Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • کرونا وائرس ،ترکی میں ایک روز میں 2393 مریض، ہلاکتوں میں بھی اضافہ

    کرونا وائرس ،ترکی میں ایک روز میں 2393 مریض، ہلاکتوں میں بھی اضافہ

    کرونا وائرس ،ترکی میں ایک روز میں 2393 مریض، ہلاکتوں میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچا رکھی ہے، ترکی میں بھی کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے، ترکی میں ایک روز میں 2392 نئے مریض سامنے آئے ہیں

    ترکی نے کرونا وائرس کے باعث 28 مئی تک قومی اور بین الاقوامی فضائی آپریشن معطل کر رکھا ہے،ترکی کے وزیر صحت فرحتین کوکا کا کہنا تھا کہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کے 2392 نئے مریض سامنے آئے جبکہ 92 مریضوں کی 24 گھنٹوں میں ہلاکت ہوئی،

    ترکی میں کرونا وائرس سے اموات کی تعداد 3 ہزار 81 ہوگئی ہے۔ جبکہ مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 15 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے

    ترکی میں اب تک مجموعی طور پر 948115 لوگوں کے ٹیسٹ کئے گئے ہیں ۔ترکی میں 38809 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ 1621 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے ۔

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    ترکی کی کرنسی کی گراوٹ کے نتیجے میں ترکی معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے جبکہ کرونا کی بیماری نے ترکی می معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ترکی کی آبادی 8 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ ہے مگر اس نے کسی دوسرے یورپی ملک کی طرح ملک بھرمیں مکمل لاک ڈاﺅن نہیں کیا۔ ترک صدر رجب طیب اردوان معیشت کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں مگر اس کے نتیجے میں کرونا وبا تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے

    ترکی میں کرونا وائرس کی وجہ سے سکولوں کی بندش کے بعد آن لائن درس و تدریس کے لئے ٹی وی چینلز کو وقف کر دیا گیا ہے۔ طلبا ء کو جسمانی ہر چست رکھنے کے لئے ایکسرسائزز بھی سکھائی جا رہی ہیں،ترک پولیس کے اہلکار بزرگ شہریوں کو گھروں پر غذائی و طبی اشیاء پہنچا رہے ہیں ،ترکی حکومت نے کورونا وائرس کے اثرات سے بچنے کے لیے بزرگ شہریوں کے گھروں سے باہر نکلنے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ اس صورتحال میں گھروں میں ان کی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں۔

  • گھر جاکر کورونا سے لڑو! چینی بحریہ نے امریکی جہاز کو باہر کا راستہ دکھایا

    گھر جاکر کورونا سے لڑو! چینی بحریہ نے امریکی جہاز کو باہر کا راستہ دکھایا

    بیجنگ:گھر جاکر کورونا سے لڑو! چینی بحریہ نے امریکی جہاز کو باہر کا راستہ دکھایا،اطلاعات کے مطابق چینی بحریہ نے امریکی جنگی بحری جہاز کو متنازعہ جنوبی چین کے پانی سے باہر منتقل کردیا ہے۔ چینی بحری جنگی طیاروں اور بحری جنگی جہازوں نے امریکی جنگی جہاز کو اچھالا اور اسے فائر کردیا

    چینی بحریہ نے امریکی جنگی بحری جہاز کو متنازعہ جنوبی چین کے پانی سے باہر منتقل کردیا ہے۔ چینی بحری جنگی طیاروں اور بحری جنگی جہازوں نے امریکی جنگی جہاز کو اچھالا اور اسے فائر کردیا۔ چینی عہدے داروں نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ اشتعال انگیز اقدامات کررہا ہے۔

    یو ایس ایس بیری نامی یو ایس گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر نے سنہوا جزیرے کے قریب بیجنگ کے علاقائی پانی میں داخل ہوا۔ چینی بحریہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ واقعہ منگل کے روز پیش آیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے اشتعال انگیز اقدامات نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی اور چین کی خودمختاری کی بھی خلاف ورزی کی۔

    چینی بحریہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم پر زور ہے کہ امریکہ اس مہاماری کی روک تھام پر اپنی توجہ مرکوز کرے اور علاقائی سلامتی ، امن اور استحکام کے خلاف فوجی سرگرمیوں پر فوری نگرانی کرے۔امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ وہ چین کے طیارہ بردار بحری جہاز کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

    حالیہ ہفتوں کے دوران چین اور امریکہ کے مابین تناؤ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، دونوں ممالک کے عہدیداروں نے ایک دوسرے پر کورونا وائرس کے بارے میں الزامات عائد کیے ہیں۔

    چینی بحریہ نے امریکی جنگی بحری جہاز کو متنازعہ جنوبی چین کے پانی سے باہر منتقل کردیا ہے۔ چینی بحری جنگی طیاروں اور بحری جنگی جہازوں نے امریکی جنگی جہاز کو اچھالا اور اسے فائر کردیا۔ چینی عہدے داروں نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ اشتعال انگیز اقدامات کررہا ہے۔

    یو ایس ایس بیری نامی یو ایس گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر نے سنہوا جزیرے کے قریب بیجنگ کے علاقائی پانی میں داخل ہوا۔ چینی بحریہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ واقعہ منگل کے روز پیش آیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے اشتعال انگیز اقدامات نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی اور چین کی خودمختاری کی بھی خلاف ورزی کی۔

