Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • پاکستان میں کرونا کی لہر میں شدت،مزید 98 اموات

    پاکستان میں کرونا کی لہر میں شدت،مزید 98 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    کرونا وائرس سے پاکستان میں مزید 98 اموات ہوئی ہیں اور 4 ہزار974 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 14 ہزار532 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 6 لاکھ72 ہزار 931 ہو گئی ہے۔ملک بھرمیں کرونا کے ایکٹو مریضوں کی تعداد 50ہزار397 جبکہ 6 لاکھ 5ہزار274 افراد کورونا سے صحتیاب ہوچکے ہیں

    این سی او سی کے مطابق کورونا کی تیسری لہر کے دوران پاکستان میں مثبت کیسزکی شرح9.93فیصد ہے۔کورونا سے پنجاب میں 6 ہزار427 اموات ،جبکہ سندھ میں 4 ہزار502، خیبر پختونخوا 2 ہزار363، اسلام آباد572، گلگت بلتستان 103، بلوچستان میں 208 اور آزاد کشمیر میں 355 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 58 ہزار557، خیبر پختونخوا88ہزار99، سندھ 2 لاکھ 65 ہزار680، پنجاب 2 لاکھ 23 ہزار181، بلوچستان 19 ہزار576، آزاد کشمیر 12 ہزار805 اور گلگت بلتستان میں5ہزار33 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں

    قبل ازیں حکومت کی جانب سے ایس او پیز جاری کی گئی ہیں جس کے مطابق ملک میں کورونا کی تیسری لہر کے پیشِ نظر حکومت کے وضع کردہ ایس او پیز پر سختی سے کاربند رہیں۔ ماسک کا استعمال کریں، بار بار ہاتھوں کو 20 سیکنڈ تک صابن سے دھوئیں۔ گھروں کو ہوادار بنائیں اور بلا ضرورت ہرگز گھر سے باہر نہ نکلیں۔ پُرہجوم جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔

    کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت؟

    کرونا مریضوں کے علاج کیلئے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو ملی بڑی کامیابی

    کرونا کو ووہان وائرس کہنا درست،کرونا انسان کا بنایا ہوا، سابق ایم آئی 6 کے چیف کا دعویٰ

    چین میں کرونا نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی

    پنجاب میں ماسک پہننے کو لازمی قرار دِیا گیا ہے ، ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور جرمانے کے علاوہ چھ ماہ قید بھی ہو سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا کہن اتھا کہ پنجاب حکومت این سی او سی کی ہدایت پر مکمل عمل کر رہی ہے، صوبے میں کورونا وائرس کی صورتحال خطرناک ہو گئی ہے، گجرات اور گوجرانوالہ کے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ صوبے بھر میں ماسک پہننا لازمی قرار دیدیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی۔

  • اگر عوام نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی : وزیر اعلیٰ پنجاب

    اگر عوام نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی : وزیر اعلیٰ پنجاب

    زیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بتایا کہ کورونا کی موجودہ لہر پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہے جس کی وجہ سے کورونا کے مریضوں کے مثبت کیسز کا تناسب بہت بڑھ چکا ہے۔ ہیلتھ سسٹم دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔ لاہور سمیت بعض شہروں میں اس وقت کورونا کی صورتحال تشویشناک ہے۔ پنجاب حکومت نے شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات کئے ہیں۔ حکومتی ہدایات پر عمل کرنا شہریوں کے مفاد میں ہے۔ اپنے اور اپنے پیاروں کو کورونا سے بچانے کے لئے ماسک لازمی پہنیں کیونکہ ماسک کا استعمال کورونا سے محفوظ رکھتا ہے۔ مریضوں کی تعداد بے احتیاطی اور ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے کے باعث بڑھ رہی ہے۔ کورونا پر قابو پانے کے لئے عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور اگر عوام نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی تو قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

  • شاہ جی مکمل لاک ڈاون نہ کریں غریب لوگ متاثرہوں گے:وزیراعظم سید مراد علی شاہ کی منتیں کرنے لگے

    اسلام آباد:شاہ جی میری جان بھی حاضر:مکمل لاک ڈاون نہ کریں غریب لوگ متاثرہوں گے:وزیراعظم سید مراد علی شاہ کی منتیں کرنے لگے ،اطلاعات کے مطابق آج وزیراعظم عمران خان نے آج چاروں صوبوں‌ کے وزرائے اعلیٰ سے ویڈیو لنک گفتگو کے درمیان‌ اہم گفتگو ہوئی

