کرونا پولیس میں پھیل گیا، 7 افسران کی موت، پولیس میں مریضوں کی تعداد 1000 سے زیادہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے بھارت میں تباہی مچا دی، بھارت میں کرونا سے ہلاکتوں اور مریضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے
بھارت میں کرونا سے ہلاکتوں کی تعداد 2300 کے قریب پہنچ چکی ہے، بھارت میں مریضوں کی تعداد 70 ہزار سے زائد ہو چکی ہے جبکہ 22 ہزار سے زائد مریض صحتیاب ہو چکے ہیں
بھارت میں کرونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض بھارتی ریاست مہاراشٹر میں ہیں، مہاراشٹر میں پولیس اہلکاروں میں کرونا پھیل چکا ہے، مہاراشٹر میں 1007 پولیس افسران ،اہلکاروں میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے جن میں سے 113 صحتیاب ہو چکے ہیں جبکہ مہاراشٹر پولیس کے 7 افسران کرونا کی وجہ سے ہلاک بھی ہو چکے ہیں
مہاراشٹر میں کرونا کے پھیلاؤ کی وجہ سے پولیس خوف میں مبتلا ہے، لاک ڈاؤن کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے لاک ڈاؤن پر عمل کروانے کے لئے پولیس تھانوں سے باہر نہیں نکل رہی، انہیں زبردستی ڈیوٹیوں پر بھیجا جا رہا ہے، مہاراشٹر سرکار کوشش کر رہی ہےکہ پولیس کو کرونا سے بچایا جائے لیکن آئے روز پولیس میں بھی کرونا مسلسل پھیل رہا ہے
ممبئی میں بھی 250 پولیس اہلکاروں میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے،ممبئی پولیس کمشنر پرمبیر سنگھ کے مطابق پولیس اہلکاروں میں کرونا کی علامت نہیں تھی لیکن جب انکا ٹیسٹ کروایا گیا تو وہ مثبت آیا، سب اہلکاروں کو قرنطینہ کر دیا گیا ہے
ممبئی پولس نے کرونا سے بچاؤ کے لئے 55 سال سے زیادہ عمر کے سبھی ملازمین کو چھٹی دے دی ہے اور کہا ہے کہ وہ گھروں میں رہیں، 52 سال سے زیادہ عمر کے ان اہلکاروں کو بھی چھٹی دے دی گئی ہے جنھیں ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر وغیرہ کی بیماری ہے۔
بھارتی وزیراعظم مودی کے آبائی حلقہ گجرات میں احمد آباد کے علاقے رانپ میں سابرمتی سنٹرل جیل میں دو قیدیوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی جنہیں ہسپتال داخل کروا دیا گیا جیل کے باقی قیدیوں کے بھی ٹیسٹ کروائے جائیں گے.
قبل ازیں دہلی میں کرونا وائرس سے ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت ہوئی ہے جسے پولیس میں پہلی ہلاکت کہا جا رہا ہے، دہلی کے بھرت نگر تھانہ میں تعینات کانسٹیبل میں کرونا کی تشخیص ہونے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی موت ہو گئی، 31 سالہ امت دہلی میں کرونا کے ریڈ زون میں ڈیوٹی پر تعینات رہا تھا
مودی سرکار نے بھارتی شہریوں کو کرونا سے بچاؤ کی بجائے رام کے سہارے چھوڑ دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے کہا کہ مودی سرکار نے کرونا سے بچاؤ کے لئے حفاظتی انتظامات کرنے کی بجائے شہریوں کو رام کے بھروسے پر چھوڑ دیا ہے