    چینی بحریہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم پر زور ہے کہ امریکہ اس مہاماری کی روک تھام پر اپنی توجہ مرکوز کرے اور علاقائی سلامتی ، امن اور استحکام کے خلاف فوجی سرگرمیوں پر فوری نگرانی کرے۔امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ وہ چین کے طیارہ بردار بحری جہاز کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

    حالیہ ہفتوں کے دوران چین اور امریکہ کے مابین تناؤ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، دونوں ممالک کے عہدیداروں نے ایک دوسرے پر کورونا وائرس کے بارے میں الزامات عائد کیے ہیں۔چینی بحریہ نے امریکی جنگی بحری جہاز کو متنازعہ جنوبی چین کے پانی سے باہر منتقل کردیا ہے۔ چینی بحری جنگی طیاروں اور بحری جنگی جہازوں نے امریکی جنگی جہاز کو اچھالا اور اسے فائر کردیا۔ چینی عہدے داروں نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ اشتعال انگیز اقدامات کررہا ہے۔

    یو ایس ایس بیری نامی یو ایس گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر نے سنہوا جزیرے کے قریب بیجنگ کے علاقائی پانی میں داخل ہوا۔ چینی بحریہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ واقعہ منگل کے روز پیش آیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے اشتعال انگیز اقدامات نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی اور چین کی خودمختاری کی بھی خلاف ورزی کی۔

    چینی بحریہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم پر زور ہے کہ امریکہ اس مہاماری کی روک تھام پر اپنی توجہ مرکوز کرے اور علاقائی سلامتی ، امن اور استحکام کے خلاف فوجی سرگرمیوں پر فوری نگرانی کرے۔امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ وہ چین کے طیارہ بردار بحری جہاز کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

    حالیہ ہفتوں کے دوران چین اور امریکہ کے مابین تناؤ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، دونوں ممالک کے عہدیداروں نے ایک دوسرے پر کورونا وائرس کے بارے میں الزامات عائد کیے ہیں۔

    چینی بحریہ نے امریکی جنگی بحری جہاز کو متنازعہ جنوبی چین کے پانی سے باہر منتقل کردیا ہے۔ چینی بحری جنگی طیاروں اور بحری جنگی جہازوں نے امریکی جنگی جہاز کو اچھالا اور اسے فائر کردیا۔ چینی عہدے داروں نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ اشتعال انگیز اقدامات کررہا ہے۔

    یو ایس ایس بیری نامی یو ایس گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر نے سنہوا جزیرے کے قریب بیجنگ کے علاقائی پانی میں داخل ہوا۔ چینی بحریہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ واقعہ منگل کے روز پیش آیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے اشتعال انگیز اقدامات نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی اور چین کی خودمختاری کی بھی خلاف ورزی کی۔

    چینی بحریہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم پر زور ہے کہ امریکہ اس مہاماری کی روک تھام پر اپنی توجہ مرکوز کرے اور علاقائی سلامتی ، امن اور استحکام کے خلاف فوجی سرگرمیوں پر فوری نگرانی کرے۔امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ وہ چین کے طیارہ بردار بحری جہاز کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

    حالیہ ہفتوں کے دوران چین اور امریکہ کے مابین تناؤ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، دونوں ممالک کے عہدیداروں نے ایک دوسرے پر کورونا وائرس کے بارے میں الزامات عائد کیے ہیں۔

    چینی بحریہ نے امریکی جنگی بحری جہاز کو متنازعہ جنوبی چین کے پانی سے باہر منتقل کردیا ہے۔ چینی بحری جنگی طیاروں اور بحری جنگی جہازوں نے امریکی جنگی جہاز کو اچھالا اور اسے فائر کردیا۔ چینی عہدے داروں نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ اشتعال انگیز اقدامات کررہا ہے۔

  • ایک اور امریکی جنگی بحری بیڑے میں 64 امریکی فوجی کرونا کا ہوئے شکار

    ایک اور امریکی جنگی بحری بیڑے میں 64 امریکی فوجی کرونا کا ہوئے شکار

    ایک اور امریکی جنگی بحری بیڑے میں 64 امریکی فوجی کرونا کا ہوئے شکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایک اور امریکی جنگی جہاز میں 64 امریکی فوجیوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے

    امریکہ کی کیلیفورنیا میں سان ڈیاگو بحری اڈے میں جنگی جہاز یو ایس ایس کڈ پر تعینات 64 امریکی فوجیوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے،واشنگٹن کے اخبار ڈیلی ہیرالڈ کے مطابق جنگی جہاز پر عملے کے 300 اراکین ہیں اور ان سب کے ٹیسٹ کروائے گئے ہیں جن میں اسے 63 کے کرونا ٹیسٹ مثبت آئے

    امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ جہاز کو سان ڈیاگو میں سینیٹائز اور صاف کیا جا رہا ہے جبکہ عملہ ارکان کو آئیسولیشن اور قرنطینہ مرکز میں منتقل کر دیا گیا ہے

