Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • کرونا وائرس نے ضابطے ہی بدل دیئے:بچے بیک وقت سکول نہیں‌ آئیں گے :مراد راس کا اعلان

    کرونا وائرس نے ضابطے ہی بدل دیئے:بچے بیک وقت سکول نہیں‌ آئیں گے :مراد راس کا اعلان

    لاہور: کرونا وائرس نے ضابطے ہی بدل دیئے:بچے بیک وقت سکول نہیں‌ آئیں گے ،مراد راس کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق وزیر اسکول ایجوکیشن پنجاب ڈاکٹر مراد راس کا کہنا ہے کہ اسکول کھلنے پر ایک کلاس کے تمام بچے بیک وقت نہیں آئیں گے۔

    ڈاکٹر مراد راس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کھلنے پر ایک کلاس کے تمام بچے بیک وقت نہیں آئیں گے، کلاسیں ڈبل شفٹ میں ہوں گی یا باقی طالبعلم دوسرے روز آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ طالبعلم گھر سے ماسک پہن کر آئیں گے جب کہ ٹیچرز کا کورونا وائرس ٹیسٹ لازمی ہوگا اور ٹیچر 3 دن پہلے کا ٹیسٹ ساتھ لائیں گے۔

    وزیر اسکول ایجوکیشن کا کہنا تھا کہ ماسک، صابن، ہینڈ سینیٹائزر اور دیگر سامان پر 7 ارب روپے خرچ ہوں گے، محکمہ تعلیم کہاں سے اتنا بل دے گا ؟انہوں نے مزید کہا کہ او لیول پیپرز کی رجسٹریشن کے لیے اسکولوں کی انتظامیہ والدین کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی۔

  • تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھول دیئے جائیں ، اعلان ہوگیا

    تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھول دیئے جائیں ، اعلان ہوگیا

    پشاور: تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھولنے کا اعلامیہ جاری،اطلاعات کےمطابق صوبائی ڈائریکٹوریٹ آف ابتدائی و ثانوی تعلیم کی جانب سے تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھولنے کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔

    اعلامیے کے مطابق اسکولوں کو کورونا ایس او پیز کے تحت کھولا جائے گا جب کہ اسکولوں میں ہاتھ دھونے کے لیے صابن کی فراہمی لازمی ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ اسکولوں میں جراثیم کش مواد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

    صوبائی ڈائریکٹوریٹ آف ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبرپختونخوا محمد ابراہیم نے جیو نیوز سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق ایس او پیز کے تحت اسکول 15 ستمبر سے کھولے جائیں گے۔ملک بھر کے تعلیمی ادارے 15ستمبرکو ہی کھلیں گے، چاروں صوبوں کا فیصلہ

    محمد ابراہیم کا کہنا تھا کہ تمام اسکولوں کے اسٹاف کو کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے کی تربیت دی گئی ہے جب کہ اسکولوں میں سینیٹائزر اور ماسک کے استعمال کو لازمی بنایا جائے گا۔

    خیال رہے کہ ملک میں کوروناوائرس کے باعث تعلیمی ادارے کئی ماہ سے بند ہیں تاہم کورونا کی صورتحال میں بہتری آنے کے بعد حکومت نے ملک بھر کے تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھولنے کا اعلان کیا ہے البتہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ 7 ستمبر کے اجلاس میں کیا جائے گا۔

  • عالمی ادارہ صحت کی عالمی برادری سے اپیل،ویکسین کی تیاری کےلیے وسائل نہیں ، مدد کی ضرورت ہے

    عالمی ادارہ صحت کی عالمی برادری سے اپیل،ویکسین کی تیاری کےلیے وسائل نہیں ، مدد کی ضرورت ہے

    نیویارک :عالمی ادارہ صحت کی عالمی برادری سے اپیل،ویکسین کی تیاری کےلیے وسائل نہیں ، مدد کی ضرورت ہے ،اطلاعات کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کورونا ویکسین کی تیاری کے لیے دنیا بھر کے ممالک کو کوششیں تیز کرنی ہوں گی۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق کورونا ویکسین کی تیاری کے لیے بنائے گئے پلیٹ فارم ’کو ویکس‘ کے ساتھ مختلف ممالک کام کررہے ہیں مگر مزید ممالک کو بھی آگے آنے اور فنڈنگ کرنے کی ضرورت ہے۔

