Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • قوم کرونا سے لڑرہی ہے، شریف برادران نے اپنی توپوں کا رخ حکومت کی طرف کردیا،عالمی میڈیانے بھی اس رویے پرافسوس کا اظہارکردیا

    قوم کرونا سے لڑرہی ہے، شریف برادران نے اپنی توپوں کا رخ حکومت کی طرف کردیا،عالمی میڈیانے بھی اس رویے پرافسوس کا اظہارکردیا

    لاہور:قوم کرونا سے لڑرہی ہے، شریف برادران نے اپنی توپوں کا رخ حکومت کی طرف کردیا،کہیں باپ تو کہیں بیٹا الزام لگانے لگا،اطلاعات کےمطابق دنیا بھر کی طرف کرونا وائرس پاکستان میں بھی تباہی پھیلائے ہوئے ہے ، جس طرح دنیا کی بڑی بڑی مضبوط معاشی قوتیں اس وائرس کے سامنے ڈھیراوربے بس ہوگئیں ایسے ہے کمزورملکوں کو بھی اس نے بہت متاثرکیا ہے،عالمی میڈیا نے بھی کرونا کے خلاف قومی اتفاق کو پارہ پارہ کرنے کے اس عمل پرنہ صرف تنقید کی ہے بلکہ دکھ کا اظہاربھی کیا ہے،

    https://gulfnews.com/world/asia/pakistan/in-the-time-of-coronavirus-pakistans-media-is-playing-politics-politics-1.1585289943755
    باغی ٹی وی کےمطابق پاکستانی قوم سمیت دنیا کرونا وائرس کےخلاف جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں ، اس جدوجہد میں حکومت ، عوام اورادارے سب مل کراس آفت کے سامنے بندھ باندھنے کی کوشش کررہے ہیں ، پاکستانی قوم کی اس جدوجہد کوعالمی ادارے بہت پسند کررہے ہیں

    باغی ٹی وی کےمطابق کرونا وائرس کے خلاف دنیا بھرمیں تمام ملکوں کی حکومتیں ، اپوزیشن ، تمام سیاسی جماعتیں بلاتفریق مل کراس کےخلاف مزاحمت کررہے ہیں، حتی کہ کرونا نے یہودی مسلم سب ایک کردیئے اورصدیوں کے دشمن ایک دوسرے کے خیرخواہ بن گئے ہیں وہاں پاکستان میں صورت حال اس کے برعکس ہے ،

    پاکستان میں اس وقت ایک طرف عوام ، حکومت اورادارے مل کرکرونا وائرس کے خلاف مزاحمت کررہےہیں‌اورایک دوسرے کے حوصلے بلند کررہے ہیں ، وہیں پاکستان کی ایک سیاسی جماعت ن لیگ حکومت کے خلاف نفرت ، غصے اور تنقید کے بھرے گولے داغ رہی ہے،

    حکومت کے خلاف یہ محاذ آرائی باقاعدہ ایک مہم کی شکل اختیار کرگئی ہے، اس محاذ آرائی کا آغازپاکستان میں حزب مخالف رہنما میاں شہباز شریف نے کیا ، اورآتےہی حکومت کے خلاف اس مشکل وقت میں جب اتحاد واتفاق کی ضرورت تھی نفرت اورمخالفت کا ایک سلسلہ شروع کردیا ، یہ سلسلہ وسیع سے وسیع ترہوتا جارہا ہے جس کے پیچھے لندن میں بیٹھے بیمارسابق وزیراعظم نوازشریف کی منصوبہ بندی شامل ہے،

    حکومت کےخلاف کہیں خواجوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ، کہیں خواجہ آصف تو کہیں خواجہ سعد رفیق حکومت اورقوم کے اس اتفاق کےدوران سخت تنقید کررہے ہیں ،

    ادھر تازہ ترین اطلاعات کےمطابق پاکستانی سیاست میں پہلے شہباز شریف نے آتے ہی مشکل کے اس دور میں نفرت بھری سیاسی تنقید کی بنیاد رکھی تو اب ان کے مفرور صاحبزارے سلیمان شہبازنے اپنے باپ کے نقش قدم پرچلتے ہوئے چلتی پرتیل چھڑکنے کا کام کیا اورقومی اتفاق رائے کے اس ماحول کو پارہ پارہ کرنے کی کوشش کی ، سلیمان شہبازپاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاو کا ذمہ داروزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری کو قرار دے رہے ہیں

    سلیمان شیباز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپراپنا پیغام داغتے ہوئے کہا کہ تفتان بارڈرذلفی بخاری نہ کھلواتے تو کرونا وائرس کے مریض پاکستان نہ آتے ، لیکن شاید سلیمان شہباز جان بوجھ کرآنکھیں اورکان بند کئے ہوئے ہیں کہ مان لیا جائے کہ اگرپاکستان میں یہ وائرس ذلفی بخاری کی وجہ سے آیا ہے تو امریکہ ، برطانیہ ، روس اوردنیا بھر میں یہ وائرس پھر کس کی وجہ سے ایا ہے ،سلیمان شہباز ٹویٹ کرتے ہوئے کہتے ہیں

