Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالہ سے این سی او سی میں اہم اجلاس، بڑا فیصلہ

    تعلیمی ادارے کھولنے کے حوالہ سے این سی او سی میں اہم اجلاس، بڑا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں تعلیمی اداروں کو کھولنے سے متعلق سی این او سی کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں نجی تعلیمی اداروں اورمدارس کے نمائندوں نے شرکت کی،اجلاس میں شرکاکورونا کی ملکی و عالمی سطح پرصورتحال سے آگاہ کیا گیا،شرکا کو تعلیمی ادارے کھولنے کے بعد طلبہ کو درپیش خطرات کا جائزہ لیاگیا

    وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں فیس ماسک کااستعمال اورسماجی فاصلے پرعملدرآمد چیلنج ہوگا،حتمی فیصلہ 7 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں کیا جائے گا،تعلیمی اداروں کو یونیورسٹی ، کالجز ، ہائی اسکولز کی ترتیب کے مطابق کھولا جائے گا،

    این سی او سی اجلاس میں شرکاء نے تجویز دی کہ تعلیمی اداروں کو مرحلہ وار کھولا جائے،تعلیمی اداروں کو بڑی سے چھوٹی کلاسز کی طرف مرحلہ وار کھولا جائے،پہلے یونیورسٹی پھر کالج اور بعد میں اسکول کھولے جائیں،تعلیمی اداروں میں زیادہ ہجوم والی سرگرمیوں سے گریز کیا جائے،

    این سی او سی اجلاس میں کہا گیا کہ تعلیمی ادارے کھولنے کے لیے روٹیشن پالیسی اپنائی جائے گی ،حتمی فیصلے سے پہلے تعلیمی ادارے کورونا سے نمٹنے کےلیے تمام انتظامات تیار رکھیں

    این سی او سی اجلاس میں تمام صوبائی ، آزاد جموں و کشمیر کے مرکزی نمائندوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی ماہرین ، اور تھنک ٹینکس کے ساتھ خصوصی اور طویل مشاورت کے بعد ان چیلنجوں کو سامنے لایا گیا ہے ، خاص طور پر ہم تعلیمی ادارے کھولنے کے موقع پر کون کون سے کام کرنے ہیں۔

    تعلیمی ادارے کھولنے کے حتمی فیصلے سے قبل تعلیمی اداروں کو تمام کوڈ پروٹوکول کو یقینی بنانا چاہئے اور اسی کے مطابق تیاری کرنی ہوگی۔ این سی او سی نے شرکاء کو آگاہ کیا کہ ٹریکنگ ، ٹریسنگ اور جانچ سے کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد ملے گی۔

    ڈاکٹر فیصل سلطان نے شرکاء کو بتایا کہ این سی او سی اور وزارت صحت روزانہ کی بنیاد پر بیماریوں کے اعدادوشمار کی گہرائی سے نگرانی کریں گے ، خاص طور پر تعلیمی اداروں کے افتتاح پر بھی خیال رکھا جائے گا ، آئی ٹی پر مبنی مانیٹرنگ میکنزم تیار کیا جائے تاکہ صحت کی رہنما خطوط اور کوویڈ کنٹینمنٹ اقدامات کو یقینی بنایا جاسکے۔

  • پاکستان میں کرونا سے مزید 6 اموات، 445 نئے مریض سامنے آ گئے

    پاکستان میں کرونا سے مزید 6 اموات، 445 نئے مریض سامنے آ گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس میں بتدریج کمی ہو رہی ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں ‌کرونا کے 445 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 6 اموات ہوئی ہیں

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 94 ہزار 638 ہوگئی ہے اور اب تک 6 ہزار 274 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں

    پاکستان میں کورونا کے ایکٹیو کیسز8ہزار803رہ گئے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 23 ہزار 441 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ملک میں کورونا سے صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 2 لاکھ 79 ہزار561 تک پہنچ گئی ہے۔

    کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار193 اور سندھ میں 2 ہزار384 اموات ہوئی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ایک ہزار248، اسلام آباد میں 175، بلوچستان میں 141، ‏گلگت بلتستان میں 65 اور آزاد کشمیر میں کورونا سے اموات کی تعداد 61 ہے۔پنجاب میں کورونا کے 96 ہزار 540 کیسز سامنے آئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں 35 ہزار893، بلوچستان میں 12 ہزار721، اسلام آباد میں 15 ہزار562، آزادکشمیر میں 2272 اور گلگت بلتستان میں کورونا کے2ہزار773 مریض سامنے آئے ہیں

