Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • پیوٹن کی جانب سے برطرفی کے چند گھنٹوں بعد روسی وزیر کی گولی لگی لاش برآمد

    پیوٹن کی جانب سے برطرفی کے چند گھنٹوں بعد روسی وزیر کی گولی لگی لاش برآمد

    روس کی تحقیقاتی کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ سابق وزیرِ ٹرانسپورٹ رومن ستارووئت نے پیر کے روز خودکشی کر لی، یہ واقعہ صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ان کی سرکاری برطرفی کے چند گھنٹوں بعد پیش آیا۔

    ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ستارووئت کی لاش ماسکو کے نواحی علاقے میں ملی، جہاں ان کی موت کی ممکنہ وجہ خودکشی قرار دی جا رہی ہے 53 سالہ رومن ستارووئت مئی 2024 سے روس کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، اس سے قبل وہ کورسک علاقے کے گورنر تھے، جہاں روس کو یوکرینی حملے کا سامنا رہا تھا۔

    روسی سرکاری میڈیا نے یہ قیاس آرائی بھی کی کہ ان کی برطرفی کورسک میں کرپشن اور سرحدی علاقے میں قلعہ بندیوں کے لیے مختص فنڈز کی خوردبرد سے متعلق ممکنہ مجرمانہ مقدمے سے جڑی ہو سکتی ہے،تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ رومن ستارووئت کار میں مردہ حالت میں پائے گئے، جسم پر گولی کا نشان تھا۔

    چاروں ہائیکورٹس کے چیف جسٹسز کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

    تحقیقاتی کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ آج سابق وزیرِ ٹرانسپورٹ رومن ستارووئت کی لاش ان کی نجی کار سے گولی کے زخم کے ساتھ اوڈنتسووو ضلع میں ملی ہے، اسے خودکشی کا کیس سمجھا جا رہا ہے۔

    اگرچہ روسی سرکاری میڈیا اور خبر رساں اداروں نے بتایا کہ ستارووئت نے خود کو گولی ماری، لیکن یہ واضح نہیں کہ ان کی موت کب ہوئی،چند گھنٹے پہلے ہی کریملن نے صدر پیوٹن کے دستخط شدہ حکم نامے کے ذریعے ستارووئت کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا اعلان کیا تھا اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ رومن ستارووئت کو وزیرِ ٹرانسپورٹ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    رومن ستارووئت کی برطرفی ایسے وقت پر ہوئی، جب یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد روسی ہوائی اڈوں پر سفری نظام درہم برہم ہو گیا تھا،اگرچہ روسی سرکاری میڈیا نے ان کی برطرفی کو کرپشن اور ممکنہ مقدمے سے جوڑا، تاہم کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ برطرفی’اعتماد کے خاتمے’ سے متعلق نہیں تھی۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا سلسلہ برقرار

    کریملن کی جانب سے ستارووئت کی برطرفی کے اعلان کے فوراً بعد صدر پیوٹن نے ان کے نائب آندرے نکیتن سے ملاقات کی اور انہیں قائم مقام وزیرِ ٹرانسپورٹ مقرر کر دیا۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ رومن اعتارووئت نے تقریباً پانچ سال تک روس کے کرُسک (Kursk) خطے کے گورنر کے طور پر خدمات انجام دیں، اس کے بعد مئی 2024 میں وہ وزیر ٹرانسپورٹ بنے۔ گورنر کے طور پر ان کے دور میں 2022 میں یوکرین کی سرحد پر دفاعی اقدامات کے لیے تقریباً 19.4 ارب روبل (تقریباً 246 ملین امریکی ڈالر) مختص کیے گئے تھے۔

    اس کیس نے اس وقت زور پکڑا جب ان کے جانشین اور سابق نائب، الیکسی سمرنوف کو رواں سال کے آغاز میں گرفتار کیا گیا اور ان پر دفاعی فنڈز میں خردبرد کے الزامات عائد کیے گئے۔ پیر کو روسی میڈیا نے اطلاع دی کہ سمرنوف نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ استررووئت بھی اس کرپشن میں ملوث تھے تاہم، سمرنوف کے وکیل نے اس پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا، اور استارووئت کے خلاف باضابطہ طور پر کوئی الزامات عائد نہیں کیے گئے تھے۔

