Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • روس نے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین بنانے کا دعویٰ کردیا

    روس نے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین بنانے کا دعویٰ کردیا

    ماسکو:روس نے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین بنانے کا دعویٰ کردیا اطلاعات کے مطابق روس کی وزارت دفاع نے کورونا وائرس سے بچاؤ کی مستند ویکسین بنانے کا دعویٰ کردیا۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق روس کی فرسٹ ماسکو اسٹیٹ میڈیکل یونیورسٹی اور مین ملٹری کلینکل برڈنکل اسپتال کی 2 ٹیموں نے کورونا ویکسین کی تیاری کے سلسلے میں پہلا فیز مکمل کرلیا ہے۔

    کورونا ویکسین کا تجربہ 18 رضاکاروں پر کیا گیا اور تمام رضا کاراب کورونا سے محفوظ ہیں جنہیں اسپتال سے بھی ڈسچارج کردیا گیا ہے۔

    کلینیکل ٹرائل پراجیکٹ پر کام کرنے والی ڈاکٹرسویٹلا کا ویڈیو بیان میں کہنا ہے کہ رضاکاروں کا امیونٹی سسٹم بہترین کام کر رہا ہے اور ان میں اینٹی باڈیز بھی بن رہی ہیں جب کہ وہ کورونا سے مکمل محفوظ ہیں۔

    روسی وزارت دفاع کے مطابق رضا کاروں کو ملٹری اسپتال میں 28 دن رکھا گیا اور ان پر ویکسین کا تجربہ کیا گیا جس میں انہیں کسی قسم کے سائیڈ ایفیکٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

    غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسپتال سے ڈسچارج ہونے والے رضا کاروں کو ویکسین لگنے کے 42 روز بعد ایک بار پھر اسپتال داخل کیا جائے گا جہاں ان کا حتمی معائنہ اور تشخیص کی جائے گی۔

    دوسری جانب روس کے حریف امریکا نے بھی رواں سال کے آخر میں کورونا ویکسین کی تیاری کی امید ظاہر کی ہے۔

    امریکا کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشیس ڈیزیزز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ سائنسدان کورونا کی دوا اور ویکسین کی تیاریوں میں مسلسل مصروف ہیں اور امید ہے کہ رواں سال کے آخر یا 2021 کے ابتداء میں مؤثر ویکسین تیار کرلی جائے گی۔

    خیال رہے کہ دسمبر 2019 میں چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس سے دنیا بھر میں اب تک 5 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ متاثرہ مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 35 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔

  • صوبائی وزیر اوقاف سہیل انور سیال نے مزارات عید الاضحی کے بعد کھولنے کی یقین دہانی کرادی

    صوبائی وزیر اوقاف سہیل انور سیال نے مزارات عید الاضحی کے بعد کھولنے کی یقین دہانی کرادی

    کراچی:صوبائی وزیر اوقاف سہیل انور سیال نے مزارات عید الاضحی کے بعد کھولنے کی یقین دہانی کرادی
    ،اطلاعات کے مطابق پاکستان سنی تحریک کے رہنماؤں فہیم الدین شیخ،محمد طیب قادر ی،محمد سلیم قادری،انجمن نوجوانان اسلام کے چیئرمین محمد سلیم عطاری،جماعت اہلسنت کے رفیق شاہ،تحریک عوام اہلسنت کے چیئرمین محمد عاطف بلو کی صوبائی وزیر اوقاف مذہبی اُمور سہیل انور سیال سے ملاقات،

    اس موقع پر فہیم الدین شیخ نے سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری کا نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور مرکز اہلسنت دورے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی،اس موقع پر ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ درگاہ عبداللہ شاہ غازی کے عرس کی تقریبات کیلئے ایس اوپیز پر عمل درآمد کیلئے مکمل انتظامات کرلئے گئے ہیں،10اگست سے سیدنا عبداللہ شاہ غازی کے عرس کی تقریبات شروع ہونگی،