    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں اب تک کورونا کے 25 لاکھ 35 ہزار778 ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔ سپتالوں میں 114 مریض وینٹی لیٹرپر ہیں اور اسپتالوں میں کوروناوینٹی لیٹرزکی تعداد 1920 ہے۔ 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کےلیے سہولیات ہیں اور اس وقت ایک ہزار 76 مریض اسپتالوں میں داخل ہیں

  • عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث امریکہ میں بھی بند سینما ہالز کھل گئے

    عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث امریکہ میں بھی بند سینما ہالز کھل گئے

    گذشتہ برس دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والی کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے رواں برس مارچ سے دنیا کے متعدد ممالک میں لاک ڈاؤن نافذ تھا سیاسی ثقافتی اور شوبز ،تعلیمی اور مذہبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ تفریحی مقامات اور سینما پاؤسز پے بھی پابندی عائد تھی-

    باغی ٹی وی : امریکہ میں رواں برس مارچ کے آغاز میں کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد سینما ہاؤسز بند کرکے فلموں کی نمائش روک دی گئی تھی جب کہ نئی فلموں کی شوٹنگ بھی بند کردی گئی تھی امریکہ میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور وہاں پر وبا سے 58 لاکھ کے قریب افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ وہاں 17 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

    اگرچہ امریکا میں کورونا کے کیسز تیزی سے آتے رہے تاہم اس کے باوجود وہاں پر انتہائی سخت لاک ڈاؤن نہیں دیکھا گیا اور کئی ریاستوں کے تفریحی اور عوامی مقامات بھی کھلے رہے۔تاہم اب امریکہ میں بند سینما بھی کُھل گئے ہیں

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ کی متعدد ریاستوں کے بڑے اور درمیانے شہروں میں سینما ہالز کھل گئے۔

    ریاست فلوریڈا، ٹیکساس اور جارجیا سمیت دیگر ریاستوں میں بھی سینما کھلے تو ہا لی وڈ تھرلر فلم ان ہنجڈ کو ریلیز کیا گیا جس نے پہلے ہی ہفتے ریکارڈ کمائی کی۔

    کورونا کے کیسز میں تھوڑی سی کمی کے بعد اگست کے وسط کے بعد سخت احتیاطی تدابیر کے ساتھ سینما ہاؤسز کھولے گئے تو امریکہ بھر کے 1800 سے زائد سینما ہاؤسز میں تھرلر فلم ان ہنج’ کو ریلیز کیا گیا۔

    ان ہنجڈ کے لئے سب سے زیادہ ٹکٹ فروخت لاس اینجلس ، سان فرانسسکو اور سیکرامنٹو کے علاوہ ڈلاس ، ہیوسٹن ، شکاگو ، اٹلانٹا اور اورلینڈو میں ملٹی اسکرین تھیٹرس سے ہوئی ہے۔

    ان ہنجڈ کی ٹیم نے ابتدائی طور پر فلم کو جہاں 1800 سینماؤں میں ریلیز کیا ہے وہیں ٹیم فلم کو آئندہ ہفتے تک مزید 2300 فلموں میں ریلیز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    اگرچہ امریکا کی چند ریاستوں میں سینما کھول دیئے گئے ہیں تاہم کیلی فورنیا، نیویارک اور نیو جرسی جیسی زیادہ سینما والی ریاستوں میں تاحال سینما بند ہیں اور خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں ستمبر کے وسط تک سینما بند رہیں گے۔

    رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں ایک ویب سائٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ امریکا کی چند ریاستوں کی طرح کینیڈا کی چند ریاستوں میں بھی سینما کھول دیے گئے۔

    کینیڈا کی بھی متعدد ریاستوں میں ایک ہزار سے زائد سینما کھول دیے گئے اور وہاں سائنسدان کی زندگی پر بنائی گئی فلم ٹیسلا ریلیز کردی گئی۔

    ہالی وڈ فلم ’ونڈر وومن 1984‘ کا دوسرا ٹریلر ریلیز کرتے ہوئے وارنر برادرز نے فلم کو…

