Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • پنجاب پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کاروائیاں جاری،ملزمان گرفتار،اسلحہ، منشیات برآمد

    پنجاب پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کاروائیاں جاری،ملزمان گرفتار،اسلحہ، منشیات برآمد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب پولیس کا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے

    ڈی پی او چکوال محمد بن اشرف کے حکم پر جنرل ہولڈ اپ کے دوران تھانہ نیلہ پولیس نے ملزم سے کلاشنکوف برآمد کر لی. ملزم گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا

    پولیس تھانہ نیلہ کے ایس ایچ او ملک افضل اور سب انسپکٹر فیصل ندیم نے جنرل ہولڈ اپ کے دوران عابد محمود ولد صابر حسین سکنہ چک قادہ سے ناجائز کلاشنکوف برآمد کرلی،ملزم سے کلاشنکوف کی برامدگی کے بعد ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور تفتیش جاری ہے ڈی پی او چکوال محمد بن اشرف کی طرف سے ایس ڈی پی او صدر سرکل اور نیلہ پولیس کو شاباش دی گئی اور کارکردگی کو سراہا گیا

    ایک اور کاروائی میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال محمد بن اشرف کے احکامات کی روشنی میں منشیات فروشوں کے خلاف مزید قانونی کاروائیوں کے نتیجے میں ایک اور بڑا منشیات فروش رنگے ہاتھوں گرفتارکر کے مقدمہ درج کر لیا گیا.

    ڈی پی او چکوال محمد بن اشرف کے حکم پر منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے نتیجے میں تھانہ نیلہ کے علاقے سے منشیات فروش کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا

    ایس ایچ او تھانہ نیلہ ملک افضل, سب انسپکٹر فیصل ندیم اور ان کی ٹیم نے امداد حسین ولد غلام سرور قوم نوریال سکنہ سدھر سے 1100 گرام چرس برآمد کرلی،ملزم سے رنگے ہاتھوں چرس کی برامدگی کے بعد ملزم کے خلاف منشیات ایکٹ زیر دفعہ 9c کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے

    ڈی پی او چکوال محمد بن اشرف نے ایس ڈی پی او صدر سرکل چکوال سید اظہر حسن شاہ اور تھانہ نیلہ پولیس کو زبردست کارکردگی پر شاباش دی ہے

  • کینجھر جھیل  کشتی الٹ گئی ،13 افراد ڈوب گئے،دو سگی بہنوں سمیت 6 جاں بحق

    کینجھر جھیل کشتی الٹ گئی ،13 افراد ڈوب گئے،دو سگی بہنوں سمیت 6 جاں بحق

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کینجھر جھیل میں پکنک کے لئے آنے والے افراد کی کشتی الٹ گئی ،13 افراد ڈوب گئے کشتی جہہل کے درمیان میں الٹ گئی

    کہنجھر جہیل میں ڈوبنے والوں کو بیہوشی کی حالت میں نکال لیا گیا تھا جن کو مکلی سول ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ 5 عورتیں اور ایک معصوم بچے نے رستے میں دم توڑ دیا،ڈوبنے والے دیگر افراد کی تلاش جاری ہے،ڈوب کر ہلاک ہونے والی ۵ عورتوں میں سے تین کی شناخت ہوگئی،ڈوب کر ہلاک ہونے والی عورتوں میں دو سگی بہنیں بھی شامل ہیں

    چیف سیکرٹری سندھ ممتازعلی شاہ نے کینجھرجھیل میں کشتی الٹنےکانوٹس لے لیا اور ڈپٹی کمشنرٹھٹھہ کوجائےوقوعہ پر پہنچنے کی ہدایت کر دی، چیف سیکرٹری سندھ نے ہدایت کی کہ متاثرین کی ہرممکن مددکی جائے، غفلت برتنےوالوں کے خلاف کارروائی کی جائے،متاثرین کوجلد طبی سہولیات فراہم کی جائیں،

    https://twitter.com/sheikhwaleed15/status/1295333591296225285

    کینجھرجھیل میں ڈوبنےوالےکی تعداد13تھی،2افراد کو بچالیاگیا،6 لاشیں نکالی گئیں،جاں بحق ہونےوالوں میں5 خواتین اورایک بچہ شامل ہے

