Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد،خدمت اورتربیت کے میدان میں پاک فوج مستعد

    پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد،خدمت اورتربیت کے میدان میں پاک فوج مستعد

    راولپنڈی:پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد،خدمت اورتربیت کے میدان میں پاک فوج مستعد،اطلاعات کےمطابق پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔پاس آؤٹ ہونے والوں میں سری لنکا ،عراق،فلسطین اور سعودی عرب کے کیڈٹس شامل ہیں۔

    پاک فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد کیا گیا اور پریڈ میں 141ویں لانگ کورس اور 60ویں اینٹی گریٹڈ کورس نے شرکت کی۔

    آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ تقریب کے مہمان خصوصی لیفٹیننٹ جنرل شیرافگن تھے جبکہ پاس آؤٹ ہونے والوں میں سری لنکا ،عراق،فلسطین اور سعودی عرب کے کیڈٹس شامل ہیں۔

  • کرونا وائرس نے عادات واطوارہی بدل کررکھ دیئے ، پی سی بی کورمضان المبارک کے حوالے سے اہم فیصلہ کرنا پڑا

    کرونا وائرس نے عادات واطوارہی بدل کررکھ دیئے ، پی سی بی کورمضان المبارک کے حوالے سے اہم فیصلہ کرنا پڑا

    لاہور:کرونا وائرس نے عادات واطوارہی بدل کررکھ دیئے ، پی سی بی کورمضان المبارک کے حوالے سے اہم فیصلہ کرنا پڑا،اطلاعات کےمطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس جیسی عالمی وباء کے پیش نظر ماہ مقدس، رمضان، میں کسی بھی قسم کی کرکٹ سرگرمی کے لیے این او سی جاری نہیں کیا جائے گا۔

    چند منتظمین نے ہم سے رمضان کرکٹ کے لیے این او سی کے حصول کی غرض سے وضاحت طلب کرنے کے لیے رابطہ کیا۔ اس وقت مناسب یہی ہے کہ ہم اس سلسلے میں اپنی واضح اور جامع پالیسی پر عمل کریں، جس کے مطابق پی سی بی نےفی الوقت تمام تر کرکٹ سرگرمیوں کو معطل کر رکھا ہے۔ لہٰذا جب تک حالات معمول پر نہیں آتے پی سی بی رمضان کرکٹ کے لیے کوئی این او سی جاری نہیں کرے گا۔

    یہ ایک مشکل صورتحال ہے جہاں دنیا بھر میں معاشی اور کھیلوں کی سرگرمیاں معطل ہیں اور اس وقت تمام تر توجہ صرف لوگوں کی صحت اور حفاظت پر مرکوز ہے۔ پی سی بی منتظمین اور کرکٹرز سے درخواست کرتا ہے کہ وہ تمام تر احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل کرتے ہوئے گھروں میں رہیں اور سماجی فاصلہ اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ کسی بھی اجتماعی سرگرمی سے دور رہیں۔

    پی سی بی اپنے ملازمین اور کھلاڑیوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہے۔ملازمین کے علاوہ تقریباََ 220پیشہ ور کرکٹرز پی سی بی کے پے رول پر ہیں۔پی سی بی اس عمل کو یقینی بنائے گا کہ تمام کھلاڑیوں کو کم از کم مالی سال برائے 2019-20 کے اختتام تک ان کی تنخواہیں ادا کی جائیں۔علاوہ ازیں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ماہوار تنخواہ میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔اس دوران پی سی بی ملک میں بدلتی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے اور جب مناسب ہوگاتو اپنی پالیسی میں ترمیم کرے گا۔

  • کروناایک خطرناک وائرس ہے،غلط خبروں سے نقصان ہوسکتا ہے، بہت جلد اللہ کے فضل سے کرونا پرقابوپالیں گے، وزیراعظم

    کروناایک خطرناک وائرس ہے،غلط خبروں سے نقصان ہوسکتا ہے، بہت جلد اللہ کے فضل سے کرونا پرقابوپالیں گے، وزیراعظم

    لاہور: کروناایک خطرناک وائرس ہے،غلط خبروں سے نقصان ہوسکتا ہے،بہت جلد اللہ کے فضل سے کرونا پرقابوپالیں گے، وزیراعظم عمران خان،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف لمبی جنگ ہے، مہلک وباء کسی کو نہیں چھوڑتی، لوگ سوشل میڈیا کی غلط باتوں پر نہ جائیں۔

