Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • کراچی کے بعد اب   لاہور کے 13 علاقوں کوسیل کیا گیا

    کراچی کے بعد اب لاہور کے 13 علاقوں کوسیل کیا گیا

    لاہور:کراچی کے بعد اب لاہور کے 13 علاقوں کو مکمل یا جزوی سیل کیا گیا.باغی ٹی وی کےمطابق کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظرکراچی کےبعد اب لاہورکے 13 علاقوں کو سیل کردیا گیا ہے ، ذرائع کےمطابق یہ فیصلہ کرونا سے بچاوکے اقدامات کے تحت کیا گیا ہے

    باغی ٹی وی کے مطابق لاہور انتظامیہ کی طرف سے جن علاقوں کو سیل کیا گیا ہے ان میں رائیونڈ سٹی کو مکمل سیل کیا گیا، یہ بھی بتایا گیا ہےکہ سکندریہ کالونی سمن آباد، گوہاوہ گاوں بیدیاں روڈ کو سیل کیا گیا

    ذرائع کے مطابق انتظامیہ کی طرف سے چائنہ سکیم گجرپورہ، بیگم کوٹ شاہدرہ کو سیل کیا گیا، اطلاعات کے مطابق چاہ میراں شادباغ، سمال انڈسٹریز سوسائٹیز ڈیفنس کو سیل کیا گیا،اس کے علاوہ رستم پارک گلشن راوی، رحمان پورہ وحدت کالونی کو بھی جزوی سیل کیا گیا

    ذرائع کےمطابق بحریہ ٹاون اور ریلویز کالونی کے انجن شیڈ ایریا کو جزوی سیل کیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ انتظامیہ نے صدر کے علاقے کے بھی جزوی سیل کیا گیا ہے

  • ماں کی ممتا کا ایک اورشاہکار:لاک ڈاؤن کی وجہ سے 1400 کلومیٹر کا سفر طے کرکے بیٹے کو اسکوٹی پر گھر لانے والی ماں

    ماں کی ممتا کا ایک اورشاہکار:لاک ڈاؤن کی وجہ سے 1400 کلومیٹر کا سفر طے کرکے بیٹے کو اسکوٹی پر گھر لانے والی ماں

    نئی دہلی :ماں کی ممتا کا ایک اورشاہکار:لاک ڈاؤن کی وجہ سے 1400 کلومیٹر کا سفر طے کرکے بیٹے کو اسکوٹی پر گھر لانے والی ماں،اطلاعات کےمطابق ماں اپنے بچوں سے یقیناً بےحد محبت کرتی ہے اور اس کی محبت میں اتنی طاقت ہے کہ پھر کوئی رکاوٹ یا لاک ڈاؤن اسے روک نہیں سکتا۔

    ذرائع کے مطابق بھارتی ریاست تلنگانہ سے تعلق رکھنے والی 48 سالہ رضیہ بیگم ہیں جنہوں نے اپنے بیٹے سے محبت کی نئی مثال قائم کردی۔بھارتی نشریاتی ادارے انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق نظام آباد شہر سے تعلق رکھنے والی سرکاری اسکول ٹیچر اپنی اسکوٹی پر 1400 کلو میٹر کا سفر طے کرکے مصیبت میں پھنسے اپنے بیٹے کو واپس گھر لے آئیں۔

    بھارتی حکومات نے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ملک بھر میں 21 روز کا لاک ڈاؤن نافذ کررکھا ہے، جس کے باعث رضیہ بیگم کا 19 سالہ بیٹا محمد نظام الدین بھی آندھرا پردیش میں پھنس گیا تھا۔

    انڈین ایکسپریس سے ٹیلی فون کے ذریعے بات کرتے ہوئے نظام الدین نے بتایا کہ وہ 12 مارچ کو اپنے دوست کو چھوڑنے نیلور گیا تھا اور 23 مارچ کی واپسی کی ٹرین کی ٹکٹ کروائی تھی، تاہم لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام ٹرینز معطل ہوگئیں۔

