Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • تنگوانی: بھلکانی اور قمبرانی قبائل میں خونریز تصادم، فائرنگ سے نوجوان زخمی، پولیس غائب

    تنگوانی: بھلکانی اور قمبرانی قبائل میں خونریز تصادم، فائرنگ سے نوجوان زخمی، پولیس غائب

    تنگوانی (باغی ٹی وی نامہ نگار منصور بلوچ)تنگوانی کے نواحی علاقے نیو روڈ اسٹاپ پر بھلکانی اور قمبرانی قبائل کے درمیان خطرناک تصادم ہوا، جس کے دوران دونوں اطراف سے جدید ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ دو گھنٹے تک جاری رہنے والی فائرنگ کے نتیجے میں علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جب کہ پولیس مکمل طور پر غائب رہی۔

    عینی شاہدین کے مطابق فائرنگ کے اس واقعے میں قمبرانی قبیلے کا نوجوان نور محمد قمبرانی گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    تصادم کی وجہ ایک پرانی دشمنی بتائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق شفیع محمد بھلکانی کے بیٹوں اور اربیلو قمبرانی کے درمیان پہلے ایک خاتون کے زخمی ہونے کے واقعے پر کشیدگی چل رہی تھی، جو آج فائرنگ میں بدل گئی۔

    قبائلی ذرائع کے مطابق قمبرانی قبیلے کے معزز شخص نے الزام لگایا ہے کہ ان کے گاؤں پر بھلکانی قبیلے کے منو گینگ سے وابستہ امتیاز بھلکانی نے بھتہ نہ دینے پر جدید ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ان کا نوجوان بری طرح زخمی ہوا۔

    دو گھنٹے تک جاری رہنے والی فائرنگ کے باوجود پولیس موقع پر نہ پہنچ سکی، جس پر علاقہ مکینوں نے انتظامیہ پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت پولیس پہنچتی تو نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔

    علاقے میں تاحال کشیدگی برقرار ہے اور مزید تصادم کا خدشہ ہے۔ عوامی حلقے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فوری طور پر علاقے میں رینجرز یا پلیس کی بھاری نفری تعینات کر کے حالات کو قابو میں لایا جائے اور واقعے کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

  • اوکاڑہ:لاہور میں آگ بجھاتے ہوئے دو ریسکیو اہلکار شہید، دو زخمی، ریسکیورز کا خراجِ عقیدت

    اوکاڑہ:لاہور میں آگ بجھاتے ہوئے دو ریسکیو اہلکار شہید، دو زخمی، ریسکیورز کا خراجِ عقیدت

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)لاہور میں ایک افسوسناک مگر بہادری سے بھرپور واقعہ پیش آیا جہاں دو ریسکیو 1122 اہلکار، فرض کی ادائیگی کے دوران شہادت کے درجے پر فائز ہوگئے۔ واقعہ 10 جولائی کو پیش آیا، جو نہ صرف لاہور بلکہ ریسکیو 1122 کے لیے ایک غمناک اور فخر سے لبریز دن بن گیا۔

    تفصیلات کے مطابق لاہور میں ایک عمارت میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جہاں پلاسٹک کا دانہ ذخیرہ کیا گیا تھا۔ ریسکیو 1122 کے فائر فائٹرز نے بروقت ریسپانس دیتے ہوئے جانفشانی سے آگ پر قابو پایا۔ تاہم آگ بجھانے کے بعد جب کولنگ کا عمل جاری تھا، اچانک عمارت کا ایک حصہ زمین بوس ہوگیا، جس کے نتیجے میں چار اہلکار ملبے تلے دب گئے۔

    ان میں سے دو بہادر اہلکار فائر فائٹر سید ناظم حسین اور میڈیکل ٹیکنیشن شعیب جانبر نہ ہو سکے اور جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ دو دیگر اہلکار شدید زخمی حالت میں نکال لیے گئے۔ ریسکیو 1122 کے ان ہیروز نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر خدمت، فرض شناسی اور قربانی کی ایسی روشن مثال قائم کی جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

    ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر اوکاڑہ احتشام واہلہ نے واقعے پر گہرے دکھ اور فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ریسکیو 1122 کے یہ شہداء ہمارے وہ سچے ہیرو ہیں جنہوں نے دوسروں کی جان و مال بچانے کے لیے اپنی زندگی قربان کر دی۔ ضلع اوکاڑہ کے تمام ریسکیورز اپنے ان عظیم ساتھیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جنہوں نے بہادری، قربانی اور انسانیت کی مثال قائم کر دی۔”