    گورنر ہاؤس میں کورونا وائرس سے متعلق وزیراعظم ریلیف فنڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کاکہنا تھا کہ تقریب کے انعقاد پر گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کا بھی شکر گزار ہوں، مخیر حضرات کا بھی مشکور ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ مشکل وقت قوموں کا امتحان ہوتا ہے، پاکستان کے حالات توویسے ہی پہلے بہت برے حالات تھے۔ یہ قوم کا امتحان ہے۔ مشکل وقت میں صبرکرنے والے عظیم انسان بن جاتے ہیں۔ برا وقت اللہ کی طرف سے امتحان ہوتا ہے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا نظریہ اسلامی فلاحی ریاست ہے۔ بدقسمتی سے ہم اس نظریے سے بہت دورچلےگئے۔ مدینہ کی ریاست پوری دنیا کے لیے ماڈل تھا۔ بدقسمتی سے ہم اسلام کوووٹ لینے کے لیےاستعمال کرتے ہیں، اللہ نے قرآن میں کہا کہ اپنے نبیؐ کی زندگی سے سیکھو۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2 ہزارارب ڈالرکا امریکا نے ریلیف پیکج دیا، امیرملکوں اورپاکستان کے معاشی حالات میں بڑا فرق ہے، معاشی طورپرمستحکم ملک بھی مشکل میں ہے۔ مشکل وقت میں ہم نے 8 ارب ڈالر کا پیکیج دیا ، میں قوم کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ مزید پیکیج دیں گے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اللہ کی طرف سے کورونا وائرس عذاب ہے، اس سے بچنا ہے، کورونا سے نمٹنا بہت بڑا چیلنج ہے۔ قوم جب اس چیلنج سے نکلے گی تو مختلف ہو گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن سے متاثرہ طبقے کا خیال رکھنا چیلنج ہے، دس کروڑ لوگ متاثر ہوئے ہیں، اس سے سفید پوش طبقہ بھی متاثر ہو گا، ہم نے تعمیراتی انڈسٹری کو کھول دیا ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تعمیراتی انڈسٹری کھلنے سے لوگوں کو روزگار ملے گا، روزانہ کی بنیاد صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران ٹائیگر فورس بنائی ہے اس وقت 6 لاکھ لوگ اس کے ممبر بن چکے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پرکہا جا رہا یہ پاکستانیوں کوکچھ نہیں کہے گا۔ مہلک وباء کسی کونہیں چھوڑتی، سوشل میڈیا کی باتوں پرنہ جائیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم ڈیٹا کی بنیاد پرلاک ڈاؤن کررہے ہیں، لاک ڈاؤن کا فائدہ تب ہوگا جب گھروں میں کھانا پہنچائیں گے، کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، کورونا وائرس کے خلاف لمبی جنگ ہے، غلط فہمی میں نہ رہیں یہ کورونا وائرس پاکستان میں نہیں پھیلے گا،احتیاط کریں۔

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ جو لوگ عطیہ کرنا چاہتے ہیں ہم انہیں بتائیں گے کہ یہ لوگ متاثرہ ہیں، ان کی مدد کریں۔ مخیرحضرات کا شکرگزارہوں، عثمان بزدار پنجاب میں اچھا کام کر رہے ہیں، پنجاب میں کام کرنے کے حوالے سے بڑی اچھی رپورٹ آرہی ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فیس بک لانچ کررہے ہیں، حکومت کے پاس مستحق لوگوں کا ڈیٹا موجود ہے، سیاسی پارٹی سے وابستگی سے بالاتر ہو کرمستحقین کو پیسہ دیا جائے گا۔ ہمارے ایم این ایز،ایم پی ایزکا امتحان ہے، مشکل وقت میں خدمت کریں، بدقسمتی سے سیاست بدنام عوام کی بجائے ذات کے لیے کام کرنے سے ہوئی۔

    اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بہت جلد ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس سے نمٹنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ایکسپو سنٹر میں پنجاب حکومت نے 9 روز کے دوران فیلڈ ہسپتال بنا کر ریکارڈ بنا دیا۔ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے ایکسپو سنٹر فیلڈ ہسپتال کے دورے کے موقع پر کیا جبکہ ہسپتال میں کورونا کے متاثرہ مریضوں کے علاج معالجے کی سہولتوں کا جائزہ لیا۔

    دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے فیلڈ ہسپتال کے مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا، وزیراعظم نے تشخیصی کاؤنٹرز، ریسکیو، کمانڈ اینڈ کنٹرول روم، ایمبولینس اور دیگر سہولتوں کا بھی مشاہدہ کیا۔دورے کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے وزیراعظم عمران خان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس ہسپتال میں تمام ضروری سہولتیں موجود ہیں، محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ ،ریسکیو1122اور دیگر محکموں نے ملکر کام کیا۔

    دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایکسپو سنٹر میں پنجاب حکومت نے 9 روز کے دوران فیلڈ ہسپتال بنا کر ریکارڈ بنا دیا، بہت ہی کم عرصے میں 1ہزار بستروں پر مشتمل ہسپتال بنانا احسن قدم ہے۔ بہت جلد کورونا وائرس سے نمٹنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