    ہالی وڈ ایکشن تھرلر فلم ’ٹینیٹ‘ ریلیز

  • سینئرسیاستدان سرداراخترمینگل کورونا ٹیسٹ پرحیران

    سینئرسیاستدان سرداراخترمینگل کورونا ٹیسٹ پرحیران

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئرسیاستدان سرداراخترمینگل کورونا ٹیسٹ پرحیران ہو گئے

    بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل کورونا کاشکار نہیں ہوئے،کراچی یونیورسٹی کے تحت قائم لیب نے رپورٹ میں اختر مینگل اور ان کے محافظ کو کورونا پاریٹو قرار دیا گیا تھا، بعدازاں تین لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کروائے جو منفی آئے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سردار اختر مینگل نے لیبارٹری ٹیسٹ کی رپورٹ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کورونا ٹیسٹ کرایا توپازیٹوآیا،لیب رپورٹ پرحیرانگی ہوئی ہے،ایک ٹیسٹ پازیٹواور3میں منفی یہ کیسے ہو سکتاہے،

    بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل) کے سربراہ اختر مینگل چندروز قبل کورونا کا شکار ہوئے تھے لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ کراچی یونیورسٹی کے تحت قائم لیب کی رپورٹ غلط تھی اور اختر مینگل کورونا کا شکار نہیں ہوئے تھے۔ اختر مینگل نے اسلام آباد سے کراچی سفر کے بعد 19اگست کو اپنا اور اپنے محافظ کا احتیاطی تدابیر کے طور پر کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروایا جو لیب رپورٹ کے مطابق پازیٹو آیا تھا،

    اس کے بعد 20اور 21اگست کو دو مختلف لیبز سے ٹیسٹ کروائے گئے جو منفی آئے۔ مزید تسلی کے لئے 4روز بعد اختر مینگل نے لاہور کی لیب کی کراچی برانچ سے چوتھا ٹیسٹ کروایا وہ بھی منفی آنے پر تصدیق ہوگئی کہ انہیں کورونا ہوا ہی نہیں تھا جبکہ کراچی یونیورسٹی کے تحت قائم لیب کی پہلی رپورٹ غلط تھی۔

    کرونا کا خوف، بھارت میں فوج کے بعد پولیس والوں کو بھی چھٹی دے دی گئی

    کرونا لاک ڈاؤن میں بھی جرائم کم نہ ہو سکے،15 روز میں 100 افراد قتل

    کرونا وائرس سے لڑنے کی بھارتی صلاحیت جان کر مودی بھی شرمسار ہو جائے

    بھارتی فوج میں کرونا پھیل گیا،3 کیمپ سیل کر دیئے گئے

    مقبوضہ کشمیر، بھارتی فوج میں کرونا پھیل گیا، 28 اہلکار مثبت، ایک کی ہوئی ہلاکت

    قبل ازیں قومی کرکٹر محمد حفیظ کے ساتھ بھی اسی طرح کا معاملہ پیش آیا تھا، محمد حفیظ کا پہلا ٹیسٹ مثبت جبکہ دوسرا منفی آیا تھا،

    پاکستان میں جب کورونا کیسز سامنے آنا شروع ہوئے تو اس وقت 4 لیبارٹریاں تھیں,،سرکاری لیبارٹریز میں کرونا کے مریضوں کا ٹیسٹ فری کیا جا رہا ہے تا ہم سرکاری ٹیسٹ پر عوام کو اعتماد نہیں رہا، کئی کرونا کے مریضوں سے سنا گیا ہے کہ سرکاری لیبارٹری سے ٹیسٹ مثبت آیا جبکہ پرائیویٹ سے منفی آیا

    پاکستان میں کئی ایسے واقعات پیش آئے کہ ہسپتال میں مرنیوالوں کو کرونا مریض ظاہر کر کے کرونا ایس او پیز کے تحت تدفین کی گئی تا ہم بعد میں انکی کرونا رپورٹ منفی آئی

    کرونا ٹیسٹ کی غلط رپورٹ دینے پر وکیل نے بھیجا لیب کو 99 ہزار ہرجانے کا نوٹس

  • سرینگر میں 96 فیصد آبادی کاکورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ

    سرینگر میں 96 فیصد آبادی کاکورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ

    سرینگر میں 96 فیصد آبادی کاکورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ

    باغی ٹی وی : مقبوضہ کشمیر میں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر احتیاطی تدابیر کی پاسداری نہیں کی گئی تو سرینگر میں 96 فیصد لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق وادی کشمیر میں کووڈ-19 کے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہونے کے باوجود انتظامیہ نے لاک ڈاون میں کافی نرمی کی ہے جس سے لوگوں کی نقل حرکت بھی بڑھ گئی ہے۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق سرینگر کے گورنمنٹ میڈیکل کالج کے شعبہ کمیونٹی اور سوشل میڈیسن نے کووڈ کے پھیلا وکے متعلق ایک تحقیق کی ہے۔

    گزشتہ ہفتوں سے اس کالج میں ڈاکٹر کووڈ-19 کے پھیلا اور اس کے خلاف مریضوں میں مدافعت پیدا ہونے کی جانچ کر رہے ہیں۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ڈاکٹر انعام کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے احتیاطی تدابیر پر عمل کیا ہے ان لوگوں میں وائرس لاحق ہونے کا بہت کم خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر لوگ احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کریں گے تو پر 100 افراد میں 70 افراد اس وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں اور ان میں بیشتر بغیر کسی علامت کے ہوں گے، جو تشویش ناک ہے۔

  • 24 گھنٹوں کے دوران  مقبوضہ جموں و کشمیر میں کورونا سے سب سے زیادہ اموات

    24 گھنٹوں کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں کورونا سے سب سے زیادہ اموات

    24 گھنٹوں کے دوران مقبوضہ جموں و کشمیر میں کورونا سے سب سے زیادہ اموات

    سرینگر(باغی ٹی وی )مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کی وجہ سے ایک دن میں سب سے زیادہ اموات ہوئیں۔ اس دوران 21 افراد کورونا سے انتقال کر گئے۔ ان میں سے 18 کا تعلق کشمیر سے تھا۔پیر کے روز کشمیر سے صرف سات اموات کی اطلاع ملی جو کئی دنوں کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔ اس طرح جموں و کشمیر میں اموات کی کل تعداد 654 ہوگئی۔ساوتھ ایشین وائر کے مطابق ایس ایم ایچ اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ‘بمینہ سرینگر کی ایک 52 سالہ خاتون کو 20 اگست کو سانس کی تکلیف کے باعث ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اور منگل کو ان کا انتقال ہوگیا۔

    مریض نمونیا میں مبتلا تھا اور اس کی حالت تشویشناک تھی۔’اسی اسپتال میں داخل شہر کے لال چوک سے تعلق رکھنے والی ایک اور خاتون نے بھی منگل کی صبح سویرے زندگی کی بازی ہار دی۔ اسے 17 اگست کو اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔وہیں دو افراد جن کی عمر بالترتیب 52 سال اور 95 برس تھیں، ان کا بھی انتقال منگل کے روز ہوگیا۔منگل کے روز سکمز صورہ میں ایک 45 سالہ سی آر پی ایف اہلکار کو داخل کریا گیا تھا اور اس کے بعد انہیں کورونا سے متاثر پایا گیا۔ فوت ہونے والا اہلکار ضلع بڈگام کے ہمہما میں تعینات تھا۔ وہ جموں و کشمیر میں کورونا سے مرنے والے 11 ویں سکیورٹی اہلکار ہیں۔لولاب کپواڑہ کا ایک 50 سالہ شخص پیر کی رات دیر گئے ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں دم توڑ گیا جبکہ کپواڑہ سے تعلق رکھنے والی 70 سالہ خاتون بھی اسی اسپتال میں وائرل بیماری کا شکار ہوگئی۔