    محکمہ اوقاف عرس کی تقریب کا اعلان کرئے،سیدنا عبداللہ شاہ غازی سمیت سندھ بھر کے مزارات کو فوری کھولا جائے،ان رہنماؤں کا مزید کہنا تھا کہ کاروباری مراکز،مارکیٹ،مالز کھول دیئے گئے اور ٹرانسپورٹ بھی رواں دواں ہے،2اگست سے شادی حال بھی ایس او پیز کے تحت کھولے جارہے ہیں،

    عوام اہلسنت،زائرین کا مطالبہ ہے کہ ایس او پیز کے تحت مزارات کو بھی کھولا جائے،مزارات کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے15دن کیلئے بند کئے گئے تھے آج چار ماہ کا عرصہ ہوچکا ہے ایس پیز پر عمل کرانے کیلئے ہر قسم کے تعاون کیلئے تیار ہیں، سندھ کی بڑی درگاہوں عبداللہ شاہ غازی،لعل شہباز قلندر اور شاہ عبداللطیف بھٹائی زائرین کیلئے فوری کھولا جائے،

    پاکستان سنی تحریک کے رہنماؤں نے تحریری طور پر درخواست بھی دے دی،اس موقع پر صوبائی وزیر اوقاف مذہبی اُمور سہیل انور سیال نے کہا کہ عبداللہ شاہ غازی سمیت سندھ بھر کے مزارات عید الاضحی کے بعد کھولنے کی یقین دھانی کراتے ہوئے کہا کہ مزارات اولیاء ہمیں اسلامی تعلیمات اور امن کا پیغام دیتے ہیں،مزار ات کھولنے کے حق میں ہیں،کورونا وباء پر کنٹرول پانے کیلئے حکومت سندھ نے لاک ڈاؤن کیا تھا جس کے بہتر نتائج نکلے اور آہستہ آہستہ زندگی معمول پر آرہی ہے،آخر میں ملک کی سلامتی اور کورونا وباء کے خاتمے کیلئے دعا کی گئی۔#

  • دی سٹی اسکول سسٹم  نے اپنے ملازمین  کی تنخواہوں میں کٹوتی کر دی ،ملازمین پریشان ، کوئی نہیں پرسان حال

    دی سٹی اسکول سسٹم نے اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کر دی ،ملازمین پریشان ، کوئی نہیں پرسان حال

    کراچی :دی سٹی اسکول نے اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کر دی ،ملازمین پریشان ، کوئی نہیں پرسان حال،اطلاعات کے مطابق ملک کے معروف تعلیمی ادارے دی سٹی اسکول نے کووِڈ 19 کے باعث ہونے والی مالیاتی نقصانات کے تناظر میں تنگی کا بہانہ کر کے اپنے اساتذہ سمیت دیگر اسٹاف کی تنخواہوں میں 15 سے 50 فیصد تک کمی کرنے کے ساتھ ساتھ پراویڈنٹ فنڈ اکاونٹ بھی بند کر دیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹاف کو یکم کی بجائے تنخواہیں 10 تاریخ کے بعد دی جا رہی ہیں۔ زرائع کے مطابق ان سب غیر قانونی اقدامات کی کوئی آفیشل اطّلاع نہیں دی گئی ہے۔ اساتذہ 4 ماہ سے آن-لائن کلاسز اپنے گھروں سے لے رہے ہیں اور اسکول اس اس سلسلے میں کوئی سہولت فراہم نہیں کر رہا ہے۔ اساتذہ اپنی تمام ذمہ داریاں نبھانے کے باوجود اس بارے میں عدم یقینی کا شکار رہتے ہیں کہ تنخواہ کب اور کتنی آئے گی۔

    واضع رہے کہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے ، صرف ایک ماہ کی فیس کی عدم ادئیگی یا تاخیر پر طلبہ کو کلاسز میں شامل ہونے سے روک دیا جاتا ہے۔

    متاثرہ اسٹاف، اساتذہ، والدین نے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ ، وزیر تعلیم سندھ سعید غنی سے اپیل کی ہے کہ تعلیم و تربیت جیسے مقدّس شعبہ میں ایسا غیر پیشہ ورانہ طرزِعمل اختیار کرنےوالی اسکول انتظامیہ کے خلاف تادیبی محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے ۔تاکہ اس مصیبت کی گھڑی میں اسکول ملازمین ، اساتذہ، والدین کی تکالیف کا تدارک ہوسکے ۔