    نظام الدین کے مطابق اس نے کئی روز تک واپس گھر آنے کی کوشش کی تاہم وہ ناکام رہا۔دوسری جانب رضیہ بیگم کا کہنا تھا کہ ’میرا بیٹا اب میرے پاس ہے اور میں بےحد خوش ہوں، میں اپنی اسکوٹی پر 1400 کلومیٹر کا سفر طے کرکے اپنے بیٹے کو گھر واپسی لائی‘۔

    ان کے مطابق بیٹے کو گھر واپس لانے کے لیے بودھن کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس وی جے پال ریڈی سے بھی مشورہ لیا جنہوں نے چند دن صبر کرنے کا مشورہ دیا تھا۔رضیہ بیگم نے بتایا کہ وہ گاڑی کرائے پر لیتی تو پولیس انہیں جگہ جگہ روکتی اور شاید آگے جانے کی اجازت بھی نہیں دیتی جس کے بعد انہوں نے اپنی اسکوٹی پر جانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ پولیس کو اپنی کہانی بتا کر آگے جانے پر مجبور کرسکیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ’میں نے 5 اپریل کو اپنے سفر کا آغاز کیا اور بارے میں کسی کو نہیں بتایا، گھر سے کچھ دور پہنچنے پر میں نے اپنے بیٹے کو کال کی اور کہا کہ میں اسے لینے آرہی ہوں، راستے میں مجھے جہاں پیٹرول اسٹیشن نظر آتا میں رک کر پیٹرول بھروا لیتی اور کچھ دیر خود کو اور اپنی اسکوٹی کو آرام بھی دیتی‘۔

    رضیہ بیگم کے مطابق وہ گزشتہ 25 سالوں سے اسکوٹی چلا رہی ہیں، ان کے شوہر کے انتقال کو 14 سال گزر چکے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس انہیں جگہ جگہ روکتی رہی تاہم وہ انہیں اپنی پوری کہانی سناتی جس کے بعد انہیں آگے جانے کی اجازت ملتی گئی۔ان کے بیٹے نے بتایا کہ والدہ 23 سے 24 گھنٹوں کا سفر طے کرکے انہیں لینی پہنچی، اس ہی روز شام کے وقت یہ دونوں اپنے گھر کے لیے روانہ ہوئے۔

    اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس وی جے پال ریڈی نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ رضیہ بیگم ایک بہادر خاتون ہیں، انہوں نے مجھ سے اجازت نامے کی بھی درخواست کی تھی تاکہ پولیس انہیں ان کا سفر مکمل کرنے دے، وہ اپنی بہادری سے اپنے بیٹے کو گھر واپسی لاسکی ہیں اور ان کی کہانی یقیناً متاثر کن ہے۔واضح رہے کہ بھارت میں اب تک کورونا وائرس کے 7 ہزار 447 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ 239 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

  • کرونا مریض‌کدھرجائیں ،کرونا ٹیسٹ کی رپورٹس کے لیے تکلیف دہ انتظار، مریض پریشان

    کرونا مریض‌کدھرجائیں ،کرونا ٹیسٹ کی رپورٹس کے لیے تکلیف دہ انتظار، مریض پریشان

    لاہور:کرونا مریض‌کدھرجائیں ،کرونا ٹیسٹ کی رپورٹس کے لیے تکلیف دہ انتظار، مریض پریشان ،باغی ٹی وی کے مطابق حکومت کی طرف سے کرونا ٹیسٹ کے دعوے صرف زبانی حد تک ہی رہ گئے ہیں ، لوگ ٹیسٹوں کے لیے آتے ہیں لیکن پرائمری ہیلتھ والے ٹرخا دیتے ہیں

    ذرائع کے مطابق ایکسپوسینٹرمیں آئیسولین سینٹربنائے ہوئے ہیں‌وہاں پرجو مریض صحت یاپ ہورہے ہیں ، ان کے کرونا کے ٹیسٹوں کی رپورٹ نہیں مل رہی ، ایکسپو سینٹرمیں موجود مریض بہت پریشان ہیں

    ذرائع کے مطابق ایکسپوسینٹر میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی رپورٹس کو تین دن سے زائد کا وقت ہوگیا ہے لیکن پرائمری ہیلتھ کی طرف سے ابھی تک کوئی رپورٹ نہیں ملی ، حالانکہ دوسری طرف چغتائی لیب والوں کی طرف سے رپورٹس مل بھی چکی ہیں‌