     

    ادھرگلف نیوز نے عالمی ذرائع ابلاغ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہےکہ جس وقت حکومت پاکستان کرونا کے خلاف لڑرہی تھی تو اس وقت پاکستانی میڈیا سیاست سیاست کھیل رہا تھا ، گلف نیوز نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو پاکستانی میڈیا کو کرونا وائرس کے حملوں کے دوران سیاستدانوں کی زبان بولنے بھی بہت دکھ ہے ، یہ وقت مل کرکروناکے خلاف لڑنے کا ہے ناں کہ اپنے مقدمات ختم کروانے کے لیے کرونا کے نام پرسیاست اورسیاست کےذریعے ذاتی مفادات کا حصول ہے

     

    https://gulfnews.com/world/asia/pakistan/in-the-time-of-coronavirus-pakistans-media-is-playing-politics-politics-1.1585289943755

  • دیگرشعبوں کی طرح پاکستانی یونیورسٹیزبھی کرونا کےخلاف مزاحمت کے میدان میں سرگرم

    دیگرشعبوں کی طرح پاکستانی یونیورسٹیزبھی کرونا کےخلاف مزاحمت کے میدان میں سرگرم

    کورونا کی وبا کے خاتمے کےلیے پاکستانی یونیورسٹیوں کے کردار سے کون واقف نہیں ، ہاں اگرفواد چوہدری کی یہ عادت مبارک ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں میں نقص تلاش کرتے رہتے ہیں ،لیکن میں چوہدری صاحب کے گوش گزارکردیتا ہوں کہ پاکستانی یونیورسٹیوں نے کرونا کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے باہمی تعاون کی کوششیں بہت پہلے سے شروع کردی تھیں۔ یونیورسٹیوں کے کردارسے متعلق ترجمان کاشف ظہیرکمبوہ نے اس حوالے سے ساری حقیقت کوواضح کردیا ہے

    15 مارچ 2020 کی رات10 بجے جناب ریحان یونس ایگزیکٹو ڈائریکٹر یونیورسٹی آف سیالکوٹ (یو ایس کے ٹی) نے ڈائریکٹر اورک ، یونیورسٹی آف سیالکوٹ کو فون کیا کہ وہ کورونا وائرس کی وبا کے متعلق کچھ اہم اقدامات کا ارادہ رکھتے ہیں اوراس اہم کام کے لیے دوسرے ماہرین تعلیم اور اسٹیک ہولڈرز کو بھی ساتھ ملایں ۔ اور اس کے بعد یونیورسٹیز میں موجود مختلف سائنسدانوں، ریسرچرز اور پروفیشنل پالیسی لابنگ کرنے والے افراد پر مشتعمل ایک مضبوط گروپ تشکیل پانا شروع ہوا۔

    اگلے 02 گھنٹوں میں ، رات 12 بجے تک ، رفاہ انسٹیٹیوٹ اف پبلک پالیسی، رفاہ یونیورسٹی ، قائداعظم یونیورسٹی ، یونیورسٹی آف بلوچستان ، یونیورسٹی آف سیالکوٹ ، پنجاب یونیورسٹی ، پی یو ایم این ایچ اور دیگر اداروں کے 20 سے زائد سائنس دان مل کر تبادلہ خیال کر رہے تھے ، اور اس پر عملدرآمد کے لئے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ اس کمیونٹی کے بہت سے اقدامات سامنے آئے جس سے COVID19 کا مقابلہ کرنے کے طریق کار پر ذہن سازی ہوئی۔ وہ خاموش فوجیوں کی طرح دن میں 18 گھنٹے کام کر رہے ہیں لیکن اب ان کی آواز بڑے پیمانے پر سنائی دیتی ہے۔

    فواد چوہدری صاحب ( وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی) نے گذشتہ روز ٹویٹ کیا کہ یونیورسٹیز کرونا کے خلاف آگے نہیں آرہیں۔ اس بات کا جواب دیتے ہوئے کنسورشیم کے فوکل پرسن اور رفاہ یونیورسٹی کے فکلیٹی ممبر کاشف ظہیر کمبوہ نے کنسورشیم کی خدمات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بہت اہم کام کئیے ہیں۔