    پلوامہ کے شاہ آباد ترال اور اچگوزا سے تعلق رکھنے والی دو خواتین جن کی عمر 80 برس تھی، کا پیر اور منگل کی درمیانی شب ڈسٹرکٹ اسپتال پلوامہ میں انتقال ہوگیا۔ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں داخل چھترگام بڈگام سے تعلق رکھنے والی 65 سالہ خاتون، داخلہ کے دو دن بعد پیر کی رات فوت ہوگئیں۔ منگل کی صبح بڈگام کے ایک اور رہائشی جس کی عمر 65 سال ہے، کی اسی اسپتال میں موت ہوگئی۔ وہ خان صاحب کے علاقے سے تھا۔ایک ڈاکٹرنے بتایا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں گاندربل کے تین افراد کا کورونا سے انتقال ہوگیا۔ ان میں ایک 40 سال کی عمر کی خاتون بھی شامل ہے جو سکمز صورہ میں داخل تھی۔وہیں جموں میں اس دوران تین اموات کی اطلاع ملی ہے۔ ان میں جی ایم سی جموں میں داخل بخشی نگر کا ایک 53 سالہ شخص بھی شامل ہے۔

  • ملک بھر میں‌24 گھنٹے کے دوران کورونا کے 482 نئے کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں‌24 گھنٹے کے دوران کورونا کے 482 نئے کیسز رپورٹ

    ملک بھر میں‌24 گھنٹے کے دوران کورونا کےنئے 482 کیسز رپورٹ

    باغی ٹی وی :اسلام آباد: پاکستان میں عالمی وبا کورونا وائرس کے سے مزید12 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور اموات کی مجوعی تعداد6 ہزار 267 ہوگئی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کےنئے 482 کیسز رپورٹ ہوئے اور مجموعی تعداد 2 لاکھ 94 ہزار 193 تک پہنچ گئی ہے۔

    پاکستان میں 2 لاکھ 78 ہزار 939 افراد کورونا سے صحتیاب ہوچکے ہیں اور ایکٹو کیسز کی تعداد8 ہزار987 رہ گئی ہے۔گزشتہ روز ملک بھر میں کورونا کے 24 ہزار 593 ٹیسٹ کیے گئے اور مجموعی طور پر25 لاکھ 12 ہزار 337 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔

    سندھ میں کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ 28 ہزار 676 ہوگئی ہے۔ پنجاب 96 ہزار466، خیبرپختونخوا میں 35ہزار831، اسلام آباد15 ہزار546، بلوچستان 12 ہزار 664، گلگت بلتستان 2 ہزار 745 اور آزادکشمیر میں کورونا کے 2 ہزار 265 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار192 اور سندھ میں 2 ہزار373 اموات ہوئی ہیں۔ خیبر پختونخوا ایک ہزار248، اسلام آباد 175، بلوچستان 141، ‏گلگت بلتستان65 اور آزاد کشمیر میں کورونا سے اموات کی تعداد 61 ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق اس وقت ملک بھر میں کورونا مریضوں کےلیے 1920 وینٹی لیٹر ہیں اور کورونا کے 113 مریض اس وقت وینٹی لیٹر پرہیں۔ ملک بھر کے 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کےلیے سہولیات ہیں۔

    آزادکشمیر،گلگت بلتستان اور بلوچستان میں کوئی کورونا مریض وینٹی لیٹرپرنہیں۔ اس وقت ایک ہزار97 کورونا مریض ملک بھر کے اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

    گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران پنجاب میں کورونا کے 9 ہزار 908 ٹیسٹ کیے گئے۔ سندھ میں 8 ہزار 214،اسلام آباد2 ہزار 832، خیبرپختونخوا2 ہزار727، بلوچستان471، گلگت بلتستان270 اور آزادکشمیرمیں 171 کورونا ٹیسٹ کیے گئے۔

    ملک میں 132 ٹیسٹنگ لیبارٹریز کام کر رہی ہیں اور متعدد شہروں میں ٹریس، ٹیسٹ اورقرنطینہ حکمت عملی موثر طریقے سے کام رہی ہے۔حکومت کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کا گراف مسلسل نیچے آرہا ہے لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔

    پاکستان میں کورونا سے اٹھارہ مارچ کو پہلی موت رپورٹ ہوئی تھی۔ ملک میں کورونا جب عروج پر پہنچا توبیس جون کو سب سے زیادہ ایک سو تریپن اموات رپورٹ ہوئیں لیکن اب کورونا کا گراف تیزی سے نیچے آ رہا ہے۔

  • آسٹریلیا میں بھی کرونا بے قابو ہونے لگا :  کورونا کے 25 ہزار کیسز، ٹیسٹ میں کمی پر حکام کو تشویش

