Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • حکومت پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی بجائے ان پر اضافی ٹیکس لگا کر کورونا سے ہونے والے اخراجات پورے کرے

    دنیا میں خام تیل کا سیلاب آیا ہوا ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بیس سال کی کم ترین سطح پر ہیں۔لیکن ایک سے زیادہ وجوہ کی بنا پر پاکستان اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں۔ یوں بھی یہ ایک عارضی مندی ہے جو چند ماہ بعد ختم ہوجائے گی۔ گزشتہ ہفتہ تاریخ کا انوکھا واقعہ ہوا کہ امریکہ میں خام تیل کی قیمت چند روز تک منفی میں چلی گئی۔ یعنی تیل بیچنے والے کہہ رہے تھے کہ ہم سے رقم لے لو اور تیل لے جاؤ۔ وجہ یہ تھی کہ امریکہ میں جن بڑے بڑے تاجروں نے تیل کے سودے کیے ہوئے تھے ان کے پاس خریدا ہوا(بُک کیا ہوا) تیل لیکر رکھنے کی جگہ نہیں تھی کیونکہ پہلے سے ذخیرہ شدہ تیل فروخت نہیں ہوا تھا۔ کورونا وبا کی وجہ سے ہر طرح کی نقل و حمل‘ ٹرانسپورٹ بہت کم ہوگئی ہے۔ امریکہ میں تیل کااستعمال ساٹھ فیصد سے زیادہ کم ہوچکاہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے امریکہ کے اندر اور دنیا بھر میںسیاحت رُکی ہوئی ہے۔ ہوائی جہازکا سفر بہت کم ہوگیا ہے۔ ہوائی جہازوں کی صنعت میں تیل کی کھپت آدھی رہ گئی ہے۔جب امریکی تیل کی قیمت منفی میں گئی اس روز پاکستان میں بعض لوگوں میںخاصا جوش و خروش پیدا ہوگیا۔ خوش فہمی کا اظہار ہونے لگا کہ اب پاکستان میںبھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیںبہت نیچے چلی جائیںگی۔حالانکہ پاکستان میں تیل کی قیمتیں امریکی منڈی سے جڑی ہوئی نہیں ہیں۔

    ہمارے ہاں تیل کی قیمتوں کا تعین لندن سے نکلنے والی تیل کی قیمت یعنی برینٹ سے ہوتا ہے۔ جس دن امریکی منڈی میں قیمت منفی میں تھی برینٹ میں خام تیل کی قیمت تقریبا ًستائیس ڈالر فی بیرل تھی ۔چند روز بعدہی ا مریکی تیل کا نرخ بھی واپس اُوپر آکر ساڑھے سولہ ڈالر فی بیرل پرپہنچ گیا۔ تاہم مجموعی طور پر یہ بات درست ہے کہ اس سال کے شروع کی نسبت عالمی منڈی میںخام تیل کی قیمتیں بہت گر گئی ہیں۔جنوری میںبرینٹ خام تیل کا نرخ ساٹھ ڈالر فی بیرل تھا۔اب یہ قیمت ایک تہائی رہ گئی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے برینٹ کی قیمت اکیس سے اٹھایئس ڈالر کے درمیان اُوپر نیچے ہوتی رہتی ہے۔ پہلے تو تیل پیدا کرنے والے دو بڑے ممالک روس اور سعودی عرب کے درمیان تیل کی پیداوار کم کرنے پر اختلافات ہوئے جس سے تیل کی قیمت گرنا شروع ہوگئی۔ رہی سہی کسر کورونا وبا کے باعث ہونے والے لاک ڈاؤن نے پوری کردی۔ اس شدید بحران سے ڈر کر روس اور سعودی عرب نے اتفاق رائے بھی کرلیا ۔ اوپیک اور روس نے مجموعی طور پر خام تیل کی پیداوار میں کمی کا اعلان کردیا لیکن دنیا میں معاشی سرگرمی اتنی کم ہوگئی ‘تیل کا استعمال اتنا کم رہ گیا کہ قیمت فی الحال واپس اُوپر نہیں جاسکی۔ بظاہر اچھا لگ رہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بہت کم ہوگئی ہیں لیکن پاکستان جیسے ممالک اس کساد بازاری سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ تیل کی قیمت میں گراوٹ عارضی اور چند ماہ کے لیے ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ تیل کی قیمتیں صرف پانچ چھ ماہ نیچے رہیں گی۔ یورپ اور امریکہ لاک ڈاؤن میں نرمی کی طرف جارہے ہیں۔ جوں جوں معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی‘ تیل کا استعمال زیادہ ہوگا‘ اسکی طلب بڑھے گی تو اسکی قیمت میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔ تخمینہ ہے کہ اس سال کے آخر تک یہ دوبارہ چالیس ڈالر فی بیرل تک بڑھ جائیں گی اور اگلے سال ساٹھ ڈالر تک ہو جائیں گی۔تیل پیدا کرنے والے تما م ممالک کا مفاد اسی میں ہے کہ تیل کی قیمت کم سے کم پچاس سے ساٹھ ڈالر فی بیرل کے درمیان رہیں۔موجودہ حالات میںپاکستان کو ایک فائدہ یہ ہوسکتا تھا کہ تیل کا درآمدی بل کم ہونے سے زرمبادلہ کی بچت ہوجاتی لیکن کورونا وبا کے باعث یورپ اور امریکہ کی منڈیوں میں ہمارا مال جانا بند ہوگیا۔

