Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • بے روزگاروں کے لیے بلین ٹری منصوبے میں نوکریاں،وزیراعظم بہت جلد اعلان کریں گے

    بے روزگاروں کے لیے بلین ٹری منصوبے میں نوکریاں،وزیراعظم بہت جلد اعلان کریں گے

    اسلام آباد :بے روزگاروں کے لیے بلین ٹری منصوبے میں نوکریاں،وزیراعظم بہت جلد اعلان کریں گے ،اطلاعات کےمطابق پاکستان میں حکومت نے کورونا وائرس کے نتیجے میں بے روزگار ہونے والے افراد کو نوکریاں فراہم کرنے کے لیے تمام صوبوں کو ہدایات جاری کی ہیں کہ بلین ٹری پراجیکٹ میں فوری طور پر بھرتیاں شروع کی جائیں۔

    وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی، جو صوبوں کے جنگلات اور جنگلی حیات کے محکموں کے ساتھ مل کر ملک میں درختوں میں اضافے اور ماحول کو بہتر بنانے کے ایک بڑے منصوبے پر کام کر رہی ہے، کے حکام نے اردونیوز کوبتایا کہ ماحولیاتی تحفظ کے اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے لاکھوں افراد کی ضرورت ہے اس لیے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ کورونا بحران سے بے روزگار ہونے والے افراد کو اس منصوبے کا فائدہ پہنچایا جائے۔

    وفاقی وزارت برائے موسمیاتی تبدیلی کے تحت چلنے والے بلین ٹری پراجیکٹ کے ڈائریکٹر سلمان خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’حکومت نے بے روزگار ہونے والے افراد کو اس منصوبے سے مستفید کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کر لیا ہے جس کا باقاعدہ اعلان وزارت موسمیاتی تبدیلی کے مشیر برائے وزیراعظم ملک امین اسلم اگلے چند روز میں کریں گے۔‘

  • جدید ٹیکنالوجی فیل ؟ کُتّے اب کریں گے کرونا کی تشخیص،برطانیہ میں ہورہی ہے نئی تحقیق

    جدید ٹیکنالوجی فیل ؟ کُتّے اب کریں گے کرونا کی تشخیص،برطانیہ میں ہورہی ہے نئی تحقیق

    لندن :جدید ٹیکنالوجی فیل ؟ کُتّے اب کریں گے کرونا کی تشخیص،برطانیہ میں ہورہی ہے نئی تحقیق،اطلاعات کے مطابق برطانیہ کے ایک خیراتی ادارے کا ماننا ہے کہ کتے کووڈ-19 (کورونا وائرس) کا پتہ لگاسکتے ہیں اور اسی لیے ماضی میں مختلف بیماریوں کی کامیاب اسکریننگ کے بعد کورونا وائرس سونگھنے کے لیے کتوں کی تربیت کا آغاز کردیا گیا۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق میڈیکل ڈیٹیکشن ڈاگز، جسے 2008 میں انسانی بیماریوں کی تشخیص کے لیے کتوں کی سونگھنے کی حِس کا استعمال کرنے کے لیے قائم کیا گیا، نے گزشتہ ماہ کے آخر میں اس منصوبے پر کام کرنا شروع کیا تھا۔انگلینڈ کے وسطی علاقے ملٹن کینز میں واقع تربیتی کمرے میں کتوں کو وائرس کے نمونے سونگھنے کے لیے تربیت دی جارہی ہے۔خیال رہے کہ یہ مانا جاتا ہے کہ ہر بیماری کی ایک مخصوص بُو ہوتی ہے جسے کتے منفرد خصوصیت کے باعث اچھی طرح سونگھ سکتے ہیں اور یہ تربیت اسی بنیاد پر دی جارہی ہے۔

