Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • کرونا وائرس، غلط خبر پھیلانے پر حکمران جماعت کے رکن اسمبلی پر مقدمہ درج، دو اراکین اسمبلی گھروں میں "نظربند”

    کرونا وائرس، غلط خبر پھیلانے پر حکمران جماعت کے رکن اسمبلی پر مقدمہ درج، دو اراکین اسمبلی گھروں میں "نظربند”

    کرونا وائرس، غلط خبر پھیلانے پر حکمران جماعت کے رکن اسمبلی پر مقدمہ درج، دو اراکین اسمبلی گھروں میں "نظربند”
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کے حوالہ سے غلط خبر پھیلانے پر حکمران جماعت کے رکن اسمبلی پر مقدمہ درج کر لیا گیا جبکہ دو اراکین اسمبلی کو گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی.

    واقعہ بھارت میں پیش آیا،جہاں بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کے رکن اسمبلی سبھاش سرکار کے خلاف بھارتی پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، رکن اسمبلی پر الزام ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات فراہم کرکے عوام میں خوف و ہراس پیدا کیا ہے۔

    علی پور دوار سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جون برلانے بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھا تھا کہ حکومت بنگال بے انہیں گھر میں قید کردیا ہے۔ دودن قبل وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا وائرس سے متعلق غلط خبریں اور افواہ پھیلانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس کے بعد بانکوڑہ کی ضلعی پولس نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر سبھاش سرکار کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے

    بانکوڑہ کی ضلعی پولس نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سبھاش سرکار جو ڈاکٹر بھی ہیں کے خلاف ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے دفعہ 54کے تحت کیس درج کیا۔ اس دفعہ کے تحت غلط خبر یا جھوٹی افواہ جس سے عوام میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوجائے تو سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ مقدمہ 14 اپریل کو درج کیا گیا ہے.

    مقدمہ درج ہونے کے بعد ڈاکٹر سبھاش سرکار کا کہنا تھا کہ ہم نے دو لاشوں کو خفیہ طریقے سے ان کی آخری رسوم کی ادائیگی پر سوال اٹھایا تھا حالانکہ ان دونوں میں کرونا کی تشخیص نہیں ہوئی تھی تو حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے، ایسی لاشوں کو خفیہ طریقے سے کیوں دفتایا جا رہا ہے،

    دوسری جانب علی پور دوار سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ جون برلا کا کہنا ہے کہ وہ عوام میں راشن تقسیم کرنے جا رہے تھے کہ پولیس نے انہیں روکا اور گھر میں بند کر دیا،ایسے میں انہیں گھروں سے نہ نکلنے دینا زیادتی ہے، بی جے پی کے ہی اور ایک رکن پارلیمنٹ ارجن سنگھ کا بھی یہی کہنا ہے کہ پولیس انہیں اپنے حلقے میں عوام کی مدد کے لئے نہیں نکلنے دی رہی، جب بھی باہر جانے کی کوشش کرتے ہیں پولیس روک دیتی ہے، ہمارا قصور کیا ہے.

    ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما اور ریاستی وزیر خوراک جیوتی پریا ملک کا کہنا ہے بی جے پی کے رہنما کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں حکومت کیلئے مشکلات کھڑی کرنے کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور مسلسل کورونا وائرس پر سیاسی بیانات دے رہے ہیں.

    کرونا لاک ڈاؤن، سائیکل پر ہسپتال جانیوالی خاتون نے سڑک کنارے دیا بچے کو جنم

    کوئی بھوکا نہ سوئے مہم ،بھارتی مسلمانوں کا شاندار کام، مسجد سے تقسیم ہوتا ہے کھانا

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    واضح رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے تناظر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے 21 روزہ لاک ڈاؤن میں توسیع کرتے ہوئے اسے 3 مئی تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ مودی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم تمام لوگوں کو 3 مئی تک لاک ڈاؤن میں رہنا ہو گا۔ اس دوران ہمیں اسی طرح نظم و ضبط پر عمل کرنا ہوگا جیسا کہ ہم اب تک کرتے رہے ہیں۔ اگلے ایک ہفتے کے دوران کورونا کے خلاف جنگ میں مزید شدت پیدا کی جائے گی۔ 20اپریل تک ہر قصبے، ہرتھانے، ہر ضلع اور ہر ریاست پر نگاہ رکھی جائے گی کہ وہاں لاک ڈاؤن پر کتنا عمل ہو رہا ہے