    ہماری ٹیمز نے مارکیٹس کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ مارکیٹ میں سینٹایزر کے حوالے سے دھوکہ دہی کی جا رہی تھی۔اینٹی وائرس سینی ٹائزر میں 70 فی صد ایتھانول ہونا چاہیے۔ لیبل پر 70 فیصد ایتھانول کے فعال اجزاء دکھائے جانے والے سینٹایزر بنانے اور فروخت کرنے میں مارکیٹ میں کوئی برانڈ نہیں تھا۔ سائنس دانوں نے اس مسئلے کی نشاندہی کی ، تحریری حکمت عملی کی تجویز پیش کی اور اس پیغام کو پھیلاتے ہوئے متعلقہ اداروں کو احساس دلایا کہ کم معیار اور حفظان صحت کے اصولوں کےخلاف بنانے گئے ان برانڈز کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔ جس کی وجہ سے اب کچھ برانڈز نے لیبل پر 70 فیصد فعال مواد لکھنا شروع کردیا ہے۔ لیکن ابھی بھی دھوکہ دہی جاری ہے۔

    یونیورسٹیز کے رابطے میں سٹوڈنٹس کو عوام تک یہ پیغام پہنچانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ یہ شعور دیا گیا کہ ایتھنول یا آئی پی اے جیسے 70 فیصد فعال اجزا لیبل پر درج نہ ہونے والے سینیٹائزر نہیں خریدنا چاہئے۔ کیونکہ یہ ڈبلیو ایچ او اور ایف ڈی اے کے رہنما اصول ہیں۔

    کرونا کے بارے میں درست معلومات کا فقدان تھا۔

    سائنس دانوں نے اس امر کو سمجھا کہ کورونا کے بارے میں گردش کرنے والی زیادہ تر معلومات غلط ہیں۔ سائنس دانوں نے رضاکارانہ طور پر مستند معلومات کی تصدیق کی جو اب عوام کو بتائ جارہی ہیں۔ ہزاروں افراد نے اس قابل اعتماد ذریعہ سے آنے والی معلومات پر اعتماد کرنا اور ان کی تشہیر کرنا شروع کردیا۔ سائنسدانوں کی زیر نگرانی معلومات کو فیس بک پیج, ٹویٹر ، انسٹاگرام اور وٹس ایپ کےذریعے شیئر کیا جا رہا ہے۔ مزید براں اس کے علاوہ معلومات کو شیئر کرنے سے پہلے لوگ اب تصدیق کے لیے اس گروپ کو معلومات بھیجتے ہیں۔

    لوگوں کو سائنس دانوں کے اس گروپ کے ذریعہ یا صرف مستند ذرائع سے مستند معلومات تک رسائی حاصل کرنا چاہئے۔

    ڈاکٹر صاحبان کے لیے ایپ کی تیاری ایک بہت ہی ضروری عمل تھا۔

    ہم نے جب مختلف شہروں میں موجود ڈاکٹروں سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر ایک دوسرے کے ساتھ منسلک
    نہیں ہیں اور وہ تجربات کا تبادلہ کرنے اور دستیاب مریضوں کی ہسٹری سے نتائج حاصل کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

    یو نیورسٹی آف سیالکوٹ کے ڈاکٹر صبیح کی نگرانی میں ترقیاتی ٹیم کے ایک گروپ نے میڈیکل ڈاکٹروں کی نگرانی میں اینڈروئیڈ ایپ تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اور اس پر کام شروع کیا گیا ہے اور 1-2 دن میں تمام ڈاکٹر ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیالات کرسکیں گے۔

    پوری دنیا میں وینٹیلیٹر کی دستیابی سب سے بڑا مسئلہ ہے

    پوری دنیا میں اموات کی ایک بڑی وجہ وینٹیلیٹروں کی کمی ہے۔ مقامی وینٹیلیٹروں کی تیاری کے لئے سائنسدانوں کی ایک ٹیم تیار کی گئی ہے ۔ سیالکوٹ میں جراحی کے آلات تیار کرنے والی ایک بڑی کمپنی نے سرمایہ کاری پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس وجہ سے قابل عمل ڈیزائن سامنے آئے ہیں۔ یونیورسٹی آف سیالکوٹ ، پٹاک ، سرگودھا انڈسٹری اور قائداعظم یونیورسٹی کی ٹیم ایک پروٹو ٹائپ وینٹی لیٹر کو تیزی سے بنانے کے لئے دن رات کام کر رہی ہے۔

    اسی طرح کے نظریات پر کام کرنے والی دوسری ٹیموں کو بھی مقامی وینٹیلیٹر بنانے کے لئے اس میں شامل ہونے کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔

    پٹاک PITAC ابتدائی طور پر پنجاب حکومت کے جزوی لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند تھا۔ انجیر عرفان جو کے ڈائریکٹر پٹاک PITAC ہیں نے ذاتی کوششیں کیں اور پروٹو ٹائپ کی تیاری میں آسانی کے لئے پٹاک PITAC کو جزوی طور پر کھول دیا۔

    پٹاک PITAC تمام سائنس دانوں کو اور جدید نظریات کو جو وینٹلیر کے پروٹو ٹائپ بنانے میں مدد گار ہیں کا خیرمقدم کرتا ہے اور ہر قسم کی دستیاب سہولیات کی فراہمی کا یقین دلاتا ہے۔

