Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • ڈیرہ غازی خان:دری میرو کے قریب لڑکی کی پراسرار موت، قتل یاخودکشی  ؟

    ڈیرہ غازی خان:دری میرو کے قریب لڑکی کی پراسرار موت، قتل یاخودکشی ؟

    ڈیرہ غازی خان,باغی ٹی وی(نیوز رپورٹرشاہدخان)دری میرو کے قریب لڑکی کی پراسرار موت، قتل یاخودکشی ؟

    ڈیرہ غازی خان کے تھانہ دراہمہ کے علاقہ دری میرو کے قریب سپر بند آر ون کے قریب ایک دلخراش اور پراسرار واقعہ رونما ہوا ہے ، جہاں بسمہ نامی 22/23 سالہ لڑکی دختر اللہ ڈتہ قوم سکھانی جاں بحق پائی گئی۔ ابتدائی طور پر اس واقعے کو خودکشی قرار دیا گیا تاہم مقامی ذرائع نے اسے قتل کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

    بسمہ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ دو مرتبہ اپنے آشنا کے ساتھ گھر سے فرار ہو چکی تھی۔ پہلی بار اسے پنچایت کے ذریعے واپس لایا گیا، جس کے بعد اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی۔ طلاق کے بعد اس کی دوسری شادی کروائی گئی لیکن وہ اس رشتے کو بھی قائم نہ رکھ سکی۔

    ذرائع کے مطابق ان حالات پر بسمہ کا بھائی جو سعودی عرب میں مقیم تھا شدید برہم تھا۔ بتایا گیا ہے کہ وہ حال ہی میں وطن واپس آیا اور بسمہ کو گھر بلا کر مبینہ طور پر گندم میں استعمال ہونے والی زہریلی گولیاں کھلائیں، جس سے اس کی موت واقع ہوئی۔ بعد ازاں وہ دوبارہ سعودی عرب فرار ہو گیا۔

    بسمہ کے والدین اور قریبی رشتہ داروں کا مؤقف ہے کہ بسمہ نے خود زہریلی گولیاں کھا کر اپنی جان لی۔ تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اسے زبردستی زہر دیا گیا جس سے وہ ہلاک ہوگئی ، جس نے اس واقعے کو مشکوک بنا دیا ہے۔

    دوسری طرف پولیس کو خفیہ اطلاع ملی کہ بسمہ کی موت کو خودکشی قرار دے کر اس کی تدفین بغیر قانونی کارروائی کے کی جا رہی ہے۔ اطلاع پر فوری ایکشن لیتے ہوئے پولیس نے لاش کو قبرستان لے جاتے وقت تحویل میں لے لیا اور فوجداری ایکٹ 174 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے علامہ اقبال ٹیچنگ ہسپتال منتقل کر دیا۔

    ایس ایچ او تھانہ دراہمہ عدنان خلیق نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد مزید قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن ریسورسز کی مدد سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہےاور حتمی کارروائی فرانزک لیب سے موصول ہونے والی رپورٹ کی روشنی میں کی جائے گی۔

  • پنجاب اور کے پی کے بارڈر پر خوارجی دہشتگردوں کے خلاف بڑی کاروائی، دو ہلاک، متعدد زخمی

    پنجاب اور کے پی کے بارڈر پر خوارجی دہشتگردوں کے خلاف بڑی کاروائی، دو ہلاک، متعدد زخمی