    اس دوران وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جناب شاہ جی سچ یہ ہے کہ ہم مکمل لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے، مکمل لاک ڈاؤن سے دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہوگا،

    یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے دو ہفتوں کے لاک ڈاؤن کی تجویز دی لیکن ہم مکمل لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہوسکتے۔

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے کورونا کا اجلاس ہوا جس میں ملک میں کورونا اور سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے ایس او پیز پر ہر صورت عملدرآمد کی ہدایت کی۔ اس دوران وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ ہم مکمل لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہوسکتے لہٰذا ایس او پیز میں غفلت نہ برتی جائے۔

    وزیراعظم نے بتایا کہ سندھ حکومت نے دو ہفتوں کے لاک ڈاؤن کی تجویز دی لیکن ہم مکمل لاک ڈاؤن نہیں کرسکتے، مکمل لاک ڈاؤن سے دیہاڑی دار طبقہ متاثر ہوگا۔

  • لاہور کے ہسپتال میں  کورونا سے ننھی جانیں اللہ کو پیاری ہوگئیں

    لاہور کے ہسپتال میں کورونا سے ننھی جانیں اللہ کو پیاری ہوگئیں

    لاہور کے ہسپتال میں کورونا سے ننھی جانیں جاں بحق

    باغی ٹی وی : کورونا کی وجہ سے چلڈرن ہسپتال میں دو بچے جاں بحق ہوگئے . کرونا وائرس کی نئی لہر بچوں کو بہت تیزی سے متاثر کررہی ہے لاہور کے چلڈرن ہسپتال میں اب تک دو سے دس سال کے 11 بچے کرونا کا شکار ہوچکے ہیں ۔ پمز میں آٹھ دن کا بچہ وینٹی لیٹر پر ہے ۔ چلڈرن ہسپتال میں دو روز میں چارکورونا کے مریض بچے داخل ہوئے ہیں.، ادھر بلاول زرداری کے حلقے لاڑکانہ کے ہسپتال میں معصوم زندگی سہولیات کا فقدان ہونے کے باعث ختم ہوگئی..

    پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    کرونا وائرس سے پاکستان میں مزید 78 اموات اور 4 ہزار757 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ این سی او سی کے مطابق کورونا کی تیسری لہر کے دوران پاکستان میں مثبت کیسزکی شرح10.8 فیصد ہے پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 14 ہزار434 تک پہنچ گئی ہے جبکہ مریضوں کی مجموعی تعداد 6 لاکھ67 ہزار957 ہو گئی ہے۔ پاکستان میں کرونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 50ہزار397 ہے اور 6 لاکھ3ہزار126 افراد کورونا سے صحتیاب ہو چکے ہیں۔

    این سی او سی کے مطابق کورونا سے پنجاب میں 6 ہزار365 اموات، سندھ میں 4 ہزار497، خیبر پختو نخوا 2 ہزار342، اسلام آباد568، گلگت بلتستان 103، بلوچستان میں 207 اور آزاد کشمیر میں 352 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 57 ہزار833، خیبر پختونخوا 87ہ زار55، سندھ 2 لاکھ 65 ہزار433، پنجاب 2 لاکھ 20 ہزار392، بلوچستان 19 ہزار557، آزاد کشمیر 12 ہزار663 اور گلگت بلتستان میں5ہزار24 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    این سی او سی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں۔لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، بہاولپور، منڈی بہاؤالدین، ملتان، اوکاڑہ، رحیم یار خان، راولپنڈی، گجرات، شیخوپورہ، سرگودھا، سیالکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ متاثر، مظفر آباد، میر پور، کوٹلی، پشاور، سوات، نوشہرہ ، دیر لوئر، مالاکنڈ، صوابی، چارسدہ اور ہری پور ہائی رسک اضلاع میں شامل ہیں