    رضاکار وں کی ٹیم کی تیاری

    ایک اور عظیم اقدام جیسے کے وزیراعظم نے ہر ضلع میں شدید بحران کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک ٹیم ٹائیگر فورس تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یونیورسٹی آف سیالکوٹ نے اپنے 1000 سے زاید سابق طلباء اور دیگر نوجوانوں پر مشتمل ایک ٹیم بنائی ہے۔ جو کے کورونا سے متعلق عوامی خدمات کے لئے تربیت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کامیاب ماڈل کے بعد یہ ماڈل دوسرے اضلاع میں بھی تیار کیا جائے گا۔ اسی طرز پر دوسری یونیورسٹیز بھی والنٹیرز پروگرام شروع کرنے جارہی ہیں۔

    آن لائن تعلیم کا نظام

    یونیورسٹی آف سیالکوٹ نے اپنا انتظامی نظام LSM تیار کیا ہے جو بہت ہی صارف دوست ہے۔ اسی طرح رفاہ یونیورسٹی نے آن لائن نظام معلم تیار کیا ہے۔ یونیورسٹیز کے نظام کی بدولت اساتذہ اور طلبہ گھر سے آن لائن درس و تدریس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ یہ نظام اب دوسرے اداروں اور تنظیموں کو پیش کیا گیا ہے تاکہ تعلیم کا عمل چلتا رہے۔

  • 700قیدیوں کی رہائی، وزارت قانون نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پرکیا جواب دیا ؟کہ قیدی بھی خوش ہوگئے

    700قیدیوں کی رہائی، وزارت قانون نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پرکیا جواب دیا ؟کہ قیدی بھی خوش ہوگئے

    اسلام آباد:700قیدیوں کی رہائی، وزارت قانون نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پرکیا جواب دیا ؟کہ قیدی بھی خوش ہوگئے ،اطلاعات کےمطابق وزارت قانون نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے دیے گئے حکم کے مطابق 700 قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کے حکم کی توثیق کردی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے حکم پر عملدرآمد کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اس عدالت کی حدود میں جن قیدیوں کے مقدمات زیر التوا ہیں وہ راولپنڈی جیل میں قید ہیں۔انہوں نے کہا کہ جیل میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہیں اور وہاں کی حالت بہت خراب ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نےکہا کہ بہت سارے قیدیوں کی عدالت تک رسائی نہیں کیونکہ وہ وکیل کی پیشہ ورانہ خدمات کاخرچ نہیں اٹھا سکتے، اکثر کو جیل میں نہیں ہونا چاہیے تھا، یہ عدالت کی آئینی ذمے داری ہے کہ وہ آئینی حقوق کی حفاظت یقینی بنائے، ہمیں قیدیوں کی بہبود خصوصاً ان کی زندگی کے حوالے سے تحفظات ہیں۔

    تاہم جب ہائی کورٹ کے علم میں یہ بات لائی گئی کہ قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ نے 5رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے تو اسلام ہائی کورٹ نے اپنے ہی حکمنامے پر عملدرآمد کو خود ملتوی کردیا۔

    چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایک انگریزی روزنامہ میں شائع خبر کا حوالہ دیا جس میں کہا تھا کہ حکومت قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے حکمنامے سے خوش نہیں اور سیکریٹری قانون خشی الرحمٰن سے دریافت کیا کہ آیا یہ خبر درست ہے یا نہیں۔

    خشی الرحمٰن نے کہا کہ یہ خبردرست نہیں ، انہوں نے کہا کہ حکومت کو گنجائش سے زائد قیدیوں کی حامل جیلوں سے قیدیوں کی رہائی پر کوئی اعتراض نہیں ۔جسٹس اطہر من اللہ نے سیکریٹری قانون کو ہدایت کی کہ وہ قانون کی عملداری یقینی بنانے کے حوالے سے لیے گئے اقدامات پر رپورٹ جمع کرائیں

  • وزیراعظم کی اہلیہ خاتون اول کرونا وائرس سے صحت یاب ہوگئیں

    وزیراعظم کی اہلیہ خاتون اول کرونا وائرس سے صحت یاب ہوگئیں

    کینیڈا :وزیراعظم کی اہلیہ خاتون اول کرونا وائرس سے صحت یاب ہوگئیں ،اطلاعات کےمطابق کورونا وائرس میں مبتلا کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی اہلیہ صوفی ٹروڈو صحتیاب ہو گئیں۔

    چند روز قبل کینیڈین وزیر اعظم کی اہلیہ صوفی ٹروڈو کا کورونا وائرس کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا جس کے باعث انہوں نے خود کو آئسولیشن میں رکھ لیا تھا اور ان کی وجہ سے جسٹن ٹروڈو نے بھی خود کو محدود کر لیا تھا۔

