Baaghi TV

Category: کرونا اپڈیٹس

  • پاکستان میں کورونا سے مزید 56 اموات، مثبت کیسز میں اضافہ

    پاکستان میں کورونا سے مزید 56 اموات، مثبت کیسز میں اضافہ

    پاکستان میں کورونا کی لہر میں شدت،24 گھنٹوں میں 56 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کورونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے


    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے ملک بھر میں کورونا سے اموات کا اموات کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید 56 اموات ہوئی ہیں-

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 55 ہزار965 ٹیسٹ کئے گئے2 ہزار697 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 4.81 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 20 ہزار527 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 13 ہزار 139 ہو چکی ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن جاری ہے اور پانچویں مرحلے میں30 سال سے زائد سال کے درمیان عمر والے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے جبکہ 18 سال سے زائد عمر کے افراد کی ویکسین کی رجسٹریشن جاری ہے-


    اس حوالے سے این سی او سی نے ٹوئٹر پر جاریاپنے پیغام میں کہا ہےکہ تیس سال اور زائد عمر کے افراد کے لئے walkin ویکسینیشن کا آغاز کر دیا گیا ہے. اگر آپ کو ابھی تک کوڈ نہیں موصول ہوا تو اپنا شناختی کارڈ نمبر 1166 پر دوبارہ بھیجیں اور کسی بھی قریبی ویکسینیشن مرکز جاکر ویکسین لگوائیں.

  • جنوبی افریقی کھلاڑی پاکستان سپرلیگ میں شرکت کے لیے ابوظبی پہنچ گئے

    جنوبی افریقی کھلاڑی پاکستان سپرلیگ میں شرکت کے لیے ابوظبی پہنچ گئے

    ابوظہبی : جنوبی افریقی کھلاڑی پاکستان سپرلیگ میں شرکت کے لیے ابوظبی پہنچ گئے،اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن میں حصہ لینے والے جنوبی افریقا کے کھلاڑی کمرشل فلائٹ سے ابوظبی پہنچ گئے۔

    ابوظبی پہنچنے والوں میں پاکستانی کرکٹر محمد نواز بھی شامل ہیں جبکہ جنوبی افریقا کے فاف ڈپلوسی،ڈیوڈ ملر،کیمرون ڈیلپورٹ، رائیلی روسو اور ہرشل گبز بھی پہنچے ہیں۔

    ویسٹ انڈیز کے جانسن چارلس اور ڈیرن سیمی نیویارک سے ابوظہبی کیلئے روانہ ہوئے ہیں جبکہ براڈکاسٹ کریو میں شامل جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والے مسافر بھی یو اے ای روانہ ہوچکے ہیں۔

  • چینی سائنس دانوں نے کوویڈ کو  لیب میں بنایا ہے سائنسدانوں کا دعویٰ

    چینی سائنس دانوں نے کوویڈ کو لیب میں بنایا ہے سائنسدانوں کا دعویٰ

    ڈیڑھ برس قبل چین کے شہر ووہان میں کووڈ کی اولین دریافت کے بعد ابھی تک اس سوال کا حتمی جواب نہیں ملا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی اس بیماری کی شروعات کیسے ہوئی تھی۔

    باغی ٹی وی : حالیہ ہفتوں میں اس دعوے کو دوبارہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے جس کے مطابق کہا جاتا ہے کہ یہ کورونا وائرس ایک چینی لیب سے نکلا ہے۔ ماہرین نے اب تک اسے سازشی مفروضہ کہتے ہوئے مسترد کیا ہے کیونکہ اس کے کوئی شواہد دستیاب نہیں ہو پائے ہیں۔

    اس نظریے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ووہان شہر میں چین کی ایک اہم تجربہ گاہ اور تحقیقی مرکز ہے اور ووہان انسٹٹیوٹ آف وائرولوجی (ڈبلیو آئی وی) میں چمگادڑوں سے ملنے والے مختلف نوعیت کے کورونا وائرس پر تحقیق کئی سالوں سے جاری ہے۔

    یہ مرکز اس مارکیٹ سے محض چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں سے کورونا وائرس کے سب سے پہلے متاثرین کی تشخیص ہوئی تھی۔

    اس نظریے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وائرس اس مرکز سے نکل کر اس مارکیٹ میں پھیلا ہے۔

    دوسری جانب ماہرین کی واضح اکثریت اس بات پر یقین کرتی ہے کہ یہ ایک قدرتی طور پر پیدا ہونے والا ایک وائرس ہے جو کہ جنگلی جانوروں یا جنگلات سے آیا ہے نہ کہ اسے مصنوعی طور پر کسی تجربہ گاہ میں بنایا گیا ہے۔

