Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • بلوچستان واقعہ: والد کے جنازے پر آنے والے دو بھائی بھی دہشتگردی کا نشانہ بن گئے،

    بلوچستان واقعہ: والد کے جنازے پر آنے والے دو بھائی بھی دہشتگردی کا نشانہ بن گئے،

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)بلوچستان میں 10 اور 11 جولائی کی درمیانی شب پیش آنے والے دلخراش واقعے میں دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل کیے گئے 9 مسافروں میں لودھراں کے دو سگے بھائی بھی شامل تھے جو اپنے والد کے انتقال کی اطلاع پر گھر واپس آرہے تھے۔ افسوسناک طور پر اب ان کے خاندان کو ایک نہیں بلکہ تین جنازوں کا سامنا ہے۔

    تحصیل دنیاپور ضلع لودھراں سے تعلق رکھنے والے جابر طور اور عثمان طور اپنے والد نذیر طور کے انتقال کی اطلاع ملنے کے بعد کوئٹہ سے روانہ ہوئے تاکہ نمازِ جنازہ میں شرکت کر سکیں۔ مگر راستے میں فتنہ الہند کے دہشتگردوں نے ان کی بس کو روک کر انہیں اہل خانہ کے سامنے شناختی کارڈ دیکھ کر اتارا اور پھر پہاڑی علاقے میں لے جا کر بے دردی سے قتل کر دیا۔

    مقتولین کے بھائی صابر طور نے بتایا کہ دونوں بھائی والد کی تدفین کی تیاری کے لیے آرہے تھے، مگر اب ہمارے گھر سے دو کے بجائے تین جنازے اٹھیں گے۔ یہ غم لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ جابر اور عثمان طور کے چھوٹے بچے اور خواتین اس صدمے سے نڈھال ہو چکے ہیں۔

    دوسری طرف مقتولین میں گوجرانوالہ کے علاقے واہنڈو (صائب) سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ صابر حسین بھی شامل تھے جو بلوچستان کے ایک پکوان سینٹر پر کام کرتے تھے۔ صابر 15 سال سے محنت مزدوری کر رہے تھے اور اپنے 4 بچوں سمیت پورے خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ان کے بڑے بیٹے کی عمر صرف 14 سال ہے۔

    صابر کی ہلاکت سے ان کا خاندان معاشی طور پر بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ محض شناخت کی بنیاد پر قتل کیا جانا انسانیت سوز درندگی ہے، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

    یاد رہے کہ 10 جولائی کی شام کوئٹہ سے لاہور جانے والی دو مسافر کوچز اے کے موورز اور سپر میختر بلوچستان کے علاقے ژوب میں دہشتگردوں نے روکا، شناختی کارڈ چیک کیے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 12 افراد کو بس سے اتار کر علیحدہ کیا۔ ان میں سے 9 کو شناخت کے بعد پہاڑوں میں لے جا کر فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔

    لاشیں بعد ازاں بارڈر ایریا بواٹہ پر پنجاب کی انتظامیہ نے وصول کیں اور انہیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان محمد عثمان خالد، کمانڈنٹ بارڈر فورس محمد اسد خان چانڈیہ اور کمشنر اشفاق احمد چوہدری اس عمل کی نگرانی کر رہے تھے۔

  • ڈیرہ غازیخان:بلوچستان میں مسافروں کا قتل، لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ

    ڈیرہ غازیخان:بلوچستان میں مسافروں کا قتل، لاشیں آبائی علاقوں کو روانہ

    ڈیرہ غازیخان( باغی ٹی وی رپورٹ)بلوچستان میں دہشتگردوں کے ہاتھوں بے دردی سے قتل کیے گئے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافروں کی لاشیں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئی ہیں۔ اس دلخراش واقعے پر ملک بھر میں سوگ کی فضا ہے جبکہ مقتولین کے ورثا غم سے نڈھال ہیں۔

    ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے لاہور آنے والی دو مسافر بسوں اے کے موورز اور سپر میختر کو 10 جولائی 2025 کی شام 5 بج کر 30 منٹ پر بلوچستان کے ضلع ژوب میں نامعلوم دہشتگردوں نے روکا۔ ان مسلح حملہ آوروں نے شناختی کارڈ چیک کیے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے 12 مسافروں کو بسوں سے اتار کر الگ کیا۔ بعدازاں 9 مسافروں کو شناخت کی بنیاد پر فائرنگ کر کے بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔ تین افراد معجزاتی طور پر بچ نکلے۔