  • دنیا کی طرح ہمیں بھی آن لائن ٹیچنگ سے بھرپورفائدہ اٹھانا چاہیے ، گورنربلوچستان امان اللہ خان

    دنیا کی طرح ہمیں بھی آن لائن ٹیچنگ سے بھرپورفائدہ اٹھانا چاہیے ، گورنربلوچستان امان اللہ خان

    کوئٹہ:دنیا کی طرح ہمیں بھی آن لائن ٹیچنگ سے بھرپورفائدہ اٹھانا چاہیے ، گورنربلوچستان امان اللہ خان ،اطلاعات کے مطابق گورنربلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے کہا ہے کہ دنیابھر میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے اس تیزرفتار اور ترقی یافتہ دور میں آن لائن ٹیچنگ، تعلیمی نظام کا اہم حصہ بن چکا ہے اور اسکی اہمیت اور افادیت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے. جدید سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ثمرات سے مستفید ہونے کیلئے ہمیں درس وتدریس کے اپنے روایتی طریقہ کار میں تبدیلی لانی ہوگی.

    گورنر یاسین زئی نے صوبے کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو دورافتادہ اضلاع کے طلباء وطالبات کی آن لائن کلاسز تک رسائی کو ممکن بنانے اور انکو تمام ضروری سہولیات فراہم کرنے کی خصوصی ہدایت کی تاکہ انکا قیمتی وقت ضائع نہ ہو.

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز گورنرہاوس کوئٹہ میں صوبے کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر یونیورسٹی آف بلوچستان کے وائس چانسلر ڈاکٹر شفیق الرحمن، خضدار انجنئیرنگ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ کاکڑ، بولان میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نقیب اللہ اچکزئی، یونیورسٹی آف تربت کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، لورالائی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مقصود احمد، ویمن یونیورسٹی کی قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انجم، میر چاکرخان یونیورسٹی سبی کے وائس چانسلر ڈاکٹر علی نواز مینگل، بیوٹمز یونیورسٹی کے پرو-وائس چانسلر ڈاکٹر فیصل کاکڑ اور پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان نصراللہ جان موجود تھے۔

    گورنربلوچستان نے وائس چانسلرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جدید سہولیات سے بھرپور استفادہ کرکے ہی ہم اپنے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں صحتمند ماحول کو فروغ دینے، تعلیمی معیار کو اونچا کرنے اور درس وتدریس کے طریقہ کار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں کامیاب ہو جائینگے. گورنر یاسین زئی نے کہا کہ ہم جان لیوا کروناوائرس کے باعث صوبے کی تمام سرکاری یونیورسٹیوں میں جاری آن لائن کلاسوں اور بالخصوص دورافتادہ اضلاع کے ان طلبہ کو درپیش مشکلات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں جو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کی سہولت سے محروم ہیں. اور اس ضمن میں پی ٹی اے کو بھی دورافتادہ علاقوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے.

    گورنر بلوچستان نے تمام وائس چانسلر پر زور دیا کہ وہ اپنے آئندہ ہونے والے اجلاس میں آن لائن کلاسز کے حوالے سے دورافتادہ اضلاع پر اپنی بھرپور توجہ مرکوز رکھتے ہوئے درپیش مشکلات سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کرے تاکہ تمام وائس چانسلرز صاحبان اور دیگر متعلقہ ذمہ داران کی تجاویز اور مشاورت کی روشنی میں آن لائن کلاسوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے.وائس چانسلرز اجلاس میں عالمی وبا سے پیدا ہونے والی صورتحال، انٹرنیٹ سہولت کی دستیابی اور اسٹوڈنٹس کو درپیش مشکلات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور اجلاس میں موجود شرکاء کی تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے کئے گئے.#

  • شفافیت کا واضح ثبوت : احساس کیش پروگرام کے ذریعے اب تک کتنی رقم دی گئی؟ تفصیلات جاری

    شفافیت کا واضح ثبوت : احساس کیش پروگرام کے ذریعے اب تک کتنی رقم دی گئی؟ تفصیلات جاری

