لاہور:لاک ڈاون نے داڑھی والا بنا دیا کیسا لگتا ہوں ، اقرارالحسن کا قارئین سے سوال پہلی بیوی کا خوبصورت جواب ،باغی ٹی وی کےمطابق معروف صحافی ، فیلڈ رپورٹر اقرارالحسن نے لاک ڈاون کی وجہ سے بڑھنے والی داڑھی پر اپنے قارئین سے رائے طلب کی ہے
باغی ٹی وی کے مطابق اقرارالحسن نے اپنی داڑھی والی تصویرشئیرکی ہے اورپوچھتے ہیں کہ میں کیسے لگتا ہوں ، ان کے سوال کے جواب میں اقرار الحسن کی پہلی بیوی فرح اقرار کہتی ہیں کہ آپ کے چاہنے والوں کی اکثریت تو کہتی ہےکہ آپ کو داڑھی بہت پیاری لگتی ہے اورضرور رکھیں
https://twitter.com/fara_yousaf
فرح اقرار کہتی ہیں کہ اصول ہے کہ جمہوریت کا فیصلہ مانا جاتا ہے ، لٰہذا اب داڑھی رکھنا ہی ہوگی ، اوراگراکثریت کی رائے کوترجیح نہ دی اوردھاندلی ہوئی توپھردھرنا بھی ہوسکتا ہے، اس پرسوشل میڈیا پربہت خوبصورت آراوتجاویز دی جارہی ہیں
وبا، سلیم صافی اور مولویوں کا مسئلہ کیا ہے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ایک اہم مسئلہ ہے ،کئی دن سے لوگ پوچھ رہے ہیں کہ اس پر آپ کی کیا رائے ہے، پاکستان میں مولوی حضرات کیوں بضد ہیں کہ باجماعت نماز اور تراویح پڑھنی ہے ایسے موقع پر جب وبا بری طرح پھیلی ہوئی ہے دنیا اس کے آگے گھٹنے ٹیک چکی ہے.
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ روزنامہ جنگ 22 اپریل کا اس میں میرے بڑے ہی پیارے دوست ہیں سلیم صافی کا ان کا اس پر ایک بھر پور کالم آیا ہے ، سلیم صافی سے ہم نے گفتگو بھی کی، ان کے کالم میں کئی چیزوں سے ایگری کرتا ہوں،اور کچھ چیزیں ، اصل میں سلیم صافی سے آپ اختلاف رائے رکھ سکتے ہیں،وہ شائستہ انسان ہیں اور وہ مہذب زبان استعمال کرتے ہیں،صافی صاحب لوگوں کی عزت ضرور رکھتے ہیں بھلے انکی رائے سے اختلاف کیا جائے، مجھے پتہ ہے کہ میرے پی ٹی آئی کے دوست اس سے ضرور اختلاف کریں گے میں سب کچھ جانتے ہوئے کہہ رہا ہوں
سلیم صافی کا کالم پڑھنا ضروری ہے، انکے کالم کا عنوان ہے وبا اور اہل مذہب، اسکا خلاصہ بہت ہی اہم ہے وہ کہتے ہیں کہ بحران لیڈر بناتے ہیں یا گراتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن، سراج الحق، مولانا طارق جمیل اور مفتی تقی عثمانی اور پیر نقیب الرحمٰن جیسے لوگوں نے کورونا کی وبا کی آزمائش میں اپنے قد بلند کئے۔ مولانا فضل الرحمٰن اُن سیاستدانوں کی صف میں شامل ہیں جن کا حق تبدیلی کی خاطر مارا گیا۔ پھر اُس حکومت نے اُن کے خلاف ہر حد پار کردی۔
مولانا چاہتے تو کورونا کے مسئلے کو حکومت کے خلاف سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر سکتے تھے لیکن کورونا کی وبا سامنے آتے ہی انہوں نے انتہائی جراتمندانہ اور مدبرانہ موقف اپنا کر لوگوں کو وہی کچھ کرنے کا کہا جو ڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں۔
انہوں نے مساجد میں اجتماعات کی پابندی کے حکومتی اقدام کی مزاحمت نہیں کی اور حکومت کی طرف دستِ تعاون بھی دراز کیا۔ اسی طرح سراج الحق صاحب نے بھی پہلے دن سے یہی جراتمندانہ اور سوشل ڈسٹینسنگ پر زور دینے والا موقف اپنایا۔ جماعت کے وسائل بھی حکومت کو آفر کیے فخر کے ساتھ اپنے ڈاکٹر بیٹے کو کورونا کے مریضوں کی خدمت پر مامور کرکے دوسروں کے لئے اعلیٰ مثال قائم کی۔
اسی طرح مفتی تقی عثمانی صاحب نے جو پہلا فتویٰ جاری کیا، وہ نہایت متوازن تھا۔ مولانا طارق جمیل صاحب نے بھی یہ قابلِ ستائش قدم اٹھایا کہ لوگوں کو سوشل ڈسٹینسنگ کی تلقین کی اور میرے ٹی وی پروگرام میں یعنی سلیم صافی کے پروگرام میں اس موقف کی صراحت کے ساتھ وضاحت کی کہ انسانی جان کا تحفظ ہر عبادت سےمقدم ہے۔