    امریکہ کا یہ دوسرا جنگی جہاز ہے جو کرونا وائرس سے متاثر ہوا ہے جبکہ طیارہ بردار جنگی جہاز یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ سمندر میں تعینات ہے۔ كڈ جنگی جہاز مشرقی الکاہل میں بڑھتی ہوئی اسمگلنگ روکنے کے لئے حال ہی میں تعینات کیا گیا تھا

    امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس کڈ میں تعینات 18 اہلکار کورونا کے مریض بن چکے ہیں جبکہ کورونا کیسز میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اس سے قبل تیوڈور روزویلٹ نامی نیو کلیئر ہتھیار سے لیس امریکی بحری بیڑے کے عملے میں 550 سے زائد افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔ جس میں پانچ ہزار افراد سوار ہیں

    جہاز کے کپتان نے فوری مدد کے لیے پینٹاگون کو خط لکھا تھا. امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق بحری بیڑے کے کپتان بریٹ کروزیئر نے چار صفحات پر مشتمل ایک خط میں پینٹاگون کو آگاہ کیا کہ بحرالکاہل کے ایک امریکی علاقے گوام میں ان کا بیڑا موجود ہے اور کرونا وائرس بیڑے پر تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے باعث چار ہزار اہلکاروں کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے.

  • لاک ڈاؤن کی اہمیت بتانے جانیوالی پولیس پر عوام کا حملہ،سات اہلکار زخمی

    لاک ڈاؤن کی اہمیت بتانے جانیوالی پولیس پر عوام کا حملہ،سات اہلکار زخمی

    لاک ڈاؤن کی اہمیت بتانے جانیوالی پولیس پر عوام کا حملہ،سات اہلکار زخمی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کے حوالہ سے عوام کو آگاہی دینے اور قوانین پر پابندی کے حوالہ سے جانے والی پولیس ٹیم پر شہریوں نے دھاوا بول دیا

    واقعہ بھارتی ریاست بہار میں پیش آیا جہاں ضلع چمپارن کے تھانہ پکڑی دیال کی حدود میں اجگری گاؤں میں کرونا سے بچاؤ کے لئے نافذ لاک ڈاؤن کے حوالہ سے احتیاطی تدابیر بتانے اور لاک ڈاؤن پر عمل کروانے کے لئے پولیس ٹیم پہنچی تو شہریوں نے ملکر حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں دو خواتین پولیس اہلکاروں سمیت 7 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے

    پولیس سپرنٹنڈنٹ نوین چندر جھا کا کہنا تھا کہ پولیس تو عوام کو لاک‌ ڈاؤن کی اہمیت سمجھانے گئی تھی کہ اس سے عوام کرونا سے بچ سکتی ہے لیکن پولیس پر عوام نے حملہ کر دیا،جس کے نتیجے میں سات اہلکار زخمی ہوئے جن کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے زخمیوں میں سادھو شرن سنگھ، خاتون سپاہی انجنی کماری، محمد امام الدین، کشوری رائے اور ڈرائیور رامائن ٹھاکرو دیگر شامل ہیں

    شادی سے انکار، لڑکی نے کی خودکشی تو لڑکے نے بھی کیا ایسا کام کہ سب ہوئے پریشان

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    اپوزیشن جماعت کے سینئر رہنما،سابق پارٹی ترجمان کی ہوئی کرونا سے موت

    کرونا وائرس، اگست تک بھارت میں ہو سکتے ہیں 3 کروڑ مریض،مودی سرکار نے سر پکڑ لیا

    کرونا کا خوف، بھارت میں فوج کے بعد پولیس والوں کو بھی چھٹی دے دی گئی

    کرونا لاک ڈاؤن میں بھی جرائم کم نہ ہو سکے،15 روز میں 100 افراد قتل

    کرونا وائرس سے لڑنے کی بھارتی صلاحیت جان کر مودی بھی شرمسار ہو جائے

    واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولس سپرنٹنڈنٹ ، ڈپٹی پولس سپرنٹنڈنٹ دنیش کمار پانڈے سمیت دیگر سنیئر افسران بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور پولیس پارٹی پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا، پولیس نے 25 سے زائد لوگوں کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ علاقہ میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے، لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والے کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے

    دہلی میں سی آر پی ایف میں کرونا پھیلنے لگا، ایک ہلاک، 47 مریض

  • سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے زلفی بخاری نے پھرمیدان مار لیا

    سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے زلفی بخاری نے پھرمیدان مار لیا

    اسلام آباد :سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے زلفی بخاری نے پھرمیدان مار لیا ،اطلاعات کےمطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید زلفی بخاری نے سعودی عرب میں پھنسے پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کے لیے آئندہ ہفتے سے اضافی فلائٹس چلانے کا عندیہ دیا ہے۔

    سعودی عرب میں پاکستانی برادری سے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے زلفی بخاری نے کہا کہ پاکستان اس وقت سعودی عرب سے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے ہر ہفتے دو فلائٹس چلا رہا ہے اور آئندہ مرحلے میں اس میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ آنے والے ہفتوں میں ان فلائٹس کی تعداد تین سے پانچ تک کرنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کر رہا ہوں اور پاکستانیوں کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران اپنے شہریوں کو مستقل بنیادوں پر وطن واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

     

