوچکا ہے مگر علاقے کے لوگ اس بجلی سے محروم ہیں اور چترال میں اب بھی آٹھ سے دس گھنٹے لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے جبکہ یہاں نہ کارخانہ ہے نہ کوئی بجلی چوری کرتا ہے قرارداد کے ذریعے واپڈا حکام سے مطالبہ کیا گیا کہ اس ظالمانہ اور ناروا لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بند کیا جائے اور عوام کو سستی نرح پر بجلی فراہم کیا جائے تاکہ وہ اسے کھانا پکانے اور خود کو گرم رکھنے کیلئے بھی استعمال کرسکے۔
    یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ مرکزی حکومت اپنا وعدہ پوراکرتے ہوئے گولین بجلی گھر سے چترال کو تیس میگا واٹ بجلی دیکر بقایا بجلی کو نیچے اضلاع کو دی جائے۔چترال کے دونوں اضلاع میں سڑکوں میں آنے والے زمین کے مالکان کو مارکیٹ ریٹ کے مطابق قیمت ادا کی جائے۔ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ چترال میں بھی گورنمنٹ میڈیکل کالج کی قیام پر غور کیا جائے اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال جو پندرہ سال قبل اسے کیٹیگری بی کا درجہ دیا گیا تھا مگر اس پر ابھی تک عملی کام نہیں ہوا ہے اس ہسپتال میں بھی کیٹیگری B کے مطابق تمام سہولیات فراہم کیا جائے۔ چترال یونیورسٹی کی تعمیر کا کام جلدی شروع کیا جائے اور اپر چترال کے قاقلشٹ کے میدان میں تریچ میر یونیورسٹی پر بھی کام شروع کیا جائے۔ قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ چترال کے دونوں اضلاع کیلئے انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری بورڈ کے قیام کا جلد از جلد اعلان کیا جائے۔

    چترال کی جنگلات کو حتم ہونے اور ماحول کو تباہ ہونے سے بچانے کیلئے ضلع اپر اور لوئیر چترال کے لئے منظور شدہ ایل پی جی گیس پلانٹ کی چترال میں تنصیب کا کام جلد شروع کیا جائے اس مقصد کیلئے خریدے گئے زمینات کو نیلام نہ کیا جائے۔جلسہ سے الحاج عید الحسین، شریف حسین، وقاص احمد ایڈوکیٹ،لیاقت علی، عنایت اللہ اسیر، شہزادہ سراج الملک، نور احمد خان چارویلو،سلطان نگاہ،شبیر احمد، رحمت علی جعفر دوست، چوہدری امان اللہ اور دیگر نے بھی اظہار حیال کیا۔ جلسہ میں اس بات پر نہایت افسوس کااظہار کیا گیا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ٹھیکدار نے چترال سے بونی سڑک جو چین کے ایک تعمیراتی کمپنی نے چالیس سال پہلے بنایا تھا مگرا س کی تارکول ابھی تک نہایت مضبوط تھی مگر این ایچ اے حکام نے اس سڑک کی کشادگی کے دوان پورے سڑک سے تارکول اکاڑ کراسے کھنڈرات کی شکل میں تبدیل کیا اور دوبارہ اس پر تارکول بھی نہیں کیا جس سے ایک طرف نہایت مٹی اور گرد و غبار اٹھتی ہے تو دوسری طرف سڑک کے بیچ میں کھڈوں کی وجہ سے مریض اس سڑک پر سفر کے دوران نہایت مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں۔ مقررین نے حکومت پر واضح کیا کہ ہم پر امن لوگ ہیں اور نہایت مہذب طریقے سے اپنا جائز حق مانگتے ہیں ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم بھی دوسرے لوگوں کی طرح سڑکوں پر آکر جلاؤ گھیراو پر مجبور ہوجائے۔

    بعد میں جلسہ کے شرکاء نے ایک ریلی بھی نکالی جس میں تمام سول سوسائٹی اراکین اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ یہ جلسہ دعائیہ کلمات کے ساتھ احتتام پذیر ہوا۔

  • چترال کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور کشادگی ، کام کا آغاز کردیاگیا ہے

    چترال کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور کشادگی ، کام کا آغاز کردیاگیا ہے