اسی طرح عیدگاہ شریف کے سجادہ نشین پیر نقیب الرحمٰن صاحب نے بھی پہلے دن سے جو کوششیں کیں، اس کا محور انسانی جانوں کا تحفظ ہی رہا۔ وبا کا پہلا کیس سامنے آتے ہی میں لکھتا اور بولتا رہا کہ حکومت کو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر تمام دینی جماعتوں کے سربراہوں، علمائے کرام اور مشائخ کو جمع کرکے کورونا کے تناظر میں ایک متفقہ فتویٰ سامنے لانا چاہئے لیکن افسوس کہ حکومت اس طرف متوجہ نہ ہوئی۔
جو برائے نام لاک ڈائون ہوا اس میں پاکستان کے اندر جو شخص سب سے زیادہ کنفیوژن کا شکار رہے، وہ حکمراں ہی تھے۔ اوپر سے کسر یوں پوری کردی گئی کہ گزشتہ ہفتے لاک ڈائون میں نرمی کردی اور بعض شعبوں کو کھول دیا۔ یوں مفتی منیب الرحمٰن صاحب کو جواز ہاتھ آگیا اور انہوں نے بجا طور پر یہ سوال اٹھانا شروع کردیا کہ فلاں فلاں کاروبار کھل سکتے ہیں تو مساجد کیوں نہیں کھل سکتیں۔
دوسری طرف حکومتی اجلاس اور فیصلے سے قبل 14اپریل کو کراچی میں تمام علما کا اجلاس طلب کیا گیا جس میں مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن نے حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے مساجد کے حوالے سے لاک ڈائون ختم کرنے کا اعلان کیا۔ یوں حکومت ہوش میں آئی اور صدر عارف علوی کے ذریعے علمائے کرام کا اجلاس بلایا گیا جس میں بیس نکاتی معاہدے پر دستخط ہوئے۔
گویا حکومت دبائو کے آگے جھک گئی اور فیس سیونگ کے طور پر یہ بیس نکاتی ناقابلِ عمل منصوبہ بنایا گیا۔ ناقابلِ عمل میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ دیہات تو کیا بڑے شہروں کی مساجد میں بھی اس معاہدے پر عمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے ہاں مسجد کی طرف ضعیف العمر لوگ زیادہ لپکتے ہیں۔
میں عالم نہیں ہوںلیکن علمائے کرام اور دینی حلقوں یا جماعتوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بہت ہوا، یوں کسی حد تک مذہبی حلقوں کا مزاج شناس ضرور ہوں۔ یوں مساجد میں باجماعت تراویح پر اصرار کرنے والے لوگوں سے بصد ادب و احترام چند سوالات کا جواب جاننا چاہتا ہوں۔
پہلا سوال یہ ہے کہ مساجد سب محترم ہیں لیکن مسجدالحرام اور مسجدِ نبویﷺ کا مقام تو کسی اور مسجد کو حاصل نہیں۔ اگر وہاں انسانی جان کی حرمت کی وجہ سے امسال عام لوگوں کے لئے تراویح کی نماز تو کیا فرض نمازوں میں بھی شمولیت ممنوع ہے تو ہمارے ہاں اس پر اصرار کیوں کیا جارہا ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ جب پچاس سال سے زائد عمر یا پھر بیمار افراد کو گھر پر تراویح پڑھنے کا وہی ثواب ملے گا جو مسجد میں آنے والوں کو تو پھر باقی لوگوں کو مسجد میں لانے پر اصرار کیوں کیا جارہا ہے؟
تیسرا سوال یہ ہے کہ تراویح نفلی عبادت ہے جبکہ پانچ وقتہ نماز فرض ہے۔ فرض نمازوں کو باجماعت ادا کرنے کا حکم قرآن میں ”وارکعو مع الراکعین“ کی شکل میں دیاگیا ہے جبکہ باجماعت تراویح کے بارے میں قرآن میں ایسا کوئی حکم نہیں آیا۔ اب جب کورونا کی وبا کی خاطر دینی تعلیمات ہی کی روشنی میں فرض نمازیں دو ہفتے گھروں پر ادا کرنے پر علمائے کرام نے بھی اعتراض نہیں کیا تو پھر نفلی عبادت کے لئے باجماعت ادائیگی پر اصرار کیوں کیا جارہا ہے؟
چوتھا سوال یہ ہے کہ علمائے کرام اور حکومت کے اس معاہدے کے باوجود علما کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے میرے ساتھ ٹی وی انٹرویو میں اعلان کیا کہ وہ تراویح گھر پر ہی پڑھیں گے۔ اب اگر علما کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ اگر گھر میں تراویح پڑھ سکتے ہیں اور کسی عالمِ نے ان کے اس فیصلے کے خلاف کوئی فتویٰ نہیں دیا تو پھر دیگر علما دوسروں کی زندگیاں خطرے میں ڈال کر مسجد ہی میں باجماعت تراویح پر اصرار کیوں کرتے ہیں؟