    معاون خصوصی نے کہا تھا کہ حکومت پر دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا کے سبب پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو واپس لانے کی ذمے داری ہے اور ترجیح ان پاکستانیوں کو دی جا رہی ہے جو وہاں محصور ہو گئے ہیں۔اس سے قبل زلفی بخاری نے کہا تھا کہ ملک ہر ہفتے 2ہزار پاکستانیوں کو وطن واپس لانے کی استعداد رکھتا ہے اور اس تعداد کو 6ہزار تک بڑھایا جا چکا ہے جبکہ اس تعداد میں مزید اضافہ کر کے 8ہزار تک لے جایا جا سکتاہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں 15ہزار 500 پاکستانی ہیں جو فوری طور پر وطن واپس آنا چاہتے ہیں جس میں 6ہزار بے روزگار مزدور ہیں، ساڑھے تین ہزار ایسے افراد ہیں جو چھٹیاں لے چکے ہیں جبکہ بقیہ افراد بھی مختلف وجوہات کی وجہ سے واپس آنا چاہتے ہیں۔انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ بیروزگار مزدوروں میں وہ افراد شامل ہیں جنہیں سعودی کمپنیوں نے اس وبا سے قبل ہی اپنے اداروں سے نکال دیا تھا۔

    زلفی بخاری نے کہا کہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق صرف 3ہزار 66 مزدور ایسے ہیں جنہیں کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے سعودی کمپنیوں نے نکالا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے تمام پاکستانی سفارتخانوں اور قونصل خانوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ وطن واپس آنے کے خواہشمند افراد میں بیمار افراد کو ترجیح دیں جبکہ لاشوں کو بھی پاکستان واپس لانے کے لیے انتظامات کیے جا چکے ہیں۔

    معاون خصوصی نے تمام اوورسیز پاکستانیوں سے درخواست کی کہ وہ غیرضروری طور پر پاکستان سفر کرنے سے گریز کریں اور ان لوگوں کو موقع دیں جن کا کورونا وائرس کی وجہ سے ویزہ ختم یا نوکریاں جا چکی ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے ایک حکمنامہ جاری کرتے ہوئے کمپنیوں کو ملازموں کو نہ نکالنے کا حکم دیا تھا اور ہم سعودی عرب کی حکومت کے شکر گزار ہیں جو ہمارے ملک کے لوگوں سے دیگر ملکوں کے شہریوں کی نسبت بہتر رویہ رکھے ہوئے ہے۔

    زلفی بخاری نے دعویٰ کیا کہ بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو کورونا وائرس کی وبا کے دوران وطن واپس لانے کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو عالمی سطح پر بھی بہت زیادہ سراہا گیا جبکہ سعودی عرب میں اپنے ہم وطنوں کا خیال رکھنے پر انہوں نے پاکستانی برادری کے جذبہ خیرسگالی کو سراہا۔

    اس اجلاس کا انعقاد وزارت سمندر پار پاکستانی نے کیا تھا تاکہ سعودی عرب میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے لیے جانے والے اقدامات کے بارے میں سراہا جا سکے۔اجلاس میں سعودی میں پاکستانی سفارتخانے اور قونصل خانے کے عہدیداران سمیت 50 سے زائد افراد نے شرکت کی۔

  • کووڈ 19 کے علاج کے لیے پہلی دوا کے ملنے کی امیدیں بڑھ گئیں

    کووڈ 19 کے علاج کے لیے پہلی دوا کے ملنے کی امیدیں بڑھ گئیں

    لندن :کووڈ 19 کے علاج کے لیے پہلی دوا کے ملنے کی امیدیں بڑھ گئیں ، ،اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کا فی الحال کوئی علاج دستیاب نہیں اور طبی ماہرین اس کی علامات کے مطابق ادویات تجویز کرتے ہیں۔

    دوسری طرف بعض ماہرین کاکہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اب اس بیماری کے لیے پہلی دوا سامنے آنے والی ہے جس کی وجہ امریکی کمپنی گیلاڈ سائنز کی جانب سے کیا جانے والا دعویٰ ہے جس کے مطابق وبائی مرض کے خلاف تیار کردہ دوا ریمیڈیسیور نے ایک اہم ترین ٹرائل میں کامیابی حاصل کی ہے۔

    اینٹ وائرل دوا ریمیدیسیور پر دنیا بھر میں کووڈ 19 کے مریضوں پر متعدد ٹرائلز ہورہے ہیں اور کمپنی کے مطابق یو ایس نیشنل ہیلتھ میں ہونے والی ایک تحقیق میں اس دوا کو بیماری کے خلاف کارآمد دریافت کیا گیا۔تاہم کمپنی نے اس حوالے سے کوئی ڈیٹا فراہم نہیں کیا۔

    کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ‘ہم سمجھتے ہیں کہ اس ٹرائل میں مطلوبہ کامیابی حاصل ہوئی ہے’۔درحقیقت اس کا مطلب ہے کہ اس دوا کے استعمال سے مریض دیگر ادویات کے مقابلے میں زیادہ جلد صحتیاب ہوسکتے ہیں۔کمپنی کا کہنا تھا کہ یو ایس نیشنل ہیلتھ انسٹیٹوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشز ڈیزیز کی جانب سے ایک بریفنگ میں مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ریمیڈیسیور کو اس وقت کورونا وائرس کے خلاف آزمائی جانے والی دیگر ادویات کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دی جارہی ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ ریمیڈیسیور کے حوالے سے چین میں ہونے والی ایک تحقیق میں اس کے اثرات کو دیگر ادویات کے مقابلے میں زیادہ مفید قرار نہیں دیا گیا تھا۔چین میں ہونے والی تحقیق کو مریضوں کی کمی کے باعث ابتدائی مرحلے میں روک دیا گیا تھا اور اسی وجہ سے نتائج کو بھی دیگر طبی ماہرین نے نامکمل قرار دیا تھا۔کووڈ 19 کے خلاف موثر علاج ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا کیونکہ ابھی کووڈ 19 کے مریضوں پر ایسی ادویات کی آزمائش ہورہی ہے جن کی منظوری نہیں دی گئی۔