    ڈائریکٹر ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ یہ پلیٹ فارم کورونا کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ موثر ویکسین کی تیاری اور اس کی قیمت کم سے کم رکھنے کو یقینی بنائے گا۔انہوں نے کہا کہ ویکسین کی تیاری میں اپنا کردار ادا کرنے کے خواہشمند ممالک 31 اگست تک اس کا حصہ بن سکتے ہیں۔

  • پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 10 ہزار سے کم رہ گئی

    پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 10 ہزار سے کم رہ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والے خطرناک کرونا وائر س پاکستان میں بتدریج کم ہو رہا ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 9 اموات ہوئی ہیں جبکہ 450 نئے کرونا مریض سامنے آئے ہیں

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد 9 ہزار 31 رہ گئی ہے، پاکستان میں کورونا کے کیسز کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 93 ہزار 261 اور اموات کی مجموعی تعداد 6 ہزار 253 ہوگئی ہے، پاکستان میں 2لاکھ 78 ہزار 425 مریض کرونا کو شکست دے چکے ہیں

    پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے 24 ہزار 231 ٹیسٹ کیے گئے اور تاحال ملک بھر میں کورونا کے 24 لاکھ 87 ہزار 744 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں،

    کرونا مریضوں کے حوالہ سے سندھ کا پہلا نمبر ہے،سندھ ایک لاکھ 28 ہزار284 کورونا مریض سامنے آ چکے ہیں جب کہ پنجاب میں 96 ہزار233 مریض، خیبرپختونخوا ہ میں 35 ہزار766، اسلام آباد میں 15 ہزار515 اور بلوچستان میں 12 ہزار527 مریض سامنے آئے ہیں، آزاد کشمیر 2 ہزار 254 اور گلگت میں کورونا مریضوں کی تعداد 2 ہزار 682 ہے۔

    میٹنگ میٹنگ ہو رہی ہے، کام نہیں ، ہسپتالوں کی اوپی ڈیز بند، مجھے اہلیہ کو چیک کروانے کیلئے کیا کرنا پڑا؟ چیف جسٹس برہم

    ڈاکٹر ظفر مرزا کی کیا اہلیت، قابلیت ہے؟ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، چیف جسٹس

    دو سال سے دھکے کھانے والے ڈاکٹر کو سپریم کورٹ سے حق مل ہی گیا

    کرونا از خود نوٹس کیس، وزارت صحت نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی رپورٹ

    کرونا وائرس، اخراجات کا آڈٹ ہو گا تو حقیقت سامنے آئے گی،سارے کام کاغذوں میں ہو رہے ہیں، چیف جسٹس

    صوبائی وزیر کا دماغ بالکل آؤٹ، دماغ پر کیا چیز چڑھ گئی ہے پتہ نہیں، چیف جسٹس کے ریمارکس

    تمام ایگزیکٹو ناکام، ضد سے حکومت نہیں چلتی، ایک ہفتے کا وقت دے رہے ہیں یہ کام کریں ورنہ..سپریم کورٹ برہم

    کرونا نے حکومت سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ہفتہ اتوار کو نہیں آئے گا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار188 اور سندھ میں 2 ہزار367 اموات ہوئی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک ہزار248، اسلام آباد میں 175، بلوچستان میں 141، ‏گلگت بلتستان64 اور آزاد کشمیر میں کورونا سے اموات کی تعداد 61 ہے۔

    حکومت کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کا گراف مسلسل نیچے آرہا ہے، لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ این سی او سی کی جانب سے مسلسل کرونا ایس او پیز پر عمل کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے

  • دنیا کا تیز ترین شخص کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کرونا کا بنا شکار

    دنیا کا تیز ترین شخص کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کرونا کا بنا شکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والے خطرناک کرونا وائرس کے وار دنیا بھر میں جاری ہیں،

    دنیا کے تیز ترین شخص یوسین بولٹ بھی کرونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں جس کے بعد انہوں نے خود کو آئسولیٹ کر لیا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق دنیا کے تیز ترین قرار دیے جانے والے شخص یوسین بولٹ عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کا شکار بن گئے ہیں۔

    یوسین بولـٹ نے 34 ویں سالگرہ کی خوشی میں مہلک وبا کے حوالے سے بتائے جانے والے ایس او پیز کو یکسر نظر انداز کردیا تھا۔ سالگرہ کی خوشی میں منعقد ہونے والی پارٹی میں نہ تو شرکا نے ماسکوں کا استعمال کیا اور نہ ہی سماجی فاصلوں کو ملحوظ خاطر رکھا، یوسین بولٹ کی جانب سے دی گئی پارٹی میں انگلش فٹ بالررحیم اسٹرلنگ بھی شریک تھے