    تاہم اب سوشل میڈیا پر کینیڈین خاتون اول نے خوشخبری سنائی ہے کہ انہیں کورونا وائرس سے نجات مل گئی ہے اور وہ صحتیاب ہو گئی ہیں۔انہوں نے اپنی فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ مجھے میرے ڈاکٹر اور اوٹاوا پبلک ہیلتھ کی جانب سے کلیئر قرار دے دیا گیا ہے اور اب میں اچھا محسوس کر رہی ہوں۔

    کینیڈین خاتون اول نے تہہ دل سے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔کورونا وائرس کی لپیٹ میں نہ صرف عام افراد ہیں بلکہ مشہور شخصیات میں بھی اس کی شکایت پائی جا رہی ہے۔

  • کورونا کے باعث لاک ڈاؤن: دنیا بھر میں گھریلو تشدد میں اضافہ،کہیں خاوند ذمہ دار تو کہیں بیوی قصوروار

    کورونا کے باعث لاک ڈاؤن: دنیا بھر میں گھریلو تشدد میں اضافہ،کہیں خاوند ذمہ دار تو کہیں بیوی قصوروار

    لندن :کورونا کے باعث لاک ڈاؤن: دنیا بھر میں گھریلو تشدد میں اضافہ،کہیں خاوند ذمہ دار تو کہیں بیوی قصوروار،اطلاعات کےمطابق کورونا جیسی وبا سے بچنے کے لیے لاک ڈاؤن کیے جانے کی وجہ سے دنیا بھر میں دیگر مسائل سامنے آنے لگے ہیں اور ایسے مسائل میں شادی شدہ جوڑوں کے درمیان علیحدگی سمیت گھریلو تشدد میں اضافہ بھی شامل ہے۔

    دنیا کے مختلف ممالک سے آنے والی رپورٹس کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے باعث گھریلو تشدد اور خاص طور پر خواتین پر تشدد کے واقعات میں حیران کن اضافہ دیکھا گیا۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد یورپ میں گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

    رپورٹ میں برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر ممالک میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے ساتھ ہی گھریلو تشدد کی رپورٹس میں 30 فیصد تک اضافے کا دعویٰ کیا گیا۔خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں برطانیہ کے مختلف عہدیداروں، سماجی تنظیموں اور صحت کے عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف برطانیہ میں ہی لاک ڈاؤن کے دوران 30 فیصد گھریلو تشدد میں اضافہ ہوا۔

    برطانوی اخبار دی گارجین نے اپنی خصوصی رپورٹ میں بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران چین سے لے کر فرانس اور اٹلی سے لے کر اسپین جب کہ جرمنی سے لے کر برازیل جیسے ممالک میں گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھا گیا۔رپورٹ میں چین میں گھریلو تشدد کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیموں اور رضاکاروں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ لاک ڈاؤن کے دوران چین مین گھریلو تشدد میں حیران کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق کورونا سے چین کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے ہوبے میں ہی لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد کی رپورٹس میں تین گنا اضافہ دیکھا گیا جب کہ وہاں ہونے والے گھریلو تشدد کے 90 فیصد واقعات کا تعلق کسی نہ کسی طرح کورونا وائرس سے ہی منسلک تھا۔

    رپورٹ میں برازیلی نشریاتی ادارے کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ برازیل میں بھی کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہونے کے بعد گھریلو تشدد کے واقعات میں 40 سے 50 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور تشدد کا سب سے زیادہ شکار خواتین ہو رہی ہیں جب کہ اس سے بچے بھی محفوظ نہیں۔برازیل میں سب سے زیادہ تشدد کے کیس سب سے بڑے شہر ریوڈی جنیرو سے سامنے آئے۔

    اسی طرح رپورٹ میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات والے ملک اٹلی میں بھی حیران کن طور پر گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھا گیا اور کئی ایسے علاقوں سے تشدد کی زیادہ رپورٹس سامنے آئیں جہاں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد زیادہ ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اٹلی کے علاقے کیٹالان میں ہی صرف گھریلو تشدد کی شکایات میں 20 فیصد جب کہ سائپرس میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق اگرچہ اٹلی سے گھریلو تشدد کی شکایات کے حوالے سے ہاٹ لائن پر فون کم آ رہے ہیں تاہم خواتین موبائل پیغامات اور ای میل کے ذریعے تشدد کی شکایات کر رہی ہیں اور خواتین نے لاک ڈاؤن میں تشدد کی وجہ سے خود کو واش رومز تک بند کرکے اپنی حفاظت کی ہے۔

    اٹلی کی طرح اسپین میں بھی جہاں کورونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، وہیں وہاں گھریلو تشدد میں بھی لاک ڈاؤن کے دوران اضافہ دیکھنے میں آیا اور حکومت کو گھریلو تشدد کی شکار خواتین کے لیے لاک ڈاؤن کو نرم کرنا بھی پڑا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ اسپین میں انتہائی سخت لاک ڈاؤن نافذ ہے تاہم حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کسی بھی گھریلو تشدد کا شکار خاتون کو لاک ڈاؤن میں بھی گھر سے نکلنے کی مکمل اجازت ہے۔