مہاراشٹر میں کانگریس کے رہنما سچن ساونت نے اپنے بیان میں کہا کہ مودی سرکار نے کرونا کے خلاف جنگ میں ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں اور مودی سرکار نے شہریوں کو رام کے سہارے چھوڑ دیا ہے، مرکزی حکومت نے بھی تک حفاظتی انتظامات کے لئے کچھ نہیں کیا، کورونا کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹیسٹنگ کی تعداد بڑے پیمانے پر بڑھانے کی ضرورت تھی، جو بدقسمتی سے نہیں بڑھا ئی گئی۔ جتنی بڑی تعداد میں ٹیسٹ ہونا چاہیے، اتنے نہیں ہوئے۔ جس کی وجہ سے تین بار لاک ڈاون کرنے کے بعد بھی مودی حکومت اس کا بہتر استعمال کرنے میں ناکام رہی۔
کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ بھارت میں جنوری میں ہی کورونا آ گیا تھا۔ اگر فروری سے ہی مودی بیدار ہوگئے ہوتے اور منصوبہ بند ی کر کے کام کیا ہوتا تو بحران اتنا شدید نہیں ہوتا۔ لیکن مودی کو کورونا سے زیادہ ’نمستے ٹرمپ‘ زیادہ اہمیت کا حامل محسوس ہوا اسی لئے کرونا پر کوئی توجہ نہیں دی گئی
کانگریس رہنما کا مزید کہنا تھا کہکورونا کے خلاف جنگ بھارت کے 130 کروڑ عوام کے سہارے نریندرمودی نے 21 دنوں کے لاک ڈاؤن میں جیتنے کا اعلان کیا تھا، لیکن اس لاک ڈاون کے آج 48 دن گزر چکے ہیں، لیکن وہ اس جنگ کو نہیں جیت سکے ۔ مودی حکومت نے ریاستی حکومتوں کی جانب مدد کا ہاتھ تک نہیں بڑھایا۔ مہاراشٹر نے جی ایس ٹی کے 16ہزار کروڑ روپئے اور 25 ہزار کروڑ روپے کے پیکیج کا مطالبہ کیا تھا، لیکن مرکز ی حکومت نے ایک پھوٹی کوڑی تک نہیں دی۔
کانگریس رہنما کا مزید کہنا تھا کہ طبی سازوسامان کی فراہمی بھی نہیں کی گئی، مالی امداد بھی ریاستوں کی نہیں کی گئی، مودی سرکار نے ریاستی حکومتوں کی مدد کرنے میں ہاتھ کھڑے کر دیئے اور بھارتیوں کو کرونا سے مرنے کے لئے رام سہارے چھوڑ دیا،
کرونا سے بیٹے کی موت کے چار روز بعد باپ بھی کرونا سے چل بسا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھی کرونا پھیل چکا ہے، سری نگر میں بیٹے کی وفات کے چار روز بعد باپ بھی کرونا سے جان کی بازی ہار گیا
مقبوضہ کشمیر میں کرونا سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 10 ہو گئی ہے، متاثرہ شخص سری نگر کے عالمگیری بازار کا رہائشی تھا اور چار روز قبل اسکے بیٹے کی کرونا سے موت ہوئی تھی، اب وہ خود کرونا کے باعث جان کی بازی ہار گیا،متوفی کو کینسر کی بیماری بھی تھی اور وہ وادی کے سپر اسپیشلیٹی اہسپتال میں کچھ دن پہلے زیر علاج تھا۔
کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے ساتھ ہی انہیں سرینگر کے سی ڈی اہسپتال میں منتقل کیا گیا تھا جہاں انکی موت واقع ہوئی۔سی ڈی اہسپتال کے میڈیکل سپرانٹنڈٹ سلیم ٹاک نے کورونا وائرس سے ایک اور موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ مذکورہ شخص کینسر کے مرض میں پہلے ہی مبتلا تھا۔ رواں ماہ کی 8 تاریخ کو اسکا کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کے ساتھ ہی اسے اہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں اسکی موت واقع ہوئی۔
مقبوضہ جموں و کشمیر خاص کر وادی کشمیر میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اور اب تک اس مہلک وائرس سے جموں و کشمیر میں 10قیمتی جانیں تلف ہوئی ہیں جن میں 9کا تعلق وادی سے ہے۔
آسمان سے اہم پیغام آگیا،سمجھنے والوں کے لیے اشارہ کافی،سنیے مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ہم ایک دنیا میں سو ئے .اور پھر اچانک جب جاگے ۔ توبن بتائے ۔۔ دنیا ہی بدل چکی تھی ۔ہماری آنکھ ایک الگ دنیا میں کھلی۔سب کچھ رک سا گیا۔۔ اچانک یورپ کی امیگریشن اب کسی کا خواب نہیں رہا اور امریکہ اب سب سے طاقتور ملک نہیں رہا۔
پیرس اب رومانٹک نہیں رہا۔
نیو یارک اب دلچسپ نہیں رہا۔
چین کی دیوار اب ایک قلعہ نہیں ہے۔
مکہ اور مدینہ … نے نمازی کھو دیئے۔۔
اور تمام مساجد ویرانی ہوگئیں
گرجا گھروں اور دیگر عبادت گاہوں نے بھی اپنے دروازے بند کردیئے
مندروں میں تالے پڑ گئے ۔۔
سب موت سے گھبرائے ہوئے تھے
سب کو ایک ساتھ ہی یہ اندازہ ہوا
زمین پر انسان کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔اور یہ صرف ایک سکور بورڈ بن کر رہ گئے۔
مبشر لقمان نے کہا کہ اچانک۔ ساری جنگیں بند ہوگئیں ، قتل و غارت رک گیا۔ قاتل اور مقتول آسمان کے انصاف کے سامنے اشتہاری بن گئے ۔ ایک وائرس کی وجہ سے ۔ جسے آنکھ دیکھ بھی نہیں سکتی ،اچانک۔سکون ، ملنا جھلنا ۔۔ گلے ملنا اور بوسہ دینا ۔۔۔ خطرناک ترین ہتھیاروں میں بدل گئے ،لوگ اپنے پیاروں کے جنازوں میں شامل ہونے اور انہیں غسل دے کر قبروں میں اتارنے سے کترانے لگے۔ موت، ماتم اور تعزیت سب کچھ بدل گیا۔ انسان نے جتنی بھی ترقی کی ہے۔ اس کے باوجود ایسا بھی بھلا کبھی کہاں تھا کہ ہزاروں لوگ مر رہے ہوں اور رابطے، تعزیت اور اظہار افسوس کرنے والا پاس نہ آ سکتا ہو۔کیا ہی عجیب ہوا کہ اپنے پیاروں عزیزوں اور دوستوں سے دور رہنا ہی محبت کا اظہار بن گیا۔۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اچانک۔ ہم نے محسوس کیا کہ طاقت ، خوبصورتی ، دولت اور ہتھیاروں کی کوئی حقیقی قیمت نہیں ہے. اور یہ ہماری سب سے بڑی پریشانی بن گئی کہ اگر ہمارے اندر یہ وائرس چلا جائے تو ۔۔ ہمارے پاس وافر مقدار میں آکسیجن موجود ہو۔وینٹیلٹرز کی اہمیت ٹینکوں ، توپوں جہازوں اور آبدوزوں سے کئی گنا زیادہ بڑھ گئی ۔ زندگی کی تمام سہولتں رک گئیں ، ہوائی اڈے ، اسکول ، یونیورسٹیاں ، اسپورٹس کلب ، ریستوراں یا کیفے بند ہو گئے ۔۔ نہ ائیر پورٹس پر مسافر ہیں نہ سکولوں اور کالجوں میں بچے، بازار ویران ہو گئے۔۔ کھیل کے میدان سنسان ہو گئے۔ اچانک ہمیں احساس ہوا کہ مصروف ترین زندگی بہت زیادہ کام ، بازاروں ، شاپنگ مالز، سینما، اسپورٹس اور سماجی محفلوں کے بغیر بھی زندگی چل سکتی ہے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ جسم فروشی شراب خانے ، جوئے خانے بند ہو گئے ۔دنیا ہمارے بغیر زیادہ صاف ،خوبصورت اور پاکیزہ ہوگئی ۔ماحول بہتر ہورہا ہے ، اوزون کا سوراخ بھرنے لگا۔۔ جب ہم گھر وں میں رضا کارانہ طورپر یا خوف سے قید ہوئے تو ہرن اور جنگلی بکرے انتہائی پُر آسائش گلیوں کے گرد دوڑنے لگے ۔۔۔ جیسے انہیں ہم سے آزادی مل گئی ہو ، انسانوں کو اب احساس ہوا کہ جانور چڑیاگھر میں کیسا محسوس کرتے ہونگے؟؟۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آج کل بہت تنہائی ہے۔ وہ جن کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا تھا ۔۔ان کے پاس بھی وقت بے پناہ ہے۔ جب غصہ آتا ہے تو اس کیفیت پر غور کرنے کے لیے بھی فراغت کے کئی پل ہیں۔ پوری دنیا کو جو سوچنے اور غور کرنے کا موقع ملا ہے ۔۔۔شائد اس سے پہلے کبھی نہیں ملا۔ آسمان کا رنگ بدل چکا ہے۔۔ دھوپ اور سورج میں بہت فرق پڑ گیا ہے ،سورج زیادہ چمکدار ہو گیا ہے ۔دنیا بھر میں اربوں افراد گھروں تک محدود ہونے سے ہمارے سیارے زمین کے حرکت کرنے کے انداز پر بھی فرق پڑ رہا ہے۔ اور زمین پہلے کی نسبت بہت کم ہل رہی ہے ۔۔۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ انسانی سرگرمیاں درحقیقت پس منظر میں شور کی طرح ہیں، جس کی وجہ سے یہ سننے میں بہت دشواری ہوتی ہے کہ ہماری زمین میں قدرتی طور پر کیا ہو رہا ہے۔ اور اب ہم زمین کی آواز بھی سن سکتے ہیں۔ جو شائد کہہ رہی ہے کہ اسے بھی سکون درکارہے ۔۔۔۔اسے بھی چھٹی چاہیے اگر انسانوں کو سمجھ نہیں آئے گی تو پھر اسے چھٹی کرنا آتی ہے ،سیزر کے پیچھے ہروقت ایک شخص رہتاتھا جس کا کام ہی یہ تھا کہ جہاں سیزر خود کو ناقابل تسخیر سمجھنے لگے، یہ شخص اس کے کان میں کہے سیزر تم جتنے بھی طاقتور سہی مگر لافانی نہیں ہو۔ ہمیں قدرت نے بھی کئی بار یہ یاد دہانی کروائی ۔کبھی زلزلوں کبھی طوفانوں اور کبھی ہماری اپنی پیدا کردہ جنگوں سے ۔۔۔ مگر ہم کم ہی سنتے ہیں ۔۔۔ اور پھر سے اس دنیا میں مگن ہو جاتے ہیں ۔۔۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اس نادیدہ جرثومے کی مار جھیلنے کے بعد لگتا ہے کہ دنیا ویسی نہیں رہے گی جیسی پہلے تھی ۔ ہم نہ بھی چاہیں تو پھر بھی . پہلے جو لوگ ہانگ کانگ، سنگاپور، فرانس، اٹلی اور امریکہ کے خواب دیکھتے تھے۔اب انہیں اپنا گھر اپنا وطن محبوب اور محفوظ نظر آنے لگا۔اور ہمیں سبق یہ ملا ہے کہ امریکہ دنیا کا سب سے طاقتورملک ہرگز نہیں بلکہ سب سے زیادہ لاچار نظر آتاہے ۔ وبا نے ہماری طرز زندگی، رویوں، عادات و اطوار اور معمولات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ایک حقیر سے وائرس نے ساری دنیا کو تہ و بالا کرکے رکھ دیا ہے۔ حالانکہ دھرتی میں جنبش تک نہیں ہوئی ۔ لیکن ایک وائرس کے زلزلے سے پورا کرہ ٔ ارض لرز کر رہ گیا ہے۔ اس وبا نے سکھایا۔۔ہم فاسٹ فوڈ اور غیرضروری سرگرمیوں کے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔ ۔ہم گاڑیوں کے بغیر بھی چل سکتے ہیں۔ پلازوں ، سکائی سکریپرز۔انڈرپاسز، اوورہیڈبرجز، سڑکوں، پلوں سے زیادہ اہم اسپتالوں کی تعمیر ہے۔اور دولت کی حوس سے زیاد انسانوں کی بقا اہم ہے ۔
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پہلی بار سب انسانوں کو احساس ہوا کہ ہماری زندگی میں ہماری فیملی، ہمارے گھر والوں، والدین، بہن، بھائیوں اور بیوی بچوں کی اہمیت کس قدر زیادہ ہے۔اس وبا نے یہ بھی احساس دلایا ہے کہ حکومتیں اپنی عوام کے لیے اگر کچھ کرنا چاہیں تو کیا کچھ کرسکتی ہیں۔۔ اور انہیں کرنا کیا چاہیے ،ابھی تو کورونا نے صرف انسانی رویے، سماجی آداب، ریاستی نظام اور اقتصادی انفراسٹرکچر پر اپنے اثرات مرتب کئے ہیں، جب یہ طوفان تھمے گا تو پوری دنیا کا نقشہ بدل چکا ہوگا۔ قطع نظراس کے کہ یہ وبا قدرتی ہے یا اس کے پیچھے انسان ہے لیکن میرے خیال میں یہ آسمانوں سے ایک پیغام ہے جوہمیں کہتاہے کہ انسانوں کے بغیر زمین ، پانی ، آسمان اور ہوا سب ٹھیک ہے ۔ دنیا آپ کے بھی بغیر جاری ہے ۔ اور جب آپ زندگی میں واپس آجائیں گے تو ، کبھی بھی یہ مت بھولنا کہ آپ مہمان ہیں … آپ اس زمین کے مالک نہیں ہیں ۔آپ صرف اور صرف مہمان ہیں۔ اور اگر آپ قدرت کے ساتھ حد سے زیادہ چھیڑ چھاڑ کریں گے تو پھر قدرت کچھ بھی کر سکتی ہے
وزیراعظم اپنے نمائندوں کو اشتعال آمیز بیانات سے روکیں، رضا ہارون نے مزید کیا کہا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے رہنما رضا ہارون نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان کا انڈس اسپتال اور ڈاکٹر باری پر بلواسطہ یا بلاواسطہ کسی بھی طرح کا شک و شبہ کا اظہار کرنا انتہائی مذموم اور قابل مذمت ہے۔
رضا ہارون کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبہ کے درمیان سرد جنگ میں کراچی کے مایہ ناز اسپتال اور ڈاکٹرز کو اپنی سیاسی بیان بازی اور سازشی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وزیراعظم عمران خان ان معاملات کا فوری نوٹس لیں اور اپنے نمائندوں کو ایسے اشتعال آمیز بیانات اور بہتان تراشی سے روکیں اور خرم شیر زمام کو ہدایت کریں کہ وہ ڈاکٹر باری اور انڈس اسپتال کی انتظامیہ سے غیرمشروط معافی مانگیں۔
The integrity of @indus_hospital#Karachi and @DrAbdulBariKhan is unquestionable. An attempt to attack their reputation is disgusting & deplorable. PM @ImranKhanPTI should take urgent notice and instruct @KhurrumZamanPTI to offer unconditional apology to DrBari & IndusHospital.