    اس موقع پر وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے وزیراعظم کو بھی بریفنگ دی، بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں وزیراعلیٰ کی ہدایت پر فیلڈ ہسپتال قائم کئے ، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، جہلم میں بھی زبردست قرنطینہ سنٹر بنادئیے گئے۔

    بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ایکسپوسنٹر فیلڈ ہسپتال لاہور میں میو ہسپتال کے سینئر ڈاکٹرز موجود ہیں، اس وقت میو ہسپتال، پی کے ایل آئی میں کورونا مریضوں کو منتقل کیا جا رہا ہے، پروفیسر، ڈاکٹرز کی ٹیم ہمہ وقت مریضوں کے علاج معالجےمیں مصروف ہے۔

    یاسمین راشد کی طرف سے دی گئی بریفنگ کے بعد وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بس ہمت نہیں چھوڑنی، محنت ،لگن اورشوق سے خدمت کریں، وزیراعلیٰ صاحب آپ اور آپ کی ٹیم نے تو یہاں بہت زبردست کام کیا۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان جب لاہور پہنچے تو ان کے ساتھ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر سائینس وٹیکنالوجی فواد چودھری، وزیر برائے وفاقی تعلیم شفقت محمود، معاونین خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، شہزاد اکبر اور عثمان ڈار بھی وزیر اعظم کے ساتھ لاہور پہنچے۔

    اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے تباہ کن اثرات سے بچنے کیلئے زرعی سیکٹر کھلا رکھا، اب تعمیراتی شعبہ بھی کھول رہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ کورونا وائرس کے باعث ملک میں تعلیمی ادارے، مالز، شادی ہالز، ریستوران اور عوامی اجتماعات بند کر دیئے۔

  • ترکی کا کورونا وائرس سے تحفظ کیلئے دوا کی تیاری کا دعویٰ،دوائی عطیہ کرنے کا اعلان

    ترکی کا کورونا وائرس سے تحفظ کیلئے دوا کی تیاری کا دعویٰ،دوائی عطیہ کرنے کا اعلان

    انقرہ :ترکی کا کورونا وائرس سے تحفظ کیلئے دوا کی تیاری کا دعویٰ،دوائی عطیہ کرنے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق ترکی کے ایک بڑے دوا ساز ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایسی دوا تیار کرلی ہے جو کورونا وائرس کے علاج میں مثبت نتائج دے گی۔

    ترک میڈیا کے مطابق دوا ساز کمپنی سے تعلق رکھنے والے عبدی ابراہیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر لکھا کہ ’تحقیق کے بعد ہم نے ایسی دوا تیار کرلی جو کورونا کے خلاف علاج میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے جس کے بعد ہم نے اسے وزارت صحت کو پیش کردیا‘۔انہوں نے مزید لکھا کہ ’ہم پورے سال یہ دوا تیار کریں گے اور پورے ترکی میں اس کا عطیہ کریں گے‘۔

    دوا ساز ادارے نے ڈاکٹرز، فارماسسٹ، نرسز اور پورے طبی عملے کا شکریہ بھی ادا کیا۔خیال رہے کہ ترکی میں اب تک 20 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جبکہ 425 افراد اس وائرس سے ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔دوسری جانب ترکی میں اب تک 484 افراد علاج کے بعد صحتیاب بھی ہوئے۔

  • عوام کو ماسک پہننے کا مشورہ دے کر ٹرمپ کا خود ماسک پہننے سے انکار،ٹرمپ کا انکارتوبیوی نےمخالفت میں‌  ٹویٹ کردی

    عوام کو ماسک پہننے کا مشورہ دے کر ٹرمپ کا خود ماسک پہننے سے انکار،ٹرمپ کا انکارتوبیوی نےمخالفت میں‌ ٹویٹ کردی

    واشنگٹن :عوام کو ماسک پہننے کا مشورہِ دے کر ٹرمپ کا خود ماسک پہننے سے انکار،ٹرمپ کا انکارتوبیوی نےمخالفت میں‌ ٹویٹ کردی ،اطلاعات کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی وفاقی گائیڈ لائنز (رہنما ہدایات) کا اعلان کیا ہے جس میں امریکی شہریوں کو کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عوامی مقامات پر جاتے ہوئے فیس ماسک لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔

    دوسری طرف امریکی صدر اپنے قول کے ہی مخالف نکلے ، ذرائع کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ کہتے ہوئے کہ ’میں نے یہ نہ کرنے کا انتخاب کیا ہے‘ بتایا کہ ان کا خود ان ہدایات پر عمل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق یہ رہنما ہدایات سینڑرز فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کی جانب سے سامنے آئی جس میں لوگوں کو خاص کر کورونا وائرس سے متاثرہ علاقوں میں جاتے ہوئے رومال، غیر طبی ماسکس اور ٹی شرٹ جیسے کپڑوں سے اپنے چہرہ ڈھانپنے کے لیے کہا گیا ہے۔

