Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کورین پاپ بینڈ بی ٹی ایس کا ‘امید کا پیغام’کھل کرڈانس بھی کیا

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کورین پاپ بینڈ بی ٹی ایس کا ‘امید کا پیغام’کھل کرڈانس بھی کیا

    نیویارک : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کورین پاپ بینڈ بی ٹی ایس کا ‘امید کا پیغام’کھل کرڈانس بھی کیا ،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75ویں اجلاس میں جنوبی کوریا کے پاپ بینڈ بی ٹی ایس نے ‘امید کا پیغام’ جاری کیا۔

    برطانوی خبررساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق بی ٹی ایس کا مذکورہ ویڈیو پیغام پہلے سے ریکارڈ شدہ تھا جسے اقوام متحدہ کے ادارے بین الاقوامی چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف) کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔

    ویڈیو پیغام میں بی ٹی ایس کے اراکین نے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث نافذ کیے گئے لاک ڈاؤنز کے دوران اپنی کوششوں کو بیان کیا جس میں انہوں نے مداحوں کو مثبت رہنے کی ترغیب دی۔کورین بینڈ کا یہ پیغام انگریزی اور کورین زبانوں میں جاری کیا گیا تھا۔

    خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی 75ویں سالگرہ کے تاریخی موقع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ورچوئل اجلاس 21 ستمبر سے جاری ہے۔

  • عالمگیر وبا کورونا میں ہمارا کردار    از قلم :عاقب شاہین پلوامہ

    عالمگیر وبا کورونا میں ہمارا کردار از قلم :عاقب شاہین پلوامہ

    دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو…
    ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرّ و بیاں….
    کرونا (covid )میں ہمارا رول

    از قلم ..عاقب شاہین پلوامہ

    کیسا خوشگوار ماحول تھا لوگ مصروف تھے اپنے کام کاج کے ساتھ طلبہ اپنی کام سے مصروف تھے .اچانک ہی سوشل میڈیا پہ ایک خبر وایرل ہوئی ۔
    2019 کے آخری دنوں میں چائنہ کے شہر ووہان سے پھوٹنے والی وبا،جسے کرونا اور (Covid19) کے ناموں سے پہچانا گیا۔۔اگر اس وبا کو موت کا نام دیا جائے تو غلط نا ہو گا،ایک اندازے کے مطابق ووہان کی ایک لیبارٹری(virology lab)جس میں مختلف(Viruses)ان کی اقسام،ویکسین اور (Anti-viruses)پہ تحقیق کی جاتی تھی،اس وائرس کی ابتداء وہاں سے ہوئی،لیکن یہ کوئی مصدقہ حقیقت نہیں۔اسی طرح ایک اور اندازے کے مطابق یہ وائرس کثیر مقدار میں مختلف جانوروں اور چرند پرند میں پایا جاتا ہے،جیسے کہ ‘چمگاڈر’ اور چائنیز لوگ ان جانوروں کا استعمال کثرت سے اپنی خوراک میں کرتے ہیں،اندازہ لگایا جاتا ہے کہ اس وبا کے پھیلاؤ کی ایک وجہ یہ بھی تھی،لیکن یہ دونوں مشتبہ اندازے ہیں،مصدقہ نہیں۔2019کے اختتام میں شروع ہونے والی یہ وبا دنوں میں عالمی وبا کا روپ دھار گئی،بات ایک گھر شہر یا ملک کی نہیں رہی،پوری دنیا اس موذی وبا کے خطرناک حصار میں آ چکی ہے،اس وبا کے پھیلنے کے بعد حقیقی معنوں میں موت کو دنیا پہ رقصاں پایا گیا،انسانی زندگی بے حد ارزاں ہو گئی،حقیقی معنوں میں زندگی موت کی آغوش میں منجمد لگنے لگی،چائنہ سے بے قابو ہوتی یہ وبا پوری دنیا پہ کسی عقاب کی طرح جھپٹی تھی،دیکھتے ہی دیکھتے سیکڑوں نہیں،ہزاروں نہیں،لاکھوں زندگیاں اس وبا کے ہاتھوں درد ناک انجام کو پہنچیں،موت کی یہ صف ماتم کسی ایک گھر،کسی ایک شہر،کسی ایک ملک میں نہیں،دنیا میں بچھ چکی ہے،کچھ بے حد متاثرہ