    وزیراعلیٰ سندھ نےڈی سی ٹھٹھہ سےرپورٹ طلب کرلی،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ واقعہ کیسےپیش آیا،ریسکیوبوٹ اورٹیم کہاں تھی،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جانی نقصان پرگہرے دکھ کااظہار کیا اور متاثرہ خاندان سےہرقسم کےتعاون کی ہدایت بھی کی

  • جامعہ کراچی کی ہونہار طالبہ نے PhDسپر وائزر کے مظالم سے تنگ آکر خود کشی کرلی

    جامعہ کراچی کی ہونہار طالبہ نے PhDسپر وائزر کے مظالم سے تنگ آکر خود کشی کرلی

    جامعہ کراچی کی ہونہار طالبہ نے PhDسپر وائزر کے مظالم سے تنگ آکر خود کشی کرلی

    باغی ٹی وی : حالیہ دنوں میں پاکستان کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں پیش آنے والا یہ سب سے المناک واقعہ ہے کہ ڈاکٹر پنجوانی سینٹر فار مالیکیولر میڈیسن اینڈ ریسرچ جامعہ کراچی کی ایک ہونہار طالبہ نادیہ اشرف نے اپنے PhD سپر وائزر ڈاکٹر اقبال چوہدری کے مظالم سے تنگ آکر خود کشی کرلی، اس واقعے کے بعد ڈاکٹر پنجوانی سینٹر میں طالب علموں پر خوف و ہراس طاری ہو گیا ہے، ملک کے اعلی اختیاری اداروں کو اس واقعے کا سختی سے نوٹس لینا چاہیے،
    تاکہ یہ جانا جاسکے کہ کیا اسباب تھے کہ نادیہ اشرف ایک لائق محقق ہونے کے باوجود پچھلے 15 سالوں میں اپنا پی ایچ ڈی مکمل نہیں کرپائی۔۔۔

    وہ کیا اسباب تھے کہ نادیہ اشرف اپنے قریبی دوستوں سے یہ کہتی تھی کہ ‘ڈاکٹر اقبال چوہدری میرا پی ایچ ڈی نہیں ہونے دیں گے’.
    ‘ڈاکٹر صاحب نہ جانے مجھ سے کیا چاہتے ہیں۔’

    یہ وہ کلمات ہیں جو نادیہ اشرف نے خودکشی کرنے سے پہلے اپنے قریبی حلقے میں ادا کیے ہیں۔

    نادیہ اشرف کے قریبی حلقے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈاکٹر اقبال چوہدری نے نادیہ کو مزید تنگ کرنے کے لیے اس پر اپنی چہیتی نا لائق فیکلٹی ڈاکٹر عطیۃ الوہاب کو بھی مسلط کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت پریشان تھی، نادیہ نے اس بات کا بھی انکشاف کیا تھا کہ اس نے جب کسی دوسری ریسرچ آرگنائزیشن میں نوکری اختیار کی تو وہاں بھی اقبال چوہدری نے نادیہ اشرف کی نوکری ختم کروانے کی کوشش کی۔۔

    نادیہ اشرف نے دوبارا پنجوانی سینٹر جوائن کیا پی ایچ ڈی میں ایکسٹینشن لے کر اپنا مکالہ جمع کروایا، مگر اقبال چوہدری نے اسے مزید تنگ کیا اور اس سے کہا کہ وہ چھ مہینے کا دوبارہ ایکسٹینشن لے، ایک مجبور لڑکی نے دوبارہ ایکسٹینشن لی مگر نادیہ اشرف میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ
    انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیو لوجیکل سائنسز جامعہ کراچی پر 17 سالوں سے قابض غیر قانونی ڈائریکٹر ڈاکٹر اقبال چوہدری سے مقابلہ کر سکے۔۔۔