    ریمیڈیسیور کو انجیکشن کے ذریعے دیا جاتا ہے اور اب تک ہسپتال میں زیرعلاج مریضوں پر آزمایا گیا اور اسے حفاظتی طریقہ علاج یا معتدل علامات والے مریضوں کی مدد کے لیے آزمایا نہیں گیا۔اس سے قبل رواں ماہ کے وسط میں شکاگو کے ایک ہسپتال میں اس دوا کے ٹرائل کے نتائج جاری کیے گئے تھے۔

    یونیورسٹی آف شکاگو میڈیسین میں کووڈ 19 کے 125 مریضوں کو دوا ساز کمپنی کی کلینیکل ٹرائلز کے تیسرے مرحلے میں شامل کیا گیا تھا۔125 میں سے 113 افراد میں بیماری کی شدت زیادہ تھی اور ان سب مریضوں کے علاج کے لیے ریمیڈیسیور سیال کو انجیکشن کے ذریعے روزانہ جسم میں انجیکٹ کیا گیا۔

    شکاگو یونیورسٹی کی وبائی امراض کی ماہر اور اس تجرباتی دوا کی تحقیق کی نگرانی کرنے والی ڈاکٹر کیتھلین مولین نے بتایا ‘بہترین خبر یہ ہے کہ ہمارے بیشتر مریض اب ڈسچارج ہوچکے ہیں، اب صرف 2 مریض باقی رہ گئے ہیں’۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ اس دوا کے استعمال سے مریضوں کے بخار اور نظام تنفس کی علامات بہت جلد ختم ہوگئیں اور ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں تمام مریضوں کو صحتیاب قرار دے کر ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا۔

    ڈاکٹر کیتھلین نے کوئی واضح نتیجہ بیان کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا ‘یہ بہت مشکل ہے، کیونکہ اس تحقیق میں دیگر ادویات کا استعمال کرنے والے گروپ کا موازنہ نہیں کیا گیا، مگر جب ہم نے دوا کا استعمال شروع کیا، تو ہم نے دیکھا کہ بخار کی شدت میں کمی آنے لگی، ہم نے دیکھا جب مریض شدید بخار کے ساتھ آتے تو اس دوا سے اس میں فوری کمی آتی، ہم نے لوگوں کو علاج کے ایک دن بعد ہی وینٹی لیٹرز سے باہر آتے دیکھا، تو مجموعی طور پر ہمارے مریضوں پر اس دوا نے بہت اچھا کام کیا’۔

    ان کا کہنا تھا ‘ہمارے بیشتر مریضوں میں بیماری کی شدت بہت زیادہ تھی اور ان میں سے بیشتر 6 دن میں ڈسچارج بھی ہوگئے، تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ علاج کا دورانیہ 10 دن نہیں تھا، بہت کم مریض یعنی شاید 3 افراد ایسے تھے جن کو 10 دن میں ڈسچارج کیا گیا’۔

    گیلاڈ کی سنگین کیسز پر دنیا بھر میں 152 مختلف کلینکل ٹرائلز میں 24 سو مریضوں کو شامل کیا گیا ہے جبکہ 169 مختلف مراکز میں 16 سو معتدل مریضوں پر الگ ٹرائلز پر کام ہورہا ہے۔ان ٹرائلز میں دوا سے 5 اور 10 روزہ علاج کے کورسز پر تحقیقات کی جارہی ہے اور بنیادی مقصد یہ دیکھنا ہے کہ مریضوں کے لیے دونوں کورسز میں سے زیادہ موثر کونسا ہے۔

    اس سے قبل 10 اپریل کو جریدے نیو انگلینڈ جنرل آف میڈیسن میں شائع تحقیق میں اس دوا کا استعمال مریضوں کے ایک چھوٹے گروپ میں کیا گیا اور ان میں سے ایک اکثریت کی حالت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔تحقیق میں 53 مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جن کا تعلق امریکا، یورپ اور برطانیہ سے تھا اور حالت خراب ہونے پر ان میں سے 50 فیصد کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا جبکہ 4 کو ہارٹ۔لنک بائی پاس مشین سے منسل کیا گیا تھا۔

    ان سب مریضوں کو 10 دن تک اس دوا کا استعمال کرایا گیا اور 18 دن میں 68 فیصد کی حالت میں بہتری آگئی اور جسم میں آکسیجن کی سطح میں اضافہ ہوا۔30 میں سے 17 افراد جو وینٹی لیٹر پر تھے، وہ لائف سپورٹ مشینوں سے نکلنے کے قابل ہوگئے، جبکہ تحقیق میں شامل 50 فیصد کے قریب افراد صحتیاب ہونے کے بعد ڈسچارج ہوگئے مگر 13 فیصد ہلاک ہوگئے۔

