Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • جامعہ کراچی دھماکا: سہولت کاری کے شبے میں ایک طالبعلم زیرحراست

    جامعہ کراچی دھماکا: سہولت کاری کے شبے میں ایک طالبعلم زیرحراست

    کراچی: جامعہ کراچی میں ہونے والے خودکش بم دھماکے میں سہولت کاری کے شبے میں تفتیشی حکام نے ایک طالبعلم کو حراست میں لے لیا۔

    باغی ٹی وی : تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ جامعہ کراچی میں خودکش حملہ کرنے والی خاتون بمبار کی سہولت کاری کے شبے میں گلشن اقبال سے ایک طالبعلم کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

    اداروں کیخلاف وال چاکنگ کرنے والا ملزم گرفتار

    ذرائع کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے طالبعلم کے قبضے سے کچھ غیر ملکی لٹریچر اور لیپ ٹاپ بھی برآمد ہوا ہے جس سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ سے متعلق کچھ مواد بھی حاصل ہوا ہے جبکہ زیر حراست طالبعلم سے تفتیش کے لیے ایف آئی اے سائبر کرائم سے بھی مدد حاصل کی جا رہی ہے۔

    تفتیشی حکام کا بتانا ہے کہ زیر حراست شخص نے مبینہ طور پر خودکش حملہ آور خاتون کو ریکی کرنے میں سہولت فراہم کی تھی۔

    دوسری جانب سابق جامعہ کراچی کے سابق کیمپس سیکیورٹی ایڈوائزر ڈاکٹر معیز خان نے گزشتہ روز جامعہ میں نصب کیمروں کی تفصیلی رپورٹ قائم مقام وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصرہ خاتون کوجمع کروادی ہے۔

    کراچی،خاتون حملہ آور حملے سے ایک روز قبل بھی دھماکا کرنے گئی تھی،ویڈیو وائرل

    رپورٹ میں کہا گیا کہ جامعہ کراچی میں گزشتہ چند سالوں سے سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب میں بتدریج اضافہ ہوا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں تمام داخلی اور خارجی دروازوں پر کیمروں کی تنصیب تھی جامعہ کراچی میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی آمد ورفت کے لئے چار دروازے مختص ہیں جس میں سلور جوبلی گیٹ،شیخ زید اسلامک سینٹر، مسکن اور میٹرول گیٹ شامل ہیں جبکہ ایوب گوٹھ کی طرف سے صرف ایک گیٹ ہے جو صرف پیدل آمد ورفت کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان تمام گیٹس پر چارچار کیمرے نصب ہیں جو مکمل طور پر فعال ہیں، اس کے علاوہ جامعہ کی مرکزی سڑکوں اور سٹرکوں سے متصل شعبہ جات پر بھی جگہ جگہ کیمرے نصب ہیں جس کے ذریعے سڑکوں کی کوریج کی جاتی ہے نصب کیمروں کی تفصیل کچھ یوں ہیں مسکن گیٹ پر چار کیمرے اس کے ساتھ ساتھ آئی بی اے بوائز ہاسٹل،کراچی یونیورسٹی بزنس اسکول، کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ، آئی بی اے کے مرکزی دروازے پر اور گیٹ نمبر ایک پر بھی کیمرے نصب ہیں اس کے ساتھ ساتھ فارمیسی چوک پر چار کیمرے نصب کیے ہیں۔

    جامعہ کراچی میں خودکش حملے کی تفتیش میں اہم پیشرفت

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی طرح شعبہ ٹرانسپورٹ، ایچ ای جے، فوڈسائنس اینڈ ٹیکنالوجی، مسجد ابراہیم، سردار یاسین ملک پروفیشنل ڈیولپمنٹ سینٹر،کراچی یونیورسٹی کلینک، سیکیورٹی آفس، مجید ہوٹل،گرلز ہاسٹل، آزادی چوک، یوبی ایل بینک،مائیکروبائیولوجی، فارمیسی، ماس کمیونیکیشن اورمیٹروول گیٹ پرکیمرے نصب ہیں اورحادثے والےدن یہ تمام کیمرے فعال تھے ماسوائے فارمیسی چوک کےچارکیمروں کے اور آج تک حادثے سے متعلق ہونے والی پیش رفت ان کیمروں ہی کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں مختلف شعبہ جات میں بھی کیمرے لگے ہوئے ہیں۔

