Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • دنیا کرونا وائرس کی وجہ سے آزمائش میں ، شمالی کوریا جنگ کی تیاریوں میں مصروف، دو بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ

    دنیا کرونا وائرس کی وجہ سے آزمائش میں ، شمالی کوریا جنگ کی تیاریوں میں مصروف، دو بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ

    شمالی کوریا :دنیا کرونا وائرس کی وجہ سے آزمائش میں ، شمالی کوریا جنگ کی تیاریوں میں مصروف، دو بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ،اطلاعات کےمطابق ایک طرف دنیا کورونا وائرس سے نبرد آزما ہے تو دوسری جانب شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل پر کم رینج کے حامل دو بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ کیا ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے اپنے بیان میں کہا کہ شمالی کوریا نے ساحلی شہر وون سان سے جاپان کے سمندر میں دو بیلسٹک میزائل فائر کیے۔بیان میں کہا گیا کہ جہاں ایک جانب دنیا کورونا وائرس کے سبب مشکلات سے دوچار ہے تو ایسے موقع پر شمالی کوریا کی جانب سے اس طرح کی فوجی کارروائیاں انتہائی نامناسب ہیں۔

    جاپان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ میزائل جاپان کے سمندر اور معاشی حب سے کچھ دور آکر گرے۔جوہری صلاحیت کے حامل شمالی کوریا کی جانب سے اتوار کو کیے گئے میزائل تجربے کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا لیکن وہ اس ماہ تین میزائلوں کا تجربہ کار چکے ہیں۔گزشتہ ہفتے بھی سیئول کی جانب سے دو میزائل کے تجربات کیے گئے تھے جنہیں کم رینج کے حامل میزائل قرار دیا گیا تھا۔

    ان میزائل تجربات کے ایک دن بعد شمالی کوریا کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا کہ ملک کے رہنما کم جونگ ان کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کال کر کے تعلقات کی بحالی کی پیشکش کی تھی اور اس بات کی وائٹ ہاؤس کی جانب سے تصدیق بھی کی گئی۔یاد رہے کہ شمالی کوریا دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جس میں ابھی تک کورونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

    لیکن کورونا وائرس اس وقت تک عالمی وبا بن چکا ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں اب تک کم از کم 32 افراد ہلاک اور تقریباً 7 لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔اب تک سرکاری سطح پر کوئی کیس رپورٹ نہ ہونے کے باوجود یہ افواہیں زیر گردش ہیں کہ شمالی کوریا میں کورونا وائرس کے چند کیس رپورٹ ہو چکے ہیں اور حکومت کی جانب سے انہیں چھپایا جا رہا ہے۔

  • حکومت، ادارے اور قوم متحد ہو کر کرونا وائرس کو شکست دیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بہت جلد اس بیماری سے نجات دے دیں‌ گے : پرویز الہی

    حکومت، ادارے اور قوم متحد ہو کر کرونا وائرس کو شکست دیں گے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بہت جلد اس بیماری سے نجات دے دیں‌ گے : پرویز الہی

    لاہور: حکومت، ادارے اور قوم متحد ہو کر کرونا وائرس کو شکست دیں گے، اللہ تعالیٰ اس بیماری کو دورکردیں‌ گے ،اطلاعات کے مطابق کرونا وائرس کے پیش نظر مسلم لیگ ق کی قیادت نے ضلعی صدور اور کارکنوں کوصوبہ بھر میں متحرک کر دیا، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی کہتے ہیں کہ فوج، ڈاکٹرز، نرسز، پولیس اور دیگر انتظامی ادارے بہترین خدمات سرانجام دے ہے ہیں، حکومت، ادارے اور قوم متحد ہوکر کرونا وائرس کو شکست دیں گے۔