    برآمدات میں شدید کمی ہوگئی۔اس پر مستزاد بیرون ملک پاکستانیوں کی ملک میں بھیجی جانے والی ترسیلات زر کم ہوگئیں۔اتنافائدہ نہیںہوا جتنا نقصان ہوگیا۔ اسی بحران پر قابو پانے کی غرض سے عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کو فوری طور پر تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کا مزید قرض دیا ہے۔اگر ہماری تیل ذخیرہ کرنے کی استعداد زیادہ ہوتی تو ہم تیل کی موجودہ کساد بازاری سے فائدہ اٹھا سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہمارا ملک اپنی ضرورت کے صرف بیس دنوں کا تیل ذخیرہ کرسکتا ہے۔ اپریل کے ماہ میں پاکستان کے تمام ذخیرے تیل سے بھرے ہوئے تھے ۔لاک ڈاون کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی کھپت بھی کم ہوگئی ہے۔ گزشتہ ایک ماہ میں ہم نے تیل کا ایک جہاز بھی درآمد نہیں کیا کیونکہ ہمارے پاس اسے رکھنے کی جگہ ہی نہیں ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستان حکومت پیٹرولیم کی عالمی منڈی میں گراوٹ کے مطابق ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مزید کم کردے۔ یہ فیصلہ ملک کی معیشت کی کمزور صورتحال دیکھتے ہوئے مناسب اقدام نہیں ہوگا۔وفاقی حکومت کو ٹیکسوں کی مد میں لاک ڈاؤن کے باعث تین سو ارب روپے سے زیادہ کاخسارہ ہوا ہے۔ کورونا بحران سے نپٹنے کے لیے بارہ سو ارب روپے اضافی خرچ کرنے پڑرہے ہیں۔ ابھی تو اس امدادی رقم میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ مئی کا سارا مہینہ بھی نیم کرفیو میں گزرے گا۔ حکومت کو اضافی وسائل کی ضرورت پڑے گی۔ یہ تو ایک جنگی صورتحال ہے۔ اگر اس وقت حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بہت زیادہ کم کر بھی دے گی تو ٹرانسپورٹراوردیگر کاروباری ادارے اس فائدے کو نہ تو صارفین کو منتقل کریں گے نہ حکومت کو زیادہ ٹیکس دیں گے بلکہ یہ تو لاک ڈاؤن سے ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے حکومت سے ٹیکسوں میں چھوٹ اور آسان شرائط پر قرضے مانگ رہے ہیں ۔ ان حالات میں مناسب یہی ہے کہ حکومت پیٹرول‘ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کرنے کے بجائے انہیں موجودہ سطح پر رکھے اور عالمی منڈی میں گراوٹ سے پہنچنے والا فائدہ پیٹرول‘ڈیزل پر ایمرجنسی کورونا ٹیکس لگا کر قومی خزانہ میں ڈالے تاکہ جو اضافی اخراجات ہورہے ہیں ان کے لیے استعمال کیا جاسکے۔

    عدنان عادل

  • چیزیں جلد نارمل ہونگی، امام کعبہ نے خوشخبری سنا دی

    چیزیں جلد نارمل ہونگی، امام کعبہ نے خوشخبری سنا دی

    چیزیں جلد نارمل ہونگی، امام کعبہ نے خوشخبری سنا دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امام کعبہ شیخ عبدالرحمن السدیس نے کہا ہے کہ حرمین شریفین کو جلد عمرہ ادا کرنے والوں اور نماز ادا کرنے والوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

    امام کعبہ شیخ عبدالرحمن السدیس کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کے لئے اچھی خبر ہے تمام چیزیں نارمل ہو رہی ہیں اور جلد مسجد حرم اور مسجد نبوی کو عام شہریوں کے لئے کھول دیا جائے گا

    https://twitter.com/Dr_Saudais/status/1255324576248193025

    امام کعبہ کی ایک ویڈیو بھی شوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ عوام عنقریب حرم شریف میں عبادات بجا لا سکیں گے۔ حرم پاک اور مسجد نبویﷺ کو عمرہ ادا کرنے والوں اور نماز ادا کرنے والوں کے لیے عنقریب کھول دیا جائے گا۔

    سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ نے کہا ہے کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کو 8 رمضان کو کھول دیا جائے گا عام شہری بھی حرم مکی میں عبادت کر سکیں گے

    سعودی وزارت صحت کے مطابق اس حوالہ سے شہریوں کو کرونا سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا،نماز کی ادائیگی کے لئے جائے نماز گھر سے لانا ہو گی، کسی کو بغیر چٹائی کے داخلے کی اجازت نہیں ہو گی ،مسجد میں قرآن مجید کی تلاوت کے لئے گھروں سے قرآن لے کر آئیں ،مسجد میں رکھے گئے قرآن مجید کو نہیں لے سکتے