    بلوچستان کے سرحدی علاقے میں یہ واقعہ پیش آنے کے بعد کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری اور ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے فوری طور پر بلوچستان انتظامیہ سے رابطہ کیا۔ مقتولین کی لاشیں بلوچستان پنجاب سرحدی علاقے "بواٹہ” پر تحصیلدار و کمانڈنٹ بارڈر ملٹری پولیس محمد اسد خان چانڈیہ نے وصول کیں۔ اس موقع پر ڈی پی او سید علی، اے ڈی سی آر عثمان بخاری، اور دیگر افسران بھی موجود تھے۔ لاشوں کو سرکاری ایمبولینسز کے ذریعے ریونیو افسران کی نگرانی میں متعلقہ اضلاع کی جانب روانہ کر دیا گیا۔

    کمشنر اشفاق احمد اور ڈپٹی کمشنر عثمان خالد کی نگرانی میں شہداء کے جسد خاکی بلوچ لیوی لائنز ڈیرہ غازی خان سے روانہ کیے گئے۔ تمام لاشوں کی حوالگی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایات پر عمل میں لائی گئی۔

    شہداء کی شناخت اور تعلق:
    1. جابر طور اور عثمان طور (دو سگے بھائی) تحصیل دنیا پور ضلع لودھراں جواپنے والد نذیر طور کے جنازے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
    2. محمد عرفان ولد غلام اکبر ڈیرہ غازی خان۔
    3. صابر حسین ولد محمد ریاض کامونکی، ضلع گوجرانوالہ۔
    4. محمد آصف ولد سلطان چوک قریشی (ٹیچر)۔
    5. غلام سعید ولد غلام سرور خانیوال
    6. محمد جنید لاہور
    7. محمد بلال ولد عبد الوحید اٹک۔
    8. بلاول گجرات
    یہ افسوس ناک واقعہ بلوچستان اور پنجاب کے سنگم پر واقع کوہِ سلیمان کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو پہلے ہی بی ایل اے (بلوچ لبریشن آرمی) کی جانب سے تھریٹس موصول ہو چکی تھیں، جس کے نتیجے میں بارڈر ملٹری پولیس، بلوچ لیوی فورس اور دیگر اداروں کو ہائی الرٹ کیا گیا تھا۔

    اس افسوسناک واقعے کے بعد کمشنر اشفاق احمد چوہدری، ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد اور کمانڈنٹ اسد خان چانڈیہ نے بلوچستان سے ملحقہ تمام بارڈر پوائنٹس خصوصاً بواٹہ، فورٹ منرو، کھر اور دیگر اہم راستوں پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ بارڈر ملٹری پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ تمام مشکوک گاڑیوں اور افراد کی سخت تلاشی لی جا رہی ہے۔

    پنجاب سے بلوچستان جانے والی تمام ٹریفک کو تا حکم ثانی بواٹہ چیک پوسٹ پر روک دیا گیا ہے۔ تمام داخلی و خارجی راستوں پر پیدل گشت، موبائل وائرلیس ٹیمز اور ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔

    کمشنر اشفاق چوہدری اور ڈپٹی کمشنر عثمان خالد نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ انتظامیہ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معصوم شہریوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور حکومت مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد نے شہداء کے اہلخانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ ہر ضلع کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ متاثرہ خاندانوں سے مکمل تعاون کیا جائے اور لاشوں کی تدفین و دیگر انتظامات سرکاری سطح پر کرائے جائیں۔

  • لاہور،مکان کی چھت گر گئی، 6 خواتین ملبے تلے دب گئیں

    لاہور،مکان کی چھت گر گئی، 6 خواتین ملبے تلے دب گئیں

    گوالمنڈی کے علاقے لاہور ہوٹل کے قریب ایک مکان کی بالائی منزل کی خستہ حال لکڑی کی چھت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں 6 خواتین ملبے تلے دب گئیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو حکام فوری طور پر جائے حادثہ پر پہنچ گئے اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

    ریسکیو اہلکاروں نے انتہائی مہارت سے ملبے کے نیچے دب گئیں تمام خواتین کو بچا کر انہیں طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا۔ حکام کے مطابق ملبے تلے دبنے والی خواتین کی شناخت ماریہ، نبیہ، مینال، جوریہ، بابرا اور فوزیہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ریسکیو حکام نے بتایا کہ مکان کی چھت لکڑی کی تھی جو کافی پرانی اور کمزور ہو چکی تھی، جس کی وجہ سے اچانک گرنے کا واقعہ پیش آیا۔ متاثرہ خواتین کی حالت نازک بتائی جاتی ہے اور انہیں فوری طبی امداد دی جا رہی ہے۔پولیس اور ریسکیو ٹیمیں واقعے کی وجوہات کا جائزہ لے رہی ہیں اور مکان کے مالک کے خلاف کارروائی کے امکانات بھی زیر غور ہیں۔ علاقہ مکینوں نے خستہ حال عمارتوں کی بروقت مرمت اور حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: کریانہ سٹور میں ڈکیتی، 15 لاکھ روپے لوٹ لیے، فائرنگ سے راہگیر شدید زخمی