    اس متنازع نظریے کا سب سے پہلے آغاز وبا کی شروعات کے ساتھ ہی ہوا تھا اور اس کو پھیلانے والوں میں سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیش پیش تھے۔ کئی نے تو اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ یہ وائرس بطور حیاتیاتی ہتھیار بنایا گیا تھا۔

    شروع شروع میں میڈیا، ماہرین اور سیاستدانوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا تاہم چند لوگ پھر بھی مُصر تھے کہ اس پر تحقیق ہونی چاہیے۔ لیکن اب حالیہ چند روز میں یہ خیال دوبارہ سے منظر عام پر آ گیا ہے۔

    تاہم اب دو سائنس دانوں نے اس حوالے سے کچھ دھماکہ خیز نئے انکشافات کئے ہیں –

    ایک دھماکہ خیز نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کوویڈ 19 کو ووہان کے سائنس دانوں نے تیار کیا تھا جس نے پھر وائرس کے "ریٹرو انجینئرنگ” ورژن کے ذریعے خو د کو اس طرح ڈھانپ لیا تاکہ یہ ظاہر ہو کہ یہ جانوروں سے جسمانی طور پر تیار ہوا ہے۔

    اس مطالعے کے مصنفین ، برطانوی آنکولوجی ماہر پروفیسر انگوس ڈیلیگیش اور ناروے کے سائنسدان ڈاکٹر برجر سیرسن ، کے مزید دعوے کے ثبوت کو ماہرین نے نظرانداز کردیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے نے ڈیلی میل کی رپورٹ کا حوالی دیتے ہوئے لکھا کہ ان سائنسدانوں کے مطابق کوویڈ ۔19 کے مروجہ "قدرتی اصلیت” کے نظریہ کو چیلنج کرتا ہے کہ ، یہ وائرس ووہان کے بازار میں قدرتی طور پر چمگادڑوں سے انسانوں تک پھلایا گیا ہے-

    پروفیسر ڈیلگلیش لندن میں سینٹ جارج یونیورسٹی میں آنکولوجی کے پروفیسر ہیں جنھوں نے "ایچ آئی وی ویکسین” پر کام کیا تھا اور ڈاکٹر بیرگر سیرنسن ایک ماہر معاشیات اور دوا ساز کمپنی امیونور کے چیئرمین ہیں نے ایک کوویڈ -19 ویکسین تیار کی ہےجسے بائیوواک -19 کہا جاتا ہے۔

    انہوں نے دعوی کیا کہ جب گذشتہ سال کوویڈ 19 کے نمونوں کی ویکسین تیار کرنے کے لئے تجزیہ کیا گیا تو ، انھوں نے "انفرادیت سے متعلق انگلیوں کے نشانات” کو محسوس کیا جو صرف لیبارٹری کے ہیرا پھیری سے منسوب ہوسکتی ہے – لیکن اس وقت ان کی تلاش کو شائع کرنے کی ان کی کوششوں کو بڑے سائنسی جرائد نے مسترد کردیا تھا۔

    ڈیلی میل کے مطابق مزید مطالعے کے بعد ، پروفیسرڈیلگلیش اور ڈاکٹر سیرنسن نے 22 صفحات پر مشتمل ایک نئی رپورٹ جاری کی ، جو بائیو فزکس ڈسکوری کے سہ ماہی جائزہ میں شائع کی جائے گی اور اس کا اختتام ہوا کہ "سارس – کورونا وائرس 2 کا کوئی قابل اعتبار قدرتی اجداد نہیں ہے” اور یہ کہ یہ وائرس "معقول شک سے پرے” لیب میں تخلیق کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2002 اور 2019 کے درمیان ووہان لیب میں تجربات کرنے کے بعد ، انھیں شواہد ملے ہیں کہ ووہان سائنسدانوں نے غار کے چمگادڑوں میں پائے جانے والے ایک قدرتی کورونویرس کو ”ریڑھ کی ہڈی“ لیا اور اس پر ایک نیا “سپائیک” لگا دیا ، جو کوویڈ ۔19 بن گیا۔