    یہ خیراتی ادارہ ماضی میں مریضوں سے لیے گئے نمونوں کے استعمال سے کینسر، پارکنسنز کی بیماری اور بیکٹریکل انفیکشن کی تشخیص کے لیے بھی کتوں کے ساتھ کام کرچکا ہے۔میڈیکل ڈیٹیکشن ڈاگز کے بانی اور چیف ایگزیکٹو کلیر گیسٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہمارا ماننا ہے کہ کتے کووڈ-19 کا پتا لگاسکتے ہیں اور ہم بہت جلد سیکڑوں لوگوں کی اسکریننگ کرسکیں گے تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ کس کا ٹیسٹ کرنے اور آئسولیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس شواہد موجود ہیں کہ کتے، بیکٹیریاز اور دیگر بیماریوں کا پتا لگاسکتے ہیں، لٰہذا ہم مانتے ہیں کہ یہ منصوبہ آگے لے جانے سے کووڈ-19 کے پھیلاؤ پر قابو پانے کی صلاحیت میں ایک بہت بڑا فرق آئے گا۔

    کلیئر گیسٹ لندن اسکول آف ہائیجین اینڈ ٹروپیکل میڈیسن (ایل ایس ایچ ٹی ایم) اور انگلینڈ کے مشرقی حصے میں واقع ڈرہم اسکول کے ساتھ کام کررہے ہیں، اسی ٹیم نے اس سے قبل یہ ظاہر کرنے کے لیے اشتراک کیا تھا کہ کتے ملیریا کی تشخیص کرسکتے ہیں۔ایل ایس ایچ ٹی ایم کے ڈیزیز کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے سربراہ جیمز لوگان نے کہا کہ منصوبے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کتے انتہائی درست طریقے سے انسانوں سے بو سونگھ سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس بات کا بہت زیادہ امکان ہے کہ کتے کووڈ-19 کی تشخیص کرنے کے قابل ہوں گے اور بیماری سے متعلق ہمارے ردعمل میں انقلاب لائیں گے۔

  • کرونا وائرس ہو یا طاعون مسلمانوں نے حکمت عملی سے مقابلہ کیا، اسلام انسانیت کی بھلائی چاہتا ہے،فیما

    کرونا وائرس ہو یا طاعون مسلمانوں نے حکمت عملی سے مقابلہ کیا، اسلام انسانیت کی بھلائی چاہتا ہے،فیما

    کواللمپور:کرونا وائرس ہو یا طاعون مسلمانوں نے حکمت عملی سے مقابلہ کیا ، یہی ہمارا منہج ہونا چاہیے،عالم اسلام کے لیے بہترین پیغام،رپورٹ کے مطابق فیڈریشن آف اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن آف ملائیشیا کی طرف سے ایک تحقیقاتی نقطہ نظرسامنے ‌آیا ہے جس میں عالم اسلام کے سکالروں سے متفقہ اورانسانیت کی بھلائی کےلیے نقطہ نظرلانے کی استدعا کی گئی ہے

    فیڈریشن آف اسلامک ایسوسی ایشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ کرونا وائرس سے پہلے بھی بڑی بڑی وبائیں ائیں ، ان تمام مواقع پرجس طرح علما نے حکمت عملی سے کام لیا آج وہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے،فیڈریشن آف اسلام ایسوسی ایشن کی طرف سے پاکستان میں‌ مذہبی طبقے کی طرف سے متضاد ردعمل کے بعد یہ نقطہ نظرسامنے آیا ہے

    ذرائع کے مطابق اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مفتی تقی عثمانی جیسی شخصیت کا پانچوں نمازوں کی ادائیکی کے حوالے سے نقطہ نطرکا بھی حوالہ دیا گیا ہے اورکہا گیا ہےکہ انکو بھی چاہیے کہ وہ انسانیت کی بھلائی کےلیے ایک بہترین رائے دیں