    اسلام آباد:شفافیت کا واضح ثبوت : احساس کیش پروگرام کے ذریعے اب تک کتنی رقم دی گئی؟ تفصیلات جاری،اطلاعات کے مطابق احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے ذریعے اب تک تقسیم کی جانے والی رقم کی تفصیلات جاری کردی گئیں۔

    اعلامیے کے مطابق اب تک ملک بھرمیں ایک کروڑ 26 لاکھ 89 ہزار سے زائد افراد میں رقم تقسیم کی ‏جاچکی ہے جس میں 153 ارب 55 کروڑ روپے سے زائد رقم مستحقین میں تقسیم کی گئی ہے۔

    اعلامیے میں بتایا گیا ہےکہ پنجاب میں 57 لاکھ 58 ہزار سے زائد افراد میں 69 ارب 68 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے اور بلوچستان میں 6 لاکھ 36 ہزار سے زائد افراد میں 7 ارب 73 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے۔

    اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں 21 لاکھ 60 ہزار سےزائد افراد میں 26 ارب 23 کروڑ، سندھ میں 37 لاکھ 69 ہزار سے زائد افراد میں 45 ارب 46 کروڑ، آزادکشمیر میں 2 لاکھ 5 ہزار سے زائد افراد میں 2 ارب 51 کروڑ اور گلگت بلتستان میں 90 ہزار سے زائد افراد میں ایک ارب 10 کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی گئی جب کہ اسلام آباد میں 66 ہزار سے زائد افراد میں 80 کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی گئی۔

  • کرونا والنٹئرز    تحریر:محمد ثاقب، طلحہ سعید

    کرونا والنٹئرز تحریر:محمد ثاقب، طلحہ سعید

    کرونا والنٹئرز
    محمد ثاقب، طلحہ سعید

    خدمت خلق ایک عظیم کام ہے۔نجانے دنیا میں کتنے نام ہیں جو صرف اور صرف اللہ رب العزت کے بندوں کے کام آکر دنیا میں اپنا نام بھی بنا گئے اور لگے ہاتھوں آخرت کیلیے اپنا سامان بھی تیار کر گئے۔ میں نے کچھ لوگوں کی زبان سے ایک نعرہ کبھی سنا تھا "خدمت بھی عبادت ہے” ۔ آج سوچتا ہوں کہ صحیح سنا تھا ۔ وہ لوگ جو بھی تھے، صحیح ہی کہتے تھے۔ خدمت خلق بھی ایک قسم کا جہاد ہے جس میں خدام بے لوث ہوکر کام کرتے ہیں اور اکثر جان پر بھی کھیل جایا کرتے ہیں.

    کرونا کی وبا جب پاکستان آئی اور حکومتِ پاکستان نے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تو ایک عجیب فضا پیدا ہوئی۔عوام خود حیران کہ گھر بیٹھ کر کیا کریں کیا نہ کریں۔مطلب کہ عوام عمران خان کے بیان کے باوجود "گھبرائی” ہوئی تھی اور اس سب صورتحالات میں سب سے بڑا مسئلہ یہ بنا کہ کسی مریض کو ہسپتال لے جانے سے لوگ ڈرنے لگے کہ بھئی کیا پتا ہسپتال میں کوئی کورونا کا مریض آیا ہوا ہو۔ لوگوں کی یہ بات بھی اگرچہ درست تھی مگر مریض کو گھر بیٹھا کر رکھنا بھی تو کوئی عقلمندی نہیں تھی ناں۔۔۔