  • کرونا وائرس، ترکی کا لاک ڈاؤن سب سے الگ، ہلاکتوں اور مریضوں میں بھی اضافہ

    کرونا وائرس، ترکی کا لاک ڈاؤن سب سے الگ، ہلاکتوں اور مریضوں میں بھی اضافہ

    کرونا وائرس، ترکی کا لاک ڈاؤن سب سے الگ، ہلاکتوں اور مریضوں میں بھی اضافہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترکی میں کرونا وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں اور مریضوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ،ترکی میں مزید126 افراد ہلاک ہو گئے جس سے ہلاکتوں کی مجموعی تعدادایک ہزار 769 ہوگئی،ترکی میں 24 گھنٹے کے دوران مزید4353 کیسز سامنے آئے جس کے بعد مریضوں کی مجموعی تعداد78546 ہوگئی

    کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے دیگر ممالک کی طرح ترکی نے بھی لاک ڈاؤن کر رکھا ہے لیکن ترکی کے لاک ڈاؤن کے قوانین دیگرممالک سے الگ ہیں،ترکی نے ویک انڈ پر لاک ڈاؤن لگایا اور پورا ہفتہ بچوں اور بزرگوں کے علاقہ سب کو گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت دے رکھی ہے

    سی این این میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ترکی میں گزشتہ ویک اینڈ پر مکمل لاک ڈاون رہا ۔ 31 صوبوں میں 48 گھنٹے کا کرفیو لگایا گیا تھا اس ضمن میں ترکی کی حکومت نے دو گھنٹے کی پیشگی اطلاع پر کرفیو کا اعلان کردیا تھا ، جس کی وجہ سے ترکی میں افراتفری مچ گئی تھی اور ضروری سامان خریدنے کیلئے دکانوں پر لوگوں کا رش دیکھنے میں آیا تھا ۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے ترکی کی عوام سے سے گھروں میں رہنے کی اپیل کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ کورونا کے خلاف جنگ میں ترکی کی حکومت اپنے عوام کے تحفظ اور مدد کیلئے اہل ہے ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اگلے ہفتہ کے لئے لاک ڈاؤن کا اعلان بھی کر دیا

    سی این این کی رپورٹ کے مطابق ترکی کرونا کے حوالہ سے لاک ڈاؤن میں سخت پابندی نہیں کر رہا، حکومت شہریوں سے سماجی فاصلے کی اپیل کر رہی ہے اور 20 سال سے کم عمر اور 60 سال سے زائد افراد کے گھروں سے نکلنے پر پابندی ہے لیکن باقی لوگ باہر آ سکتے ہیں،

    کئی ماہرین ترکی کے لاک ڈاؤن میں خاص عمر کے افراد پر پابندی کو بہترین کہتے ہیں ،ماہرین کا کہنا ہے بچوں اور بڑی عمر کے افراد میں کرونا کا زیادہ خطرہ ہے اسلئے انکا گھر رہنا ضروری ہے، باقی لوگ ضرورت کے تحت باہر نکل سکتے ہیں لیکن وہ بھی احتیاطی تدابیر اختیار کریں.

    برطانیہ میں لنکاسٹر یونیورسٹی میں وائرولاجی محکمہ کے ڈاکٹر محمد منیر نے ترکی کے محدود لاک ڈاؤن کے بارے میں کہا کہ صحت مند لوگوں کے گھروں سے باہر نکلنے کا کوئی نقصان نہیں، انہوں نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں کرونا کے اسی فیصد مریض ٹھیک ہو رہے ہیں اگر شہری گھروں سے باہر نکلیں گے تو انکی صحت بھی ٹھیک رہے گی اور ہسپتالوں پر بھی زیادہ دباؤ نہیں آئے گا، اگر زیادہ عمر کے افراد باہر نکلیں گے تو ان میں کرونا کے زیادہ پھیلاؤ کا خطرہ ہے