    نتیجہ یہ نکلا کہ اپنی والدہ کے ساتھ تنہا رہنے والی لاچار لڑکی نادیہ اشرف نے موت کو گلے لگا لیا۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ تحریر جامعہ کراچی کے صاحبِ اختیار افراد کو بیدار کرنے کے لیے نہیں لکھی گئی ہے کیونکہ بیدار تو سوئے ہوؤں کو کیا جاتا ہے مردوں کو نہیں۔

    ڈاکٹر اقبال چوہدری اور آزاد ذرائع ان الزامات کی تصدیق نہیں کرتے تاہم یہ سوال برقرار ہے کہ ہونہار طالبہ جو کینسر جیسے موضی مرض پر ریسرچ کررہی تھی وہ خود کشی کیوں کرے گی ؟ اور بیس برس سے زائد تعلیم حاصل کر لینے کے بعد اب اختتام پر آکر کیوں خود کشی کرے گی ؟ ۔ جامعہ جس طالبہ کو فرانس میں اعلی ریسرچ کے لئے خود بھیجتی ہے پھر اس کو اتنے سال تک پی ایچ ڈی کرنے میں کوئی کوئی رکاوٹ رہی ؟ اگر یہ طالبہ ڈاکٹر اقبال کو اپنی پریشانیاں بتاتی رہی تو والدہ کو اکیلا چھوڑ کر ایک پڑھی لکھی طالبہ نے خود کشی کیوں کی ۔ اس پر تحقیقات ہونا لازم ہیں

  • کل اس بدبخت نے BRT بس کی سیٹوں کو بلیڈ سے کاٹ دیا ۔ مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا گیا

    کل اس بدبخت نے BRT بس کی سیٹوں کو بلیڈ سے کاٹ دیا ۔ مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا گیا

    پشاور:کل اس بدبخت نے BRT بس کی سیٹوں کو بلیڈ سے کاٹ دیا ۔ مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا گیا،اطلاعات کے مطابق کل پشاورمیں چلنے والی بی آر ٹی بس سروس افتتاح کے کچھ دیربعد ہی مشکلات کا شکارہوگئی

    باغی ٹی وی کے مطابق کے پی کی پہلی جدید بس سروس چلنے کے کچھ دیر بعد ہی بری خبروں کی زینت بن گئی ، اطلاعات کے مطابق پولیس نے ایک ایسے نوجوان کوگرفتارکیا ہے جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس نے تیزدھاربلیڈ سے بی آرٹی بس سروس کی سیٹؤں کوکاٹ کربہت زیادہ نقصان پہنچایا

     

    https://twitter.com/iamAhmadokz/status/1294504057910906880

    باغی ٹی وی کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹرپرایک شہری نے اس حوالے سے ایک ٹویٹ کی ہے اوراس کے بارے میں انکشاف کیا ہے اورپھر رائے مانگی ہے وہ کہتے ہیں‌ کہ !

    اس کا نام عمر حیات ہے یہ چارسدہ کا رہائشی ہے ۔کل اس بدبخت نے BRT بس کی سیٹوں کو بلیڈ سے کاٹ دیا ۔ مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا گیا ۔ اپنی اپنی رائے دیجئے گا کہ اس کی کیا سزا ہو ؟

  • لاہورکینال پرہر طرف نشئی ہی نشئی،حکام خاموش ،عوام پریشان

    لاہورکینال پرہر طرف نشئی ہی نشئی،حکام خاموش ،عوام پریشان

    لاہور:لاہورکینال پرہر طرف نشئی ہی نشئی،حکام خاموش ،عوام پریشان ،اطلاعات کے مطابق اس وقت لاہور کینال نشئیوں کا گڑھ بن گئی ہے ، باغی ٹی وی کے مطابق نہ صرف نوجوان لڑکے نہر کے کنارے بیٹھ کرنشہ کررہے ہیں بلکہ لڑکیاں بھی اس لت میں مبتلا ہیں