    ایک سائل کا کہنا ہےکہ پرائمری ہیلتھ کیئرکمشین کی طرف سے جان بوجھ کرتاخیر کی جارہی ہے ، حالانکہ یہ بات پہلے سے طئے ہے کہ پرائمری ہیلتھ کئیر 18 گھنٹوں کےاندر اندر مریض کی کرونا رپورٹ فائنل کرکے مریض تک پہنچا دیا جائے گا لیکن ایسا نہیں ہے

  • احساس کفالت پروگرام ، کرونا کی حساسیت بھول گیا ، ہزاروں خواتین کو ایک جگہ بلاکررقم دینے کا عمل کرونا کے اضافے کا سبب

    احساس کفالت پروگرام ، کرونا کی حساسیت بھول گیا ، ہزاروں خواتین کو ایک جگہ بلاکررقم دینے کا عمل کرونا کے اضافے کا سبب

    فیصل آباد :احساس کفالت پروگرام ، کرونا کی حساسیت بھول گیا ، ہزاروں خواتین کو ایک جگہ بلاکررقم دینے کا عمل کرونا کے اضافے کا سبب،اطلاعات کے مابق احساس کفالت پروگرام کے تحت دہاڑی دار طبقے میں فیصل آباد کے 18 مقامات سے امدادی رقم کی فراہمی جاری ہے۔

    باغی ٹی وی کےمطابق کرونا سے بچاو کی حفاظتی تدابیر کے تحت عوام الناس کو لاک ڈاون کرنے والی حکومت نے خود اپنے ہی فیصلوں کی دھجیاں بکھیردیں اورفیصل آباد میں اس کا عملی مظاہرہ بھی کیا گیا

    ذرائع کےمطابق احساس کفالت پروگرام کے تحت خواتین میں امدادی رقم تقسیم کرنے کے لیے انتظامیہ نے کرونا سے بچاوکی تمام حفاظتی تدابیرکو پارہ پارہ کرتے ہوئے ایک ہی جگہ پرہزاروں خواتین کو بلاکررقم دینے کا اعلان کرکے کرونا کے اضافے کا سبب بننے میں خوب مدد کی

    ذرائع کے مطابق ہزاروں خواتین ایک جگہ جمع ہیں اوررقم کے حصول کے لیے اس قدرایک دوسرے کے ساتھ چھورہی ہیں کہ جس کے بعد کرونا کی حفاظتی تدابیرکے بارے میں احتیاط کرنے کا دعویٰ بالکل فاسد ہوکررہ جاتا ہے

    یاد رہے کہ احساس کفالت پروگرام کے تحت دہاڑی دار طبقے میں رقم کی تقسیم شروع کردی گئی ہے، پنجاب میں پہلے مرحلے میں ایک ارب33 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے تھے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصل آباد کی چھ تحصیلوں میں 67 ہزار 629 افراد امدادی رقم وصول کریں گے جس کےلیے شہر اور دیہی علاقوں میں 9، جڑانوالہ میں تین مراکز بنائے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے تاندلیا نوالہ، سمندری، جھمرہ میں 2، 2 مراکچ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے لیکن فیصل آباد میں رقم کی تقسیم دوسرے مرحلے میں ہوگی۔

    خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں رقم تقسیم کیلئے میں 450 سینٹرز قائم کئے گئے ہیں جن سے 12 ہزار روپے فی کس تقسیم ہوں گے جبکہ لاہور اور فیصل آباد کے علاوہ دیگر اضلاع میں امدادی رقم کی تقسیم ہوچکی ہے۔

  • خواجہ برادران اورچوہدری برادران بننے جارہے ہیں سیاسی برادران ، اہم ملاقات،پاکستان مسلم لیگ پھرسے مضبوط ہوسکتی ہے

    خواجہ برادران اورچوہدری برادران بننے جارہے ہیں سیاسی برادران ، اہم ملاقات،پاکستان مسلم لیگ پھرسے مضبوط ہوسکتی ہے