    پنجاب یونیورسٹی سے گرفتاری،ساتھی طالب علموں کا احتجاج

    ان تمام کیمروں کا الگ سے کوئی کنٹرول روم نہیں بلکہ ہر جگہ کاریکارڈنگ سسٹم وہیں نصب ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ جامعہ کا طویل رقبہ ہے مسکن گیٹ سے شیخ زید تک تین کلو میٹر کا طویل راستہ ہے اور اگراتنی لمبی تاروں کا سسٹم ڈالاجائے تو اس میں آئے دن خامیاں آتی رہیں گی جس کی وجہ سے مختلف مقامات پر ریکارڈنگ کا نظام وضع کیا گیا ہےکیمروں کے فعال نہ ہونے اور کیمروں کی عدم تنصیب کے حوالے سے مختلف ذرائع ابلاغ پر چلنے والی خبریں پروپیگنڈا اور قیاس آرائیاں ہیں جامعہ کراچی ملک کی ایک بڑی اور نامور جامعہ ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اپنے ملک اور جامعہ کانام روشن کررہے ہیں۔

    گزشتہ دنوں جامعہ کراچی میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور زیر گردش تھیں جس پر جامعہ کی انتظامیہ نے سابق سیکیورٹی انچارج سے رپورٹ طلب کی تھی۔

    یاد رہے کہ منگل کی دوپہر کراچی یونیورسٹی میں چین کے اساتذہ کو لے جانے والی وین کو خودکش بمبار نے دھماکے سے اڑادیا جس کے نتیجے میں تین چینی باشندے اور ایک پاکستانی شہری جاں بحق ہوگیا تھا۔

    کراچی یونیورسٹی دھماکہ،خودکش بمبار خاتون کی آخری ٹویٹ زیر بحث

  • توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد فواد چودھری قاسم سوری شہباز گل کے خلاف دفعہ 295 کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

    مقدمے میں جہانگیر ۔انیل مسرت سمیت دیگر ملزمان کو بھی نامزد کیا گیا ہے

    مقدمہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں درج کیا گیا ہے ۔مقدمہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دوران مسجد نبوی میں نازیبا نعروں کو بنیاد بنا کر درج کیا گیا ہے۔ درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ سارا وقعہ منصوبہ بندی ہے تحت ہوا ۔ پی ٹی آئی رہنما وہاں موجود تھے شیخ رشید و دیگر نے منصوبہ بندی کی تھی واقعہ سے مسلمانون کی دل آزاری ہوئی نعرے لگائے گئے جہان عبادت ہوتی ہے پی ٹی آئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ویڈیو شیئر ہوئیں جہانگیر اور انیل مسرت موجود تھے شیخ راشد شفیق کی ویڈیو بھی آئی سارا واقعہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا اور اس مجرمانہ فعل میں عمران خان شہباز گل فواد چودھری شیخ رشید قاسم سوری کا کردار ہے ان پر مقدمہ درج کیا جاءے پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج 296 کے تحت درج کر لیا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں نامزد افراد کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے دوران نازیبا واقعہ پیش آیا مسجد نبوی میں نعرے لگائے گیے مریم اورنگزیب شاہ زین بگٹی سے بدتمیزی کی گئی واقعہ کے بعد سعودی حکام نے ایکشن لیا اور چند شرپسندون کو گرفتار کیا ۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ سعودی حکام سے ان افراد کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کریں گے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر گزشتہ دو روز سے صارفین سراپا احتجاج ہیں اور ملزمان کے خلاف کاروائی ا مطالبہ کر رہے ہیں پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتوں نے بھی واقعہ کی شدید مذمت کی ہے

    واقعہ پر اسلام آباد اور دیگر کئی شہرون میں بھی اندراج مقدمہ کی درخواستیں دی گئی ہیں جن پر ابھی تک مقدمہ درج نہیں ہو سکا البتہ فیصل آباد میں مقدمہ درج ہو گیا ہے