     

     

     

    باغی ٹی وی کے مطابق نہر کے کنارے مغلپورہ کے علاقہ لال پل سے نئے پل تک نہر کے دونوں طرف نوجوان بیٹھے نشے کے انجیکشن لگارہے ہوتے ہیں

    ذرائع کے مطابق نہر کے کنارے کچھ نوجوان لڑکیاں بھی یہ نشہ کرتی دکھائی دی ہیں ، ذرائع کا کہنا کہ چھوٹی عمر کے بچے بھی یہ نشہ کررہے ہیں ،

    باغی ٹی وی کےمطابق دوسری طرف لاہور جیسے بڑے شہرکی بڑی مین شاہراہ پرنہرکنارے اس قسم کے نشے پرشہری بہت پریشان دکھائی دیتے ہیں ان کا مطالبہ کہ حکومت ان کے خلاف ایکشن لے اورجو قابل علاج ہیں ان کا علاج کرے

  • ہاوسنگ کالونی بائی پاس چوک پر حادثہ

    ہاوسنگ کالونی بائی پاس چوک پر حادثہ

    ہاوسنگ کالونی بائی پاس چوک پر حادثہ
    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) ہاوسنگ کالونی بائی پاس چوک میں تیز رفتار موٹر سائیکل ماڈل ہنڈا 125 رجسٹریشن نمبری DGM 1600 نے مخالف سمت سے آتی ہنڈا کلٹس کار کو ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں کار کو شدید نقصان پہنچا جبکہ موٹر سائیکل تباہ ہو گئی
    جائے حادثہ پر جمِ غفیر جمع ہو گیا جبکہ کسی قسم کے جانی نقصان نہ ہونے کی اطلاع ہے

  • 25 تولے سونا ساڑھےتین لاکھ نقدی ، لاہورمیں چوری کی عجیب واردات

    25 تولے سونا ساڑھےتین لاکھ نقدی ، لاہورمیں چوری کی عجیب واردات

    لاہور:25 تولے سونا ساڑھےتین لاکھ نقدی،لاہورمیں چوری کی عجیب واردات ،اطلاعات کےمطابق شہرمیں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگادیا، ایک طرف ملزمان کو پکڑنے کے دعوے کئے جارہے تو دوسری جانب شہری لٹ رہے ہیں،چوبرجی میں ڈاکو 25 تولے سونا اور ساڑھے تین لاکھ نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے۔

    تفصیلات کے مطابق ایک چوری کا واقعہ اب لاہور کے علاقے چوبرجی میں پیش آیا۔ چوبرجی میں راجگڑھ کے علاقے میں گھر پر ڈکیتی کی واردات میں ڈاکو 25 تولے سونا اور ساڑھے تین لاکھ نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے۔

    واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پرآگئی۔چوبرجی راج گڑھ کے علاقے میں گھر پر ڈکیتی کی واردات میں دو مسلح ڈاکو ملک امجد نامی شہری کے گھر میں گھسے،خواتین کو یرغمال بنا کر لوٹ لیا۔ڈاکوگھر سے 25 تولے سونا اور ساڑھے 3 لاکھ روپے نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے۔مسلح ڈاکو اہلخانہ کو قتل کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔پولیس نے تاحال واردات کا مقدمہ درج نہیں کیا۔

  • پوش علاقوں میں دو درجن سے زائد گھروں میں ڈکیتی کرنے والا گرفتار

    پوش علاقوں میں دو درجن سے زائد گھروں میں ڈکیتی کرنے والا گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں پولیس نے شرافی گوٹھ تھانے کی حدود میں فارم ہاوس پر چھاپہ مارا ہے