    کرونا لاک ڈاؤن، سائیکل پر ہسپتال جانیوالی خاتون نے سڑک کنارے دیا بچے کو جنم

    کوئی بھوکا نہ سوئے مہم ،بھارتی مسلمانوں کا شاندار کام، مسجد سے تقسیم ہوتا ہے کھانا

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    لاک ڈاؤن ختم کیا جائے، شوہر کے دن رات ہمبستری سے تنگ خاتون کا مطالبہ

    لاک ڈاؤن، فاقوں سے تنگ بھارتی شہریوں نے ترنگے کو پاؤں تلے روند ڈالا

    کرونا مریض اہم، شادی پھر بھی ہو سکتی ہے، خاتون ڈاکٹر شادی چھوڑ کر ہسپتال پہنچ گئی

    کرونا لاک ڈاؤن، رات میں بچوں نے کیا کام شروع کر دیا؟ والدین ہوئے پریشان

    لاک ڈاؤن ہے تو کیا ہوا،شادی نہیں رک سکتی، دولہا دلہن نے ماسک پہن کے کر لی شادی

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    ترکی کی کرنسی کی گراوٹ کے نتیجے میں ترکی معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے جبکہ کرونا کی بیماری نے ترکی می معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ترکی کی آبادی 8 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ ہے مگر اس نے کسی دوسرے یورپی ملک کی طرح ملک بھرمیں مکمل لاک ڈاﺅن نہیں کیا۔ ترک صدر رجب طیب اردوان معیشت کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں مگر اس کے نتیجے میں کرونا وبا تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے.

    پیزا کھانے کے شوقین آرڈر کرنے سے پہلے یہ خبر ضرور پڑھیں اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے….

  • کرونا وائرس چین سے نہیں کسی اورجگہ سے پھیلنا شروع ہوا ، نئے انکشافات نئی مصبیتیں ، سچا کون جھوٹا کون ؟

    کرونا وائرس چین سے نہیں کسی اورجگہ سے پھیلنا شروع ہوا ، نئے انکشافات نئی مصبیتیں ، سچا کون جھوٹا کون ؟

    لندن :کرونا وائرس چین سے نہیں کسی اورجگہ سے پھیلنا شروع ہوا ، نئے نئے انکشافات سے معاملہ نکھرنے لگا.اطلاعات کےمطابق ںئے نوول کورونا وائرس کی وبا ممکنہ طور پر گزشتہ سال ستمبر کی وسط میں پھیلنا شروع ہوئی تھی اور چین کا شہر ووہان سے اس کا آغاز نہیں ہوا۔

    یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا جس میں نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کی ابتدا کو تلاش کرنے کی کوشش کی گئی۔کیمبرج یونیورسٹی کی اس تحقیق کے دوران کووڈ 19 کی وبا کی بنیاد ڈھونڈنے پر کام ہورہا ہے اور تحقیقی ٹیم کو توقع ہے کہ وہ اس پہلے فرد کو شناخت کرنے میں کامیاب ہوجائے گی جو اس وائرس کا پہلا شکار بنا، جس کے بعد یہ آگے پھیلنا شروع ہوا۔

    وائرس کے پھیلنے کے نیٹ ورک کا تجزیہ کرنے کے دوران وہ اب تک اس کے لیے پھیلائو کا چارٹ بشمول جینیاتی تبدیلیاں جاننے میں کامیاب ہوچکے ہیں یعنی کیسے یہ وائرس چین سے آسٹریلیا، یورپ اور باقی دنیا تک پھیلا۔اس تحقیق کے کچھ نتائج گزشتہ ہفتے جاری ہوئے تھے اور اب مزید تفصیلات کو جاری کیا گیا ہے۔

    اس تحقیق کے دوران اس تحقیق میں کورونا وائرس کے 1 ہزار سے زائد مکمل جینومز کو دیکھا گیا جن کا سیکوئنس انسانی مریضوں سے تیار کیا گیا تھا۔بعد ازاں جینیاتی تبدیلیوں کی بنیاد پر وائرس کو ٹائپ اے، بی اور سی میں تقسیم کیا گیا اور ٹائپ اے ٹائپ اے وائرس ممکنہ طور پر چمگادڑوں سے براستہ پینگولین انسانوں میں چھلانگ لگا کر پہنچا تھا۔