    یہ المناک واقعہ نہ صرف ریسکیو 1122 کی بے مثال قربانیوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اس امر کی بھی گواہی دیتا ہے کہ قوم کے یہ محافظ اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر ہر لمحہ عوام کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

  • اوچ شریف: بکری کو بچاتے ہوئے 15 سالہ لڑکا زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے باعث جاں بحق

    اوچ شریف: بکری کو بچاتے ہوئے 15 سالہ لڑکا زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے باعث جاں بحق

    (باغی ٹی وی ، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے چنی گوٹھ میں ایک افسوسناک اور دلخراش واقعہ پیش آیا ہے، جس میں ایک 15 سالہ لڑکا زہریلی گیس سے دم گھٹنے کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔ متوفی لڑکے کی شناخت پرویز ولد عبدالغفار کے نام سے ہوئی ہے، جو تھانہ احمد پور ایسٹ کے قریب واقع علاقے میں رہائش پذیر تھا۔

    تفصیلات کے مطابق، پرویز کے گھر کے باہر ایک پرائیویٹ گٹر کا ڈھکن غائب تھا، جس میں ایک بکری جاگری۔ پرویز نے انسانی ہمدردی اور جانور سے محبت کے تحت بکری کو بچانے کی کوشش کی، لیکن بدقسمتی سے وہ خود بھی گٹر میں جاگرا۔ گٹر میں موجود زہریلی گیسوں کے باعث وہ فوری طور پر بے ہوش ہوگیا اور پانی میں ڈوب گیا۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری موقع پر پہنچی اور آپریشن کے بعد پرویز کو گٹر سے نکالا۔ ریسکیو اہلکاروں نے مصنوعی تنفس اور دل کی دھڑکن کی بحالی کے اقدامات کیے، تاہم اس وقت تک اس کی سانسیں بند ہو چکی تھیں۔ بعد ازاں پرویز کو فوری طور پر آر ایچ سی (RHC) چنی گوٹھ منتقل کیا گیا، مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔

    پرویز کی اچانک موت پر اہل علاقہ شدید صدمے سے دوچار ہیں اور علاقے میں کہرام برپا ہے۔ مقامی افراد نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گٹرز کے کھلے ڈھکنوں کو فوری طور پر بند کیا جائے اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ ایسے جان لیوا واقعات رونما نہ ہوں۔

    یہ واقعہ نہ صرف مقامی انتظامیہ کی غفلت کی عکاسی کرتا ہے بلکہ شہری تحفظ کے ناقص انتظامات پر ایک سوالیہ نشان بھی چھوڑ گیا ہے۔

  • سیالکوٹ: 7 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش، ملزم گرفتار، والد کو دھمکیاں

    سیالکوٹ: 7 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش، ملزم گرفتار، والد کو دھمکیاں

    سیالکوٹ(باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) 7 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش، ملزم گرفتار، والد کو دھمکیاں

    سیالکوٹ کے تھانہ صدر کے علاقے ملہو چھت میں 7 سالہ معصوم بچی کے ساتھ مبینہ زیادتی کی کوشش کا دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ والدین کی غیر موجودگی میں ایک اوباش شخص نے مبینہ طور پر کمسن بچی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم بچی کے شور مچانے پر ملزم موقع سے فرار ہو گیا۔

    متاثرہ بچی کے والد پطرس مسیح نے تھانہ صدر میں تحریری درخواست دی، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نامزد ملزم کو گرفتار کر لیا اور اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    پطرس مسیح کا کہنا ہے کہ اسے ملزم کی گرفتاری اور قانونی کارروائی پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ”میری بیٹی پر ظلم کی کوشش کی گئی، میں نے انصاف کے لیے قانونی راستہ اختیار کیا، لیکن اب ہمیں مسلسل دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب اور ڈی پی او سیالکوٹ سے اپیل ہے کہ ہمیں انصاف دلایا جائے اور جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جائے۔”

    پولیس ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ واقعے کی رپورٹ پر فوری مقدمہ درج کیا گیا اور نامزد ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا اور مقدمے کی تفتیش میرٹ پر کی جائے گی۔

    علاقے کے شہریوں نے اس افسوسناک واقعہ پر شدید ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کیس کو سنجیدگی سے لیں اور درندہ صفت مجرم کو قرار واقعی سزا دلوائیں تاکہ آئندہ کوئی ایسی جرأت نہ کر سکے۔

  • بلوچستان واقعہ: والد کے جنازے پر آنے والے دو بھائی بھی دہشتگردی کا نشانہ بن گئے،

