لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی، رکن اسمبلی سمیت سات افراد گرفتار
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر رکن اسمبلی سات افراد کو گرفتار کر لیا
بھارت کے یوپی کے رکن اسمبلی امن منی ترپاٹھی کو وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے حکم پر دیگر سات افراد سمیت گرفتار کیا گیا ہے۔ یوپی حکومت سے حکم ملنے کے بعد بجنور کے نجیب آباد تھانے میں امن منی ترپاٹھی کی گرفتاری کی گئی ۔ رکن اسمبلی نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی تھی،امن منی ترپاٹھی تین گاڑیوں کی اجازت لے کر لوگوں کے ساتھ اتراکھنڈ کے بدری ناتھ گئے تھے۔ پولیس نے موقع سے چار گاڑیاں برآمد کیں چوتھی گاڑی کا رکن اسمبلی کے پاس اجازت نامہ نہین تھا جس کی وجہ سے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتاری کے وقت رکن اسمبلی نے پولیس کے ساتھ بدتمیزی بھی کی، رکن اسمبلی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، پولیس نے جب انہیں جاتے ہوئے روکا تو انہوں نے بدتمیزی کی، واپسی پر پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا
پولیس کا کہنا ہے کہ رکن اسمبلی امن منی ترپاٹھی کے قافلے میں اجازت کے بغیر 12 افراد کی موجودگی پر اور پولیس کے ساتھ بدتمیزی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے
واضح رہے کہ بھارت میں 17 مئی تک لاک ڈاؤن نافذ ہے،مودی سرکار نے کرونا وائرس کی وجہ سے بھارت بھر میں لاک ڈاؤن کو مزید دو ہفتے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ 4مئی کے بعد مزید 2 ہفتے لاک ڈاؤن جاری رہے گا، جہاں خطرہ کم ہوگا، وہاں لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی جائے گی،نئے احکامات کے تحت 17 مئی تک لاک ڈاؤن لاگو رہے گا۔
بھارت کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جس نے کورونا کی وبا کے پیش نظر سخت سفری پابندیاں عائد کیں۔ 25 مارچ کوشروع ہونے والے اس لاک ڈاؤن کے بعد ملک بھر میں ٹرینوں کی آمدورفت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق لاک ڈاؤن تھری میں ٹرانسپورٹ سروس بند رہے گی، نائی کی دکانیں، بیوٹی پارلز بھی بند رہیں گے،ریل ، فضائی سروس بھی بند رہے گی ،تعلیمی ادارے، سینما ہال، سپورٹس کلب،سیاسی ومذہبی تقریبات، مذہبی مقامات سب بند رہیں گے
کورونا وائرس کے بڑھتے خطرات کے سبب دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیمیں حکومتوں کو اس خطرے کا ادراک کروانے کے لیے بھرپور زور ڈال رہی ہیں کہ جیل کے معمولات اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ جہاں ممکن ہی نہیں ہے کہ کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنا ممکن ہو تبھی ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ برطانیہ یورپ چین اور ایران سمیت اکثر ممالک میں جیل میں وائرس پھیلنے کی اطلاعات کنفرم ہوچکی ہیں اور حکومتیں مجبور ہوئیں کہ اس غیر معمولی صورتحال سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی اقدامات اٹھائے جائیں۔ بڑی تعداد میں قیدیوں کی رہائی کے اعلانات سامنے آ ئے ہیں اس سارے منظرنامے کا اثر اگر ہم پاکستان میں دیکھیں تو بلوچستان صوبے کے علاؤہ باقی صوبوں میں کچھ سنجیدگی تو دکھائی دیتی ہے لیکن بلوچستان کا معاملہ حیران کن حد تک خطرناک دکھائی دیتا ہے۔ بہ ظاہر اسکا سبب ایک محکمے کے کرپٹ افسران ہیں جو کرپشن کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ، اس موقع پر بھی اس آگ سے کھیل رہے ہیں جو خود انہیں بھی جلا سکتی ہے۔ دنیا بھر میں غور و فکر ہورہی ہے قانونی پیچیدگیوں کو دور کرنے کی تاکہ قیدیوں کو حتی الامکان ریلیف مل سکے لیکن بلوچستان میں جیل محکمے کی جانب سے پچھلے چند ماہ میں لاتعداد ایسے اقدامات اٹھائے گئے ہیں جنکا مقصد اس ریلیف کو بھی ختم کرنا ہے جو پہلے سے حاصل تھے اسکی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے کبھی کبھار حکومت ایک روپے پٹرول کی قیمت بڑھا کر بعد میں پچیس پیسے کم کرنے کا ڈھنڈورا پیٹتی ہے۔ بلوچستان میں قیدیوں کو امتحانات پاس کرنے پر معافیاں دی جاتی ہیں لیکن حال ہی میں آئی جی جیل خانہ جات کے نئے حکمنامے کے مطابق براہوی ادیب کا امتحان ختم کردیا گیا ، جو قیدی امتحانات دے چکے تھے انکی معافی منسوخ ہوگئی ۔ جبکہ اسکے علاوہ قیدیوں کے امتحانات کے رزلٹ کارڈ سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود آئی جی آفس میں پڑے ہیں اور آئی جی صرف انہی کے رزلٹ کارڈ پر سائن کررہا ہے معافی کے لیے جو رشوت دیں یا پھر جن کے پاس وزراء کی سفارش ہو۔ اس مسئلے کے سبب کویٹہ جیل میں قیدیوں نے احتجاج کیا جسکو میڈیا میں غلط تاثر دے کر انکے خلاف ظالمانہ آ پریشن کیا گیا ، انکا ضرورت کا سارا لوٹ لیا گیا ۔ کئی دہائیوں سے جیل میں یہ روٹین رہی تھی کہ قیدی اپنے خرچے پر اپنا کھانا تیار کرتے تھے جسکی وجہ جیل کی مضر صحت اور ناقص غذا تھی جو کسی طور بھی کھانے کے قابل نہ تھی۔ آپریشن میں قیدیوں کی کھانا پکانے کی سہولت ختم کردی گئی اور انہیں پابند کیا گیا کہ وہ وہی مضر صحت جیل کا ہی کھانا کھائیں۔ جبکہ جیل کے بااثر اور امیر قیدی پانچ سو اور ہزار روپے کے عوض گوشت وغیرہ منگوالیتے ہیں یہ رقم بطور لانے کی فیس ہوتی ہے علاؤہ گوشت کی قیمت کے۔ کیا اس طریقہ کار پر ایک عام آدمی جیل میں کھانے پینے کا خرچ اٹھا سکتا ہے؟ کرونا وائرس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ان افراد کے اس وائرس میں مبتلا ہونے کے چانسز زیادہ ہوتے ہیں جو جسمانی طور ہر کمزور ہوں۔ اب جیل انتظامیہ قیدیوں کی خوراک کے معاملے میں ایسی غیر انسانی پابندی لگا کر کیا قیدیوں کو جسمانی طور پر کمزور اور بیمار بنانا چاہتی ہے تاکہ وائرس پھیل سکے ؟
یہ بھی وضاحت کرتے چلیں کہ جیل محکمے کے پاس قیدیوں کی سزا میں ردوبدل کرنے کے چور راستے بہت سے ہیں ، جن قیدیوں کو جرمانہ بھی ادا کرنا ہوتا ہے انکو جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں جو سزا کاٹنی ہوتی ہے وہ بھی کٹوانے کے بعد قیدیوں کو بتاتے ہیں کہ اب آپکی سزا پوری ہوچکی ہے اب آپ جرمانہ جمع کرواؤ ۔ وہ جو جرمانہ جمع کرواتا ہے وہ جیل محکمہ کے کرپٹ افسران کی جیب میں جاتا ہے اور کاغذات میں ظاہر کیا جاتا ہے کہ قیدی نے جرمانہ جمع نہ کیا بلکہ مزید قید کاٹی۔ اس مد میں کئی دہائیوں سے حکومت پاکستان کو اربوں روپوں کا نقصان پہنچایا جاچکا ہے۔کورونا وائرس کے حوالے سے بھی جیل محکمہ نے نہ صرف غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا بلکہ بعض معاملات میں تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ انکی بھرپور کوشش ہے کہ جیل میں وائرس پھیل جائے ۔
بلوچستان کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد جیلوں کی capacity سے زیادہ نہیں ہے لیکن محکمہ کامجرمانہ کردار ہے کہ بیرکوں میں مصنوعی overcrowding کی گئی ہے۔
سینٹرل جیل مچھ میں بھی اسوقت چار بارکیں جو قدرے صاف ستھری تھیں وہاں سے قیدیوں کو نکال کر پہلے سے فل دوسری بارکوں میں ٹھونس دیا گیا حالانکہ یہ بارکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں جگہ تنگ ہے باتھ روم ٹوٹے اور گندے ہیں ۔ ان اقدامات سے بہ ظاہر یہی لگتا ہے کہ جیل حکام نے کورونا وائرس کو قطعاً سنجیدگی سے نہیں لیا۔ تاحال کوئی بھی اہلکار ماسک نہیں لگاتا ۔
باوجود بارکیں خالی ہونے کے، قیدیوں کو چند بارکوں میں ٹھونس کر رکھنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام قیدیوں کی زندگی اتنی مشکل بنانا چاہتے ہیں کہ وہ پھر چھوٹی چھوٹی سہولت کے لیے منہ مانگی رشوت دینے کو تیار ہوجائیں۔