    سیالکوٹ: کریانہ سٹور میں ڈکیتی، 15 لاکھ روپے لوٹ لیے، فائرنگ سے راہگیر شدید زخمی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض) تھانہ کوٹلی لوہاراں کے علاقے میں ڈکیتی کی سنگین واردات پیش آئی ہے، جہاں تین موٹر سائیکل سوار مسلح ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر بشیر کریانہ سٹور کو لوٹ لیا اور فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہو گئے۔

    ذرائع کے مطابق ڈاکو کریانہ سٹور سے 15 لاکھ روپے نقدی لوٹ کر فرار ہوئے۔ واردات کے بعد جب ڈاکو مراکیوال کی طرف جا رہے تھے تو متاثرہ شہری کے بھائی نے انہیں روکنے کی کوشش کی، جس پر ملزمان نے اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کی زد میں آ کر یاسین نامی راہگیر شدید زخمی ہو گیا جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    واقعہ کی اطلاع ملتے ہی تھانہ کوٹلی لوہاراں پولیس موقع پر پہنچی، زخمی کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے علاقے میں ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

    شہری حلقوں نے دن دیہاڑے ہونے والی اس واردات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کی جائے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • میپکو لائن مین کو رشوت خوری پر 8 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ

    میپکو لائن مین کو رشوت خوری پر 8 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ

    بہاولپور (باغی ٹی وی – نامہ نگار حبیب خان)میپکو لائن مین کو رشوت خوری پر 8 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ، ایف آئی اے کی بڑی کامیابی،
    بہاولپور میں سپیشل جج سینٹرل کی عدالت نے رشوت خوری کے ایک سنگین مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے میپکو کے سابق لائن مین زوار حسین کو مجرم قرار دیتے ہوئے 8 سال قید بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔

    تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کی ٹیم نے زوار حسین کو 10 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اس کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر درج ذیل سزائیں سنائیں

    انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت 7 سال قید بامشقت اور 5 لاکھ روپے جرمانہ،تعزیراتِ پاکستان کے تحت 1 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ

    یہ مقدمہ اسپیشل جج سینٹرل کیمپ بہاولپور، جج جلیل احمد نے سنا جبکہ ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل وقاص رضا نے استغاثہ کی مؤثر پیروی کی۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق یہ فیصلہ بدعنوانی کے خلاف ایف آئی اے کی زیرو ٹالرنس پالیسی کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے سرکاری اداروں میں کرپشن میں ملوث عناصر کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ قانون ان کے خلاف متحرک ہے، اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات جاری رہیں گے۔

  • اوچ شریف: ٹرین حادثے میں 12 سالہ بچہ جاں بحق، چھت گرنے سے ماں بیٹی زخمی

    اوچ شریف: ٹرین حادثے میں 12 سالہ بچہ جاں بحق، چھت گرنے سے ماں بیٹی زخمی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان)تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور کے مختلف علاقوں میں دو المناک حادثات نے فضاء کو سوگوار کر دیا۔ ایک جانب شالیمار ایکسپریس کی زد میں آ کر 12 سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا، تو دوسری جانب چھت گرنے کے واقعے میں ماں اور بیٹی زخمی ہو گئیں۔

    پہلا واقعہ اوچ شریف ریلوے پھاٹک پر پیش آیا، جہاں بہاولپور سے کراچی جانے والی شالیمار ایکسپریس کی زد میں آ کر 12 سالہ منیب ولد منیرجو کہ بستی کھور کا رہائشی تھا موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق منیب ریلوے لائن عبور کر رہا تھا کہ اچانک تیز رفتار ٹرین آ گئی اور وہ جان بچانے کا موقع نہ پا سکا۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی اور لاش کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا۔ واقعے کی اطلاع پر اہل علاقہ، رشتہ دار اور والدین جائے حادثہ پر پہنچے، جہاں کہرام برپا ہو گیا اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔

    دوسرا واقعہ احمد پورشرقیہ کے علاقے "حمزہ ٹاؤن” میں پیش آیا، جہاں ایک گاڈر ٹی آر والے مکان کی کچی چھت پر کنسٹرکشن جاری تھی کہ اچانک وزن زیادہ ہونے سے چھت زمین بوس ہو گئی۔ ریسکیو 1122 کنٹرول روم کے مطابق اس حادثے میں 13 سالہ آمنہ بی بی دختر محمد اکبر کو سر پر چوٹ آئی جبکہ 46 سالہ زاہدہ بی بی زوجہ محمد اکبر کے منہ پر زخم آئے۔ اہل خانہ نے دونوں زخمیوں کو ملبے سے نکال کر ریسکیو ٹیم کے پہنچنے سے پہلے ابتدائی طبی امداد دلوائی۔ ریسکیو عملے نے دونوں زخمیوں کو ٹی ایچ کیو احمد پور منتقل کر دیا۔

    شہریوں نے ان دونوں واقعات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ریلوے پھاٹکوں پر سیکیورٹی اور حفاظتی عملے کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے اور تعمیراتی کاموں میں حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کرایا جائے تاکہ آئندہ ایسے دردناک حادثات سے بچا جا سکے۔

  • سیالکوٹ: ڈسکہ روڈ گھوئینکی ندی کا منظر پیش کرنے لگا، کروڑوں کی گاڑیاں تباہ، متعدد شہری زخمی

    سیالکوٹ: ڈسکہ روڈ گھوئینکی ندی کا منظر پیش کرنے لگا، کروڑوں کی گاڑیاں تباہ، متعدد شہری زخمی

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، بیوروچیف شاہد ریاض)یہ کوئی دریائے چناب نہیں بلکہ سیالکوٹ کی مرکزی شاہراہ "ڈسکہ روڈ گھوئینکی” ہے جو حالیہ بارشوں کے بعد ندی نالے کا منظر پیش کر رہی ہے۔ یہ وہی اہم شاہراہ ہے جو سیالکوٹ کو لاہور موٹروے سے ملاتی ہے اور جہاں سے روزانہ وزراء، اعلیٰ بیوروکریٹس اور دیگر ہائی پروفائل افراد کا گزر ہوتا ہے۔

    اس سڑک کے دونوں اطراف کئی بڑی نجی ہاؤسنگ سوسائٹیاں قائم ہیں، لیکن اس کے باوجود سڑک پر گندے نالوں اور بارش کے پانی نے ایسی تباہی مچائی ہے کہ شہریوں کی کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ گندہ پانی چار سے پانچ فٹ گہرائی تک سڑک پر بہہ رہا ہے، جس کی وجہ سے موٹر سائیکل سواروں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ کئی افراد گر کر زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ کچھ شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے یا مستقل جسمانی معذوری کا شکار ہو گئے ہیں۔

    مقامی شہریوں کے مطابق یہ مسئلہ کئی برسوں سے موجود ہے مگر تاحال کسی حکومت یا ضلعی انتظامیہ نے اس کی طرف توجہ نہیں دی۔ حالانکہ یہ سڑک نہ صرف سیالکوٹ کی اہم ترین تجارتی راہداری ہے بلکہ اس سے گزرنے والے افراد میں اعلیٰ حکومتی عہدیدار بھی شامل ہیں، جو روزانہ اس خطرناک صورتحال سے گزرتے ہیں مگر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔

    اہل علاقہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے اس سنگین معاملے کا نوٹس لیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اس سڑک پر نکاسی آب کے نظام کو فوری بہتر نہ بنایا گیا اور ادھورے نالوں کی تعمیر مکمل نہ کی گئی تو یہ سڑک چند ہی ماہ میں مکمل طور پر ناقابلِ استعمال ہو جائے گی، اور کروڑوں روپے کی لاگت سے بنائی گئی انفراسٹرکچر ضائع ہو جائے گا۔

    شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ "ہم بھی اسی ملک کے شہری ہیں، ہمیں بھی جینے کا حق دیا جائے۔ یہ سڑک اگر حکومتی بے حسی کی نذر ہوئی تو اس کے ذمہ دار وہی ہوں گے جو روزانہ یہاں سے گزرتے ہیں مگر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔”

  • کہوٹہ اسپتال میں خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کا اسکینڈل، دو ملزمان گرفتار

    کہوٹہ اسپتال میں خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنا کر بلیک میل کرنے کا اسکینڈل، دو ملزمان گرفتار

    پنجاب کے ضلع راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ کے سرکاری اسپتال میں خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کرنے کے اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    گرفتار افراد میں ایکس رے روم کا ٹیکنیشن شکیل احمد اور اس کا ساتھی زین العابدین شامل ہیں۔دونوں ملزمان خواتین کے ساتھ نازیبا حرکات میں ملوث تھے اور قابل اعتراض ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کرتے رہے۔دو خواتین کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی وائرل کی جا چکی ہیں۔ملزمان کے قبضے سے موبائل فون اور لیپ ٹاپ برآمد کر لیے گئے ہیں جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے بھیجا گیا ہے۔حکام کے مطابق گرفتار گروہ نے درجنوں ویڈیوز تیار کیں۔