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویزالٰہی نے پارٹی صدور اور سرکردہ رہنماؤں سے رابطے کئے ہیں اور کرونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر تنظیموں کو ہدایات جاری کی ہیں، چوہدری پرویزالہی نے ہدایت کی کہ ضلعی تنظیمیں ونگز کے ساتھ مل کر منظم طریقے سے امدادی کاموں میں شریک ہوں، جو پارٹی رہنما اور کارکن اس نیک کام میں حصہ لے رہے ہیں ان کا شکر گزار ہوں۔ کرونا وائرس کے سدباب کیلئے حکومتی اقدامات میں ساتھ دیاجائے۔

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ فوج، ڈاکٹرز، نرسز، پولیس اور دیگر انتظامی ادارے بہترین خدمات سرانجام دے ہے ہیں، پوری قوم میڈیکل عملے کے جذبے کو سلام پیش کرتی ہے، ڈاکٹرز اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر کرونا کے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔

    چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ مشکل کی ہر گھڑی میں پاک فوج نے شاندار کردار ادا کیا ہے، سرحدوں کی حفاظت ہویا قدرتی آفات میں عوام کی مدد، پاک فوج فرنٹ لائن پر نظر آتی ہے۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہاکہ انشاء اللہ حکومت، ادارے اورقوم متحد ہوکر کرونا وائرس کو شکست دیں گے،اللہ کی مدد سے مشکل وقت قوم کے اتحاد اور احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے سے انشاء اللہ جلد گزر جائے گا۔

  • صدقہ مصیبتوں کو ٹال دیتا ہے :  مٹھی کے رہائشی نے اپنی پنشن لاک ڈاؤن میں پھنسے دیہاڑی داراور مستحق افراد میں تقسیم کردی

    صدقہ مصیبتوں کو ٹال دیتا ہے : مٹھی کے رہائشی نے اپنی پنشن لاک ڈاؤن میں پھنسے دیہاڑی داراور مستحق افراد میں تقسیم کردی

    تھرپارکر: صدقہ مصیبتوں کو ٹال دیتا ہے : مٹھی کے رہائشی نے اپنی پنشن لاک ڈاؤن میں پھنسے دیہاڑی داراور مستحق افراد میں تقسیم کردی،اطلاعات کےمطابق تھر پارکر:مٹھی کے رہائشی محمد رمضان نے کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن میں پھنسے دیہاڑی دار اور مستحق افراد میں اپنی 1 لاکھ 60 ہزار پنشن تقسیم کر دی۔

    مٹھی کے رہائشی محمد رمضان نے کورونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن میں پھنسے غریب شہریوں کے لیے بڑا اقدام اٹھا لیا۔محمد رمضان نے اپنی 1 لاکھ 60 ہزار پنشن دیہاڑی دار اور مستحق افراد میں تقسیم کر دی۔محمد رمضان کا کہنا ہے مجھ سےغریب لوگوں کی بے بسی دیکھی نہیں جارہی تھی اس لیے اپنی پینشن اور جمع پونجی ان میں تقسیم کی ہے۔محمد رمضان محکمہ روینیو کا ریٹائرملازم ہے۔

    ملک بھر میں کورونا کیسز کی تعداد 1526 تک جا پہنچی ہے۔ کورونا وائرس کے 11 افراد کى حالت تشویشناک ہےجبکہ 28 افراد کورونا وائرس سےمکمل طور پر صحت ياب ہو چکے ہیں۔

    خیال رہے کہ پنجاب میں کیسز کی تعداد سندھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ پنجاب میں کورونا کيسز کی تعداد 558 تک جا پہنچى۔ سندھ میں کورونا کيسز کى تعداد 481،خیبرپختونخواہ 188،بلوچستان 138اور اسلام آباد میں 43 کيسز رپورٹ ہوئے۔جبکہ آزاد کشمیر میں 2 اور گلگت بلتستان میں 116 کیس رپورٹ ہوئے ہیں ۔

  • دنیا والو ! یہ بھی وزیرخزانہ ہے جو ملکی معشیت کی تباہی برداشت نہ کرسکا اورجان دے دی ، دردناک واقعہ ، نصیحت آموز کہانی

    دنیا والو ! یہ بھی وزیرخزانہ ہے جو ملکی معشیت کی تباہی برداشت نہ کرسکا اورجان دے دی ، دردناک واقعہ ، نصیحت آموز کہانی