  • بحریہ سول سینٹر میں دو خواتین سے موبائل اور پرس چھیننے والا جوڑا گرفتار

    بحریہ سول سینٹر میں دو خواتین سے موبائل اور پرس چھیننے والا جوڑا گرفتار

    اسلام آباد: بحریہ سول سینٹر میں دو خواتین سے موبائل اور پرس چھین لیا گیا۔ موٹرسائیکل پر سوار ببلو اور ببلی نے بحریہ ٹاؤن سکیورٹی کو تگنی کا ناچ نچا دیا۔ سی سی ٹی وی کیمروں سے بچنے کیلئے ببلو نے اپنی ببلی کے ساتھ ہیوی موٹرسائیکل پر ہیلمٹ پہن کر سکیورٹی کو گلی گلی نچایا لیکن کرنل (ر) رفاقت کی نگرانی میں آخرکار بحریہ ٹاؤن سکیورٹی نے جوڑا گرفتار کر کے پولیس تھانہ لوہی بھیر کے حوالے کر دیا۔

     

    موبائل، پرس برآمد۔ ببلی ایک خوبصورت لڑکی کے روپ میں ہیجڑا نکلی۔ جمعرات کی رات کو بحریہ ٹاؤن سکیورٹی کو کال موصول ہوئی کہ دو خواتین جو بحریہ ٹاؤن فیز فور میں واک کر رہی تھیں۔ ایک موٹرسائیکل پر سوار ایک مرد اور عورت نے ان کے پرس اور موبائل چھین لئے ہیں۔ اطلاع ملتے ہی بحریہ ٹاؤن کے تمام گیٹ اور سکیورٹی سٹاف کو آگاہ کر کے گیٹ بند کر دئیے گئے اور تلاش شروع کر دی گئی۔بلال نامی شخص کی والدہ اور بہن نے بتایاکہ مرد نے سفید شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور کافی لمبے بال تھے جبکہ لڑکی نے کالے رنگ کا لباس پہن رکھا تھا۔

     

     

    سی سی ٹی وی کیمروں سے اس موٹرسائیکل جوڑے کی انٹری سے لیکر ایک مسجد کی پارکنگ میں موٹرسائیکل چھوڑ کر بھاگنے کی تمام فوٹیج نکال لی گئیں۔مکان نمبر912 کے قریب ایک خالی پلاٹ سے وہ پرس خالی پڑا ہوا مل گیا جو چھینا گیا تھا۔ تھوڑی تلاش کے بعد کالے لباس میں لڑکی کو بھی پکڑ لیا گیا جو ببلی نامی ہیجڑا نکلی اس نے بتایا کہ اس کا ساتھی خطرناک گروہ کا سرغنہ ہے جو جڑواں شہروں میں متعدد وارداتوں میں ملوث ہے۔ اچانک ایک گھر کی چھت سے فائر ہوا۔

    سکیورٹی والوں کے جوابی فائرنگ کی تو فلمی انداز میں لمبے بالوں والے ڈکیت نے ایک سے دوسرے گھروں کی چھتیں پھلانگتے ہوئے فرار کی کوشش کی جسے بڑی جدوجہد کے بعد اور ملزم کے پاس گولیاں ختم ہونے پر اسے گرفتار کرلیا گیا۔ اس ساری واردات اور ملزم کے ساتھ سکیورٹی سٹاف کی فائرنگ سے سینکڑوں رہائشی اپنے گھروں سے نکل آئے اور ایک خوف کا ماحول بنا دیا۔ دونوں ملزمان کو پولیس تھانہ لوہی بھیر کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ایس ایچ او کمال خان نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ تفتیش کے بعد یقینا ان وارداتوں کا بھی انکشاف ہوگا جو یہ کر چکے ہیں۔ گرفتارملزم ڈھوک رتہ کا رہائشی ہے۔

    بحریہ ٹاؤن نے کرنل (ر) رفاقت اور دیگر سکیورٹی سٹاف کی جرات اور بہادری کی تعریف کرتے ہوئے آئی جی اسلام آباد سے مطالبہ کیا ہے کہ سوک سنٹر میں مساج سنٹرز کے ساتھ دیگر غیراخلاقی سرگرمیوں کو بند کیا جائے تاکہ جرائم پیشہ افرادکا یہاں سے خاتمہ ہوسکے۔

    ادھرایس پی کے خلاف ایک خاتون پولیس اہلکار کو ہراس کرنے کی شکایت ہوئی تھی۔آئی جی اسلام آباد نے اس شکایت پرنوٹس لیا

    آئی جی اسلام آباد نے شکایت کی میرٹ اور شفاف انکوائری کے لیے پانچ افسران جن میں ایک خاتون افسر بھی شامل ہیں پہ مشتمل اینٹی ہراسمنٹ کمیٹی کو مارک کی

    ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز، ڈی آئی جی آپریشنز، ایس ایس پی سکیورٹی، ایس پی پیڈ کوارٹرز اور ڈی ایس پی لیگل پر مشتمل کمیٹی نے معاملے کی مکمل تحقیقات کیں اور ایس پی صاحب کے خلاف الزامات گو درست قرار دیا۔

    مذکورہ ایس پی انکوائری کمیٹی میں اپنے خلاف شکایات کا دفاع کرنے سے قاصر رہے۔

    انکوائری کمیٹی نے اپنے فیصلے میں ایس پی کو قصور وار ٹھہرایا جس پر ان کے خلاف محکمانہ کاروائی کا تحرک کیا گیا ہے۔تمام پولیس افسران کو اپنے کنڈکٹ کے متعلق جوابدہ ہونا ہوگا،

    محکمہ پولیس کی بدنامی کا باعث بننے والے افسران کو سخت محکمانہ احتساب کا سامنا کرنا پڑے گا،

  • اداروں کیخلاف وال چاکنگ کرنے والا ملزم گرفتار

    اداروں کیخلاف وال چاکنگ کرنے والا ملزم گرفتار

    اداروں کیخلاف وال چاکنگ کرنے والا ملزم گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قومی سلامتی اداروں کے خلاف وال چاکنگ پر پولیس نے کاروائی کی ہے اور ملزم کو گرفتار کر لیا ہے

    واقعہ راولپنڈی کا ہے، پولیس نے قومی سلامتی اداروں کے خلاف دیوار پر تحریر لکھنے پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کے ملزم کو حوالات منتقل کر دیا ہے، پولیس کے مطابق تھانہ روات پولیس نے کاروائی کی ہے، پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ تھانے کی حدود میں قومی سلامتی اداروں کے خلاف جملے درج کئے گئے ہیں جس پر پولیس نے ایکشن لیاہے اور ملزم کو گرفتار کیا ہے،

    پولیس حکام کے مطابق روات پولیس نے دیوار پر اشتعال انگیز الفاظ کی تحریر سامنے آنے پرمقدمہ درج کیا اور ملزم سلیمان خالد کو ٹریس کرکے گرفتارکرلیا ،ملزم کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے پہچانا گیا ہے، ملزم کومیرٹ پر تفتیش کرتے ہوئے ٹھوس شواہدکے ساتھ چالان عدالت کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ قومی سلامتی اداروں کے خلاف سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بھی مہم چلانے والوں کو گرفتار کیا گیا ہے، اہم شخصیات اور اداروں کے‌خلاف سوشل میڈیاپر ٹرینڈ چلانے والوں کی فہرستیں تیار ہو گئی ہیں سوشل میڈیا پر اداروں کے خلاف سرگرم عمل صارفین کو نہ صرف گرفتار کیا جائے گا بلکہ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کئے جائیں گے ، اس ضمن میں پنجاب کے تمام شہروں میں اداروں پر تنقید کرنے والوں کی لسٹیں فراہم کر دی گئی ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہو چکے ہیں،دوسری جانب اداروں پر تنقید کرنے والے تحریک انصاف کے کئی سوشل میڈیا کارکنان روپوش ہو چکے ہیں لاہور کے اندر کئی کارکنان نے ٹویٹر کا استعمال چھوڑ دیا ہے اور گرفتاری کے ڈر سے گھروں سے روپوش ہیں،پولیس مسلسل چھاپے مار رہی ہے تا ہم گرفتاریاں کئی افراد کی روپوشی کی وجہ سے نہیں ہو سکیں

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    ہمارا سوشل میڈیا کا کوئی کارکن یا زمہ دار گرفتار نہیں،ترجمان تحریک لبیک پاکستان

    اداروں پر تنقید کرنیوالے گرفتاری کے خوف سے روپوش ہو گئے

    سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کو ہراساں کرنے پر عدالت کا بڑا حکم

  • راولپنڈی گیس کی مین پائپ لائن میں دھماکا  5  بچے جھلس گئے

    راولپنڈی گیس کی مین پائپ لائن میں دھماکا 5 بچے جھلس گئے

    پشاور: بالا کوٹ میں پارس کے مقام پر رہائشی مکان میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ نے قریب واقع مسجد کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا آتشزدگی کے باعث جامع رہائشی مکان جل کر خاکستر ہوگیا آگ لگنے کی اطلاع ملنے کے بعد ریسکیو ٹیمیں آگ پر قابو پانے کے لئے موقع پر پہنچ گئیں۔