    ممالک امریکہ،اٹلی،چائنہ،اسپین،فرانس،جرمنی،

    ترکی،ایران میں تو رضاکار فورسز اور مختلف (NGOs) میں کام کرنے والے ہمت ہارتے اور روتے ہوئے دکھائی دیئے،لاشیں اٹھاتے اٹھاتے محافظ تھک گئے،2020 کے ابتدائی تین سے چار مہینوں میں اس موذی وبا نے دنیا کا نقشہ ہی بدل گیا،کیا امیر،کیا غریب،بوڑھا،جوان،بچہ،عورت،

    مرد،ہر ایک اس کے شکنجے میں تھا اس وبا نے سب کو ایک قطار میں کھڑا کر دیا،ایسے دل.خراش واقعات پیش آیے…ہمیں تو یاد ہی ہوگا انڈونیشیا کا وہ ڈاکٹر جو مریضوں کو علاج کرتے کرتے خود بیماری کا شکار ہوگیا ..وہ اپنے گھر کے دروازے تک آتا ہے .اور اپنے دو پھول سے بچوں اور بیوی کو دیکھ کر روتا ہے …بچے ترس رہے تھے اسے گلے لگانے کو مگر احتیاتی تدابیر نے اجازت نہ دی ..اور کچھ ہی دن بعد وہ ڈاکٹر انتقال کر گیا …ایسے بہت سے دل چیرنے والے واقعات منظر پہ آگیے ….
    ہم دنیا کی نہیں اپنے وطن قوم کی بات کرتے ہے کہتے ہے کہاوت ہےکہ ..
    Think global act local.
    ہمارا کیا کردار رہاں اس وبائی بیماری میں کیا ہم نے اپنا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہم نے اپنے ہمسایے اپنے رشتہ داروں ,دوستوں ,یا اپنے گاؤں کے مزدور پیش ,ضرورت مندوں کے بارے میں کبھی سوچا ہے …ان کے گھر میں کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے ..ہمارا کیا کردار رہا انفرادی اور اجتماعی اگر ہم نے حق ادا کرنے کی کوشش کی تو یہ انسانیت کی بڑی مثال ہے ..یا ہم نے بھی کہ اپنا نام ایسے لوگوں میں کہی شامل مت کیا جنہوں نے اس بیماری میں بھی انسانیت کی لآج نہ رکھی ..
    ہم اپنا محاسبہ کرتے ہے ہم نے اللہ کی خاطر انسانیت کے لیے کچھ کیا یا ہم نے بھی انسانیت کا خاتمہ اس وبائی بیماری میں بھی کیا …
    جہاں اس وبا نے سب کو ایک ہی صف میں رکھتے ہوئے بنا کسی امتیازی پوٹوکول سب کو اپنے شکنجے میں وہیں،انسانیت کے کچھ انوکھے روپ بھی سامنے آئے،کہیں تو انسانیت سرخرو ٹھہری اور کہیں انسانیت کی روح مسخ شدہ چہرہ لیے کھڑی لرزتی رہی، جرمنی میں ایک نوے سالا خاتون جو کہ کرونا سے متاثرہ اور وینٹی لیٹر پہ تھیں، انہوںنے اس وقت اپنا وینٹی لیٹر ہٹانے کا کہا جب ایک پچیس سالہ نوجوان کو وینٹی لیٹر کی ضرورت تھی،لیکن وینٹی لیٹرز کی قلت کے باعث وہ تڑپ رہا تھا،خود کو موت کے حوالے کر کے خاتون نے لڑکے کے لیے زندگی کا در کھولا تھا،یہ ہے انسانیت‘کچھ ڈاکٹرز نے حقیقت میں مسیحائی کا حق ادا کیا،وہیں بہت سی جگہوں پر مسیحائی کے لبادوں میں شیطانوں کا بسیرا پایا گیا،انسانیت کبھی تو سر پہ معراج انسانیت سجائے پوری آب و تاب سے چمکتی ہوئی ملی اور کہیں بے وجہ انسانیت کی روح مسخ شدہ ملی،لاشوں کو ڈھوتے ڈھوتے تھکنے والے کتنے ہی لوگ خود اس مرض کا شکار ہوئے اور کب موت کی آغوش میں جا سوئے پتا ہی نا چلا،قومیں متحد ہو گئیں،لیکن کچھ قومیں ہمیشہ کی طرح اپنی جاہلیت اور خود غرضی دکھانے سے بعض نا آئیں،یہاں اگر ذکر کیا جائے ہماری وادی کا تو پچھلے کچھ عرصے میں جب لوگ اس وبا کی زد میں آ کر گھروں میں مقید تھے تو چند ایسے دلخراش منظر و واقعات سامنے آئے کہ روح تک لرز جائے ہے …
    Aaqibshaheenmir@gmail.com