امتحانات کی معافیاں جو کئی دہائیوں سے لگ رہی تھی اسے روکنے اور اسکے علاوہ بھی ممکنہ حکومتی اقدامات کے سبب ملنے والے ریلیف کو عملی طور پر ختم کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جیل حکام کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جیل میں قیدیوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو، کیونکہ جتنے زیادہ قیدی ہونگے اتنا ہی انہیں فنڈ زیادہ ملے گا اور خوردبرد کے مواقع بھی زیادہ ہوں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے نیب ، اور اعلی عدلیہ مذکورہ بالا معاملات کا نوٹس لے اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائے تاکہ جیلیں جنکا بنیادی مقصد قیدیوں کی اصلاح ہے عملی طور پر اصلاحی مراکز بن بھی سکیں ۔ ورنہ موجودہ حالات میں تو ایک قیدی یا تو ذہنی مریض بنے گا یا وہ منشیات کی لت میں مبتلا ہو جائے گا یا خدانخواستہ کوئی مجرم بن کر نکلے گا کیونکہ عمر قید کی سزا میں اسکا وقت ایسا گزرا ہوگا جس میں ایک ایک دن ذلت آمیز رویوں سے سامنا ہوا ہوگا ۔
دوسری طرف سنٹرل جیل ژوب
سے کچھ قیدیوں کو دور سنٹرل جیل مچھ بھیج دیا گیا جسمیں پشین۔ خانوزئی ۔ مسلم باغ ۔ قلعہ سیف اللہ ۔ لورالائی ۔سنجاوی ۔دوکی ۔ بارکھان ۔کولوں ۔رکنی اور ژوب کے قیدی شامل تھے قیدیوں کے اپنوں نے بتایا کہ سیکورٹی کی بنیاد پر ان قیدیوں کو 800 سو کلو میٹر دور سنٹرل جیل مچھ منتقل کیا گیا لیکن ایک آفیسر نے نام نا ظاہر کرنے پر بتایا کہ دراصل آئی جی جیلخانہ جات سپرنٹنڈنٹ سنٹرل جیل ژوب سے ماہانہ 50000 روپے مانگ رہا تھا جبکہ سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ قیدی کم ہے اتنی رقم میں نہیں دے سکتا
اسلئے قیدیوں کو مچھ شفٹ کیا گیا جبکہ اس وقت سنٹرل جیل ژوب کی تعداد 25/30 ہے اور جگہ 300 سو قیدیوں کی ہے
کورونا یا دیگر بیماری کیوجہ سے جاگیردار ۔امیر ۔ منسٹر کیلئے میڈیا بات کرسکتی ہے لیکن غریب کیلئے نہیں یہود نصاریٰ میں بھی یہی تھا کہ کسی شہزادے کیلئے سزا میں ترمیم کرتے اور غریب کو سزا دیتے تو آج وہ یہودی اور ہم مسلمان کیسے ؟
شراب کی دکانیں کھلنے پر خریداروں کی ایک کلومیٹر لمبی لائںیں
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں لاک ڈاؤن تھری شروع ہو چکا ہے، مودی سرکار نے لاک ڈاؤن میں توسیع کر دی ہے تا ہم شراب کی دکانیں کچھ علاقوں میں کھولنے کی اجازت دی
شراب کی دکانیں کھولنے کی اجازت ملنے پر شراب پینے والوں کے لئے عید کا سا سماں تھا، بھارت کی کئی ریاستوں میں شراب کی دکانیں کھول دی گئی ہیں، دکانوں پر سماجی فاصلے کے قانون پر عمل لازم ہے ، شراب کی دکانیں کھلتے ہی دکانوں پر لائن لگ گئی ،کئی دکانوں پر تو ایک ایک کلو میٹر لمبی لائن گاہکوں کی تھی
بھارت میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے شراب کی دکانیں بند تھیں اور تقریباً ڈیڑھ ماہ سے لوگ شراب کو ترس رہے تھے جو سٹاک گھر پر تھا وہ ختم ہو چکا تھا اسلئے دکانوں پر لمبی لائنیں لگیں، جب دکانیں کھلیں تو لوگ کئی مقامات پر دکانوں کی پوجا کرتے نظر آئے تو کہیں شہریوں نے ناریل پھوڑے اور پھر دکانداروں نے شراب بیچنے کا آغاز کیا، کئی مقامات پر دکانیں کھلنے پر تالیاں بجائی گئیں اور پھول بھی برسائے گئے
بھارت میں تقریبا گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے لاک ڈاؤن جاری ہے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے حکومت کا خزانہ خالی ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاک ڈاؤن کے تیسرے مرحلہ میں وزارت داخلہ کی جانب سے کچھ شرائط کے ساتھ کئی دکانیں کھولنے کا فیصلہ کیا سب سے اہم ہے شراب کی دکانیں کھولنے کی اجازت ملنا۔ حکومت بھی جانتی ہے کہ زیادہ تر ریاستوں میں کل خزانہ کا 15 سے 30 فیصد حصہ شراب سے آتا ہے۔