    امریکا کی حزب اللّٰہ کو غیر مسلح کرنے کی سفارتی کوششیں، بیروت میں ملاقاتیں

    ٹرانسپورٹ انڈسٹری کے ایک ذرائع نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ استارووئت کا عہدہ کئی مہینوں سے نگرانی میں تھا استارووئت کا نام خاص طور پر کرُسک بارڈر پر حملے کے بعد بار بار سامنے آ رہا تھا، بہت سے لوگ یہ سوال اٹھانے لگے تھے کہ اتنی بھاری فنڈنگ کے باوجود ایسی کمزوری کیسے ممکن ہوئی؟

    رپورٹ کے مطابق استارووئت طلاق یافتہ تھے اور ان کی دو بیٹیاں تھیں۔

  • کراچی: نوبیاہتا لڑکی مبینہ جنسی تشدد کے بعد کوما میں، شوہر گرفتار

    کراچی: نوبیاہتا لڑکی مبینہ جنسی تشدد کے بعد کوما میں، شوہر گرفتار

    کراچی کے علاقے لیاری میں 19 سالہ نوبیاہتا لڑکی مبینہ طور پر شوہر کے ہاتھوں بہیمانہ جنسی تشدد کا نشانہ بننے کے بعد کوما میں چلی گئی، پولیس نے متاثرہ لڑکی کے بھائی کی شکایت پر شوہر کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کے مطابق، لڑکی کی شادی 15 جون 2025 کو لیاری کے علاقے شاہ بیگ لین میں اشوک موہن سے ہوئی تھی، اور شادی کے تیسرے روز ہی مبینہ طور پر تشدد کا آغاز ہوا۔ڈاکٹر سمیہ نے بتایا کہ لڑکی کو پہلے ایک نجی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا، بعدازاں حالت بگڑنے پر اسے سول اسپتال کراچی کے ایس ایم بی بی ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا جہاں وہ اب انتہائی تشویشناک حالت میں کوما میں ہے۔طبی معائنے کے نتائج جنسی تشدد کی تصدیق کرتے ہیں۔

    بغدادی تھانے میں درج ایف آئی آر کے مطابق، متاثرہ لڑکی کے بھائی سیّوں چانگو نے الزام عائد کیا ہے کہ 30 جون کو بہن کی طبیعت خراب ہونے پر وہ اسے واپس میکے لے آئے، جہاں اس نے انکشاف کیا کہ 17 جون کو شوہر نے اس کے ساتھ ’غیر فطری جنسی عمل‘ کیا اور مبینہ طور پر نازک اعضا میں آہنی پائپ ڈال کر اسے شدید زخمی کیا۔

    ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ اس کے بعد شوہر نے مزید تشدد کیا اور دھمکیاں دیں کہ اگر کسی کو بتایا تو سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔متاثرہ لڑکی کی بگڑتی حالت کے باعث اسے پہلے نجی اسپتال اور پھر 4 جولائی کو ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا جہاں وہ تاحال آئی سی یو میں زیر علاج ہے۔ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا کے مطابق، ملزم اشوک موہن کو گرفتار کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    لندن بم دھماکوں کے 20 سال مکمل، سینٹ پال کیتھڈرل میں دعائیہ تقریب

    جنوبی افریقہ کی اننگز ڈیکلیئر، برائن لارا کا 400 رنز کا ریکارڈ بچ گیا

    پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز نے مخصوص نشستوں کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا

    پی ٹی آئی کے الزامات،الیکشن کمیشن کا ردعمل سامنے آگیا

  • اوکاڑہ: یومِ عاشورہ پر ریسکیو 1122 کی شاندار کارکردگی، 686 عزاداران کو طبی امداد فراہم، 6 کو ہسپتال منتقل کیا گیا

    اوکاڑہ: یومِ عاشورہ پر ریسکیو 1122 کی شاندار کارکردگی، 686 عزاداران کو طبی امداد فراہم، 6 کو ہسپتال منتقل کیا گیا