    لاہور:خواجہ برادران اورچوہدری برادران بننے جارہے ہیں سیاسی برادران ، اہم ملاقات،پاکستان مسلم لیگ ہوگی مضبوط،اطلاعات کےمطابق ،اطلاعات کے مطابق لاہور میں مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق نے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی سے ملاقات کی ہے۔

    ذرائع کےمطابق اس اہم ملاقات کے دوران کورونا سے بچاؤ اور تدارک کے لیے تمام جماعتوں کو اکٹھا کرنے پر خواجہ برادران نے پرویزالٰہی کو مبارک باد دی۔خواجہ برادران نے سابق وزیرِ اعظم چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔

    اس موقع پر چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے سیاست ایک طرف رکھ کر بحیثیت قوم مل کر اس کا مقابلہ کرنا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج انسانیت تقاضہ کرتی ہے کہ ہم سب مل کر یک جہتی کا مظاہرہ کریں۔

    خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ چوہدری خاندان سے ہمارا پرانا تعلق ہے،ہمارے بزرگ، چودھری صاحبان اور ان کے بزرگوں کا آپس میں بڑا گہرا تعلق تھا، اس دیرینہ تعلق کو ہم آگے لے کر چلنا چاہتے ہیں۔

    یاد رہے کہ باغی ٹی وی خواجہ برادران کی پاکستان مسلم لیگ کے رہنما چوہدری پرویزالٰہی سے سیاسی قرابت کی پہلے ہی پشین گوئی کرچکا ہے،

  • سندھ میں دنیا کی سب سے زیادہ اوسط شرح سے کورونا کیسز سامنے آگئے، وزیراعلیٰ سندھ نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    سندھ میں دنیا کی سب سے زیادہ اوسط شرح سے کورونا کیسز سامنے آگئے، وزیراعلیٰ سندھ نے خطرے کی گھنٹی بجادی

    کراچی:سندھ میں دنیا کی سب سے زیادہ اوسط شرح سے کورونا کیسز سامنے آگئے، وزیراعلیٰ سندھ نے خطرے کی گھنٹی بجادی ،اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں صوبے میں دنیا کی سب سے زیادہ اوسط شرح سے کورونا کیسز سامنے آئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ یہ بات انتہائی تشویش ناک ہے کہ آج کورونا کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 104 کورونا کے کیسز آئے ہیں جومجموعی ٹیسٹ کا 20 فیصد ہیں، یہ دنیا کی سب سے زیادہ اوسط ہے جو کہ تشویش کا باعث ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 531 ٹیسٹ کیے گئے جس میں 104 یعنی 20 فیصد مثبت آئے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 6 اموات ہوئیں جوکہ زیادہ ہیں، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صورتحال خراب ہورہی ہے جس کی وجہ لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل نہیں ہورہا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس لاک ڈاؤن پر جب تک سختی سے عمل ہو رہا تھا تو صورتحال بہترتھی، ملیر میں لاک ڈاؤن کافی کمزور تھا جس کو میں نے آج مزید سخت کرنے کی ہدایت کی ہے جب کہ حیدرآباد میں بھی کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے لاک ڈاؤن سخت کیا جارہاہے۔

  • امریکا:کرونا کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 2ہزار اموات، اجتماعی قبروں میں تدفین شروع،دوسری طرف لوگ بھوک افلاس سے مرنے لگے

    امریکا:کرونا کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 2ہزار اموات، اجتماعی قبروں میں تدفین شروع،دوسری طرف لوگ بھوک افلاس سے مرنے لگے

    واشنگٹن :امریکا:کرونا کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 2ہزار اموات، اجتماعی قبروں میں تدفین شروع،دوسری طرف لوگ بھوک افلاس سے مرنے لگے،اطلاعات کےمطابق امریکا دنیا کا پہلا ملک بن گیا جہاں عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث ایک دن میں ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ بڑی تعداد میں اموات کے باعث لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفنایا جانے لگا۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جان ہاپکنز یونیورسٹی کی کورونا کیسز پر نظر رکھنے والی خصوصی ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں 24 گھنٹوں کےدوران 2 ہزار 108 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔رپورٹس کے مطابق امریکا میں اموات کی تعداد اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد سے بڑھ جانے کا امکان ہے جبکہ وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ چکی ہے۔