    فیڈریشن کی طرف سے اسلامی تاریخ کے کچھ واقعات کا حوالہ بھی دیا گیا اورکہا گیا کہ 218 ہجری میں مصر میں طاعون کی وبا پھیلی پھر 10 سال بعد آذربائیجان میں وبا پھیلی جس سے بڑی تعداد میں جانیں ضائع گئیں اس موقع پر بھی علما نے عوام الناس کو احتیاط برتنے کےحوالے سے کہا کہ وہ گھرپرنمازیں پڑھ لیں

    فیڈریشن کی طرف سے یورپ میں ہونے والی وباوں کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے ذکرکےساتھ ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ اس سے پہلے بھی اٹلی میں کارنٹائین کیا گیا ، 728 ہجری میں مساجد سے آذان دنیا اس وجہ سے بند کردیا گیا تاکہ لوگ گھروں میں ہی نماز ادا کرسکیں

    ہجرت کے سترہ سال بعد طاعون کی وبا پھیلی جس میں کبائرصحابہ شہید ہوگئے اس وقت بھی حفاظتی تدابیراختیار کی گئیں‌

    فیڈریشن کی طرف سے درخواست کی گئی ہےکہ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بھی انسانیت کی بھلائی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں ، خداکی مخلوق کی بھلائی بھی توبہت بڑی نیکی ہے ، مسلمانوں کی جانوں کا تحفظ بھی اسلام کا مرکزی نقطہ نظرہے لہٰذا ہمیں حکومتی نقطہ نظرکی حمایت کرنی چاہیے توانسانیت کو بچانا چاہیے ناں کہ انا کو پروان چڑھائیں

  • کرونا وائرس سے وفات پانے والوں کو خلیجی ممالک میں ہی جلایا اور دفنایا جانے لگا،ماں باپ ، بہن بھائی ، بیوی بچے تڑپتے رہ گئے

    کرونا وائرس سے وفات پانے والوں کو خلیجی ممالک میں ہی جلایا اور دفنایا جانے لگا،ماں باپ ، بہن بھائی ، بیوی بچے تڑپتے رہ گئے

    اسلام آباد:دیارغیرمیں کرونا وائرس سے وفات پانے والوں کو خلیجی ممالک میں ہی دفنایا جانے لگا،ماں باپ ، بہن بھائی ، بیوی بچے تڑپتے رہ گئے ،اطلاعات روزگار کے لیے اپنے گھر اور ملک کو چھوڑ کر دوسرے ممالک میں جاکر محنت مزدوری کرنے والے دنیا بھر کے لاکھوں افراد کو امید ہوتی ہے کہ وہ پیسے کما کر ایک دن ضرور گھر لوٹیں گے اور دنیا میں کورونا وائرس پھیلنے سے قبل ایسا ہی ہو رہا تھا۔

    مگر کورونا وائرس کے دنیا بھر میں پھیلنے کے بعد اپنے اہل خانہ اور وطن کو چھوڑ کر دیار غیر میں روزگار کے لیے جانے والے لاکھوں افراد کی خواہشات دم توڑنے لگی ہیں اور ان میں سے درجنوں افراد ایسے ہیں جو کورونا کا شکار ہوکر زندگی کی بازی ہار رہے ہیں اور اس سے بڑھ کر بدقسمتی یہ کہ ایسے لوگوں کی لاشیں تک گھر واپس نہیں بھجوائی جا رہیں۔

    جی ہاں، دوسرے ممالک میں روزگار کے لیے جانے والے ایسے افراد جو کورونا میں مبتلا ہونے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئے، ان کی لاشیں ان کے اصل وطن اور گھر نہیں بھجوائی جا رہیں بلکہ انہیں دیار غیر میں ہی دفن کیا یا جلایا جا رہا ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق خلیجی ممالک و سعودی عرب میں کورونا وائرس کا شکار ہوکر مرجانے والے غیر ملکی افراد کو ان کے آبائی وطن بھجوانے کے بجائے ان کی آخری رسومات ادا کرکے انہیں دفنایا یا پھر جلایا جا رہا ہے۔