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)یومِ عاشورہ کے موقع پر پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 نے ضلع بھر میں 27 ماتمی جلوسوں اور 14 مجالس کو میڈیکل کور فراہم کرتے ہوئے مجموعی طور پر 686 عزاداران کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احتشام کی زیرِ نگرانی اس ریسکیو آپریشن میں 680 عزاداروں کو موقع پر ہی طبی امداد دی گئی، جبکہ 6 عزاداروں کو حالت کی نزاکت کے پیش نظر مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق، تحصیل اوکاڑہ میں 13 جلوسوں اور 5 مجالس کے دوران 232 عزاداروں کو طبی امداد دی گئی، جن میں سے 4 کو بعد ازاں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تحصیل دیپالپور میں 8 جلوسوں اور 5 مجالس میں 279 افراد کو فوری طبی امداد مہیا کی گئی، جبکہ ایک عزادار کو ہسپتال لے جایا گیا۔ تحصیل رینالہ خورد میں 6 جلوسوں اور 4 مجالس کے دوران 169 افراد کو ریسکیو سروسز فراہم کی گئیں اور ایک شخص کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    ریسکیو آپریشن میں 20 ایمبولینسز، 57 موٹر بائیکس، 5 فائر وہیکلز، 329 سے زائد ریسکیورز اور 100 سے زائد تربیت یافتہ رضاکاروں نے حصہ لیا۔ ریسکیو ٹیموں نے ہر جلوس اور مجلس میں ایمبولینسز اور میڈیکل سٹاف کے ذریعے بروقت خدمات فراہم کیں۔

    سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر (ستارۂ امتیاز) کی ہدایات کے مطابق ضلع بھر میں تمام جلوسوں اور مجالس کو مکمل ایمرجنسی کوریج دی گئی۔ بہترین انتظامات اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرنے پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احتشام نے تمام ریسکیورز کو خصوصی شاباش دی اور ان کی خدمات کو سراہا۔

  • اوچ شریف: بہاول نہر میں 20 فٹ چوڑا شگاف، سینکڑوں ایکڑ فصلیں زیر آب، گھروں میں پانی داخل

    اوچ شریف: بہاول نہر میں 20 فٹ چوڑا شگاف، سینکڑوں ایکڑ فصلیں زیر آب، گھروں میں پانی داخل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے بستی جھبیل اور موضع دائم والا کے قریب بہاول نہر میں 20 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے زبردست تباہی پھیل گئی۔ سینکڑوں ایکڑ پر محیط زرعی زمین زیرِ آب آ گئی، جب کہ نہری پانی کئی گھروں میں بھی داخل ہو گیا، جس سے مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ متاثرہ کسانوں اور رہائشیوں نے محکمہ آبپاشی اور ضلعی انتظامیہ کی غفلت کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے مکمل تباہی کا ذمہ دار قرار دیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق شگاف رات تین بجے پڑا اور مقامی افراد نے فوری طور پر حکام کو اطلاع دی، مگر کئی گھنٹوں تک کوئی اہلکار موقع پر نہ پہنچا۔ کسان محمد رمضان نے بتایا کہ "ہم نے پوری رات فون کیے، لیکن کسی نے ہماری فریاد نہ سنی۔ اگر بروقت کارروائی ہوتی تو ہماری فصلیں بچائی جا سکتی تھیں۔” متاثرہ علاقوں میں کپاس، گنا اور دھان کی لاکھوں روپے مالیت کی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جبکہ گھروں میں پانی داخل ہونے سے مال مویشی اور گھریلو سامان بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔

    مکینوں کا کہنا ہے کہ محکمہ آبپاشی کے پاس نہ کوئی پیشگی ہنگامی منصوبہ تھا، نہ ہی موقع پر موجودگی نظر آئی۔ ایک محکمہ ایریگیشن کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "مرمتی ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں، لیکن تیز بہاؤ کام میں رکاوٹ بن رہا ہے۔” تاہم، مقامی افراد کے مطابق یہ اقدامات بہت تاخیر سے کیے گئے ہیں اور اب ان کا کوئی فائدہ نہیں رہا۔

    اہل علاقہ نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کو فوری امداد فراہم کی جائے اور محکمانہ غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کا تدارک ممکن ہو۔ اس سانحے نے احمد پور شرقیہ میں ایریگیشن نظام کی کمزوریوں اور انتظامیہ کی لاپروائی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

  • احمد پور شرقیہ: وین آتشزدگی میں ایک اور طالبہ جاں بحق، اموات کی تعداد 3 ہوگئی

    احمد پور شرقیہ: وین آتشزدگی میں ایک اور طالبہ جاں بحق، اموات کی تعداد 3 ہوگئی

    اوچ شریف (نامہ نگار، حبیب خان)احمد پور شرقیہ میں پانچ روز قبل پیش آنے والے طالبات کی وین آتشزدگی کے المناک واقعے میں جاں بحق ہونے والی طالبات کی تعداد تین ہو گئی ہے۔ نشتر ہسپتال ملتان میں زیر علاج 20 سالہ طالبہ ماریا بنت محمد اسلم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آج دم توڑ گئی۔ اس سے قبل دو طالبات، منازہ عرف طیبہ عباس اور اجالا بنت سلیم بھی جان کی بازی ہار چکی ہیں۔