    ایک اہم اشارہ سارس کوویڈ 2 اسپائک پر مثبت چارجڈ امینو ایسڈ کی ایک قطار تھی۔ سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہاں تک کہ تین امینو ایسڈ کی ایک صف بھی فطرےی طور پر کم ہی ہائی جاتی ہے کیونکہ وہ میگنٹ کی طرح ایک دوسرے کو پیچھے ہٹاتے تھے – لہذا قدرتی طور پر پائے جانے والے حیاتیات میں چار کی ایک قطار ملنا "بے حد مشکل امکان” تھا۔

    طبیعیات کے قوانین کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو لگاتار چار مثبت چارجڈ امینو ایسڈ نہیں مل سکتے ہیں۔ پروفیسر ڈیلیگیش نے ڈیلی میل کو بتایا کہ اگر آپ مصنوعی طور پر اس کی تیاری کرتے ہیں تو آپ کو یہ حاصل کرنے کا واحد طریقہ ہے۔

    اس وجہ سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ (کوویڈ ۔19) قدرتی عمل کا نتیجہ ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

    انہوں نے اپنے مطالعے میں لکھا ، "قدرتی وائرس سے وبائی مرض آہستہ آہستہ تبدیل ہوجائے گا اور زیادہ متعدی اور کم روگجنک ہوجائے گا جس کی بہت سے لوگ COVID-19 وبائی امراض سے توقع کرتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوتا ہے۔”

    انہوں نے فنکشن تجربات کے حصول کا بھی مقصد لیا ، جس میں وائرس کو جوڑنا توڑنا ، چھڑکنا اور دوبارہ جوڑنا بھی شامل ہے۔

    مطالعے میں کہا گیا ہے کہ ، "ہماری تاریخی تعمیر نو کا اثر ، اب ہم معقول شک سے بالاتر ہیں ، مقصد کے ساتھ ہیرا پھیری شدہ چائمرک وائرس سارس-کوویڈ -2 کے بارے میں یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ فنکشن کے کس قسم کے تجربات پر غور کیا جائے یہ اخلاقی طور پر قابل قبول ہے۔”

    لہذا "وسیع تر معاشرتی اثرات کی وجہ سے ، ان فیصلوں کو صرف سائنس دانوں پر تحقیق کرنے کے لئے نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔”

    اس تحقیق کا دعویٰ ہے کہ وبائی بیماری شروع ہونے کے بعد ، ووہان کے سائنس دانوں نے وائرس کو "ریٹرو انجینئرنگ” کے ذریعہ اپنے اپنی تحقیق پردہ ڈالنے کی کوشش کی تاکہ یہ ظاہر ہو کہ یہ فطری طور پر تیار ہوا ہے۔

    پروفیسر ڈیلگلیش نے کہا ، "انھوں نے وائرس کو تبدیل کر دیا ہے ، پھر سالانہ پہلے ہی ایک ترتیب میں آنے کی کوشش کی۔”

    انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ چینی لیبز میں چند تحقیقات کی گئیں اور ان کا دعویٰ تھا کہ "چینی سائنس دان جو اپنے علم میں اشتراک کرنا چاہتے ہیں وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں یا غائب ہوگئے ہیں”۔

    ڈاکٹر سرینسن نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ انسٹی ٹیوٹ کے نچلے سیکیورٹی والے علاقوں سے یہ وائرس بچ گیا ہے جہاں کام کی تحقیق کی جارہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ “ہم نے لیب لیک دیکھا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ ہو رہا ہے۔ ہمیں ان رپورٹوں سے بھی معلوم ہے جو ہم نے دیکھی ہیں ، کہ بائیوسافٹی لیول 2 یا 3 لیبز میں کورونا وائرس پر کام کیا گیا ہے۔ اگر وہ اس طرح کی لیبز میں کام کرتے ہیں تو آپ کو کیا امید ہے؟ –

    واضح رہے کہ کوویڈ 19 کی ابتداء کا لیب فرار کا نظریہ ایک فرج نظریہ کے طور پر شروع ہوا تھا لیکن اس میں تیزی سے رفتار پیدا ہوئی ہے اور اس نظریے کے شروع ہونے کی وجہ بنی ہے –

    بی بی سی کے مطابق ایک خفیہ امریکی انٹیلیجنس رپورٹ جس میں کہا گیا ہے کہ ووہان کی تجربہ گاہ کے تین محققین کا نومبر 2019 میں ایک ایسی بیماری کا علاج کیا گیا تھا جو کہ کوویڈ 19 سے ملتی جلتی ہے۔

    لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ بائیڈن انتظامیہ نے صدر ٹرمپ کے حکم سے شروع ہونے والی امریکی محکمہ خارجہ کی اس تفتیش کو بند کر دیا تھا۔

