نئی دہلی :آزادی راس نہ آئی : پیرول پر رہا ہونے والا قیدی دوبارہ جیل پہنچ گیا، یہ مشہورقیدی ہے کون ؟،اطلاعات کے مطابق کرونا لاک ڈاؤن کے باعث پیرول پر رہا ہونے والے قیدی کو رہائی راس نہ آئی، جیل سے رہا ہوتے ہی شراب کی دکان میں چوری کے جرم میں دوبارہ جیل پہنچ گیا۔
تفصیلات کے مطابق کرونا لاک ڈاؤن کے باعث سپریم کورٹ کے حکم پر پیرول پر رہا ہونے والے شرابی قیدی کو شراب نہیں ملی تو اس نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر سرکاری شراب کی دکان کا شٹر توڑ دیا اور شراب کی کئی پیٹیاں چرالیں۔سپریم کورٹ نے کورونا وائرس کے پیش نظر متعدد قیدیوں کو پیرول پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا لیکن ایک قیدی نے جیل سے باہر آتے ہی اپنے دوست سمیر کے ساتھ مل کر گریٹر نوئیڈا کے ریلوے روڈ پر واقع سرکاری شراب کی دکان میں چوری کی واردات کر ڈالی۔
دونوں دونوں ملزمان نے دادری کے ریلوے روڈ پر واقع شراب کی سرکاری دکان کا شٹر توڑ کر شراب کی پیٹیاں اور نقد رقم چوری کی اور باآسانی فرار ہوگئے۔
اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ قیدی شراب نوشی کا عادی ہے، مخبر کی اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ملزمان کے قبضہ سے شراب کی تین پیٹیاں بند اور ایک کھلا کارٹن برآمد ہوا ہے۔اس کے علاوہ ان کے پاس سے چوری کی گئی 1435 روپے کی نقدی بھی برآمد ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ ملزم کو 30 مارچ کو ضلع جیل گوتم بدھ نگر سے پیرول پر رہا کیا گیا تھا، پولیس نے دونوں ملزمان کو گرفتار کرکے اب دوبارہ جیل بھیج دیا ہے
لندن:برطانوی وزیراعظم نے بیٹے کا نام جان بچانے والے ڈاکٹر کے نام پر رکھ دیا،اطلاعات کےمطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بیٹنے کا نام ان کی جان بچانے والے ڈاکٹر کے نام پر رکھ دیا۔بورس جانسن نے یہ اعلان آج کیا ہے اورساتھ ہی فرنٹ لائن پرلڑنے والے ڈاکٹروں کو خراج تحسین بھی پیش کیا ہے
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے جان بچانے پر منفرد انداز میں ڈاکٹرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نومولود کا نام ڈاکٹر کے نام پر رکھ دیا۔وزیراعظم نے ڈاکٹر نکلس کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے بیٹے کا نام ‘ ولفرڈلوری نکلس’ رکھا ہے۔
وزیراعظم کے بیٹے کی پہلی تصویر بھی جاری کر دی گئی ہے، پیدائش کا بعد پہلا موقع ہے کہ ‘ ولفرڈلوری نکلس’ کو منظر عام پر لایا گیا ہے۔
کورونا وائرس سے جنگ میں وزیراعظم کی جان بچانے پر بورس جانسن نے این ایچ ایس کے ڈاکٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے میٹرنٹی ٹیم کا بچے کی دیکھ بھال پر ان کی خدمات کو سراہا۔کرونا وائرس کو حال ہی میں شکست دینے والے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کے ہاں بدھ 29 اپریل کو بیٹے کی ولادت ہوئی، ماں اور بچہ دونوں کی صحت کو ڈاکٹرز نے خطرے سے باہر قرار دیا تھا۔
