لاہور:اللہ تعالیٰ محنت ضائع نہیں کرتے،کرونا مریض تیزی سے صحت یاب ہورہے ہیں ، ڈاکٹریاسمین راشد نے خوشخبری سنادی ،اطلاعات کے مطابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ کورونامریضوں کا علاج کرنے والوں کی محنت کاثمرآناشروع ہوگیا ہے، 93مریض صحت یاب ہوکرگھروں کو جا چکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین نے اپنے بیان میں کہا کہ کورونامریضوں کا علاج کرنے والوں کی محنت کا ثمر آنا شروع ہوگیا ہے، میواسپتال اورایکسپوسینٹرسے93مریض صحت یاب ہوکرگھروں کوجاچکےہیں
ڈاکٹریاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ایکسپوسینٹراسپتال میں کوروناسےمتاثرہ مزید24افراد صحت یاب ، میواسپتال لاہورمیں بھی 5مریض صحتیاب ہوئے جبکہ ڈاکٹراورطبی عملہ24گھنٹے کورونا مریضوں کی خدمت میں مصروف ہیں۔وزیر صحت پنجاب نے مزید کہ کہ بے روزگارمزدوروں اوردیہاڑی دارطبقات کی بحالی کاکام جاری ہے۔
خیال رہے ترجمان محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ پنجاب سے کورونا وائرس کے 71 نئےکیس رپورٹ ہوئے ، جس کے بعد کورونا وائرس کےکیسزکی تعداد 3016 ہوگئی۔ترجمان کے مطابق 701 زائرین ، 1091 رائیونڈ ،91 قیدیوں، 1133عام شہریوں میں کورونا کی تصدیق ہوئی جبکہ کیمپ جیل لاہور 59قیدیوں بھی وائرس سے متاثر ہیں، جن کو علاج کی مکمل سہولیات فراہم کی جارہی ہے۔
محکمہ صحت نے بتایا کہ سیالکوٹ14، گوجرانوالہ 7، ڈی جی خان 9 ،بھکر میں 2 قیدی وائرس سے متاثر ہیں جبکہ پنجاب میں کورونا سے اب تک 28 اموات اور 508 افرادصحت یاب ہوئے۔گجرات میں138، حافظ آباد12، منڈی بہاوالدین 9 اورملتان میں 23 افراد کورونا سے متاثر ہیں۔ خانیوال 2، وہاڑی 35، فیصل آباد35 اورچینیوٹ میں8افراد کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔
دعا کریں،پنجاب حکومت کو عقل آجائے، بزدار سرکار پر مبشر لقمان پھٹ پڑے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ مجھے بہت غصہ چڑھ رہا ہے، میں جب آ رہا تھا اور سڑک پر نکلا تو باہر دیکھا ایسے لگا جیسے عید بقر عید کی شاپنگ ہو رہی ہے، منڈیاں کھلی ہوئی ہیں مجھے لوگ تصویریں بھیج رہے ہیں،وہاں کتنا زیادہ لوگ ہیں، ہر جگہ لوگ جمع ہو رہے ہیں صرف ڈی ایچ اے اور کینٹ میں سختی ہو رہی ہے کہ ایک جگہ لوگ زیادہ جمع نہ ہوں، موٹر سائیکل پر دو سے زیادہ لوگ نہ بیٹھیں ،مجھے نہیں سمجھ آ رہی کہ عثمان بزدار اور انکی کابینہ کو بیٹھی ہے ،یہ لوگ کیا کر رہے ہیں،کیا سوچ کر انہوں نے کھلے عام سب کچھ چھوڑ دیا، یا تو لاک ڈاؤن میں توسیع ہونی ہے یا نہیں ہونی ،اگر توسیع ہونی ہے تو اس میں نرمی کا کیا تک ہے، اس میں کہتے ہیں کہ بہت سارے کاروباروں کو ہم نے اجازت دے دی کہ وہ کھل سکتے ہیں، درزی کی دکان کھلے گی لیکن کپڑے کی دکان بند ہے ،لگتا ہے درزی پرانے کپڑوں کو ہی چھوٹا بڑا کرے گا
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ بینک کھول دیئے گئے، اور مختلف چیزیں کھول دی گئیں، پھر کارپوریٹرز کو بھی کھول دیں، ایک ایک آدمی کام کرتا رہے جو بند ہیں ان کو بھی کھول دیں،آپ نے سیکشن 144 لگایا ہوا ہے یعنی 4 افراد ایک جگہ اکٹھے نہیں ہو سکتے، آپ منڈیوں کا حال دیکھ لیں جہاں ہزاروں افراد جمع ہوتے ہیں، ایسے قانون کیوں لاتے ہیں بزدار صاحب جن پر عمل ہی نہیں کروا سکتے،آپ کی طاقت نہیں ان پر عمل کروانے کی تو انکو ہٹا دیں، ایسے قانون لگاتے کیوں ہیں،کسی کو کوئی پرواہ نہیں .
مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اب پاکستان میں ایسی صورتحال پیداہو چکی ہے کہ دس دن ،پندرہ دن مکمل لاک ڈاؤن کرتے،ہم نے انتظار نہیں کیا اور اب مکمل لاک ڈاؤن کی بجائے کچھ کاروبار کھول دیئے اب اگر وبا پھیلتی ہے جو لوگ گھرون میں کام کرنا شروع ہو گئے اور آ جا رہے ہیں، اگر ٹریفک اسی طرح آتی جاتی رہے گی ، ایک بھی اگر مریض میں کرونا ہوا اور وہ کسی منڈی میں چلا گیا تو پھر کیا ہو گا؟ آپ کہتے ہیں کہ ہم نے کسٹرکشن کھول دی ہے، کیسے کھول دی مزدور کیسے جائے گا، مزدور نے تو گاڑی پر جانا ہے اور ٹرانسپورٹ بند ہے،اپنی گاڑی تو ہے نہیں، اوبر بھی بند ہے، اور باقی دکانیں سیمنٹ و دیگر بھی بند ہیں تو کیسے کنسٹرکشن ہو گی، آپ سے دس دن کا صبر نہیں ہو سکا ، دس دن صبر کر لیتے اور اس کے بعد سب کچھ کھولتے تا کہ بیماری کو پھیلنے کا موقع نہ ملتا،
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں امریکہ میں تھا،وہاں پر بہت سال پہلے کی بات بتا رہا ہوں،کہ وہاں پر سب سے زیادہ ایکسیڈنٹ پارکنگ ایریاز میں ہوتے ہیں گاڑیوں کے اور دو قسم کے ڈرائیور بڑے نقصان دہ ہوتے ہیں، ایک اوور کانفیڈنٹ کیونکہ جو اوور کانفیڈنٹ ہوتا ہے وہ سیدھا گاڑی کو ٹھوک دیتا ہے،اور پارکنگ لاڈ میں اسلئے کہ وہاں پر یہ سمجھتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن کوئی نہ کوئی گاڑی آ یا جا رہی ہوتی ہے اور حادثہ ہو جاتا ہے،یہ تو امریکہ کی بات ہے، یہاں پر لگ رہا ہے کہ ہم اوور کانفیڈنٹ لوگ ہیں،اوراس کا خمیازہ قوم کو بھگتنا پڑ گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہے، کس کے پاس جا کر کریں گے رپورٹ؟ اور کہاں پر رپورٹ کریں گے کیونکہ کوئی سننے کے لئے تیار ہی نہیں ہے.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ پرویز الہیٰ کا بیان پڑھ رہا تھا پرویز الہیٰ نے کل اجلاس بلا لیا،جو ویڈیو لنک کے ذریعے ہو گا جب خود اپنی بچاؤ کا اتنا زیادہ انتظام کر رہے ہیں تو عوام کو کیوں چھوڑ دیا ہے،اگر اب یہاں سے کرونا پھیلتا ہے ہم نے ٹیسٹنگ ہی نہیں کی پتہ ہی نہیں اور ہم سمجھ رہے ہیں کہ یہ وبا ختم ہو گئی،ابھی بھی وقت ہے کہ کنٹرول کریں، مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ ہر صوبے میں الگ الگ ڈاؤن ہو رہا ہے، سندھ لاک ڈاؤن میں مزید سختی کر رہا ہے بلکہ وزیراعلیٰ سندھ کا بیان آیا ہے کہ جس کو لاک ڈاؤن اچھا نہیں لگتا وہ نیویارک چلا جائے اور وہاں کا لاک ڈاؤن دیکھ لے، سی این این اور دیگر میڈیا بار بار کہہ رہے ہیں کہ یورپ سے وبا ایشیا منتقل ہو سکتی ہے کیونکہ ہم بے احتیاطی کرتے ہیں،ساٹھ فیصد کا ایسا طبقہ ہے جن کا گھروں میں رہنا مشکل ہے، چھوٹے گھر اور زیادہ افراد ہیں، باہر نکلتے ہیں اور لوگوں سے ملتے ہیں اب مفتی منیب الرحمان صاحب نے بھی کہہ دیا کہ مساجد بند نہیں ہوں گی اور نمازیں باجماعت ہوں گی،بھائی پہلے کیوں کر دیا تھا اگر اتنا ہی مسئلہ ہے کسی کو ڈر نہیں لگتا، خیال نہیں،کسی کو نہیں سمجھ آ رہی کہ اٹلی جیسے ملک میں لاشیں دفنانے والا کوئی نہیں تھا، زمین نہیں مل رہی تھی، ایران جیسے ملک نے دس ہزار قبریں بنوا لیں فوری طور پر،نیویارک والوں کو سمجھ نہیں آ رہی کی جنازے کیسے اٹھائیں، برطانیہ میں اجتماعی تدفین شروع ہو گئی ہے، ہم 15 سو وینٹی لیٹر لے کر 22 کروڑ لوگوں کے لئے اوور کنٍیڈنٹ ہوئے پڑے ہیں.