    چند روز قبل صدر بائیڈن کے چیف میڈیکل مشیر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ ’اس دعوے میں بالکل حقیقت ہو سکتی ہے اور میں مکمل تفتیش کرنے کے حق میں ہوں۔

    اب نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ اُن کی حکومت فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر رہی ہے جو اس وبا کے آغاز کے حوالے سے اس مفروضے (چینی لیب سے اس کی ابتدا) کی جانچ بھی کرے گی۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے 90 دن میں کووڈ کے آغاز کے بارے میں تحقیقی رپورٹ طلب کی ہے جس میں یہ معلوم کیا جائے کہ ‘آیا یہ وائرس کسی متاثرہ جانور سے انسان میں منتقل ہوا یا پھر وہ کسی تجربہ گاہ سے حادثاتی طور پر نکل گیا۔’

    صدر نے کہا کہ امریکہ "پوری دنیا کے ہم خیال افراد کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا تاکہ چین پر دباؤ ڈالے کہ وہ ایک مکمل ، شفاف ، شواہد پر مبنی بین الاقوامی تحقیقات میں حصہ لیں”۔

    توقع تھی کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے وائرس کے آغاز پر کی گئی تحقیق سے اس سوال کا جواب مل جائے گا لیکن کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ سے جوابات کے بجائے مزید سوالات پیدا ہو گئے۔

    معروف سائنسدانوں کے ایک گروپ نے عالمی ادارہ صحت پر تنقید کی کہ انھوں نے اس نظریے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور سینکڑوں صفحات پر مبنی اس رپورٹ میں اس نظریے کا ذکر محض چند صفحات میں کر کے اسے نظر انداز کیا۔

    مؤقر جریدے ’سائنس‘ میں مشترکہ طور پر لکھے گئے اس مضمون میں سائنسدانوں نے کہا کہ ‘ہمیں اس وائرس کے قدرتی طور پر یا تجربہ گاہ سے نکلنے کے خیال کو سنجیدگی سے لینا ہوگا تاوقتیکہ ہمارے پاس معقول تعداد میں ڈیٹا نہ آ جائے۔’

    اور اب ماہرین میں اس بات پر اتفاق بڑھ رہا ہے کہ لیب لیک تھیوری پر زیادہ غور کرنا ہوگا۔

    حتی کہ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم نے نے بھی نئے سرے سے تفتیش کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ ‘تمام تر خیالات اور خدشات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔’

    ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے بھی اب کہا ہے کہ وہ وائرس کے قدرتی طور پر بننے کے خیال سے ‘مکمل طور پر اتفاق نہیں کرتے’۔ یہ ان کے گذشتہ برس کے نکتہ نظر کے برعکس ہے جب انھوں نے کہا تھا کہ حد درجہ امکان یہی ہے کہ کووڈ کا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔

    دوسری جانب چین نے لیب لیک نظریہ کو سختی سے مسترد کردیا ہے اور اس ہفتے امریکہ میں اپنے سفارت خانے سے ایک بیان میں اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔

    جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "سمیر مہم اور الزام تراشی سے واپسی ہو رہی ہے ، اور’ لیب لیک ‘کے سازشی نظریہ کی بحالی ہو رہی ہے۔

    تاہم سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کی وبا کو روکنے کے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ یہ وائرس کیسے اور کہاں سے آیا۔

    اگر وائرس کے قدرتی طور پر پیدا ہونے کا نظریہ صحیح ثابت ہوتا ہے تو وہ مستقبل میں کھیتی باڑی اور جنگلی جانوروں کے ساتھ منسلک کاروبار کو متاثر کر سکتی ہے۔

    لیکن دوسری جانب اگر لیب لیب کا نظریہ صحیح ثابت ہوتی ہے تو یہ سائنسی تحقیق اور بین الاقوامی تجارت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

    اور اگر لیک کا نظریہ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ شاید چین کی ساکھ کو بھی متاثر کرے۔ چین پر پہلے ہی شکوک کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اس نے وبا کے آغاز میں اہم معلومات چھپائی تھیں اور اس الزام کی وجہ سے امریکی اور چین کے تعلقات میں مزید کشیدگی بڑھ گئی تھی۔

    واشنگٹن ڈی سی میں قائم تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے منسلک جیمی میٹزل لیب لیک کے نظریے پر پوری طرح یقین رکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ چین نے پہلے دن سے حقیقت چھپائی ہے۔

    لیکن دوسری جانب کئی لوگ چین کو مورد الزام ٹھہرانے میں جلد بازی کرنے سے منع کرتے ہیں۔