پانچواں سوال یہ ہے کہ ڈاکٹروں کی رائے اور ماہرین کے مشورے کے مطابق اگر حکومتی حکم کے مطابق مساجد میں باجماعت تراویح سے گریز کیا جاتا تو اگر لوگوں کو باجماعت تراویح سے محروم رکھنا گناہ کے زمرے میں آتا بھی تو اس کی ذمہ داری کسی امام مسجد یا عالم کے کاندھوں پر نہ ہوتی۔
قیامت کے روز وہ اللہ کے سامنے یہ عذر پیش کر سکتے ہیں کہ یا اللہ حکومتِ وقت نے پابندی لگائی تھی اور انسانی جانوں کو خطرہ تھا جس کو آپ کے احکامات کے مطابق کعبے سے زیادہ تقدس حاصل تھا۔
اس لئے ہم نے باجماعت تراویح کا احترام نہیں کیا لیکن اب اگر خدانخواستہ کسی بھی مسجد میں اجتماع کی وجہ سے کسی بھی انسانی جان کو خطرہ لاحق ہو گیا تو قیامت کے روز حکومت کے ساتھ ساتھ وہ مذہبی رہنما بھی ذمہ دار ہوں گے جنہوں نے باجماعت تراویح پر اصرار کیا۔ اب میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مفت میں یہ لوگ اتنی بڑی ذمہ داری اپنے کاندھوں پر لینے کے لئے کیوں بےتاب ہیں؟
آخری سوال صرف محترم مفتی منیب الرحمٰن صاحب سے کہ چونکہ ان کی کمیٹی ریاست نے قائم کی ہے اس لئے شرعی لحاظ سے اس کے فیصلے کو تسلیم کرنا لازم ہے اور مفتی پوپلزئی صاحب کی شہادتیں کتنی قوی کیوں نہ ہوں۔ ان کا اقدام ریاست سے بغاوت کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ریاست نے انہیں یہ مینڈیٹ نہیں دیا۔ میں ہر سال مفتی منیب الرحمٰن کے فیصلے کے مطابق روزہ رکھتا ہوں اور عید مناتا ہوں حالانکہ مردان اور نوشہرہ میں مقیم میرے بیشتر رشتہ دار پوپلزئی صاحب کی تقلید کرتے ہیں چونکہ مفتی صاحب کو یہ منصب ریاست نے سونپا ہے اس لئے مجھے اگر ان سے اختلاف بھی ہو تب بھی میں رویتِ ہلال کے معاملے میں ان کی تقلید کرتا ہوں۔
اب جبکہ ریاست نے اٹھارہ اپریل کو فیصلہ کرنا تھا تو مفتی صاحب نے چودہ اپریل کو مساجد کا لاک ڈائون ختم کرنے کا اعلان کرکے ریاست کو چیلنج کیا۔ اب کیا اس معاملے میں مفتی منیب الرحمٰن، مفتی پوپلزئی کے نقشِ قدم پر نہیں گئے اور مسجد کو کھولنے کے معاملے میں جب انہوں نے ریاست سے بغاوت کرلی تو کیا پھر شہاب الدین پوپلزئی وغیرہ کے پاس بھی اب مرکزی رویتِ ہلال کمیٹی سے بغاوت کا حق حاصل نہیں ہو جاتا؟
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم پوائنٹس ہیں، سلیم صافی نے کوشش کی وہ کھل کر نہیں بولے وہ شریف انسان ہیں، میں انکو ہمیشہ کہتا ہوں کہ آپ عمر میں چھوٹے اور درجے میں بڑے ہیں،جنتی ادب سے وہ الگے کو بے نقاب کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے انکو ذوئے کلام دیا ہے
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ سلیم صافی صاحب آپ نے کبھی غور کیا کہ رویت ہلال کمیٹی سال میں ایک مہینے میں اختلاف کی وجہ بن جاتی ہے لیکن باقی مہینوں میں نہیں بنتی ،مذاق اڑوا دیا ہے انہوں نے تین تین دن میں عید ہوتی ہے ،جب ملک میں ایک دن عید ہوئی تھی تو لوگ بڑے خوش تھے کہ مولوی ایک ہو گئے، لوگوں نے جشن منایا،یہان پر یہ بحث چل رہی ہوتی ہے کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ عید کیوں نہ کریں فلاں کے ساتھ کیوں نہ کریں ، اب سعودیہ کے ساتھ کر لیں جب انہوں نے اجتماعات کو بند کیا تو آپ اب بند کیوں نہیں کرتے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ سلیم صافی صاحب اب رمضان آیا ہے رمضان میں ان لوگوں کو صدقات، زکوۃ ملنی ہوتی ہے،خیرات کی رقم آتی ہے کتنی رقم آتی ہے 80 لاکھ مدارس میں طلبا ہیں، 30 لاکھ تو وہ ہیں جن کو وفاق المدارس اعتراف کرتا ہے کہ انکو ڈگری دی جاتی ہیں، 30 لاکھ کا لگا لیتے ہیں،30 لاکھ کا لگائیں اور کم سے کم کھانا اگر 30 روپے کا وقت لگاتے ہیں اور دن میں تین کی بجائے دو وقت کے کھانے کا بھی حساب کرتے ہیں تو 9 کروڑ تو ایک دن کا ہو گیا، سال میں ڈالروں میں چلتا ہے، تین وقت کا کھانا کرنا ہے،تنخواہیں ہیں، بجلی گیس کے بل ہیں، گاڑیاں ، لینڈ کروزرز ہیں، یہ سب ہو جائے تو پتہ ہے کتنے بلین ڈالر پر گیم جاتی ہے،