    برلن :یہ بھی وزیرخزانہ جو ملکی معشیت کی تباہی برداشت نہ کرسکا اورجان دے دی ، دردناک واقعہ ، نصیحت آموز کہانی ،باغی ٹی وی کےمطابق اس وقت جہاں دنیا بھر میں کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا کی جان نکل رہی ہے اورروزانہ ہزاروں لوگ موت کے منہ میں جارہے ہیں وہاں ایسے لوگ بھی ہیں‌جوکرونا وائرس کے لاحق ہونے نے نہیں بلکہ کرونا کی وجہ سے ملکی معیشت کے تباہ ہونے کی وجہ سے جان دینے پرمجبورہوئے ہیں‌

    ذرائع کےمطابق آج جرمنی کے وزیرخزانہ شیفر Schaefer کے بارے میں جرمن حکام کا کہنا ہےکہ وہ اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے ہیں ، 54 سالہ شیفرجن کے بارے میں ان کے ساتھیوں احباب کا کہنا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے جرمنی کی تباہ حال معیشت پربہت زیادہ پریشان تھے ، حالانکہ وہ خود بالکل صحت مند تھے اوران میں کرونا سمیت کسی بیماری کا شائبہ تک نہیں تھا

    جرمن حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں اس بات کا قوی یقین ہے کہ شیفرنے جرمنی کی ڈوبتی ہوئی معیشت پراپنے آپ پرصدمہ طاری کرلیا تھا اوروہ اکثروبیشترجرمنی کی معاشی صورت حال کے بارے میں بڑے فکرمند تھے ، ان کا یہ بھی کہنا ہے شیفر جرمنی میں مالیاتی اداروں کی بحالی کے لیے کافی عرصے سے کوشاں تھے لیکن جب انہیں اس بات کا احساس ہوا کہ اب شاید جرمنی کی معیشت جلد نہ سنبھل سکے تو انہوں نے خودکشی کرکے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا

  • حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایک مستحق بھی کہیں بھوکا نہ رہ جائے،وفاقی اورصوبائی حکومتیں مشن سمجھ کرجدوجہد کررہی ہیں‌،  بلاول

    حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایک مستحق بھی کہیں بھوکا نہ رہ جائے،وفاقی اورصوبائی حکومتیں مشن سمجھ کرجدوجہد کررہی ہیں‌، بلاول

    کراچی: حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایک مستحق بھی کہیں بھوکا نہ رہ جائے،وفاقی اورصوبائی حکومتیں مشن سمجھ کرجدوجہد کررہی ہیں‌،اطلاعات کےمطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ کوئی ایک مستحق بھی کہیں بھوکا نہ رہ جائے۔بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت کے اقدامات پراطمنان کا اظہاربھی کیا

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں سندھ حکومت کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ، ناصر شاہ، امتیاز شیخ اور مرتضی وہاب نے شرکت کی جب کہ سعید غنی اور حارث گزدر وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس میں مستحق افراد کی نشان دہی اور ان تک رسائی کی منصوبہ بندی پر گفتگو کی گئی۔ وزیراعلی مرادعلی شاہ نے بلاول بھٹو زرداری کو حکومت کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے ہدایت کی کہ لاک ڈاؤن کا عمل طویل ہونے کی صورت میں سندھ حکومت کے پاس مکمل منصوبہ بندی ہونا چاہیے، سندھ حکومت ایک ایک مستحق کے گھر پہنچے، سندھ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ کوئی ایک مستحق بھی کہیں بھوکا نہ رہ جائے، مستحق افراد کی امداد کے حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا،

    بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ ہمیں ایک ایسا نظام بنانا ہوگا کہ حکومت، فلاحی ادارے اور مخیر حضرات ایک پلیٹ فارم سے مستحقین کی مدد کریں۔ سندھ حکومت نے مستحق افراد کی امداد کا انتہائی مؤثر اور ایک بہترین نظام بنایا ہے، مخیر حضرات اور فلاحی ادارے سندھ حکومت کے بازو بن کر زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتے ہیں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے ڈاکٹرز کورونا ایمرجنسی سینٹرز اور اسپتالوں میں بہترین کام کررہے ہیں، سندھ میں کورونا سے مشتبہ افراد کی زیادہ سے زیادہ اسکریننگ کا عمل جاری رکھا جائے، میرے نزدیک سب سے اہم اپنے عوام کی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کورونا وائرس کے بحران سے ہم سب کو مل کر لڑنا ہوگا، اگر آپ کسی ایک شخص کی مدد کرسکتے ہیں تو آگے بڑھیں اور اس بحران میں اپنا کردار ادا کریں، اگر کوئی اپنے پڑوسی کی بھی مدد کرسکتا ہے تو وہ بھی اس سخت وقت میں اپنا حصہ ڈالے۔

  • کرونا مریض کے کاٹنے سے خاتون ہلاک ، کاٹنے کے بعد کرونا برہنہ مریض‌ فرار

    کرونا مریض کے کاٹنے سے خاتون ہلاک ، کاٹنے کے بعد کرونا برہنہ مریض‌ فرار

    چینائی: کرونا مریض کے کاٹنے سے خاتون ہلاک ، کاٹنے کے بعد کرونا برہنہ مریض‌ فرار،اطلاعات کے مطابق بھارت میں کورونا وائرس کا ایک مشتبہ مریض قرنطینہ سے برہنہ حالت میں فرار ہو گیا اور ایک عمر رسیدہ خاتون کو کاٹ لیا جس سے خاتون کی موت واقع ہوگئی۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست تامل ناڈو میں ایک 32 سالہ شخص کو سری لنکا سے واپس آنے پر گھر میں قرنطینہ کیا گیا تھا، مذکورہ شخص معمولی علامت ظاہر ہونے پر خوف اور گھبراہٹ کا شکار ہوگیا اور گھر سے برہنہ حالت میں فرار ہوگیا۔

    اضطرابی حالت میں کورونا وائرس کے مشتبہ مریض نے ایک عمر رسیدہ عورت کو گردن پر کاٹ لیا جس پر خاتون کو تشویشناک حالت میں اسپتال میں داخل کیا گیا تاہم خاتون نے دوران علاج دم توڑ دیا۔

    کورونا وائرس کے مشتبہ مریض کو پولیس نے پکڑ کر مقامی اسپتال میں داخل کرایا جہاں ضروری ٹیسٹ لینے کے علاوہ دماغی اور نفسیاتی معائنہ بھی کیا گیا۔ معالجین کے مطابق خوف، گھبراہٹ اور دباؤ کے باعث مریض کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت میں کورونا وائرس کے 900 سے زائد مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ اس مہلک وائرس سے تاحال 9 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

  • صحافیوں نے بھی مشکل وقت میں جزبہ حب الوطنی کی مثال قائم کردی ، خدمت کا سفرجاری ، ایمرا کے سنگ

    صحافیوں نے بھی مشکل وقت میں جزبہ حب الوطنی کی مثال قائم کردی ، خدمت کا سفرجاری ، ایمرا کے سنگ

    لاہور:صحافیوں نے بھی مشکل وقت میں جزبہ حب الوطنی کی مثال قائم کردی ، خدمت کا سفرجاری ، ایمرا کے سنگ ،باغی ٹی وی کےمطابق الیکٹرانک میڈیا رپورٹرزایسوسی ایشن (ایمرا) نے خدمت انسانیت کا اپنا مشن جاری رکھتے ہوئے اسے میڈیا سے وابستہ افراد کے بعد اب حفاظتی دستوں تک پھیلا دیا ہے


    باغی ٹی وی کےمطابق ایمراء کی طرف سےناکوں پر تعینات پولیس،ٹریفک اورسیکورٹی ایجینسیز کے جوانوں میں حفاظتی ماسک تقسیم کیے گئے ، ذرائع کے مطابق کورونا وائرس صورتحال ،الیکٹرانک میڈیا رپورٹرز ایسوسی ایشن(ایمراء) کا پولیس دوست اقدام قرار دیا گیا اوربہت سراہا بھی گیا