  • وفاقی دارلحکومت کے اہپستالوں  میں بیڈز اور وینٹیلیٹرز کی صورتحال

    وفاقی دارلحکومت کے اہپستالوں میں بیڈز اور وینٹیلیٹرز کی صورتحال

    ڈی ایچ او اسلام آباد کے مطابق اسلام آباد میں اس وقت کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 9 ہزار 178 ہے اور کورونا کے کل 216 مریض اہپستالوں میں زیر اعلاج ہیں۔ اسلام آباد میں کل اموات کی تعداد 568 ہوگئی ہے۔ وفاقی دارلحکومت کے مختلف اہپستالوں میں کورونا مریضوں کیلئے 7 سو 10 بیڈ مختص کئے گئے ہیں۔ اس وقت مختلف اہسپتالوں میں 392 بیڈ کورونا مریضوں کے زیر استعمال ہیں۔ ڈی ایچ او نے بتایا کے کورونا مریضوں کیلئے 105وینٹیلیٹرز مختص کیے گئے ہیں جس میں سے 54 وینٹیلیٹرز اس وقت کورونا مریضوں کے زیر استعمال جبکہ 51 مزید دستیاب ہیں۔

  • پاکستان میں کرونا کیسز میں تیزی، مزید 78 اموات

    پاکستان میں کرونا کیسز میں تیزی، مزید 78 اموات

    پاکستان میں کرونا کیسز میں تیزی، مزید 78 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے

    کرونا وائرس سے پاکستان میں مزید 78 اموات اور 4 ہزار757 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ این سی او سی کے مطابق کورونا کی تیسری لہر کے دوران پاکستان میں مثبت کیسزکی شرح10.8 فیصد ہے پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 14 ہزار434 تک پہنچ گئی ہے جبکہ مریضوں کی مجموعی تعداد 6 لاکھ67 ہزار957 ہو گئی ہے۔ پاکستان میں کرونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 50ہزار397 ہے اور 6 لاکھ3ہزار126 افراد کورونا سے صحتیاب ہو چکے ہیں۔

    این سی او سی کے مطابق کورونا سے پنجاب میں 6 ہزار365 اموات، سندھ میں 4 ہزار497، خیبر پختو نخوا 2 ہزار342، اسلام آباد568، گلگت بلتستان 103، بلوچستان میں 207 اور آزاد کشمیر میں 352 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 57 ہزار833، خیبر پختونخوا 87ہ زار55، سندھ 2 لاکھ 65 ہزار433، پنجاب 2 لاکھ 20 ہزار392، بلوچستان 19 ہزار557، آزاد کشمیر 12 ہزار663 اور گلگت بلتستان میں5ہزار24 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    این سی او سی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں۔لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، بہاولپور، منڈی بہاؤالدین، ملتان، اوکاڑہ، رحیم یار خان، راولپنڈی، گجرات، شیخوپورہ، سرگودھا، سیالکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ متاثر، مظفر آباد، میر پور، کوٹلی، پشاور، سوات، نوشہرہ ، دیر لوئر، مالاکنڈ، صوابی، چارسدہ اور ہری پور ہائی رسک اضلاع میں شامل ہیں

    قبل ازیں حکومت کی جانب سے ایس او پیز جاری کی گئی ہیں جس کے مطابق ملک میں کورونا کی تیسری لہر کے پیشِ نظر حکومت کے وضع کردہ ایس او پیز پر سختی سے کاربند رہیں۔ ماسک کا استعمال کریں، بار بار ہاتھوں کو 20 سیکنڈ تک صابن سے دھوئیں۔ گھروں کو ہوادار بنائیں اور بلا ضرورت ہرگز گھر سے باہر نہ نکلیں۔ پُرہجوم جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔

    کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت؟

    کرونا مریضوں کے علاج کیلئے یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو ملی بڑی کامیابی

    کرونا کو ووہان وائرس کہنا درست،کرونا انسان کا بنایا ہوا، سابق ایم آئی 6 کے چیف کا دعویٰ

    چین میں کرونا نے ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا دی

    پنجاب میں ماسک پہننے کو لازمی قرار دِیا گیا ہے ، ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور جرمانے کے علاوہ چھ ماہ قید بھی ہو سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کا کہن اتھا کہ پنجاب حکومت این سی او سی کی ہدایت پر مکمل عمل کر رہی ہے، صوبے میں کورونا وائرس کی صورتحال خطرناک ہو گئی ہے، گجرات اور گوجرانوالہ کے ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ صوبے بھر میں ماسک پہننا لازمی قرار دیدیا گیا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی۔

  • سروسز ہسپتال میں  کروناکا شکار ہونے والے ڈاکٹرز کی تعداد تشویش ناک حد تک پہنچ گئی

    سروسز ہسپتال میں کروناکا شکار ہونے والے ڈاکٹرز کی تعداد تشویش ناک حد تک پہنچ گئی

    سروسز ہسپتال میں کروناکا شکار ہونے والے ڈاکٹرز کی تعداد تشویش ناک حد تک پہنچ گئی

    باغی ٹی وی : کورونا وائرس کی تیسری لہر سے فرنٹ لائن پر لڑنے ڈاکٹرز بری طرح متاثر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ایک ہفتہ کے دوران سروسز ہسپتال کے 110 ڈاکٹرز کورونا مرض کا شکار بن چکے ہیں۔

    سروسز ہسپتال میں اتنی بڑی تعداد میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ جس وجہ سے مریضوں کے علاج معالجے کا عمل بھی شدید متاثر ہوا ہے .