    خلیجی ممالک پاکستان، بھارت، فلپائن، سری لنکا اور دیگر ایشیائی ممالک کے لاکھوں افراد روزگار کے لیے موجود ہیں جو کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی بینکوں، ہسپتالوں، دفاتر، گھروں اور تعمیراتی شعبے میں خدمات سر انجام دیتے آ رہے ہیں۔یقیناً ایسے افراد کی بدولت ہی خلیجی ممالک کی معیشت بہتر ہوئی ہے اور بدلے میں خلیجی ممالک ایسے افراد کو اچھی مراعات بھی فراہم کرتے ہیں مگر کورونا وائرس میں مبتلا ہوکر زندگی کی بازی ہار جانے والے ان غیر ملکی افراد کی مجبوری کے تحت خلیجی ممالک میں ہی آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔

    کورونا کا شکار ہوکر زندگی کی بازی ہار جانے والے گھر اور اہل خانہ سے دور ایسے افراد میں دبئی میں ہلاک ہونے والا بھارت کا 50 سالہ شخص بھی شامل تھا، جسے وہاں کے سرکاری اہلکاروں نے سخت حفاظتی انتظامات کے تحت شمشان گھاٹ پہنچایا۔

    آخری رسومات کے لیے مرجانے والے مذکورہ شخص کی لاش کو آدھے گھنٹے تک حکام نے رکھا اور اس انتظار میں رہے کہ ان کا کوئی قریبی دوست آخری لمحات میں آئے مگر پھر حکام نے مایوس ہوکر مرنے والے شخص کی لاش کو بڑے احتیاط سے جلانے کے بعد ان کی ‘استھیوں’ (باقیات) کو ایک چاندی کے ڈبے میں ڈال کر سفارتخانے کے حوالے کردیا۔

    مذکورہ واقعہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ہونے والا واحد واقعہ نہیں ہے بلکہ ایسے ہی کئی غیر ملکی افراد کو تن تنہا آخری رسومات ادا کرنے کے بعد جلایا یا دفنایا جا چکا ہے۔متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس سے 168 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ہلاک ہونے والے افراد میں بھارت اور فلپائن سمیت دیگر ایشیائی ممالک کے ایسے افراد بھی شامل ہیں جو روزگار کے سلسلے میں وہاں کئی دہائیوں سے رکے ہوئے تھے۔

  • ملک کا ریپ نہیں بلکہ گینگ ریپ کیا گیا، صدرمملکت بھی چُپ نہ رہ سکے

    ملک کا ریپ نہیں بلکہ گینگ ریپ کیا گیا، صدرمملکت بھی چُپ نہ رہ سکے

    اسلام آباد: ملک کا ریپ نہیں بلکہ گینگ ریپ کیا گیا، صدمملکت بھی چُپ نہ رہ سکے ،اطلاعات کےمطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاور سیکٹر میں ہونے والی تحقیقات کی رپورٹ پڑھی ہے جسے پڑھ کر وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مافیاز نے ملک کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ اجتماعی زیادتی کی ہے۔

    ذرائع کےمطابق ایک نجی ٹی وی کوانٹریودیتے ہوئے خصوصی انٹرویو میں صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ وہ پاورکمپنیوں کے اضافی منافعے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ پڑھ کر اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ قوم کا ریپ نہیں،گینگ ریپ ہوا ہے۔

    صدر عارف علوی نے بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ کی سمری پڑھی ہے، یہ رپورٹ فی الحال یک طرفہ ہے، اس میں اسٹیک ہولڈرز کی رائے آنی باقی ہے، وزیراعظم سے ملاقات میں رپورٹ پر بھی بات ہوئی، میں نے وزیراعظم کوکہا کہ اگریہ رپورٹ صحیح ہے تو مافیاز نے ملک کا ریپ نہیں بلکہ گینگ ریپ کیا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں پاور سیکٹر کی تحقیقاتی رپورٹ عام کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ آنے دیں بڑے بڑے شریفوں کا پتہ چل جائے گا