    یہ افسوسناک حادثہ پانچ روز قبل احمد پور شرقیہ ٹول پلازہ کے قریب اس وقت پیش آیا جب نجی کالج کی 19 طالبات امتحان دینے کے بعد احمد پور شرقیہ سے لیاقت پور واپس جا رہی تھیں۔ طالبات سے بھری ہائی ایس وین میں نصب ناقص ایل پی جی سلنڈر اچانک لیک ہونے کے بعد زور دار دھماکے سے پھٹ گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری وین شعلوں کی لپیٹ میں آ گئی۔ دھماکے اور آگ کے باعث موقع پر ہی ایک طالبہ جاں بحق ہو گئی تھی جبکہ دیگر 10 طالبات بری طرح جھلس گئی تھیں، جن میں سے دو مزید دوران علاج دم توڑ چکی ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے بعد وین سے بلند ہوتے شعلے دور سے نظر آ رہے تھے، طالبات مدد کے لیے چیختی چلاتی رہیں لیکن خوفناک آگ نے اُنہیں بری طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ قریبی شہریوں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔ امدادی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پایا اور جھلسنے والی طالبات کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا۔ جن طالبات کی حالت تشویشناک تھی، اُنہیں نشتر ہسپتال ملتان ریفر کر دیا گیا جہاں مزید دو طالبات جاں بحق ہو گئیں۔

    جھلسنے والی طالبات میں ثنا بنت اللہ دتہ، ثنا بنت رمضان، تانیا بنت محمد بخش، مشعل بنت ظفر، امِ حبیبہ بنت طاہر، عائشہ بنت الٰہی بخش، راحت بی بی بنت غلام مرتضیٰ سمیت دیگر طالبات شامل ہیں جن کی عمریں 17 سے 25 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ واقعے کے بعد پولیس نے تین نجی کالجز کی انتظامیہ، وین کے مالک اور ڈرائیور کے خلاف غفلت، لاپرواہی اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے وین ڈرائیور سمیت دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر ذمہ داران کی تلاش جاری ہے۔

    حادثے کے بعد علاقے کی فضا سوگوار ہے، جاں بحق طالبات کے گھروں میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے اور والدین شدید صدمے سے دوچار ہیں۔ شہری حلقوں کی جانب سے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس حادثے کے ذمہ دار تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے، تاکہ آئندہ کسی ماں کی گود نہ اجڑے اور ایسے اندوہناک واقعات کا تدارک ممکن ہو سکے۔

  • ایبٹ آباد میں 13 سالہ  ملازمہ سے مبینہ زیادتی و قتل، ملزم گرفتار

    ایبٹ آباد میں 13 سالہ ملازمہ سے مبینہ زیادتی و قتل، ملزم گرفتار

    ایبٹ آباد کے علاقے حبیب اللہ کالونی میں 13 سالہ گھریلو ملازمہ کے مبینہ ریپ اور قتل کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گھر کے مالک کو گرفتار کر لیا ہے۔

    ترجمان ایبٹ آباد پولیس کے مطابق متاثرہ بچی ایک گھر میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کر رہی تھی۔ بچی کی لاش گزشتہ رات اسپتال منتقل کی گئی، جہاں ابتدائی طبی معائنے میں تشدد اور جنسی زیادتی کے شواہد ملے۔پوسٹ مارٹم ایوب میڈیکل کمپلیکس میں کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کی والدہ مانسہرہ میں مقیم ہیں اور ان کی شوہر سے علیحدگی 12 سال قبل ہوئی تھی۔ بچی کافی عرصے سے گھریلو ملازمت کر رہی تھی۔

    واقعے کی ایف آئی آر میرپور تھانے میں مقتولہ کے والد کی مدعیت میں عزیرات پاکستان کی دفعہ 302 (قتل کی سزا) اور 376 (ریپ کی سزا) اور خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعہ 53 (جنسی زیادتی) کے تحت درج کی گئی.

