Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • حکومت اکیلے کرونا چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتی وزیراعظم  کی سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے وفد سے گفتگو

    حکومت اکیلے کرونا چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتی وزیراعظم کی سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے وفد سے گفتگو

    حکومت اکیلے کرونا چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتی وزیراعظم کی سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے وفد سے گفتگو

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعظم عمران خان سے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات میں معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر اور فوکل پرسن برائے پناہ گاہ نسیم الرحمان بھی موجود تھے،وفد نے کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال میں وفاقی حکومت خصوصاً وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے کمزور طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کی کاوشوں کو سراہا

    وفد نے موجودہ صورتحال کے تناظر میں تعمیرات اور دیگر مختلف صنعتی سرگرمیوں کی اجازت دینے کے حکومتی فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے کاروباری طبقے کی مشکلات میں کمی آئے گی۔ وفد نے وزیرِ اعظم کو سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے مستحق افراد کو کھانا فراہم کرنے اور تعلیم سمیت دیگر فلاحی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔

    وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ کہ سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے ملک بھر میں 112 لنگر خانے قائم کیے جا رہے ہیں ۔

    کرونا کے وار جاری، 288 پولیس اہلکاروں میں ہوئی کرونا کی تشخیص

    سعودی عرب میں کرونا کے مریضوں میں مسلسل اضافہ، شاہ سلمان نے دیا عالمی ادارہ صحت کو فنڈ

    کرونا وائرس،اچھی خبر بھی سامنے آ گئی، گھروں کی قیمیتں ہوں گی کم

    کرونا وائرس، آئی ٹی سیکٹر میں بھی بڑے بحران کا خدشہ

    یقین نہ آئے تو میری پینٹ اتار کر دیکھ لینا،پولیس تشدد کے بعد خودکشی کرنیوالے نوجوان کا دردناک پیغام

    لاک ڈاؤن ،امداد دینے کے بہانے حکومت نے غریبوں سے 9 کروڑ وصول کر لیے

    لاڑکانہ سمیت سندھ میں احساس پروگرام کی رقم میں کٹوتی پر رینجرز کا ایکشن

    وزیرِ اعظم عمران خان نے سیلانی ویلیفئر ٹرسٹ کی سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار افراد اور فلاحی تنظیمیں ہمارے معاشرے کی اصل طاقت اور اسکا روشن چہرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری قوم نے مشکل کی ہر گھڑی کا نہ صرف استقامت اور جوانمردی کا مقابلہ کیا ہے بلکہ کمزور طبقوں کی فلاح و بہبود کے لئے پوری قوم نے دل کھول کر اور بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کوئی حکومت اکیلے کورونا جیسے بڑے چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ مخیر حضرات کے عطیات اور فلاحی تنظیموں کی بھرپور معاونت سے حکومت ملک بھر کے تمام طبقوں تک پہنچنے کے لئے پرعزم ہے۔

  • احساس کیش پروگرام، لاڑکانہ کے بعد لاہور میں بھی رقم میں کٹوتی ،ایجنٹ گرفتار

    احساس کیش پروگرام، لاڑکانہ کے بعد لاہور میں بھی رقم میں کٹوتی ،ایجنٹ گرفتار

    احساس کیش پروگرام، لاڑکانہ کے بعد لاہور میں بھی رقم میں کٹوتی ،ایجنٹ گرفتار
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ضلعی انتظامیہ لاہور نے گورنمنٹ بوائز ہائی سکول باغبانپورہ کے احساس کیمپ میں کم رقم دینے پر کاروائی کی ہے

    حبیب بینک گورنمنٹ بوائز ہائی سکول باغبانپورہ کا ایجنٹ گرفتار کر لیا گیا.محمد عفیف علیم ایجنٹ نے فرزانہ کوثر بی بی کو کم رقم کی ادائیگی کی. فرزانہ کوثر بی بی کی رقم بقایاجات سمیت 21 ہزار روپے بنتی تھی. فرزانہ کوثر بی بی کو محمد عفیف علیم نے صرف 12 ہزار روپے دئیے .

    فرزانہ کوثر بی بی کو بقایا جات سمیت 21 ہزار روپے کی رقم کی ادائیگی کر دی گئی. حبیب بینک محمد عفیف علیم کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج کروا دیا گیا ہے. ضلعی انتظامیہ لاہور کے ریونیو سٹاف نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے بروقت کارروائی کی.