    ٹائپ اے کو چینی اور امریکی شہریوں میں دریافت کیا گیا جس کا تبدیلیوں والا ورژن آسٹریلیاں اور امریکا تک پہنچا۔تحقیق کے مطابق ووہان میں زیادہ تر کیسز میں ٹائپ اے وائرس نظر نہیں آیا بلکہ ٹائپ بی وائرس متحرک تھا جس سے عندیہ ملتا ہے کہ وہاں کسی ایونٹ سے یہ بدلنا شروع ہوا۔

    ٹائپ سی ورژن ٹائپ بی کے بطن سے نکلا جو یورپ کے ابتدائی کیسز میں نظر آیا جبکہ جنوبی کوریا، سنگاپور اور ہانگ کانگ میں بھی اس کے مریض تھے مگر چین میں اس کے آثار نہیں ملے۔محققین کے مطابق جمع شدہ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا 13 ستمبر سے 7 دسمبر کے دوران پھیلنا شروع ہوئی اور اس کی بنیاد وائرس میں تبدیلیوں کی شرح کی رفتار ہے۔

  • حکومت نے تو کمال ہی کردیا ،لوگوں کے دلوں پرراج کرنے کا اعلان، فی کس ڈیڑھ لاکھ روپے ملیں گے

    حکومت نے تو کمال ہی کردیا ،لوگوں کے دلوں پرراج کرنے کا اعلان، فی کس ڈیڑھ لاکھ روپے ملیں گے

    ٹوکیو:حکومت نے تو کمال ہی کردیا ،لوگوں کے دلوں پرراج کرنے کا اعلان، فی کس ڈیڑھ لاکھ روپے ملیں گے ،اطلاعات کےمطابق نئے نوول کورونا وائرس کے نتیجے میں متعدد ممالک میں لاک ڈائون کیا گیا ہے اور ضرورت مند افراد کو مالی امداد فراہم کرنے کا بھی اعلان ہوا ہے۔

    اس ملک نے تو کمال ہی کردیا ہے اورتمام ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اپنے تمام شہریوں کو ایک لاکھ ین فی کس (ایک لاکھ 55 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) دینے کا اعلان کیا ہے۔جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے مطابق یہ اعلان جاپانی وزیراعظم ایبے شینزو نے یہ اعلان کیا کہ تمام شہریوں کو ایک لاکھ ین فی کس فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کیا جارہا ہے۔

    جمعے کو انہوں نے جاپان کے تمام 47 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کا اعلان بھی کیا تاکہ نئے نوول کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکے۔اس ایمرجنسی کا نفاذ 6 می تک برقرار رہے گا۔اس سے قبل جاپانی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایسے گھرانوں کو فی خاندان 3 لاکھ ین (4 لاکھ 65 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) دیئے جائیں گے جو اس وبا سے متاثر ہوں گے۔

    جاپانی وزیراعظم نے کہا کہ یہ فیصلہ یہ دیکھ کر کیا گیا کہ ملک میں ہر شہری کو متعدد پابندیوں میں رہ کر زندگی گزارنا پڑرہی ہے اور انہیں بلاوجہ گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے حکمران جماعتوں سے مشاورت کرکے 3 لاکھ ین فی خاندان کی جگہ ایک لاکھ ین ہر شہری کو فراہم کرنے کے منصوبے پر غور کیا جائے گا، جس کے لیے مسودہ ایک یا 2 ہفتے تک منظور کیا جاسکتا ہے۔

  • لے جائیں اپنے اپنے شہریوں کو پاکستان سے ، سول ایوی ایشن نے اجازت دے دی ،

    لے جائیں اپنے اپنے شہریوں کو پاکستان سے ، سول ایوی ایشن نے اجازت دے دی ،

    اسلام آباد:پاکستان سول ایوی ایشن نے قطرایئرویز کو اس بات کی اجازت دے دی ہےکہ وہ غیر ملکیوں کو پاکستان سے نکال کرلے جائے ،اطلاعات کے مطابق اس حواسے سے پیغام دے دیا گیا ہے، یہ اجازات غیردوسری حکومتوں کے مطالبے پرکی گئی ہے ،