     

    دوسری جانب وائرس سے سب سے بری طرح متاثر ہونے والے امریکا کے سب سے زیادہ گنجان شہر نیویارک میں تابوتوں کی اجتماعی قبروں میں تدفین کی تصاویر اور فوٹیج سامنے آئیں۔واضح رہے کہ صرف اس ایک شہر میں ایک دن میں 700 زیادہ افراد لقمہ اجل بنے جبکہ 18 ہزار 569 مریض ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور ریاست نیویارک میں کیسز کی تعداد دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے۔

    رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز ہارٹ آئی لینڈ کی ڈرون فوٹیج منظر عام پر آئی تھیں جس میں حفاظتی لباس پہلے اہلکار تابوتوں کو ایک اجتماعی قبر میں دفنا رہے تھے۔مذکورہ جزیرے کو 150 سال سے حکام ان افراد کی تدفین کے لیے استعمال کررہے تھےجن کا کوئی والی وارث نہ ہو یا جن کے اہلِ خانہ میں تدفین کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہ ہو۔

    امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق اس سے قبل اس جزیرے پر عموماً ایک ہفتے کے دوران 25 لاشوں کی تدفین انجام دی جاتی تھی۔تاہم اب ہفتے میں ایک دن کے بجائے پانچوں دن اور دن کے 24 گھنٹے تدفین کا عمل جاری ہے۔

    اس سلسلے میں حکام نے بتایا کہ شہر کی مرکزی جیل کے قیدی لاشیں دفنانے کا کام کرتے تھے لیکن کام کا دباؤ اس قدر بڑھ گیا کہ اب یہ کام ٹھیکیداروں سے لیا جارہا ہے۔یہ بات غیر واضح ہے کہ ان اجتماعی قبروں میں دفن ہونے والوں میں کس کا کوئی والی وارث نہیں یا کتنوں کے اہلِخانہ اخراجات اٹھانے سے قاصر ہیں ۔

    اس دور دراز قبرستان تک رسائی صرف کشتیوں کے ذریعے ممکن ہے جہاں کی فضا کتبوں کے بغیر موجود اجتماعی قبروں کے باعث ہمیشہ سے سوگوار ہے اور مرنے والوں کی بڑی تعداد نامعلوم ہے۔
    دوسری جانب امریکی انفیکشن ڈیزیز کے سربراہ ڈاکٹر انتھونی نے دعویٰ کیا کہ امریکا میں بہت جلد کورونا کیسز اور اموات کی سطح کم ہونا شروع ہوجائے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس ’اہم پیشرفت‘ کے باوجود روک تھام کی کوششیں مثلاً سماجی فاصلہ ختم نہ کیا جائے۔

    دوسری جانب نیویارک شہر میں کورونا وائرس کے کیسز کی بڑی تعداد کی وجہ سے ایمرجنسی سروسز کے آپریٹرز ہر 15 سیکنڈ بعد ایک نئی کال وصول کرتے ہیں جس میں فون کرنے والے اپنے پیاروں کی صحت کی خرابی کی اطلاع دیتے ہیں۔

    چنانچہ بے تحاشہ کالز موصول ہونے کی وجہ سے حکام نے عوام کو ٹیکسٹ میسیجز اور ٹوئٹر الرٹ بھیجنا شروع کردیے ہیں جس میں لوگوں پر زور دیا جارہا ہے کہ صرف اس صورت میں کال کریں جب زندگی کو خطرے جیسی صورتحال کا سامنا ہو۔

    اس بارے میں ایمرجنسی سروس 911 کے ایک آپریٹر کا کہنا تھا کہ ’جیسے ہی ہم ایک کال رکھتے ہیں دوسری بج اٹھتی ہے، کالز کے درمیان ایک منٹ کا بھی وقفہ نہیں‘۔ایک اور آپریٹر کا کہنا تھا کہ کالز کا سلسلہ یکے بعد دیگرے بلا کسی تعطل کے جاری ہے اور ہم بس ایک کے بعد ایک کال اٹھائے جارہے ہیںدوسری جانب فائر ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ انہیں ایمبولینسز کے لیے روزانہ 5 ہزار 5 سو زائد کالز موصول ہورہی ہیں جو معمول سے 40 فیصد زائد ہے