    تاہم امریکی صدر نے حکومت کی خود جاری کردہ ہدایات سے اپنے آپ کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اوول آفس میں بیٹھ کر دنیا کے رہنماؤں سے بات چیت کرتے ہوئے اپنا چہرہ ڈھانپنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یہ ایک تجویز ہے جو انہوں نے دی لیکن میں خود (ماسک) نہیں پہننا چاہتا۔

    دوسری طرف دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی صدر نے ماسک پہننے سے انکار کردیا لیکن خاتون اول نے ایک بالکل ٹھوس اور متضاد پیغام دیا اور نئی ہدایات کی حمایت کی۔سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ’جیسے کہ ویک اینڈ آن پہنچا ہے میں ہر ایک سے سماجی فاصلہ برقرار رکھنے اور ماسک یا چہرہ چھپانے والی چیزیں استعمال کرنے کی درخواست کرتی ہوں۔

  • پنجاب حکومت نے 9 روز میں فیلڈ ہسپتال بنا کر ریکارڈ بنا دیا: عثمان بزدار دن رات محنت کررہےہیں ، وزیراعظم کا قرنطینہ سینٹرکا دورہ

    پنجاب حکومت نے 9 روز میں فیلڈ ہسپتال بنا کر ریکارڈ بنا دیا: عثمان بزدار دن رات محنت کررہےہیں ، وزیراعظم کا قرنطینہ سینٹرکا دورہ

    لاہور:پنجاب حکومت نے 9 روز میں فیلڈ ہسپتال بنا کر ریکارڈ بنا دیا: عثمان بزدار دن رات محنت کررہےہیں‌، اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا بہت جلد ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس سے نمٹنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ایکسپو سنٹر میں پنجاب حکومت نے 9 روز کے دوران فیلڈ ہسپتال بنا کر ریکارڈ بنا دیا۔

    ان خیالات کا اظہار وزیراعظم عمران خان نے ایکسپو سنٹر فیلڈ ہسپتال کے دورے کے موقع پر کیا جبکہ ہسپتال میں کورونا کے متاثرہ مریضوں کے علاج معالجے کی سہولتوں کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان نے فیلڈ ہسپتال کے مختلف سیکشنز کا معائنہ کیا، وزیراعظم نے تشخیصی کاؤنٹرز، ریسکیو، کمانڈ اینڈ کنٹرول روم، ایمبولینس اور دیگر سہولتوں کا بھی مشاہدہ کیا۔

    دورے کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے وزیراعظم عمران خان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس ہسپتال میں تمام ضروری سہولتیں موجود ہیں، محکمہ صحت، ضلعی انتظامیہ ،ریسکیو1122اور دیگر محکموں نے ملکر کام کیا۔

    دورے کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایکسپو سنٹر میں پنجاب حکومت نے 9 روز کے دوران فیلڈ ہسپتال بنا کر ریکارڈ بنا دیا، بہت ہی کم عرصے میں 1ہزار بستروں پر مشتمل ہسپتال بنانا احسن قدم ہے۔ بہت جلد کورونا وائرس سے نمٹنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

    اس موقع پر وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے وزیراعظم کو بھی بریفنگ دی، بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں وزیراعلیٰ کی ہدایت پر فیلڈ ہسپتال قائم کئے ، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، جہلم میں بھی زبردست قرنطینہ سنٹر بنادئیے گئے۔

    بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ایکسپوسنٹر فیلڈ ہسپتال لاہور میں میو ہسپتال کے سینئر ڈاکٹرز موجود ہیں، اس وقت میو ہسپتال، پی کے ایل آئی میں کورونا مریضوں کو منتقل کیا جا رہا ہے، پروفیسر، ڈاکٹرز کی ٹیم ہمہ وقت مریضوں کے علاج معالجےمیں مصروف ہے۔یاسمین راشد کی طرف سے دی گئی بریفنگ کے بعد وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بس ہمت نہیں چھوڑنی، محنت ،لگن اورشوق سے خدمت کریں، وزیراعلیٰ صاحب آپ اور آپ کی ٹیم نے تو یہاں بہت زبردست کام کیا۔

    اس سے قبل وزیراعظم عمران خان جب لاہور پہنچے تو ان کے ساتھ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر سائینس وٹیکنالوجی فواد چودھری، وزیر برائے وفاقی تعلیم شفقت محمود، معاونین خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، شہزاد اکبر اور عثمان ڈار بھی وزیر اعظم کے ساتھ لاہور پہنچے۔ اس سے قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے تباہ کن اثرات سے بچنے کیلئے زرعی سیکٹر کھلا رکھا، اب تعمیراتی شعبہ بھی کھول رہے ہیں۔