نیویارک:کرونا وائرس دنیا بھر میں کس طرح پھیلا؟ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بہت بڑا انکشاف کردیا ،اطلاعات کےمطابق اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے اعتراف کیا ہے کہ کرونا وائرس سےنمٹنےکیلئےعالمی سطح پر قیادت کا فقدان نظر آیا، ہرملک کی الگ پالیسی کرونا کے پھیلاؤ کی وجہ بنی ہے۔
برطانوی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ تمام ممالک کی علیحدہ حکمت عملی اور پالیسی کی وجہ سے کرونا کی وبا دنیا بھر میں پھیل گئی۔اُن کا کہنا تھا کہ وبا سے نمٹنے کے لیے جو اقدامات مل کر کرنے چاہیے تھے وہ نہیں کیے جاسکے، عالمی سطح پر قیادت کا فقدان نظر آیا، بڑے ممالک نے کرونا کو ختم کرنے کے لیے ایک دوسرے پر الزام تراشی کی انہیں چاہیے کہ مل کر کام کریں تاکہ وائرس ختم ہو۔
انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر کورونا وائرس کی روک تھام کےلیے جو کچھ ہوسکتا تھا نہیں کیا گیا، اس لیے دنیا کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اب بھی وقت ہے کہ تمام ممالک مل کر بیٹھیں اور ایک طریقہ کار وضع کریں جس میں لاک ڈاؤن کا خاتمہ، کاروبار کھولنے اور اس کی بحالی کے اقدامات شامل ہوں۔
سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ کرونا کی روک تھام کے حوالے سے عالمی ردعمل دیکھ کر افسوس ہوا، ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھنے کے بجائے غفلت کا مظاہرہ کیا۔انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ اس وقت ترقی پذیر ملکوں میں عالمی ادارے کا متبادل نہیں مل سکتا، جب تک جنوبی دنیا میں کرونا ختم نہیں ہوگا شمالی دنیا بھی خاتمے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔
جینیوا:’انسانوں میں کرونا وائرس منتقل کرنے والے جانورکون کون سے ہیں ، اہم خبرآگئی ،اطلاعات کےمطابق طبی ماہرین نے عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اُن جانوروں کی نشاندہی پر کام شروع کرے جن کے ذریعے کرونا وائرس انسانوں میں منتقل ہوا۔
اقوام متحدہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق بین الاقوامی طبی ماہرین کی ہنگامی (ایمرجنسی) کمیٹی نے ڈبلیو ایچ او کے نام مراسلہ لکھا جس میں سفارش کی گئی ہے کہ اُن جانوروں کی نشاندہی کی جائے جو کرونا وائرس کو پھیلانے یا انسانوں میں اسے منتقل کرنے کی وجہ بنے ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے حکام کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی جانب سے موصول ہونے کے بعد عالمی ادارہ صحت کے ماہرین نے اس حوالے سے کام شروع کردیا اور وہ اب اُن جانوروں کو تلاش کررہے ہیں جو کرونا وائرس کو پھیلانے کا سبب بنے۔
عالمی ادارہ صحت کے محکمہ برائے جنگلی حیات اور ایگری کلچر کے ماہرین بھی اس ضمن میں ڈبلیو ایچ او کی معاونت کررہے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈ روس نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک ٹیم نے اس حوالے سے کام شروع کردیا۔
کمیٹی نے ڈبلیو ایچ او سے یہ بھی سفارش کی کہ کرونا سے متاثرہ افراد کی نشاندہی اُس طرح سے کی جائے جیسے دنیا بھر میں انسانی آبادی کا طریقہ کار معلوم کرنے کے لیے کی جاتی ہے، ہنگامی بنیادوں پر ان باتوں کو تلاش کر کے ہم کرونا کی روک تھام میں اہم کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل دنیا کے مختلف ممالک کے ماہرین کے مختلف تحقیقات میں یہ باتیں سامنے آچکی ہے کہ کرونا وائرس چمگادڑ، کتوں، پینگولین یا دیگر ممالیہ سے پھیلا ہے۔