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ آپ کو پتہ ہے کہ انہوں نے جو صدر مملکت کے ساتھ گیم کی ہے کہ 50، 60 سال سے عمر کا کوئی فرد مسجد نہیں جائے گا، ان میں سے کوئی بھی اس عمر سے کم نہیں ہے،جو معاہدہ کر کے آئے ہیں، اپنی جان کو خطرے میں نہیں ڈالیں گے آپ کے اور ہمارے بچوں کو آگے لائیں گے بالکل ان جہادی تنظیموں کی طرح جہان ان کے اپنے بچے آگے جہاد کے لئے نہیں جاتے، کوئی کدھر پڑھ رہا ہے کوئی کدھر بہت کم لوگ ہیں یہاں پر میں سراج الحق کی عزت کرتا ہوں،کہ انکا بیٹا ڈاکٹر ہے اورانہوں نے وبا سے لڑنے کے لئے اسے بھیج دیا ہے، سلام ہے ان کو.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں مولانا فضل الرحمان صاحب کی ابھی کچھ دن پہلے ان کے صاحبزادے سے ملاقات ہوئی اسدن سے واقعی میں ان کی قدر کرنا شروع ہوا جب میں ان کے بیٹے سے ملا تو وہ باقاعدہ عالم دین کی طرف انکا سفر گامزن ہے، یعنی جو وہ فیل کرتے ہیں وہ اپنی اولاد کی طرف منتقل کر رہے ہیں،یہی ایک دین کی محبت کافی ہے کہ اگر آپ اپنی اولاد کو اسکے لئے وقف کر دیتے ہیں یہ ایک سیریس کمٹمنٹ ہے،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے مذاق بنا لیا ہے،11 مہینے چاند دیکھنے پر لڑائی نہیں ہونی ایک مہینے میں دو بار ہونی ہے اگر اس مہینے میں یہ چپ رہتے ہیں تو یہ بلین ڈالرز کون اکٹھے کرے گا،یہ زکوہ میں کوئی شوکت خانم،. انمول الخدمت، گھرکی ہسپتال میں چلی جائے گی اور انکو یہ برداشت نہیں،اب آپ کو سمجھ آئی صافی صاحب
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ مفتی صاجب 20 سال سے رویت ہلال کمیٹی کے یہی سربراہ ہیں اور یہ کون سی جاب ہے ہر مراعات لینی ہیں میں مفتی پوپلزئی سے اختلاف رکھتا ہوں لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ مسلمان ہیں اور جو انکے عینی شاہد ہیں وہ بھی مسلمان ہیں، جب ڈیڑھ ڈیڑھ سو رویت آتی ہیں تو پھر پورے ملک میں چار منٹ کا فرق ہے بنتا نہیں کہ انکی ہر شہادت کو رد کریں ایسا بھی ہو چکا ہے کہ کے پی کی رویت ہلال کمیٹی پوپلزئی صاحب سے ایگری کر چکی ہے لیکن مرکزی کمیٹی نے ایگری نہیں کیا یہ مذاق ہے،یہ دوسروں کے بچوں کو مساجد میں لانا چاہتے ہین وہان سماجی فاصلہ نہیں ہو سکتا، ان میں سے اگر ایک بھی موت ہوئی تو ذمہ دار یہ خود ہوں گے، یہاں ایف آئی آر نہین کٹنی کیونکہ صدر محترم ان سے مل چکے ہیں ،اللہ کے حضور ایف آئی آر کٹے گی، جنہوں نے ریاست کے سامنے اس معاملے پر سیاست کرنے کی کوشش نہیں کی وہ قابل احترام ہیں
لاہور:عوام کی خاطرپرائیویٹ اسکولوں میں فیس میں کمی کا پنجاب حکومت کا آرڈیننس جاری،نہیں مانتے ، صدرپرائیویٹ سکولزایسوسی ایشن ،اطلاعات کے مطابق پنجاب حکومت نےنجي اسکولوں کي فیس میں کمی کا آرڈیننس جاری کردیا،یہ آرڈیننس عوامی مطالبے کے بعد لایا گیا ہے جس میں عوام الناس کی طرف سے حکومت سے درخواست کی گئی تھی کہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے بہت زیادہ فیسیں لے رہے ہیں