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وینٹی لیٹر ڈھائی ہزار ہیں جن میں سے 800 چلتے نہیں اور دو سو کا پتہ نہیں، باقی 1500 بچتے ہیں، اس انفراسٹرکچر کے ساتھ ہم اوور کنفیڈنٹ ہوئے ہیں،اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو عقل اور فراست دے،کہ اس کو بہتر کر سکیں، سماجی فاصلے کو اہمیت دیں، لاک ڈاؤن میں مزید سختی کریں، اگر دفعہ 144 لگاتے ہیں اور اس پر عمل نہیں کروا سکتے تو اس کو ہٹا دیں یا اس پر عمل کروائیں، بھائی ریاست ہے اور ریاست کی اپنی ایک مروجہ طاقت ہوتی ہے، اور پھر قانون نافذ کرنے کا مطلب یہ ہے قانون پر عمل کروانا اس کا مذاق اڑانا نہیں
مبشر لقمان نے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میں عوام سے درخواست کروں گا،ایک جگہ دیکھا کہ ہنسی مذاق ہو رہا ہے،جپھیاں پڑ رہی ہیں بزنس ہو رہا ہے، اگر خدانخواستہ کسی کو کچھ ہو جائے تو اسکا علاج مشکل ہے، اسلئے نہیں کہ علاج ہو نہیں سکتا بلکہ اسلئے کہ جگہ کم پڑجائے گی، 30 کے قریب ملتان میں ڈاکٹر ہیں جن میں کرونا کی تشخیص ہو چکی ہے،مجھے نہیں پتہ کہ ان کے پاس حفاطتی کٹس تھیں یا نہیں لیکن مریضوں کا علاج کرتے کرتے ان میں کرونا کی تشخیص ہوئی،تو اسکا مطلب ہے کہ جب ڈاکٹر اس سے نہیں بچ سکتے، ڈاکٹر اور پیرا میڈیکل سٹاف میں کرونا کی تشخیص ہو رہی ہے تو ہمیں احتیاط کرنی چاہئے، خدا کے لئے اپنے گھر والوں کو سمجھائیں اور اگر آپ کے گھر میں کوئی حکمران طبقے کا آدمی ہے تو اس کو بھی سمجھائیں،
اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے آئی ایس آئی سربراہ کی اہم ملاقات، اہم امور پر گفتگو، اہم پیغام بھرپورتعاون کی یقین دہانی ،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان سے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ملاقات کی جس میں اہم امور پر تبادلہ خیالات اور گفتگو کی گئی۔
وزیراعظم عمران خان کے آفیشل فیس بک پیج کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات میں اہم قومی سلامتی کے امور پر بھی بات چیت کی گئی۔یاد رہے کہ وزیراعظم اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹینٹ جنرل فیض حمید کے درمیان رواں سال فروری میں بھی ملاقات ہوئی تھی جس میں سیکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
اس سے قبل وزیراعظم اور پاک فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ کے درمیان گزشتہ سال نومبر میں ملاقات ہوئی تھی جس میں قومی سلامتی کے امور سمیت دیگر اہم ایشوز پر بات چیت ہوئی تھی۔لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے وزیراعظم عمران خان سے جون 2019ء میں ڈی جی آئی ایس آئی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بھی ملاقات کی تھی۔