    محکمہ صحت راولپنڈی نے دونوں گرفتار ملازمین کو فوری معطل کر دیا ہے۔انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کی سربراہی میں 7 دن میں رپورٹ پیش کرے گی۔کمیٹی میں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹی ایچ کیو اور ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر بھی شامل ہیں۔سائبر کرائم وِنگ کے مطابق مزید گرفتاریاں متوقع ہیں کیونکہ گروہ کے دیگر ارکان بھی اس مکروہ دھندے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

    یہ افسوسناک واقعہ نہ صرف عوامی اداروں میں سیکیورٹی پر سوالیہ نشان ہے بلکہ خواتین کی پرائیویسی اور تحفظ کے حوالے سے بھی انتہائی تشویشناک ہے۔

    اداکارہ حمیرا اصغر کی میت کے لیے لواحقین کا حکام سے رابطہ، تدفین کل متوقع

    غزہ پر اسرائیلی بمباری جاری، 24 گھنٹوں میں 108 فلسطینی شہید

    سندھ پولیس میں بڑے پیمانے پر تبادلے اور تقرریاں، نوٹیفکیشن جاری

    بھارت کی اپنی آبی سلامتی کو چین کی طرف سے خطرات لاحق

  • اوکاڑہ: پولیس مقابلے میں 2 بین الصوبائی ڈاکو ہلاک، اسلحہ و موٹرسائیکل برآمد

    اوکاڑہ: پولیس مقابلے میں 2 بین الصوبائی ڈاکو ہلاک، اسلحہ و موٹرسائیکل برآمد

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ کے نواحی علاقے پیر دی ہٹی تھانہ سٹی دیپالپور کی حدود میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران دو بین الصوبائی ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔ ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت سمیر اور علی حسنین کے ناموں سے ہوئی ہے، جو پنجاب اور سندھ میں اقدامِ قتل، ڈکیتی، راہزنی سمیت کم از کم 20 سے زائد سنگین مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق چار مسلح ڈاکوؤں نے 38 ڈی کے علاقے میں ایک شہری سے اسلحے کے زور پر موٹر سائیکل چھین لی۔ واقعے کی اطلاع پر ایس ایچ او فخر حیات اور ان کی ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کا پیچھا کیا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ جوابی کارروائی میں دو ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی زد میں آکر موقع پر ہلاک ہو گئے جبکہ دو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    پولیس نے موقع سے چھینی گئی موٹرسائیکل اور اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ ہلاک ملزمان کا ریکارڈ کراچی، لاہور اور پاکپتن کے مختلف تھانوں میں درج ہے۔ فرار ملزمان کی تلاش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جبکہ دیپالپور سرکل کی بھاری نفری علاقے میں سرچ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہلاک ڈاکوؤں کی لاشیں اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں اور مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

  • ڈسکہ: پولیس مقابلے میں خطرناک ملزم انضمام عرف سانپ ہلاک

    ڈسکہ: پولیس مقابلے میں خطرناک ملزم انضمام عرف سانپ ہلاک

    ڈسکہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار ملک عمران)بمبانوالہ پولیس اور جرائم پیشہ افراد کے درمیان کلمہ چوک غالبکے کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں خطرناک ملزم انضمام عرف سانپ اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گیا، جبکہ اس کے دو ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق بمبانوالہ پولیس معمول کے گشت پر موجود تھی کہ اچانک تین موٹر سائیکل سوار افراد نے پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کر دی۔ ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے قریبی کھیتوں میں گھس گئے اور کافی دیر تک شدید فائرنگ کرتے رہے۔ پولیس کی جانب سے ہوائی فائرنگ سے جوابی کارروائی کی گئی۔

    فائرنگ کے تھمنے کے بعد پولیس کو کھیتوں میں ایک ملزم زخمی حالت میں ملا، جس کی شناخت انضمام ولد اللہ دتہ سکنہ اسلام نگر ڈسکہ کے نام سے ہوئی، جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر دم توڑ گیا۔ پولیس کے مطابق ہلاک ملزم ڈکیتی، راہزنی، موٹر سائیکل چوری، چھیننے اور اقدام قتل کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھا۔

    پولیس نے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر فرار ہونے والے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔ بمبانوالہ پولیس کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