بھارتی ریاست کرناٹک کے ہاسن ضلع میں شراب بیچنے والوں نے دکان کھولنے سے پہلے باضابطہ پوجا کی۔ کرناٹک میں کنٹونمنٹ زون کو چھوڑ کر پوری ریاست میں شراب فروخت کرنے کی اجازت مل گئی ہے۔ ریاست کے ایکسائز وزیر ایچ ناگیش کا کہنا ہے کہ صرف میسور سیلس انٹرنیشنل لمیٹڈ (ایم ایس آئی ایل) اور ایم آر پی دکانوں کو صبح 9 بجے سے شام 7 بجے تک شراب کی دکان کھولنے کی اجازت ہوگی۔
بھارتی ریاست اتر پردیش کے نوئیڈا شہر میں بھی شراب کی دکانوں کے باہر صبح سویرے سے لوگوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملیں۔ جیسے ہی 10 بجے شراب کی دکان کھلی، لوگوں نے زور زور سے تالیاں بجانی شروع کر دیں۔
دہلی میں بھی شراب کی دکان کھلنے کے بعد یہی صورتحال دیکھنے کو ملی دہلی کے کئی علاقوں میں شراب فروخت کرنے کو منظوری دے دی گئی جس کی وجہ سے دکانیں کھلنے کے پہلے ہی دن لوگوں نے لمبی لمبی قطاریں لگا دیں۔ سماجی فاصلہ کی دھجیاں اڑائی گئیں جس پر پولیس ایکشن میں آئی اور شراب خریدنے والوں پر لاٹھی چارج کیا اور گرفتاریاں بھی کیں،پولیس نے کئی دکانوںکو سماجی فاصلے کے قانون پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے انہیں سیل بھی کر دیا ہے
دہلی کے کشمیری گیٹ کے علاقہ میں شراب کی دکان کے باہر زبردست رش جمع ہوا، جس کو ہٹانے کے لیے پولس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ بعد ازاں پولس نے دکان کو بند کر دیا اس طرح کے واقعات کے بعد پولس کے جوان شراب کی دکانوں کے باہر تعینات کر دیئے گئے ہیں اور دکانوں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بھارت کی بارڈر سیکورٹی فورس میں کرونا پھیل گیا، ہیڈ آفس سیل
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی بارڈر سیکورٹی فورس بی ایس ایف کے اہلکار میں کرونا کی تشخیص کے بعد ہیڈ کوارٹر کی دو منزلوں کو سیل کر دیا گیا
بی ایس ایف کے ہیڈ کوارٹر میں تعینات ایک ہیڈ کانسٹیبل میں کرونا کی تشخیص ہوئی وہ ہیڈ آفس کی دوسری منزل پر کام کرتا ہے اور آخری مرتبہ یکم مئی یعنی جمعہ کو دفتر آیا تھا۔ اس کے رابطہ میں آنے والے تمام افراد کو قرنطینہ کر دیا گیا ہے ان کے ٹیسٹ بھی کروائے جائیں گے۔ بی ایس ایف نے احتیاط کے طورپر ہیڈ آفس کی آٹھ منزلہ عمارت کی پہلی اور دوسری منزل کو سیل کردیا ہے
بی ایس ایف نے کرونا سے بچاؤ کے لئے دو روز تک ہیڈ آفس کو ببند رکھا اور اسکے بعد کھولا،اب بھی وہاں اہلکاروں کی تعداد کم کر دی ہے، صرف ضروری ڈیوٹی پر تعیناتی کی گئی ہے
بی ایس ایف کے 42 اہلکار پہلے سے ہی کورونا متاثر ہیں اور اب یہ تعداد 43 ہوگئی ہے۔ ان میں 32 جوان دہلی پولیس کے ساتھ جامع مسجد اور چاندنی محل علاقے میں تعینات تھے۔
دہلی میں سی آر پی ایف کے اہلکاروں میں کرونا وائرس کے مریض بڑھتے جا رہے ہیں، دہلی میں ڈیوٹی کرنے والے سی آر پی ایف کے 12 مزید اہلکاروں میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد سی آر پی ایف کے کرونا اہلکاروں کی تعداد 47 ہو گئی ہے
سی آر پی ایف کے ایک اہلکار کی کرونا کی وجہ سے ہلاکت بھی ہو چکی ہے،55 سالہ اہلکار صفدر جنگ ہسپتال میں ایک ہفتے سے زیر علاج تھا جہاں اس میں کرونا مثبت آیا تھا اسکی گزشتہ روز موت ہوئی ہے. کرونا سے ہلاک ہونے والا سی آر پی ایف کا اہلکار سب انسپکٹر تھا اور دہلی میں تعینات جبکہ آسام کے ضلع بارپیٹا کا رہائشی تھا
سی آر پی ایف کے اہلکاروں میں کرونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے بعد حکومت نے احتیاطی تدابیر اپنانے کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہےکہ وہ محتاط رہیں ، احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دوران ڈیوٹی سماجی فاصلے کا خیال رکھیں، ماسک پہنیں، اور ہجوم والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں.