    باغی ٹی وی کےمطابق صدر ایمراء آصف بٹ اور ایڈیشنل سیکرٹری نعمان شیخ نےحفاظتی ماسک تقسم کئے۔یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ ایمراقائدین نے ہزاروں کی تعداد میں میڈیکل ماسک فورسسز کے جوانوں میں تقسیم کئےگئے۔

    ذرائع کے مطابق کرونا سے بچاوکے لیےیہ حفاظتی ماسک شہر کے مختلف تھانوں کی نفری میں بھی حفاظتی ماسک تقسیم میں تقسیم کئے گئے

    ادھرڈی آئی جی آپریشنز رائے بابر سعید نے ایمرا کے اس خدمت انسانیت کے مشن کو بہت زیادہ پسند کیا اورشہریوں کی حفاظت میں مصروف پولیس جوانوں کے لئےایمراء عہدیداران کے فلاحی اقدام کو سراہتے ہیں۔

  • کورونا وائرس نے شاہی محلات بھی اجاڑدیئے ، کرونا  سے اسپین کی شہزادی ہلاک

    کورونا وائرس نے شاہی محلات بھی اجاڑدیئے ، کرونا سے اسپین کی شہزادی ہلاک

    سپین :کورونا وائرس نے شاہی محلات بھی اجاڑدیئے ، کرونا سے اسپین کی شہزادی ہلاک،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس سے جہاں دنیا بھر میں 31 ہزار سے زائد اموات ہوچکی ہیں اور اس سے بہت سی بڑی شخصیات بھی متاثر ہوئی ہیں وہیں اب اس سے شاہی خاندان کی فرد کی ہلاکت سامنے آگئی۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز نے رپورٹ کیا کہ نوول کورونا وائرس سے اسپین کی بوربون پرما کی شہزادی ماریہ ٹیریسا ہلاک ہوگئیں۔واضح رہے کہ ہاؤس آف بوربون پرما ہسپانوی شاہی خاندان کا ایک کیڈیٹ حصہ ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کا کہنا ہےکہ ہسپانوی 86 سالہ شہزادی اسپین کے بادشاہ فلیپ (4) کی کزن تھیں جبکہ ان کی موت کی تصدیق ان کے بھائی کی جانب سے کی گئی۔شہزادہ سکسٹو اینریک ڈی بوربون دی ڈیوک آف ارنجیوز کی جانب سے فیس بک پر بتایا گیا کہ ان کی بہن کووڈ 19 کے باعث ہلاک ہوئیں۔انہوں نے مزید لکھا کہ آج دوپہر ہماری بہن ماریہ ٹیریسا کورونا وائرس سے متاثرہ ہوکر 86 برس کی عمر میں پیرس میں وفات پاگئیں۔

    واضح رہے کہ شہزادی ماریہ ٹیریسا کی موت ایسے وقت میں سامنے آئی جب کچھ ہفتے قبل بادشاہ فلیپ چہارم کا کورونا کا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔شہزادی کی زندگی پر نظر ڈالیں تو وہ 28 جولائی 1933 جو پیدا ہوئیں اور فرانس میں تعلیم حاصل کی اور پیرس کی سروبون میں بطور پرفیسر خدمات انجام دیں، اس کے ساتھ ساتھ وہ میڈرڈ کی کومپلوٹینس یونیورسٹی میں سوشیالوجی کی پروفیسر بھی رہیں۔

    ان سے وابستہ لوگوں کے مطابق وہ بے باک خیالات اور متحرک کام کی وجہ سے جانی جاتی تھیں اور اسی وجہ سے ان کی عرفیت ‘سرخ شہزادی’ تھی۔ان کی آخری رسومات میڈرڈ میں منعقد کی جائیں گی۔واضح رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوئم کے بڑے بیٹے شہزادہ چارلس میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