ذرائع کےمطابق اس آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ حکومت ہنگامی حالات میں نجی اسکولوں کو احکامات جاری کرسکے گی،حکومت نجی اسکولوں کی فیسوں کو ہنگامی حالات میں کم بھی کرواسکتی ہے،حکومت نےفیسوں میں20 فیصدکمی کانوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا
دوسری طرف کاشف مرزاصدرآل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نےفیسوں کے حوالے سے نوٹیفکیشن کوآئین کے آرٹیکل 18سے متصادم اور غیر قانونی قرار دیتے ہوے یکسر مسترد کردیا ہے. ،کاشف مرزا کا کہنا ہےکہ حکومت پنجاب کا فیس میں 20 فی صد کمی کا نوٹیفیکیشن عدالت میں چیلنج کیا جائے گا
کاشف مرزا نےواضح کیا کہ فیس بارے سپریم کورٹ کے فیصلے کےپابند ہیں،کنفیوژن پیدا کرنے کی بجائے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا احترام کرتے ہوئے حکومت یہ فیصلہ واپس لے۔انسانیت کے جذبہ اور کورنٹائیں سے نبٹنے کے لیے ملک بھرکےمستحق طلبا کی فیس ادائیگی کے لیے کرونا ایجوکیشنل ریلیف فنڈقائم کر دیاہے،وزیر اعظم پاکستان اور صوبائی وزراءاعلی کوملک بھر کے2لاکھ پرائیویٹ سکولزآئسولیشن اور قرنطینہ سنٹرز بنانیں اور 15 لاکھ ٹیچرز بطوروالیئنٹیرز پیشکش بھی کر دی گئی۔
ٹیچرز کی تنخواہیں فکس ہیں اورملک بھر میں 90 فیصد اسکول عمارتیں کرائے پر ہیں۔وزیر اعظم پاکستان سے پرائیویٹ سکولزکے لیے ’’تعلیمی ریلیف پیکیج ‘‘ کی استدعا کردی ہے۔وزیر اعظم اور چیف جسٹس پاکستان سے داد رسی کی اپیل بھی کی ہے
وزیر اعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے کورونا وائرس سے متعلق عالمی سطح پر پیدا ہونیوالی صورتحال پر بات چیت کی ہے۔
وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گفتگو میں کورونا وائرس کے معاملے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکا میں کورونا وبا سے ہونے والی اموات پر اظہار افسوس بھی کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے امریکی صدر کو پاکستان میں کورونا پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ ہمیں وبائی صورتحال کیساتھ ساتھ دوہرے چیلنج کا سامنا ہے۔ ہم نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے ساتھ ساتھ غربا کو بھی بھوک سے بچانا ہے۔
دونوں لیڈروں نے کورونا وائرس کی عالمی صورتحال اور درپیش خطرات پر تبادلہ خیال کیا جبکہ اس کے عالمی معیشت پر اثرات اور تدارک کے حوالے سے بھی بات کی۔ دونوں رہنمائوں نے علاقائی امور اور باہمی تعلقات مضبوط بنانے اور پاک امریکا تعلقات کے فروغ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔
وزیراعظم کے قرضوں میں سہولت کے لیے عالمی سطح پر اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس سے پاکستان کو مالی مشکلات میں قابو پانے میں مدد ملے گی۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت متاثرہ افراد کی مدد کے لیے 8 ارب ڈالر کے پیکج کو استعمال کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف اور دیگر فورمز پر حمایت کرنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشکور ہیں۔
اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کورونا صورتحال میں امریکی اقدامات کی حمایت کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے ٹیسٹوں کے لیے جدید مشینیں بھجوانے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو وینٹی لیٹر دینے کیساتھ ساتھ معاشی اور وبا کے خلاف اقدامات میں تعاون جاری رکھیں گے۔ عمران خان نے امریکی صدر کی پیشکش کا شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم عمران خان نے آئی ایم ایف اور دیگر فورمز پر امریکی حمایت پرشکریہ ادا کیا ،وزیراعظم عمران خان نے پرامن اور پائیدار افغانستان کیلئے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا،وزیراعظم عمران خان نے انٹراافغان مذاکرات کی اہمیت پر روشنی ڈالی ،امریکی صدر نے وزیراعظم عمران خان کے ٹیلی فون پر شکریہ ادا کیا ، صدر ٹرمپ نے کورونا سے لڑنے کے لیے امریکی کوششوں کی حمایت کو سراہا .