کرونا وائرس، امید کی کرن پیدا ہو گئی،وبا سے ملے گا جلد چھٹکارا،کیسے؟ سنیے مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک طرف تو وبا کے خلاف تیزی سے ویکسین بنانے کا عمل جاری ہے، دوسری طرف موجودہ ادویات کا کیلنکل ٹرائل بھی کیا جا رہا ہے تا کہ جلد ازجلد قیمتی جانوں کے ضیاع کو بچایا جا سکے، ویکسن کے حوالہ سے کافی تیزی آئی ہے کہ چائنہ اور یوکے کی آکسفورڈ یونیورسٹی الگ الگ اسے ستمبر میں لانچ کر رہی ہے،
ایک دوائی ریمیڈی سیور سے ابتدائی طور پر اس کے حیران کن نتائج سامنے آئے ہیں اس دوائی کے پوری دنیا میں درجنوں ٹرائل جاری ہیں یہ تشویشناک مریضوں کو بھی تیزی سے صحتیاب ہونے میں مدد دے رہی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایک نئے ٹرائل کے نتائج سامنے آئے ہیں جسے امریکی سائنسدان نے اہم پیشرفت قرار دیا ہے، اب توقع کی جا رہی ہے کہ برے معاشی حالات اور وبا کی بڑھتی ہوئی صورتحال کے بعد اب امید کی کرن سامنے آئی ہے،وبا نے اس امریکہ سمیت پوری دنیا کو بد ترین معاشی بحران میں مبتلا کر دیا ہے یہی وجہ کے دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمنی نے سب سے بڑی کساد بازاری کی پیشنگوئی کی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ امریکی ابھی تک عجیب کشمکش میں مبتلا ہیں ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ابھی بھی کہتے ہیں کہ وائرس ووہان کی لیبارٹری سے نکلا،اس نے اپنی انٹیلی جینس کی رپورٹ کو بھی مسترد کر دیا، وائیٹ ہاؤس میں ایک رپورٹر نے صدر ٹرمپ سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسی چیز دیکھی ہے جس سے مکمل یقین ہو جائے کہ وائرس ووہان سے شروع ہوا جس پر ٹرمپ نے کہا کہ ہاں میں نے دیکھا ہے لیکن انہوں نے تفصیلات فراہم نہیں کیں یہی نہیں کبھی چائنہ سے اس کا ہرجانہ لینے کا اشارہ دیتے ہیں، کبھی سعودی عرب کو دھمکی دیتے ہیں اور تو اور عالمی ادارہ صحت کی امداد بھی بند کر دی اور اس پر چائنہ کے تعلقات عامہ کے دفتر کا کردار ادا کرنے کا بھی الزام لگا دیا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وبا کی تاریکی میں امید کی کرن ، نئی بیماری کے خلاف کامیاب علاج کے کلیلنکل ٹرائل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مریضوں کو وبا کے خلاف استعمال ہونے والی دوائیوں کے مقابلے میں مریضوں نے 30 فیصد تیزی سے ریکور کیا ہے،یعنی اگر ایک وبا کا مریض عام ادویات سے دس دن میں صحتیاب ہو رہا تھا تو اس دوائی سے سات دن میں صحتیاب ہو گیا، امریکہ میں اس ٹرائل سے پہلے 115 مریضوں پر ٹرائل کیا گیا تھا جن میں سے 113 ایک ہفتے سے دس دن مین صحتیاب ہو گئے تھے، یہ ثابت ہوتا ہے کہ مریض کی جلد صحتیابی کے لئے کلیر کٹ انتہائی حوصلہ افزا مثبت اثرات ڈالتی ہے ،یہ بات امریکی صدر کے انتہائی اہم ڈاکٹر نے تحقیق کی رپورٹ آنے کے بعد کہی