    سنگاپور کے نیشنل یونی ورسٹی ہسپتال سے منسلک پروفیسر ڈیل فشر کا کہنا ہے کہ ‘ہمیں نہ صرف تحمل سے کام لینا ہوگا بلکہ سفارتی آداب بھی ملحوظ خاطر رکھنے ہوں گے۔ ہم یہ تحقیق چین کی مدد کے بغیر نہیں کر سکتے اور ایسا ماحول نہیں قائم کر سکتے جس میں صرف چین پر الزام لگائے جائیں۔

  • پشاور: ائیرپورٹ پر کتوں کی مدد سے کورونا کی جانچ جاری، مزید 14 مسافروں میں کورونا کی تشخیص

    پشاور: ائیرپورٹ پر کتوں کی مدد سے کورونا کی جانچ جاری، مزید 14 مسافروں میں کورونا کی تشخیص

    پشاور: باچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر بیرون ممالک سے آنے والے مسافروں میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے تربیت یافتہ کتوں کی مدد لی جا رہی ہے تعینات پاک فوج کے تربیت یافتہ سراغ رساں کتوں نے کرونا کے 14 مریضوں کی نشاندہی کردی ہے-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق پشاور میں قائم باچا خان ایئرپورٹ پر پاک فوج کے تربیتِ یافتہ سراغ رساں کتوں کی مدد سے بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں کی جانچ کا عمل جاری ہے۔

    شارجہ سے نجی پرواز کے ذریعے 166 مسافر پشاور پہنچے، جہاں پر کتوں کی مدد سے اُن کی جانچ کی گئی ان مسافروں میں سے چودہ کی نشاندہی کتوں نے کی، جن کے کرونا ٹیسٹ کیے گئے تو ان کی رپورٹ پازیٹیو آئی۔

    یاد رہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں میں کرونا تشخیص پشاور ایئرپورٹ پر 24 مئی کو کتے تعینات کیے گئے، جنہوں نے پہلے ہی روز 1 مریض کی نشاندہی کی تھی، بعد ازاں 26 مئی کو ان کتوں نے مزید پانچ مسافروں میں وائرس کی نشاندہی کی تھی۔

    ایئرپورٹ انتظامیہ کے مطابق اب تک ان کتوں نے 20 مسافروں میں کرونا کی نشاندہی کی ہے، جن کے کرونا ٹیسٹ مثبت آئے، تمام مسافروں کو رپورٹ مثبت آنے کے بعد قرنطینہ سینٹر منتقل کردیا گیا ہے۔

    دوسری جانب نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے نمائندہ وفد نے بھی پشاور میں باچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا دورہ کیا جہاں وفد نے ائیرپورٹ پر پہنچنے والی دو پروازوں کے مسافروں کے طبی معائنے کی خود نگرانی بھی کی جب کہ ائیرپورٹ پر تربیت یافتہ کتوں کے عملی طور سویب ٹیسٹ کی جانچ کے عمل کو دیکھا۔

    اس موقع پر وفد کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بیرون ملک سے پشاور پہنچنے والے مسافروں کے ریپڈ اینٹیجنٹ ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔

    ائیر پورٹ مینیجر عبیداللہ عباسی کے مطابق وفد نے پشاور ائیرپورٹ پر کورونا وائرس سے متعلق اقدامات کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ باچا خان ائیر پورٹ پرمسافروں میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے تربیت یافتہ کتوں کی مدد لی جا رہی ہے-

    بیرون ممالک سے آنے والے مسافروں کے سویب ٹیسٹ کر کے مخصوص مقام پر رکھے جاتے ہیں، جہاں تربیتِ یافتہ کتے اُن کی نشاندہی کرتے ہیں سویب ٹیسٹ سونگھنے کے بعد کتا اگر بیٹھ جائے تومسافرکو کورونا مثبت قراردیا جاتا ہے-

  • پاکستان میں کورونا سے مزید 73 افراد انتقال مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ

    پاکستان میں کورونا سے مزید 73 افراد انتقال مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ

    پاکستان میں کورونا کی لہر میں شدت،24 گھنٹوں میں 73 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کورونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے


    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے ملک بھر میں کورونا سے اموات کا اموات کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید 73 اموات ہوئی ہیں-


    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 62 ہزار706 ٹیسٹ کئے گئے2 ہزار455 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 4.42 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 20 ہزار471 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 10 ہزار 442 ہو چکی ہے۔

    کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے پاکستان کے 26 اضلاع ہائی رسک قرار دیئے گئے ہیں-

    خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن جاری ہے اور پانچویں مرحلے میں30 سال سے زائد سال کے درمیان عمر والے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے جبکہ 18 سال سے زائد عمر کے افراد کی ویکسین کی رجسٹریشن جاری ہے-

    واضح رہے کہ مرغیوں میں مہلک وائرس’ایڈینو‘تیزی سےپھیلنےلگا:ڈاکٹروں نےتصدیق کردی:برائلرکھانےوالےہسپتالوں میں پہنچنےلگے جس کی وجہ سے ملک میں نئے وائرس سے مرغیاں مرنے لگیں اس حوالےسے مرغی فارم کے مالکان نے بھی اقرارجرم کرلیا ہے

    لاہور کی ویٹرنری یونیورسٹی میں مرغیوں کے پوسٹ مارٹم کے بعد ان میں پائے جانے والے وائرس کا انکشاف ہوا ہے جبکہ نئے وائرس سے روزانہ 4 ہزار مرغیاں ہلاک ہو رہی ہیں –

    ویٹرنری یونیورسٹی شعبہ مائیکروبیالوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر طاہر یعقوب کا کہنا ہے کہ رانی کھیت اور انفلوئنزا کے بعد ایڈینو وائرس مرغیوں کو اپنا شکار بنانے لگا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ وائرس مرغیوں کے عصبی نظام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور سانس کی بیماریوں کا سبب بھی بنتے ہیں جبکہ ایڈینو وائرس کی وجہ سے رانی کھیت ویکسین غیر مؤثر ہو گئی ہے۔

    پروفیسر طاہر یعقوب کا کہنا ہے کہ شہری مارکیٹوں میں فروخت ہونے والی چھوٹی اور کم عمر مرغیاں خریدنے سے اجتناب کریں اور صرف 2 کلو وزن والی مرغیاں ہی خریدیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وائرس سے مرغیوں کے مرنے کی وجہ سے بھی ان کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے۔

  • ویکسین لگوانے سے 2 سال میں موت واقع ہونےکی افواہ: وزارت صحت بھی میدان میں آگئی

    ویکسین لگوانے سے 2 سال میں موت واقع ہونےکی افواہ: وزارت صحت بھی میدان میں آگئی

    اسلام آباد:ویکسین لگوانے سے 2 سال میں موت واقع ہونےکی افواہ: وزارت صحت بھی میدان میں آگئی ،اطلاعات کے مطابق وفاقی وزارت صحت نے کورونا ویکسین لگوانے سے 2 سال میں موت کی افواہ پر وضاحت جاری کردی۔

    گزشتہ کئی روز سے سوشل میڈیا پر ایک خبر کا تراشہ وائرل ہورہا ہے جو فرانسیسی نوبل انعام یافتہ سائنسدان سے منسوب کیا گیا ہے۔

     

     

    خبر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’کورونا ویکسین لگوانے والے افراد 2 سال میں مرجائیں گے‘۔

     

    اس حوالے سے وفاقی وزارت صحت نے وضاحت جاری کردی ہے اور اس خبر کو من گھڑت قرار دیا ہے۔

    وزارت صحت کے مطابق نوبل انعام یافتہ سائنسدان نے اپنے انٹرویو میں ایسی کوئی بات نہیں کی ہے کہ ویکسین لگوانے والے 2 سال میں مرجائیں گے۔

    وزارت کا کہنا ہے کہ تمام ویکسین تحقیق اور ٹیسٹنگ کے مراحل سے گزر کر عام عوام تک پہنچتی ہیں۔ کورونا ویکسین سے متعلق افواہوں پرکان نہ دھریں اوراپنی اوراپنے گھروالوں کی زندگیوں‌ کو محفوظ بنائیں

  • مرغیوں میں مہلک وائرس’ایڈینو‘تیزی سےپھیلنےلگا:  ڈاکٹروں نےتصدیق کردی:برائلرکھانےوالےہسپتالوں میں

    مرغیوں میں مہلک وائرس’ایڈینو‘تیزی سےپھیلنےلگا: ڈاکٹروں نےتصدیق کردی:برائلرکھانےوالےہسپتالوں میں

    لاہور:مرغیوں میں مہلک وائرس’ایڈینو‘تیزی سےپھیلنےلگا:ڈاکٹروں نےتصدیق کردی:برائلرکھانےوالےہسپتالوں میں پہنچنےلگے جس کی وجہ سے ملک میں نئے وائرس سے مرغیاں مرنے لگیں