    اسپین میں تو گھریلو تشدد کے باعث خواتین کے قتل کی رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں۔اٹلی، اسپین، چین و برازیل کی طرح فرانس میں بھی گھریلو تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور حکومت کے مطابق لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد ملک میں گھریلو تشدد کے واقعات میں 30 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔

    فرانس میں بھی جہاں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، وہیں حکومت کو گھریلو تشدد کے بڑھتے واقعات کا بھی سامنا ہے اور وہاں گھریلو تشدد کا شکار بننے والی خواتین کی عمریں 18 سے 75 سال تک ہیں۔

    دی گارجین کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران گھریلو تشدد بڑھنے کا واقعہ برازیل و چین تک ہی محدود نہیں بلکہ گھریلو تشدد میں اضافہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس جیسے ممالک میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں سیاستدان اور حکومتی شخصیات اس ضمن میں مزید قوانین بنانے کی باتیں بھی کر رہے ہیں۔یورپی ممالک کی طرح بھارت سے بھی لاک ڈاؤن کے درمیان گھریلو تشدد اور خاص طور پر خواتین پر تشدد کے واقعات کی رپورٹس میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

    لاک ڈاؤن کے درمیان گھریلو تشدد کو روکنے کے لیے برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے سیاستدان حکومت سے خصوصی قوانین نافذ کرنے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ایک طرف تو دنیا کے درجنوں ممالک کورونا جیسی وبا سے نمٹ رہے ہیں، وہیں لوگوں کو گھروں تک محدود رکھنے کے احکامات کے بعد دنیا کے کئی ممالک گھریلو تشدد، خاندانی تباہی یعنی طلاقوں جیسے بڑھتے واقعات سے بھی نمٹ رہے ہیں۔

  • اس بار نئے اور خفیہ دشمن سے پالا پڑا ہے، احتیاط سے شکست دینی ہوگی، فیصل بخاری

    اس بار نئے اور خفیہ دشمن سے پالا پڑا ہے، احتیاط سے شکست دینی ہوگی، فیصل بخاری

    پشتو کی ایک کہاوت ھے "پہ جنگ کے مڑی کیگی” جس کا اردو ترجمہ "جنگ میں لوگ مرتے ھیں!” ھم سب اس وقت حالت جنگ میں ھیں اور دشمن پوشیدہ اور نیا ھے۔ کوئ حکومت چاھے جتنی بھی طاقتور، وسائل سے لیس ھو اس جنگ سے تنہا نہیں لڑ سکتی۔ یہ ھر شخص اور ھر انسان کی جنگ ھے۔ الحمدلللا ھم اشیاۓ خورد و نوش میں خود کفیل ھیں اور یہ ان حالات میں احسان خداوندی ھے۔

    ھمیں صرف مضبوط، متحد اور مثبت رھنا ھے اور ھر اس بات کی پابندی کرنی ھے جو حکومت اور ریاست کہہ رھی ھے۔ گھروں سے نہ نکلنا ھمارا احسان نہیں بلکہ قانونی اور شرعی ذمہ داری ھے اور اس کی خلاف ورزی قانون اور احادیث کی خلاف ورزی ھے۔ یہ ھمارے ضعیف والدین اور معاشرے کے بزرگوں اور عمر رسیدہ لوگوں کے لئے ھے۔ ھمارے بچوں کے لئے ھے۔ ھم ایک بہادر قوم ھیں اور انشاءاللہ اس عذاب سے نکلنے والی پہلی قوموں میں ھوں گے۔ یاد رکھیں یہ کوئ جھڑپ یا لڑائ نہیں ھے بلکہ ایک بہت بڑی جنگ ھے۔ اس جنگ کے لئے ذھنی طور پر تیار رھیں کیونکہ یہ دنوں اور ھفتوں کی نہیں مہینوں پر محیط ھو گی۔ ھم نے دھشتگردی کے خلاف ایک دھائ کی جنگ جیتی ھے۔ وھاں بھی دشمن ھمارے اپنے درمیان پوشیدہ تھا۔ مگر ھم نے اسے مل کر شکست دی۔ ایک لاکھ جانیں گنوائیں مگر گھبراۓ نہیں اور دنیا کو جیت کر حیران کر دیا۔

    مضبوط رھیں۔ مثبت رھیں۔ گھر پر رھیں۔ ھاتھ دھوئیں۔ اپنے پیاروں سے جڑے رھیں۔ سلامت رھیں۔ ایمان اتحاد اور تنظیم کی جو تلقین ھمیں کی گئ تھی آج بس انہی تینوں چیزوں کی ضرورت ھے۔ خصوصاً تنظیم ہعنی ڈسپلن۔ اللہ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔

    (فیصل بخاری )

  • قرنطینہ قرار دیئے گئے تبلیغی مرکز میں مسلح شخص نے  پولیس آفیسرپرچاقوسے حملہ کردیا

    قرنطینہ قرار دیئے گئے تبلیغی مرکز میں مسلح شخص نے پولیس آفیسرپرچاقوسے حملہ کردیا

    لیہ :قرنطینہ قرار دیئے گئے تبلیغی مرکز میں مسلح شخص نے پولیس آفیسرپرچاقوسے حملہ کردیا ،طلاعات کےمطابق صوبہ پنجاب کے ضلع لیہ میں قرنطینہ قرار دیئے گئے تبلیغی مرکز میں موجود ایک شخص نے حملہ کر کے پولیس افسر کو زخمی کر دیا۔

    پولیس ترجمان ندیم ملک کے مطابق قرنطینہ مرکز میں موجود تبلیغی جماعت کے کارکن عبدالرحمان نے بھاگنے کی کوشش کی جسے ایس ایچ او نے پکڑا جس پر اس نے چاقو سے وار کر کے پولیس افسر کو زخمی کر دیا۔

    پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ زخمی ایس ایچ او کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ڈاکٹرز نے بتایا کہ ان کے سینے اور پیٹ پر چاقو کے گہرے زخم آئے ہیں۔

  • کرونا کی افرا تفری نے بہت لوگ بے نقاب کر دئیے،فیصل بخاری

    کرونا کی افرا تفری نے بہت لوگ بے نقاب کر دئیے،فیصل بخاری

    جب ٹائٹینک TITANIC جہاز ڈوب رھا تھا تو اس میں چار طرح کے لوگ سوار تھے:
    ۱۔ امیر ترین لوگ جنہوں نے ٹکٹ کے ساتھ ھی حفاظتی جیکٹ اور ریسکیو والی کشتیوں کا بندوبست کررکھا تھا۔
    ۲۔ مڈل کلاس جنہوں نے کم از کم حفاظتی جیکٹس کا بندوبست کر رکھا تھا۔
    ۳۔ غریب ترین مزدور مفرور اور معتوب طبقہ جن کی اکثریت تھی مگر کسی تباھی سے بچاؤ کا کوئ سلسلہ نہیں تھا ان کے پاس۔ ان کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔
    ۴۔ اس جہاز کا اپنا عملہ اور کپتان جن کی ڈیوٹی ان تمام مسافرو ں کو بچانا تھا اور آخر دم تک جہاز سے نہ کودنا ان کی ذمہ داری تھی۔

    ھمارےمعاشرہ میں آج کل کے بحران میں کیا آپ کو من و عن یہی تفریق نظر نہیں آ رھی؟ ماریہ بی پہلے طبقہ کی روشن مثال ھے۔ ھم سب فیس بک اور ٹویٹر والے دوسرے طبقہ سے تعلق رکھتے ھیں۔ جبکہ دھاڑی والا ریڑھی والا مزدور تیسرا طبقہ ھے۔ جمھوریت میں اکثریت ترجیح ھوتی ھے مگر یہاں الٹ نظام چل رھا ھے۔
    آخری طبقہ آپ کی حکومت اور سرکاری ملازم، افواج، پولیس اور ڈاکٹر نرس اور تمام لوگ ھیں جو جہاز سے نہیں کودیں گے آخری دم تک۔ کہتے ھیں اگر افراتفری نہ ھوتی اور تقسیم متوازن ھوتی تو شاید اتنی جانوں کا ضیاں نہ ھوتا۔ بے شک جہاز نے ڈوبنا تھا۔ بے شک لوگوں نے مرنا تھا مگر اس سانحہ کو تاریخ طبقاتی ناانصافی کے حوالے سے یاد رکھتی ھے۔

    میرے بہت پیارے دوست اس افراتفری میں میری نظروں میں ایکسپوز ھوے ھیں۔ بزدلی، نفرت اور تقسیم کا اظہار کر رھے ھیں۔ اگر آپ کو یاد ھو تو اس جہاز پر ایک گروپ وائلن بجانے والا بھی تھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ آخری سانس تک وائلن بجائیں گے تاکہ لوگوں میں امید پیدا ھو۔ مجھے وہ وائلن والا سمجھ لیجئے۔ آئیں اپنا اپنا وائلن اٹھائیں اور لوگوں کی ھمت باندھیں!!