    علاوہ ازیں ضلعی انتظامیہ لاہور کا ریونیو سٹاف معذور اور بوڑھی خواتین کو کیش کاؤنٹرز تک لے جانے میں مدد بھی کر رہا ہے. ڈی سی لاہور دانش افضال نے اسسٹنٹ کمشنر شالیمار مہدی مالوف اور ان کی ٹیم کو سراہا ہے

    قبل ازیں بہاولپور میں احساس ا مداد پروگرام کے تحت ملنے والے 12 ہزار روپے میں سے 500 کٹوتی کرکے 11 ہزار 500 دینے پر ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ احساس پروگرام کے تحت امداد کی فراہمی کا آغاز ہوگیا، ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کو فی کس 12 ہزار روپے ملنا شروع ہوگئے، امدادی رقم سنٹرز سے صبح 8 بجے سے شام 6 بجے تک وصول کی جا سکے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کرونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہونے کے بعد غریبوں کے لئے مالی امداد کا اعلان کیا تھا،حکومت نے لاک ڈاون کے تیسرے ہفتے میں ادائیگیاں شروع کر دی ہین، پاکستان کے تمام صوبوں میں خواتین کو ادائیگیاں کی گئیں اس ضمن میں ملک بھر میں 17 ہزار مراکز بنائے گئے ہیں.

    احساس کفالت پروگرام کے تحت قائم کئے گئے سینٹرز کے باہر پولیس اور پاک فوج کے جوان بھی موجود تھے۔ احساس پروگرام کے تحت ڈھائی ہفتے کے دوران 144 ارب روپے مستحقین میں تقسیم کئے جائیں گے

    کرونا وائرس،بھارت میں اتنے مریض ہو جائیں گے کہ لاشیں بلڈوزر سے گڑھے میں ڈالنا پڑیں گی

    چین میں‌ کرونا وائرس کا پہلا مریض اب کس حال میں ہے ؟

    کرونا کے وار جاری، 288 پولیس اہلکاروں میں ہوئی کرونا کی تشخیص

    سعودی عرب میں کرونا کے مریضوں میں مسلسل اضافہ، شاہ سلمان نے دیا عالمی ادارہ صحت کو فنڈ

    کرونا وائرس،اچھی خبر بھی سامنے آ گئی، گھروں کی قیمیتں ہوں گی کم

    کرونا وائرس، آئی ٹی سیکٹر میں بھی بڑے بحران کا خدشہ

    یقین نہ آئے تو میری پینٹ اتار کر دیکھ لینا،پولیس تشدد کے بعد خودکشی کرنیوالے نوجوان کا دردناک پیغام

    لاک ڈاؤن ،امداد دینے کے بہانے حکومت نے غریبوں سے 9 کروڑ وصول کر لیے

     

    احساس ایمرجنسی کیش کے Category-2 کے صارفین جو بذریعہ8171 ایس ایم ایس سروس رجسٹر ہوئے ہیں انکو امدادی رقوم کی ادائیگی آج سے شروع کر دی گئی ہے۔احساس ایمرجنسی کیش پروگرام پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا امدادی پیکج ہے،اس پروگرام میں رجسٹریشن کی آخری تاریخ 𝟏𝟗اپریل 𝟐𝟎𝟐𝟎 ہے،اگر آپ مستحق ہیں یا کسی مستحق کو جانتے ہیں تو قومی شناختی کارڈ نمبر 𝟏𝟗اپریل 𝟐𝟎𝟐𝟎 رات 𝟏𝟐:𝟎𝟎 بجے سے پہلے پہلے 𝟖𝟏𝟕𝟏 ایس ایم ایس کریں

    وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ احساس کیش ایمرجنسی پروگرام تمام سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر نہایت شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر چلا یا جا رہا ہے، مشکل کی اس گھڑی میں وفاقی حکومت ملک بھر کی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کر رہی ہے. احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے تحت اب تک 12000 فی خاندان کے حساب سے 32 ارب 87 کروڑ روپے 27 لاکھ 39 ہزار خاندانوں میں تقسیم ہو چکے ہیں

    لاڑکانہ سمیت سندھ میں احساس پروگرام کی رقم میں کٹوتی پر رینجرز کا ایکشن

  • طلاقوں سے بچنے کے لیے اپارٹمنٹ میں چلے جائیں اوروہاں کیا کام کریں جاپانی شخص نے بتادیا

    طلاقوں سے بچنے کے لیے اپارٹمنٹ میں چلے جائیں اوروہاں کیا کام کریں جاپانی شخص نے بتادیا

    ٹوکیو:طلاقوں سے بچنے کے لیے اپارٹمنٹ میں چلے جائیں اوروہاں کیا کام کریں جاپانی شخص نے بتادیا، اطلاعات کےمطابق جاپان میں کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن کے دوران طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کو دیکھ کر ایک پرائیوٹ فرم نے اس کا حل نکالنے کی کوشش کی ہے۔

     

    لاک ڈائون : بیوی بچوں سے تنگ شخص 300کلومیٹرسفر طے کرنے والا پولیس کے ہتھے چڑھ گیا