    صدر مملکت عارف علوی نے کہا کہ علماءکےساتھ طے پانے والے 20 نکاتی فارمولے پر سب کا اجماع ہے اور اس کی خلاف ورزی گناہ کے زمرے میں آئے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا آن لائن اجلاس فی الحال نہیں بلایا جاسکتا تاہم سماجی فاصلے کے ساتھ پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    خیال رہے کہ گذشتہ دنوں صدر مملکت اور علمائے کرام کے اجلاس میں رمضان میں مساجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی کے حوالے سے 20 نکات پر اتفاق کیا گیا تھا،ان نکات میں کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر شامل ہیں۔صدر عارف علوی کا کہنا تھا کہ اب یہ ذمہ داری صرف آئمہ یا حکومت کی نہیں بلکہ ہر فرد کی ہے کہ وہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل کرے۔

    صدر مملکت کا کہنا تھا کہ اگر رمضان کے دوران حکومت یہ محسوس کرے کہ ان تدابیر پر عمل نہیں ہو رہا یا متاثرین کی تعداد برھ گئی ہے تو حکومت دوسرے شعبوں کی طرح مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں فیصلوں پر نظر ثانی کرے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس بات کا بھی حکومت کو اختیار ہے کہ شدید متاثرہ علاقوں میں وہاں کے احکامات اور پالیسی کو بدل دیا جائے۔

  • دیکھ بھال پر مامور 245 ہیلتھ  پروفیشنل میں کورونا وائرس کی تصدیق

    دیکھ بھال پر مامور 245 ہیلتھ پروفیشنل میں کورونا وائرس کی تصدیق

    دیکھ بھال پر مامور 245 ہیلتھ پروفیشنل میں کورونا وائرس کی تصدیق

    باغی ٹی وی : ملک بھر میں کورونا وبا کے مریضوں کی دیکھ بھال پر مامور 245 ہیلتھ پروفیشنل میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔قومی ادارہ صحت کی جانب سے وزرات صحت کو بھیجی گئی رپورٹ کے مطابق ملک بھرمیں 119 ڈاکٹرز میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران ملک بھر میں 37 نرسز کورونا وائرس میں مبتلا ہوئیں۔ ملک بھرمیں 89 دیگراسپتال ملازمین میں کورونا کی تصدیق ہوئی۔وزارت صحت ارسال کی گئی رپورٹ کے مطابق کورونا وائرس کا شکار 131 ہیلتھ پروفیشنلزاسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ زیرعلاج 130 ہیلتھ پروفیشنلزکی حالت تسلی بخش ہے.

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے اعدادو شمارکے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹے میں پنجاب میں نئے 534متاثرین سامنے آئے جبکہ 7افرا د جاں بحق ہوئے ،جس سے صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ کر4255ہوگئی جبکہ ہلاکتیں 49ہوگئیں،سندھ میں 515نئے مریض اور10 افراد جاں بحق ہوئے جس سے متاثرین کی کل تعداد3052ہوگئی،جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد بھی 66ہوگئی۔بلوچستان میں 33نئے متاثرین اور ایک شخص جاں بحق ہوگیا جس سے متاثرین کی تعداد 465جبکہ جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد 6ہوگئی ۔خیبر پختونخوا میں 41نئے متاثرین اور 7 افراد جاں بحق ہوئے جس سے مریضوں کی تعداد1276 ہوگئی ،صوبے میں جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد بھی 74ہوگئی۔اسلام آباد میں 4نئے متاثرین سامنے آئے اس طرح مریضوں کی تعداد185ہوگئی ،

    دارالحکومت میں اب تک تین افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔گلگت بلتستان میں 18نئے مریض سامنے آئے جس سے متاثرین کی تعداد281ہوگئی ،جی بی میں تین افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔آزاد کشمیر میں 2نئے متاثرین سامنے آئے جس سے مریضوں کی تعداد51ہوگئی،کشمیر میں ابھی تک کورونا سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے اعدادو شمارکے مطابق ملک بھر میں گزشتہ روز 5347 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ،اب تک ملک میں کورونا کے کیے گئے ٹیسٹوں کی تعداد1لاکھ 11ہزار سے تجاوز کرگئی۔