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے ڈاکٹر نے اس تحقیق کو اسی کی دہائی میں ایڈز کے خلاف استعمال ہونے والی وٹروائرل سے تشبیہ دی ،ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر چند اور ادویات کا بھی آنے والے دنوں میں ٹرائل کرنے والے ہیں تا کہ اموات کی بڑھتی ہوئی شرح کو روکا جا سکے، امریکی صدر کی عالمی ادارہ صحت پر تنیقد کے حوالہ سے نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ ردعمل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، ٹرمپ نے چائنہ پر یہ بھی الزام لگا دیا ہے کہ چائنہ اس لئے کر رہا ہے کہ اسے دوبارہ صدر منتخب ہونے سے روکا جائے،چائنہ کی وزارت خارجہ نے اس سب کو وبا سے نمٹنے کے لئے درپیش مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دی اور اسوقت امریکہ میں صرف وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 67 ہزار سے زائد ہو گئی ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ آہستہ آہستہ لاک ڈاؤن میں نرمی ہو رہی ہے، فلوریڈا میں اگلے ہفتے سے چھ فٹ کے وقفے سے باہر کھانا کھایا جا سکے گا،ماہرین اس بات پر بضد ہیں کہ ویکیسن ہی دنیا کو مکمل لاک ڈاؤن سے بچا سکتی ہے، اور اس سال کسی نہ کسی طرح انسانیت لاک ڈاؤن کا شکار رہے گی، دنیا معاشی بحران سے ڈر رہی ہے اسلئے لاک ڈاؤن میں تبدیلی کرنے پر مجبور ہے، بین الاقوامی لیبر آرگنائیزیشن نے کہا ہے کہ آدھی عالمی افراد قوت تقریبا 1.6 بلین لوگ اپنی روزی روٹی سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں،اور سب سے زیادہ متاثرہ شعبوں میں اہیئر لائن انڈسٹری ہے.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ انٹر نیشنل ایئر لائن ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال مارچ کے مقابلے میں اسی دورانئے کے دوران عالمی ہوائی ٹریفک کو نصف سے زیادہ کمی کا سامنا کرنا پڑا ،طیارہ ساز کمپنیوں نے دس فیصد افرادی قوت کم کرنے کے علاوہ پیداوار میں کم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، وبا کی وجہ سے انرجی کے استعمال میں ناقابل یقین حد تک کمی ہو چکی ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز میری وزیراعظم عمران خان سے میسج پر تفصیلی بات ہوئی ،میں نے وزیراعظم عمران خان سے کہا کہ جہاں لاک ڈاؤن ہو رہا ہے وہاں خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آئے جس پر وزیراعظم عمران خان نے مجھے کہا کہ ویسٹرن کنٹریزنے بھی یہ بات کرنا شروع ہوگئی ہیں کہ لاک ڈاؤن سے معیشت کا گلا گھونٹ رہا ہے، سمارٹ لاک ڈاؤن جن علاقوں میں وائرس ہے یا جہاں پھیل رہا ہے ان کو اگر لاک ڈاؤن کر دیا جائے تو وہی اس کا حل ہے، پورے ملکوں کو اس طرح لاک ڈاؤن نہیں کیا جا سکتا اس میں سویڈن کی بڑی مثال سامنے ہے
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ خوش آئند خبر ہے کہ ٹرائل کامیاب ہو رہے ہیں، مزید اپ ڈیٹ دیتا رہوں گا
لاہور :حکومت کی جانب سے ریجنل اخبارات کے سرکاری اشتہارات بندکرنے کی مذمت کرتے ہیں ، ایمرا ،اطلاعات کے مطابق الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر محمد آصف بٹ اور ایمرا سیکرٹری سلیم شیخ و ایمرا باڈی نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے ریجنل اخبارات کے سرکاری اشتہارات بندکرنے کی شدید اور پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