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی رپورٹ) پنجاب اور خیبرپختونخوا کی سرحد پر واقع تھانہ وہوا کے علاقے کوتانی تل میں پولیس، سی ٹی ڈی اور رینجرز کی مشترکہ کاروائی کے دوران خوارجی دہشتگردوں سے شدید مقابلہ ہوا، جس میں دو دہشتگرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق دہشتگردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر پٹرولنگ پر مامور پولیس، رینجرز اور سی ٹی ڈی ٹیموں نے فوری ایڈوانس کیا۔ تھانہ وہوا کے علاقے کوتانی تل میں دہشتگردوں سے آمنے سامنے ٹکراو ہوا، جن کے پاس راکٹ لانچر، ہینڈ گرنیڈ اور بھاری اسلحہ موجود تھا۔ دہشتگردوں نے شدید مزاحمت کی، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں نے دلیری سے مقابلہ کرتے ہوئے دو دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق جھڑپ کے دوران دہشتگرد جھاڑیوں اور ٹیلوں کی آڑ لے کر فرار ہو گئےجبکہ ایلیٹ فورس کے اہلکار عدنان حبیب اور سی ٹی ڈی اہلکار غضنفر معمولی زخمی ہوئے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق دہشتگردوں کی نقل و حرکت کے باعث پہلے ہی علاقے میں ہائی الرٹ جاری تھا۔ اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سید علی کی قیادت میں بیک اپ ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور مشترکہ کاروائی کی قیادت کی۔

    آر پی او ڈیرہ غازی خان کیپٹن (ر) سجاد حسن خان نے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جوانوں نے جرأت و بہادری کی نئی مثال قائم کی۔ آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے خوارجی دہشتگردوں کے خلاف کامیاب کاروائی پر پولیس، سی ٹی ڈی اور رینجرز ٹیموں کو شاباش دی۔

    پولیس ترجمان کے مطابق علاقے میں سرچ اور سویپ آپریشن بدستور جاری ہے تاکہ ممکنہ فرار ہونے والے دہشتگردوں کو بھی گرفتار یا انجام تک پہنچایا جا سکے۔

  • ٹک ٹاکر  کو ئین  بن کر  ہنی ٹریپ کا شکار کرنے والی ملکہ گینگز سمیت گرفتار

    ٹک ٹاکر کو ئین بن کر ہنی ٹریپ کا شکار کرنے والی ملکہ گینگز سمیت گرفتار

    فیس بک اور ٹک ٹاک پر کو ئین بن کر ہنی ٹرپ کا شکار کرنے والی ملكه گینگز سمیت گرفتار کر لی گئی

    ایس ایس پی آپریشنز کاشف ذوالفقار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ راولپنڈی پولیس نے ایک بڑی کارروائی کی ہے اور ہنی ٹریپ سے شہریوں کو لوٹنے والے 2بڑے گینگز گرفتار کر لئے ہیں،گینگز صدربیرونی اور صادق آباد پولیس نے گرفتار کیے،دونوں گینگز ہنی ٹریپ کے زریعے شہریوں کو لوٹنے میں ملوث ہیں،دونوں گینگز کے کل 16ملزمان کو گرفتار کیا گیا،گینگز میں پاکستانی نژاد مشرقی افریقن خاتون، پولیس اہلکار اور دیگر ارکان شامل ہیں،دونوں گینگز سے 7لاکھ50ہزار روپے اور اسلحہ برآمد کیا گیا ہے،گینگز سے تفتیش میں مزید انکشافات اور ریکوری متوقع ہے،