    بلوچستان واقعہ: والد کے جنازے پر آنے والے دو بھائی بھی دہشتگردی کا نشانہ بن گئے،

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)بلوچستان میں 10 اور 11 جولائی کی درمیانی شب پیش آنے والے دلخراش واقعے میں دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل کیے گئے 9 مسافروں میں لودھراں کے دو سگے بھائی بھی شامل تھے جو اپنے والد کے انتقال کی اطلاع پر گھر واپس آرہے تھے۔ افسوسناک طور پر اب ان کے خاندان کو ایک نہیں بلکہ تین جنازوں کا سامنا ہے۔

    تحصیل دنیاپور ضلع لودھراں سے تعلق رکھنے والے جابر طور اور عثمان طور اپنے والد نذیر طور کے انتقال کی اطلاع ملنے کے بعد کوئٹہ سے روانہ ہوئے تاکہ نمازِ جنازہ میں شرکت کر سکیں۔ مگر راستے میں فتنہ الہند کے دہشتگردوں نے ان کی بس کو روک کر انہیں اہل خانہ کے سامنے شناختی کارڈ دیکھ کر اتارا اور پھر پہاڑی علاقے میں لے جا کر بے دردی سے قتل کر دیا۔

    مقتولین کے بھائی صابر طور نے بتایا کہ دونوں بھائی والد کی تدفین کی تیاری کے لیے آرہے تھے، مگر اب ہمارے گھر سے دو کے بجائے تین جنازے اٹھیں گے۔ یہ غم لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ جابر اور عثمان طور کے چھوٹے بچے اور خواتین اس صدمے سے نڈھال ہو چکے ہیں۔

    دوسری طرف مقتولین میں گوجرانوالہ کے علاقے واہنڈو (صائب) سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ صابر حسین بھی شامل تھے جو بلوچستان کے ایک پکوان سینٹر پر کام کرتے تھے۔ صابر 15 سال سے محنت مزدوری کر رہے تھے اور اپنے 4 بچوں سمیت پورے خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ان کے بڑے بیٹے کی عمر صرف 14 سال ہے۔

    صابر کی ہلاکت سے ان کا خاندان معاشی طور پر بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ محض شناخت کی بنیاد پر قتل کیا جانا انسانیت سوز درندگی ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

    یاد رہے کہ 10 جولائی کی شام کوئٹہ سے لاہور جانے والی دو مسافر کوچز اے کے موورز اور سپر میختر بلوچستان کے علاقے ژوب میں دہشتگردوں نے روکا، شناختی کارڈ چیک کیے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 12 افراد کو بس سے اتار کر علیحدہ کیا۔ ان میں سے 9 کو شناخت کے بعد پہاڑوں میں لے جا کر فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔

    لاشیں بعد ازاں بارڈر ایریا بواٹہ پر پنجاب کی انتظامیہ نے وصول کیں اور انہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد، کمانڈنٹ بارڈر فورس محمد اسد خان چانڈیہ اور کمشنر اشفاق احمد چوہدری اس عمل کی نگرانی کر رہے تھے۔

  • ڈیرہ غازیخان:بلوچستان میں مسافروں کا قتل، لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ

    ڈیرہ غازیخان:بلوچستان میں مسافروں کا قتل، لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ

    ڈیرہ غازیخان( باغی ٹی وی رپورٹ)بلوچستان میں دہشتگردوں کے ہاتھوں بے دردی سے قتل کیے گئے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافروں کی لاشیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔ اس دلخراش واقعے پر ملک بھر میں سوگ کی فضا ہے جبکہ مقتولین کے ورثا غم سے نڈھال ہیں۔

    ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے لاہور آنے والی دو مسافر بسوں اے کے موورز اور سپر میختر کو 10 جولائی 2025 کی شام 5 بج کر 30 منٹ پر بلوچستان کے ضلع ژوب میں نامعلوم دہشتگردوں نے روکا۔ ان مسلح حملہ آوروں نے شناختی کارڈ چیک کیے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 12 مسافروں کو بسوں سے اتار کر الگ کیا۔ بعدازاں 9 مسافروں کو شناخت کی بنیاد پر فائرنگ کر کے بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ تین افراد معجزاتی طور پر بچ نکلے۔

    بلوچستان کے سرحدی علاقے میں یہ واقعہ پیش آنے کے بعد کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری اور ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے فوری طور پر بلوچستان انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ مقتولین کی لاشیں بلوچستان پنجاب سرحدی علاقے "بواٹہ” پر تحصیلدار و کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس محمد اسد خان چانڈیہ نے وصول کیں۔ اس موقع پر ڈی پی او سید علی، اے ڈی سی آر عثمان بخاری، اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ لاشوں کو سرکاری ایمبولینسز کے ذریعے ریونیو افسران کی نگرانی میں متعلقہ اضلاع کی جانب روانہ کر دیا گیا۔