ایمرا صدر محمد آصف بٹ کا کہنا تھا کہ جب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے۔ آئے روز اخبارات اور ان سے وابستہ صحافتی برادری اور ورکرزکی مشکلات میں کمی ہونے کی بجائے دن بدن اضافہ ہوتا جارہاہے۔ ریجنل اخبارات کو پہلے ہی اشتہارات کا حکومت سے 25 فیصد کوٹا ملتا تھا جو کہ ناہونے کے برابر ہے۔ اب اس کوٹے پر بھی پر کٹ لگاکر ریجنل اخبارات میں کام کرنے والے صحافتی ورکرز کے روزگار پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے لئے یہ شرم کا مقام ہے کہ انتخابات سے قبل تو روزگار دینے کے وعدے کرکے ووٹ لئے گئے تھے۔ مگر اب تو یوں لگتا ہے کہ اس حکومت نے قسم کھائی ہے کہ جس طرح ان کی اپنی کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے۔بالکل اسی طرح عوام کے لئے روزگار کا بھی خاتمہ کرکے ہی دم لینا ہے۔ خود تو حکومت نے ہروقت کشکول ہاتھ میں اٹھایا ہے اور یہ چاہتی ہے کہ عوام بھی کشکول ہاتھ میں لئے حکومت طرح دربدر مانگتی پھرے۔
ہماری وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار، وزیر اعظم عمران خان سے اپیل ہے کہ وہ ریجنل اخبارات کے اشتہارات بندکرنے کے اقدامات کانوٹس لیں۔ حکومتی فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے ریجنل اخبارات کے لئے اشتہارات نہ صرف بحال کئے جائیں بلکہ 25 فیصد کوٹے میں بھی اضافہ کیا جائے۔تاکہ ان چھوٹے اخبارات میں کام کرنے والے ورکرز بے روگار ہونے سے بچ سکیں۔
میڈیا ہاؤسز،ایڈز کے مریضوں اور حاملہ خواتین کے کرونا ٹیسٹ کروانیکا فیصلہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا ہے کہ مزدور کے مسائل کاادراک ہے- کاروبار اور صنعتوں کوکھولنے کے لئے وفاقی حکومت کو سفارشات پیش کررہے ہیں –
وزیراعلیٰ آفس میں ویڈیولنک پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بتایا کہ حکومت پنجاب وفاقی حکومت کو لاک ڈاؤن میں نرمی کے بارے میں سفارشات پیش کررہی ہے جس کا فیصلہ نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں ہوگا -وزیراعلیٰ نے بتایاکہ ہم نے وفاقی حکومت سے گزارش کی ہے کہ روڈ سیکٹراور بلڈنگ کے علاوہ کنسٹرکشن سے متعلقہ دیگر انڈسٹری کو کھولنے کی اجازت دی جائے،اسی طرح ایکسپورٹ سیکٹر سے منسلک فیڈنگ انڈسٹری کو بھی کھولنے کی سفارش کی گئی ہے-پاور لومزاورایسی تمام فیکٹریز جن کے اندر اپنی لیبر کالونیاں موجود ہیں انہیں بھی کھولنے کی درخواست کی گئی ہے-آئرن اینڈ سٹیل انڈسٹری اور ہوم اپلائسسز انڈسٹری کو کھولنے کے بارے میں سفارش کی گئی ہے –
وزیراعلیٰ نے کہاکہ صوبہ بھر کی مارکیٹوں اور بازاروں کو زونز میں تقسیم کر کے مختلف ایام میں کھولنے کے حوالے سے وفاقی حکومت کو اپنی سفارشات پیش کی گئی ہیں جن کے تحت ضلعی انتظامیہ، ا نجمن تاجران، چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مارکیٹیں اور بازار کھولنے کی اجازت کا فیصلہ کیا جائے گا-