  • شہری ایس او پیز پر عمل کریں، وبا ختم نہیں ہوئی:وزیراعلیٰ سندھ نے میڈیا سے بھی شکایت کردی

    شہری ایس او پیز پر عمل کریں، وبا ختم نہیں ہوئی:وزیراعلیٰ سندھ نے میڈیا سے بھی شکایت کردی

    کراچی : شہری ایس او پیز پر عمل کریں، وبا ختم نہیں ہوئی:وزیراعلیٰ سندھ نے میڈیا سے بھی شکایت کردی ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہے کہ کورونا وائرس کے باعث عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے لوگوں کے کاروبار بند ہوئے وہ پھر کھل جائیں گے لیکن سب سے بڑا نقصان ان کا ہوا کہ جن کے پیارے اس دنیا سے چلے گئے۔

    سید مراد علی شاہ نے سب کو بالخصوص والدین کو پیغام دیتے ہوئے کہ اسکول کئی ماہ بند رہے جس کی وجہ سے تعلیمی ہرج ہوا لیکن بڑا نقصان یہ ہوگا کہ وبا دوبارہ پھیل جائے اس لیے بچوں کو ایس او پیز پر عملدرآمد کروائیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمارے لیے سب سے اہم چیز شہریوں خاص طور پر بچوں کی صحت ہے اور اس چیز کو ہم نہایت باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں، 28 تاریخ سے قبل ایک اور جائزہ لیا جائے گا اور وفاقی حکومت سے بھی بات کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے شہریوں پر زور دیا کہ ماسکس پہنیں یہ وبا کو روکنے میں خاصہ معاون ثابت ہوا ہے،لوگ سمجھتے ہیں کہ وبا ختم ہوگئی لیکن وبا ختم نہیں ہوئی۔

    بارشوں اور اس کے بعد کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سال بے مثال بارشیں ہوئی، خاص کر 27 اگست کی بارش نے سارے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ دیے تھے جن کے بعد ہم نے 24 سے 48 گھنٹوں میں 95 فیصد شہر صاف کردیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ سامنے آیا ہے کراچی کا سیویج سسٹم خاصہ پرانا ہے جو کئی جگہ پر بارشوں کی وجہ تباہ ہوگیا تھا لیکن ہم نے اسے جلدی مرمت کرلیا۔

    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہم کراچی کی حد تک اس فیز میں ہیں کہ جو انفرا اسٹرکچر متاثر ہوا اس کی مرمت کریں، کچھ سڑکوں پر مرمتی کام کیے ہیں۔

    میڈیا سے شکایت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی کو میڈیا نے اچھے طریقے سے اجاگر کیا لیکن جو برسات دیہی علاقوں میں ہوئی، اس پر میڈیا میں وفاقی حکومت کی روح اتر آئی کہ انہیں کچھ نظر ہی نہیں آیا۔

  • مہلک وبا کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتیں 9لاکھ 82ہزار تک پہنچ گئیں

    مہلک وبا کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتیں 9لاکھ 82ہزار تک پہنچ گئیں

    مہلک وبا کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتیں 9لاکھ 82ہزار تک پہنچ گئیں

    باغی ٹی و ی رپورٹ کے مطابق:مہلک وبا کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتیں 9لاکھ 81ہزار 953 ہو گئیں جبکہ مصدقہ کیسز کی تعداد 3کروڑ20لاکھ 92ہزار 156تک پہنچ گئی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دنیا میں کورونا سے متاثر 2کروڑ36لاکھ75ہزار 955افراد شفایاب ہوئے اور فعال کیسز کی تعداد74لاکھ24ہزار248رہ گئی ۔

    امریکہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ممالک میں پہلے نمبر پر ہے جہاں 2لاکھ6ہزار593افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور71لاکھ39ہزارسے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی۔
    بھارت کورونا کیسزکے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد57لاکھ30ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ بھارت میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 91ہزار173ہوگئی ۔ برازیل میں کورونا سے متاثرہونے والے ممالک میں تیسرے نمبر پر ہے

    جہاں46 لاکھ62ہزار افراد متاثر ہوئے اور ایک لاکھ 39ہزار65اموات ہوئی ہیں۔روس کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ممالک میں چوتھے نمبر پر ہے جہاں11لاکھ 22 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے اور اموات کی مجموعی تعداد 19ہزار799ہوگئی ۔کولمبیا کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر ہے جہاں 24ہزار746 اموات ہوئیں جبکہ 7لاکھ 84ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ۔

    پیرو میں بھی 7لاکھ ہزار سے زائد افراد متاثر ہو ئے جبکہ 31ہزار870افراد لقمہ اجل بن گئے ۔جنوبی افریقہ میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد16 ہزار206ہوگئی جبکہ6لاکھ 65ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں۔ میکسیکو میں7لاکھ 10ہزارسے زائد افراد متاثر ہیں اور74ہزار949 اموات ہوئیں

  • پاکستان میں کرونا کے 799 نئے مریض

    پاکستان میں کرونا کے 799 نئے مریض

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 799 نئے کرونا مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 5 اموات ہوئی ہیں

    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد3 لاکھ 8 ہزار 217 ہو گئی ہے جبکہ کرونا سے اموات کی مجموعی تعداد 6 ہزار 437 ہو گئی ہے

    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثر2لاکھ 94ہزار392 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں اور ایکٹیو کیسز کی تعداد 7ہزار388 رہ گئی ہے۔ سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ 34 ہزار845ہوگئی ہے۔ پنجاب 98 ہزار 686 ، خیبرپختونخوا میں37 ہزار 470، بلوچستان میں 14ہزار765، اسلام آباد میں16 ہزار288، آزاد جموں و کشمیر میں 2 ہزار591 اور گلگت میں 3 ہزار572 کرونا مریض سامنے آ چکے ہیں

    کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار229 اور سندھ میں 2 ہزار471 ، خیبر پختونخوا میں اموات کی تعداد ایک ہزار 258 ، اسلام آباد میں 181، بلوچستان میں 145، ‏گلگت بلتستان میں83 اور آزاد کشمیر میں 70 اموات ہو چکی ہیں

    پاکستان کے 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے سہولیات ہیں اور اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کیلئے وینٹی لیٹرز کی تعداد ایک ہزار920 ہے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں میں سندھ اور پنجاب میں دو دو جبکہ اسلام آباد میں کرونا سے ایک موت ہوئی ہے جبکہ کے پی،بلوچستان اور آزاد کشمیر میں کوئی موت نہیں ہوئی

  • پاکستان میں کرونا سے مزید 8 اموات

    پاکستان میں کرونا سے مزید 8 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کیسز میں بتدریج کمی ہو رہی ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 532 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 8 اموات ہوئی ہیں

    پاکستان میں کرونا سے مریضوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 7 ہزار 418 ہو گئی ہے جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 6 ہزار 432 ہو گئی ہے،

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کورونا کے 2لاکھ 93 ہزار916 متاثرین صحت یاب ہوچکے ہیں اور ایکیٹو کیسزکی تعداد7ہزار70 رہ گئی ہے

    این سی او سی کے مطابق سندھ میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 34 ہزار437 ہوگئی ہے۔ پنجاب میں 98 ہزار602، خیبرپختونخوا میں 37 ہزار418، بلوچستان میں 14ہزار607، اسلام آباد میں16 ہزار224، آزاد جموں و کشمیر میں 2 ہزار566 اور گلگت میں 3 ہزار542 مریض سامنے آ چکے ہیں

    کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار227 اور سندھ میں 2 ہزار469، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار258، اسلام آباد میں 180، بلوچستان میں 145، ‏گلگت بلتستان میں83 اور آزاد کشمیر میں70 اموات ہو گئی ہیں،