    ذرائع کے مطابق امریکہ میں ایک طرف کرونا کی وجہ سے لوگ مررہے ہیں اوران کو دفنانے کے لیے کوئی آگے نہیں بڑھ رہا تو دوسری طرف لوگ بھوک افلاس کی وجہ سے مرنے لگے ہیں ، یہ بھی کہا جارہا ہےکہ ہر آنے والا دن امریکیوں کےلیے ایک ڈراونا خواب بن کرآرہا ہے

  • کورونا وائرس، ڈپٹی کمشنر ایسٹ کا کراچی کی 12یوسیز سیل کرنے کا حکم

    کورونا وائرس، ڈپٹی کمشنر ایسٹ کا کراچی کی 12یوسیز سیل کرنے کا حکم

    کراچی : کورونا وائرس، ڈپٹی کمشنر ایسٹ کا کراچی کی 12یوسیز سیل کرنے کا حکم،اطلاعات کے مطابق کراچی میں کرونا وائرس کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیش نظرڈی سی کراچی ایسٹ نے بڑا مشکل فیصلہ لیتے ہوئے 12 یوسی کو مکمل طورپرسیل کردیا ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق اس حوالے سے ڈی سی ایسٹ کراچی کی طرف سے متعلقہ حکام کو آگاہ کردیا ہے ،ذرائع کا یہ بھی کہنا ہےکہ ڈپٹی کمشنر ایسٹ نے 12 یوسیز کو سیل کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا

    ذرائع کےمطابق اس حوالے سے ڈی سی ایسٹ کراچی کے حکم کے بعد رینجرز اور پولیس کی نفری نے علاقوں کو سیل کردیا ہے، یہ بھی بتایا گیا ہےکہ اس فیصلے کے بعد یوسیز میں نہ جانے کی اجازت ہوگی نہ باہر آنے کی،

  • اللہ کی قدرتوں کے رنگ : کورونا کی وجہ سے  بی بی سی ریڈیو پر پہلی مرتبہ جمعے کی اذان اور خطبہ نشر کیا جائے گا

    اللہ کی قدرتوں کے رنگ : کورونا کی وجہ سے بی بی سی ریڈیو پر پہلی مرتبہ جمعے کی اذان اور خطبہ نشر کیا جائے گا

    لندن :اللہ کی قدرتوں کے رنگ : کورونا کی وجہ سے بی بی سی ریڈیو پر پہلی مرتبہ جمعے کی اذان اور خطبہ نشر کیا جائے گا،اطلاعات کے مطابق برطانیہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے باعث تمام تر مساجد بھی بند ہیں اور اسی کے پیشِ نظر پہلی مرتبہ بی بی سی ریڈیو پر مسلمانوں کے لیے ہر جمعے کے روز اذان اور خطبے کی نشریات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کے لیے پہلی مرتبہ بی بی سی ریڈیو پر جمعے کا خطبہ بھی نشر کیا جائے گا جس کے لیے مختلف امام ہر جمعہ کو خطبہ دیں گے جسے بی بی سی کے 14 مقامی ریڈیو اسٹیشنز پر نشر کیا جائے گا۔

    ہر جمعے کو بی بی سی ریڈیو پر نشرکیے جانے والے پروگرام کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے کیا جائے گا جس کے بعد امام کی جانب سے نبی کریم رحمت اللعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حدیث سنائی جائے گی اور خطبے کا آغاز کیا جائے گا۔

    بی بی سی مقامی ریڈیو کے سربراہ کرس برنس نے کہا کہ ‘مقامی ریڈیو معاشرے میں موجود لوگوں کو آپس میں جوڑتا ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ ہر ہفتے جمعے کے خطبے اور اذان سے مسلمانوں کو لاک ڈاؤن کے باوجود بھی ایک ہونے کا احساس ہوگا’۔