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے جاری لاک ڈاؤن سے جہاں عوام میں ذہنی تناؤ بڑھا ہے وہیں گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ بھی ہوا ہے جب کہ جاپان میں لاک ڈاؤن کے دوران طلاق کی شرح میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جاپان کی ایک مقامی فرم نے طلاق کی بڑھتی شرح کی وجہ سے اس کا حل نکالنے کی کوشش کچھ اس طرح کی ہے کہ شادی شدے جوڑے کو ذہنی سکون کے لیے اپارٹمنٹ کرائے پر دینے کی پیشکش کی ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق مقامی فرم کم مدت کے لیے کرائے پر اپارٹمنٹ فراہم کررہی ہے تاکہ تناؤ میں مبتلا شادی شدہ جوڑے اپنا کچھ وقت سکون سے ان اپارٹمنٹس میں گزار سکیں۔کاسوکو نامی فرم کے یہ اپارٹمنٹس ایک طرح کی عارضی پناہ گاہ ہیں جس میں مکمل سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور انتہائی پرامن ماحول فراہم کیا جارہا ہے۔فرم کا کہنا ہےکہ طلاق کے بارے میں سوچنے سے پہلے ہم سے مشورہ کریں، وہ لوگ جو اس طرح کی مشکلات میں ہیں کمپنی انہیں یومیہ 40 ڈالر پر اپارٹمنٹ فراہم کررہی ہے۔

    فرم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کمپنی نے یہ پیشکش 3 اپریل سے شروع کی ہے اور جب سے اب تک 20 کسٹمر اپارٹمنٹ بک کراچکے ہیں، اس کے علاوہ کمپنی نے طلاق کے معاملے پر اپنے قانونی ماہرین سے 30 منٹ کی مشاورت کی بھی مفت سروس دینے کا اعلان کیا ہے۔

    کمپنی کے مطابق اپارٹمنٹ لینے والی ایک خاتون نے بتایا کہ انہوں نے اپنے شوہر سے شدید لڑائی ہونے کے بعد گھر چھوڑا، وہ اپنے لیے کچھ وقت چاہتی ہیں کیونکہ وہ اسکول بند ہونے اور شوہر کے گھر سے کام کرنے کی وجہ سے ان کی دیکھ بھال سے تنگ آچکی ہیں۔

    کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہےکہ ان کے پاس طلاق کے حوالے سے حتمی نمبرز موجود نہیں لیکن میڈیا رپورٹس سے یہ بات واضح رہے کہ چین اور روس میں لاک ڈاؤن کے بعد طلاق کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ترجمان کے مطابق جاپان بھر میں ان کے پاس تقریباً 500 یونٹس ہیں جن میں سے زیادہ تر ٹوکیو میں ہیں۔جاپان میں اب تک کورنا وائرس کے 8 ہزار سے زائد کیسز ہیں جب کہ 150 کے قریب ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

  • سندھ میں کرونا سے 41 نہیں بلکہ 400 ہلاکتیں ہو چکیں،یہ دعویٰ کس نے کر دیا

    سندھ میں کرونا سے 41 نہیں بلکہ 400 ہلاکتیں ہو چکیں،یہ دعویٰ کس نے کر دیا

    سندھ میں کرونا سے 41 نہیں بلکہ 400 ہلاکتیں ہو چکیں،یہ دعویٰ کس نے کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ نے پریس کانفرنس میں لوگوں کو امید کے بجائے ڈرادیا،سندھ میں اگر اقدامات کیے گئے تو اموات کی تعداد کیوں زیادہ ہے؟

    فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ کوروناوائرس ساری دنیا کا خفیہ دشمن ہے،کورونا وائرس سے بچاوَ کےلیے احتیاط بہترین حل ہے،قومی رابطہ کمیٹی نے سب کو ساتھ لے کر فیصلے کیے،18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کے پاس اختیارات ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ صوبے صورت حال دیکھ کر فیصلے کریں،صبح سے إنا لله و إنا اليه راجعون کہہ کر بیانات دیئے جارہے ہیں،

    فردوس عاشق اعوان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سندھ کے لوگوں کو 2وقت کاکھانا فراہمی یقینی بنائیں ،وزیر اعلیٰ کی صوابدید ہے کہ آپ لاک ڈاؤن کریں یا کرفیو لگائیں،لاک ڈاؤن اور تعمیراتی شعبے سے متعلق حکومت سندھ کے خدشات تھے،میڈیا پر آنے کے بجائے سندھ میں پھیلی بھوک اور افلاس کو دیکھیں،

    اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنما حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ایدھی سنٹر نے کہا ہے کہ400لاشیں اسپتال یاگھروں سے اٹھائی گئی ہیں ،فیصل ایدھی نے کہا اموات کی تعداد بڑھ گئی ہے،ملک کے حالات خراب ہیں، وزیراعلیٰ کہتے ہین کہ لاشوں کا ٹیسٹ نہیں کروا سکتے، سندھ میں لوگ راشن ڈھونڈ رہے ہیں صوبائی حکومت کہتی ہے کہ راشن بانٹ دیا لیکن کسی کو پتہ نہیں چلا، کم از کم ایک ٹرک تو دکھا دیں جو راشن لے کر جا رہا ہو، وزیراعظم نے ہماری حوصلہ افزائی کی ٹائیگر فورس سے سندھ میں بڑی تعداد میں لوگ سامنے آئیں گے، سندھ میں کام نظر آنا چاہے

    کرونا کے کئی کیس رپورٹ نہیں ہو رہے ،ایسے کیس بھی آرہے ہیں جنہیں مردہ حالت میں لایا گیا،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ نے عمران خان کی بجائے بلاول کو وزیراعظم کہہ دیا،کہا سندھ میں لاک ڈاؤن سخت ہے تو نیویارک جا سکتے ہو

    تبلیغی جماعت کے ملک بھر میں کتنے اراکین قرنطینہ مراکز میں؟ 2 کی ہوئی کرونا سے موت

    کرونا وائرس، تبلیغی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخص کی ہوئی موت

    کرونا کے وار جاری، 288 پولیس اہلکاروں میں ہوئی کرونا کی تشخیص

    حلیم عادل شیخ کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں حالات خراب ہیں، ٹیسٹ کٹس پرسوں آئی ہیں، اب مریضوں اور ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے.