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے 10 ڈاکٹروں کی حالت تشویشناک ہے اور ان کو گھروں میں یا ہاسٹل میں قرنطینہ کر لیا ہے .ادھر محکمہ صحت کی جانب سے حکومت کو پیش کی گئی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پنجاب میں وینٹی لیٹر پہ جانے والے مریضوں کی شرح 39 فیصد تک پہنچ چکی ہے جبکہ لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں یہ شرح 69 فیصد ہے، لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں 50 فیصد سے زائد بیڈ کورونا مریضوں سے بھر چکے ہیں جبکہ اس وقت لاہور کے سرکاری ہسپتالوں میں 179 وینٹی لیٹر خالی ہیں۔

    این سی او سی کے مطابق کرونا سے پاکستان میں مزید 100اموات ہوئی ہیں جبکہ 4 ہزار84 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔ کورونا وائرس کی تیسری لہر میں مثبت کیسز کی شرح 11 فیصد سے بڑھ گئی ہے۔پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 14 ہزار 356 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 6 لاکھ63 ہزار200ہو گئی ہے۔ کرونا سے 100 اموات ہوئیں جن میں سے 92 اموات ہسپتالوں میں جبکہ 8 باہر ہوئیں،

    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کرونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 48 ہزار566 ہے جبکہ 6 لاکھ 278 افراد کرونا سے صحتیاب ہوچکے ہیں ،کورونا سے پنجاب میں 6 ہزار319 ، سندھ میں 4 ہزار495، خیبر پختونخوا 2 ہزار319، اسلام آباد563، گلگت بلتستان 103، بلوچستان میں 207 اور آزاد کشمیر میں 350 اموات ہو چکی ہیں،اسلام آباد میں کورونا کیسزکی تعداد 57 ہزار204، خیبر پختونخوا86ہزار44، سندھ 2 لاکھ 65 ہزار158، پنجاب 2 لاکھ 17 ہزار694، بلوچستان 19 ہزار535، آزاد کشمیر 12 ہزار549 اور گلگت بلتستان میں5ہزار16 افراد کورونا سے متاثر ہوچکے ہیں۔

    ملک بھر میں اب تک ایک کروڑ 15 لاکھ 3 ہزار 364 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 46 ہزار 269 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 6 لاکھ 278 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 3 ہزار 170 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

  • قطر کے طبی ماہرین  نے کورونا وائرس کے متعلق نیا مشاہدہ بیان کر کے ،  دنیا کو پریشان کردیا

    قطر کے طبی ماہرین نے کورونا وائرس کے متعلق نیا مشاہدہ بیان کر کے ، دنیا کو پریشان کردیا

    قطر کے طبی ماہرین نے کورونا وائرس کے متعلق نیا مشاہدہ بیان کر کے ، دنیا کو پریشان کردیا

    باغی ٹی وی : قطر کے سدرا میڈیکل اینڈ ریسرچ سنٹر (ایس ایم آر سی) کے ذریعہ کیے گئے ایک حالیہ مطالعے میں کورونا وائرس جینوم میں ایک نئی تبدیلی پائے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس سے جانچ میں غلطی کا امکان پیدا ہوتا ہے .

    جرنل آف کلینیکل مائکروبیولوجی کے مطابق اس تحقیق میں دعوی کیا گیا ہے کہ قطر میں پھیلنے والے کوویڈ 19 میں سے کچھ علامات تشخیصی ٹیسٹوں کے دوران تبدیل ہوسکتے ہیں اور ان کا پتہ نہیں لگایاجاسکتا ہیں۔

    ایس ایم آر سی کے محققین نے ایک نئی تبدیلی کا مشاہدہ کیا جب انہوں نے COVID-19 کا پتہ لگانے کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال شدہ جین گول تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے کورونا وائرس جینیاتی تسلسل کا تجزیہ کیا .۔انہوں نے ایک ہی تبدیلی کا مشاہدہ کیا جب ملک کے آس پاس کے کوویڈ 19 مریضوں سے سیمپل لیے گئے .