    کراچی،خاتون حملہ آور حملے سے ایک روز قبل بھی دھماکا کرنے گئی تھی،ویڈیو وائرل


    دوسری جانب راولپنڈی میں کوہ نور مل محلہ قاسم آباد میں گیس کی مین پائپ لائن میں دھماکا ہوگیا جس کے نتیجے میں 5 بچے جھلس گئے۔

    اہل علاقہ کے مطابق گلی میں عرصہ دراز سے گیس کی مین پائپ لائن سے گیس لیک ہو رہی تھی۔ محکمہ سوئی گیس حکام کو سینکڑوں شکایات کیں لیکن گیس پائپ لائن کی مرمت نہ کی جا سکی آج صبح سویرے اچانک گیس پائپ لائن پھٹ گئی جس سے 5 بچے جھلس گئے۔

    پولیس انسپکٹر کے بیٹے کا ملازمہ پر تشدد

  • مسجد نبوی واقعہ کا ذمہ دار شیخ رشید پر مقدمہ درج کیا جائے،عدالت میں درخواست

    مسجد نبوی واقعہ کا ذمہ دار شیخ رشید پر مقدمہ درج کیا جائے،عدالت میں درخواست

    مسجد نبوی واقعہ کا ذمہ دار شیخ رشید پر مقدمہ درج کیا جائے،عدالت میں درخواست
    سیشن کورٹ اسلام آباد میں سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 14 مئی تک جواب طلب کر لیا ،درخواست گزار نے کہا کہ وزیر اعظم نے کابینہ کے ساتھ عمرہ ادائیگی کا اعلان کیا،شیخ رشید نے پریس کانفرنس میں کہا جہاں بھی جائیں گے عوام انہیں چور کہے گی،28اپریل کو مدینہ میں سیاسی نعرے بازی کا مرکزی کردار شیخ رشید ہے،عدالت شیخ رشید کے خلاف مقدمہ درج کرنیکا حکم دے،

    قبل ازیں مسجد نبوی ﷺ کے تقدس کی پامالی کا بدترین واقعہ پیش آنے پر عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے خلاف اندراج مقدمہ کے لئے درخواست تھانہ سیکریٹریٹ اسلام آباد میں جمع کرا دی گئی۔

    درخواست تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ پاکستان کے سینئر نائب صدر شیراز احمد فاروقی اور جنرل سیکریٹری حافظ احتشام احمد کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے۔ درخواست میں سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید پر شرپسندوں کو مسجد نبوی ﷺ کے تقدس کی پامالی پر اکسانے اور اس کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام ہے.

    درخواست میں شیخ رشید احمد وغیرہ کے خلاف مسجد نبوی ﷺ کے تقدس کی پامالی کے واقعہ کا مقدمہ فوری طور پر درج کرتے ہوئے قانون کے مطابق سخت ترین کاروائی کی استدعا کی گئی ہے.

    دوسری جانب مسجد نبوی میں وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کے ساتھ ہونے والے نازیبا سلوک کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آیا ہے سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے بھتیجے شیخ راشد شفیق اس وقت سعودی عرب میں ہیں اور عمرہ کی ادائیگی کے بعد وہیں ہیں،گزشتہ روز نازیبا واقعہ ہوا تو اسکے بعد شیخ راشد شفیق نے اپنا ایک ویڈیو پیغام شیئر کیا ہے جس کے بعد سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ شیخ راشد ہی اس واقعے میں ملوث ہیں اور شیخ رشید کے کہنے پر انہوں نے ایسا کیا ہے، کیونکہ گزشتہ روز شیخ رشید نے میڈیا ٹاک میں کہا تھا کہ کہ یہ لوگ حرم جائیں، دیکھئے انکے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے، شیخ رشید بھی کراچی جلسہ کے بعد عمرہ کر کے آئے ہیں،مبینہ اطلاعات کے مطابق باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ لوگوں کو پیسے دے کر یہ کام کروایا گیا اور اس مین عمران خان کے ایک قریبی دوست بھی شامل ہیں