    (فیصل بخاری)

  • کورونا وائرس نامور بھارتی اداکارہ دیونکا ترپاٹھی  کے گھرکیسے پہنچا ،اداکارہ نے اپنے دروازے کی دہلیز پرکیا لکھا،ضرورجانیں

    کورونا وائرس نامور بھارتی اداکارہ دیونکا ترپاٹھی کے گھرکیسے پہنچا ،اداکارہ نے اپنے دروازے کی دہلیز پرکیا لکھا،ضرورجانیں

    نئی دہلی :کورونا وائرس نامور بھارتی اداکارہ دیونکا ترپاٹھی کے گھرکیسے پہنچا ، خبرنے ڈرا دیا ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ٹی وی اداکارہ دیونکا ترپاٹھی کے بھائی کرونا وائرس کا شکار ہوگئے، انہوں نے اپنے گھر کے باہر کووڈ 19 ڈو ناٹ وزٹ کا نوٹس چسپاں کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق بھارتی اداکارہ دیونکا ترپاٹھی کے بھائی ایشوریہ ترپاٹھی کو کورونا وائرس کے باعث ہوم کورنٹائن کیا گیا ہے، ایشوریہ ترپاٹھی انڈیگو ائیرلائنز میں پائلٹ ہیں جو کچھ روز قبل ہی بھوپال پہنچے تھے۔ ایشوریہ کئی ملکوں کا سفر کرچکے ہیں۔

    بھارت پہنچنے پر کورونا کی علامات ظاہر ہوئیں جس کے بعد انہوں نے اپنا ٹیسٹ کروایا جس کی رپورٹ مثبت آئی ہے، اس سلسلے میں دیونکا ترپاٹھی کے گھر کے باہر “کووڈ 19 ڈو ناٹ وزٹ”کا نوٹس چسپاں کردیا گیا ہے۔ دیویانکا کاکنبہ چونا بھٹی علاقہ میں رہتا ہے۔

  • ’چین نے پبلک ہیلتھ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا‘چین اورپاکستان ، دو جسم یک جان،ڈاکٹرظفرمرزا

    ’چین نے پبلک ہیلتھ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا‘چین اورپاکستان ، دو جسم یک جان،ڈاکٹرظفرمرزا

    اسلام آباد:’چین نے پبلک ہیلتھ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا‘چین اورپاکستان ، دو جسم یک جان،ڈاکٹرظفرمرزا کے تاریخی بیان نے پاکستانیوں کے حوصلے بلند کردیئے ،اطلاعات کےمطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ صحیح وقت پر بہترین اقدامات کر کے چین نے کورونا کی وبا پر قابو پایا اور پبلک ہیلتھ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔

    گزشتہ روز چین سے ہزاروں کورونا ٹیسٹنگ کٹس اور ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم اسلام آباد پہنچی تھی جن کا استقبال وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کیا تھا۔آج چینی ڈاکٹرز کے وفد نے قومی ادارہ برائے صحت کا دورہ کیا جن کے ہمراہ چین میں تعینات پاکستانی سفیر بھی موجود تھے۔

    ترجمانِ وزارتِ صحت کے مطابق اس موقع پر چینی ڈاکٹرز کے وفد نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا سے ملاقات کی جس میں انہیں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حکومت پاکستان بھرپور عملی اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اورچین نے ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اوریہ ایک فطری عادت بن چکی ہے،

    اس موقع پر ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ اس وقت ہم آپ کے ماہرین سے بہت کچھ سیکھ سکیں گے، دو دنوں پر مشتمل ٹریننگ ہو گی اور چینی ڈاکٹرز کے تجربات سے پاکستانی ڈاکٹرز بھرپور استفادہ حاصل کریں گے۔

    ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ چین نے پبلک ہیلتھ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے، چین نے 6 کروڑ لوگوں کو قرنطینہ میں رکھ کر تاریخ رقم کی، اگر چین نے یہ اقدامات نہ کیے ہوتے تو دنیا زیادہ خطرے میں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ ہیلتھ پالیسیز کا مؤثر عملدرآمد اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا اور یہ صرف پاکستان نہیں پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔

    کورونا وائرس کے خلاف چینی اقدامات پر ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ صحیح وقت پر صحیح اقدامات کرنے سے چین نے کورونا کی وبا پر قابو پایا ہے۔بریفنگ کے دوران ڈاکٹر ظفر مرزا نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ چین نے پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کیا ہے، چین نے ہمیں کورونا کی تشخیصی کٹس اور حفاظتی سامان سمیت سب کچھ دیا ہے جس پر ہم چین کے شکر گزار ہیں۔

    ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ چینی شہریوں کو پاکستان کے سفر سے 14روز قرنطینہ کے بغیر سفر کرنے سے منع کرنا احسن اقدام تھا کیونکہ ہمارے پاس چین کی ٹریول ہسٹری کا ایک بھی مریض نہیں ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے پاس چین سے کوئی کیس نہیں ہے۔

    ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ ہم نے یہ بھی طے کیا کہ ووہان سے اپنے طلبا کو نہیں نکالیں گے، یہ مشکل فیصلہ تھا لیکن ہم نے چینی تجاویز پر عمل کیا کیونکہ چین نے ہمارے طلبا کا خیال رکھا اور اب طلبا ہمارا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