    میٹنگ میٹنگ ہو رہی ہے، کام نہیں ، ہسپتالوں کی اوپی ڈیز بند، مجھے اہلیہ کو چیک کروانے کیلئے کیا کرنا پڑا؟ چیف جسٹس برہم

    ڈاکٹر ظفر مرزا کی کیا اہلیت، قابلیت ہے؟ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، چیف جسٹس

    دو سال سے دھکے کھانے والے ڈاکٹر کو سپریم کورٹ سے حق مل ہی گیا

    کرونا از خود نوٹس کیس، وزارت صحت نے سپریم کورٹ میں جمع کروائی رپورٹ

    کرونا وائرس، اخراجات کا آڈٹ ہو گا تو حقیقت سامنے آئے گی،سارے کام کاغذوں میں ہو رہے ہیں، چیف جسٹس

    صوبائی وزیر کا دماغ بالکل آؤٹ، دماغ پر کیا چیز چڑھ گئی ہے پتہ نہیں، چیف جسٹس کے ریمارکس

    تمام ایگزیکٹو ناکام، ضد سے حکومت نہیں چلتی، ایک ہفتے کا وقت دے رہے ہیں یہ کام کریں ورنہ..سپریم کورٹ برہم

    کرونا نے حکومت سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ہفتہ اتوار کو نہیں آئے گا؟ چیف جسٹس کا بڑا حکم

    یوسین بولٹ کا جب کورونا ٹیسٹ کیا گیا تو وہ مثبت آیا جس کے بعد انہوں نے از خود سماجی تنہائی اختیار کرلی ہے۔

    یوسین بولٹ کو دنیا کا تیز ترین انسان قرار دیا جاتا ہے۔ بے شمار ریکارڈز رکھنے والے بولٹ کی اوسط رفتار 23 میل فی گھنٹہ ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ رفتار 27 میل فی گھنٹہ ہے۔ یہ رفتار دنیا کے چند جانوروں سے بھی زیادہ ہے۔

  • ڈیجیٹل ادائیگیاں کوویڈ19 وباء کے دوران پاکستانی معیشت کے لئے امید کی ایک لہر

    ڈیجیٹل ادائیگیاں کوویڈ19 وباء کے دوران پاکستانی معیشت کے لئے امید کی ایک لہر

    ڈیجیٹل ادائیگیاں۔ COVID-19 وباء کے دوران پاکستانی معیشت کے لئے امید کی ایک لہر

    آج کی سنگین صورتحال میں سماجی فاصلہ ایک نیا معمول بن چکا ہے۔ COVID-19 وباء نے عالمی سطح پر روزمرہ کی زندگی سمیت تمام مارکیٹوں اور صنعتوں کو متاثر کیا ہے۔ تاہم جب ہر چیز متاثر ہو چکی ہے تو ڈیجیٹل ورلڈ کی بدولت کورونا وائرس کے پھیلاؤ یا لاک ڈاؤن کی وجہ سے رقم کا ترصیل متاثر نہیں ہوئی۔ اس کے نتیجے میں ڈیجیٹل ادائیگی کے حل کو اپنانے میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    COVID-19 بحران مختصر مدت میں ختم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا اور اس کے اسٹارٹ اپس اور ایس ایم ایز پر سخت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ ہم نے گھر میں رہتے ہوئے کساد بازاری کی حامل معیشت کو قبول کرلیا ہے تاہم اب ہمیں اس صنعت میں بڑے چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان حالات کے دوران یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ یہ صورتحال کس طرح ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دیتی ہے اور اس نے چھوٹے کاروباروں کو برقرار رکھنے کیلئے کس طرح سہولت فراہم کی ہے۔ بہت سے عوامل ہیں جو ڈیجیٹل ادائیگی کے حل اپنانے کی شرح میں اضافہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر حکومت نے کورونا وائرس کی حالیہ وباء کے دوران نقد رقم کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا شروع کردی ہے۔ اس نے بہت سے لوگوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے طریقہ پر مجبور کر دیا ہے۔