مہاراشٹر کے ضلع ہنگولی میں بھی ریاستی ریزرو پولیس فورس کے چھ جوانوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے .جن اہلکاروں میں کرونا کی تشخیص ہوئی وہ ممبئی میں تعینات تھے.
یہ ہے بھارت، جہاں گاؤں واپس لوٹنے والے مزدور جوڑے کو بیت الخلا میں قرنطینہ کیا گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے، بھارت میں بھی کرونا سے ہلاکتوں اور اموات میں اضافہ ہو رہا ہے
بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع گونا کی تحصیل راگھوگڑھ کے دیوی پورہ گاؤں میں راج گڑھ سے واپس آنیوالے مزدور جوڑے کو اسکول کے بیت الخلا میں قرنطینہ کر دیا گیا ۔واقعے کی اطلاع جب سب ڈویژنل افسر راگھوگڑھ کو ملی تو انہوں نے فورا تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
دیوی پورہ گاؤں میں ایک مزدور جوڑے کو بیت الخلا میں قرنطینہ کیا گیا۔لاک ڈان کے سبب بھارت کی مختلف ریاستوں سے مزدوروں کی آمدورفت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح یہاں بھی کچھ مزدور راج گڑھ سے واپس آئے تھے جنہیں چیک اپ کے بعد مقامی اسکول میں قرنطینہ کیا گیا۔لیکن مقامی سرپنچ اور سکریٹری کی عدم توجہی کی وجہ سے بعض مزدوروں کو اسکول کے ٹوائلٹ میں ہی رہنا پڑ ا۔
शौचालय में भोजन करने को मजबूर, —सिंधिया के लोकसभा क्षेत्र की तस्वीर:
बीजेपी नेता सिंधिया के लोकसभा क्षेत्र गुना की ये तस्वीर है जिसमें गरीब परिवार को शौचालय में क्वारेंटाइन किया गया है।
مزدور جوڑے جب ضلع گونا کی تحصیل راگھوگڑھ کے دیوی پورہ گاں پہنچے تو چیک آپ کے بعد انہیں اسکول کے بجائے بیت الخلا میں قرنطینہ کیا گیا۔ایس ڈی ایم راگھو گڑھ کو جب اس بات کی اطلاع ملی انہوں نے فوری طور پر اان مزدورو جوڑے کو اسکول میں رکھوایا اور اس پورے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا۔
بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس واقعہ پر حکمران جماعت بی جے پی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ کانگریس نے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ "یہ گنا کی تصویر ہے جہاں ایک فیملی کو بیت الخلاء میں کوارنٹائن پر رکھا گیا ہے۔ جو لوگ ہر کسی ایشو پر سڑکوں پر اترنے کی دھمکی دیتے تھے، وہ لوگوں کی نظروں سے اتر گئے ہیں۔”
بھارتی میڈیا کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ بھیا لال سہاریا اپنی بیوی بھوری بائی اور دو بیٹوں کے ساتھ اپنے گاؤں دیوی پورہ لوٹے تھے۔ مقامی لوگوں نے انھیں تب تک گاؤں میں گھسنے دینے سے انکار کر دیا جب تک کہ اس پوری فیملی کا کورونا وائرس ٹیسٹ نہیں ہو جاتا۔ مقامی انتظامیہ نے انہیں بیت الخلا میں قرنطینہ کر دیا
ہمارے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ گئی، تاجروں نے کیا حکومت سے بڑا مطالبہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق برانڈرتھ روڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز لاہور نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ برانڈرتھ روڈ کے دکانداروں کو کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے۔حالات بہت خطرناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔مزدوروں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آن پہنچی ہے۔
ان خیالات کا اظہار لاہور پریس کلب میں برانڈرتھ روڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز کے عہدیداران نے یہ مطالبہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔پریس کانفرنس میں ایسوسی ایشنز کے سرپرست اعلیٰ حافظ کاشف حفیظ ،شیخ فیاض احمد،شیخ سرفراز احمد ،شیخ جنید اللہ،شیخ علی حفیظ،شیخ علی افضل اور شیخ اکرام الٰہی سمیت تاجروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عہدیداران کا کہنا تھا کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان کو بھی عالمی وبائی مرض کورونا سے متاثر ہے۔اس صورتحال میں حکومت نے لاک ڈاﺅن کا جو فیصلہ کیا اس سے کاروباری اور مزدور طبقے پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیںاور صورتحال دن بدن انتہائی مخدوش ہوتی جا رہی ہے۔کاروباری سرگرمیاں نہ ہونے سے گھروں میں چولہا جلانا بھی مشکل ہو گیا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ صورتحال مزید خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔چند روز قبل حکومت نے آن لائن کاروبار کی اجازت دی جبکہ تعمیراتی انڈسٹری کو کھولنے کی بھی اجازت دی گئی۔اس سے وابسطہ متعدد دکانوں کو کھول دیا گیا۔تاہم اس صورتحال میں برانڈرتھ روڈ کے ہزاروں دوکانداروں کیساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے
تاجر رہنماؤن کا کہنا تھا کہ حکومتی واضح احکامات کے باوجودآن لائن کاروبار بھی نہیں کرنے دیا جا رہا ۔حالانکہ برانڈرتھ روڈ مارکیٹ میں کنسٹرکشن ،زراعت،سینٹری سمیت دیگر آلات کی ہزاروں دوکانیں موجود ہیں جنہیں آن لائن کاروبار بھی نہیں کرنے دیا جا رہا۔مین برانڈرتھ روڈ کو چوک دالگراں سے کراﺅن اڈا تک بیرئیر لگا کر مکمل طور پر بند کر رکھا ہوا ہے۔ہمیں گوداموں سے اشیاء نکالنے کی بھی اجازت نہیں۔آن لائن آرڈر ملنے کے بعد گوداموں سے سامان نکال کر کارگو کرنے کی سہولت بھی چھین لی گئی ہے۔یہ صورتحال ہم سب کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔جس سے لاکھوں افراد بے روزگاری کا شکار ہیں۔
تاجر رہنماؤن نے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ برانڈرتھ روڈ کے تاجروں کیساتھ سوتیلی ماﺅں جیسا سلوک نہ کیا جائے۔ہم یقین دہانی کرواتے ہیں کہ اگر برانڈرتھ روڈ کے دکانداروں کو کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے تو ہم حکومت کے ایس او پیز کی مکمل پاسداری کریں گے۔خدارا ہماری حالتوں پر رحم کھایا جائے۔برانڈرتھ روڈ سے وابسطہ دکانداروں اور مزدوروں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آن پہنچی ہے۔لہذا حکومت سنجیدگی سے اس صورتحال کا جائزہ لے اور ہمیں کاروبار کی اجازت دی جائے۔
خیبر پختونخواہ میں 51 نرسوں میں کرونا کی تصدیق،ہسپتال کا گائنی سیکشن بند
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پرونشل نرسز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا نے کہا ہے کہ خیبر پختونخواہ میں اب تک 51 نرسز کرونا کا شکارہوچکی ہیں یہ تعداد کچھ زیادہ بھی ہے کیوں کہ کچھ نرسز سوشل پرابلمز کی وجہ سے اپنے آپ کو قرنطینہ کرکے اپنے نام ظاہر کرنےکےلیے تیارنہیں ۔
پرونشل نرسز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کے مطابق تمام نرسزکی حالت خطرے سےباہرہے۔کچھ کے علامات سوئیر ہیں لیکن انشاءاللہ بہت جلد وہ بھی صحت یاب ہوجائیں گے ۔تیرہ نرسزکاٹسٹ نیگیٹیو آچکےہیں اوراللہ کےفضل کرم سےوہ واپس اپنی ڈیوٹیزجائن کرچکے ہیں ۔ان میں سترفیصد 70%وہ نرسز ہیں جن کی ڈیوٹی کرونا مریضوں کے ساتھ نہیں تھی ۔ یعنی اب ہر مریض کو کرونا پازیٹیو کی طرح ڈیل کرنا ہوگا۔
پرونشل نرسز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کا کہنا ہے کہ تمام نرسز کو مکمل پروٹیکشن چاہئے ہوگا۔تمام کی سکریننگ فرض ہو چکی ہے کیوں کہ ہیلتھ ملازمین اس بیماری کی سپریڈ کا ذریعہ بن رہے ہیں ۔اوراپنےفیملییز کےساتھ ساتھ مریضوں اورسوسائٹی کےلئے ہم رسک بن رہے ہیں ۔باقی صو بوں کی طرح حکومت کو ہیلتھ ملازمین کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ابھی تک کوئی الاؤنس وغیرہ یا کچھ بھی ملازمین کے لیے نہیں کیاگیا ۔صرف تسلیاں مل رہی ہیں۔اورموت پرپیکیج کااعلان کیاجاچکاہے ۔
پرونشل نرسز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا کا مزید کہنا تھا کہ نرسنگ کمیونٹی کے حوصلے بلند ہیں اور ہمیشہ کی طرح اب بھی ملک و قوم کی خاطر ہر قربانی کے لیے تیار رہیں گے ۔مگراب حکومت کو ہیلتھ ملازمین کی بچاؤ اور حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔
قبل ازیں پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے گائنی ڈیپارٹمنٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے. ترجمان کے مطابق فیصلہ گائنی یونٹ کے 35 ڈاکٹروں, نرسوں اور دیگر سٹاف کا کورونا ٹیسٹ پازیٹیو آنے پر کیا گیا ہے. حال ہی میں کئے گئے ٹیسٹ میں گائنی ڈیپارٹمنٹ کی ایک اسسٹنٹ پروفیسر, 14 ٹی ایم اوز, تین ہاوس آفیسرز, دو ہیڈ نرسز, آیا اور سویپرز کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں.