    پولیس نے چھاپے کے دوران دو درجن سے زائد ڈکیتی کی واردات میں ملوث گینگ کا سرغنہ گرفتار کر لیا،پولیس کے مطابق ملزم کی گرفتاری سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں مدد سے عمل میں آئی

    پولیس فارم ہاوس سے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی لانے میں ناکام رہی،ملزم نے انکشاف کیا کہ پوش علاقوں میں گھروں دو درجن سے زائد ڈکیتی کی وارداتیں کییں۔ گرفتاری کے ڈرسے ڈکیتی کے بعد  فارم ہاوس پر پناہ لیتے تھے۔ پہلے بھی متعدد بار گرفتار ہو چکا ہوں وکیل اور ان کی ٹیم ضمانت کروا لیتی ہے ۔

    پارلیمنٹ ہاؤس میں جلد سے جلد بیوٹی پارلر قائم کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی تصویراستعمال کرنیوالا خود ساختہ مشیر،سرکاری نمبر پلیٹ کی گاڑی کے ہمراہ گرفتار

    کوئی بھوکا نہ سوئے، مودی کے احمد آباد گجرات کے مندروں میں مسلمانوں نے کیا راشن تقسیم

    خواجہ سراؤں نے دوستی کے بہانے نشہ دے کر نوجوان کا عضو خاص کاٹ دیا

    غیرت کے نام پر جوڑا قتل،ورثا کا معاملہ دبانے کے بعد بھی پولیس کا ایکشن، 25 گرفتار

    سگے بیٹے کا ماں پر وحشیانہ تشدد،ویڈیو وائرل، بہو کا موقف بھی آ گیا

    پسند کی شادی کا خواب ادھورا رہ گیا،غیرت کے نام پر لڑکا لڑکی قتل

    لڑکی کو برہنہ کرنے اور ویڈیو بنانے والا مرکزی ملزم گرفتار

    چوری کا الزام، دو افراد کو برہنہ کر کے تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    جن نکالنے کے بہانے جعلی پیر نے خاتون کے ساتھ ایسا کیا کر دیا کہ والدہ تھانے پہنچ گئی

    ڈکیتی کے دوران دو خواتیں سے زیادتی کے واقعہ میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    ملزم نے انکشاف کیا کہ ڈکیتی کے پیسے سے گاڑی خریدی جو وارداتوں میں استعمال کرتے ہیں ۔۔کلفٹن ،ڈیفنس ،گلبرگ اور کورنگی سمیت دیگر علاقوں میں وارداتیں کیا کرتے تھے

    9 سالہ بیٹی کو کنویں میں پھینک کر قتل کرنیوالا باپ گرفتار

  • دیارغیرسے غمناک خبرآگئی :بارسلونا میں آتشزدگی کے نتیجے میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق

    دیارغیرسے غمناک خبرآگئی :بارسلونا میں آتشزدگی کے نتیجے میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق

    بارسلونا : دیارغیرسے غمناک خبرآگئی :بارسلونا میں آتشزدگی کے نتیجے میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق،اطلاعات کے مطابق پولیس کے مطابق شمال مشرقی ہسپانوی شہر بارسلونا میں آتشزدگی کے نتیجے میں تین پاکستانی شہری ہلاک ہوگئے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ آتشزدگی کے واقعے میں چار افراد زخمی بھی ہوئے۔

    پولیس ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا یہ آگ شہر کے بارسلونیٹا ضلع میں ایک عمارت کے تہہ خانے میں صبح سویرے لگی جس میں تین افراد جاں بحق ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘مرنے والے تینوں افراد کا تعلق پاکستان سے تھا’۔

    میئر کے دفتر نے بتایا کہ واقعے میں چار زخمیوں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔پولیس آگ لگنے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔واضح رہے کہ بارسلونا کیٹالونیا خطے کا معاشی مرکز ہے اور جہاں تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد مکین ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل 2 دسمبر 2019 کو وادی اردن میں زرعی زمین پر عارضی رہائش گاہوں پر لگنے والی آگ کے نتیجے میں 8 بچوں سمیت 13 پاکستانی جبکہ متحدہ عرب امارات کے شہر العین میں ایک گھر میں آگ لگنے کے واقعے میں 6 پاکستانی جاں بحق ہوگئے تھے۔