کابل:22 افغان فوجی کرونا کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک خطرناک لڑائی میں مارے گئے ،اطلاعات کےمطابق افغانستان کے دو صوبوں میں طالبان جنگوؤں نے فوجی چیک پوسٹوں پر دھاوا بول دیا جس میں مجموعی طور پر 22اہلکار ہلاک اور23 زخمی ہوگئے، دو دنوں میں چیک مختلف پوسٹوں پر حملے میں ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد 47 ہوگئی۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان جنگجوؤں نے دو صوبوں سرِپل اور لوگار کی فوجی چیک پوسٹوں پر حملہ کردیا، دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں مجموعی طور پر 22 اہلکار ہلاک اور 23 زخمی ہوگئے جب کہ افغان سیکیورٹی فورسز نے قندھار درجنوں طالبان کے مارے جانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
ترجمان افغان وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے سرِ پل میں 11 اور لوگار میں 8 اہلکار ہلاک ہوئے۔ قندھار میں بھی طالبان اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں درجنوں طالبان جنگجو مارے گئے۔ آزاد ذرائع سے کابل حکومت کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
طالبان کی جانب سے صوبے سرِپل کی افغان فوجی چیک پوسٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے تاہم صوبے لوگار اور قندھار حملوں کے الزام کی نہ تو تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے۔واضح رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کو دو ماہ ہونے کو آ رہے ہیں لیکن تاحال امن قائم نہیں ہوسکا ہے۔ جنگجوؤں اور سیکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ بھی تاحال جا ری ہے۔
ڈنمارک: کرونا نے زندگی کے ضابطے بدل دیئے ،کہیں طلاقیں ،کہیں دو دو شادیاں تو کہیں طلاق کے 31 سال بعد دوبارہ شادی ،اطلاعات کےمطابق دنیا بھر میں کورونا وبا کے تناظر میں دلچسپ واقعات رونما ہورہے ہیں اور اب امریکا میں ایک جوڑے نے طلاق کے 31 سال بعد دوبارہ اسی تاریخ کو شادی کرلی جس تاریخ کو پہلی بار شادی کے بندھن میں بندھے تھے۔
اس وقت خاتون لوٹ اور مرد کیلڈ کی عمر بالترتیب 75 اور 82 برس ہے۔ انہوں نے تین اپریل 1965 کو ڈنمارک کے نکولائی چرچ میں شادی کی تھی اور اب 55 سال بعد عین اسی تاریخ کو دوبارہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے ہیں۔
پہلی شادی کے وقت خاتون کی عمر 20 اور مرد کی عمر 27 برس تھی لیکن 1989 میں یہ شادی طلاق کے بعد ختم ہوگئی تھی۔ پیشے کے لحاظ سے دونوں ہی مصور ہیں اور شادی کے بعد ان کے گھر میں چار بچوں نے جنم لیا۔ لیکن پھر تلخیاں بڑھیں اور دونوں کے درمیان طلاق ہوگئی۔
ان کے درمیان طلاق کی اہم وجہ گھریلو پریشانیاں تھیں۔ سب سے پہلے کیلڈ کینسر کے شکار ہوئے اور اسپتال میں تھے جبکہ خاتون گھر میں بچوں کو دیکھ رہی تھی اور وہ ٹھیک ہوگئے۔ اس کے بعد ان کے گھر کو آگ لگ گئی اوربہت نقصان ہوا۔ اس کے بعد دونوں میاں بیوی نے اپنے اپنے راستے جدا کرلیے۔ لیکن دو سال بعد ان کے درمیان دوبارہ رابطہ شروع ہوگیا۔