    چترال (باغی ٹی وی ) پشاور چترال شاہراہ پر کشادگی اور مرمت کا کام شروع ہوچکا ہے۔ ان سڑکوں کی تعمیر و مرمت سے اگر ایک طرف مقامی لوگوں اور سیاحوں کو سفر میں آسانی ہوگی تو دوسری جانب اس سے حادثات کی شرح میں بھی کمی آئے گی۔ ان سڑکوں کی تعمیر پر علاقے کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی،چترال سے گل حماد فاروقی کی رپورٹ

  • کیلاش قبیلے کے سالانہ مذہبی تہوار چھومس میں کئی جوڑے شادی کے بندھن میں بند گئے۔

    کیلاش قبیلے کے سالانہ مذہبی تہوار چھومس میں کئی جوڑے شادی کے بندھن میں بند گئے۔

    کیلاش قبیلے کے سالانہ مذہبی تہوار چھومس میں کئی جوڑے شادی کے بندھن میں بند گئے۔
    چترال (باغی ٹی وی) کیلاش قبیلے کا سالانہ مذہبی تہوار چھومس اختتام پذیر ہوا۔ اس تہوار میں کیلاش قبیلے کے مذہبی رہنماء نئے سال کی پیشین گوئی کے ساتھ ساتھ اسے خوشگوار گزرنے کیلئے دعائیں بھی کرتے ہیں۔ اس رنگارنگ تہوار کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں ملکی اور غیر ملکی سیاح وادی کیلاش کا رح کرتے ہیں تفصیلات چترال سے گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں

  • سیاحتی مقام وادی گرم چشمہ کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر کام کاآغازکردیاگیا ہے

    سیاحتی مقام وادی گرم چشمہ کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر کام کاآغازکردیاگیا ہے

    چترال (باغی ٹی وی)سیاحتی مقام وادی گرم چشمہ کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت پر کام شروع ہوا ہے جس کی تکمیل سے اگر ایک طرف اس سڑک پر حادثات کی شرح میں کمی آئے گی تو دوسری جانب اس خوبصورت وادی میں سیاحت بھی فروغ پائے گی۔ تفصیل گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں

  • بجلی کی بندش پرچترال کے علاقے مروئی والا میں آل پارٹیز کانفرنس

    بجلی کی بندش پرچترال کے علاقے مروئی والا میں آل پارٹیز کانفرنس

    مقامی عمائدین نے متنبہ کیا کہ اگر یہ مسئلہ جلد سے جلد حل نہیں ہوا تو یہاں 24 گھنٹوں میں سے محض 3 ہی گھنٹے آنے والی بجلی کا بھی بائیکاٹ کر کے ہم سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
    چترال باغی ٹی وی (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)چترال کے علاقے مروئی بالا میں بجلی کے حصول کے لئے آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی۔ اہل علاقہ کی جانب سے صوبائی اور وفاقی حکومت سے فوری طور پر بجلی فراہم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا گیا۔


    اس موقع پر سابقہ ایم این اے شہزادہ افتحار الدین مہمان خصوصی تھے جبکہ کانفرنس کی صدارت سابق ایم پی اے مولوی عبدالرحمان نے کی۔ آل پارٹیز کانفرنس میں علاقے کے عمائدین نے کہا کہ صرف لوئیر چترال میں گولین بجلی گھر کے آس پاس کے علاقے 25000 آبادی پر مشتمل ہے مگر یہ لوگ پچھلے گیارہ مہینوں سے بجلی سے محروم ہیں۔ اس علاقے کو پہلے صوبائی محکمہ پی ای ڈی او کے ریشن پن بجلی گھر سے بجلی فراہم ہوتی تھی مگر 2015 ریشن بجلی گھر سیلاب کی وجہ سے تباہ ہو ا اور چھ سال بعد 2021 میں دوبارہ بحال کیا گیا۔ اس دوران اس علاقے کو واپڈا کی بجلی گھر سے پیسکو بجلی فراہم کرتی تھی تاہم پچھلے سال صوبائی اور وفاقی محکمہ بجلی یعنی پی ای ڈی او اور پیسکو کے درمیان لائن لاس اور ٹیرف یعنی بجلی کی نرح پر جھگڑا پیدا ہوا۔ چونکہ واپڈا کی بجلی نہایت مہنگی ہے اور پیڈو کی بجلی اس سے سستی ہے جو صوبائی محکمہ ہے۔ اس جھگڑے کے نتیجے میں یہ علاقہ پچھلے گیارہ مہینوں سے بجلی سے محروم ہیں یہاں چوبیس گھنٹوں میں صرف تین گھنٹے بجلی آتی ہے۔