    علاوہ ازیں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر #شیخ_رشید_کوگرفتارکرو ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے، صارفین مسجد نبوی واقعے پر شیخ رشید کو ذمہ دار ٹھہرا کر گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    سابق وزیراعلیٰ سندھ کی بیٹی پروفیسر ڈاکٹر بھی کرونا کا شکار

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، مولانا طارق جمیل بھی خاموش نہ رہ سکے

    مسجد نبوی واقعہ توہین رسالت کے زمرے میں‌ آتا ہے، مبشر لقمان کے فین کی قوم سے اپیل

    مسجد نبوی کو جلسہ گاہ بنانیوالو شرم کرو، بے حرمتی کا سازشی پکڑا گیا، مبشر لقمان پھٹ پڑے

    مسجد نبوی میں نازیبا نعرے، رانا ثناء اللہ نے بڑا اعلان کر دیا

    سینکڑوں پیغامات موصول ہوئے کہ حکومت ایکشن کیوں نہیں لے رہی۔ مریم نواز کا ردعمل

    سعودی عرب میں گرفتاریوں کی ویڈیو

    شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق مسجد نبوی میں واقعہ کی خود نگرانی کرتے رہے

  • کراچی،خاتون حملہ آور حملے سے ایک روز قبل بھی دھماکا کرنے گئی تھی،ویڈیو وائرل

    کراچی،خاتون حملہ آور حملے سے ایک روز قبل بھی دھماکا کرنے گئی تھی،ویڈیو وائرل

    کراچی،خاتون حملہ آور حملے سے ایک روز قبل بھی دھماکا کرنے گئی تھی،ویڈیو وائرل
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی یونیورسٹی حملے کے حوالہ سے تحقیقات جاری ہیں

    قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہیں اور تحقیقات کا سلسلہ وسیع تر کیا گیا ہے، تحقیقات میں نئے انکشافات بھی سامنے آ رہے ہیں، نجی ٹی وی کے مطابق کراچی یونیورسٹی خودکش دھماکے میں ملوث سہولت کاروں کے خلاف کارروائی جاری ہے، سیکورٹی اداروں نے گزشتہ شب کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں کاروائی کی ہے اور ایک ایم فل کے طالب علم کو گرفتار کیاہے،ملزم کے زیراستعمال لیپ ٹاپ اور غیرملکی لٹریچر بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے، حملے کی تحقیقات کرنے والے تحقیقای ٹیم نے ایف آئی اے سائبر کرائم سے بھی رابطہ کیا جس کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ سے متعلق مواد بھی ملا ہے حملے میں ملوث افراد سوشل میڈیا سے رابطہ کرتے تھے

    دوسری جانب خاتون خود کش حملہ آور کےبارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ دھماکے سے ایک روز قبل بھی اس مقام پر آئی تھی جہاں دھماکہ ہوا ،وہ برقعے میں ہی تھی اور گاڑی کا انتظار کرتی رہی، جب گاڑی آئی تو خاتون حملہ آور اس کے قریب آئی تا ہم وہ دھماکہ نہ کر سکی، جس کے بعد وہ اسی مقام پر ٹہلتی رہی ، واقعہ کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں سارا واضح دیکھا جا سکتا ہے،

    تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش کاروں نے مختلف کارروائیوں میں اہم دستاویزات برآمد کی ہیں جس میں خود کش بمبار خاتون کی اہلخانہ کے ہمراہ تصاویر ملی ہیں کارروائی میں خاتون کے شوہر کا قومی شناختی کارڈ بھی ملاہے جب کہ رات گئے کارروائی میں غیرملکی سمیں بھی برآمد کی گئیں

    سیکورٹی اداروں نے شہر قائد کراچی کے مختلف علاقوں میں آپریشن کے دوران ایک درجن سے زائد مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی دو افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے خودکش حملہ میں ملوث خاتون شاری بلوچ کے گھر سمیت تین رشتہ داروں کے گھروں پر چھاپے بھی مارے گئے ہیں کارروائی میں لیپ ٹاپ سمیت اہم دستاویزات کو قبضے میں لے کر گھروں کو سیل کر دیا گیا ہے