    آسٹریلیا میں بھی کرونا بے قابو ہونے لگا : کورونا کے 25 ہزار کیسز، ٹیسٹ میں کمی پر حکام کو تشویش

    سڈنی : آسٹریلیا میں بھی کرونا بے قابو ہونے لگا : کورونا کے 25 ہزار کیسز، ٹیسٹ میں کمی پر حکام کو تشویش،اطلاعات کے مطابق آسٹریلیا میں کووڈ-19 کے کیسز کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے، جبکہ شہریوں کی جانب سے ٹیسٹنگ سے گریز پر حکام نے تشویش کا اظہار کر دیا۔

    خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق آسٹریلیا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 151 نئے کیسز رپورٹ ہوئے اورگزشتہ روز کے مقابلے میں 121 کیسز کا اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سب سے زیادہ کیسز وکٹوریا اور نیو ساؤتھ ویلز میں سامنے آئے ہیں۔

    قبل ازیں آسٹریلیا میں رواں ماہ کے آغاز میں روزانہ 700 سے زائد کیسز رپورٹ ہورہے تھے اور پھر اس میں کمی آئی تھی لیکن حکام نے کووڈ-19 کے ٹیسٹ کے لیے شہریوں کے عدم تعاون پر تشویش کا اظہار کیا۔

    کینبرا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف نرسنگ اور مڈوائفری افسر الیسن مک ملن نے کہا کہ ‘ہم دیکھ رہے ہیں کہ ٹیسٹ کی تعداد میں کمی آرہی ہے اس لیے شہریوں سے گزارش ہے کہ اگر آپ کو علامات ہیں تو برائے مہربانی ٹیسٹ کروادیں’۔آسٹریلیا میں کورونا وائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد بڑھ کر 25 ہزار 67 ہوچکی ہے جبکہ 525 ہلاکتیں ہوئیں۔

    رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کا دوسرا بڑے شہر اور وکٹوریا کے دارالحکومت میلبورن وائرس کا مرکز ہے جہاں 6 ہفتوں کو سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے اور شہریوں کو ضروری کام کے علاوہ گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔میلبورن میں شہریوں کی نقل و حرکت محدود ہونے کے علاوہ کاروباری سرگرمیوں کو معطل کردیا گیا ہے اور رات کا کرفیو نافذ ہے۔

    آسٹریلیا کے وزیراعظم ڈینیل اینڈریوز کوشش کررہے ہیں کہ وکٹوریا میں ریاستی پارلیمنٹ سے ایمرجنسی کے نفاذ میں مزید ایک سال تک توسیع کے لیے قانون سازی ہو جس کے تحت اس دوران ایمرجنسی میں توسیع یا پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کی اجازت ہوگی۔

  • کرونا وائرس پھر سے سراٹھانے لگا: کیفے میں فیس ماسک نہ پہننے والے 56 افراد کورونا وائرس کا شکار

    کرونا وائرس پھر سے سراٹھانے لگا: کیفے میں فیس ماسک نہ پہننے والے 56 افراد کورونا وائرس کا شکار

    پاجو :کرونا وائرس پھر سے سراٹھانے لگا: کیفے میں فیس ماسک نہ پہننے والے 56 افراد کورونا وائرس سے متاثر،اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا میں نوول کورونا وائرس کے کم از کم 56 کیسز کافی کی تیاری کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر معروف کمپنی اسٹار بکس کی ایک شاخ میں سامنے آئے ہیں۔

    کورین شہر پاجو میں واقع اسٹار بکس کی شاخ میں آنے والے متعدد صارفین کووڈ 19 کا شکار ہوئے، جس کی وجہ لوگوں کا فیس ماسک کا استعمال نہ کرنا اور کیفے میں ہوا کی نکاسی کا ناقص نظام قرار پایا۔

    مقامی میڈیا کے مطابق حیران کن طور پر اس جگہ کام کرنے والا عملہ کورونا وائرس سے متاثر نہیں ہوا اور ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ عملے نے فیس ماسک کا استعمال کیا۔