    دوئم، ای کامرس میں اچانک ترقی بھی دیکھی گئی ہے کیونکہ ایسے لوگ جو اپنے گھروں میں بند ہیں، آن لائن خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی جہاں ان دنوں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ ہے، لوگ اسٹورز پر جانے سے گریز کر رہے ہیں۔ گروسری سے ملبوسات اور دیگر اشیاء سمیت لوگ آن لائن خریداری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت سے ریٹیلرز نے بھی ای کامرس کو اختیار کیا جس کی وجہ سے آن لائن ٹرانزیکشنز کا حجم بھی بڑھ گیا کیونکہ لوگ آن لائن خریداری کے لئے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے پلیٹ فارمز پر انحصار کر رہے ہیں۔

    ایک وسیع نکتہ نظر میں چونکہ زیادہ تر کاروبار گھروں سے کام کر رہے ہیں اور طلباء اپنے فارغ وقت کو زیادہ پیداواری بنانے کے لئے فری لانسنگ کی طرف چلے گئے ہیں، ادائیگیاں ڈیجیٹل طریقے سے کی جا رہی ہیں جس میں ایزی پیسہ صارف دوست ہونے کی وجہ سے وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہا ہے۔ 70 ہزار سے زائد ریٹیلرز کے ساتھ ایزی پیسہ پاکستان میں برانچ لیس ایجنٹس کا سب سے بڑا پلیٹ فارم ہے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس سروس کو تیز رفتاری سے اپنایا جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی کے تحت چلنے والی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کی وجہ سے حالیہ جدتیں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہیں جس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک لاجسٹک کمپنی صارف کی دہلیز سے نقد رقم وصول کر کے موبائل اکاؤنٹس میں جمع کروانے کی سہولت فراہم کر رہی ہے۔

    ڈیجیٹل ادائیگیوں کو اپنانے کی شرح 2019ء تک سست رہی لیکن COVID-19 وباء نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لئے راہ ہموار کی۔ COVID-19 کے دوران ڈیجیٹل ادائیگیوں کے پلیٹ فارمز امید کی ایک لہر ہیں کیونکہ اس نے لوگوں کو گھروں پر رہتے ہوئے ان کی روزمرہ کے امور انجام دینے میں مدد فراہم کی۔ ہم امید کر سکتے ہیں کہ کورونا وائرس بحران جلد ختم ہو جائے گا لیکن سمارٹ فون استعمال کرنے والے صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد مستقبل میں موبائل والٹ پلیٹ فارمز کی ترقی کو یقینی بنائے گی۔

  • پانچ ماہ گزرنے کے بعد تبلیغی جماعت کے معاملات بھارتی حکومت کے لئے سفارتی سردرد بن گئے

    پانچ ماہ گزرنے کے بعد تبلیغی جماعت کے معاملات بھارتی حکومت کے لئے سفارتی سردرد بن گئے