  • کرونا وائرس آزمائش کے ساتھ ساتھ کئی مثبت تبدیلیاں بھی لا سکتا ہے۔ فیصل بخاری

    اسے سیلف آئسولیشن کہیں لوارنٹائین پکاریں یا کچھ اور مگر یہ حقیقت ھے ھم سب جہاں بھی ھیں ایک مختلف دنیا دیکھ رھے ھیں۔ میں پچھلے کچھ دنوں سے بدلتی دنیا کا مشاھدہ کر رھا ھوں اور درج ذیل حقائق میرے سامنے آۓ ھیں جو اگر یاد رکھے جائیں تو اس وبا کے بعد مثبت تبدیلی معاشرہ میں لا سکتے ھیں۔

    ۱۔ کئ کمپنیوں اور سرکار کے ملازم گھر بیٹھے کام کر سکتے ھیں۔ یعنی بے وجہ کی چھٹیوں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ھے۔
    ۲۔ ھم اور ھمارے بچے فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ کے بغیر جی سکتے ھیں۔
    ۳۔ معمولی سزا یافتہ غریب اور لاچار قیدیوں کو آسانی سے رھائ مل سکتی ھے۔ عدالت اورجیل کےوسائل بچاۓ جا سکتے ھیں اور تھانہ کچہری کی سیاست ختم نہیں تو کم کی جا سکتی ھے۔
    ۴۔ ھم دنوں میں ھسپتال اورلیبارٹری قائم کر سکتے ھیں اوروہ بھی مفت!
    ۵۔ ھم اربوں روپے غریبوں کےبلئے جاری کر سکتے ھیں اورکمیٹیوں اور خزانہ کی وزارتوں سے باآسانی پاس کرا سکتے ھیں۔ قانون میں گنجائش موجود ھے۔
    ۶۔ ھم امریکہ اوریورپ میں چھٹیاں نہ گذارنےپر مر نہیں جائیں گے۔
    ۷۔ ترقی یافتہ ممالک اتنے ھی کمزور ھیں جتنے ترقی پزیر اور غریب ممالک۔ میری نظر میں ذیادہ کمزور!
    ۸۔ ھمارا خاندانی نظام ابھی بھی موجود اور قائم و دائم ھے۔ الحمد للہ۔
    ۹۔ اسکول میں جو پڑھایا جاتا ھے اس کی اصلیت کھل گئ ھے۔ بچوں کے وقت کا ضیاں کیا جاتا ھے خصوصی طور پر پرائیویٹ اسکول۔
    ۱۱۔ اگرھم پیسہ اسی احتیاط سے استعمال کریں تو پیسہ وافرھے۔
    ۱۱۔ ھم غیر ضروری طور پر کروڑوں ڈالر کا پیٹرول استعمال کرتے ھیں کو قومی خزانے اور زر مبادلہ پر بوجھ ھے۔
    ۱۲۔ امیر لوگ دراصل غرباء سے کمزور اور بزدل ھیں۔
    ۱۳۔ اشرافیہ طاقتورنہیں بلکہ کھوکھلی ھے۔
    ۱۴۔ ھر نیا ڈیزائنر لان کق جوڑا خریدنا ضروری نہیں۔ آپ پرانے سوٹ میں بھی گھر والوں کے لئے اتنی ھی اھم ھیں۔
    ۱۵۔ شوھر پارلر جاۓ بغیر بھی آپ سے محبت کرتا ھے اور اسے فرق نہیں پڑتا۔
    ۱۶۔ بزرگ ھمارے خاندانی نظام کی ریڑھ کی ھڈی ھیں۔
    ۱۷۔ میڈیا منافقت سے بھرا پڑا ھے اور اسے ذھن سازی کا مستند ادارہ نہ سمجھیں۔
    ۱۸۔ میرا جسم میری مرضی والے سمجھ گئے ھیں کہ ان کا جسم ان کے رب کی مرضی۔

    دنیا یقیناً بدل گئ ھے مگرپاکستان ایک مثبت انداز سے بدلے اور آگے بڑھے گا انشاءاللہ۔