    گینگ کی لیڈی سرغنہ مرینہ خان پاکستانی نژاد (مشرقی افریقن) ملاوی ہے،گینگ میں سرغنہ مرینہ خان کا شوہر بلال اور دیگر ارکان فاروق، طیب، کامران اور عبدالجبار شامل ہیں،مرینہ خان گینگ سے 02 لاکھ 50ہزارروپے اور اسلحہ برآمدہوا،مرینہ خان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شہریوں سے رابطہ کر کے ملاقات کے لیے بلاتی اور پھر گینگ ممبران اسلحہ کی نوک پر اس سے رقم اور قیمتی اشیاء چھین لیتے،مرینہ خان گینگ نے متعدد وارداتوں کا انکشاف کیا،صادق آباد پولیس نے10رکنی آفتاب عرف تابی گینگ گرفتار کیا،آفتاب عرف تابی گینگ سے5لاکھ روپے اور اسلحہ برآمد ہوا،آفتاب عرف تابی گینگ کا سرغنہ ہے جس نے خواتین، دیگر ساتھیوں اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر گینگ بنا رکھا تھا،گرفتار ملزمان میں آفتاب، حمزہ،شان، ہاجرہ،عظمیٰ، مبشر،رضاعباس،فضل عباس،نعمان اور افضال شام ہیں،ہاجرہ مخصوص سوشل میڈیا ایپ کے زریعے شہریوں کو ٹریپ کرتی تھی،شہری کو ملنے کے بہانے بلایا جاتا تھا اور ان کی نازیبا ویڈیوز، تصاویر بنا کر بلیک میل کیا جاتا تھا،گینگ جڑواں شہروں کے شہریوں کو ہنی ٹریپ کے زریعے بلیک میل کر کے لوٹنے کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھے،گینگ میں شامل پولیس اہلکار گینگ کے دیگر ممبران کی پشت پناہی کرتے اور شہریوں کو بلیک میل کرنے میں ان کا ساتھ دیتے تھے،

  • ڈیرہ غازیخان: ڈاکوؤں سے مقابلے میں شہید 2 اہلکاروں کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا

    ڈیرہ غازیخان: ڈاکوؤں سے مقابلے میں شہید 2 اہلکاروں کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ) ڈاکوؤں سے مقابلے میں شہید اے ایس آئی غلام شبیر اور کانسٹیبل غلام فرید کی نماز جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا، اعلیٰ حکام کی شرکت

    تفصیل کے مطابق تھانہ صدر تونسہ کی حدود میں ڈاکوؤں سے مقابلے کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے اے ایس آئی غلام شبیر اور کانسٹیبل غلام فرید کی نماز جنازہ پولیس لائنز ڈیرہ غازیخان میں مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی۔ پولیس کے چاک و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی پیش کی، جبکہ قومی پرچم میں لپٹے جسدِ خاکی پر اعلیٰ افسران نے پھولوں کی چادر چڑھائی۔

    نماز جنازہ میں ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب محمد کامران خان، آر پی او ڈی جی خان کیپٹن (ر) سجاد حسن خان، کمشنر اشفاق احمد چوہدری، ڈی پی او سید علی، ڈپٹی کمشنر عثمان خالد، رینجرز، پولیس، انتظامیہ، بار ایسوسی ایشن، پریس کلب کے نمائندگان، سیاسی و سماجی رہنماؤں، شہریوں اور شہداء کے لواحقین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر سکیورٹی اداروں کے سربراہان بھی موجود تھے۔

    ایڈیشنل آئی جی محمد کامران خان نے شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی، ان سے اظہار تعزیت کیا اور شہداء کی قربانی کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔ آر پی او سجاد حسن خان نے شہداء کو پولیس فورس کا فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس قیامِ امن کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے، اور شہداء کے بچوں کی مکمل کفالت کی جائے گی۔

    نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد شہداء کے جسد خاکی کو مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کے آبائی علاقوں روانہ کیا گیا، جہاں تدفین عمل میں لائی جائے گی۔ شہید اے ایس آئی غلام شبیر نے سوگواران میں بیوی اور پانچ بچے، جبکہ شہید کانسٹیبل غلام فرید نے بیوی اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔

  • پنجاب یونیورسٹی میں آئس سپلائی کی کوشش کرنیوالا پولیس اہلکار گرفتار

    پنجاب یونیورسٹی میں آئس سپلائی کی کوشش کرنیوالا پولیس اہلکار گرفتار

    لاہور : پنجاب یونیورسٹی میں آئس سپلائی کی کوشش کرنے والے پولیس اہلکار کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان پولیس کے مطابق لاہور میں پنجاب یونیورسٹی میں آئس بیچنے والا پولیس اہلکار گرفتار کرلیا گیا وردی میں ملبوس اہلکارنے آئس لے کر جامعہ میں داخلے کی کوشش کی اہلکار اعجاز کچھ عرصہ قبل ہی کلوز لائن ہو چکا تھا۔