2009 کے بعد لوٹ کا اپنڈکس پھٹ گیا جس سے بمشکل ان کی جان بچائی گئی لیکن وہ مستقل وہیل چیئر کی محتاج ہوگئیں۔ اس کے بعد کورونا وبا کے بعد دونوں کو یہ احساس ہوا کہ زندگی میں کسی بھی وقت مشکل پیش آسکتی ہے اور یوں اس ماہ دونوں نے 55 سال پہلے کی شادی اور 31 سال پہلے کی طلاق کے بعد دوبارہ شادی کرلی۔
اسلام آباد: الیکشن قریب آگئے ؟ ووٹنگ کیلیے اوورسیز پاکستانیوں کی رجسٹریشن شروع کرنے کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق حکومت نے سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینے کے لیے رجسٹریشن کا عمل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینے کیلئے ایک بار پھر کوششیں تیز کر دی گئیں، بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلوانے کیلئے اہم اجلاس ہوا جس میں مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان، معاون خصوصی برائے اوورسیز زلفی بخاری،چئیر مین نادرا، ڈی جی آئی ٹی الیکشن کمیشن اور سیکرٹری پارلیمانی امور نےشرکت کی۔
اجلاس میں بیرون ملک پاکستانیوں کی ووٹنگ کے طریقہ کار اور سہولیات کا جائزہ لیا گیا اور اوورسیز پاکستانیوں کی رجسٹریشن فوری شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
رجسٹریشن پاسپورٹ یا نائیکاپ کے ذریعے کی جا سکے گی، الیکشن کمیشن اور نادرا مشترکہ طور پر رجسٹریشن پروگرام کا آغاز کریں گے جب کہ رائے دہی کے عمل کو خفیہ رکھنے کا طریقہ کار بھی طے ہوگا۔تمام اوورسیز پاکستانیوں کو انتخابی عمل میں شریک بنایا جائے گا اور فیصلوں پر عمل درآمد کیلئے آئندہ ہفتے اجلاس دوبارہ طلب کیا گیا ہے
لاہور:کرونا وائرس نے تفریح بھی چھین لی : پاکستان کرکٹ ٹیم کا دورہ نیدرلینڈ ملتوی،اطلاعات کےمطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے کے این سی بی کے مشورے کے بعد جولائی میں شیڈول دورہ نیدرلینڈز کو غیرمعینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا ہے۔ پی سی بی نے یہ اعلان ڈچ حکومت کی جانب سے کوروناوائرس کی وباء کے پیش نظر یکم ستمبر 2020تک تمام(اسپورٹس اور کلچرل) ایونٹس پر پابندی عائد کرنے کے بعد کیا ہے۔
دونوں ٹیموں کے درمیان ایک روزہ سیریز میں شامل تین میچز نیدرلینڈز کے شہرایمسٹلوین میں 4، 7 اور 9 جولائی کو کھیلے جانے تھے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نےافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہےکہ جولائی میں شیڈول دورہ نیدرلینڈز ملتوی کررہے ہیں مگر موجودہ حالات میں یہ بالکل درست فیصلہ ہے کیونکہ انسانی زندگیاں کسی بھی کرکٹ میچ یا کسی بھی سرگرمی سے بہت زیادہ قیمتی ہیں۔
چیف ایگزیکٹو پی سی بی نے کہاکہ نیدر لینڈز کورونا وائرس کے باعث شدید متاثرہوا ہےاور ہم اس دوران جانیں گنوانے والے افراد کے لیے تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس موقع پر دیگر تمام ممالک کی طرح پاکستان کرکٹ بورڈ بھی کے این سی بی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ اس مشکل صورتحال پر جلدقابو پالے گا۔
وسیم خان نے کہاکہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے ہمیشہ دورہ نیدرلینڈز کا بھرپور لطف اٹھایا اور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے ویسے ہی پی سی بی اپنی ذمہ داری کا مکمل احساس کرتے ہوئے کے این سی بی کی مشاورت سے دورہ نیدرلینڈز کے نئے شیڈول کی تیاری کاآغاز کردے گا۔