  • قتل کے کیس میں بے گناہ گرفتار فتح تیس سال سے انصاف کا منتظر

    قتل کے کیس میں بے گناہ گرفتار فتح تیس سال سے انصاف کا منتظر

    قتل کے کیس میں بے گناہ گرفتار فتح تیس سال سے انصاف کا منتظر

    آج آپکی خدمت میں ایک عجیب قسم کے عدالتی ظلم و بربریت کی تفصیلات کے کر حاضر ہوا ہوں جسکی مثال آپکو شاید پاکستان کی پوری تاریخ میں نہ ملے گی ۔ اس شخص کا نام فتح محمد ہے جس نے 139 سال جیل میں گزارنے ہیں ۔ یہ سزا سن کر شاید آپ کو لگے کہ یہ شخص شاید سانحہ اے پی ایس کا زمہ دار ہوگا یا نہیں شاید یہ شخص سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کا مرکزی ملزم ہوگا جس میں ڈھائی سو سے زائد فیکٹری ورکرز جن میں خواتین بھی تھیں زندہ جلائے گئے یا شاید یہ راؤ انوار سے بھی بڑا کوئی مجرم ہوگا جسکے لیے لوگوں کو تاوان کی رقم کے لیے اغوا کرنا اور پھر انہیں جعلی مقابلوں میں مارنا معمولی بات ہوگی یا شاید اسکے کیس زرداری کے سوئس اکاؤنٹس اور نواز کے پانامہ کیسز سے بھی بڑے کیس ہونگے یا بڑی کرپشن کی ہوگی اس نے یا شاید کلبھوشن نیٹورک کا اہم رکن ہوگا جس نے پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائیاں کی ہونگی اگر یہ بھی نہیں تو ممکن ہے پاکستان کو دولخت کرنے کا زمہ دار یہی شخص ہوگا کیونکہ کرپشن ، غداری ، دہشت گردی کے الزام میں پاکستان کی تہتر سالہ تاریخ میں بھی ایسی سزا کسی کو نہ سنائی گئی ۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہے اس شخص کو 33 سال قبل جنرل ضیاء الحق کی قائم کردہ سپیشل عدالت نے 1988 دہشت گردی کے مختلف الزامات کے تحت عمر قید ، تین بار سزائے موت، جرمانہ اور جائیداد کی ضبطگی کی سزا سنائی ۔

    شاہ سے بڑھ کر شاہ کی وفاداری کی ایسی اعلی مثال پاکستان کے عدالتی نظام نے شاید ہی کبھی پیش کی ہوگی . کیونکہ اس دور میں تو پاکستان میں دہشت گردی بھی نہ تھی۔ فتح محمد کی سزائے موت کو ایک سال بعد بینظیر حکومت نے ختم کیا۔ باقی سزائیں برقرار رکھی گئیں ۔ یہاں قارئین کے لیے ایک عدالتی اصطلاح کی وضاحت کردوں کہ جب زیادہ سزائیں سنائی جاتی ہیں تو عموما انہیں concurrent کردیا جاتا ہے یعنی بڑی سزا عمر قید کاٹنی ہوتی ہے جو کہ پچیس سال ہے باقی ساتھ ساتھ شمار ہونے کے سبب اسی میں شامل ہوجاتی ہیں۔ ان مقدمات میں ﻓﺘﺢ ﻣﺤﻤﺪ ﺳﻤﯿﺖ ﭼﺎﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﭘﺮ ﻣﻘﺪﻣﺎﺕ ﺑﻨﺎﮰ ﮔﮱ تھے .