    کمشنر اشفاق احمد اور ڈپٹی کمشنر عثمان خالد کی نگرانی میں شہداء کے جسد خاکی بلوچ لیوی لائنز ڈیرہ غازی خان سے روانہ کیے گئے۔ تمام لاشوں کی حوالگی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر عمل میں لائی گئی۔

    شہداء کی شناخت اور تعلق:
    1. جابر طور اور عثمان طور (دو سگے بھائی) تحصیل دنیا پور ضلع لودھراں جواپنے والد نذیر طور کے جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
    2. محمد عرفان ولد غلام اکبر ڈیرہ غازی خان۔
    3. صابر حسین ولد محمد ریاض کامونکی، ضلع گوجرانوالہ۔
    4. محمد آصف ولد سلطان چوک قریشی (ٹیچر)۔
    5. غلام سعید ولد غلام سرور خانیوال
    6. محمد جنید لاہور
    7. محمد بلال ولد عبد الوحید اٹک۔
    8. بلاول گجرات
    یہ افسوس ناک واقعہ بلوچستان اور پنجاب کے سنگم پر واقع کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو پہلے ہی بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) کی جانب سے تھریٹس موصول ہو چکی تھیں، جس کے نتیجے میں بارڈر ملٹری پولیس، بلوچ لیوی فورس اور دیگر اداروں کو ہائی الرٹ کیا گیا تھا۔

    اس افسوسناک واقعے کے بعد کمشنر اشفاق احمد چوہدری، ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد اور کمانڈنٹ اسد خان چانڈیہ نے بلوچستان سے ملحقہ تمام بارڈر پوائنٹس خصوصاً بواٹہ، فورٹ منرو، کھر اور دیگر اہم راستوں پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ بارڈر ملٹری پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ تمام مشکوک گاڑیوں اور افراد کی سخت تلاشی لی جا رہی ہے۔

    پنجاب سے بلوچستان جانے والی تمام ٹریفک کو تا حکم ثانی بواٹہ چیک پوسٹ پر روک دیا گیا ہے۔ تمام داخلی و خارجی راستوں پر پیدل گشت، موبائل وائرلیس ٹیمز اور ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔

    کمشنر اشفاق چوہدری اور ڈپٹی کمشنر عثمان خالد نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ انتظامیہ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معصوم شہریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور حکومت مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے شہداء کے اہلخانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ ہر ضلع کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ متاثرہ خاندانوں سے مکمل تعاون کیا جائے اور لاشوں کی تدفین و دیگر انتظامات سرکاری سطح پر کرائے جائیں۔

  • لاہور،مکان کی چھت گر گئی، 6 خواتین ملبے تلے دب گئیں

    لاہور،مکان کی چھت گر گئی، 6 خواتین ملبے تلے دب گئیں

    گوالمنڈی کے علاقے لاہور ہوٹل کے قریب ایک مکان کی بالائی منزل کی خستہ حال لکڑی کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں 6 خواتین ملبے تلے دب گئیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو حکام فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

    ریسکیو اہلکاروں نے انتہائی مہارت سے ملبے کے نیچے دب گئیں تمام خواتین کو بچا کر انہیں طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا۔ حکام کے مطابق ملبے تلے دبنے والی خواتین کی شناخت ماریہ، نبیہ، مینال، جوریہ، بابرا اور فوزیہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ریسکیو حکام نے بتایا کہ مکان کی چھت لکڑی کی تھی جو کافی پرانی اور کمزور ہو چکی تھی، جس کی وجہ سے اچانک گرنے کا واقعہ پیش آیا۔ متاثرہ خواتین کی حالت نازک بتائی جاتی ہے اور انہیں فوری طبی امداد دی جا رہی ہے۔پولیس اور ریسکیو ٹیمیں واقعے کی وجوہات کا جائزہ لے رہی ہیں اور مکان کے مالک کے خلاف کارروائی کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔ علاقہ مکینوں نے خستہ حال عمارتوں کی بروقت مرمت اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: کریانہ سٹور میں ڈکیتی، 15 لاکھ روپے لوٹ لیے، فائرنگ سے راہگیر شدید زخمی

    سیالکوٹ: کریانہ سٹور میں ڈکیتی، 15 لاکھ روپے لوٹ لیے، فائرنگ سے راہگیر شدید زخمی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) تھانہ کوٹلی لوہاراں کے علاقے میں ڈکیتی کی سنگین واردات پیش آئی ہے، جہاں تین موٹر سائیکل سوار مسلح ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر بشیر کریانہ سٹور کو لوٹ لیا اور فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔

    ذرائع کے مطابق ڈاکو کریانہ سٹور سے 15 لاکھ روپے نقدی لوٹ کر فرار ہوئے۔ واردات کے بعد جب ڈاکو مراکیوال کی طرف جا رہے تھے تو متاثرہ شہری کے بھائی نے انہیں روکنے کی کوشش کی، جس پر ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کی زد میں آ کر یاسین نامی راہگیر شدید زخمی ہو گیا جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    واقعہ کی اطلاع ملتے ہی تھانہ کوٹلی لوہاراں پولیس موقع پر پہنچی، زخمی کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے علاقے میں ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

    شہری حلقوں نے دن دیہاڑے ہونے والی اس واردات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کی جائے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • میپکو لائن مین کو رشوت خوری پر 8 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ

    میپکو لائن مین کو رشوت خوری پر 8 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ

    بہاولپور (باغی ٹی وی – نامہ نگار حبیب خان)میپکو لائن مین کو رشوت خوری پر 8 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ، ایف آئی اے کی بڑی کامیابی،
    بہاولپور میں سپیشل جج سینٹرل کی عدالت نے رشوت خوری کے ایک سنگین مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے میپکو کے سابق لائن مین زوار حسین کو مجرم قرار دیتے ہوئے 8 سال قید بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔

    تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کی ٹیم نے زوار حسین کو 10 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اس کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر درج ذیل سزائیں سنائیں

    انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت 7 سال قید بامشقت اور 5 لاکھ روپے جرمانہ،تعزیراتِ پاکستان کے تحت 1 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ

    یہ مقدمہ اسپیشل جج سینٹرل کیمپ بہاولپور، جج جلیل احمد نے سنا جبکہ ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل وقاص رضا نے استغاثہ کی مؤثر پیروی کی۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق یہ فیصلہ بدعنوانی کے خلاف ایف آئی اے کی زیرو ٹالرنس پالیسی کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے سرکاری اداروں میں کرپشن میں ملوث عناصر کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ قانون ان کے خلاف متحرک ہے، اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات جاری رہیں گے۔

  • اوچ شریف: ٹرین حادثے میں 12 سالہ بچہ جاں بحق، چھت گرنے سے ماں بیٹی زخمی

    اوچ شریف: ٹرین حادثے میں 12 سالہ بچہ جاں بحق، چھت گرنے سے ماں بیٹی زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان)تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور کے مختلف علاقوں میں دو المناک حادثات نے فضاء کو سوگوار کر دیا۔ ایک جانب شالیمار ایکسپریس کی زد میں آ کر 12 سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا، تو دوسری جانب چھت گرنے کے واقعے میں ماں اور بیٹی زخمی ہو گئیں۔

    پہلا واقعہ اوچ شریف ریلوے پھاٹک پر پیش آیا، جہاں بہاولپور سے کراچی جانے والی شالیمار ایکسپریس کی زد میں آ کر 12 سالہ منیب ولد منیرجو کہ بستی کھور کا رہائشی تھا موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق منیب ریلوے لائن عبور کر رہا تھا کہ اچانک تیز رفتار ٹرین آ گئی اور وہ جان بچانے کا موقع نہ پا سکا۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور لاش کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا۔ واقعے کی اطلاع پر اہل علاقہ، رشتہ دار اور والدین جائے حادثہ پر پہنچے، جہاں کہرام برپا ہو گیا اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔

    دوسرا واقعہ احمد پورشرقیہ کے علاقے "حمزہ ٹاؤن” میں پیش آیا، جہاں ایک گاڈر ٹی آر والے مکان کی کچی چھت پر کنسٹرکشن جاری تھی کہ اچانک وزن زیادہ ہونے سے چھت زمین بوس ہو گئی۔ ریسکیو 1122 کنٹرول روم کے مطابق اس حادثے میں 13 سالہ آمنہ بی بی دختر محمد اکبر کو سر پر چوٹ آئی جبکہ 46 سالہ زاہدہ بی بی زوجہ محمد اکبر کے منہ پر زخم آئے۔ اہل خانہ نے دونوں زخمیوں کو ملبے سے نکال کر ریسکیو ٹیم کے پہنچنے سے پہلے ابتدائی طبی امداد دلوائی۔ ریسکیو عملے نے دونوں زخمیوں کو ٹی ایچ کیو احمد پور منتقل کر دیا۔

    شہریوں نے ان دونوں واقعات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ریلوے پھاٹکوں پر سیکیورٹی اور حفاظتی عملے کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے اور تعمیراتی کاموں میں حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کرایا جائے تاکہ آئندہ ایسے دردناک حادثات سے بچا جا سکے۔