یادرہےکہ دودن قبل آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے بھی ملاقات کرکے حکومت کےخلاف پھیلائے جانے والے پراپیگنڈے کا خاتمہ کردیا تھا ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ افواج پاکستان کرونا وائرس پھیلاو کے دوران حکومتی کارکردگی سے بہت مطمئن ہیں
لاہور:حکومت مشکل میں پھنس گئی ، لاک ڈاون میں کمی کرتے ہیں تو وارداتوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے ،کدھرجائیں،اطلاعات کےمطابق لاہورمیں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوگا، سربراہ لاہور پولیس نےلاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد اسٹریٹ کرائم میں اضافے کا خدشہ ظاہرکردیا۔
لاک ڈاون کے دوران 13 افراد کو مختلف وجوہات پر قتل کیا گیا، جبکہ لاک ڈاون سے پہلے15 دنوں میں 18 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، کاروباری بندش کے دنوں میں بھی 124 افراد ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں مال سے محروم ہوئے، جبکہ لاک ڈاون سے قبل 15 دنوں میں 164 وارداتیں رپورٹ ہوئیں، اسی طرح گاڑی و موٹرسائیکل چوری کی 312 وارداتیں لاک ڈاؤن کے دوران ہی رپورٹ ہوئیں۔
دوسری جانب پوش علاقے ڈیفنس میں صبح سویرے گھر میں چوری کی واردات ہوئی جس کی سی سی ٹی وی سٹی 42 نےحاصل کرلی،ڈیفنس سی فیز فائیوکےرہائشی محمود کےمطابق صبح سویرے ان کے گھرچوری کی واردات ہوئی، چور دیوار پھلانگ کرگھر میں داخل ہوا اور گیراج میں کھڑی موٹرسائیکل چرا کرفرارہوگیا۔
لاہور:غریبوں کی بھی کوئی زندگی ہے ! 209 ڈیلی ویجز کونوکری سے فارغ کردیا گیا ،اطلاعات کے مطابق یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے 209 ملازمین فارغ، یونیورسٹی کے 17 ہاسٹلز میں دیہاڑی پر کام کرنے والے ملازمین بے روزگار ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق یونیورسٹی نے ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے ملازمین کو ریلیف دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یو ای ٹی ٹیچنگ سٹاف ایسوسی ایشن نے ڈیلی ویجز ملازمین کی مالی معاونت کیلئے انتظامیہ کو پلان جمع کرا دیا ہے۔
ٹیچنگ سٹاف ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر فہیم گوہر کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے 690 اساتذہ کی ایک دن کی تنخواہ میں کٹوتی کرکے ملازمین کی معاونت کی جائے، ٹی ایس اے کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں مذکورہ 209 ملازمین دس سال سے زائد عرصے سے کام کر رہے ہیں۔
صدر ٹی ایس اے ڈاکٹر فہیم گوہر کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے گرلز اور بوائز ہاسٹلز کا سٹاف ڈیلی ویجز پر تعینات ہے اور جب سے یونیورسٹی بند ہوئی ہے مذکورہ سٹاف کا ذریعہ آمدن بند ہو گیا ہے یونیورسٹی انتظامیہ نے موقف اپنایا ہے کہ مذکورہ ہاسٹلز ملازمین یونیورسٹی کے ملازمین نہیں ہیں یونیورسٹی میں ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جا رہی ہیں۔