    سول ایوی ایشن ذرائع کےمطابق اس حوالے سے ڈائریکٹرائیرٹرانسپورٹ نے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس سلسلے میں 21 اپریل کو قطری چارٹرڈ طیارہ پاکستان میں لینڈ کریں‌گے ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اس پرواز میں دوحہ سے دو جنوبی کوریائی سفیر بھی پاکستان پہنچیں گے

    ذرائع کےمطابق اس حوالے سے پاکستان میں‌ جنوبی کوریا کے سفیر نے حکومت پاکستان سے درخواست کی تھی کہ ہمارے شہریوں کےلیے پروازوں کی اجازت دی جائے

    ذرائع کے مطابق ہزاروں امریکی اوربرطانوی اپنے اپنے ملکوں میں واپس پہنچ چکے ہیں ، ان پروازوں میں پاکستان نژاد امریکی بھی شامل تھے ذرائع کےمطابق یہ غیرملکی 10 سے 12 اپریل کے دوران پاکستان سے اپنے اپنے ملکوں کو چارٹرڈ پرواز کے ذریعے واپس گئے

  • پائلٹوں اوردیگرعملے کی حفاظت کی ذمہ داری پی آئی اے کی ہے ، کسی اورکی نہیں ،جلدکروناسے بچاوکےحفاظتی اقدامات کرے،پالپا

    پائلٹوں اوردیگرعملے کی حفاظت کی ذمہ داری پی آئی اے کی ہے ، کسی اورکی نہیں ،جلدکروناسے بچاوکےحفاظتی اقدامات کرے،پالپا

    اسلام آباد:پائلٹوں اوردیگرعملے کی حفاظت کی ذمہ داری پی آئی اے کی ہے ، کسی اورکی نہیں ،جلد انتظامات کرے ،باغی ٹی وی کےمطابق پائلٹوں کی تنظیم پالپا نے پی آئی اے حکام کے نام اپنے ایک پیغام میں‌کہا ہےکہ خدارا اپنے پائلٹوں کوتو بچالو،ان پائلٹوں اوردیگرعملے کوکرونا سے بچاوکی ذمہ داری آپ پرعائد ہوتی ہے

    ذرائع کےمطابق پی آئی اے کے نام اپنے خط میں پالپا کی طرف سے کہا گیا ہےکہ کرونا وائرس سے بچاوکے لیے حفاظتی اقدامات کی ذمہ داری پی آئی اے حکام کی ہے پھریہ جان بوجھ کرکیوں نظرانداز کررہے ہیں ، اس خط میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ جب تک پی آئی اے اپنے عملے کا خیال نہیں رکھے گی تو وہ کیسے بے فکرہوکراپنی ذمہ داریاں پوری کرسکیں گے

    اپنے بیان میں پالپا نے کہا ہےکہ پائلٹوں کے کرونا ٹیسٹ کے حوالے سے بھی پی آئی اے حکام اپنا وعدہ ابھی تک نہیں نبھا سکے ، یہ ان کی ‌ذمہ داری تھی کہ وہ پائلٹوں کو اس حوالے سے درپیش مسائل کو حل کرتے
    ذرائع کے مطابق پالپا نے مزید کہا کہ پی آئی اے اس حوالے سے پائلٹؤں کو صیح اورٹھوس معلومات بھی فراہم نہیں کررہاجس کی وجہ سے دونوں کے درمیان ایک خلا ہے جسے جلد پرکیا جانا چاہیے

    پالپا نے اپنے پیغام میں کہا ہےکہ کرونا وائرس کے حوالے سے اپنی پالیسی واضح کرے اوراپنے پائلٹوں کی زندگیوں کا خیال رکھے ، اگرپی آئ اے ان اموراورگزارشات پرعمل نہیں کرتا تو پھرکل کو نقصان کا ذمہ داربھی یہی ہوگا کیونکہ پی آئی اے کے معاملات کو حل کرنا اس کی ذمہ داری ہے ناں کہ حکومت یا کسی دوسرے فریق کی

  • کورونا کے باعث لوگ تراویح اور نماز عید گھروں میں ادا کریں، سعودی مفتی اعظم کا فتویٰ‌ اسلامی دنیا کے لیے اہم پیغام