وزیراعلیٰ نے بتایاکہ فیز۔ون میں ابتدائی طو رپر صوبے کے 6اضلاع لاہور، راولپنڈی، ملتان، گوجرانوالہ،گجرات اور فیصل آباد میں سمارٹ سیمپلنگ کا آغاز کیا جا رہاہے-سمارٹ سیمپلنگ کے تحت میڈیا ہاؤسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار، انتظامی ا فسران کے دفاتر، ہیلتھ ورکرز، ٹی بی اور ایڈ ز کے مریضوں، ہسپتالوں میں زیر علاج حاملہ خواتین اور جیلوں میں بند قیدیوں کے کورونا ٹیسٹ کئے جائیں گے اور بڑے پیمانے پر سیمپلنگ کر کے کمیونٹی میں کورونا کے پھیلاؤ کا جائزہ لیں گے – فیز-ٹو میں رینڈم سیمپلنگ کے تحت Census Block میں سیمپلنگ کی جائے گی-
عثمان بزدار نے کہاکہ پنجاب میں اس وقت 62کروڑ روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی 8 بی ایس ایل تھری لیب فنکشنل ہو چکی ہیں اور اب روزانہ 6ہزار کورونا ٹیسٹ کرسکیں گے،گزشتہ روز پنجاب حکومت نے 3700 ٹیسٹ کئے ہیں – پنجاب میں اس وقت کورونا ٹیسٹنگ کٹس،پی پی ایز کٹس او ربیڈز کی کوئی کمی نہیں – وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بتایا کہ بیرون ممالک سے متعدد فلائٹس کے ذریعے سینکڑوں پاکستانی روزانہ وطن واپس آ رہے ہیں، ہوٹلوں اور دیگر قرنطینہ مراکز میں ایس او پی کے مطابق ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے – بیرون ملک سے آنے والے دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کومتعلقہ صوبائی حکومتو ں سے رابطہ کر کے ائیرپورٹ سے ہی ان کے صوبوں میں بھیج دیا جائے گا- صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کے اضلاع میں روانہ کیا جائے گا اورانہیں 48گھنٹوں میں ٹیسٹ رپورٹ نیگیٹیو آنے کی صورت میں گھر بھیج دیا جائے گا- قرنطینہ میں رکھے گئے بیرون ملک سے آئے پاکستانیوں کی شکایت پر انکوائری کاحکم دیا جاچکاہے اس سلسلے میں حکومت پنجاب نے ایس او پی تشکیل دئیے ہیں جن پر عملدرآمد یقینی بنانے کے بعد گھروں میں بھی قرنطینہ کی ا جازت دی جائے گی اور اس ضمن میں وفاقی حکومت سے سفارش کی جائے گی-
وزیراعلیٰ نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ ایکسپو سنٹر میں مبینہ بد انتظامی کے بارے میں انکوائری کاحکم دیا جاچکاہے اورجلد انکوائری رپورٹ آجائے گی-کورونا کے مریضوں کے ساتھ ہیں ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہونے دیں گے-وزیراعلیٰ نے مزید بتایاکہ پنجاب میں تاحال کورونا کے6850کنفرم مریض ہیں،115 افراد کورونا کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں اور اب تک تقریباً90ہزار لوگوں کے ٹیسٹ کئے جاچکے ہیں،قابل اطمینان امر یہ ہے کہ 2206 مریض صحت یاب ہو کر گھر جاچکے ہیں جبکہ اب تک زائرین اور تبلیغی جماعت کے قرنطینہ میں رکھے گئے 90 فیصد لوگ صحت یاب ہوکر گھروں میں جاچکے ہیں -وزیراعلیٰ نے کہاکہ احساس کفالت پروگرام کے تحت ابھی تک 28لاکھ خاندانوں میں 34ارب روپے تقسیم کئے جا چکے ہیں اور امداد کا سلسلہ ابھی جاری ہے-اگلے ہفتے سے انصاف امداد پیکیج کے تحت 25 لاکھ خاندانوں میں 12ہزار فی کس امداد کی فراہمی شروع ہو جائے گی – اس کے علاوہ مزید 10لاکھ خاندانوں کو رمضان پیکیج کے تحت 3ہزار روپے فی کس دئیے جائیں گے – لاک ڈاؤن کی وجہ سے صوبہ بھر میں غریب،مزدور اورمحنت کش دیہاڑی دار طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے- ہمیں ان کی مشکلات کا ا ندازہ ہے اور ہم ان کا ازالہ کرنے کے لئے یکسو ہیں
ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے بتایاکہ پنجاب کی کابینہ کمیٹی برائے کورونا کنٹرول کی روزانہ میٹنگ ہوتی ہے اور صورتحال کو دیکھ کر فیصلے کئے جاتے ہیں -انہوں نے بتایاکہ کورونا وباء سے نمٹنے کے لئے کام کرنے والے لوگوں کو اضافی تنخواہ دی جائے گی-پنجاب میں اس وقت جزوی لاک ڈاؤن ہے اورہم غریب آ دمی کی مشکلات کو کم کرنا چاہتے ہیں، اسی لئے صوبے میں ذخیرہ اندوزوں او رناجائز منافع خوروں کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دے دیاہے-صوبائی وزراء ڈاکٹر یاسمین راشد اور میاں اسلم اقبال نے بھی صحافیوں کے سوالوں کے جواب دئیے-صوبائی وزراء راجہ بشارت،ڈاکٹر یاسمین راشد، میا ں اسلم اقبال،ہاشم جواں بخت، فیاض الحسن چوہان،چیف سیکرٹری،انسپکٹر جنرل پولیس اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے-
نئی دہلی :بھارت : جہاں میڈیکل اسٹوروالوں نے داڑھی والے مسلمان کو دوائی دینے سے انکارکردیا ،اطلاعات کےمطابق بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور انتہا پسندی انتہا پرپہنچ چکی ہے، جہاں ایک طرف کرونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں تو دوسری طرف بھارتی انتہا پسندوں کی طرف سے مسلمانوں کے ساتھ زیادتیاں جاری ہیں
This video is viral, incident happened on 21 April, Aurangabad, Maharashtra.
Kalim Patel went to medical shop for Meds, but pharmacist refused to give him meds by saying "We don't give meds to bearded guys,Muslims".
ذرائع کےمطابق بھارتی شہراورنگ آباد میں جب ایک شدید زخمی نوجوان میڈیکل اسٹورپردوائی لینے کے لیے پہنچا تو میڈیکل اسٹوروالوں نے یہ کہہ کردوائی دینے سے انکارکردیا کہ ہم داڑھی والے مسلمان کو دوائی نہیں دیتے ، زخموں سے چوریہ نوجوان چیختا رہا لیکن میڈیکل اسٹوروالوں نے ایک نہ سنی
ذرائع کے مطابق کلیم پٹیل نامی نوجوان کو میڈیکل اسٹور کی طرف سے سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ، دوسری طرف سوشل میڈیا پربھارت میں انتہا پسندوں کے اس رویے پرسخت تنقید کی جاری ہے ،
لاہور :جماعت اسلامی نے خدمت کا میدان مارلیا”الخدمت” نے کووڈ ٹیسٹنگ لیب کا افتتاح کردیا ،اطلاعات کےمطابق جماعت اسلامی کے خدمت خلق کے شعبہ الخدمت نے کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کےعلاج معالجے اور کرونا ٹیسٹ کے لیے کووڈ ٹ19 ٹیسٹنگ لیب کا افتتاح کردیا ہے ،
باغی ٹی وی کےمطابق الخدمت کے تحت کووڈ – 19 ٹیسٹنگ لیب کا افتتاح لاہور کے بڑے رفاعی ہسپتال ثریا عظیم میں افتتاح کر دیا گیا. الخدمت فاؤنڈیشن نے کورونا سے پیدا ہونے والی صورتحال میں ملک بھر میں مستحق طبقے کی جو خدمت کی ہے،
دوسری طرف الخدمت کے رضاکاروں کا کہنا ہےکہ یہ لیب انہیں خدمات کا ایک اور درخشاں باب ہے. الخدمت کووڈ 19 لیب میں 31 مئی تک فی ٹیسٹ 3 ہزار روپے اور اُس کے بعد 5 ہزار روپے میں کیا جائے گا.