    میں ایک دن اپنے ایک دوست سرجن ڈاکٹر عاطف ظفر صاحب سے کسی کام کے سلسلے میں ملنے گیا۔ان سے کافی سارے معاملات پر گفتگو ہوئی۔ ان ہی دنوں کرونا وباء کی وجہ سے پنجاب میں پہلا 15 روزہ لاک ڈاؤن لگا ہوا تھا۔ کرونا اور اسکی وجہ سے درپیش مسائل پر بھی بات ہوئی۔صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ڈاکٹر عاطف ظفر صاحب نے ایک مشورہ دیا کہ آپ واٹس ایپ پر عوام کو آن-لائن علاج کی سہولت مہیا کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کام کیلیے میں بھی حاضر ہوں آپ اس تجویز پر کام کریں اور اگلی ملاقات تک اس کو فائینل کرلیں۔ میں وہاں سے نکلا اور گھر چلا گیا۔ میں اس شش و پنج میں مبتلا تھا کہ اس کا آغاز کس طرح کیا جائے اگلے روز میں نے فیس بک پر ایڈ دی کہ موجودہ کرونا کی وباء میں آپ گھر رہیں اور گھر رہ کر آن-لائن اپنا علاج معالجہ کروائیں۔لوگ جو کورونا کی وجہ سے اپنے مریض گھر رکھ کر بیٹھے ہوئے تھے انہیں یہ بات تو پسند آنی ہی تھی…. خیر اس کو بہت لوگوں نے پسند کیا اور مجھ سے رابطہ کیا ۔ ضلع کے مختلف علاقوں سے لوگوں کو گروپ میں ایڈ کیا اور اگلے دن ڈاکٹر عاطف ظفر صاحب کو گروپ بنانے کی خوشخبری دی۔

    اب مسئلہ تھا دیگر ڈاکٹرز کو گروپ میں ایڈ کرنے کا سب سے پہلے ڈاکٹر احسان مہند جو سول ہسپتال میں ریڈیالوجسٹ ہیں ،ان سے بات کی انہوں نے خوشی کا اظہار کیا اور اپنی مسسز ڈاکٹر نگینہ احسان، جو حافظ آباد کی معروف گائناکالوجسٹ ہیں ان کو بھی گروپ میں ایڈ کرنے کا کہا۔ اس گروپ کے متعلق شہر کے معرف فزیشن ڈاکٹر ثاقب ظفر صاحب سے بات ہوئی انہوں نے بھی حوصلہ دیا اور ساتھ دینے کا کہا۔پروفیسر ڈاکٹر اسعد اللہ اعجاز جو لاہور میں ماہر امراضِ معدہ و جگر ہیں ، انہوں نے بھی خوب پزیرائی کی اور ساتھ دینے کا وعدہ بھی کیا۔اب بچوں کے مسائل کے حوالے سے ڈاکٹر کی ضرورت تھی تو شہر کے معروف چائلڈ اسپیشلسٹ ڈاکٹر محمد امجد علی اور لاہور چلڈرن ہسپتال سے ڈاکٹر سعود صاحب سے بات ہوئی انہوں نے بھی اوکے کیا اس کے بعد ڈاکٹر عتیق الرحمن کنسلٹنٹ کرڈیالوجی اور ڈاکٹر فرخ الاسلام ماہر امراض ناک کان گلہ, ڈاکٹر مبشر سرفراز  آرتھوپیڈک سرجن, ڈاکٹر بلال رسول رامے نیفرالوجیسٹ لاہور, ڈاکٹر بشارت باورہ جنرل سرجن,  ڈاکٹر عنایت اللہ ماہر امراض جلد , گھرکی ٹرسٹ ہسپتال لاہور کے آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر عبداللہ شاہ صاحب ان سب سے رابطہ کیا انہوں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی اور ہم نے گروپ کا آغاز کر دیا۔ آب لوگ ٹیلی کلینک میں اپنے مریض کی بیماری کے متعلق لکھ میسج بھیج دیتے اور میں ان کے مسائل ڈاکٹرز کے گروپ( ڈاکٹر آن لائن) میں بھیج دیتا جہاں متلقہ ڈاکٹر مریض کو میڈیسن لکھ دیتے اور میں اس کا سکرین شاٹ لے کر ٹیلی کلینک جو عوام کا گروپ تھا میں بھیج دیتا یاد رہے (ٹیلی کلینک) عوام کے گروپ کا نام ہے اور (ڈاکٹر آن لائن) ڈاکٹرز کا گروپ ہے دو گروپ بنانے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ڈاکٹرز کو زیادہ تنگ نہ کریں
    پر آفرین ہے ہمارے ڈاکٹرز کے پینل پر انہوں نے اپنی مصروفیت  کے باوجود مریضوں کا فری آن-لائن چیک آپ کیا اور بہت اچھا کام کیا۔