ادھر ذرائع کے مطابق ایک طرف تو نیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نے ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے 209 ملازمین کو فارغ کردیا اور دوسری جانب نیورسٹی نے کورونا ریلیف فنڈ میں 25 لاکھ روپے سے زائد مالیت کا چیک گورنر پنجاب کو پیش کر دیا
لاہور:پی آئی اے کے پائلٹ کو جہاز اڑانے سے روک دیا گیا ، کیوں روکا ، کس نے روکا اہم وجہ سامنے آگئی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پی آئی اے کے پائلٹ کو قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر جہاز اڑانے سے روک دیا. سی اے اے نے کیپٹن وقار حسین کو برخلاف قانون آرام کیے بغیر فلائیٹ آپریٹ کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا۔
سی اے اے کی جانب سے جاری سے شوکاز نوٹس کے مطابق کیپٹن نے طویل دورانیہ کی فلائٹ اڑانے سے قبل 24 گھنٹے کا آرام نہیں کیا، پی آئی اے کا پائلٹ سی ون 30کے ذریعے کراچی سے اسلام آباد پہنچے تھے، جہاز کے عملے 9گھنٹے54منٹ بعد پی آئی اے کے طیارے کو کینیڈا لیکر روانہ ہوئے,جبکہ سی اے اے کے قوانین کے مطابق لمبی فلائٹوں میں کم از کم دو اور عملہ کو چوبیس گھنٹے آرام کرنا لازمی ہے.
لیکن سول ایوی ایشن اتھارٹی میں ڈائریکٹر فلائٹ اسٹینڈرڈ نے پرواز پی کے781جو 8اپریل کو ٹورنٹو کے لئے روانہ کی گئی تھی جس پر شوکاز نوٹس جای کیا گیا ہے، جس پر ترجمان پی آئی اے کا کہنا تھا کہ سول ایوی ایشن کے نوٹس پر پی آئی اے کے سی ای او نے وفاقی وزیر سے رابطہ کیا ہے، سی ای او نے وفاقی وزیر کو تمام حقائق سے آگاہ کیا ہے.
ترجمان کا کہنا ہے کہ ریلیف فلائٹیں آپریٹ کرنے کے لئے کپتان اور عملے کو کراچی سے سی ون30طیارے کے ذریعے اسلام آباد پہنچایا تھا، تمام عملہ مسافر کی حیثیت سے روانہ ہوا انھوں نے کوئی فلائٹ آپریٹ نہیں کی۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پی آئی اے کے دو پائلٹس میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی،کوروناوائرس کے شعبے میں ٹورنٹو سے آنے والے پی آئی عملے کے تین پائلٹ اور دو کیبن کرو کے ٹیسٹ لیے گئے تھے، جن میں سے دو پائلٹس کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے، پی آئی اے کے دونوں پائلٹس کو ہوٹل سے ہسپتال منتقل کر دیا گیا، پی ائی اے کا یہ عملہ ٹورنٹو سے پرواز لیکر واپس آیا تھا، لاہور آنے پر عملے میں کوروناوائرس کے ٹیسٹ میں کچھ علامات سامنے آئیں
کرونا سے بیرون ملک پاکستانیوں کے ابتر حالات ، حکومتی عدم تعاون پر خاتون برس پڑی
باغی ٹی وی : بیرون ملک کرونا کی وجہ سے پھنسے ہوئے پاکستانی کس حال میں اور ان کے کیا مسائل ہیں اس پر ایک خاتون نے امریکہ سے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ آج ہمارے حکمران عمران خان سمیت عمرہ کرتے ہیں اور بڑے جزباتی انداز میں اپنی تصاویر بنواتے ہیں. اور ان کے ٹائیگرز کوئی لمحہ ضائع نہیں جانے دیتے کہ جب وہ ایسے دکھاوے والے کاموں کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ نہ کر لیں.