    طبی حکام نے بتایا کہ کورونا وائرس کے اتنے زیادہ کیسز صرف ایک متاثرہ شخص کی وجہ سے سامنے آئے جو اس کیفے میں ایئرکنڈیشنگ سسٹم کے بالکل ساتھ بیٹھا تھا اور وہاں سے اس نے وائرس والے ذرات ہر جگہ پھیلا دیئے۔یہ وائرس لوگوں تکم میزوں اور دروازوں کے ہینڈل سمیت دیگر اشیا کی آلودہ سطح کے ذریعے بھی پہنچا۔

    کوریا سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن (کے سی ڈی سی) کے سربراہ جیونگ یون کیونگ نے بتایا ‘کیفے میں آنے والے بیشتر افراد نے ماسک نہیں پہن رکھے تھے اور بظاہر وہاں نکاسی آب کا نظام بھی ناقص تھا، حالانکہ وہاں مرطوب موسم کے باعث ایئرکنڈیشنرز کا استعمال بھی ہورہا تھا’۔

    انہوں نے مزید بتایا ‘اگر یہ وائرس ہوا میں موجود ذرات سے نہیں بھی پھیلا تو بھی منہ یا ناک سے خارج ہونے والے ذرات سے اس کے پھیلاؤ کا امکان تنگ جگہ پر ممکن ہے جبکہ یہ وائرس ہاتھوں کے رابطے میں آنے سے بھی پھیل سکتا ہے’۔

    طبی حکام کا کہنا تھا کہ وہاں کام کرنے والے 4 افراد کی شفٹ اس وبائی بیماری سے متاثر نہیں ہوئی، جس کی وجہ عملے کی جانب سے اپنے فرائض کے دوران فیس ماسک کا مسلسل استعمال ہے۔

    جنوبی کوریا نے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ کامیابی سے کورونا وائرس کی وبا کو قابو کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی، مگر حالیہ ہفتوں کے دوران وہاں کیسز کی شرح میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے۔

    کیسز کی شرح میں اضافے کے بعد حکام کی جانب سے فیس ماسک کا استعمال لازمی قرار دی اگیا جبکہ سماجی دوری کے دیگر اقدامات پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

  • کرونا سے صحتیاب ہونے والا شخص دوبارہ وائرس کا شکار:چینی ماہرین طب پریشان وحیران

    کرونا سے صحتیاب ہونے والا شخص دوبارہ وائرس کا شکار:چینی ماہرین طب پریشان وحیران

    ہانگ کانگ:کرونا سے صحتیاب ہونے والا شخص دوبارہ وائرس کا شکار:چینی ماہرین طب پریشان وحیران،اطلاعات کے مطابق چین کے زیر انتظام ملک ہانگ کانگ میں کرونا سے صحت یاب ہونے والا شہری دوبارہ وائرس کا شکار ہوگیا۔

    ہانگ کانگ کی یونیورسٹی کے محققین نے کہا کہ کو وڈ 19 سے صحت یاب ہونے والا شخص ساڑھے چار ماہ بعد دوبارہ وائرس کا شکار ہوگیا جو اس نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

    طبی جریدے کلینک انفیکشن ڈیزیز میں اشاعت کے لیے منظور ہونے والے تحقیقی پرچے میں کہا گیا ہے کہ مریض اس سے قبل صحت مند تھے، 33 سالہ شہری پہلی بار مختلف وائرس کے اقسام میں سے ایک سے متاثر تھا اور دوسری بار متاثر ہونے کے لیے بدستور علامات موجود رہیں۔

    تحقیقی مقالے کی تیاری میں شامل ایک سینئر محقق ڈاکٹر کائی وانگ ٹو کا کہنا تھا کہ ان نتائج کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ویکسین بے فائدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ویکسین سے حاصل ہونے والی قوت مدافعت قدرتی مدافعت سے مختلف ہوسکتی ہے، اس کے لیے ویکسین کے نتائج کے لیے انتظار کرنا پڑے گا کہ ویکسین کس قدر موثر ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کی ماہر وبائی امراض ماریا کا کہنا تھا کہ ہانگ کانگ کے تازہ کیس پر ایک دم سے کسی نتیجے پر پہنچنے کی ضرورت نہیں‌ ہے۔رپورٹ کے مطابق اس سے قبل چین میں بھی کرونا وائرس سے صحتیاب ہو کر اسپتالوں سے ڈسچارج ہونے والے کئی افراد دوبارہ وائرس سے متاثر ہوئے تھے۔