    کورونا کے باعث لوگ تراویح اور نماز عید گھروں میں ادا کریں، سعودی مفتی اعظم کا فتویٰ‌ اسلامی دنیا کے لیے اہم پیغام

    ریاض :کورونا کے باعث لوگ تراویح اور نماز عید گھروں میں ادا کریں، سعودی مفتی اعظم کا فتویٰ‌ اسلامی دنیا کے لیے ،اطلاعات کےمطابق سعودی عرب کے مفتی اعظم مفتی عبدالعزیز بن عبداللہ بن محمد الشیخ کا کہنا ہے کہ اگر کورونا وائرس کی وبا جاری رہتی ہے تو لوگ اس کی روک تھام کے لیے احتیاط کے طور پر رمضان میں نماز تراویح اور عید کی نماز گھروں میں ادا کریں گے۔

    عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق اپنے بیان میں سعودی مفتی اعظم نے کہا کہ گھروں میں نماز عید کی ادائیگی کے بعد خطبہ نہیں ہوگا۔واضح رہے کہ سعودی عرب کی وزارت صحت نے جمعرات کو ملک میں کورونا وائرس کے 518 نئے کیسز اور 4 اموات کی تصدیق کی تھی۔ان نئے کیسز میں سے 195 جدہ، 91 مدینہ، 84 ریاض، 58 مکہ اور 38 دمام میں سامنے آئے تھے۔

    سعودی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ اب تک ملک میں وائرس سے 990 افراد صحتیاب بھی ہوچکے ہیں۔یاد رہے کہ چند روز قبل ہی سعودی عرب کی وزارت مذہبی امور نے اعلان کیا تھا کہ اس سال رمضان المبارک کے دوران مساجد میں نماز تراویح کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    وزارت کی جانب سے لوگوں کو نماز تراویح گھروں میں ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا کیونکہ مساجد میں نمازوں کی ادائیگی اس وقت تک معطل رہے گی جب تک کورونا وائرس کی وبا کا اختتام نہیں ہوجاتا۔

    سعودی وزیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر عبداللطیف الشیخ نے کہا ‘مساجد میں روزانہ 5 وقت نماز پر پابندی نماز تراویح پر پابندی سے زیادہ اہم ہے، نماز تراویح کو گھر میں پڑھا جائے یا مسجد میں ، امید ہے اللہ تعالیٰ اسے قبول کرلیں گے، ہمارے خیال میں لوگوں کی صحت اہمیت رکھتی ہے، ہم اللہ تعالیٰ سے التجا کریں گے کہ ہماری نمازوں کو قبول فرمائے اور انسانیت کو اس وبا سے بچائے جو پوری دنیا میں پھیل چکی ہے’۔

    اس وبا کے نتیجے میں سعودی عرب کے مختلف حصوں میں کرفیو نافذ ہے جس کا دورانیہ مزید بڑھا دیا گیا ہے۔2 مارچ کو مختلف حصوں میں کرفیو کا 21 دن تک نفاذ کیا گیا تھا جس کے دورانیے میں 12 اپریل کو مزید اضافے کا اعلان کیا گیا۔پہلے کرفیو کا دورانیہ شام 7 بجے سے صبح 6 بجے تک تھا، بعد میں اسے دوپہر 3 بجے سے صبح 6 بجے تک کردیا گیا۔

  • لوگو ! میں تمہیں بتارہا ہوں کہ کرونا وائرس کنٹرول سے باہرہوگیا ہے ،کوئی پتہ نہیں کیا ہوگا،وزیراعظم

    لوگو ! میں تمہیں بتارہا ہوں کہ کرونا وائرس کنٹرول سے باہرہوگیا ہے ،کوئی پتہ نہیں کیا ہوگا،وزیراعظم

    لندن :لوگو ! میں تمہیں بتارہا ہوں کہ کرونا وائرس کنٹرول سے باہرہوگیا ہے ،کوئی پتہ نہیں کیا ہوگا،محتاط رہیں ،باغی ٹی وی کے مطابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اپنی قوم کو خبردارکرتے ہوئے کہا ہےکہ حالات قابوسے باہرہوگئے ہیں ، لہذا محتاط رہیں