ترجمان کے مطابق گائنی ڈیپارٹمنٹ کو بند کرنے کا فیصلہ مجبوری کے تحت کیا گیا ہے. متاثرہ عملے کو کورنٹائن کرنے کا بندوبست کر دیا گیا ہے, ان کے خاندانوں کی بھی مفت ٹیسٹ کی سہولت دیں گے. گائنی ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والے تمام عملے کی سکریننگ جاری ہے, ایسے حالات میں مریضوں کو داخل کرانا خطرناک ہوگا. ڈبلیو ایچ او گائڈلائنز کے مطابق پورے گائنی ڈیپارٹمنٹ کو ڈیس انفیکٹ کیا گیا ہے. صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں چند دنوں کے اندر گائنی ڈیپارٹمنٹ کو مریضوں کے لئے دوبارہ کھول دیں گے.
لیڈی ریڈنگ کے ترجمان نے گائنی کے مریضوں کو دوسرے قریبی ہسپتالوں سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نا گزیر ہے.
:کورونا وائرس کے سبب دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد اڑھائی لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی
باغی ٹی وی :کورونا وائرس کے سبب دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 2 لاکھ 48 ہزار 5 سو سے بڑھ گئی جبکہ 35 لاکھ 82 ہزار804 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔
دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہ افراد میں سے 11 لاکھ 60 ہزار سے زائد افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔
امریکہ میں کورنا وائرس سے مزید ایک ہزار 735 افراد موت کے منہ میں چلے گئے جس کے بعد امریکہ میں اموات کی تعداد 68 ہزار 600 سے تجاوز کر گئی ہے۔
امریکہ میں متاثرہ افراد کی تعداد 11 لاکھ 88 ہزار سے زائد ہو گئی ہے جبکہ صحتیاب ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ 78 ہزار 5 سو سے زائد ہو گئی۔
لاطینی امریکا، افریقہ اور روس میں تعداد بڑھ رہی ہے جس پر ماہرین نے خدشے کا اظہار کیا کہ مجموعی طور پر اعداد و شمار وبا کے حقیقی اثرات سے کم ہیں۔
مائیکرو بیالوجسٹ پیٹر کولیگنن کا کہنا ہے کہ ہمیں اعداد و شمار کے بارے میں محتاط رہنا ہو گا، اموات کی تعداد انفلوئنزا کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر کیسز میں علامات ہلکی ہیں اور ہر متاثرہ شخص کا ٹیسٹ نہیں ہوتا، زیادہ تر ممالک میں صرف اسپتال میں مرنے والے کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے، یعنی اب تک گھر میں اور پرائیویٹ نرسنگ ہومز میں مرنے والوں کو ریکارڈز میں شامل نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں کورونا سے ہلاکتیں 2 لاکھ 49 ہزار سے بڑھ گئیں۔
مریضوں کی تعداد 35 لاکھ 93 ہزار سے زائد ہوگئی، 11 لاکھ 66 ہزار سے زائد صحت یاب ہو چکے ہیں۔
اٹلی، اسپین، یونان، بھارت، ملائشیا اور آسٹیلیا میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کردیا گیا ہے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ دنیا کرونا وائرس سے بہت زیادہ خوفزدہ ہے کیونکہ بہت پھیل چکا ہے، کیسز اس طرح پھیلے کہ گراف ہائی اور ہائی ہوتا چلا گیا مگر ایک ملک ایسا ہے جہاں گراف بالکل سیدھی رو یعنی اوپر جانے کی بجائے سیدھا ہے ، بظاہر تو اس وبا کو روکنا نا ممکن ہے لیکن ایک ملک نے اس وبا کے آگے بند باندھ دیا
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس اوپر جاتے ہوئے گراف کو اس ملک نے روکا، کوئی بھی اس ملک کے بارے میں زیادہ بات نہیں کررہا،تائیوان یہ چین کے انتہائی قریب ملک ہے لیکن حیران کن طور پر مریض کم ہیں، 432 مریض سامنے آئے اور 6 اموات ہوئیں،اب حیران کن بات یہ ہے کہ تائیوان نے لاک ڈاؤن نہیں کیا ،سکول بھی کھلے رہے، دکانیں بھی کھلی رہیں، معیشت بھی کھلی رہی یہاں تک کہ کھیلوں کے میدان بھی بغیر شائقین کے آباد رہے،لوگوں کو سماجی فاصلے کرنا آتا ہے اور وہ کر رہے تھے