    کرونا سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے کہ سماجی دوری اختیار کریں، اس دوران مسجد سے ملحقہ واش روم بند رہیں گے، سب وضو گھروں سے کر کے آئیں گے، کسی کو بھی ماسک کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں ہو گی، مسجد کے داخلی راستے پر سینیٹائزر کی سہولت موجود ہو گی اسے استعمال کریں

    قبل ازیں سعودی عرب کے ادارہ امور حرمین شریفین کے نگران اعلی شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس نے حرم مکی میں کمپیوٹرائزڈ تھرمل کیمروں کا افتتاح کر دیا ہے۔ افتتاح کے بعد شیخ السدیس نے حاضرین سے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حرم مکی میں کام کرنے والے تمام افراد کے لیے لازم ہے کہ وہ حرم میں داخل ہونے سے قبل تھرمل کیمروں کی سکرننگ سے گزریں. اگر کسی کا درجہ حرارت بڑھا ہوا ہے تو اسے حرم مکی آنے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ وہ مزید چیک اپ کےلیے متعلقہ ادار ے سے رجوع کرے

  • مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی نے کیا کرونا ٹیسٹ کروانے سے انکار

    مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی نے کیا کرونا ٹیسٹ کروانے سے انکار

    مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی نے کیا کرونا ٹیسٹ کروانے سے انکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جے یو آئی کے گرفتار رہنما مفتی کفایت اللہ نے کرونا ٹسیٹ کروانے سے انکار کر دیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مفتی کفایت اللہ کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ابھی جیل سے اطلاع موصول ہوئی ہے کہ سازش کے تحت مفتی کفایت اللہ صاحب کے پاس کورونا کی ٹیم بھیجی ہے کہ آپ کا کورونا ٹیسٹ کرنا ہے مفتی صاحب نے انکار کردیا

    دوسری جانب مفتی کفایت اللہ کو آج عدالت پیش کیا گیا عدالت نے مفتی کفایت اللہ کا 5 مئی تک مزید جوڈیشل ریمانڈ دے دیا.

    واضح رہے کہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر پولیس نے جمعیت علماء اسلام کے اہم رہنما کو گرفتار کررکھا ہے،خیبر پختونخواہ کے علاقے مانسہرہ میں جے یو آئی ف کے رہنما مفتی کفایت اللہ کے خلاف 12 اپریل کو پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا، جس پر مانسہرہ میں مولانا عبدالعزیز کے نماز جنازہ میں شرکت کے بعد واپسی پر پولیس نے مفتی کفایت اللہ کو گرفتارکیا تھا.

    ٹک ٹاک گرلز کے نئے دھماکے، عمران خان کی ساکھ کو شدید نقصان، مبشر لقمان نے کیے اہم انکشافات

    حریم شاہ کی دبئی میں کر رہے ہیں بھارتی پشت پناہی، مبشر لقمان نے کئے اہم انکشاف

    حریم شاہ کو کریں گے بے نقاب، کھرا سچ کی ٹیم کا بندہ لڑکی کے گھر پہنچا تو اسکے والد نے کیا کہا؟

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    ڈی پی او مانسہرہ کا کہنا ہے کہ سرکل شنکیاری کی پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی،عوام میں اشتعال انگیز تقریر کرنے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں سابق رکن اسمبلی مفتی کفایت اللہ کو گرفتار کیا ہے

    حکمران مسلمان، کرونا سے بچاؤ کے احکامات پر مساجد کی بندش سمیت سب پر عملدرآمد ضروری، مفتی کفایت اللہ مفتی عاصم الحکیم سے لیں سبق

    جانیں قربان کر دیں گے لیکن مسجدوں کو ویران نہیں ہونے دیں گے، مفتی کفایت اللہ

    واضح رہے کہ مانسہرہ میں مدرسے کے بچے سے جنسی زیادتی کاکیس،ملزم کوپناہ دینے پرقاری شمس الدین کے بھائی عبدالمالک اورمفتی کفایت اللہ کےخلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا،مقدمہ مانسہرہ کےتھانہ سٹی میں درج کیاگیا، ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ ملزم گرفتاری دیناچاہتاتھا،لیکن مفتی کفایت اللہ نےاسےروکا،پولیس کے مطابق پولیس کو ملزم کی گرفتاری سے دور رکھنے اور سرکاری کام میں غیر ضروری رکاوٹ ڈالنے پر 255/34 دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ گرفتار ملزم قاری شمس الدین نے دوران تفیش انکشاف کیا وہ گرفتاری دینا چاہتے تھے مفتی کفایت اللہ اور اسکے بھائی عبدالمالک نے روکے رکھا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مانسہرہ میں زیادتی کا شکار ہونے والے بچے کے والدین پر صلح کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ جے یو آئی ف کے رہنما مفتی کفایت اللہ اور ان کے ساتھی نے عدالت کے باہر بچے کے والدین کو تصفیہ نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ جب کہ انہوں نے اس حوالے سے رقم کی پیشکش بھی کی لیکن والدین نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔

    27 دسمبر 2019ء کو ضلع مانسہرہ کے تھانہ پھلڑہ میں درج ہونے والے مقدمہ علت نمبر بجرم 53 سی پی اے اور 202/201/337 Aii/109/324 کے مطابق مرکزی ملزم قاری شمس الدین نے مدرسہ تعلیم القران میں زیر تعلیم 10 سالہ طالب علم سے زبردستی جنسی زیادتی کرنے کے بعد اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا تھا اور دو دن تک حبس بے جا میں رکھا تھا۔

    مانسہرہ میں مدرسےمیں بچےکے ساتھ زیادتی کی رپورٹ قائمہ کمیٹی میں پیش کردی گئی، ڈی آئی جی نے کمیٹی کو بتایا کہ ایبٹ آباد میں گزشتہ سال 252 بچوں سے زیادتی کے کیسزرپورٹ ہوئے،ملزم اسکول ٹیچر بھی ہے،باقاعدہ تنخواہ لیتا تھا اورمدرسے میں بھی پڑھاتا تھا بچے کو نہ صرف جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا بلکہ قید کرکے مارا بھی گیا بچے کی حالت اتنی خراب تھی سوچا کہ کیا کوئی انسان ایسے کرسکتا ہے مدرسےکے منتظم کو گرفتار کر رہے ہیں،مفتی کفایت اللہ ملزم کو سپورٹ کرتےرہےہیں

    کمیٹی کو بتایا گیا کہ مفتی کفایت اللہ کا جو کردار رہا میڈیا کے سامنے نہیں بتا سکتے،سب سے زیادہ زیادتی کےواقعات پنجاب میں 2403 ہوئے،لڑکوں سے جنسی زیادتی کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں،2018میں سندھ میں بچوں سےزیادتی کے 1016 کیسز رجسٹرڈہوئے،2018 میں بلوچستان میں بچوں سے زیادتی کے 98 کیسز رجسٹرڈ ہوئے،2018 میں اسلام آباد میں بچوں سے زیادتی کے 130 کیسز رجسٹرڈ ہوئے 2018میں کے پی کے میں بچوں سے زیادتی کے 143 کیسز رجسٹرڈ ہوئے

    پولیس کا ریسٹورنٹ پر چھاپہ، 30 سے زائد نوجوان لڑکے لڑکیاں گرفتار

    واٹس ایپ پر محبوبہ کی ناراضگی،نوجوان نے کیا قدم اٹھا لیا؟

    غیرت کے نام پر سنگدل باپ نے 15 سالہ بیٹی کو قتل کر دیا

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    50 ہزار میں بچہ فروخت کرنے والی ماں گرفتار

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

    ڈی آئی جی نے بریفنگ دیتے ہوئے مزید بتایا کہ ہزارہ بار ایسوسی ایشن نے ملزم کا کیس نہ لڑنے کا متفقہ فیصلہ کیا ہے، خیبرپختونخوامیں 2019میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوا،بچوں سے زیادتی کرنےوالے لوگ زیادہ تر بچوں کو جاننے والے ہی ہوتے ہیں

  • حقیقت پسندانہ لاک ڈاؤن از عدنان عادل

    تقریباًایک ماہ سے پورے ملک میں ایک نیم کرفیو کی صورتحال ہے۔لوگوں کی بڑی تعداد گھروں میں محصور ہے۔طویل لاک ڈاؤن ان کے اعصاب پر بھاری پڑ رہا ہے۔بہت سے لوگ کام کاج پر لوٹنا چاہتے ہیں۔ محنت مشقت کرکے اپنی روزی کمانا چاہتے ہیں۔ حقیقت پسندی کا تقاضا ہے کہ حکومت اب معاشی سرگرمیاںمکمل بحال کرنے کی اجازت دے۔ کورونا وبا نے اب تک پاکستان میں بڑے پیمانے پر نقصان نہیں پہنچایا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کورونا سے بیمار ہونے والے لوگوں میں مرنے والوں کی شرح صرف ڈیڑھ فیصد ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو زیادہ عمر کے تھے یا انہیں پہلے سے کوئی بڑی بیماری لاحق تھی جواس وائرس کی وجہ سے پیچیدہ ہوگئی۔زیادہ تر لوگ جس طرح عام نزلہ زکام سے صحت یاب ہوجاتے ہیں اس طرح کورونا سے بھی شفایاب ہوجاتے ہیں۔ جہاں تک کورونا وائرس پراچھی طرح قابو پانے کا تعلق ہے تو یہ اسوقت تک ممکن نہیں جب تک اس سے بچاؤ کی ویکسین بن کر عام استعمال میں نہیں آجاتی ۔