    باغی ٹی وی کےمطابق وزیراعظم نے کہا کہ کرونا وائرس بے قابو ہوتا نظرآرہا ہے، ہلاکتیں پھربڑھنا شروع ہوگئی ہیں ، لٰہذا تمام برطانوی شہریوں کوخبردار کیا جاتا ہےکہ لوگ سیروتفریح کے لیے دوسرے علاقوں میں نہ جائیں

    برطانوی وزیراعظم نے مزیدکہاکہ مجھے کچھ خدشات ہیں جس کی وجہ سے میں تم کو قبل ازوقت ہی بتا رہا ہوں‌ کہ کرونا سے نمٹنے کے حوالے سے صورت حال تشویشناک ہے ، اس لیے محتاط رہنے میں ہی زندگی ہے

    یاد رہےکہ اس وقت برطانیہ میں 14576 افراد کرونا کی وجہ سے ہلاک ہوچکے ہیں ، ادھر آج مرنے والوں کی تعداد بھی 847 سے تجاوز کرچکی ہے

    ادھر بورس جانسن نے کہا ہے کہ انہوں‌نے کرونا وائرس کے ٹیسٹوں کےحوالےسے چین کو 16 ملین پونڈز کی رقم ادا کی ہے لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی اب ہم اپنی رقم واپس لینے کا تقاضا کررہے ہیں

  • کرونا وائرس کہاں تیارہوا،فنڈز کس نے فراہم کیئے ، خود امریکیوں نے رپورٹ افشاں کردی ،تہلکہ مچ گیا

    کرونا وائرس کہاں تیارہوا،فنڈز کس نے فراہم کیئے ، خود امریکیوں نے رپورٹ افشاں کردی ،تہلکہ مچ گیا

    واشنگٹن :کرونا وائرس کہاں تیارہوا،فنڈز کس نے فراہم کیئے ، خود امریکیوں نے رپورٹ افشاں کردی ،تہلکہ مچ گیا ،اطلاعات کےمطابق چند دن قبل ہی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ امریکی حکومت کو شک ہے کہ کورونا وائرس کو ممکنہ طور پر چین کے شہر ووہان کی ایک لیبارٹری میں تیار کیا گیا۔

    فاکس نیوز، سی این این اور یاہو نیوز نے اپنی رپورٹس میں بتایا تھا کہ امریکی حکومت نے شکوک بڑھنے کے بعد خفیہ اداروں کو معاملے کی تفتیش کا حکم دے دیا۔رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ دن قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران اس بات کا عندیہ دیا کہ امریکی حکومت اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ کہیں کورونا کسی لیبارٹری میں تو تیار نہیں ہوا۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے محض ایک روز بعد سی این این نے اپنی رپورٹ میں ذرائع سے بتایا تھا کہ امریکی حکومت نے خفیہ اداروں کے ماہرین کی مدد سے اس معاملے کی تفتیش شروع کردی ہے کہ کہیں کورونا وائرس چین کی لیبارٹری میں تو تیار نہیں ہوا۔

    فاکس نیوز نے بھی اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ کورونا وائرس کو چین کے شہر ووہان کے ایک انسٹی ٹیوٹ میں تیار کیا گیا۔فاکس نیوز کے مطابق دراصل ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی (ڈبلیو آئی وی) کے ماہرین ایک وائرس کی تیاری میں مصروف تھے کہ اس دوران وائرس بنانے والے ایک ماہر اس تجرباتی وائرس سے ممکنہ طور پر متاثر ہوئے جو کہ بعد ازاں ووہان کے گوشت مارکیٹ گئے، جہاں متاثرہ شخص سے وائرس نکل کر پھیل گیا۔

    ایسی رپورٹس سامنے آنے کے بعد اگرچہ امریکی حکومت نے معاملے کی تفتیش شروع کردی، تاہم سی این این نے بتایا تھا کہ امریکی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کو یقین ہے کہ کورونا کسی لیبارٹری میں تیار نہیں کیا گیا۔امریکی حکومت کی جانب سے تفتیش شروع کیے جانے کے بعد چینی حکومت نے بھی ایک بار پھر بیان دیا تھا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) بھی کہہ چکا ہے کہ کورونا وائرس لیبارٹری میں نہیں بنا۔

     