  • لاک ڈاون اور چاروں طرف پھیلا بھوک کا عفریت از فیصل ندیم

    میری زندگی میں اور شائد اس سے بہت پہلے تک دنیا نے ان حالات کا سامنا نہیں کیا کرونا وائرس نے گویا ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اپنی توپوں اور میزائلوں سے دنیا کے بیشمار ملکوں کو تباہ و برباد کردینے والے دنیا کے بڑے بڑے طاقتور ممالک بھی کرونا کے سامنے ڈھیر ہوچکے ہیں امریکہ جسے دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے اس کے سب جدید شہر نیویارک کے جدید ترین ہسپتالوں کے انتہائی قابل ڈاکٹر آنکھوں میں آنسو لئے بے بسی کا اظہار کررہے ہیں ایسے میں پاکستان جیسا ملک بھی جو پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہے کرونا کے خلاف اپنی جنگ لڑنے میں مصروف ہے بیس کروڑ لوگوں کا ملک وسائل کی کمی کے باوجود ہر ممکن کوشش کررہا ہے کہ اپنی عوام کو اس مہیب خطرے سے بچایا جاسکے اس مقصد کیلئے ملک کے کونے کونے میں قرنطینہ سینٹر اور آئسولیشن وارڈز بنائے گئے ہیں لیکن چونکہ یہ مرض افراد میں ایک سے دوسرے میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے اس لئے ضروری تھا کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے دور رکھا جائے ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس حوالہ سے مسلسل اقدامات کررہی ہیں مساجد مندر چرچ تعلیمی ادارے شاپنگ سینٹرز ہوٹل ریستوران کارخانے کاروبار پبلک ٹرانسپورٹ جہاز ٹرین سب ہی بند کیا گیا ہے یہ ٹھیک ہے سماجی فاصلہ رکھنا اس مہلک بیماری کا شکار ہونے سے بچنے کیلئے ضروری ہے اور اس کیلئے یہ سب اقدامات بھی ضروری ہیں لیکن ان اقدامات سے ایک اور بہت بڑا خطرہ جنم لے رہا ہے یہ وہی خطرہ ہے جس کی جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب بار بار اشارہ کرتے رہے ہیں اور وہ ہے بھوک ۔۔۔۔

    ہر طرح کا کاروبار زندگی مفلوج ہونے سے مزدور طبقہ تو فوری طور پر بری طرح متاثر ہوگیا اور بیروزگاری کے پہلے دن سے روز کمانے اور روز کھانے والے لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے لیکن زیادہ بڑا مسئلہ گزرتے دنوں کے ساتھ سفید پوش طبقہ بھی بیروزگاری کا عفریت تلے دب کر روزی روٹی کی تنگی کا شکار ہونا ہے بھوک کے اس مرض میں مبتلا لوگوں کی تعداد لاکھوں نہیں کروڑوں میں ہے
    یہ پاکستان کے عوام کی مستقل بدقسمتی ہے کہ وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام سیاسی قیادت کی موقع اور مفاد پرستی کے سبب درست منصوبہ بندی کے ساتھ کئے گئے دیرپا اور دور رس اقدامات سے ہمیشہ محروم رہے ہیں جس کا نتیجہ ملک میں ہمیشہ اتحاد و اتفاق کے بجائے انتشار و افتراق کی صورت میں نکلتا رہا ہے آج بھی کہ جب ملک اپنی تاریخ کے سب سے بڑے خطرے سے دوچار ہے ہم قومی اتفاق رائے سے محروم ہیں وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی کا زبردست فقدان ہے اس مہیب خطرے سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر زور زیادہ ہے ایسے میں پاکستانی عوام پریشان ہیں کرونا وائرس اور بھوک کے خطرے سے نمٹنے کیلئے کیا راستہ اختیار کریں