— Raza Haroon رضا ہارون (@mrazaharoon) May 11, 2020
رضا ہارون کا کہنا تھا کہ سارا شہر کراچی انڈس اسپتال اور ڈاکٹر باری کی فلاحی سرگرمیوں اور انسانیت کیلئے خدمات کا اعتراف کرتا ہے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان نے کہا تھا کہ انڈس اسپتال کوبہت بڑی رقم کوروناکے نام پردی گئی،معلوم ہوا ہے انڈس اسپتال میں صرف15وینٹی لیٹرز،20بیڈزہیں،سندھ حکومت نے اسپتالوں کی ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی
19 سالہ نوجوان کا 7 ویں بار بھی کرونا ٹیسٹ مثبت،ڈاکٹر نے سر پکڑ لیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس دنیا بھر کی طرح بھارت میں بھی پھیل چکا ہے
کرونا وائرس کے مریضوں کی علامات کھانسی، بخار، سردرد وغیرہ ہیں، لیکن بھارتی گجرات کے شہر وڈودرا میں ایک ایسا مریض سامنے آیا جس میں کرونا کی کوئی علامات نہیں پھر بھی اسکا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا جس کے بعد اسے 14 روز کے لئے قرنطینہ کر دیا گیا 14 روز بعد پھر اسکا ٹیسٹ مثبت آیا اسکے باوجود کہ اس میں کرونا کی کوئی علامت نہیں تھی.
طبی عملے کے مطابق نوجوان کا ساتھ بار کرونا کا ٹسیٹ کیا جا چکا ہے،ہر بار ڈاکٹر ٹیسٹ کرتے وقت یہ سوچتے ہیں کہ اب اسکا ٹیسٹ منفی آئے گا لیکن سات بار اسکا ٹیسٹ مثبت آ چکا ہے، اب طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا صحت مند انسانوں کے لئے بھی خطرہ بن گیا ہے
انگریزی نیوز کی ویب سائٹ ”دی پرنٹ“ کی رپورٹ کے مطابق 19 سالہ جئے پٹنی کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے بعد سے اسے آئسولیشن وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ جئے پٹنی وڈودرا کے ہائی اسپیڈ ریلوے ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا طالب علم ہے اس انسٹی ٹیوٹ کے دیگر طلبہ میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی.۔
مذکورہ نوجوان کا کہنا ہے کہ نہ تومجھے کھانسی ہے، نہ سردرد کی شکایت ہے اور نہ ہی تھکن وغیرہ کی کوئی شکایت ہے۔ میں ایک دم بہتر ہوں میں یہاں پر بالکل صحت منداور سکون سے رہ رہاہوں۔یہاں پر کمرہ کے باہر راہداری ہے جس پر وقت گزارنے کے لئے چہل قدمی کرتا رہا ہوں، قرنطینہ میں فلمیں دیکھتا ہوں، فون کا استعمال کرتا ہوں، فون پر گیمس کھیلتا ہوں۔ دن ایسے ہی گذرتے ہیں
نوجوان کا کہنا تھا کہ 12 مئی کو قرنطینہ سنٹر میں ایک ماہ مکمل ہو جائے گا، میں اپنے والدین کو تکلیف نہیں دینا چاہتا، جب تک میرا کرونا ٹیسٹ منفی نہیں آتا میں یہیں قرنطینہ مرکز میں رہوں گا،مجھے جب کبھی بھی کسی بھی وقت ڈاکٹر کی ضرورت پڑتی ہے فون کر کے ڈاکٹر کو بلالیتا ہوں۔
پٹنی کا اب 8 ویں مرتبہ ٹسٹ کیا جائے گا۔ منفی رپورٹ آنے پر انہیں گھر جانے کی اجازت دی جائے گی۔ پٹنی کے علاوہ اس کے والدین میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
ڈبل سواری پر پابندی کیخلاف صحافی کی درخواست پر عدالت نے کیا کہا ؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں موٹر سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی کے خلاف سینئرصحافی عمیرعلی انجم کی درخواست پر سماعت ہوئی
سندھ حکومت عدالتی حکمنامے کے باوجود ایس اوپی نا پیش کرسکی ،تاخیری حربوں کے باوجودسندھ ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کو جمعرات 14اپریل کونئی ایس اوپی کے ساتھ طلب کرلیا .عدالت نے سندھ حکومت کے لاک ڈاؤن میں نرمی سے متعلق 14 مئی کونئی پالیسی طلب کرلی