    فضائی نگرانی کی صلاحیت ، پاکستان کا چین سے KJ-500 طیارہ خریدنے کا فیصلہ

    روسی تیل بھارت کے لیے اب سستا سودا نہیں رہا، رعایتیں کم ہونے لگیں

    مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں ہرن ذبح کرنے کا واقعہ، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج

    خیبر پختونخوا سینیٹ انتخابات ، تحریک انصاف کو 3 کنفرم نشستوں سے محرومی کا خدشہ

  • ڈیرہ غازی خان: یوم عاشور پر 11 ہزار اہلکار تعینات، سیکیورٹی ریڈ الرٹ

    ڈیرہ غازی خان: یوم عاشور پر 11 ہزار اہلکار تعینات، سیکیورٹی ریڈ الرٹ

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواداکبر) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر ڈیرہ غازی خان ریجن میں 10 محرم الحرام یومِ عاشور کے موقع پر سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) کیپٹن (ر) سجاد حسن خان کی سربراہی میں جاری کیے گئے ریڈ الرٹ پلان کے تحت چاروں اضلاع میں مجموعی طور پر 449 روایتی اور لائسنس یافتہ جلوس اور 481 مجالس کی حفاظت کے لیے غیر معمولی سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی پلان کے تحت 40 ڈی ایس پیز، 79 انسپکٹرز، 446 سب انسپکٹرز سمیت 11 ہزار سے زائد پولیس افسران و اہلکاران تعینات کیے گئے ہیں، جب کہ امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کے ہمراہ پاک فوج اور رینجرز کے دستے بھی فیلڈ میں موجود ہیں۔ ایلیٹ فورس، کوئیک ریسپانس فورس، پنجاب کانسٹیبلری، ہائی وے پٹرول، اور 2943 رضاکار (Volunteers) بھی سیکیورٹی ڈیوٹی میں معاونت کر رہے ہیں۔

    آر پی او کیپٹن (ر) سجاد حسن خان خود فیلڈ میں موجود ہیں اور حساس امام بارگاہوں، مجالس اور مرکزی جلوسوں کے روٹس پر سیکیورٹی اقدامات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کے احکامات پر تمام اضلاع میں جلوس کے راستوں پر آنے والی گلیوں اور سڑکوں کو خاردار تاروں اور بیریئرز کے ذریعے مکمل سیل کر دیا گیا ہے، جب کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور اسپیشل برانچ کے ذریعے سکریننگ اور سکیننگ کا عمل بھی جاری ہے۔

    ریجن بھر میں 1290 سی سی ٹی وی کیمروں، سرویلنس گاڑیوں اور ڈرون کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔ جلوس کے راستوں پر موجود بلند عمارتوں پر سنائپرز تعینات کیے گئے ہیں، اور سادہ لباس اہلکاروں کو بھی سول پوشاک میں ڈیوٹی پر مامور کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی پر فوری ردِ عمل ممکن ہو۔

    بین الصوبائی سرحدوں اور چیک پوسٹوں کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر سخت سیکیورٹی چیکنگ اور جدید سائنسی طریقہ کار کے تحت اسکیننگ کا عمل جاری ہے۔

    آر پی او نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ تمام ضلعی پولیس سربراہان خود فیلڈ میں موجود رہیں اور سیکیورٹی پلان پر سو فیصد عمل درآمد یقینی بنائیں۔ انہوں نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، اسلحہ کی نمائش، لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی یا کسی بھی قانون شکنی پر بلاتفریق فوری کارروائی کے احکامات دیے ہیں۔ سپروائزری افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈیوٹی پر مامور اہلکاروں کو حساسیت سے آگاہ کرتے ہوئے مکمل بریفنگ دیں، اور طے شدہ معاہدوں، روٹس اور اوقات کی مکمل پابندی کو یقینی بنائیں۔

    یومِ عاشور کے موقع پر امن و امان کی فضا کو قائم رکھنے کے لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل طور پر متحرک اور الرٹ ہیں۔

  • اوچ شریف: جوس کارنر والانوجوان کرنٹ لگنے سے جاں بحق

    اوچ شریف: جوس کارنر والانوجوان کرنٹ لگنے سے جاں بحق

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)وچ شریف شہر کی معروف جوس شاپ "شاکر جوس کارنر” کے مالک نوجوان محمد شاکر حسین افسوسناک حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ المناک واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وہ معمول کے مطابق اپنی دکان پر جوس تیار کر رہے تھے کہ اچانک بجلی کا کرنٹ لگ گیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق حادثہ اچانک پیش آیا اور وہاں موجود افراد نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔ امدادی ٹیم نے بروقت پہنچ کر ابتدائی طبی امداد (سی پی آر) فراہم کی اور زخمی نوجوان کو شدید نازک حالت میں مریم نواز شریف ہسپتال اوچ شریف منتقل کیا، جہاں وہ جانبر نہ ہو سکے اور خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