    .1 ﻣﻼ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﯿﻮﻡ ﻭﻟﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﺩﺍﺩ ﺳﺰﺍ : 214 ﺳﺎﻝ 28 ﺳﺎﻝ ﻗﯿﺪ ﮐﺎﭨﯽ 2014 ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺲ concurrent ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﺍ
    .2 ﻋﺒﺪﺍﻟﺼﻤﺪ ﻭﻟﺪ ﺑﻨﺎﺭﺱ ﺳﺰﺍ : 200 ﺳﺎﻝ . 25 ﺳﺎﻝ ﻗﯿﺪ ﮐﺎﭨﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ جیل میں ﺧﻮﺩﮐﺸﯽ ﮐﯽ
    .3 ﻣﺤﻤﺪ ﮔﻞ ﻭﻟﺪ ﺷﯿﺦ ﻣﺤﻤﺪ . ﺳﺰﺍ : 200 ﺳﺎﻝ . 12 ﺳﺎﻝ ﻗﯿﺪ ﮐﺎﭨﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﮨﻮﺋﯽ
    .4 ﻓﺘﺢ ﻣﺤﻤﺪ ﻭﻟﺪ ﺭﺍﺯﻣﺤﻤﺪ ﺳﺰﺍ : 139 ﺳﺎﻝ 34 ﺳﺎﻝ ﻗﯿﺪ ﮐﺎﭦ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺣﺎﻝ ﻗﯿﺪ ﮨﮯ

    ﮐﯿﺲ ﮐﮯ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﻣﻠﺰﻡ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﯿﻮﻡ ﮐﮯ ﺍﮨﻞ ﺧﺎﻧﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﮔﺊ ﺍﭘﯿﻞ 482 2014/ ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﺑﺘﺎﺭﯾﺦ 2014-9-19 ﻣﯿﮟ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﯿﻮﻡ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺳﺰﺍﺅﮞ ﮐﻮ concurrent ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ . ﺍﺱ ﺗﻔﺼﯿﻠﯽ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﯿﻮﻡ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﮐﻮ نہ صرف concurrent ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺑﻠﮑﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﺰﺍ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﮧ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮ ﮐﮯ ﺑﺎﺑﺖ ﭼﻨﺪ ﺭﯾﻤﺎﺭﮐﺲ ﺑﮭﯽ ﺩﺋﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﺟﻮ قارئین کی ﺧﺪﻣﺖ میں پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں ﺻﻔﺤﮧ ﻧﻤﺒﺮ 5 ﭘﺮ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ

    for doing substantial justice in a true sense in hardship cases like the present one, technicality of law and rule shall not operate as an absolute bar in the way of court because giving preference to the technicality of law would defeat substantial justice and denial of justice to a person entitled to it, would be worst kind of treatment to be meted out to him and that too by the apex court of the country.
    If the sentences are allowed to run consecutively, the appellant / appellants as earlier discussed would meet natural death during imprisonment. This undeniable fact was even not disputed by the learned counsel for the state. The very object for which the Govt. Of Pakistan commuted the sentences of death to life imprisonment and the benefit so accrued to the accused would be denied to him / them in this way and that concession, thus given, would stand nowhere and may evaporate within no time like air bubbles vanish in the air within a twinkle of an eye.