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بتایا جائے مارکیٹیں کھولنے اور جن چیزوں میں نرمی کی گئی ہے ان سے متعلق کیا ایس او پیز بنائی گئی ہیں؟ جواد ڈیرو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ کے کورونا سے متعلق از خود نوٹس کے بعد ملک بھر میں یونیفارم پالیسی بنائی جارہی ہے،
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکمنامے کی کاپی کہاں ہے؟ کس قسم کی یونیفارم پالیسی بنائی جا رہی ہے؟ جواد ڈیرو نے کہا کہ اس وقت میرے پاس تفصیلات تو نہیں ہے لیکن اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یکساں پالیسی ہو،
عمیرعلی انجم صحافی نے کہا کہ شہر میں تقریباً تمام مارکیٹیں کھول دی گئی ہیں ،ڈبل سواری سے متعلق جان بوجھ کر سندھ حکومت کی جانب سے تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں،
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ہم کیس میں کوئی لمبی تاریخ نہیں دے رہے، لاک ڈاؤن سے متعلق جو دستاویزات فریقین کے پاس ہیں وہ لے آئیں جائزہ لے لیتے ہیں،
سندھ میں کرونا کی سپیڈ جاری، کراچی میں اموات کی تعداد کتنی ہو گئی؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے
سندھ میں کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 200 ہوگئی، گزشتہ 24گھنٹوں میں کورونا کے11مریض انتقال کرگئے،
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ میں آج 537 کورونا کے نئے کیسز سامنے آئے ہیں ،سندھ میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد 12 ہزار سے تجاوز کر گئی ،کراچی میں کورونا کیسز کی تعداد 9 ہزار سے تجاوز کرگئی ملیر 142، وسطی 62 اور شرقی میں 61 نئے کیسز سامنے آئے،جنوبی اور کورنگی میں 58،58 اورغربی میں 51 مزید کیسز رپورٹ ہوئے،
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سکھر 22، شکارپور 19اور قمبرشہداد کوٹ میں 11 نئے کیسز ظاہر ہوئے، ٹنڈوالہ یار 8، لاڑکانہ 7، حیدرآباد، سانگھڑ اور مٹیاری میں 4،4 مزید کیسز آئے،جیکب آباد 3، سجاول 2، میرپور خاص، جامشورو اور بدین میں ایک ایک کیسز آئے،
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ آج سے کاروبا ر ایس او پی کے تحت دیئےگئے وقت کے مطابق شروع ہوا ہے،تمام کاروباری دوستوں کو بتائی گئی ایس او پی تحت کام کرنا ہے،میں خود بھی شہر کا دورہ کر کے جائزہ لوں گا،
کرونا کے دوران کس کا کردار انتہائی اہم؟ وفاقی وزیر اطلاعات نے اجلاس میں بتا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا ہے کہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے تمام وزارتوں کے پی آراوز سے گفتگو ہوئی
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے شبلی فراز کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے دوران انفارمیشن افسران کا کردار انتہائی اہم ہے،عوام میں احتیاطی تدابیر کے مؤثر ہتھیار کو اختیار کرنے کی آگاہی پیدا کرنی ہے،عوام کی صحت کا تحفظ اولین ترجیح ہے،
ویڈیو کانفرنس کے ذریعے تمام وزارتوں کے پی آراوز سے گفتگو ہوئی۔کرونا وباء کے دوران انفارمیشن افسران کا کردار انتہائی اہم ہے۔عوام کا حوصلہ بڑھانے اور ان میں احتیاطی تدابیر کے مؤثر ہتھیار کو اختیار کرنے کی آگاہی پیدا کرنی ہے۔عوام کی صحت کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ pic.twitter.com/iDdiT1ln0r