واشنگٹن :’کورونا وائرس سے میں مرگئی تھی اور پھر زندگی کی جانب واپس آئی ،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کو شکست دینے والی وہ 12 سالہ بچی جو درحقیقت موت کے منہ سے واپس زندگی کی جانب لوٹ آئی اور علاج کے دوران 4 دن وینٹی لیٹر پر بھی رہی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کی طرف سے جاری رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست لوزیانا کے شہر کوونگٹن سے تعلق رکھنے والی جولیٹ ڈے میں پہلی بار وائرس کی جو علامات سامنے آئیں وہ بالغ افراد سے بالکل مختلف تھیں۔
بچی کی ماں جینیفر نے بتایا کہ ان کی بیٖٹی کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا نہیں ہوا بلکہ الٹیاں اور پیٹ کے شدید درد کا سامنا ہوا۔
جینیفر خود ایک ریڈیولوجسٹ ہیں اور انہیں پہلے لگا کہ ان کی بیٹی کو اپنڈکس کا مسئلہ ہے مگر خطرے کی گھنٹی اس وقت بجی جب بچی کے ہونٹ نیلے ہوگئے اور ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑنے لگے۔
تحریر جاری ہے
جینیفر نے بتایا ‘میں نے خدا سے دعا کی کہ میری مدد کی جائے’۔
اس بچی کو ایک قریبی ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں لے جایا گیا جہاں اسے ہارٹ اٹیک کا سامنا ہوا اور ڈاکٹروں 2 منٹ تک سی پی آر کے ذریعے اسے موت کے منہ سے کھینچ کر واپس زندگی کی جانب لے آئے۔
اس کے فوری بعد بچی کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے 40 میل دور واقع ایک بڑے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
اس بچی نے خبررساں ادارے کو بتایا ‘پہلے تو میں بہت ڈر گئی تھی، میں مرگئی تھی اور پھر زندگی کی جانب واپس آئی’۔
جولیٹ کا علاج کرنے والے ایک ڈاکٹر جیک کلینموہن نے بتایا ‘جولیٹ ان چند شدید بیمار بچوں میں سے ایک ہے جن کا کووڈ 19 کے دوران میں نے علاج کیا’۔
انہوں نے بتایا کہ 12 سالہ بچی کا دل ٹھیک طرح کام نہیں کررہا تھا اور اس میں متعدد اعضا کے افعال فیل ہونے کا مسئلہ پیدا ہورہا تھا۔
جس پر اسے 4 دن تک وینٹی لیٹر پر رکھا گیا اور اس کے بعد وہ خود سے سانس لینے کے قابل ہوگئی اور مجموعی طور پر 10 دن ہسپتال میں گزارنے کے بعد اسے 16 اپریل کو ڈسچارج کردیا گیا۔
اب وہ مکمل صحتیاب ہوچکی ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اب اس کا دل پھر معمول کے مطابق کام کرنے لگا ہے اور وہ معمول کی زندگی گزار سکتی ہے۔
خیال رہے کہ نئے نوول کورونا وائرس بچوں کو کیسے متاثر کرتا ہے، اس کے حوالے سے کافی الجھنیں موجود ہیں، کیونکہ بہت کم تعداد میں بچوں میں اس کی تشخیص ہوئی ہے۔
کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق بچوں میں اس وائرس سے ہونے والی بیماری کی علامات یا تو معمولی ہوتی ہیں یا ظاہر نہیں ہوتیں، مگر شدید بیمار ہونے کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