    ادھراپنے سٹاف رپورٹر سے نے ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے حوالے سے بتایاکہ لاہور میں کوروناکے 658 مریض ہیں۔ لاہور سے سٹاف رپورٹر سے کے مطابق وائس چیئرمین پی ایچ اے میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی،جس کے بعد انہوں نے خود کو آئسولیٹ کرلیا۔ادھربلوچستان میں لاک ڈاؤن میں 5 مئی تک توسیع کردی گئی ۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ بلوچستان میں عوامی مقامات پر 10یا 10سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی برقرار ہے ،نجی اور سرکاری مقامات پر ہر قسم کے اجتماعات پر بھی پابندی ہے ،اس کے علاوہ درباروں، درگاہوں سمیت تمام مقامات پر اجتماعات پر بھی پابندی برقرار ہے

  • ایک طرف کرونا وائرس کی تباہیاں تودوسری طرف ایران کا اپنا پہلا فوجی سیٹیلائٹ لانچ کرنا ، کسی خطرے کا پیش خیمہ تو نہیں؟

    ایک طرف کرونا وائرس کی تباہیاں تودوسری طرف ایران کا اپنا پہلا فوجی سیٹیلائٹ لانچ کرنا ، کسی خطرے کا پیش خیمہ تو نہیں؟

    تہران :ایک طرف کرونا وائرس کی تباہیاں تودوسری طرف ایران کا اپنا پہلا فوجی سیٹیلائٹ لانچ کرنا ، کسی خطرے کا پیش خیمہ تو نہیں ،اطلاعات کے مطابق ایران کی پاسدارنِ انقلاب نے کہا ہے کہ انہوں نے کامیابی سے ملک کا پہلا فوجی سیٹیلائٹ لانچ کردیا ہے۔پاسدارنِ انقلاب نے غیر متوقع سیٹیلائٹ لانچ کو ایک ’عظیم کامیابی‘ قرار دیا۔

    امریکا کی جانب سے ایران پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اس کا سیٹیلائٹ پروگرام میزائل بنانے کے لیے ایک کور ہےجبکہ ایران کا موقف ہے کہ اس کی خلائی سرگرمیاں بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ہیں۔فرانسیسی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دونوں حریف ممالک کے مابین کشیدگی میں گزشتہ ہفتے اضافہ ہوا تھا جب امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے الزام عائد کیا تھا کہ ایرانی بحری جہاز خلیج میں اس کے جہاز کو ہراساں کررہا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کی نیوز ویب سائٹ سپاہ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کا کہنا تھا کہ ’اسلامی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے سلامی جمہوریہ ایران کی پہلی سیٹیلائٹ کامیابی سے خلا میں لانچ کردی گئی ہے‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ نور نامی سیٹیلائٹ کو ایران کی مرکزی سطح مرتفع کے وسیع علاقے میں مرکزی صحرا سے 2 اسٹیج کے لانچر قاصد کے ذریعے لانچ کیا گیا اور سیٹیلائٹ زمین کے 425 کلومیٹر مدار پر ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے تقریباً 2 ماہ قبل ایران نے ایک سیٹیلائٹ لانچ کی تھی لیکن اسے مدار تک پہنچانے میں ناکام رہا تھا اور اس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ فوجی مقصد کے لیے نہیں تھی۔رواں برس 9 فروری کو ایران نے پاسدارانِ انقلاب کی 41ویں سالگرہ سے چند روز قبل ظفر نامی سیٹیلائٹ لانچ کرنے کی کوشش کی تھی۔ایک دوسرے کے دشمن ملک امریکا اور ایران گزشتہ برس 2 مرتبہ مکمل محاذ آرائی کے دہانے پر پہنچے تھے۔