    ﺳﭙﺮﯾﻢ ﮐﻮﺭﭦ ﮐﮯ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺑﮩﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻣﻘﺪﻣﮯ ﮐﮯ ﻣﺮﮐﺰﯼ ﻣﻠﺰﻡ ﮐﻮ 28 سال بعد ﺭﯾﻠﯿﻒ مل جاتا ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﻣﻘﺪﻣﮯ ﮐﮯ ﺑﻘﺎﯾﺎ ﻣﻠﺰﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ تو پہلے ہی ﺧﻮﺩﮐﺸﯽ ﮐﺮچکا ہوﺗﺎ ﮨﮯ , ﺍﯾﮏ ﺟﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻃﺒﻌﯽ ﻣﻮﺕ ﻣﺮچکاہوﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﯼ ﺑﭻ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﻠﺰﻡ ﮐﻮ ﺍﯾﮍﯾﺎﮞ ﺭﮔﮍ ﺭﮔﮍ ﮐﺮ ﺟﯿﻞ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ . ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﮈﺑﻞ ﺳﭩﯿﻨﮉﺭﮈ ﻧﮩﯿﮟ . ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﻭﺟﮧ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻣﻠﺰﻡ ﮐﻮ ﺭﯾﻠﯿﻒ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﮩﻨﮕﺎ ﻭﮐﯿﻞ ﮐﺮﮐﮯ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻣﻘﺪﻣﮯ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﻣﻠﺰﻡ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺯ ﮐﮯ ﺭﯾﻠﯿﻒ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﻖ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻣﺤﺮﻭﻡ ﺭﮨﺘﺎ ہے ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻭﮦ ﻣﮩﻨﮕﺎ ﻭﮐﯿﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻗﺎﺻﺮ ﮨﮯ.

    کیس کے مرکزی ملزم عبدالقیوم کی رہائی کے بعد فتح محمد کی سزاؤں کو کنکرنٹ کرنے کی اپیل عدالت کی جانب سے خارج کردی جاتی ہے اور چند سطروں پر مبنی عدالتی فیصلہ سنایا جاتا ہے جس میں جج پٹیشن مسترد کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ
    Petitioner seems to have been convicted in different cases …

    Seems to have been
    جج کے یہ الفاظ خود ہی گواہی دے رہے ہیں کہ خود اسے بھی یقین نہیں کہ فتح محمد پر مختلف کیسز ہیں یا ایک ہی کیس میں مختلف الزامات ، جبھی اس نے یہ الفاظ استعمال کیے۔ لیکن اس blunder پر پھر بھی سوال اس لیے نہیں اٹھایا جاسکتا کیونکہ فتح محمد نہ ہی اے پی ایس سانحے کا زمہ دار ہے نہ ہی راؤ انوار، نہ ہی نواز شریف ، زرداری یا کوئی اور بااثر شخصیت جو عدالتی فیصلہ خرید سکنے کی اہلیت رکھتا ہو۔

    پاکستان کے عدالتی نظام نے جس قسم کی ناانصافیوں کی مثالیں قائم کی ہیں وہ ہم میڈیا پر روز ہی دیکھتے ہیں ۔ ایسے بھی کیس میڈیا میں رپورٹ ہوئے ہیں کہ ایک شخص عمر قید کاٹ چکا ہوتا یا اسے پھانسی پر لٹکا دیا گیا اور بعد میں سپریم کورٹ کا حکمنامہ پہنچا کہ مذکورہ شخص بے قصور تھا اور اسے بری کردیا گیا یا ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنی سزا عمر قید کاٹ چکا ہوتا اور رہائی کے قریب ہوتا لیکن اسکی اپیل کا فیصلہ ہائی کورٹ میں زیر التوا رہتا ہے اور رہائی سے قبل اسکے کیس کو دوبارہ نچلی عدالت میں نئے سرے سے چلانے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی عوام عدالتی نظام سے مایوس ہے پچھلے کئی سالوں سے پاکستان میں اقدام قتل کے واقعات سالانہ آٹھ ہزار سے زائد ہیں۔ اسی طرح بچوں اور خواتین کے خلاف زیادتی کے واقعات میں بھی پچھلے چند سالوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا ہے ۔ صرف صوبہ پنجاب میں سال 2019 میں ریپ و جنسی زیادتی کے رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 3881 رہی ۔ یہ صرف رجسٹرڈ کیسز ہیں جبکہ بدنامی کے ڈر سے ایک کثیر تعداد کیس رجسٹر نہیں کرواتی کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام سے انصاف ملنا ناممکن ہے ۔