    مستند ڈاکٹروں اور سائنس دانوں کا یہی کہنا ہے کہ ویکسین بازار میں آنے میں ایک سے ڈیڑھ سال لگے گا۔ ابھی تو یہ بھی معلوم نہیں کہ جو لوگ کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد ٹھیک ہوجاتے ہیں وہ ہمیشہ کے لیے صحت یاب ہوجاتے ہیں یا انہیں دوبارہ بھی یہ انفیکشن لاحق ہوسکتا ہے۔ جنوبی کوریا سے خبریں آئی ہیں کہ وہاں بہت سے مریض ٹھیک ہوگئے ‘ انکا ٹیسٹ منفی آگیا لیکن کچھ دنوں کے بعد ان میں دوبارہ وائرس نکل آیا۔ جیسے اور بہت سے وائرس ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں کورونا بھی ہماری زندگیوں میں داخل ہوچکا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی بیماری زُکام کی ایک قسم ہے جواگرمریض کی قوتِ مدافعت کمزور ہو اورمرض بگڑ جائے تو زیادہ خطرناک ہوجاتی ہے۔ کتنے ہی لوگ ہیں جن کے جسم میں کورونا وائرس موجود ہے لیکن ان کی مدافعت مضبوط ہونے کی وجہ سے ان میں علامات ظاہر نہیں ہورہیں۔ہمارے معاشی حالات میںتوممکن نہیں کہ کروڑوں لوگوں کے کورونا ٹیسٹ کیے جائیں۔ یہ کام تو امریکہ جیسا ملک نہیں کرسکا۔ اس وقت دیہات میں معمول کے مطابق کام کاج ‘ کاروبارِ حیات چل رہا ہے‘ وہاں کوئی وبا نہیں پھیلی۔ لیکن شہروں‘ قصبوں میں لوگوں کی اکثریت اپنے گھروں میں بند ہے۔ بیروزگاری پھیل گئی ہے۔ حکومت ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں تک تیزی سے امدادی رقوم پہنچا رہی ہے۔بعض نجی ادارے بھی ضرورت مند خاندانوں کی مدد کررہے ہیں۔ لیکن سفید پوش طبقہ جو نہ امداد مانگتا ہے نہ لینا چاہتا ہے وہ کام کاج اور کاروبار پر پابندیوں کی سختی محسوس کررہا ہے۔ ایک ہفتہ پہلے کچھ محدود تعداد میں کارخانوں‘ ملوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے ۔سندھ میں ماہی گیروں کو سمندرسے مچھلیاں پکڑنے کی اجازت بھی مل گئی ہے۔تاہم ملک کا بیشتر کاروبار بند ہے۔بہت سے ہنرمند افراد پر سے پابندی ہٹانے کا اعلان کیا گیاتھا لیکن اسکا نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ ملک میں تقریباًتیس لاکھ پرچون دکاندارہیں جن کی اکثریت روزی کمانے سے محروم ہوچکی ہے۔ ایک طبقہ سخت لاک ڈاؤن جاری رکھنے کا حامی ہے۔ اس کا خیال ہے کہ مزید ایک ماہ تک یہ پابندیاں قائم رہنی چاہئیں۔ دکانیں‘ صنعتیں‘ عبادت گاہیں مکمل بند رہیں۔ نقل و حمل بہت ہی کم ہو۔لوگ گھروں میں بیٹھیں۔ ان لوگوںکا موقف ہے کہ پاکستان میں کورونا وبا مئی کے آخر تک اپنے عروج پر پہنچے گی اور اگر اسے سماجی فاصلہ کے ذریعے نہ روکا گیاتو ملک میں لاکھوں لوگ بیمار ہوجائیں گے جنہیں ہمارے ملک کا صحت کا نظام سنبھال نہیں سکے گا۔

    اس لیے بہتر یہی ہے کہ لوگ گھر بیٹھ کر اس وبا سے بچنے کی کوشش کریں جیسا کہ اب تک کیا گیا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا پاکستان کی اکثر آبادی اس پوزیشن میں ہے کہ وہ گھر بیٹھ کر اپنے بنیادی اخراجات پورے کرسکے؟ کیا پاکستان کی ریاست کے اتنے وسائل ہیں کہ وہ کروڑوں لوگوں کو گھر بٹھا کر چند ماہ تک روٹی کھلا سکے؟ میرے خیال میں ایسا ممکن نہیں ہے۔پاکستان میںایک ماہ سے زیادہ طویل لاک ڈاؤ ن کرنا حقیقت پسندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔ یہ ٹھیک ہے کہ شہروں کے درمیان مسافروں کی آمد و رفت کی گاڑیاں نہ چلائی جائیں‘ صرف سامان کی نقل و حمل ہوتی رہے جو اب بھی جاری ہے۔ مسافر بسوں میں درجنوں لوگ قریب قریب بیٹھتے ہیں جس سے وائرس کا پھیلاؤ بڑھ سکتا ہے۔عدالتیں بھی کچھ اور عرصہ بند رکھی جاسکتی ہیں۔ تعلیمی ادارے بھی چند ماہ مزید بند رہنے سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوگا۔ یوں بھی سخت گرمی کا موسم سر پر ہے۔ کروڑوں بچے‘ نوجوان گھروں سے اسکولوں‘ کالجوں کے لیے نکلتے ہیں تو سڑکوں‘ گلیوں میںہجوم بڑھ جاتا ہے۔ ویسے بھی سرکاری اسکولوں ‘ کالجوںمیں ایک ایک کلاس میں پچاس پچاس ‘سو سو بچے ساتھ ساتھ دیر تک بیٹھتے ہیں۔ یہ بڑا خطرہ ہے۔ تاہم‘ صنعتی پیداوار کے کارخانے اور ملیں مزید بند رکھنا معاشی تباہی کے مترادف ہوگا۔ ملک میں کام کاج کرنے والی آبادی کا ایک چوتھائی صنعتوں سے وابستہ ہے۔ اگر یہ مزید بند رہیں تو محنت کش عوام کا بھٹہ بیٹھ جائے گا۔ حکومت نے بارہ ہزار کی امداد دی ہے اس میں ایک خاندان کا بمشکل ایک ماہ گزارہ ہوگا۔حکومت دوسری بار ایک کروڑ بیس لاکھ خاندانوں کو اتنی امداد دینے کی استعداد نہیں رکھتی۔ لوگوں کو کام کاج کرکے ہی اپنا گھر چلانا ہوگا۔ حقیقت پسندی کا تقاضا یہی ہے کہ چند احتیاطی شرائط کے ساتھ تمام صنعتوں اور دکانداروں کو اب کام شروع کرنے کی اجازت دے دی جائے ۔کوئی بھی ملک چاہے وہ کتنا امیر‘ ترقی یافتہ ہوطویل عرصہ تک لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سے کہیں زیادہ متاثر ہونے والے یورپ کے ممالک بھی کاروباری سرگرمیاں کھولتے جارہے ہیں۔