  • مساجد کھولنے سے کورونا تیزی سے پھیلے گا: ڈاکٹرزکا اعلان ،جوکرے گا احتیاط ،پائے گا امان

    مساجد کھولنے سے کورونا تیزی سے پھیلے گا: ڈاکٹرزکا اعلان ،جوکرے گا احتیاط ،پائے گا امان

    کراچی :مساجد کھولنے سے کورونا تیزی سے پھیلے گا: ڈاکٹرزکا اعلان ،جوکرے گا احتیاط ،پائے گا امان ،اطلاعات کے مطابق انڈس اسپتال کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالباری نے خبر دار کیا ہے کہ مساجد کھولنے سے کورونا وائرس بہت تیزی سے پھیلے گا۔

    ڈاکٹر عبدالباری کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ مہینےمیں جتنے کیسز رپورٹ ہوئے وہ پانچ دن میں ڈبل ہو گئے جب کہ کورونا کا پیک مئی کےتیسرے ہفتے میں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ مساجد کھولنے سے کورونا تیزی سے پھیلے گا لہذا علمائے کرام سے اپیل ہے کہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں، تراویح ،سنتیں گھر پر پڑھ لیں۔

    ڈاکٹر باری کا کہنا ہے کہ مجمع مارکیٹ میں ہو، دکانوں میں یا کسی ہال میں یا مسجد میں اسے ہر صورت روکنا ہو گا۔ان کا کہنا ہے کہ فرنٹ لائن پر عوام ہیں، ڈاکٹر اور عملہ متاثر ہوا تو کوئی نہیں سنبھال سکے گا کیونکہ ہیلتھ انفرا اسٹرکچر کمزور ہے۔

    ڈاکٹرقیصرسجاد کہتے ہیں کہ حکومت کو لاک ڈاون میں نرمی نہیں دینی چاہیے تھی ، ان کا کہنا تھا کہ اگرہم کرونا کی تباہ کاریوں سے بچنا چاہتے ہیں تو ایس ا وپیز پرعمل کرنا ہوگا

    خیال رہے کہ پاکستان، برطانیہ اور سعودی عرب سے مختلف ماہرین نے علمائے کرام اور حکومت کو ایک خط لکھا ہے جس میں اپیل کی گئی ہے کہ علمائے کرام مساجد میں باجماعت نماز اور تراویح کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔

  • کرونا وائرس یا کوئی اور وجہ : بھارت کی خوبصورت  اداکارہ کا سرمونڈ دیا گیا ،مداح حیران وپریشان

    کرونا وائرس یا کوئی اور وجہ : بھارت کی خوبصورت اداکارہ کا سرمونڈ دیا گیا ،مداح حیران وپریشان

    نئی دہلی :کرونا وائرس یا کوئی اور وجہ : بھارت کی خوبصورت اداکارہ کا سرمونڈ دیا گیا ،مداح حیران وپریشان ،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس کے باعث کئی ممالک میں اس وقت جزوی لاک ڈاؤن نافذ ہے اور ایسے میں لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوگئے ہیں۔
    ایسے وقت میں لوگ ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لیے بھی کافی سرگرم ہیں اور بھارتی اداکارہ جیا بھٹاچاریا بھی ان لوگوں میں سے ایک ہیں جو کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی مدد میں آگے آگے ہیں۔

    اداکار نے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ویڈیوز کی سیریز جاری کی جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ لوگوں کی مدد کے لیے اور ضرورت مندوں میں راشن تقسیم کرنے کے لیے گھر سے باہر جاتی لیکن ہر بار گھر واپس آنے کے بعد احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے وہ نہاتی ہیں اور اپنے بالوں کی بھی اچھی طرح صفائی کرتی ہیں۔