    سندھ میں مزید 150 افراد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے،ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد 41 ہوگئی ہے،ہم نے 16 ہزار 26 ٹیسٹ کیے ہیں،ایک ہزار 668 افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں، گزشتہ 24گھنٹوں میں 133 افراد صحتیاب ہوئے ہیں،

  • خریداری کرنے والوں کے لیے خوشخبریاں ہی خوشخبریاں : ملکی برآمدات پر عائد ٹیکسز اور ڈیوٹیز ختم کردی گئیں

    خریداری کرنے والوں کے لیے خوشخبریاں ہی خوشخبریاں : ملکی برآمدات پر عائد ٹیکسز اور ڈیوٹیز ختم کردی گئیں

    اسلام آباد: خریداری کرنے والوں کے لیے خوشخبریاں ہی خوشخبریاں : ملکی برآمدات پر عائد ٹیکسز اور ڈیوٹیز ختم کردی گئیں،اطلاعات کے مطابق مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ ملکی برآمدات پر عائد ٹیکسز اور ڈیوٹیز کا پہلو ختم کر دیا گیا ہے۔

     

    کونا وائرس کی وجہ سے خواجہ سراوں کے متعلق حکومت کے فیصلے نے تہلکہ مچادیا

    عبدالرزاق داؤد نے کا کہنا ہے کہ وزارت تجارت برآمدی صنعت کوسہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہے، ایف بی آر حکام سے برآمدی صنعت کی سہولت کے لیے بات چیت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ لیدر، پولٹری، بجلی کے پنکھے اور دیگر شعبوں کی برآمدات پر ٹیکسز ختم کرنے کے حوالے سے بات ہوئی ہے۔

    لاک ڈائون : بیوی بچوں سے تنگ شخص 300کلومیٹرسفر طے کرنے والا پولیس کے ہتھے چڑھ گیا

    مشیر تجارت نے توقع ظاہر کی کہ ڈیوٹی ڈرا بیک کے امور پرنظرثانی کی جائے گی اور ڈیوٹی ڈرا بیک کا نظام برآمد کنندگان کے لیے آسان بنایا جائے گا۔عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ لاک ڈاون میں نرمی سے برآمدات کو فروغ ملے گا، برآمدات کے لیے صوبے ایس او پیز کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ چند دن قبل پاکستان کی بڑے بڑے کاروباری حلقوں کی طرف سے کہا گیا ہےکہ حکومت مذکورہ ٹیکس ختم کردے ، یہی وجہ ہے کہ حکومت نے پاکستان کے تجارتی اورکاروباری اداروں کی خواہش پریہ ٹیکسزکم کئے ہیں

  • ڈیرن سیمی دنیا بھرمیں عمران خان کا پیغام پھیلانے لگے ،کیا ہے وہ اہم پیغام سیمی بتاتے ہیں‌

    ڈیرن سیمی دنیا بھرمیں عمران خان کا پیغام پھیلانے لگے ،کیا ہے وہ اہم پیغام سیمی بتاتے ہیں‌

    لاہور:کرکٹ کی دنیا کی ہردلعزیز شخصیت ویسٹ انڈیز کے نامور کھلاڑی اور پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی ایک بار پھر پاکستانیوں کیلئے خاص پیغام کے ساتھ میدان میں آگئے۔

    لاک ڈائون : بیوی بچوں سے تنگ شخص 300کلومیٹرسفر طے کرنے والا پولیس کے ہتھے چڑھ گیا

    ڈیرن سیمی نے ٹوئٹر پر جاری اپنے خصوصی ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’میرا یہ خاص پیغام پوری دنیا میں رہنے والے پاکستانیوں کے لیے ہے، آپ کے وزیراعظم نے کورونا سے جنگ لڑنے کے لیے ریلیف فنڈ کا اعلان کیا ہے جس کے لیے میں آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں‘۔

     

    اپنے ویڈیو پیغام میں ان کہنا تھاکہ میں آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں‘۔ انہوں نے کہا یہ مددپاکستان کی کورونا وائرس سے جنگ کیلئے مددگار ثابت ہوگی، اور آ پ کے عطیات کسی کے کام آئیں گے۔اپنی پوسٹ کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ہمیں اپنے بھائیوں کا خیال رکھنا ہے آئیں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔

    کونا وائرس کی وجہ سے خواجہ سراوں کے متعلق حکومت کے فیصلے نے تہلکہ مچادیا

    واضح رہے کہ صدر پاکستان نے ڈیرن سیمی کو پاکستان کیلئے محبت بھرے جذبات رکھنے پر انہیں اعزازی شہریت دینے کا اعلان کررکھا ہے تاہم تئیس مارچ کی جس تقریب میں انہیں پاکستانی شہریت سے نوازا جانا تھا وہ کورونا وائرس کے پھیلاو کے خدشے کے پیش نظر منسوخ کردی گئی تھی۔

  • الکوحل ملا سینیٹائزر حلال یا حرام؟

    الکوحل ملا سینیٹائزر حلال یا حرام؟

    مفتی عبدالقوی کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر اور وبا سے بچاو کی حفاظتی تدابیر کے لیے الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر حلال ہے

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں پھیلی کورونا وبا کے پیش نظر حفاظتی تدابیر کے طور پر ماہرین نے سینیٹائزر استعمال کرنے پر زور دیا ہے وبا سے بچاو کے لیے بازار میں دستیاب ان ہیینڈ سینیٹائزر کو فوقیت دی جا رہی ہے جس میں۔الکوحل کی ایک خاص مقدار شامل ہے لیکن بحثیت مسلمان یہ بات ہمیں شک میں مبتلا کر دیتی ہے کہ اگر ہم الکوحل ملے سینیٹائزر کو ہاتھوں پر استعمال کریں تو ان ہاتھوں سے ہم کو ئی چیز کھاتے ہیں تو وہ ذرات ہمارے جسم میں داخل ہو جاتے ہیں کیا اس میں کوئی قباحت ہو سکتی ہے اس حوالے سے پروگرام سماء ود عفیفہ راو میں مفتی عبدالقوی جلوہ گر ہوئے انہوں نے انٹر ویو کے دوران الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر حلال ہے یا حرام اس پر روشنی ڈالی

    مفتی عبدالقوی نے بتایا کہ وبا سے بچنے کے لیے ہر قسم کی احتیاطی تدابیر تو ہر حال میں اختیار کرنی ہیں کیونکہ قرآن پاک یہ درس پوری دنیا کو دے رہا ہے کہ جس نے ایک انسانیت کی جان بچائی احترام کیا گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی احترام کیا انہوں نے کہا پوری دنیا کی۔کیفیت ہمارے سامنے ہے چین نے احتیاطی تدابیر اپنا کر اس وبا سے نجاے حاصل کی پاکستان میں بھی حکومت علماء ماہرین طب اور فن سب نے احتیاطی تدابیر اختیار کیں اور عوام۔کو بھی زور دیا

    مفتی قوی نے کہا کہ احتیاطی تدابیر میں گرم۔پانی کا استعمال۔اور صاف ستھرائی شامل ہے انہوں نے کہا جراثیم کش الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر استعمال کرنے کا فتوی کسی عالم دین کا نہیں بلکہ ماہرین طب اور ماہرین فن کا ہے

    مفتی عبدالقوی نے کہا کہ ہر چیز جو حرام ہے وہ پلید بھی ہے نہیں ہر حرام چیز پلید نہیں ہے انہوں نے کہا نجاست پلیدی اور حرمت یہ تینوں الگ چیزیں ہیں الکوحل اس لیے حرام ہے کیونکہ اس کا خمر ہے اور خمر کے معنی عقل کے اوپر خمار جب کوئی خمر استعمال کرےتو اسے اردگرد کا ہوش نہیں رہتا

    مفتی عبدالقوی نے کہا الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر کا ہلکا سا سپرے جب ہم ہاتھوں پر کرتے ہیں تو اس کا اثر دماغ پر نہیں چڑھتا اس کے اثرات ذہن پر اثر انداز نہیں ہوتے وہ ہاتھ کے اوپر موجود رہتا ہے خمار نہیں ہوا تو اس کا مطلب حرام نہیں ہے اور ہر حرام چیز پلید نہیں ہے اگر سینیٹائزر کو استعمال کرنے کے بعد کھانا کھائیں گےتو اس کہ ہلکی سی مقدار اثرات مرتب نہیں کرے گی کسی مرض میں خاص شرط خاص وقت احتیاطی تدابیر کے لیے پلید چیزیں بھی پاک ہو جاتی ہیں

    مفتی قوی نے کہا کہ اپنی تسلی کے لیے جراثیم کش ہینڈسینیٹائزر جو حرام اور پلید ہے استعمال کرنے کے بعد اس پلیدی سے بچنے کے لیے کھانا کھانے سے پہلے گرم۔پانی سے ہاتھ دھولیں کیونکہ گرم۔پانی کا استعمال بھی احتیاطی تدابیر میں ماہرین نے بتایا ہے

    جبکہ مفتی عبدالقوی نے کہا میں دین میں آسانی ڈھنڈنے کا قائل ہوں میری رائے یہ ہے کہ آپ سینیٹائزر استعمال کرنے کے بعد بغیر ہاتھ دھوئے بھی کھانا کھا سکتے ہیں وہ حرام بھی نہیں نجس بھی