    علاوہ ازیں صدر مملکت عارف علوی نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں چینی سفارتخانے کا دورہ کیا اور کراچی یونیورسٹی میں اساتذہ کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز کراچی یونیورسٹی میں ہونے والے بم دھماکے میں 3 چینی شہریوں سمیت 4 افراد جاں بحق اور 2چینی باشندوں سمیت 4 افراد زخمی ہوئے تھے، دھماکہ ایک خاتون نے کیا تھا جس کی شناخت ہو چکی ہے کالعدم تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خاتون خود کش بمبار کی تصویر بھی جاری کی تھی،

    جامعہ کراچی ،گاڑی میں دھماکہ، تین غیر ملکیوں سمیت چار جاں بحق

    کراچی دھماکا، خاتون خود کش بمبار نے کیا، کالعدم تنظیم نے ذمہ داری قبول کر لی

    چینی باشندوں کی جان لینے والوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکائیں گے،

    کراچی یونیورسٹی میں ایک خاتون کا خودکش حملہ:کئی سوالات چھوڑگیا،

    جامعہ کراچی: خودکش حملہ آور خاتون کون تھی؟ اہم انکشافات سامنے آگئے،

     کراچی یونیورسٹی میں گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکے کی تحقیقات کے لئے ٹیم تشکیل

    پنجاب یونیورسٹی سے گرفتاری،ساتھی طالب علموں کا احتجاج

    کراچی یونیورسٹی دھماکہ،خودکش بمبار خاتون کی آخری ٹویٹ زیر بحث

  • عدالت نے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ کو بڑا جھٹکا دے دیا

    عدالت نے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ کو بڑا جھٹکا دے دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کی مقامی عدالت نے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ کو بڑا جھٹکا دے دیا

    سیش کورٹ نے پرویز الہیٰ کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہٰی پر تشدد اور اسمبلی میں توڑ پھوڑ کے معاملے پر اندراج مقدمہ کی درخواست خارج کر دی ہے فیصلے کے مطابق پنجا ب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی سے متعلق مقدمہ پہلے ہی درج کیا جا چکا ہے ،پولیس تفتیش کر رہی ہے اور ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جائیگی سپیکر پنجاب اسمبلی کے وکیل عامر سعید کی جانب سے موقف اپنایا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کی ایما پر ن لیگ کے ایم پی ایز نے پرویز الٰہی پر تشدد کیا گیا لیکن پولیس مقدمہ درج نہیں کیا جا رہا

    گزشتہ روز حمزہ شہباز سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا، سیشن کورٹ لاہور میں پولیس نے رپورٹ پیش کردی ،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آ رائی کا مقدمہ پہلے سے درج کیا جا چکا ہے،تفتیش جاری ہے، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوگی ،عدالت پرویز الہٰی کی درخواست خارج کرنے کا حکم دے ،پرویز الہٰی تھانے میں پیش بھی نہیں ہوئے،درخواست پر ڈائری نمبر نہیں لگا

    سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے درخواست کے باوجود مقدمہ درج نہ کرنے پر سیشن عدالت میں درخواست دائر کی تھی چودھری پرویز الٰہی کی جانب سے سیشن عدالت میں دائر درخواست میں حمزہ شہباز ، آئی جی پنجاب ، ایس ایس پی سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا ہے درخواست میں کہا گیا کہ متعلقہ تھانے میں اندراج مقدمہ کی درخواست دائر کی مگر پولیس درخواست پر کارروائی سے گریزاں ہے درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پولیس کواندراج مقدمہ کاحکم جاری کرے

    واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں گزشتہ روز قائد ایوان کے انتخاب کے موقع پر ہنگامہ آرائی ہوئی تھی، پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے ڈپٹی سپیکر پر تشدد کیا گیا تھا ،ڈپٹی سپیکر نے پولیس بلائی تو اراکین کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر بھی تشدد کیا گیا تھا، اس دوران خواتین اراکین اسمبلی بھی پیچھے نہ رہیں اور انہوں نے پولیس اہلکاروں کے بال کھینچے، گردن سے پکڑا، راجہ یاسر بھی ایک ویڈیو میں نمایاں ہیں جو پولیس والوں کو دھکے دے رہے ہیں

    تین دفعہ شریفوں نے وعدے لئے جو کبھی پورے نہ ہوئے،پرویز الہیٰ پھٹ پڑے

    ہماری آفر پرویز الہیٰ نے مانی،دعا خیر کی پھر عمران کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو گئے،خواجہ آصف