    لاس اینجلس کے سیڈا سینائی میڈیکل سینٹر کے ڈائریکٹر اور تحقیقی ٹیم میں شامل جوناتھن ڈی گرائن نے کہا ‘ہم اس ڈیٹا سے کوئی حتمی نتیجہ تو نہیں بیان کرسکتے، مگر ہسپتال میں زیرعلاج مریضوں کے مشاہدے سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ریمیڈیسیور کے نتائج حوصلہ افزا ہیں’۔تحقیق میں اس دوا کو کووڈ 19 کے علاج کے لیے محفوظ اور مؤثر دریافت کیا گیا۔

    اس دوا کو وبائی امراض جیسے ایبولا پر قابو پانے کے لیے تیار کیا گیا تھا اور نئے کورونا وائرس پر ابتدائی پر مؤثر ثابت ہونے کی علامات پر چین میں انسانوں پر اس کا ٹرائل فوری طور پر شروع کیا گیا۔جنوری میں طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ امریکا میں اس وائرس کے پہلے مریض کا نمونیا اسی تجرباتی دوا کے استعمال سے بہتر ہوا۔

    اس نئے وائرس کی وبا سے پہلے بھی امریکا میں مختلف یونیورسٹیوں نے لیبارٹریز ٹیسٹوں میں دریافت کیا تھا کہ یہ دوا متعدد اقسام کے کورونا وائرسز کے خلاف موثر انداز سے کام کرتی ہے۔

  • امریکا، خلیج فارس کو واشنگٹن یا نیویارک سمجھنے کی غلطی نہ کرے، ایرانی صدرنے کھری کھری سنادیں

    امریکا، خلیج فارس کو واشنگٹن یا نیویارک سمجھنے کی غلطی نہ کرے، ایرانی صدرنے کھری کھری سنادیں

    تہران :امریکا، خلیج فارس کو واشنگٹن یا نیویارک سمجھنے کی غلطی نہ کرے، ایرانی صدرنے کھری کھری سنادیں ،اطلاعات کےمطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی پر ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکا کو پیغام دیا ہے کہ انہیں روزانہ کی بنیاد پر ایرانی قوم کے خلاف منصوبہ بندی نہیں کرنی چاہیے۔

    ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ تہران اور امریکا کے درمیان حالیہ عرصے کے دوران ہونے والے تنازعات کی وجہ سے تجارتی محاذ آرائی جاری ہے اور سمندر میں بھی کئی مواقع پر دونوں کی کشتیاں اور مسلح دستے آمنے سامنے آ چکے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان آخری مرتبہ کشیدگی اس وقت انتہا کو پہنچ گئی تھی جب 15 اپریل کو امریکا نے کہا تھا کہ بحیرہ عرب میں 11 ایرانی کشتیوں نے امریکی بحریہ کی کشتیوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں کہا تھا کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو حکم دیا ہے کہ اگر ایران ہماری کشتیوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کرے تو انہیں تباہ کر دیں۔ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے امریکی ہم منصب اس بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکیوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس خلیج کو خلیج نیویارک یا خلیج واشنگٹن نہیں بلکہ خلیج فارس کہا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ امریکیوں کو اس نام سے صورتحال کو سمجھنا چاہیے اور اس ساحلی قوم کے نام سے چیزوں کو سمجھنا چاہیے جو کئی ہزاروں سالوں سے اس پانی کی حفاظت کر رہی ہے، انہیں ایرانی قوم کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر منصوبہ بندی نہیں کرنی چاہیے۔

    کابینہ کے اجلاس کے بعد ٹیلی ویژن سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ہماری مسلح افواج کے سپاہی انقلاب کے محافظ ہیں، فوج، باسج اور پولیس خلیج فارس کی محافظ رہی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی۔

    ایران اور امریکا کے درمیان کئی دہائیوں سے تنازعات چل رہے ہیں لیکن دونوں ملکوں کے دوران تناؤ اس وقت انتہا کو پہنچ گیا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے کیے گئے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کردیا تھا اور ان کے جوہری پروگرام کو منجمد کرتے ہوئے ایران پر سخت معاشی پابندیاں عائد کردی تھیں۔

    دونوں حریف گزشتہ سال جولائی سے اب تک دو مرتبہ براہ راست عسکری لڑائی کے انتہائی قریب آئے چکے ہیں۔گزشتہ سال ایران نے امریکی ڈرون کو مار گرایا تھا اور اس موقع پر ٹرمپ نے جوابی فضائی حملے کو آخری وقت میں روک لیا تھا۔پھر رواں سال جنوری میں عراق میں امریکی فضائی کارروائی میں ایرانی جنرل قاسلم سلیمانی ہلاک ہو گئے تھے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان باقاعدہ جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔

  • کورونا وائرس: دنیا کے نصف محنت کشوں کا روزگار خطرے سے دوچار،غربت ، افلاس کے بعد جرائم ؟

    کورونا وائرس: دنیا کے نصف محنت کشوں کا روزگار خطرے سے دوچار،غربت ، افلاس کے بعد جرائم ؟