    لیکن اداکارہ نے بتایا کہ اپنے بالوں کی صفائی میں ان کا کافی قیمتی وقت ضائع ہوجاتا، جس کے باعث انہوں نے اپنا سر منڈوانے کا فیصلہ کرلیا۔تاہم اداکارہ نے لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کی مدد کرنے کے ساتھ ساتھ ایک ایسا فیصلہ لیا جس سے ان کے مداح حیران رہ گئے۔

     

     

    https://www.instagram.com/p/B_NSjxPhmlt/

    ویڈیو میں اداکارہ نے کہا کہ میرے لیے اپنے بالوں کا خیال رکھنا بہت زیادہ مشکل ہوگیا تھا جس کے باعث میں نے یہ فیصلہ کیا اور سوچا کہ میں لاک ڈاؤن کے دوران کس حد تک آگے بڑھ سکتی ہوں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے اپنے بالوں کی وجہ سے بہت زیادہ پسینہ آتا ہے، مجھے اپنے ڈرائیور اور دیگر افراد کو کھانا دینے گھر سے باہر جانا پڑتا، میں ہر وقت اے سی میں نہیں بیٹھ سکتی اور صرف اپنی خوبصورتی کا خیال رکھنے کے لیے میں یہ سارے کام بھی نہیں چھوڑ سکتی، اس لیے میں وگ کا سہارا لوں گی، وگز اس ہی لیے تو بنائی جاتی ہیں‘۔

    جیا بھٹاچاریا کے مطابق انہوں نے اپنے پورے کیریئر میں خوبصورتی سے زیادہ اداکاری کو اہمیت دی ہے، انہوں نے کبھی اس بات کی پروہ نہیں کی کہ وہ کیسی نظر آرہی ہیں اس لیے سر منڈوانا ان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔اداکارہ نے ویڈیو میں یہ بھی بتایا کہ ایسا کرنے پر ان کے بچے ان سے بےحد ناراض ہوں گے تاہم اب انہوں نے یہ فیصلہ کرلیا ہے۔

  • کورونا کی دوسری لہرمیں امریکیوں کی تباہی دیکھ رہا ہوں : امریکی سائنسدان نے وارننگ جاری کردی

    کورونا کی دوسری لہرمیں امریکیوں کی تباہی دیکھ رہا ہوں : امریکی سائنسدان نے وارننگ جاری کردی

    نیویارک : کورونا کی دوسری لہر زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے: امریکی سائنسدان نے توسب کچھ بتادیا،اطلاعات کے مطابق امریکی سائنسدان نے خبردار کیا ہےکہ امریکا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر زیادہ خطرناک ہوسکتی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ڈیزز کنٹرول کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا میں زکام کے سیزن کے آغاز کی وجہ سے کورونا کی دوسری لہر زیادہ خطرناک اور تباہ کن ہوسکتی ہے۔

    انہوں نے امریکی شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ آئندہ آنے والے مہینوں کو تیاری کے لیے استعمال کریں اور زکام کے لیے ویکسینیشن کرائیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا قوی امکان ہےکہ آئندہ موسم سرما میں وائرس امریکیوں پر پھر حملہ کرے اور یہ موجودہ وائرس سے زیادہ خطرناک اور مشکل ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اگراحتیاط نہ برتی گئی تو مجھے ڈرہے یہ امریکیوں کوتباہ وبرباد نہ کردے

    سائنسدان نے مزید کہا کہ امریکی عوام ایک ہی وقت میں کورونا کی عالمگیر وبا اور اور زکام کی وبا سے دوچار ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں وائرس زکام کے عام سیزن میں آیا جو خود نظام صحت پر دباؤ ڈال سکتا ہے اور اگر ایک ساتھ دو وبائیں اپنی بلند سطح پر ہوں تو یہ صحت کے نظام کے لیے انتہائی خراب ہوتا ہے اس لیے آئندہ زکام کے سیزن کے لیے پہلے سے ویکسینیشن کرائیں۔

    واضح رہے کہ امریکا میں 8 لاکھ سے زائد کورونا کے مصدقہ کیسز ہیں اور تقریباً 45 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