    وزیراعظم عمران خان نے لکھا کہ کورونا وائرس کے باعث ملک میں تعلیمی ادارے، مالز، شادی ہالز، ریستوران اور عوامی اجتماعات بند کر دیئے۔انہوں نے کہا خطے میں غربت کی بڑی شرح کے باعث متوازن اقدامات کرنے ہیں، ہمیں کورونا کی روک تھام کے ساتھ لوگوں کو بھوک سے بچانے کے عمل کو بھی یقینی بنانا ہے، ہماری کوشش ہے معیشت کا شیرازہ بھی نہ بکھرے، حقیقت ہے ہم ایک تنی ہوئی رسی پر گامزن ہیں۔

  • کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک پنجاب پولیس ، غریبوں کی بے عزتی بھی ، تشدد بھی ، تھانہ کنگن پوروحشت کی علامت بن گیا

    کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک پنجاب پولیس ، غریبوں کی بے عزتی بھی ، تشدد بھی ، تھانہ کنگن پوروحشت کی علامت بن گیا

    لاہور:کرونا وائرس سے زیادہ خطرناک پنجاب پولیس ، غریبوں کی بے عزتی بھی ، تشدد بھی ، تھانہ کنگن پوروحشت کی علامت بن گیا،باغی ٹی وی کے مطابق ایک طرف غریب ، بے بس لوگ کرونا وائرس کی سختیوں سے خوف زدہ اوربےچارگی کے ساتھ زندگی کے مشکل ترین ایام گزارنے پرمجبورتودوسری طرف پنجاب پولیس کی سختیوں اورزیادتیوں نے غریبوں کوکہیں کا نہیں چھوڑا

    باغی ٹی وی کے مطابق پنجاب پولیس کے بعض افسران اپنے نمبرزبنانے کے چکروں میں غریبوں کوپکڑ پکڑ کرجیلوں اورحوالات میں بند کرنے لگے ، اطلاعات کے مطابق یہ واقعات زیادہ ترتھانہ کنگن پورمیں پیش آرہے ہیں ، جہاں اطلاعات کے مطابق پولیس وین میں موجود اہلکارمختلف دیہات میں وحشت پیداکرنے کے لیے راہ گزرتے دیہاتی کو یا کسی دوکان مکان کے دروازے کے سامنے بیٹھے شہری کو اپنی حوس کا نشانہ بناتے ہیں

    باغی ٹی وی کےمطابق تھانہ کنگن پورمیں پولیس کے اس رویے کے خلاف لوگوں میں سخت غصہ اورمزاحمت کی کیفیت پائی جارہی ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ پولیس وین میں موجود اہلکاربے بس ، لاچاردیہاتی کوبہت زیادہ مارتے ہیں اوراس قدربدتمیزی اوربے عزتی کرتے ہیں کہ اس کے گھروالوں اوردیگرافراد کے سامنے انتہائی غلیظ گالیاں دیتے ہوئے اورگھسیٹتے ہوئے گاڑی میں پھینک کرحوالات پہنچا دیتے ہیں

    ذرائع کے مطابق پولیس نے یہ سلسلہ پورے تھانہ کنگن پورکی حدود میں شروع کررکھا ہے، جہاں لوگ ایک طرف بھوک اورپیاس کے مارے ہوئے ہیں تو دوسری طرف پنجاب پولیس کی سختیوں اوردھمکیوں سے خوف زدہ ہیں

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ غریب عوام کی طرف سے سخت ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے، یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ لوگوں نے حالات اور پولیس سے تنگ آکرحکومت کےخلاف احتجاج کرنے کی دھمکی دی ہے

    ادھرذرائع کے مطابق پولیس نے تھانہ کنگن پور کے نواحی گاوں موکل میں کل رات ایک غریب دوکاندارکو نہ صرف مارا اورتشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اس نے جودودھ اکھٹا کیا تھا وہ دودھ بھی سڑک پرگراکراس کی عوام کے سامنے تذلیل کی انتہا کردی پھراس کو گرفتارکرکے اپنے ساتھ بھی لے گئی

    ایسے ہی ایک واقعہ میں پولیس نے مین بازارمیں ایک نوجوان کو صرف اس لیے تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ اپنے گھرکے سامنے اپنی بند دوکان کے پاس کھڑا تھا ، پولیس نے اسے پہلے توتشدد کا نشانہ بنایا پھراس کوگھسیٹتے ہوئے گاڑی میں پھینک کراپنے ساتھ حوالات میں جاکربند کردیا

    باغی ٹی وی کے مطابق پولیس کےاس رویہ پرلوگوں کا کہنا ہے کہ کیا کرونا وائرس سے بچاو کا یہ بھی طبی یا حکومتی اقدام ہے کہ غریب لوگوں کو ان کے بچوں کے لیے دودھ کی فراہمی روک دی جائے ، لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا کرونا وائرس سے بچاوکے لیے طبی اورحکومتی اقدامات کے سلسلے میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کسی غریب کا دودھ سڑک میں انڈیل کرگراکراس کا مالی نقصان بھی کیا جائے اور اس کی تذلیل بھی ،