    مفتی قوی نے مزید کہا کہ اگر ماہرین طب اور فن نے کہا ہے ک. الکوحل ملا ہینڈ سینیٹائزر جراثیم کش ہے اس سے وبا سے بچے رہیں گے تو یہ حلال ہے اسی طرح اگر ماہرین طب وبا سے بچاو کے لیےاور حفاظتی تدابیر کے تحت الکوحل پینے کو کہیں گے تو میں برملا کہوں گا کہ تب بھی پینا حلا ل ہے اور پاک بھی

    گھر میں ہینڈ سینیٹائزر بنانے کا سستا اور آسان طریقہ

    گھر میں کورونا وائرس ختم کرنے کے طریقے

    این ڈی ایم اے کا کورونا سے بچاؤ کے حفاظتی سامان کی خریداری لوکل مارکیٹ سے کرنیکا فیصلہ

  • ڈونلڈ ٹرمپ سخت غصے میں آگئے ، عالمی ادارہ صحت کے متعلق اہم فیصلہ سنا کرمشکل میں ڈال دیا

    ڈونلڈ ٹرمپ سخت غصے میں آگئے ، عالمی ادارہ صحت کے متعلق اہم فیصلہ سنا کرمشکل میں ڈال دیا

    واشنگٹن:ڈونلڈ ٹرمپ سخت غصے میں آگئے ، عالمی ادارہ صحت کے متعلق اہم فیصلہ سنا کرمشکل میں ڈال دیا ،اطلاعات کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے (ڈبلیو ایچ او) عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ فوری روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو چھپانے اور اس حوالے سے بد انتظامی پر (ڈبلیو ایچ او) عالمی ادارہ صحت کی فنڈنگ فوری طور پر روکنے کے احکامات دیے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کیا عالمی ادارہ صحت اپنا کردار ادا کرتے ہوئے چین میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے طبی ماہرین بھیجے، اگر ایسا ہوتا تو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکتا تھا اور اموات کی تعداد بھی کم ہوتی۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فنڈز روکنے کی دھمکی دی تھی، ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت پر ’’چین کی جانب داری‘‘ کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ اس ادارے نے کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کےلیے فیصلوں اور عملی اقدامات میں بہت تاخیر کی جس کی وجہ سے یہ عالمی وبا سنگین ہوگئی ہے۔

  • عوام کی مشکلات کا احساس، کرونا کے ساتھ غربت بڑا چیلنج،وزیراعظم

    عوام کی مشکلات کا احساس، کرونا کے ساتھ غربت بڑا چیلنج،وزیراعظم

    عوام کی مشکلات کا احساس، کرونا کے ساتھ غربت بڑا چیلنج،وزیراعظم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے پی ٹی آئی کے مرکزی نائب صدر اور سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ کی ملاقات ہوئی ہے

    حلیم عادل شیخ نے وزیرِ اعظم کو کورونا وائرس کے تناظر میں صوبہ سندھ کی مجموعی صورتحال اور عوام کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا، حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ کے عوام مشکل کی اس گھڑی میں وفاقی حکومت کی جانب سے احساس کیش ایمرجنسی پروگرام کے تحت ملنے والی مالی معاونت پر وزیرِ اعظم عمران خان کے مشکور ہیں

    حلیم عادل شیخ نے مشکل ترین حالات کے باوجود موجودہ صورتحال میں اربوں روپے کا پیکیج فراہم کرنے پر وزیرِ اعظم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر تعمیرات اور ایکسپورٹ انڈسٹری کے حوالے سے بروقت فیصلے لینے پر وفاقی حکومت کے مشکور ہیں،صوبے بھر کے نوجوانوں میں کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کا حصہ بننے میں انتہائی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ ریلیف فراہم کرنے کی کوششوں میں سندھ کا نوجوان پیش پیش ہوگا اور وزیرِ اعظم کی طاقت بنے گا

    حلیم عادل شیخ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف سندھ باب اور اسکی قیادت مشکل کی اس گھڑی میں صوبے کی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور وزیرِ اعظم عمران خان کی کوششوں کا بھرپور ساتھ دے گی.

    اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ احساس کیش ایمرجنسی پروگرام تمام سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر نہایت شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر چلا یا جا رہا ہے، مشکل کی اس گھڑی میں وفاقی حکومت ملک بھر کی عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کر رہی ہے ،عوام کی مشکلات کا مکمل احساس ہے۔ کورونا کے ساتھ ساتھ غربت سے نمٹنا بڑا چیلنج ہے

    کرونا سے نمٹنے کیلیے ناکافی اقدامات، چیف جسٹس نے لیا پہلا از خود نوٹس

    مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

    میٹنگ میٹنگ ہو رہی ہے، کام نہیں ، ہسپتالوں کی اوپی ڈیز بند، مجھے اہلیہ کو چیک کروانے کیلئے کیا کرنا پڑا؟ چیف جسٹس برہم