  • سمگلنگ میں ملوث گدھوں کی اسسٹنٹ کمشنر کی عدالت میں پیشی

    سمگلنگ میں ملوث گدھوں کی اسسٹنٹ کمشنر کی عدالت میں پیشی

    چترال میں اپنی نوعیت کی ایک انوکھی پیشی ہوئی جس میں 5 گدھوں کو اسسٹنٹ کمشنر کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : اسسٹنٹ کمشنر درویش توصیف اللہ کی عدالت میں 5 گدھے پیش کیے گئے، ان گدھوں پر یہ الزام تھا کہ یہ چترال کے علاقے درویش میں ٹمبر کی اسمگلنگ میں ملوث تھے۔

    بی بی سی کے مطابق چترال اور دیگر شمالی علاقوں میں ٹمبر کی سمگلنگ کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں اور حکومت کوشش کرتی ہے کہ اس سمگلنگ کو روکا جا سکے لیکن ٹمبر کے جنگلات تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔

    چارسدہ: فائرنگ کے مختلف واقعات میں 2 پولیس اہلکار جاں بحق

    اسسٹنٹ کمشنر نے ان 5 گدھوں کو ٹمبر اسمگلنگ کیس میں مال مقدمہ کے طور پر طلب کیا تھا اور اطمینان کے بعد گدھے اور ٹمبر کے سلیپر کو محکمہ جنگلات کے حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

    اے سی چترال نے بتایا کہ یہ گدھے بحفاظت موجود ہیں اور انہیں کسی کے حوالے نہیں کیا، گدھے اب دوبارہ اسمگلنگ میں استعمال نہیں ہو رہے، عدالت نے یہ اطمینان کیا کہ گدھے متعلقہ حکام کی تحویل میں ہی ہیں۔

    بی بی سی کے مطابق درویش کو ان علاقوں میں ٹمبر کی سمگلنگ کی اطلاعات انتظامیہ کو موصول ہوئی تھیں، جس پر کارروائی عمل میں لائی گئی تھی۔ سمگلنگ کے لیے وقت فجر سے پہلے کا ہوتا ہے جب ٹمبر آرا مشین پر لائے جاتے ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر توصیف اللہ نے اس وقت کارروائی کرتے ہوئے تین گدھے پکڑے جس کے ساتھ ٹمبر کے چار سلیپر باندھے گئے تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کارروائی کے دوران ایک ملزم گرفتار ہوا ہے اور دو فرار ہوئے ہیں جبکہ گدھوں کو فارسٹ افسر کی تحویل میں دے دیا گیا تھا۔

    ان کے مطابق انھوں نے یہ گدھے ایک مقامی شخص کو سپرداری پر دے دیئے تھے تاکہ وہ ان کی رکھوالی کر سکیں۔

    اس واقعے کے دو روز بعد پھر شکایت موصول ہوئی کہ سمگلنگ اب بھی جاری ہے، جس پر ایک مرتبہ پھر کارروائی کی گئی اور تین مزید گدھے پکڑے گئے، جن کے ساتھ ٹمبر کے سلیپر بھی تھے۔

    ہاں اس کے بعد ایسی اطلاعات پہنچی تھیں کہ شاید یہ تینوں گدھے وہی ہیں جو کہ سپرداری پر دیے گئے تھے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ان میں دو گدھے نئے ہیں اور ایک گدھا وہی ہے۔