    بی بی سی ریڈیو پریزینٹر فل اپٹون کا کہنا ہے کہ ‘برطانیہ میں کورونا وائرس کی وجہ سے بے شمار مساجد بند ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں کی عبادات میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے جسے پُر کرنے کے لیے یہ راستہ اختیار کیا جا رہا ہے’۔

    برطانیہ میں جمعے کو ریکارڈ اموات ہوئیں اور ایک ہی دن میں 980 اموات کے بعد مجموعی تعداد 8 ہزار 958 تک پہنچ گئی جب کہ متاثرہ افراد کی تعداد 74 ہزار ہو گئی ہے۔برطانیہ میں اموات کے لحاظ سے جمعہ بد ترین دن رہا اور مزید 5 ہزار 706 افراد کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آیا۔

    دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد ایک لاکھ 4 ہزارسے تجاوز کرچکی ہے جب کہ مریضوں کی تعداد بھی 17 لاکھ سےزیادہ ہو چکی ہے۔

  • ایمرا وفد کی سی سی پی او لاہور سے ملاقات،کرونا سے بچاؤ کیلئے پولیس میں بھی صحافی برادری نے کئے ماسک تقسیم

    ایمرا وفد کی سی سی پی او لاہور سے ملاقات،کرونا سے بچاؤ کیلئے پولیس میں بھی صحافی برادری نے کئے ماسک تقسیم

    ایمرا وفد کی سی سی پی او لاہور سے ملاقات،کرونا سے بچاؤ کیلئے پولیس میں بھی صحافی برادری نے کئے ماسک تقسیم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشنز کے وفد کی سی سی پی او لاہور اور ایس ایس پی ایڈمن سے ملاقات ہوئی ہے

    دوران ملاقات ایمراء کے وفد نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں لاہور پولیس کی کاوشوں اور اقدامات کو سراہا۔ ایمراء وفد میں سینئر صحافی بیورو چیف ایکسپریس محمد الیاس، صدر ایمرا آصف بٹ اور ایڈیشنل سیکرٹری ایمرا نعمان شیخ سمیت دیگر صحافیوں نے شرکت کی،

    ایمرا اور الرحمن گارڈنز اینڈ ڈویلپرز کی جانب سے سی سی پی او کے ملازمین کیلئے ڈس انفیکشن ٹنل لگا دیا گیا، ایمراء نے ایس اے گارڈن اور الکبیر ٹاون کی طرف سے لاہور پولیس کو سینکڑوں ماسک بھی فراہم کئے،

    سی سی پی او لاہور کا کہنا تھا کہ سی سی پی او آفس آنے والا ہر شخص ڈس انفیکشن ٹنل سے گزر کرداخل ہو گا تاکہ تمام ملازمین محفوظ ماحول میں فرائض سر انجام دیں، صحافی برادری کی جانب سے پولیس کے تحفظ کے لئے کیے گئے ان اقدامات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،

    لیاقت علی ملک کا کہنا تھا کہ بحثیت قوم ہم سب مل کر کورونا کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں،

    واضح رہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے ایمر اکی جانب سے نہ صرف لاہور بلکہ دیگر شہروں کے پریس کلبوں کو بھی سامان بھجوایا گیا ہے، کرونا وائرس کی وجہ سے بے روزگار ہونے والے صحافیوں میں راشن بھی تقسیم کیا گیا ہے

    یاد رہے کہ ایمراباڈی لاہورکے صحافی ورکروں کے دکھ درد میں‌شریک ہے ، جہاں ایک طرف میڈیا مالکان کی طرف سے ورکروں کو بےروزگارکیا گیا اوران کی تنخواہیں بھی نہیں دے رہے ان حالات میں ایمرا نے ایسے کئی خاندانوں کے دکھ درد بانٹنے کی بھرپورکوشش کی

    ایمرا باڈی میڈیا ورکروں کے ان خاندانوں کے بچوں کی کفالت بھی کرتی ہے جن کے سربراہ خانہ دوران ڈیوٹی وفات پاچکے ہیں، ان کے بچوں کے تعلیمی اخراجات اوران کے گھروں کے چولہے جلانے تک کا مشن سرانجام دیتے ہیں