    ڈاکٹر ظفر مرزا کی کیا اہلیت، قابلیت ہے؟ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ، چیف جسٹس

    قیدیوں کی رہائی کیخلاف درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا، بڑا حکم دے دیا

    کابینہ کے 49 ارکان کا مطلب،وزیراعظم کچھ جانتا ہی نہیں،حکومت یہ کام نہیں کر سکتی تو سرینڈر کر دے، سپریم کورٹ

    وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اپنے عوام کی معاشی مشکلات کو مد نظر رکھ کر لائحہ عمل تشکیل دیا جا رہا ہے،کورونا ریلیف ٹائیگر فورس میں شمولیت کے حوالے سے نوجوانوں کا جذبہ قابل تحسین ہے،مشکلات کا شکار عوام خصوصاً کمزور اور غریب طبقے کو ریلیف کی فراہمی میں حکومت کے ساتھ ساتھ مخیر حضرات کا بھی تعاون درکار ہے۔ سیاسی قیادت مخیر حضرات کو متحرک کرنے اور ہر مستحق تک پہنچنے میں کردار ادا کرے.

  • ایک طرف کرونا وائرس کی تباہ کاریاں تو دوسری طرف حکومت کی طرف سے کاروبار کی اجازت،حامی کون ، مخالف کون

    ایک طرف کرونا وائرس کی تباہ کاریاں تو دوسری طرف حکومت کی طرف سے کاروبار کی اجازت،حامی کون ، مخالف کون

    لاہور:ایک طرف کرونا وائرس کی تباہ کاریاں تو دوسری طرف حکومت کی طرف سے کاروبار کی اجازت،حامی کون ، مخالف کون ،ذرائع کے مطابق حکومت کے اس فیصلے سے کاروباری طبقہ تو بہت خوش ہے ، لیکن دوسری طرف جن لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کوکرونا وائرس کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھیں وہ اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے ،

     

    کونا وائرس کی وجہ سے خواجہ سراوں کے متعلق حکومت کے فیصلے نے تہلکہ مچادیا

    اطلاعات کےمطابق کپتان نے اپنا بیانیہ تبدیل کر لیا ہے۔ پہلے وہ کہتے تھے گھبرانا نہیں ہے، آج کل وہ کرونا کے مزید پھیلنے کا کہہ کر عوام کو ڈرا رہے ہیں، تو دوسری طرف ان کی حکومت نے کرونا کی تباہ کاریوں کے باوجود بہت سے شعبہ ہائے زندگی کو کاروبار کی اجازت دے دی

    حکومت کے اس فیصلے کے خلاف مختلف قسم کا عوامی ردعمل آرہا ہے ، کراچی کے تاجروں نے تو کہہ دیا ہےکہ وہ ہرصورت مارکیٹیں کھولیں گے ، ان کے پیچھے پیچھے ملک کے دوسرے صوبوں میں بھی تاجرحضرات نے ہرصورت کاروبارکرنے کا اعلان کیا ہے ، ادھرحکومتی فیصلے کےبعد عوام بھی دوگروہوں میں تقسیم ہوگئی ہے ،

    لاہور کے شاہ عالم مارکیٹ کے ایک تاجر محمد عثمان کہتے ہیں کہ اگرکاروبارنہیں کریں گے تو گھروالوں کو کیا کھلائیں گے ، حکومتیں کب تک عوام کی مدد کرتی رہیں تھی ، ان کا کہنا ہےکہ حکومت ک اس فیصلے سے کرونا پھیلنے کے اثرات بہت کم ہیں اورلوگوں کی بھوک پیاس مٹانے میں مدد ملے گی

     

    لاک ڈائون : بیوی بچوں سے تنگ شخص 300کلومیٹرسفر طے کرنے والا پولیس کے ہتھے چڑھ گیا

    عبدالغنی نامی ایک تاجرکہتے ہیں کہ حکومت کا فیصلہ درست ہے ، اس سے لوگوں کی بھوک پیاس ختم ہوگی ، لوگ کسی دوسرے کےسامنے ہاتھ پھیلانے سے محفوظ رہیں گے ،

    اعظم مارکیٹ کے ایک تاجرمحمد شاہد کہتے ہیں‌کہ کورنا وائرس لاک ڈاون کے باوجود بھی پھیل رہا ہے ، اس کا مطلب ہے کہ یہ کاروباری سرگرمیوں سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے پھیل رہا ہے جو اس کا شکارہیں اوردوسروں سے ملتے جلتے ہیں ، انہوں نےکہا کہ اگرہرمارکیٹ یہ فیصلہ کرلے کہ وہ کرونا وائرس ڈیٹیکٹرنصب کرلیں تو کاروبار بھی ہوجائے گا اور ایسے لوگ شناخت بھی ہوجائیں گاے

    دوسری طرف ڈاکٹرمحمد سلیم کہتے ہیں کہ ہمیں اس بات کا زیادہ احساس ہے کہ کرونا انسانوں سے انسان میں کس طرح پھیلتا ہے ہم ہرروزیہ مشاہدہ کرتے ہیں ، اس لئے ضروری تھا کہ چند دن اورلاک ڈاون ہوجاتا تاکہ اس وائرس پرمکمل کنٹرول ہوجاتا اوراگرحکومت نے اجازت دے دی ہے تو ڈرہے کہ یہ وائرس کہں زیادہ نہ پھیل جائے