    اس ساری صورتحال کو یاد کرتا ہوں تو دل میں خیال آتا ہے وہ لوگ جو کہتے تھے "خدمت بھی عبادت ہے” صحیح ہی کہتے تھے۔

  • ممتاز آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر یونس سومرو کورونا سے لڑتے لڑتے جان کی بازی ہار گئے

    ممتاز آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر یونس سومرو کورونا سے لڑتے لڑتے جان کی بازی ہار گئے

    کراچی :کرونا کے خلاف فرنٹ لائن پرلڑنے والا ایک مسیحاٰ قربان ہوگیا : ممتاز آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر یونس سومرو کورونا سے لڑتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑنے والے فرنٹ لائن پر کام کرنے والے ممتاز آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر یونس سومروانتقال کرگئے، ڈاکٹر یونس سومرو کو آتھو پیڈک کے شعبہ کا ماہر استاد کہا جاتا تھا۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں کورونا کے باعث ممتاز آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر یونس سومروانتقال کرگئے، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری کے مطابق ممتاز آرتھو پیڈک سرجن ڈاکٹر یونس سومرو کوویڈ 19کیخلاف فرنٹ لائن پر کام کر رہے تھے۔

    ڈاکٹر یونس سومرو سول اسپتال کراچی میں پروفیسر آف آرتھوپیڈک کے فرائض بھی انجام دے چکے تھے جبکہ ان دنوں وہ ضیاء الدین اسپتال کے شعبہ آرتھوپیڈک سے منسلک تھے اور کورونا کے باعث زیر علاج تھے۔۔

    ڈاکٹر یونس سومرو ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی سمیت صحت سے متعلق مختلف ملکی اور غیر ملکی سمپوزیم میں بھی اہم کردار ادا کرتے تھے، انھیں آتھو پیڈک کے شعبہ کا ماہر استاد کہا جاتا تھا۔

    ڈاکٹر یونس کی نمازے جنازہ آج عصر نماز کے بعد کراچی سی ویو مسجد میں ادا کی جائے گی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ڈاکٹر یونس سومرو کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے چیئر مین ڈاکٹر عمر سلطان اور مرکزی کابینہ نے دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے اہل خانہ اور ملک بھر کے ڈاکٹرز سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

    وائی ڈی اے کے مطابق ملک بھر میں اب تک سو سے زائد ڈاکٹرز کوویڈ 19کیخلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کرتے ہوئے شہید ہوچکے ہیں۔

    اس سے قبل کرونا وائرس کا شکار نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان کے وائس چانسلر ڈاکٹر مصطفیٰ کمال پاشا بھی انتقال کر گئے تھے ، ڈاکٹر مصطفیٰ کمال پاشا کو تین دن قبل سانس لینے میں شدید تکلیف ہوئی، جس کے بعد انکو وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا لیکن پھیپھڑوں سے خون رِسنے کے باعث وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔

    مرحوم کی نماز جنازہ بعد نماز عصر نشتر گراؤنڈ میں ادا کی جائے گی، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے نامور طبیب ڈاکٹر مصطفیٰ کمال پاشا کے انتقال پرافسوس کا اظہار کیا۔

  • پنجاب میں کورونا وائرس کے553نئے کیس، تعداد88,045 ہو گئی

    پنجاب میں کورونا وائرس کے553نئے کیس، تعداد88,045 ہو گئی

    پنجاب میں کورونا وائرس کے553نئے کیس، تعداد88,045 ہو گئی
    باغی ٹی وی : ترجمان پرائمری اینڈسکینڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ،کورونا کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے553نئے کیس، تعداد88,045 ہو گئی۔

    لاہورمیں276،قصور3،شیخوپورہ7،راولپنڈی55،چکوال 1،جہلم1اورگوجرانوالہ میں 11کیسز رپورٹ ہوئے۔