    این سی او سی کے مطابق پاکستان کے 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کےلیے سہولیات ہیں اور اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کیلئے وینٹی لیٹرزکی تعدادایک ہزار920 ہے۔ ملک میں 132 ٹیسٹنگ لیبارٹریز کام کر رہی ہیں اور متعدد شہروں میں ٹریس، ٹیسٹ اورقرنطینہ حکمت عملی موثر طریقے سے کام رہی ہے،ملک بھر میں 880 کرونا مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں

  • عالمی تنازعات ختم کرکے ہی کورونا کے خاتمے پر دھیان دے سکتے ہیں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری ناامید ہوگئے

    عالمی تنازعات ختم کرکے ہی کورونا کے خاتمے پر دھیان دے سکتے ہیں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری ناامید ہوگئے

    نیویارک :عالمی تنازعات ختم کرکے ہی کورونا کے خاتمے پر دھیان دے سکتے ہیں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری ناامید ہوگئے،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ دنیا کے ممالک سرد جنگ اور تنازعات ختم کر کے ہی کورونا وبا کے خاتمے پر دھیان دے سکتے ہیں۔

    نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 75 ویں سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے چین اور امریکا کا نام لیے بغیر کہا کہ دنیا کے تمام ممالک کو سرد جنگ اور تنازعات سے ہر ممکن طور پر بچنا ہوگا۔

    انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ ہم خطرناک سمت میں جارہے ہیں، موجودہ صورت حال میں دو بڑی طاقتور معیشتوں کی جانب سے دنیا کو تقسیم کر دیا جائے، دنیا اس کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ان کا کہنا تھا کہ رواں برس کے اختتام تک عالمی تنازعات ختم کرنے کے لیے سلامتی کونسل کی سربراہی میں بین الاقوامی کوششیں بڑھائی جانی چاہئیں۔

    سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ کورونا کے حوالے سے دنیا کو یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، ابھی اس وبا کے حوالے سے مزید چیلنجزآنا باقی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک کورونا کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اقوام متحدہ کے تمام 193 ممبر ریاستیں انسانیت کے لیے آگے آئیں اور اس حوالے سے متحدہ ہو کر مقابلہ کریں، ہمیں سائنس کی رہنمائی میں حقیقت پسندانہ کردار اپنانا ہوگا۔

    انتونیو گوتریس کا مزید کہنا تھا کہ اس عالمی وبا نے دنیا بھر میں عدم مساوات کو بے نقاب کردیا ہے اور عالمی سطح پر صحت کے بحران سمیت بڑے معاشی نقصان اور بے روزگاری کو جنم دیا ہے جب کہ انسانی حقوق کو بھی شدید خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چیلینجز سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ دنیا کو بہتر جگہ بنایا جاسکے۔

  • جب آن لائن سسٹم موجود ہے توپھربہتریہی ہے کہ کرونا سے بچنے کے لیے گھروں سے کام کریں:برطانوی وزیراعظم کا حکم

    جب آن لائن سسٹم موجود ہے توپھربہتریہی ہے کہ کرونا سے بچنے کے لیے گھروں سے کام کریں:برطانوی وزیراعظم کا حکم

    لندن :جب آن لائن سسٹم موجود ہے توپھربہتریہی ہے کہ کرونا سے بچنے کے لیے گھروں سے کام کریں:برطانوی وزیراعظم کا حکم ،اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے اپنے تازہ ترین حکم میں اعلان کیا ہے کہ جب جدید ٹیکنالوجی کے ہوتے ہوئے آن لائن کام کرنے کا سسٹم موجود ہے توپھرجان بوجھ کرخطرہ کیوں مول لیں

    ذرائع کے مطابق آج برطانوی وزیراعظم نے دو مرتبہ اپنی قوم کے نام کرونا کے حوالے سے پیغام دیا ہے ، بورس جانسن نے پہلے پیغام میں کروناوائرس کے پھر سے پھیلاو کوخطرہ قراردیتے ہوئے کہا تھا کہ لاک ڈاون کے بغیر اس وائرس سے جان چھڑانا ممکن نہیں ہے

    ذرائع کے مطابق اپنے دوسرے پیغآم میں بورس جانسن نے کابینہ سے مشاورت کے بعد اعلان کیا ہےکہ تمام سرکاری ملازمین گھروں سے کام کریں گے