    صوبائی وزیراطلاعات سندھ ناصرحھسین کہتے ہیں کہ وہ اس حق میں نہیں ہیں‌کہ لوگوں کوان لاک کیا جائے اس سے وائرس کے پھیلنے کا اندیشہ ہے ، یہی وجہ ہےکہ انہون نے تاجروں کو خبردار کیا ہےکہ کوئی بھی تاجرمارکیٹ نہیں کھولے گا

    حکومت کے کل کے فیصلے کے نفی اس وقت ہوگئی جب چند دن قبل وزیراعظم عمران خان نے لاہور کے دورے میں ایک بار پھر کہا تھا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کرونا نہیں پھیلے گا، وہ سخت غلطی پر ہیں۔ میں اسے پھیلتا دیکھ رہا ہوں۔

    ادھر حکومت نے سپریم کورٹ میں کرونا وائرس کے حوالے سے جو رپورٹ پیش کی ہے، اس میں کہا ہے کہ 25 اپریل تک کرونا کیسز کی تعداد 50 ہزار ہو سکتی ہے۔ اب یہ گھبرانے کی بات تو ہے کیونکہ اس وقت کرونا کے کنفرم مریضوں کی تعداد تقریباً 3 ہزار ہے۔ اگلے بیس دنوں میں 47 ہزار مزید کیسوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

    گویا 2 ہزار کیسز سے زیادہ روزانہ اضافہ ہوگا۔ یہ کیوں ہوگا، کیسے ہوگا، اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا سوال یہ ہے کہ اتنی زیادہ بے احتیاطی کے باوجود کرونا کی تعداد نہیں بڑھی اب جبکہ حد درجہ احتیاط ہے۔ ہر طرف لاک ڈاؤن ہے، لوگ گھروں تک محدود ہو گئے ہیں، یہ تعداد اتنی رفتار سے کیوں بڑھے گی۔

    لگتا یہی ہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ میں جو رپورٹ جمع کرائی ہے اس میں یہ احتیاط ملحوظ خاطر رکھی ہے کہ تعداد زیادہ بتائی جائے تا کہ یہ الزام نہ آئے کہ حکومت نے پہلے کیوں نہیں بتایا، کم کیسز آنے کی صورت میں حکومت کی تعریف ہو گی گوشمالی نہیں لیکن کم تعداد کی پیشن گوئی کر کے اگر زیادہ کیسز سامنے آ گئے تو حکومت کو سپریم کورٹ کے سامنے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا۔

    سوشل میڈیا پربھی مختلف آرا سامنے آرہی ہیں اسلام آباد کے ایک نوجوان کا کہنا ہےکہ حیرت بات ہے کہ ایک طرف عمران خان کرونا کے پھیلاؤ سے ڈرا رہے ہیں اور دوسری طرف انہوں نے کنسٹرکشن شعبے کو ایک بڑا پیکج بھی دیدیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اسے کھول رہے ہیں تاکہ لوگوں کو روز گار ملے۔

    یاد رہے کہ ایک طرح حکومت کی طرف سے پنجاب میں ٹیکسٹائل ملز کو کھول دیا گیا ہے، تاکہ وہ اپنے بین الاقوامی آرڈرز کی تکمیل کے لئے مال تیار کر سکیں۔ مجھے تو اس میں ایک بہت بڑا تضاد نظر آ رہا ہے۔ ایک طرف لاک ڈاؤن ہے اور بلا وجہ گھروں سے نکلنے والوں کو پولیس ڈنڈے بھی مار رہی ہے اور اُنہیں مرغا بنا کے کان بھی پکڑواتی ہے اور دوسری طرف ہزاروں مزدوروں کو اس بات کی اجازت دیدی گئی ہے کہ وہ اپنی ملوں میں جا کر کام کریں۔

    زرعی شعبے کو آزادی دینے کی سمجھ تو آتی ہے۔ کیونکہ گندم کی کٹائی کا موسم آ گیا ہے اور اسے روکا نہیں جا سکتا۔ پھر یہ زیادہ تر کھلے دیہی علاقوں میں ہوتی ہے اور کٹائی کرنے والے بھی اسی گاؤں کے مکین ہوتے ہیں، مگر یہ ملز تو شہروں میں ہیں۔ ان میں کام کرنے کے لئے جو مزدور اور کاریگر دور دراز علاقوں سے آئیں گے اور ایک بند ماحول میں کام کریں گے تو کیا اس سے کرونا وائرس کی احتیاطی تدابیر متاثر نہیں ہوں گی۔ اگر ٹیکسٹائل انڈسٹری کھولی جا سکتی ہے تو پاور لومز انڈسٹری کیوں نہیں کھولی جا سکتی۔ وہ تو ٹیکسٹائل ملز کے لئے خام مال فراہم کرتی ہیں۔