    نااہلی کے فیصلے کیخلاف احتجاج،تحریک انصاف کے رہنماؤں پر مقدمے درج

    اس بارے میں عدالت نے فارسٹ حکام کو تمام گدھے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا کہ تمام گدھے جو پکڑے گئے تھے سارے کے سارے عدالت کےسامنے پیش کیےجائیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کل کتنے گدھے ہیں اورکیا کہیں ایسا تونہیں ہےکہ وہی گدھے پھر سے سمگلنگ میں استعمال ہو رہے ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ عدالت میں ان گدھوں کو دیکھا گیا اور ان میں ایک گدھا وہی تھا لیکن یہ گدھا غلطی سے پکڑا گیا تھا یہ گدھا دوسری مرتبہ سمگلنگ میں استعمال نہیں ہوا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ جس علاقے میں سمگلنگ کی روک تھام کے لیے کارروائی کی گئی تھی وہاں اندھیرا تھا اور اس ایریا میں یہ پہلے والا گدھا بھی بندھا ہوا تھا جسے اہلکار ساتھ لے آئے تھے۔ فارسٹ افسران کی جانب سے وضاحت پیش کی گئی جس پر عدالت نے اطمینان کا اظہار کیا گیا اور گدھے محکمہ جنگلات کے حکام کے حوالے کر دیا۔

    محکمہ جنگلات کی جانب سے فارسٹ افسر اور دیگر اہلکار عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

    مہنگائی کا ٹاپ گئیر،بیکری پراڈکٹس مہنگی

  • چترال میں دس روزہ  ڈسٹرکٹ یوتھ پولو فیسٹیول اختتام پذیر

    چترال میں دس روزہ ڈسٹرکٹ یوتھ پولو فیسٹیول اختتام پذیر

    باغی ٹی وی چترال (گل حماد فاروقی کی رپورٹ)چترال میں دس روزہ ڈسٹرکٹ یوتھ پولو فیسٹیول اختتام پذیر ہوا جس میں 17 پولو ٹیموں نے حصہ لیا فائنل میچ میں چترال پولو ٹیم نے ایک کے مقابلے میں تین گولوں سے دروش پولو ٹیم کو شکست دیکر ٹرافی اپنے نام کردی۔ بادشاہوں کے اس کھیل کو دیکھنے کیلئے کثیر تعداد میں تماشائی میدان میں موجود تھے۔ تفصیل گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں

  • مین شاہراہ سیلاب کے باعث کٹنے سےاپرچترال کا ایک ہفتے سے  زمینی رابطہ منقطع

    مین شاہراہ سیلاب کے باعث کٹنے سےاپرچترال کا ایک ہفتے سے زمینی رابطہ منقطع

    ضلع اپر چترال میں ریشن کے مقام پر سیلاب کی وجہ سے مین شاہراہ پچھلے ایک ہفتے سے کٹ چکی ہے جس کے نتیجے میں ضلع اپر چترال کا ملک کے دیگر حصوں سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کے مشیر انجنیر امیر مقام نے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور عوام کو فوری ریلیف دینے کا اعلان بھی کیا۔ تفصیل اپرچترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی اس رپورٹ میں

  • چترال ۔ دو سال بعد تین روزہ شندور پولو ٹورنامنٹ ، ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک

    چترال ۔ دو سال بعد تین روزہ شندور پولو ٹورنامنٹ ، ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک

    چترال – پولو کو کھیلوں کا بادشاہ یا بادشاہوں کا کھیل کہا جاتا ہے اور یہ شاہی کھیل صرف شاہی سواری یعنی گھوڑے پر ہی کھیلا جاسکتا ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے دو سال بعد تین روزہ شندور پولو ٹورنمنٹ منعقد کرایا گیا جس میں پولو کے شوقین لوگوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی اور شندور کے سرد ترین موسم سے بھی لطف اندوز ہوئے، جہاں رات کے وقت درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی نیچے گرتا ہے۔ دیکھتے ہیں چترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی خصوصی رپورٹ

  • ضلع اپر چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز بونی میں ہائیر سیکنڈری سکول کا سنگ بنیاد

    ضلع اپر چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز بونی میں ہائیر سیکنڈری سکول کا سنگ بنیاد

    چترال- ضلع اپر چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز بونی میں ہائیر سیکنڈری سکول کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس سکول کے افتتاح پر علاقے کے طلباء کے ساتھ ساتھ طالبات بھی نہایت خوش ہیں کیونکہ اس سکول میں ان کو بھی بارہویں جماعت تک معیاری تعلیم دی جائے گی۔ تفصیل کیلئے دیکھتے ہیں باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی یہ رپورٹ۔