    عدنان عادل

  • لاک ڈاؤن میں اب واٹس ایپ پربال کٹوائیں؟ شہری عدالت پہنچ گیا

    لاک ڈاؤن میں اب واٹس ایپ پربال کٹوائیں؟ شہری عدالت پہنچ گیا

    لاک ڈاؤن میں اب واٹس ایپ پربال کٹوائیں؟ شہری عدالت پہنچ گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں چھوٹے کاروبار کی اجازت سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے استفسار کیا کہ حکومت چھوٹے کاروباری طبقے کیلئےکیا اقدامات کررہی ہے ،سندھ ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کو14مئی تک تفصیلات جمع کرنے کی ہدایت کر دی،

    ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ حکومت نے ایس او پی کے تحت کچھ صنعتیں کھولنے کا اجازت نامہ جاری کیا کچھ کاروباری مراکز کو آن لائن کاروبار کرنے کی اجازات دی گئی ہے،

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ چھوٹی دکانیں آن لائن کاروبار کیسے کریں گی؟ وفاقی و صوبائی حکومت نے بیشتر اقدامات کیے ہیں چھوٹے کاروباری طبقے کیلئےبھی سوچنا چاہیے،اسٹیشنری،الیکٹریشن اوردیگرکی عوام کو ضرورت پڑتی ہےایسے کیسے کام چلے گا؟

    ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ نائی کو دکان کھولنے کی اجازت نہیں ہے،درخواست گزار نے کہا کہ کیا عوام اب واٹس ایپ پربال کٹوائیں گے؟آن لائن تعلیم شروع ہوگئی ہے بچے کیسے لکھیں گے اسٹیشنری کی دکانیں بند ہیں،

    واضح رہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن نافذ ہے.

  • کرونا وائرس سے اموات میں اضافہ نہیں ہوا،گزشہ برس بھی ہوئی تھیں اتنی ہی اموات

    کرونا وائرس سے اموات میں اضافہ نہیں ہوا،گزشہ برس بھی ہوئی تھیں اتنی ہی اموات

    کرونا وائرس سے اموات میں اضافہ نہیں ہوا،گزشہ برس بھی ہوئی تھیں اتنی ہی اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے، جرمنی کے کرونا سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبے کے اعداد و شمارسامنے آئے ہیں

    نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں پچھلے سال ماہ مارچ کے مقابلے میں 2020 میں اموات کی شرح میں اضافہ نہیں ہوا۔ ریاست نے اپنی ویب سائٹ پر بتایا کہ مارچ میں تقریبا 18،800 افراد ہلاک ہوئے۔ جبکہ گزشتہ برس اسی مہینے میں اموات کی تعداد 19،100 تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعدادوشمار میں‌ کرونا وائرس سے اموات میں اضافے کا کوئی ثبوت نہیں ہے

    رپورٹ کے مطابق   سال 2020 کی پہلی سہ ماہی میں موت کی عارضی شرح میں بھی پچھلے سالوں کے مقابلے میں اضافہ نہیں ہوا،جنوری سے مارچ 2020 تک گزشتہ برس کے مقابلے میں 55 فیصد کم لوگ کی موت ہوئی ہے،

    دوسری جانب کرونا سے بچاؤ کے لئے فیس ماسک پہننا جرمنی بھر کی دکانوں میں جانے کیلئے ضروری قرار دیدیا گیاہے ،جرمنی کے مذبح خانوں میں کام کرنے والے تقریباً200رومانیہ کے شہری کورونا وائرس کے شکار ہوگئے ہیں،مذکورہ مزدور اب قرنطینہ میں ہیں۔

    جرمنی میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 158,758 تک پہنچ گئی ہے جن میں سے 114,500 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ اس مہلک بیماری کے سبب مجموعی اموات کی تعداد 6,126 ہے۔ جرمنی میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے اب زیادہ تر دکانیں اور کاروبار کھول دیے گئے ہیں مگر ساتھ ہی یہ لازمی کر دیا گیا ہے کہ عوامی مقامات یا دفاتر اور دکانوں میں جانے والے چہرے پر ماسک استعمال کریں گے۔