    بھارت میں کورونا وائرس کے آغاز میں مارچ میں بھارتی حکومت کی طرف سے نئی دہلی میں اپنے مرکزی دفتر میں رہائش پذیر دنیا کے 45 ممالک سے آئے ہوئے تبلیغی جماعت کے تمام ارکان کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دینے کے پانچ ماہ بعد بھی یہ معاملہ مودی حکومت کے لئے سفارتی سر درد بن رہا ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ امور نے اس سال مارچ میں حکم دیا تھا کہ تبلیغی جماعت کے ارکان بھارت میں کورونا پھیلانے کے مرتکب ہو رہے ہیں ان میں تقریبا 45 ممالک کے 2،550 انتہائی راسخ العقیدہ اسلامی مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے اب بھی تحویل میں ہیں۔ نئی دہلی میں موجود سفارت کاروں نے بتایا ، کہ متعدد ممالک نے بھارت میں اپنے شہریوں کی مسلسل تحویل پر
    بھارتی دفتر خارجہ کی سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
    گزشتہ ہفتے کے آغاز میں بنگلہ دیش کے سیکرٹری خارجہ مسعود بن مومن نے کہا تھا کہ انہوں نے بدھ کے روز ڈھاکہ کے دورے پر آئے ہوئے بھارتی سیکرٹری خارجہ ہارش شرنگلا سے ملاقات کرتے ہوئے بھارت میں تقریبا 173 بنگلہ دیشی تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے افراد کا معاملہ اٹھایا تھا اور ان سے ان کی جلد واپسی کامطالبہ کیا تھا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے بنگلہ دیش کی حکومت خاصی پریشان ہے کیوں کہ بھارت میں موجود ان بنگلہ دیشی ارکان کی اکثریت کے پاس پیسے ختم ہو چکے ہیں اور ان کے پاس بنگلہ دیش واپس جانے کے لئے پانچ سے دس ہزار روپے بھی موجود نہیں۔
    بھارت دفتر خارجہ کے مطابق بنگلہ دیش کے سیکرٹری خارجہ نے بھارتی خارجہ سیکرٹری سے ملاقات کے دوران تسلیم کیا کہ ان کے کچھ شہری وطن واپس لوٹ چکے ہیں تاہم ابھی تک بھارت میں باقی موجود بنگلہ دیشی افراد کی جلد واپسی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان انوراگ سریواستو نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے لگ بھگ 550 غیر ملکی اب تک بھارت سے واپس جا چکے ہیں ، جب کہ عدالتوں کے ذریعہ 1،030 افراد کو بھارت سے جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ نئی دہلی میں موجود انڈونیشیا اور ملائشین سفارتکاروں نے بھی تبلیغی جماعت میں شامل اپنے شہریوں کی واپسی کے لئے بھارت پر دباو بڑھا رکھا ہے۔انہوں نے یہ معاملہ آسیان کے حالیہ اجلاس میں بھی اٹھایا تھا حالانکہ آسیان کے اجلاس میں اس طرح کے معاملات شاذ و نادر ہی اٹھائے جاتے ہیں۔ نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے نے بتایا کہ اس نے تقریبا چھ امریکی شہریوں کی گرفتاریوں پر بھارتی حکومت سے رابطہ کیا ہے اور بھارتی حکومت پر واضح کیا ہے کہ بھارت میں موجود امریکی شہریوں کی حفاظت بھارتی محکمہ خارجہ کی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ امریکی سفارتخانہ ان متعددشہریوں سے رابطے میں ہے جنھیں تبلیغی جماعت کے معاملے میں بھارتی حکام نے گرفتار کیا تھا۔ نئی دہلی میں موجود دیگر کئی دوسرے ممالک کے مشنوں نے کہا کہ ان کے کئی شہریوں نے تبلیغی جماعت میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔ وہ صرف نئی دہلی میں موجود تھے انہیں بھی مودی حکومت نے کورونا کے پھیلانے کے الزام میں تحویل میں رکھا ہوا ہے۔ برازیل کے سفارت خانے کے مطابق 22 مارچ کو وزیر اعظم نریندر مودی کے اعلان کردہ "جنتا کرفیو” کی وجہ سے دہلی سے ان کی پرواز منسوخ ہونے پر ان کے چار شہری بھارت میں اپنی فلائیٹ مس کر چکے تھے اور انہوں نے دہلی کے نظام الدین میں تبلیغی مرکاز میں پناہ لے لی۔ پولیس نے نہ صرف انہیں اگلی پرواز لینے سے روکا ، بلکہ انہیں زبردستی قرنطینہ میں رکھا۔ وہ صرف چار ماہ بعد ہی وطن واپس جاسکے ، قبول کرنے کے بعد کہ انہوں نے ویزا کی خلاف ورزی کی ، جرمانے کی ادائیگی کی ، اور اب انہیں 10 سال تک ہندوستان واپس آنے سے منع کردیا گیا ہے اور انہیں بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔

  • امریکا، برازیل کے بعد بھارت میں سب سے زیادہ کورونا کے مریض،ایک ہی دن میں 70 ہزارسے زائد کیسز

    امریکا، برازیل کے بعد بھارت میں سب سے زیادہ کورونا کے مریض،ایک ہی دن میں 70 ہزارسے زائد کیسز

    واشنگٹن :امریکا، برازیل کے بعد بھارت میں سب سے زیادہ کورونا کے مریض،ایک ہی دن میں 70 ہزارسے زائد کیسز،اطلاعات کے مطابق امریکا اور برازیل کے بعد بھارت میں کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کرگئی۔

    عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 70 ہزارسے زائد نئے کیسز منظر عام پر آچکے ہیں۔خیال رہے کہ بھارت میں لاک ڈاؤن ختم کرکے متعدد شعبوں کو دوبارہ کھول دیا ہے۔