    سیالکوٹ1،نارووال 1،گجرات7، منڈی بہاؤالدین 6، ملتان 17،وہاڑی3، فیصل آباد33،چنیوٹ 1،ٹوبہ6اور جھنگ میں 1 کیس سامنے آیا۔سرگودھا2،میانوالی2،خوشاب1،بھکر1،بہاولنگر3، بہاولپور14،لودھراں 8،ڈی جی خان16،مظفرگڑھ8،راجن پور 57،لیہ 5،ساہیوال3اوراوکاڑہ میں 3کیسز رپورٹ ہوئے.کورونا وائرس سے 17 مزید اموات، کل تعداد2043 ہو چکی ہیں۔

    اب تک611,506ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ کورونا وائرس کو شکست دینے والوں کی تعداد 64,148 ہو چکی ہے۔ عوام سے گزارش ہے کہ حفاظتی تدابیر اختیار کرکے خود کو محفوظ بنائیں۔ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کیئر

    کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوراََ1033 پر رابطہ کریں۔ہاتھوں کی صفائی میں ہی سب کی بھلائی

  • فضل دین اینڈ سنز کے ندیم ممتاز کرونا کے باعث جان کی بازی ہار گئے

    فضل دین اینڈ سنز کے ندیم ممتاز کرونا کے باعث جان کی بازی ہار گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فضل دین اینڈ سنز کے ندیم ممتاز کرونا کے باعث جان کی بازی ہار گئے

    پاکستان میں کرونا کا پھیلاؤ جاری ہے، نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے وی سی ڈاکٹر مصطفیٰ کمال پاشا کی آج کرونا سے موت ہوئی ہے وہیں فضل دین اینڈ سنز کے ندیم ممتاز بھی کرونا کے باعث جان کی بازی ہار گئے، انا للہ وانا الیہ راجعون

    ندیم ممتاز کو کرونا کی تشخیص ہوئی تھی جس کے بعد وہ مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھے تاہم آج انکی موت ہو گئی ہے، وہ کرونا کو شکست نہ دے سکے، ندیم ممتاز کی وفات پر باغی ٹی وی سمیت انکے دوستوں نے اہلخانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے

    ندیم ممتاز کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سالگرہ کے روز ہمیں چھوڑ گئے، انکا مسکراتا چہرہ ہمیں ہمیشہ یاد رہے گا ، انکی یادوں کو نہیں بھلایا جا سکتا

    پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے ،گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے 67 اموات 2ہزار 165نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

    بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

    مفتی عبدالقوی کا نیا چیلنج، دیکھیے خصوصی انٹرویو مبشر لقمان کے ہمراہ

    خبردار،آ ئندہ 30 دن سخت احتیاط کریں ، کرونا شدت پکڑ رہا ہے، نقصان کی صورت میں ذمہ دار آپ خود ہونگے

    لاہور کا کوئی محلہ کرونا سے محفوظ نہیں، 6 لاکھ 70 ہزار مریضوں کا اندازہ، وزیراعلیٰ کو بھجوائی گئی سمری میں انکشاف

    میری خالہ نے بتایا کہ ہمسائے کے لوگ کرونا کا شکار، کوئی موت کے ڈر سے ہسپتال جانے کو تیار نہیں، گھر میں جانیں دے رہے

    وزیراعظم پرتنقید کا وقت نہیں، کرونا وائرس کا پاکستان مقابلہ کر سکتا ہے، بلاول

    کرونا وائرس، سندھ حکومت نے انتہائی اقدامات کا فیصلہ کر لیا،بین الصوبائی بارڈر ہوں گے بند

    پاکستان میں کورونا وائرس سے اب تک مجموعی طور پر 5ہزار386 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 2لاکھ 55 ہزار 769 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کرہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے 67 اموات 2ہزار 165نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

    سندھ میں ایک لاکھ 7ہزار773کورونا کیسزرپورٹ ہوئے ہیں۔ پنجاب میں 88ہزار45، خیبرپختونخوا میں 31ہزارایک،اسلام آباد میں 14 ہزار 315، بلوچستان میں 11 ہزار239، گلگت بلتستان میں ایک ہزار708 اور آزادکشمیرمیں ایک ہزار 688 کورونا مریض سامنے آئے