  • پنجاب میں کرونا سے 100 اموات،  مریضوں کے ضلعی سطح پر اعدادوشمار جاری

    پنجاب میں کرونا سے 100 اموات، مریضوں کے ضلعی سطح پر اعدادوشمار جاری

    پنجاب میں کرونا سے 100 اموات، مریضوں کے ضلعی سطح پر اعدادوشمار جاری

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے، پنجاب سے کورونا وائرس کے 97 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں پنجاب میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 5827 ہو گئی

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق پنجاب میں کورونا وائرس کے100مریض جاں بحق ہو چکے ہیں،پنجاب میں کورونا کے 1510  افراد صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ 22 کی حالت تشویشناک ہے،

    سب سے زیادہ لاہور میں کورونا کے 1469 مریض ہیں،ننکانہ صاحب13، قصور 58، شیخوپورہ 19اورراولپنڈی میں 320 ،جہلم 59، اٹک 19،چکوال 4اورگوجرانوالہ میں کورونا کے163،سیالکوٹ 118، نارووال 15اورگجرات میں کورونا کے216 ،حافظ آباد 28، منڈی بہاوَالدین 30، ملتان 70اورخانیوال میں6،وہاڑی 49، فیصل آباد 58، چنیوٹ 11اورٹوبہ ٹیک سنگھ میں 7،جھنگ 38، رحیم یار خان 65اورسرگودھا میں کورونا کے54 مریض سامنے آئے ہیں

    میانوالی 20، خوشاب 14، بھکر 10، بہاولنگر 12اوربہاولپور میں19،لودھراں 4، ڈی جی خان 27، مظفر گڑھ 23اورلیہ میں کورونا کے 2، ساہیوال 2، اوکاڑہ 18 اورپاکپتن میں کورونا کے7 مریض ہیں.

    پنجاب میں کرونا مریضوں میں اضافہ،سب سے زیادہ مریض کس ضلع میں؟

    ترجمان محکمہ صحت پنجاب کے مطابق پنجاب میں اب تک 77619 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں

    کرونا وائرس، لاہور میں کتنے گھر سیل،کن علاقوں میں ہے مکمل لاک ڈاؤن ؟

  • کرونا لاک ڈاؤن، پی آئی اے ابتک کتنے ہم وطنو‌ں کو واپس لا چکی؟ اگلی پرواز کس ملک کیلئے؟

    کرونا لاک ڈاؤن، پی آئی اے ابتک کتنے ہم وطنو‌ں کو واپس لا چکی؟ اگلی پرواز کس ملک کیلئے؟

    کرونا لاک ڈاؤن، پی آئی اے ابتک کتنے ہم وطنو‌ں کو واپس لا چکی؟ اگلی پرواز کس ملک کیلئے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی پروازوں کی بندش کے دوران قومی ائیرلائن کا خصوصی آپریشن،3اپریل سے اب تک پی آئی اے نے 121 پروازیں آپریٹ کیں

    پی آئی اے ترجمان کے مطابق پروازوں میں پاکستان سے 22 ہزار 308 مسافروں کو دیگر ممالک پہنچایاگیا،بیرون ملک پھنسے 13ہزار418 پاکستانیوں کو وطن واپس لایا گیا بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس پہنچانے کیلئے 20 ممالک میں پروازیں آپریٹ کی گئیں

    پی آئی اے ترجمان کے مطابق خصوصی پروازیں برطانیہ ، تاجکستان، ازبکستان ،آزربائیجان اور ناروے کیلئے چلائی گئیں، جاپان ، تھائی لینڈ ، ترکی ، انڈونیشیا، یو اے ای ، آسڑیلیا اور جرمن کیلئے بھی پروازیں چلائی گئیں،کینیڈا ،ڈنمارک ، فرانس ، عراق اورملائیشیا کیلئے بھی پروازیں چلائی گئیں،

    ہانگ کانگ کیلئےہنگامی امدادی پرواز اسلام آباد سے 30اپریل کوروانہ ہو گی،

    پی آئی اے کی مالی مشکلات، سی ای او ارشد ملک اور افسران کا بڑا فیصلہ

    پالپا کا پروازوں کو آپریٹ کرنے سے انکار،اصل کہانی کیا ؟ جان کر لگے بڑا جھٹکا

    کرونا کیخلاف جنگ،پروازیں آپریٹ نہ کرنیوالوں کے خلاف کیا ایکشن لیا جائے؟ بڑا مطالبہ آ گیا

    بیرون ممالک پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کیلئے پی آئی اے کی خصوصی پروازیں جاری

    پی آئی اے عملے کے مزید اراکین میں کرونا وائرس کی تشخیص

    سعودی عرب کے شہر ریاض میں پھنسے پاکستانیوں کی وطن واپسی کے لیے قومی ایئر لائن (پی آئی اے) خصوصی پرواز آپریٹ کرے گی۔ پی آئی اے کی خصوصی پرواز کے702 30 اپریل کی رات مانچسٹر سے ریاض پہنچے گی۔ پرواز پی کے702 میں 250 سےزائد مسافر اسلام آباد کیلئے روانہ ہوں گے جو یکم مئی کواسلام آباد پہنچیں گے