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ آن لائن ورکنگ کی سہولت موجود ہے توپھروائرس کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیے

  • برطانیہ میں کرونا وائرس کے حملے تیز: وزیراعظم کا لاک ڈاؤن سے بچنے کیلیے نئے قوانین کا اعلان

    برطانیہ میں کرونا وائرس کے حملے تیز: وزیراعظم کا لاک ڈاؤن سے بچنے کیلیے نئے قوانین کا اعلان

    لندن: برطانیہ میں کرونا وائرس کے حملے تیز: وزیراعظم کا لاک ڈاؤن سے بچنے کیلیے نئے قوانین کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کورونا وبا کے دوران ملکی سطح پر لاک ڈاؤن سے بچنےکیلئے نئے قوانین کا اعلان کر دیا۔

    برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے پارلیمنٹ سےخطاب کرتے ہوئے کورونا کیسز میں اضافے اور کورونا بحران میں معمولات زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے نئے قوانین کا اعلان کیا۔ نئے قوانین کا اطلاق 6 ماہ تک رہ سکتا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ شادی کی تقریبات میں شرکا کی تقریبات میں کمی کا فیصلہ کیا ہے، زیادہ سےزیادہ15افرادشادی میں شریک ہوسکیں گے۔بورس جانسن نے کہا کہ آفس ورکرز گھر سےکام کریں گے کیونکہ بروقت اقدامات کے ذریعے بڑے نقصان سے بچانا چاہتے ہیں۔

    بورس جانسن نے کہا کہ ریسٹورنٹ میں بھی ماسک پہنیں صرف کھاتےوقت اتار دیں، ٹیکسی اور دکانوں کے اسٹاف پر بھی ماسک پابندی کااطلاق ہوگا۔

    اپوزیشن لیڈر کئیر سٹارمر نے بھی برطانوی عوام سے ہدایات پر عمل درآمد کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلان کردہ احتیاطی تدابیر اور قوانین پر مکمل عمل کر کے وبا کے خطرات سے بچا جا سکتا ہے۔

  • عالمی ادارہ صحت نے کورونا ویکسین کی تقسیم کا پلان تیار کر لیا

    عالمی ادارہ صحت نے کورونا ویکسین کی تقسیم کا پلان تیار کر لیا

    عالمی ادارہ صحت نے کورونا ویکسین کی تقسیم کا پلان تیار کر لیا

    باغی ٹی وی : جینیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے کورونا ویکسین کی تقسیم کا پلان تیار کر لیا گیا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے کورونا ویکسین پلان میں ساٹھ سے زائد امیر ممالک شامل ہیں۔ پروگرام کے تحت غریب ممالک کو ویکسین کی فراہمی میں مدد کی جائے گی۔

    ڈیڑھ سو سے زائد ممالک ڈبلیو ایچ او کی جانب سے تیار کردہ پروگرام کا حصہ ہیں، عالمی ادارہ صحت کی معاونت کرنے والے ممالک میں امریکا اور چین شامل نہیں ہوں گے۔

    2021 کے آخر تک دو ارب روپے کی ویکسین تقسیم کی جائے گی۔ مجموعی طور پر 156 ممالک اس پروگرام میں شریک ہیں۔چند روز قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ اپریل تک تمام امریکیوں کے لیے کافی مقدارمیں کورونا ویکسین دستیاب ہوگی۔
    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ہرماہ لاکھوں کورونا ویکسین کی خوراکیں دستیاب ہو جائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی ہیلتھ ریگولیٹرز کی منظوری کے بعد24 گھنٹے میں ویکسین کی تقسیم شروع کردی جائے گی۔

    عالمی وبا کورونا وائرس کے سبب دنیا میں 9 لاکھ 69 ہزار 298 افراد ہلاک اور 3 کروڑ 14 لاکھ 82 ہزار 599متاثر ہو چکے ہیں۔

    دنیا میں کورونا سے متاثر 2 کروڑ 31 لاکھ 10 ہزار85 افراد صحتیاب ہوئے اور ایکٹیو کیسز کی تعداد 74 لاکھ 3 ہزار 216 رہ گئی ہے۔