    اسلام آباد:کورونا وائرس: دنیا کے نصف محنت کشوں کا روزگار خطرے سے دوچار،غربت ، افلاس کے بعد جرائم ؟ ،اطلاعات کے مطابق انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں غیر رسمی معیشت اور دنیا بھر کے لاکھوں کاروباری اداروں کے محنت کشوں پر تباہ کن اثر پڑے ہیں۔

    بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن نے خبردار کیا کہ کووڈ 19 کے وبا کی وجہ سے عالمی سطح پر کام کے اوقات میں مسلسل کمی آئی ہے جس کا مطلب ہوا کہ غیر رسمی معیشت کے ایک ارب 60 کروڑ محنت کشوں کا روزگار خطرے میں پڑ گیا ہے۔آئی ایل او کے مطابق ’مذکورہ اعداد و شمار عالمی افرادی قوت کا نصف حصہ بنتا ہے‘۔

    ’آئی ایل او مانیٹر تھرڈ ایڈیشن: کووڈ 19 اور کام کی دنیا‘ کے نام سے شائع رپورٹ کے مطابق 2020 کی دوسری سہ ماہی میں کام کے اوقات میں کمی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے۔بحران سے پہلے یعنی 2019 کے آخری 4 ماہ کے مقابلے میں 10.5 فیصد تنزلی کا امکان تھا جو 30 کروڑ 50 لاکھ کل وقتی ملازمتوں کے برابر ہے۔

    رپورٹ کے مطابق گزشتہ تخمینہ 6.7 فیصد کمی سے متعلق تھا جو 19 کروڑ 50 لاکھ کل وقتی ملازمتوں کے برابر تھا، آئی ایل او کے مطابق یہ لاک ڈاؤن اقدامات کی توسیع کی وجہ سے تھا۔رپورٹ کے مطابق علاقائی طور پر تمام بڑے علاقائی گروہوں کی صورتحال بدترین ہوگئی ہے۔

    تخمینے کے مطابق بحران سے پہلے امریکا کے لیے دوسری سہ ماہی میں کام کے اوقات میں 12.4 فیصد کمی اور یورپ اور وسطی ایشیا کے لیے 11.8 فیصد کمی متوقع تھیں۔علاوہ ازیں علاقائی گروہوں کے تخمینہ تقریباً 9.5 فیصد سے تجاوز تھے۔

    رپورٹ کے مطابق غیر رسمی معیشت کے تقریباً ایک ارب 60 کروڑ محنت کش سب سے زیادہ متاثر ہوں گے جہنیں یومیہ اجرت کے حصول میں شدید پریشانی کا سامنا ہوگا۔آئی ایل او کے مطابق مزدوروں کی مذکورہ تعداد لاک ڈاؤن اقدامات کی وجہ سے ہے اور وہ سب سے زیادہ متاثرہ شعبوں میں کام کرتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بحران کے نتیجے میں غیررسمی معیشت سے وابستہ مزدوروں کی آمدنی میں 60 فیصد کی کمی واقع ہوگئی اور اس تناظر میں افریقہ اور امریکا میں 81 فیصد، ایشیا اور بحر الکاہل میں 21.6 فیصد اور یورپ اور وسطی ایشیا میں 70 فیصد کمی واقع ہوگئی۔

    واضح رہے کہ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔اسی تناظر میں وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ماہ کے اواخر میں عوام اور مختلف شعبوں کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کیا تھا جس کے تحت مزدور طبقے کے لیے 200 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔علاوہ ازیں غریب خاندانوں کیلئے 150 ارب روپے مختص، 3 ہزار روپے فی گھرانہ دینے، پناہ گاہوں میں توسیع اور یوٹیلیٹی اسٹورز کیلئے 50 ارب روپے کا پیکج تھا۔

  • کرونا سے نہیں تو کس طرح 38 افراد ہلاک ہوئے اہم خبرآگئی

    کرونا سے نہیں تو کس طرح 38 افراد ہلاک ہوئے اہم خبرآگئی

    سول :کرونا سے نہیں تو کس طرح 38 افراد ہلاک ہوئے اہم خبرآگئی ،اطلاعات کے مطابق ایک ملک میں‌ اتنی بڑی تعداد میں لوگ کرونا نہیں کسی اوروجہ سے مارے گئے اس خبر نے دنیا کورنجیدہ کردیا، اطلاعات کے مطابق جنوبی کوریا میں زیر تعمیر عمارت میں آگ لگنے سے کم ازکم 38 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے۔

    الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی کوریا کے فائر بریگیڈ حکام کا کہنا تھا کہ دارالحکومت سول کے جنوبی علاقے میں زیر تعمیر عمارت میں آگ اس وقت لگی جب مزدور کام میں مصروف تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ عمارت کے اندر مزید کئی افراد پھنسے ہوئے ہیں۔

    زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے 8 مزدوروں کو شدید زخم آئے ہیں جبکہ 2 افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق تقریباً 30 مزدور جائے وقوع سے جان بچا کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔حکام کا کہنا تھا کہ عمارت میں آگ لگنے کی وجہ معلوم کی جارہی اور اس حوالے سے عہدیدار تفتیش کررہے ہیں۔