    نوجوان کی ناگہانی موت کی خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، جس پر فضا سوگوار ہو گئی۔ علاقہ مکینوں اور کاروباری برادری نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔

    مرحوم محمد شاکر حسین کی نمازِ جنازہ دربار حضرت جمال درویش میں ادا کی گئی، جس میں سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات سمیت اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے غمزدہ خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کے بلند درجات کے لیے دعا کی۔

    واضح رہے کہ محمد شاکر حسین نہ صرف ایک محنتی کاروباری نوجوان تھے بلکہ اپنے اخلاق اور خوش اخلاقی کی وجہ سے عوام میں خاص مقبولیت رکھتے تھے۔ ان کی ناگہانی وفات نے شہر بھر کو غم کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

  • لکی مروت میں سی ٹی ڈی کی کارروائی ، 3 دہشتگرد ہلاک

    لکی مروت میں سی ٹی ڈی کی کارروائی ، 3 دہشتگرد ہلاک

    لکی مروت میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی ) کی کارروائی میں 3 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔

    سی ٹی ڈی حکام کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف کارروائی سرائے نورنگ بھیٹنی نہر کے قریب کی گئی ، ہلاک دہشت گرد پولیس و قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملوں میں مطلوب تھے،دہشتگردوں سے مقابلہ آدھے گھنٹے تک جاری رہا ، ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے 4 دستی بم، کلاشنکوف، کارتوس اور 2 موبائل فون برآمد کر لئے گئے،ہلاک دہشتگردوسیم اللہ عرف عمر خطاب، قدرت اللہ عرف ابوبکر اور ہجرت اللہ عرف ہجرت حرام تالہ گمبیلا لکی مروت کےرہائشی ہیں، تینوں دہشت گرد ایل ایچ سی وحید اللہ، ٹریفک کانسٹیبل انور شیر اور سپاہی ادریس کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق کامیاب کارروائی کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ساتھی یا سہولت کار کو گرفتار کیا جا سکے، دہشت گردوں کی ہلاکت سے علاقے میں دہشت گردی کی ایک بڑی سازش ناکام بن گئی ہے، اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایسی کارروائیاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔

  • دیپالپور: سرکاری ادویات چوری کا اسکینڈل بے نقاب، مرکزی ملزم گرفتار، لاکھوں مالیت کی دوا برآمد

    دیپالپور: سرکاری ادویات چوری کا اسکینڈل بے نقاب، مرکزی ملزم گرفتار، لاکھوں مالیت کی دوا برآمد

    اوکاڑہ (نامہ نگار، ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی خصوصی ہدایت پر اسسٹنٹ کمشنر دیپالپور نعیم بشیر نے سرکاری ادویات کی چوری میں ملوث گینگ کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران سرکاری ادویات چوری کے مرکزی ملزم نعیم اللہ ولد سخی محمد کو گرفتار کر لیا گیا، جس کے قبضے سے سات اقسام کی لاکھوں روپے مالیت کی سرکاری ادویات برآمد کر لی گئیں۔

    تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ملزم نعیم اللہ سوشل سکیورٹی ہسپتال لاہور میں ملازمت کے دوران سرکاری ادویات چوری کر کے مقامی نجی فارمیسیز کو فروخت کرتا رہا۔ مزید تفتیش کے دوران سرویڈ فارمیسی حویلی لکھا سے بھی بھاری مقدار میں چوری شدہ ادویات برآمد کی گئیں، جس پر اس غیرقانونی کاروبار میں ملوث فارمیسی کو موقع پر ہی سیل کر دیا گیا۔

    اسسٹنٹ کمشنر نعیم بشیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ سرکاری ادویات کی چوری ایک سنگین جرم ہے اور اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ صرف چوروں کے خلاف بلکہ چوری شدہ دوا خریدنے اور بیچنے والی فارمیسیز کے خلاف بھی قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

    پولیس نے مرکزی ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر کے مزید شواہد اکٹھے کرنے اور ملوث گروہ کی مکمل تحقیقات کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرکاری وسائل کے تحفظ اور عوامی صحت کے حق میں اس قسم کے جرائم کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