    پاکستان کے عوام دنیا میں فلاحی کاموں پر شائد سب سے زیادہ خرچ کرنے والی قوم ہیں اب بھی بیشمار لوگ اس حوالہ سے میدان عمل میں موجود ہیں ماسک سینیٹائزر کھانا اور خشک راشن کی تقسیم کا عمل بھی ہر طرف جاری ہے لیکن اس بار ضرورت شائد اتنی زیادہ ہے کہ روایتی طریقوں سے اس آفت کا مقابلہ ممکن ہی نہیں ہے
    سب سے پہلے ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی اتفاق رائے سے کرونا کے مقابلے کی تحریک کو آگے بڑھائیں انفرادی طور پر کی جانے والی تمام کوششوں کو مربوط کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے کہ مستحق افراد تک کم از کم خوراک ضرور پہنچائی جاسکے آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے پھندوں میں پھنسے ہمارے ملک کیلئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ سارے ملک کو بٹھا کر کھلا سکے اس کار خیر میں مخیر حضرات کو شامل کرنا انتہائ ضروری ہے لیکن سیاستدانوں پر عمومی بد اعتمادی اس کار خیر کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے اس رکاوٹ کو دور کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ لوگ جن کا پاکستان میں عوامی سطح پر احترام کیا جاتا ہے انہیں آگے لاکر ان کے ذریعہ اس کام کو آگے بڑھایا جائے اگلا کام جو اس سے بہت زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ وہ علاقے جو اب تک کرونا سے محفوظ ہیں انہیں پوائنٹ آؤٹ کرکے علیحدہ کیا جائے ان میں بیرونی آمد و رفت کو سوائے اجناس کی ترسیل کے نظام کے بند کیا جائے اور پھر انہیں ہر طرح کی سرگرمی کیلئے کھولا جائے تاکہ کاروبار زندگی کو چلا کر لوگوں کی روزی روٹی کا بندوبست کیا جاسکے تمام بڑے کارخانوں اور فیکٹریز کو کھولا جائے ان میں احتیاط کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کام شروع کیا جائے تاکہ جہاں ہم اپنے لوگوں کو روزگار کی فراہمی کا سلسلہ شروع کرکے بھوک کا مقابلہ کرسکیں وہیں دنیا سے مہنگے داموں اشیائے ضرورت خریدنے کے بجائے اپنے پاس ان کی پروڈکشن شروع کرسکیں یہ طے ہے کہ کرونا وائرس سے نجات دنوں میں ممکن نہیں ہے چین جیسے باوسائل اور جدید ملک کو بھی اس خطرے سے نمٹتے چوتھا مہینہ ہے تو ہم جیسے معاشی طور پر کمزور اور غریب ملک کو شائد اس خطرے سے نمٹنے کیلئے زیادہ وقت درکار ہوگا اس لئے یہ ممکن نہیں کہ سارے ملک کو بند رکھ کر ملک میں بھوک سے بدحال لوگوں کا جم غفیر جمع کرلیا جائے اللہ نہ کرے بھوک کے بڑھنے سے ملک افراتفری اور انتشار کی طرف بھی جاسکتا ہے اگر ایسا ہوا تو یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہوگی جان لیجئے قیادت کی اہلیت کا اصل اندازہ ہمیشہ مشکلات میں ہوتا ہے اس لئے بہت ضروری ہے کہ اس کڑے وقت میں ملکی اور صوبائی قیادت اپنے اوسان قابو میں رکھے اپنی عمومی سیاسی ضروریات سے قطع نظر ہوکر ایسے اقدامات کرے جن سے پاکستان اور اس کی عوام کا تحفظ ممکن ہو پاکستانی قوم کو بھی اس وقت میں ایک قوم ہونے کا ثبوت دینا ہوگا ذاتی اور انفرادی مفادات سے آگے بڑھ کام کرنا ہوگا اپنے اردگرد موجود اپنے ضرورت مند پاکستانی بھائیوں کی بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب مدد کرنا ہوگی مجھے کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہم نے کامیابی کے ساتھ اس عظیم خطرے کا مقابلہ کرلیا تو ہمیں ایک عظیم قوم بننے سے کوئی نہیں روک پائے گا

    خیر اندیش
    فیصل ندیم