    ایس ایم آر سی کے کلینیکل مالیکیولر مائکروبیولوجسٹ اور اس تحقیق کے مرکزی تفتیشی ڈاکٹر محمد روبیت حسن کے مطابق کوویڈ 19 کے غلط نتائج ہیلتھ کیئر حکام کو گمراہ کرسکتے ہیں اور روزانہ ریکارڈ شدہ کیسوں کی غلط تعداد کا سبب بن سکتے ہیں۔

  • کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے ایک اور اہم قدم

    کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے ایک اور اہم قدم

    کمشنر لاہور ڈویژن نے صفائی مہم کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دیں ہیں جوکہ میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرینوں، اسٹیشن، سیڑھیاں اور اطراف کی صفائی اور ڈس انفیکشن کریں گیں۔ میٹرو بس اور اورنج ٹرین کی خصوصی صفائی مہم کا کل سے آغاز ہوگا۔ کمشنر لاہور کا کہنا تھا کے میٹرو بس اور اورنج لائن پر روزانہ لاکھوں افراد سفر کرتے ہیںاور عام حالات میں میٹرو بس اور اورنج لائن کی ڈس انفیکشن اور صفائی ممکن نہیں ہوتی۔ کورونا وائرس مختلف سطحوں پر کئی دن تک رہ سکتا ہے۔ لاک ڈاؤن کو موقع غنیمت جانتے ہوئے میٹرو بسوں، اورنج ٹرینوں، اسٹیشن اور سیڑھیوں کی مکمل ڈس انفیکشن کی جائے گی۔ ڈس انفیکشن کے ساتھ ساتھ تمام اسٹیشنوں کی جنرل صفائی اور خوبصورتی پر بھی کام کریں گے۔

  • گورنمنٹ سپیشل ایجوکیشن کے زیر سایہ معزور بچوں میں کرونا وائرس  پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ خاموش.

    گورنمنٹ سپیشل ایجوکیشن کے زیر سایہ معزور بچوں میں کرونا وائرس پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ خاموش.

    پنجاب حکومت کے زیر سایہ گورنمنٹ سپیشل ایجوکیشن سنٹر برائے معزور بچوں کا کرونا کی لپیٹ میں آنے کا خدشہ بڑھ گیا.
    محکمہ سپیشل ایجوکیشن کے زیر نگرانی معزور طالب علم انتظامیہ کی جانب سے مکمل نظر انداز.
    تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ سپیشل ایجوکیشن سنٹر ننکانہ صاحب کے سٹاف میں کرونا پازیٹو کی تصدیق کی خبر کے بعد علاقہ اور باقی ماندہ اسٹاف میں کرونا پھیلنے کے خدشات پائے جانے لگے. ٹیچر کا ٹیسٹ پازیٹوو جبکہ باقی متعدد اساتذہ کی صحت مشقوق ہے، پازیٹوو آنے والےسٹاف ممبر کا معزور بچوں کے ساتھ درس و تدریس کے سلسلہ میں قریبی رابطہ رہا ہے. طبیعت خرابی کے باعث بچوں میں کرونا واٰئرس کے شواہد پائے جانے لگے.
    موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی سدباب نہ کیا گیا، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی، اور اسپیشل ایجوکیشن اتھارٹی خاموش تماشائی. انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہیلتھ ڈیپارمنٹ کو صورتحال سے آگاہ کردیا گیا ہے، مگر تاحال اسکول کے طالبعلوں کو مکمل محفوظ بنانے کے لیے کوئی اقدام نہیں لیا گیا.
    ڈی.او. سپیشل ایجوکیشن کے سٹاف کا کرونا میں مبتلہ ہونے پر کوئی پالیسی سامنے نہ آئی.
    یاد رہے کہ معزور (سپیشل) بچوں کی امیونٹی کے کم ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں صحت کے معملات میں زیادہ توجہ کی ضرورت رہتی ہے، اسٹاف کے ٹیچنگ میتھڈ میں ان طالبہ و طالبات کو بول کر پڑھایا جاتا ہے جس میں ٹیچرز کا بچوں کے ساتھ کلوز کانٹیکٹ میں رہنا عام بات ہے.