    اس حوالےسے مرغی فارم کے مالکان نے بھی اقرارجرم کرلیا ہے

    ادھر لاہور کی ویٹرنری یونیورسٹی میں مرغیوں کے پوسٹ مارٹم کے بعد ان میں پائے جانے والے وائرس کا انکشاف ہوا ہے جبکہ نئے وائرس سے روزانہ 4 ہزار مرغیاں ہلاک ہو رہی ہیں۔

    ویٹرنری یونیورسٹی شعبہ مائیکروبیالوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر طاہر یعقوب کا کہنا ہے کہ رانی کھیت اور انفلوئنزا کے بعد ایڈینو وائرس مرغیوں کو اپنا شکار بنانے لگا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ وائرس مرغیوں کے عصبی نظام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور سانس کی بیماریوں کا سبب بھی بنتے ہیں جبکہ ایڈینو وائرس کی وجہ سے رانی کھیت ویکسین غیر مؤثر ہو گئی ہے۔

    پروفیسر طاہر یعقوب کا کہنا ہے کہ شہری مارکیٹوں میں فروخت ہونے والی چھوٹی اور کم عمر مرغیاں خریدنے سے اجتناب کریں اور صرف 2 کلو وزن والی مرغیاں ہی خریدیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وائرس سے مرغیوں کے مرنے کی وجہ سے بھی ان کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے۔

  • پنجاب:تعلیمی اداروں میں کتنی چھٹیاں ہونگی؟مراد راس    نےبتا کرطلباکی موجوں پرپانی پھیردیا

    پنجاب:تعلیمی اداروں میں کتنی چھٹیاں ہونگی؟مراد راس نےبتا کرطلباکی موجوں پرپانی پھیردیا

    لاہور:پنجاب کے تعلیمی اداروں میں کتنی چھٹیاں ہونگی؟مراد راس نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے طلباکی موجوں پرپانی پھیردیا،اطلاعات کے مطابق صوبائی وزیرتعلیم مراد راس نے گرمیوں کی چھٹیوں کے حوالے سے ایسی خبرعام کردی کہ طلبا کی موجیں ختم ہوگئیں اوروہ اتنی سی بات پرخفا بھی ہوگئے ،

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے مراد راس نے کہا کہ ایک طرف گرمی کی شدت میں اضافہ تو دوسری جانب کورونا وائرس کا خطرہ، پنجاب میں طلبا کے لئے امتحانات کی تیاری کے لئے بھی وقت قلیل ہے، حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں میں چھٹیاں کم سے کم کرنے کا فیصلہ کیاگیا، اس بار گرمیوں کی چھٹیاں دو سے تین ہفتوں کے لیے ہوں گی۔

    پنجاب میں ہونے والی گرمیوں کی چھٹیاں کے بارے صوبائی وزیرتعلیم ڈاکٹر مراد راس نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کا بہت نقصان ہوچکا الہذ 7 جون سے پنجاب میں تعلیمی ادارے کھولے جارہے ہیں۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مراد راس کا مزید کہناتھا کہ اس بار تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیاں کم ہوںگی،ہو سکتا ہے گرمیوں کی چھٹیاں صرف2 یا3 ہفتوں کیلئے ہوں،اساتذہ اور عملے کی ویکسی نیشن کا آغاز کردیا ہے، لاہور میں 16 ہزار ٹیچرز اور 4 ہزار نان ٹیچرز سٹاف ہے جنہیں ویکسین لگائی جائے گی۔

  • کرونا چین کی جراثیمی جنگ:امریکہ :اپنی زبان بند رکھیں چین کا امریکہ کو سخت جواب

    کرونا چین کی جراثیمی جنگ:امریکہ :اپنی زبان بند رکھیں چین کا امریکہ کو سخت جواب

    بیجنگ:کرونا چین کی جراثیمی جنگ:امریکہ :اپنی زبان بند رکھیں چین کا امریکہ کو سخت جواب ،اطلاعات کے مطابق صدر جوبائیڈن کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق دوبارہ تحقیقات کا حکم دینے پر امریکا اور چین ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے ہیں۔

    کورونا وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائرس کا ذمہ دار چین کو ٹھہراتے ہوئے تحقیقات کا اعلان کیا تھا جس پر چین نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکا پر وائرس پھیلانے کا الزام لگایا تھا جب کہ اس معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی تھی۔