    دوسری طرف اہل علاقہ نے آئی جی پولیس ، وزیراعلیٰ اوروزیراعظم سے اپیل کی ہے کہ وہ ان بے رحم اورظالم پولیس والوں کے خلاف کارروائی کریں اورلوگوں کو دکھ اورمصیبت میں ڈالنے کی بجائے ریلیف دیں ، اگران ذمہ داران نے کوئی ایکشن نہ لیا تو پھرغریب عوام بے بسی کی زندگی گزارنے کی بجائے مزاحمت کی جدوجہد کرنے پرمجبورہوں گے

  • چودھری شوگر ملز، نواز شریف، مریم نواز بارے کیس داخل دفتر کرنے کا عدالتی حکم

    چودھری شوگر ملز، نواز شریف، مریم نواز بارے کیس داخل دفتر کرنے کا عدالتی حکم

    چودھری شوگر ملز، نواز شریف، مریم نواز بارے کیس داخل دفتر کرنے کا عدالتی حکم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف، مریم نواز اور یوسف عباس کو حاضری سے استثنی دینے کا تحریری حکم جاری کر دیا

    احتساب عدالت کے ایڈمن جج جواد الحسن نے تحریری حکم جاری کیا ، عدالت نے کہا کہ نواز شریف،مریم نواز اور یوسف عباس کی لاہور ہائیکورٹ سے ضمانت منظور ہوچکی ہے۔ نیب کی جانب سے چوہدری شوگر ملز کا ریفرنس ابھی دائر نہیں کیا گیا۔ ریفرنس دائر کئے بغیر ملزموں کیخلاف کیس کی سماعت جاری رکھنا نہ صرف بے ثمر بلکہ بے معنی ہے،

    عدالت نے تحریری حکم میں کہا کہ تینوں ملزمان کو ریفرنس دائر ہونے پر طلب کرلیا جائے گا،عدالت نے کیس کی فائل ریکارڈ روم بھیجنے کا حکم بھی دے دیا.

    واضح رہے کہ ماہ فروری میں احتساب عدالت میں چودھری شوگر ملز کیس کی سماعت ہوئی تھی،مریم نوازکی جانب سے ان کے معاون سلمان سرور عدالت میں پیش ہوئے،سابق وزیراعظم نوازشریف کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی ،پراسیکیوٹر نیب نے نوازشریف کی حاضری معافی کی درخواست کی مخالفت کی اور کہاکہ نوازشریف کی تازہ میڈیکل رپورٹس جمع نہیں کرائی گئی،نوازشریف کی حاضری معافی کی درخواست مسترد کی جائے ۔

    عدالت نے پراسیکیوٹر نیب نے استفسار کیا کہ چودھری شوگرملز ریفرنس کی کیا رپورٹ ہے؟،اس پر پراسیکیوٹر نیب اسداللہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یوسف عباس کی ضمانت ہو چکی ہے جبکہ چودھری شوگر ملز میں تحقیقات جاری ہیں ،تحقیقات مکمل ہونے پر ریفرنس دائر کردیا جائے گا

    وکیل نوازشریف نے کہا کہ قانون کے مطابق ریفرنس آنے تک کیس کی سماعت نہیں ہونی چاہئے ،فاضل جج نے نوازشریف کے وکیل امجد پرویز سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہ سماعت کیسے روک دیں؟ عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی حاضری معافی کی درخواست منظورکرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی تھی.

    جیل جا کر بڑے بڑے سیدھے ہو جاتے ہیں، مریم نواز بھی جیل جا کر”شریف” بن گئیں

    مریم نواز کی تاریخ پیدائش کیا ہے؟ عدالت نے پوچھا تو مریم نے کیا جواب دیا؟

    مریم نواز کو کٹہرے میں لایا جائے، عدالت کا حکم

    حلال کی کمائی ہے، 5 ٹکے بھی ان کو نہ دیں، کیپٹن ر صفدر کا دعویٰ

    واضح رہے کہ چوھدری شوگر ملز کیس میں نیب نے مریم نواز اور یوسف عباس کو گرفتار کیا تھا جنہیں بعد میں عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے، نواز شریف کوٹ لکھپت جیل میں سات برس قید کی سزا کاٹ رہے تھے وہاں سے نیب نے نواز شریف کو بھی گرفتار کر کے عدالت پیش کیا تھا، نواز شریف کے جسمانی ریمانڈ کے دوران انکی طبیعت خراب ہو گئی اور پھر وہ عدالتی حکم کے بعد لندن چلے گئے، نواز شریف ابھی تک لندن میں ہی ہیں، جبکہ مریم نواز لاہور میں ہیں.