    فائر ڈپارٹمنٹ کے سربراہ سیو سیونگ ہیون کا کہنا تھا کہ ‘مزدروں بری طرح جھلس گئے ہیں اور ان کے جسم میں کپڑے کا ایک ٹکڑا تک نہیں بچا ہے’،ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خدشہ کہ جلانے کے تیل سے دھماکا ہوا اور آگ تیزی پھیل گئی اور جانی نقصان ہوا جس کے بعد مزدوروں کو اپنی جان بچانے کے لیے کوئی موقع نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ چند افراد فلورز میں دھواں بھرنے کے نتیجے میں دم گھٹنے سے جان کھو بیٹھے۔

    جنوبی کوریا کے صدر مون جائے نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ امدادی کام کو فوری مکمل کیا جائے اور تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے۔خیال رہے کہ جنوبی کوریا میں تعمیراتی اور دیگر معاملات میں حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جاتا اور جنوبی کوریا کو ایک محفوظ ملک تصور کیا جاتا ہے۔

    جنوبی کوریا کے شہر میریانگ کے ایک ہسپتال میں 2018 میں آگ لگی تھی جس کے نتیجے میں کم ازکم 46 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس سے قبل گوياگ شہر میں ایک بس ٹرمینل پر آتشزدگی کا واقعہ بھی رونما ہوا تھا جہاں 7 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے تھے۔جنوبی کوریا کے مشہور شہر ایشیون میں 2008 میں ایک عمارت میں آگ لگنے سے 40 مزدور ہلاک ہوگئے تھے۔

  • کرونا کے خلاف فرنٹ پر لڑنے والے طبی عملے کے 438 اراکین کرونا کا شکار

    کرونا کے خلاف فرنٹ پر لڑنے والے طبی عملے کے 438 اراکین کرونا کا شکار

    کرونا کے خلاف فرنٹ پر لڑنے والے طبی عملے کے 438 اراکین کرونا کا شکار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں‌ کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری ہے، جہاں عام شہری کرونا سے متاثر ہو رہے ہیں وہیں طبی عملے میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہو رہی ہے

    گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں مزید 39 ہیلتھ پروفیشنلز کورونا کا شکار ہوئے ہیں،گزشتہ 24 گھنٹے میں 17 ڈاکٹرز، 6 نرسز میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے،گزشتہ 24 گھنٹے میں ملک میں 16 اسپتال ملازمین میں کورونا کی تصدیق ہوئی،24گھنٹے میں بلوچستان کے 6 ڈاکٹرز، 13 پیرامیڈکس ،اسلام آباد کا ایک اسپتال ملازم ،کے پی کے 8 ڈاکٹرز، 1 نرس، ایک اسپتال ملازم ،پنجاب کا ایک ڈاکٹر، 5 نرس، ایک اسپتال ملازم ،سندھ کے دو ڈاکٹرز میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی

    ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا سے دو ڈاکٹرز جاں بحق ہو گئے،کورونا وائرس سے جاں بحق دونوں ڈاکٹز کا تعلق سندھ سے ہے،

    ملک میں تاحال 210 ڈاکٹرز میں کورونا کی تصدیق ہو چکی ہے،ملک میں 67 نرسز، 161 اسپتال ملازمین کورونا کا شکار بن چکے ہیں ،پنجاب 58 ڈاکٹرز، 21 نرسز ،23 پیرامیڈکس میں کورونا کی تصدیق ہو چکی ہے،کے پی 50 ڈاکٹرز، 14 نرسز، 38 پیرامیڈکس میں کورونا کی تصدیق ہو چکی ہے

    سندھ کے 34 ڈاکٹرز، 17 نرسز، 33 پیرامیڈکس کورونا کا شکارہو چکے ہیں،اسلام آباد کے 16 ڈاکٹرز، 10 نرسز، 13 پیرامیڈکس کورونا کا شکارہو چکے ہیں،بلوچستان 50 ڈاکٹرز، 4 نرس، 35 پیرامیڈکس میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے.

    طبی عملے کی شکایات، این ڈی ایم اے نے بڑا قدم اٹھا لیا

    دوسری جانب این ڈی ایم اے نے ڈاکٹروں اورطبی عملے کی شکایات کے اندراج اورازالہ کیلئے ہاٹ لائن کاآغاز کر دیا،ہاٹ لائن یونیورسل نمبر 157-157-111-051 آپریشن روم میں قائم کی گئی ہے،ڈاکٹراورکورونامریضوں کےعلاج سےمنسلک اسپتال عملہ 24گھنٹے رابطہ کرسکتاہے،

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق ڈاکٹراورمیڈیکل اسٹاف ذاتی حفاظتی سامان کی عدم دستیابی شکایات درج کراسکتےہیں، چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ڈاکٹروں،نرسوں اوردوسرےعملے کےتحفظ کیلئے ہرممکنہ اقدامات کررہاہے،

    حکومت کی جانب سے طبی عملے کا مناسب حفاظتی سامان نہ دینے کی وجہ سے پنجاب کے کئی ڈاکٹرز میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے، صرف لاہور میں دل کے ہسپتال پی آئی سی میں 3 ڈاکٹروں سمیت طبی عملے کے 12 افراد میں کرونا کی تشخیص ہو چکی ہے، ملتان کے نشتر ہسپتال میں کم از کم طبی عملے کے 25 افراد میں کرونا کی تشخیص ہوئی ہے

     

    میوہسپتال میں طبی عملے کی حالت زار،گرینڈ ہیلتھ الائنس رہنما یاسمین راشد پر برس پڑے