    اب ایک بار پھر جوبائیڈن کی جانب سے وائرس کے وجود میں آنے کا پتہ لگانے کے لیے انٹیلیجنس ایجنسیز کو ٹاسک دیا گیا ہے جس پر چین نے ایک بار پھر سخت ردعمل دیتے ہوئے وائرس کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرایا ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا کو نہ ہی سچ کی پرواہ ہے اور نہ ہی وائرس کے وجود میں آنے سے متعلق سنجیدہ سائنسی تحقیقات میں دلچسپی ہے، امریکا کا واحد مقصد کورونا وائرس کی وبا کو استعمال کرکے دوسروں کو بدنام کرنا اور سیاسی مقاصد کے تحت الزام لگانا ہے۔

    چینی وزارت خارجہ نے میری لینڈ میں واقع امریکی تحقیقاتی لیب میں وائرس بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ فورٹ ڈیٹرک تجربہ گاہ سمیت پوری دنیا میں موجود امریکا کی 200 سے زیادہ لیبز میں ایسے کونسے خفیہ راز پوشیدہ ہیں، اس حوالے سے امریکا پوری دنیا کو جواب دہ ہے۔

  • پاکستان میں کتنے افراد کو ویکسین لگائی جا چکی؟ اساتذہ کیلئے بھی بڑا حکم آ گیا

    پاکستان میں کتنے افراد کو ویکسین لگائی جا چکی؟ اساتذہ کیلئے بھی بڑا حکم آ گیا

    پاکستان میں کتنے افراد کو ویکسین لگائی جا چکی؟ اساتذہ کیلئے بھی بڑا حکم آ گیا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا سے بچاؤ کے لئے شہریوں کی ویکسی نیشن کا عمل جاری ہے

    این سی او سی کے سربراہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ الحمد للہ کل تک ویکسین 50 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو لگائی جا چکی ہے. آپ بھی جلد رجسٹر کریں اور ویکسین لگوائیں تاکہ ہم بندشیں مزید کم کر سکیں اور پاکستان کی ترقی کا سفر تیز تر ہو. اور آپ اپنی زندگی آزادی کے ساتھ کرونا کے خوف کے بغیر گزار سکیں

    پنجاب کی صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسین کے لیے رجسٹریشن کرائیں ،شہری ویکسین کے باوجود بھی احتیاط لازمی کریں پنجاب میں 35 لاکھ لوگوں کو ویکسین لگائی جائے گی ویکسین سینٹر پر آنے والے افراد صبروتحمل کا مظاہرہ کریں ویکسین حکومت کے پاس وافر مقدار میں موجود ہے اسد عمر

    دوسری جانب پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس کا کہنا ہے کہ پنجاب کے ٹیچرز اور نان ٹیچرز اسٹاف کیلئے ویکسی نیشن آج سے شروع ہوا ہے، لاہور میں 16 ہزار اساتذہ اور 4 ہزار نان ٹیچرز ہیں 7جون سے پہلے ویکسین کا عمل مکمل کرلیا جائے گا،ویکسی نیشن کے لیے شناختی کارڈ اورسرٹیفکیٹ اسکول کا لیکر آنا ہے،سرکاری اور نجی اساتذہ سب کو ویکسین لگے گی ،7جون کو پنجاب کے تمام ا سکول کھو لے جائیں گے، اساتذہ کسی بھی ویکسین سینٹر جائیں ان کو ترجیح دی جائے گی

    طیارہ حادثہ، رپورٹ منظر عام پر آ گئی، وہی ہوا جس کا ڈر تھا، سنئے مبشر لقمان کی زبانی اہم انکشاف

    جنید جمشید سمیت 1099 لوگوں کی موت کا ذمہ دار کون؟ مبشر لقمان نے ثبوتوں کے ساتھ بھانڈا پھوڑ دیا

    اے ٹی سی کی وائس ریکارڈنگ لیک،مگر کیسے؟ پائلٹ کے خلاف ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی؟ مبشر لقمان نے اٹھائے اہم سوالات

    اگرکوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سی اے اے اس کی ذمے دارہے،پلوشہ خان

    بین الاقوامی فیڈریشن آف پائلٹس اینڈ ائیرٹریفک کنڑولرز طیارہ حادثہ کے ذمہ داروں کو بچانے میدان میں آ گئی

    شہباز گل پالپا پر برس پڑے،کہا جب غلطی پکڑی جاتی ہے تو یونین آ جاتی ہے بچانے

    برطانیہ کا پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کرنے کا معاملہ،پی آئی نے کتنے مسافروں کو پاکستان پہنچا دیا