    فاکس نیوز نے اپنی رپورٹ میں امریکی و برطانوی نیوز ویب سائٹس کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کینیڈین و امریکی حکومتوں نے ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی کو متعدد تجربات کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر کے فنڈز فراہم کیے اور بعد ازاں کورونا سامنے آنے کے بعد بھی دونوں ممالک کی حکومتوں نے اسی انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے میڈیکل سائنس و صحت کے اداروں نے ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی کو جدید ترین حیاتیاتی تحقیق کے لیے فنڈز فراہم کیے جب کہ مارچ کے آغاز میں ہی کورونا کے دنیا بھر میں پھیلاؤ کے آغاز کے وقت بھی کینیڈین حکومت نے اسی چینی ادارے کے ساتھ کورونا سے متعلق تحقیقات کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    رپورٹ میں کینیڈین حکومت کی جانب سے ووہان انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے اعلان کے بیان کو بھی شامل کیا اور بتایا گیا کہ کینیڈین حکومت نے چینی ادارے کو کم سے کم 30 لاکھ امریکی ڈالر کی فنڈنگ فراہم کی۔اسی طرح فاکس نیوز نے اپنی رپورٹ میں برطانوی اخبار ڈیلی میل کی ایک خبر کا حوالہ دیا، جس میں بتایا گیا تھا کہ امریکا کے متعدد اداروں کی جانب سے بھی ووہان انسٹی ٹیوٹ آف ورولاجی کو فنڈز فراہم کیے گئے۔

    چینی ادارے کو امریکی طبی تحقیقاتی اداروں کی جانب سے خطیر فنڈز فراہم کرنے پر متعدد کانگریس ارکان نے بھی تفتیش کا اظہار کیا۔فاکس نیوز کے مطابق البتہ امریکی حکومت نے براہ راست چینی انسٹی ٹیوٹ کو فنڈز فراہم نہیں کیے، تاہم امریکی حکومت کے تعاون سے چلنےو الے دیگر اداروں نے چینی ادارے کو فنڈز فراہم کیے۔

    رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کینیڈا و امریکی اداروں کی جانب سے چینی ادارے کو فراہم کیے گئے فنڈز سے ہی ووہان انسٹی ٹیوٹ نے مبینہ طور پر کورونا وائرس کو بنایا یا ان فنڈز کو کسی اور تحقیق کے لیے استعمال کیا گیا۔

  • کرونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے سمندر پار پاکستانیوں کے درجات کی بلندی کے لئے دعاگو ہوں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

    کرونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے سمندر پار پاکستانیوں کے درجات کی بلندی کے لئے دعاگو ہوں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

    کراچی :کرونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے سمندر پار پاکستانیوں کے درجات کی بلندی کے لئے دعاگو ہوں،باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کا کرونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اہل خانہ سے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں کرونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے سمندر پار پاکستانیوں کے درجات کی بلندی کے لئے دعاگو ہوں

    چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میں وطن عزیز میں موجود جاں بحق ہونے والے بیرون ملک پاکستانیوں کے سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کا شریک ہوں،انہوں نےکہا کہ دفتر خارجہ اس موقع پر جاں بحق ہونے والے بیرون ملک پاکستانیوں کے سوگوار خاندانوں سے رابطہ کرکے ان کے مسائل حل کرے

    ، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ امریکا، اٹلی، برطانیہ اور اسپین میں پاکستانیوں نے کرونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر اپنا کردار ادا کرکے ملک کا نام روشن کیا،انہوں نے کہا کہ میں امریکا و یورپی ممالک میں کرونا وائرس کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے زندگیوں سے محروم ہونے والے پاکستانی طبی عملے کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں

    ، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خلیج عرب ممالک میں پاکستانی مزدوروں کی ایک بڑی تعداد مسائل کا سامنا کررہی ہے،امریکا و یورپی ممالک میں مقیم پاکستانی سخت وقت کا سامنا کررہے ہیں،مجھے امید ہے کہ پوری دنیا میں ہمارے ملکی سفارت خانے مشکلات سے دوچار پاکستانیوں سے رابطے میں ہوں گے،سمندر پار پاکستانی خود کو تنہا نہ سمجھیں، عوام ان کیلئے فکرمند ہیں