تائیوان میں شروع سے لوگ اسکے لئے کردار ادا کر رہے تھے وہ ماسک بھی پہن رہے تھے،سماجی فاصلے کے قانون پر بھی عمل پیرا تھے، تائیوان وہ پہلا ملک ہے جس نے ووہان سے پروازیں بند کیں،پہلا ملک جس نے لوگوں نے ٹیسٹ شروع کئے اور کرونا کو سیریس لیا، بہت سے ممالک تائیوان کو بحیثیت ملک تسلیم نہیں کرتے یہاں تک کہ عالمی ادارہ صحت بھی کچھ سیاسی وجوہات کی وجہ سے بحیثیت الگ ملک اسے تسلیم نہیں کرتا اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے دیگر دنیا سے مدد حاصل نہین کی اور اکیلے ہی وبا کو شکست دی
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب بہت سارے ممالک دیکھیں وہ مدد مانگ رہے ہیں، انہوں نے ایک کروڑ ستر لاکھ ماسک نہ صرف امریکہ کو دیئے بلکہ یورپ ،جاپان اور ایک چھوٹا سا جزیرہ فجی جسے کئی ممالک مانتے ہی نہیں اور وہان انسان ہیں، انکو اور دیگر ممالک کوبھی دیئے، یہ بہت ہی آسان ہے کہ ہم امید کھو دیں ایک منٹ کے لئے تائیوان کو دیکھیں کہ نہ کوئی لوکل انفیکشن ہے نہ کوئی لاک ڈاؤن ہے،یعنی زیادہ تر لوگ سیاسی بنیادوں پر آزاد ملک تسلیم نہیں کرتے اس دفعہ ہر ایک کو پوری دنیا کو وبا کے خلاف ہیرو مان لینا چاہئے کیونکہ خطرناک وائرس کے مرکز چین کے قریب ہونے کے باوجود اس کو قابو کیا، وائرس کے مرکز چینی صوبہ ہبئی کے قریب ہونے کے باوجود اقدامات کئے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اگر جنوری میں یہ وبا پھیلنا شروع ہوئی تو کچھ ماہرین نے کہا تھا کہ چین کے بعد سب سے زیادہ مریض تائیوان میں سامنے آئیں گے. اور اسکے برعکس چین میں اب تک 82 ہزار مریض سامنے آ چکے ہیں، تائیوان میں 432 کیس ہیں، تائیوان نے کرونا کی روک تھام کے لئے فوری ممکنہ اقدامات کئے تائیوان نے ہر ممکنہ کوشش کی اور پھیلنے سے قبل ہی اس پر قابو پا لیا، تائیوان نے 2003 ایک نیشنل ہیلتھ سنٹر بنایا تھا جو اگلے بحران کی تیاری تھا، یہ اعدادوشمار کو اکٹھا کرتا ہے، صحت عامہ کی کے قوانین متعارف کروانے کے ٕ علاوہ اضافی وسائل بھی مختص کرنے کا اختیار حاصل ہے،حکومت نے قومی صحت انشورنس کے اعدادوشمار کو امیگریشن آف کسٹم کے اعدادو شمار کے ساتھ مربوط کیا، فرنٹ لائن طبی عملے کو مریضوں کے ساتھ جانچ پڑتال کی اجازت دی،تائیوان کی حکومت نے ایک ایسا پلان تیار کیا اور اس میں لوگ ،کرونا سکین کے ذریعے ٹریول ،بیماری کی اطلاع بھی دیتے ہیں جس کے بعد ایک ٹیکسٹ میسج ملتا ہے، کرونا کے خطرے کے پیش نظر کم خطرے والے مسافروں کو چھوڑ سکتے ہیں اور صرف کرونا کے دو چار مسافروں پر توجی دی جاتی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تائیوان کی حکومت نے ٹیکنالوجی کے ساتھ بہت سے طریقے کرنے میں کامیاب ہوئی اور ان طریقوں سے وہ مریضوں کی مناسب دیکھ بھال بھی کر سکتے ہیں، تائیوانی حکام کو سرکاری قواعد و ضوابط پر عمل کے لئے عوام نے بہت سہارا دیا ہے، عوامی شمولیت سے ہی وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے یہ جیت ہے اس ملک اور حکومت کی، اس حکومت نے وبا کو روک دیا جس نے پوری دنیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا
لاہور ہائی کورٹ آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو گئی۔
لاہور ہائی کورٹ کی ڈائری برانچ سیل کردی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ میں کمپیوٹرائزڈ طریقہ سے کیسز کی دائر بند کردی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ میں کل سے مینیول طریقہ سے کیسز دائر ہونگے۔ متاثرہ اہلکار چیف جسٹس قاسم خان کے عملہ کے ساتھ بھی فرائض سر انجام دیتا رہا۔ چیف جسٹس قاسم خان کا اپنے تمام عملہ کو ٹیسٹ کروانے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس قاسم خان ،سئینر ترین جج جسٹس امیر بھٹی اور جسٹس علی باقر نجفی کی عدالتوں میں کل ڈس انفیکشن سپرے کروایا جائے گا۔ چیف جسٹس قاسم خان کل کیمپ آفس میں فرائض سر انجام دیں گے۔ باغی ٹی وی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جلد عملے کے تمام لوگوں کا ٹیسٹ کر لیا جائے گا۔