  • کرونا وائرس سے بچاؤ، حفاظتی اقدامات، لاہور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کیا کہا؟

    کرونا وائرس سے بچاؤ، حفاظتی اقدامات، لاہور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کیا کہا؟

    کرونا وائرس سے بچاؤ، حفاظتی اقدامات، لاہور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کیا کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے پانچ رکنی فل بنچ نے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا.لاہور ہائیکورٹ نے کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے حفاظتی اقدامات کی درخواست پر عبوری تحریری حکم جاری کر دیا،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کیا ، 5رکنی بنچ نے بہاولپور بار کے صدر کی درخواست پر 7 صفات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ نے کرونا وائرس سے متعلق کئے گئے حکومتی اقدامات پر اظہار اطمینان کیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جیلوں میں قیدیوں کی رہائی کے لیے صوبائی حکومت خصوصی اقدامات کر رہی ہے۔ کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے مخیر حضرات سےمالی امداد لی جا رہی ہے ۔ کرونا کی تشخیص کے لیے لاہور اور ملتان میں لیبارٹریاں قائم کی جائیں ۔کرونا سے بچاو کے لیے فوری جراثیم کش سپرے کرایا جائے ۔

    عدالت نے فیصلہ میں مزید کہا کہ مالی امداد اور خوراک کے بارے یکساں پالیسی بنائی جائے۔ خوراک اور مالی امداد بلا تفریق اور سیاست سے بالاتر کی جائے ۔ تحریری فیصلہ مین کروانا کے خلاف لڑنے والے ڈاکٹروں اور پیرامیڈکس سٹاف کی خدمات کو سراہا گیا ہے ۔

    فیصلہ میں کہا گیا کہ غلہ منڈیوں میں رش کے باعث کرونا وائرس میں اضافہ ہو سکتا ہے اس کی روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں 3ہزار 607 سابق بلدیاتی نمائندے رضاکارانہ کام کرنا چاہتے ہیں ۔

    تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ عدالت کو حکومتی اقدامات پر اعتماد ہے، کرونا جیسی صورتحال پاکستان کی تاریج میں پہلی بار پیدا ہوئی ہے، ایسی صورتحال میں کچھ فیصلے اور پالیسیز عوام کیلئے نئی ہو سکتی ہیں،خوشی ہے کہ تمام حکومتی ادارے اپنے اقدامات میں غلطیوں کو تسلیم کر کے درست کر رہے ہیں اور آگے بڑھ رہے ہیں، ملک کی موجودہ صورتحال کے مطابق ہم محکموں کے سربراہان کو ذاتی حیثیت اور ذہنی طور پر عدالت میں مصروف نہیں رکھنا چاہتے،حکام کو مخصوص ہدایات کے ساتھ کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کی جا رہی ہے،

    فیصلے میں مزید کہا گیا کہ خوراک اور امدادی رقم کی تقسیم کے وقت کوئی سیاسی اور سماجی امتیاز نہ اپنایا جائے، عدالت کو حکام سے باقاعدہ پالیسی اپنانے کی امید ہے ،عدالت کو بتایا گیا کہ ملتان، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، فیصل آباد اور لاہور میں قرنطینہ سنٹرز قائم کر دیئے گئے ہیں،لوگوں میں عدم تحفظ کے خاتمے کیلئےتمام علاقوں میں جراثیم کش سپرے کئے جائیں گے،جیلوں میں قیدیوں کی رہائی کے لیے صوبائی حکومت خصوصی اقدامات کر رہی ہے، قیدیوں کی عام معافی کے لیے سمری صدر پاکستان کو بھجوائی جائے، ہمیں ایک ان دیکھی وباء کا سامنا ہے اور عدالت ہر سماجی اور سرکاری ورکر کی کوششوں کو سراہتی ہے،

    تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ہمیں ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے جس کے ساتھ ہم سب نے لڑنا ہے،کرونا وائرس کیخلاف فیلڈ میں کام کرنے والے افراد کیساتھ تعاون کرنا وقت کی ضرورت ہے، ہمیں گھروں میں رہ کر فیلڈ میں کام کرنے والے افراد کا بوجھ بٹانا ہے، عوام میں کرونا وائرس سے آگاہی پھیلانے کیلئے ہمیں اپناا کردار ادا کرنا ہو گا، جہاں حالات و واقعات کے تقاضے کے مطابق ہمیں ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ہو گا،ہمیں نا صرف قومی بلکہ انسانی مفاد میں ملکر کام کرنا ہو گا،

    تحریری فیصلے میں لاہور ہائیکورٹ نے مزید کہا کہ عدالت امید کرتی ہے کہ سوشل، الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیاکرونا وائرس سے متعلق کوئی غیر ذمہ داری کا مظاہر نہیں کرے گا، سوشل، الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کو ادراک ہونا چاہئے کہ کوئی بھی غلط اطلاع معاشرے میں گھبراہٹ پیدا کر سکتی ہے،سوشل میڈیا، الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کی غلط اطلاعات فیلڈ میں کام کرنے والے افراد میں نا امیدی پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہیں، میڈیا جہاں کچھ غلط دیکھے اس پر تنقید کر سکتا ہےمگر اسکے ساتھ مثبت آئیڈیاز بھی پیش کرے.