    پنجاب اسمبلی میں دوبارہ جھگڑا ،پرویز الہیٰ بھی زخمی ہو گئے

    زخمی ہونے کے بعد پرویز الہیٰ کی ہاتھ اٹھا کر بددعا، ویڈیو وائرل

    حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، شہزاد اکبر کو کیوں نکالا؟

    عمران خان کے مشیر بیرون ملک روانہ

    میری جان سے زیادہ پاکستان کی آزادی ضروری ، فوری الیکشن چاہتے ہیں ، عمران خان

    کراچی جانے کیلئے عمران خان کو جہاز کس نے دیا؟ بحث چھڑ گئی

    این اے 33 ہنگو،ضمنی انتخابات، پولنگ جاری،سیکورٹی سخت

    پنجاب اسمبلی، ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج

  • پولیس انسپکٹر کے بیٹے کا ملازمہ پر تشدد

    پولیس انسپکٹر کے بیٹے کا ملازمہ پر تشدد

    لاہور: پولیس انسپکٹرکے بیے نے گھریلو ملازمہ کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا-

    باغی ٹی وی : -تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ تھانہ شاہدرہ کی حدود گلش حیات پارک میں پیش آیا ، جہاں پولیس انسپکٹر کے بیٹے نے گھریلو ملازمہ کو کمیٹی کے پیسے مانگنے پر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا کلثوم نامی گھریلو ملازمہ کو انسپکڑ ملک حیات کے بیٹے نے مین بازار میں تشدد کا نشانہ بنایا۔

    مقدس مقامات کی توہین،کئی پاکستانی گرفتار کرلئے، سعودی عرب کی تصدیق

    متاثرہ خاتون نے اعلی حکام سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انسپکڑ ملک حیات کے گھر ملازمت کرتی تھی، پانچ لاکھ کی کمیٹی کے پیسے انسپکٹر حیات کے گھر والوں کو امانت کے طور پر رکھوائے تھے کچھ دنوں سے یہ کیمٹی کے پیسوں کا تنازعہ چل رہا تھا، انسپکٹر کے گھر پیسے مانگنے گئی تو اس کا بیٹا وکی شراب کے نشہ میں تھا مجھے تشدد کا نشانہ بنایا انسپکڑ ملک حیات کے بیٹے نے گھر سے مین بازار تک مارا اور کپڑے بھی پھاڑ دیئے۔

    بچوں کیلئے عید کے کپڑے نہ ملے، ماں نے تین بچوں سمیت سمندر میں چھلانگ لگا لی

    واضح رہے کہ واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے پر آئی پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کرلیا ہےایس ایچ او محمد شبیر نے شاہدرہ ایس پی سٹی سے مکمل انکوائری کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ حقائق منظر عام پر آنے کے بعد ذمے دار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

    پنجاب میں ایک روز میں 925 ٹریفک حادثات ،7 اموات،964 زخمی

  • چارسدہ  تھانہ نستہ پر نامعلوم شد ت پسندوں کا حملہ ۔ ایک پولیس اہلکار شہید

    چارسدہ تھانہ نستہ پر نامعلوم شد ت پسندوں کا حملہ ۔ ایک پولیس اہلکار شہید

    چارسدہ : چارسدہ تھانہ نستہ پر نامعلوم شد ت پسندوں کا حملہ ۔ ایک پولیس اہلکار شہید ،اطلاعات کے مطابق تفصیلات کے مطابق چارسدہ میں تھانہ نستہ کے مرکزی گیٹ پر نامعلوم شدت پسندوں نے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار رحم بادشاہ شہید ہو گیا ۔ جن کی نعش کو چارسدہ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔

    دھمکاکے کے نتیجے میں تھانے کے گیٹ اور حفاظتی دیوار کو نقصان پہنچا ہے ۔ پولیس زرائع کے مطابق واقعہ کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہے ۔ پولیس کی بھاری نفری اس وقت جائے وقوعہ پر موجود ہے جبکہ تفتیشی ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹے کر رہی ہے ۔

    دھماکے کے بعد علاقے میں سر چ آپریشن بھی شروع کیا گیا جبکہ چارسدہ کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں سخت کی گئی ۔ بم ڈسپوزل سکوآڈ تاحال یہ تعین نہ کر سکی کہ دھماکے کی نوعیت کیا تھی اور اس میں کتنا بارود ی مواد استعمال کیا گیا ۔