چیف ایگزیکٹو پی سی بی نے کہاکہ اس موقع پر پاکستان مینز کرکٹ ٹیم کا 2 ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل دورہ آئرلینڈ اور 3 ٹیسٹ اور 3 ٹی ٹونٹی میچوں پر مشتمل دورہ انگلینڈکا شیڈول برقرار ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ بالترتیب ڈبلن اور لندن میں اپنے ہم منصب نمائندگان سے رابطہ میں ہیں۔ وسیم خان نے کہا کہ پی سی بی ہمیشہ کی طرح ان دوروں کے حوالے سے بھی میزبان بورڈز سے رہنمائی حاصل کرنے پر خوش ہوگا تاہم کوئی بھی فیصلہ کرتے ہوئےاپنے کھلاڑیوں اور منیجمنٹ اراکین کی صحت اور حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
چیئر آف کے این سی بی بیٹی ٹمر نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ہم موسم گرما کے دوران نیدرلینڈز میں کسی بھی قسم کی کرکٹ سرگرمی کی میزبانی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں، مداحوں اور عملے کی صحت اور حفاظت کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں ڈچ حکومت کی جانب سے عائد کردہ پابندی بھی قابل فہم عمل ہے۔
چیئر آف کے این سی بی نے کہا کہ وہ پرامید ہیں کہ آئندہ سیزن تک صورتحال قابو میں ہوگی اور ہم ایک بار پھر کرکٹ ٹیموں کی میزبانی کے لیے تیار ہوں گے۔
کراچی:ماہِ رمضان کے دوران میں اور مفتی تقی عثمانی کہاں نماز ادا کریں گے: مفتی منیب الرحمان نے سارے مسئلے سلجھا دیئے،اطلاعات کےمطابق رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے کہا ہے کہ ماہ صیام کے دوران میں اور مفتی تقی عثمانی گھر پر ہی نماز ادا کریں گے۔
نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ میں گھر پر ہی نماز ادا کررہا ہوں اور رمضان میں بھی یہی سلسلہ رہے گا، حکومت اور علما کے درمیان 20 نکاتی معاہدے پر عمل شروع ہوگیا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ علما حکومت کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل کرے، ہم ہر صورت معاہدے کو یقینی بنائیں گے۔ صدر اور وزیراعظم سے وعدہ کیاہے کہ 50سال سے زائد عمر والے مسجد نہیں آئیں گے۔
مفتی منیب کا کہنا ہے کہ ہم اس وعدے پر مکمل عمل کریں گے، مساجد میں نمازیوں اور صفحوں کے لیے نشانات لگا دیے گئے، بزرگوں اور معذوروں کو گھر میں نماز پڑھنے کی ہدایت کردی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جس کو نزلہ، کھانسی، بخار اور سانس کی بیماری ہے وہ مسجد نہ آئیں، گنجان آباد علاقوں اور چھوٹی مساجد میں جمعہ کی 2جماعتیں کرائی جائیں۔
دبئی :رمضان المبارک میں کورونا ٹیسٹ کرانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا یا نہیں :اہم فتویٰ آگیا ،اطلاعات کےمطابق دنیا میں رمضان المبارک کے آنے سے پہلے پہلے شرعی مسائل کے حوالے سے نئے نئے فتوے آرہےہیں ، ایسے ہی متحدہ عرب امارات کی فتویٰ کونسل نے کہا ہے کہ رمضان المبارک میں کورونا ٹیسٹ کرانے سے روزہ نہیں ٹوٹے گا۔
متحدہ عرب امارات کی فتویٰ کونسل کا مزید کہنا ہے کہ مہلک وائرس کے ٹیسٹ کیلئے کاٹن کے ذریعے ناک سے نمونہ لیا جاتا ہے لہٰذا روزہ ٹوٹنے کے ڈر سے کورونا ٹیسٹ کرانے سے گریز نہ کیا جائے۔خیال رہے کہ اس سے قبل بھی فتویٰ کونسل نے رمضان المبارک کے حوالے سے گائیڈ لائن جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ایسے افراد جن میں کورونا کی علامات ظاہر ہوں وہ روزے چھوڑسکتے ہیں۔
خیال رہے کہ دنیا بھر میں رحمتوں والے مہینے رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور ایسے موقع پر مبارک ماہ شروع ہوگا جب پوری دنیا میں مہلک وائرس پھیل چکا ہے۔سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے کئی مسلمان ممالک میں نمازوں کی باجماعت ادائیگی محدود کردی گئی ہے ہے جبکہ پاکستان میں بھی مساجد کیلئے 20 نکاتی حفاظتی اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے۔