  • مسجد حرام اور مسجد نبوی میں کن شرائط کے ساتھ عام شہریوں کوعبادت کی ہو گی اجازت اور کب سے؟

    مسجد حرام اور مسجد نبوی میں کن شرائط کے ساتھ عام شہریوں کوعبادت کی ہو گی اجازت اور کب سے؟

    مسجد حرام اور مسجد نبوی میں کن شرائط کے ساتھ عبادت کی ہو گی اجازت اور کب سے؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ نے کہا ہے کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کو 8 رمضان کو کھول دیا جائے گا عام شہری بھی حرم مکی میں عبادت کر سکیں گے

    سعودی وزارت صحت کے مطابق اس حوالہ سے شہریوں کو کرونا سے بچاؤ کے لئے احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ہوگا،نماز کی ادائیگی کے لئے جائے نماز گھر سے لانا ہو گی، کسی کو بغیر چٹائی کے داخلے کی اجازت نہیں ہو گی ،مسجد میں قرآن مجید کی تلاوت کے لئے گھروں سے قرآن لے کر آئیں ،مسجد میں رکھے گئے قرآن مجید کو نہیں لے سکتے

    کرونا سے بچاؤ کے لئے ضروری ہے کہ سماجی دوری اختیار کریں، اس دوران مسجد سے ملحقہ واش روم بند رہیں گے، سب وضو گھروں سے کر کے آئیں گے، کسی کو بھی ماسک کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں ہو گی، مسجد کے داخلی راستے پر سینیٹائزر کی سہولت موجود ہو گی اسے استعمال کریں

    قبل ازیں سعودی عرب کے ادارہ امور حرمین شریفین کے نگران اعلی شیخ ڈاکٹر عبدالرحمان السدیس نے حرم مکی میں کمپیوٹرائزڈ تھرمل کیمروں کا افتتاح کر دیا ہے۔ افتتاح کے بعد شیخ السدیس نے حاضرین سے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حرم مکی میں کام کرنے والے تمام افراد کے لیے لازم ہے کہ وہ حرم میں داخل ہونے سے قبل تھرمل کیمروں کی سکرننگ سے گزریں. اگر کسی کا درجہ حرارت بڑھا ہوا ہے تو اسے حرم مکی آنے کی اجازت نہیں ہوگی بلکہ وہ مزید چیک اپ کےلیے متعلقہ ادار ے سے رجوع کرے

    واضح رہے کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی انتظامیہ کے سربراہ اعلی شیخ ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے رمضان کے آغاز سے قبل کہا تھا کہ مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں تراویح 10 رکعت پر مشتمل ہوگی تا ہم دونوں مساجد میں رمضان کے دوران نمازیوں پر پابندی جوں کی توں برقرار رہے گی ، اب اس پابندی کو ختم کیا جا رہا ہے

    مکہ کے علاوہ سعودی عرب بھرمیں کرفیو جزوی طور پر اٹھا لیا گیا ہے،شاہ سلمان نے حکم جاری کیا تھا کہ لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں ،اطلاعات کے مطابق سعودی فرماں روا شاہ سلمان نے ملک بھر سے کرفیو جزوی طور پر ہٹانے کا فرمان جاری کردیا ہے جبکہ مکہ اور قریبی علاقوں میں 24 گھنٹے کا کرفیو برقرار رہے گا۔

     

  • امریکہ بھارت دوستی میں دراڑیں پڑ گئیں

    امریکہ بھارت دوستی میں دراڑیں پڑ گئیں

    امریکہ بھارت دوستی میں دراڑیں پڑ گئیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور بھارت کی دوستی میں دراڑیں پڑ گئیں،وائیٹ ہاؤس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مودی کو انفالو کر دیا

    وائٹ ہائوس کی جانب سے بھارتی صدر اور وزیر اعظم مودی کو ٹوئٹر پر ان فالو کرنے کے بعد وائٹ ہائوس کے رابطے میں رہنے والے بھارتی ٹوئٹر ہینڈلز کی تعداد 13 رہ گئی ہے ۔

    وائٹ ہاؤس نے وزیراعظم مودی اور دیگر بھارتی ہینڈلز سے رابطے کلوروکوئن کی برآمد پر پابندی اٹھانے کے حوالے سے شروع کئے ، اس دوا کو صدر ٹرمپ کو رونا وائرس کا حل قرار دے رہے تھے ۔ صدر ٹرمپ کی درخواست پر مودی نے کلوروکوئن کی برآمد پر پابندی اٹھا لی ، جسے صدر ٹرمپ نے دوستوں کے درمیان تعاون کی مثال قرار دیا۔

    یہ واضح نہیں کہ وائٹ ہاؤس نے بھارتی وزیراعظم سے ٹوئٹر دوستی کیوں ختم کی، نہ ہی یہ واضح ہے کہ آیا اس سے بھارت اور امریکا کے مابین تلخی کی عکاسی ہوتی ہے کہ نہیں

    بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے وائٹ ہائوس کی طرف سے صدر اور وزیر اعظم کو ٹوئٹر پر ان فالو کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت خارجہ کو اس معاملے کا فوری نوٹس لینا چاہئے ۔