    بھارت میں لگا تار پانچویں دن بھی 60 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہونےکے بعد وہاں وائرس سے متاثرین کی مجموعی تعداد 30 لاکھ سے تجاوزکرگئی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور برازیل کے بعد بھارت کا نمبر آتا ہے جہاں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے.امریکا اور برازیل میں کورونا وائرس سے مجموعی طور پر بالترتیب 58 لاکھ 43 ہزار اور 35 لاکھ 83 ہزار افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

    علاوہ ازیں امریکا میں ایک لاکھ 80 ہزار جبکہ برازیل میں ایک لاکھ 14 ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔بھارتی حکام کے مطابق کورونا وائرس سے بھارت میں مزید 912 اموات کے بعد مجموعی تعداد 56 ہزار 706 ہوگئی ہے۔

    دوسری جانب بھارتی حکام سماجی فاصلہ برقرار رکھنے، ہجوم والی جگہوں پر جانے سے گریز اور سینیٹائزر کے استعمال پر زور دے رہے ہیں۔

    بھارت کے وزیر اطلاعات و نشریات پرکاش جاوڈیکر نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ایس او پیز پر عمل کرکے صعنت اور صنعتی عملے کے لیے سازگار ماحول پیداکرسکیں گے۔

    واضح رہے کہ بھارت کے دارالحکومت ممبئی کی فلم انڈسٹری پروڈیوسر، تقسیم کاروں اور اداکاروں نے کہا تھا کہ کورونا وائرس سے میں ہونے والے معاشی نقصان کے ازالے میں کم از کم دو سال لگیں گے۔

    بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مارچ میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 2 ماہ سے زیادہ طویل لاک ڈاؤن کے بعد فلم کی تیاری اور تھیٹر بند کردیے تھے۔بعدازاں بھارتی حکومت نے معیشت کی بتدریج بحالی کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی اختیار کی۔

  • پنجاب کے 3 شہروں میں پھرسے مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ

    پنجاب کے 3 شہروں میں پھرسے مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ

    لاہور:پنجاب کے 3 شہروں میں پھرسے مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ،اطلاعات کے مطابق کرونا وائرس پھيلنے کے خدشے کے باعث لاہور، راولپنڈی اور گوجرانوالہ ميں 14 روز کیلئے مائيکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرديا گيا ہے۔

    صوبائی حکومت پنجاب نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے صوبے کے 3 بڑے شہروں میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیا ہے۔ مائيکرو اسمارٹ لاک ڈائون لاہور، راول پنڈی اور گوجرانوالہ ميں لگايا گيا ہے۔ لاک ڈاؤن کا اطلاق 14 روز کیلئے ہوگا۔

    لاہور کے 12 مقامات پر مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاون نافذ رہے گا۔ اس کے تحت لاہور کی ساڑھے 19 ہزار آبادی کو لاک ڈاون کیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ لاہور کے 12 مقامات سے 28 کرونا کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔

    دوسری جانب راولپنڈی کے 3 ، گوجرانوالہ کے 2 مقامات پر مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاون نافذ کیا گیا ہے، جہاں راول پنڈی کے 947 ، گوجرانوالہ کے 53 افراد کو لاک ڈاون کیا گیا ہے۔ راول پنڈی کے 3 مقامات سے 7 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ مثبت کیسز والے گھروں کو لاک ڈاون کیا گیا۔

  • ہندوستان میں بی جے پی حکومت اورانتہاپسندہندوتنظیمیں مسلمانوں کو نسلی امتیاز اور منافرت کا نشانہ بنا رہی ہیں،اقوام متحدہ

    ہندوستان میں بی جے پی حکومت اورانتہاپسندہندوتنظیمیں مسلمانوں کو نسلی امتیاز اور منافرت کا نشانہ بنا رہی ہیں،اقوام متحدہ

    جنیوا:ہندوستان میں بی جے پی حکومت اورانتہاپسندہندوتنظیمیں مسلمانوں کو نسلی امتیاز اور منافرت کا نشانہ بنا رہی ہیں،اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نسلی امتیاز برتنے پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔

    آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینٹونیو گوتریش نے ہندوستان میں کورونا وائرس کی آڑ میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اعلی حکام کی جانب سے مسلمانوں کو نسلی امتیاز اور منافرت کا نشانہ بنانے پر متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کی حکمران جماعت اور حکومت کا حامی میڈیا مسلمانوں کو کورونا وبا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کورونا وائرس کے خوف کے نام پر طبی سہولتوں سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران انتہا پسند ہندووں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف ہونے والے اقدامات کے خلاف اس ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوا ہے۔