    پنجاب میں 2ہزار43مریض کورونا سے جاں بحق ہوئے۔ سندھ میں ایک ہزار 863، خیبرپختونخوا میں ایک ہزار114، اسلام آبادمیں155، بلوچستان میں 127، آزادکشمیر میں46 اورگلگت بلتستان میں38 افراد کرونا کی وجہ سے جان کی بازی ہار چکے ہین

  • پاکستان میں کرونا کے وار جاری،24 گھنٹوں میں مزید 67 اموات

    پاکستان میں کرونا کے وار جاری،24 گھنٹوں میں مزید 67 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے ،گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے 67 اموات 2ہزار 165نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

    پاکستان میں کورونا وائرس سے اب تک مجموعی طور پر 5ہزار386 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں اور 2لاکھ 55 ہزار 769 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں

    کرونا وائرس کے حوالہ سے بنائے گئے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے جاری کرہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے 67 اموات 2ہزار 165نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

    سندھ میں ایک لاکھ 7ہزار773کورونا کیسزرپورٹ ہوئے ہیں۔ پنجاب میں 88ہزار45، خیبرپختونخوا میں 31ہزارایک،اسلام آباد میں 14 ہزار 315، بلوچستان میں 11 ہزار239، گلگت بلتستان میں ایک ہزار708 اور آزادکشمیرمیں ایک ہزار 688 کورونا مریض سامنے آئے

    پنجاب میں 2ہزار43مریض کورونا سے جاں بحق ہوئے۔ سندھ میں ایک ہزار 863، خیبرپختونخوا میں ایک ہزار114، اسلام آبادمیں155، بلوچستان میں 127، آزادکشمیر میں46 اورگلگت بلتستان میں38 افراد کرونا کی وجہ سے جان کی بازی ہار چکے ہین

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق ملک بھرمیں کورونا کے ایکٹوکیسزکی تعداد 77 ہزار 573 ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کےدوران 21ہزار 749ٹیسٹ کیے گئے۔گزشتہ 24 گھنٹےکےدوران سندھ میں 9ہزارکوروناٹیسٹ کیے گئے پنجاب میں 7ہزار 175،خیبرپختونخوا ایک ہزار575، اسلام آباد2 ہزار 333، بلوچستان305، آزادکشمیر320 اورگلگت بلتستان میں 69 کوروناٹیسٹ کیے گئے۔

    گائے کا پیشاب پینے سے کرونا وائرس ہو گا ختم،ہندو مہاسبھا کے صدر کے علاج پر سب حیران

    بھارت میں کرونا کے 44 مریض، مندر میں بتوں کو بھی ماسک پہنا دیئے گئے

    مفتی عبدالقوی کا نیا چیلنج، دیکھیے خصوصی انٹرویو مبشر لقمان کے ہمراہ

    خبردار،آ ئندہ 30 دن سخت احتیاط کریں ، کرونا شدت پکڑ رہا ہے، نقصان کی صورت میں ذمہ دار آپ خود ہونگے

    لاہور کا کوئی محلہ کرونا سے محفوظ نہیں، 6 لاکھ 70 ہزار مریضوں کا اندازہ، وزیراعلیٰ کو بھجوائی گئی سمری میں انکشاف

    میری خالہ نے بتایا کہ ہمسائے کے لوگ کرونا کا شکار، کوئی موت کے ڈر سے ہسپتال جانے کو تیار نہیں، گھر میں جانیں دے رہے

    وزیراعظم پرتنقید کا وقت نہیں، کرونا وائرس کا پاکستان مقابلہ کر سکتا ہے، بلاول

    کرونا وائرس، سندھ حکومت نے انتہائی اقدامات کا فیصلہ کر لیا،بین الصوبائی بارڈر ہوں گے بند

    پاکستان کے 733اسپتالوں میں کورونا کی سہولیات موجودہیں۔ اس وقت 3ہزار 727 کورونا مریض اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ ملک بھرمیں کورونامریضوں کےلیےایک ہزار 825 وینٹی موجود ہیں۔ پاکستان میں کورونا سے صحت یاب افراد کی تعداد ایکٹو کیسز سے زائد ہے اور تا حال ایک لاکھ 72 ہزار 810 کورونا متاثرین صحت یاب ہوئے۔ پاکستان میں اس وقت کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد77 ہزار573 ہے۔