خاتون نے کہا کے خان صاحب کے ٹائیگر ان کی ویڈیو وائرل کر رہے ہیں.لیکن جو حال بیرون ملک پاکستانیوں پر بیت رہے ہیں ان کی کسی کو خبر نہیں ہے . جو کرونا سے شہید ہو چکے ہیں.ان کی حکومت کوئی خبر نہیں ہے. نیویارک میں سوا سو اور نیوجرسی 50 کے قریب پاکستانی لوگ شہید ہو چکے ہیں.ان کو ہمارے رشتہ داروںنے اپنے ہاتھوں سے دفنایا ہے . انہوں نے کہا کہ ان کو حکومت کی طرف سے دفانے کے لیے قبرستان میں جگہ مل رہی ہے لیکن واشنگٹن میں موجود پاکستانی سفیر نے بالکل تعاون نہیں کیا خاتون نے سفیر کے لیے انتہائی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امداد نہیںچاہیے بلکہ ہمیں صرف اتنا چاہیے کہ ہمارا پتا لے لیت اور پوچھ لیتے کہ تمہارا کیا حال ہے .
پاکستانی خاتون نے کہا کہ ہم امداد نہں مانگتے بلکہ ہم تو یہ خود محنت مزدوری کر کے تم کو پالتے ہیں اور امداد دیتے ہیں .
خاتون انتہائی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے گلہ کیا ہمارے وزیر اعظم نے ان اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک جملہ بھی نہیںبولا جن سے ہر وقت کشکول لے کر بھیک مانگتے ہیں. ان کا کہنا تھا زلفی بخاری کی جوامریکہ میں بری شہرت ہے اس سے امریکا میں پاکستانی کمیونٹی انتہائی شرمسار ہے. اب یہ ہمارے لیے امداد دینے کی باتیں کر ہے ہیں. حکومت کے اس رویے اور عدم تعاون سے سمندر پار پاکستانی بہت مایوس ہوئے ہیںِ
نیوزی لینڈ :کورونا وائرس: نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اپنے وزراکے ساتھ کیا سلوک کیا اہم خبرآگئی ،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس کے باعث معیشت پر پڑنے والے اثرات کے پیشِ نظر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈن نے اپنی، حکومت کے وزرا اور عوامی اداروں کے سربراہان کی تنخواہوں میں آئندہ 6 ماہ تک کے لیے 20 فیصد کٹوتی کردی۔
برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نیوزی لینڈ کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ معاملہ ہے جہاں ہم ایکشن لے سکتے ہیں اور اس لیے ہم نے یہ کیا‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم نیوزی لینڈ کے شہریوں کا خیال کرتے ہیں جو عالمی وبا کی وجہ سے اجرت کی سبسڈی پر انحصار کررہے ہیں یا انہیں تنخواہوں میں کمی اور بے روزگاری کا سامنا ہے‘۔
خیال رہے کہ نیوزی لینڈ میں اسکول، دفاتر غیر خدمات کے شعبے تقریباً 3 ہفتوں سے بند ہیں اور ملک میں سخت لاک ڈاؤن کے باعث معاشی سرگرمیوں پر بھی جمود طاری ہے۔لاک ڈاؤن سے قبل حکومت نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے تحت گزشتہ برس 15 مارچ کو کرائسٹ چرچ کی مسجد میں ہونے والے دہشت گردی کے حملے کو ایک سال مکمل ہونے پر قومی یادگاری تقریب کو بھی منسوخ کردیا تھا۔
حکومت نے پیش گوئی کی ہے کہ عالمی وبا کے باعث ملکی معیشت میں سست روی کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوسکتا ہے۔اس سلسلے میں نیوزی لینڈ حکومت آئندہ ہفتے اس بات کا فیصلہ کرے گی ’لیول 4‘ کی پابندیوں میں توسیع کی جائے یا نہیں۔