— Senator Shibli Faraz (@shiblifaraz) May 11, 2020
قبل ازیں شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ن لیگی قیادت آج اپنا بویا کاٹ رہی ہے، انہوں نے ن لیگی قیادت کو مشورہ دیا کہ بے گناہ ہیں تو فکر کس بات کی؟ سوالوں کے جواب دے دیں۔ شبلی فراز کا کہنا تھا کہ لمبی پریس کانفرنس ثبوت ہیں کہ نواز لیگ کے پاس قانونی دفاع نہیں ہے، سیاست کو کاروبار کا ذریعہ بنانے والے عوام کو مزید گمراہ نہیں کرسکتے۔
بیرون ممالک سے عید سے قبل کتنے پاکستانیوں کو واپس لایا جائیگا؟ معید یوسف نے بتا دیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی معید یوسف نے کہا ہے کہ بیرون ملک سے پاکستانیوں کو محفوظ طریقے سے لارہے ہیں
معید یوسف کا کہنا تھا کہ صوبوں کی مشاورت سے آج پالیسی میں تبدیلی آئی ہے ،بیرون ملک سے آنے والے پاکستانیوں کا فوری طور پر ٹیسٹ کیاجائے گا،عید سے پہلے زیادہ سے زیادہ پاکستانیوں کووطن واپس لایاجائے گا،ہماری نئی پالیسی سے ٹیسٹنگ لیبارٹریز پر بوجھ بڑھے گا،
معید یوسف کا مزید کہنا تھا کہ سیالکوٹ ائیر پورٹ کو بحال کررہے ہیں پاکستانیوں کو واپس وطن لانا ہے ہماری ذمہ داری ہے 22ممالک سے پاکستانیوں کو واپس لارہے ہیں ،کینیڈا،امریکہ اوردیگر یورپی ممالک سے بھی پاکستانیوں کو لانےکاارادہ ہے،
معید یوسف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانیوں کی زیادہ تعداد خلیجی ممالک میں ہے 21مئی تک 10ہزار 700سے زائد پاکستانیوں کووطن لارہے ہیں
کورونا وائرس کی بحرانی کیفیت میں بیرون ممالک محصور پاکستانی وطن واپسی کیلئے جامع، مربوط منصوبہ بندی کی گئی،مشیر قومی سلامتی، خارجہ، ایوی ایشن اور سمندر پار پاکستانی کی وزارتوں کی مشترکہ کاوش سے محنت کشوں، قیدیوں، زائرین، جاں بحق افراد کے لواحقین، زائدالمعیاد یا محدود ویزا دورانیہ والوں کی واپس کی کوشش جاری ہے
دنیا میں لاک ڈاؤن، سفری پابندیوں کے باوجود گلف ، برطانیہ، آسٹریلیا، ملائیشیا سمیت 38 ممالک سے ہزاروں پاکستانی اپنی سرزمین پر پہنچے. 21مارچ کو پروازوں کی بندش کے باوجود شروع میں پہلے ہفتے 2 ہزار، پھر بتدریج اضافے سے ہر ہفتے 6سے 7 ہزار پاکستانی بتدریج واپس لائے گئے. بین الاقوامی ہوائی اڈے بند، پروازیں معطل، پھر بھی مزید ممالک سے پاکستانی شہری لائے جا رہے ہیں.
وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی ہدایت پر بیرونِ ممالک میں پھنسے ہو ئے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لئے خصوصی اقدامات کئے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان اور خاص طور پر وزیر ِ اعظم عمران خان صورتحال کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں ،موجودہ تکلیف دہ صورتحال میں مشکلات کا شکار سمندر پار پاکستانیوں کی بھرپور امداد کا فیصلہ کیاگیا ہے۔
پی آئی اے کا عملہ موذی وائرس کے خطرے کے باوجود اس مشکل صورتحال میں صف اول کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر ہوابازی غلام سرور خان کی کوششوں سے وطن واپسی کے خواہشمند پاکستانیوں کے لئے خصوصی پروازیں چلانی ممکن ہو ئیں۔ پی آئی اے نے بیرونِ ممالک پھنسے ہو ئے پاکستانیوں کی واپسی کے لیے پاکستان نے4اپریل سے اپنی فلائٹس کا آغاز کیا ،محدود پیمانے پر اسلام آباد کو ائیر ٹریفک کے لئے کھولا گیا اور پی آئی اے پر مسافروں کی تعداد کے حوالے سے پابندیاں عائد کر دی گئیں۔