  • کرونا کی مشتبہ مریض کی ہسپتال میں موت، طبی عملے کی سنگین غفلت، کرونا کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا

    کرونا کی مشتبہ مریض کی ہسپتال میں موت، طبی عملے کی سنگین غفلت، کرونا کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا

    کرونا کی مشتبہ مریض کی ہسپتال میں موت، طبی عملے کی سنگین غفلت، کرونا کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ضلع ساہیوال میں طبی عملے کی شدید غفلت سامنے آئی ہے، کرونا کی مشبتہ مریضہ کی ہسپتال میں وفات ہوئی، مریضہ کو عام مریضوں کے ساتھ رکھا گیا تھا

    گزشتہ روز میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال نے کہا تھا کہ ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال ساہیوال میں آ ج صبح 10:00 بجے تقریباً مریضہ سیدہ فوزیہ علمدار جو کہ عارضہ قلب، شوگر و عرصہ دراز سے دمہ (سانس کی بیماری) میں مبتلا تھیں. جنہیں سانس کی خرابی کی وجہ سے ہسپتال میں 02.04.2020 کو داخل کروایا گیا . جن کو طبیعت بگڈنے پر ICU میں شفٹ کیا گیا جہاں وہ خالق حقیقی سے جا ملیں. إنا اللہ و انا الیہ راجعون، انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مریض بارے افواہوں پر یقین نا کیا جائے.

    تا ہم آج ساہیوال میں کرونا وائرس کے مشتبہ مریض کی ہلاکت پر عوام میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے، اگرچہ ہسپتال انتظامیہ نے کہہ دیا کہ مریضہ دل، شوگر کی مریض تھیں لیکن ابھی جو صورتحال سامنے آئی ہے وہ کافی تشویشناک ہے. مریضہ کو جب ہسپتال لایا گیا تھا تو اس میں کرونا وائرس کی علامات تھیں

    ہسپتال کی ایمر جنسی والوں نے انہیں قیوم ہسپتال میں جانے کا کہا تو ایم ایس کو کسی کا فون آیا اس نے آئی سی والوں کو کہا کہ میری بہن ہے اسے داخل کریں اور مریضہ کو ہسپتال میں داخل کر لیا گیا،مریضہ کی ٹریول ہسٹری بھی تھی وہ امریکہ سے ایران اور ایران میں رک کر پاکستان آئیں تھیں لیکن کسی نے احتیاط نہیں کی، مریضہ کی وفات کے بعد علاقے میں کھلبلی مچ گئی

    سب سے پہلے ہسپتال انتظامیہ نے آئی سی یو کو سیل کرنے کا پروگرام بنایا اور وہاں موجود مریضوں‌کو وارڈ میں شفٹ کرنے کی کوشش کی ،ڈاکٹرز نے ان مریضوں کو لینے سے انکار کیا تو اس کے بعد آئی سی یو کو خوب دھلوایا گیا اور اپنی طرف سے تمام فرض ادا کر دیئے گئے.

    کرونا وائرس کی مشتبہ مریض کی بغیر ٹیسٹ کروائے اور بلڈ سیمپل لئے ڈیڈ باڈی لواحقین کے حوالے کردی گئی اور تدفین بھی کر دی گئی .

    ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کا کہنا ہے دل کی بیماری یا شوگر کی بیماری میں بخار یا نزلہ یا دوسری کرونا کی علامات نہیں ہوتیں لیکن تعلقات کی بنا پر سب کچھ چھپا لیا گیا جبکہ متوفیہ کے بچے ہسپتال میں اس کے بارے میں بھی ڈاکٹرز اور ہسپتال سٹاف کو تفصیلات دیتے رہیے اور اس کی ٹریول ہسٹری بتاتے رہے

    اسوقت ساہیوال کے ہسپتال میں عجیب سی خوف کی فضاء ہے ہر کوئی بات کرنا بھی چاہتا ہے اور پھر بات نہیں بھی کرتا. ہونا تو چاہئے تھا کہ ان کی ساری فیملی کے کرونا کے ٹیسٹ ہوتے ابھی تک وہ بھی نہیں کروائے گئے، شہریوں‌کا مطالبہ ہے کہ ہلاک ہونے والی مریضہ کے خاندان کے ٹیسٹ کروائے جائیں.