جان ہوپکنز یونیورسٹی کی دنیا بھر میں کورونا کیسز کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 50 لاکھ نفوس کی آبادی والے ملک نیوزی لینڈ میں اب تک ایک ہزار 386 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اور 9 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی البتہ صحتیاب ہونے والوں کے اعداد و شمار دستیاب نہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ ذومعنی باتیں نہ کریں، فیاض الحسن چوہان بھی میدان میں آگئے،مزید کیا کہا؟
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ میڈیا کے سامنے وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی حکومت کے خلاف ذو معنی باتیں نہ کریں۔
فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ یہ وقت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ سے ہٹ کر پوری ذمہ داری سے کورونا کے خلاف لڑنے کا ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان انتہائی محتاط انداز میں کورونا کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ وفاقی حکومت پالیسی اور انتظامی لحاظ سے بروقت اور قابلِ عمل فیصلے کر رہی ہے۔ لاک ڈاؤن میں مخصوص طبقوں کیلئے نرمی کا فیصلہ وقت کا تقاضا تھا۔ ڈبلیو ایچ او نے تمام ممالک کو کمزور ترین طبقے کو مدنظر رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن اقدامات کرنے کی ہدایات کی ہیں۔
فیاض الحسن چوہان کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان کی پالیسیاں انکی عوامی حالات سے آگاہی کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ حکومت کے بروقت اور دانشمندانہ فیصلوں سے کورونا کے کیسز اور اموات متوقع شرح سے کم ہیں۔ وفاق سندھ سمیت تمام صوبوں کے مطالبات مجوزہ ایس او پیز کے مطابق پورے کرے گا۔ وزیرِ اعظم عمران خان ساری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار صوبے کے ہر ضلع میں جا کر کورونا اور دیگر انتظامی معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کورونا سے بچاؤ دو طرفہ عمل ہے، حکومتی کوششوں کے ساتھ ساتھ عوام کا تعاون بے حد ضروری ہے۔
جرمنی :کورونا وائرس: چڑیا گھرکے جانوروں کومارنے کافیصلہ،اطلاعات کےمطابق عالمی وبا کورونا وائرس کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا ہی معاشی مسائل کا شکار ہے اور ایسے میں چڑیا گھر کی انتظامیہ کو بھی جانوروں کی خوراک پوری کرنے میں مسائل کا سامنا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق شمالی جرمنی میں نیومنسٹر چڑیا گھر کی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ معاشی مسائل کے باعث کچھ جانوروں کو مارنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ دوسرے جانوروں کا پیٹ بھرا جاسکے۔
ڈائریکٹر ورینا کیسپری کے مطابق ’ہم نے ان جانوروں کی فہرست تیار کرلی ہے جنہیں سب سے پہلے ذبح کیا جائے گا‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ جانوروں کو مار کر دوسرے جانوروں کا پیٹ بھرا جائے گا تاہم ایسا کرنے سے بھی معاشی مسائل پوری طرح حل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ چڑیا گھر میں موجود سیل اور پینگوئنز کو کھانے کے لیے روزانہ بڑی تعداد میں مچھلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ڈائریکٹر کے مطابق کوروان وائرس کے باعث اگر معاملات اس حد تک خراب ہوئے تو انہیں جانوروں کو مارنا پڑے گا اور انہیں مار کر دوسرے جانوروں کا پیٹ بھرنے کا فیصلہ یقیناً بدترین ہوگا مگر مجبور ہوکر ایسا کرنا پڑے گا۔