    ترجمان فیصل کامران کا کہنا ہے کہ بہترین کارروائی پر ڈی آئی جی آپریشنز نے اقبال ٹاؤن پولیس ٹیم کو شاباش دی۔ منشیات فروشی کیخلاف انٹیلی جینس کا مضبوط نیٹ ورک بنایا ہے، پولیس میں اندرونی احتساب، مسلسل نگرانی کا عمل موجود ہے، ایک مجرم پولیس اہلکار پوری فورس کی بدنامی کا باعث بنتا ہے، وردی کی آڑ میں جرم کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔

    اکبر ایس بابر کی الیکشن کمیشن سے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس اور اثاثے منجمد کر نے کی اپیل

    ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک میں ملوث دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے اہلکار اعجاز علی انوسٹی گیشن ونگ کے دفتر میں تعینات تھا-

    خیرپور: رانا ثناء اللہ کا ببرلو دھرنا قائدین سے رابطہ، مذاکرات کی پیشکش

  • ڈیرہ غازی خان: ڈاکوؤں سے مقابلے میں پولیس کے دو اہلکار شہید

    ڈیرہ غازی خان: ڈاکوؤں سے مقابلے میں پولیس کے دو اہلکار شہید

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر: جواد اکبر)ڈیرہ غازی خان پولیس نے ایک بار پھر جانفشانی، فرض شناسی اور قربانی کی روشن مثال قائم کر دی۔ تھانہ صدر تونسہ میں تعینات اے ایس آئی غلام شبیر اور کانسٹیبل غلام فرید دری شاہ پل کے قریب ڈاکوؤں سے مقابلے کے دوران جامِ شہادت نوش کر گئے۔

    تفصیلات کے مطابق پولیس کو اطلاع موصول ہوئی کہ دری شاہ پل کے علاقے میں مسلح ڈاکو موجود ہیں۔ اطلاع ملتے ہی اے ایس آئی غلام شبیر اپنی ٹیم کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچے۔ پولیس پارٹی کے پہنچتے ہی ڈاکوؤں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں اے ایس آئی غلام شبیر اور کانسٹیبل غلام فرید نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے شہادت کا بلند مقام حاصل کیا۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او ڈیرہ غازی خان سید علی، ایس ڈی پی او تونسہ، ایس ایچ او اور دیگر پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے اور پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی۔

    ڈیرہ غازی خان پولیس کی جانب سے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس فورس ہر لمحہ تیار ہے اور اس واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • ٹھٹھہ: ڈی ایف او کی نگرانی میں جنگلات کی غیرقانونی کٹائی، 160 ایکڑ زمین 96 لاکھ میں فروخت

    ٹھٹھہ: ڈی ایف او کی نگرانی میں جنگلات کی غیرقانونی کٹائی، 160 ایکڑ زمین 96 لاکھ میں فروخت

    ٹھٹھہ، باغی ٹی وی (ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں)ضلع ٹھٹھہ میں محکمہ جنگلات کے افسران کی ملی بھگت سے جنگلات کی زمینوں اور درختوں کی غیرقانونی کٹائی اور فروخت کا انکشاف ہوا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ڈسٹرکٹ فاریسٹ آفیسر (ڈی ایف او) محبوب علی بھٹی نے نہ صرف سندھ حکومت کی جانب سے درختوں کی کٹائی پر عائد پابندی کو نظرانداز کیا بلکہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے واضح فیصلے کی بھی خلاف ورزی کی، جس میں جنگلات سے قبضے ختم کر کے دوبارہ شجرکاری کا حکم دیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ویران فاریسٹ کی چوکڑی نمبر 5 میں روزانہ لاکھوں روپے مالیت کے قیمتی درخت کاٹ کر کراچی منتقل کیے جا رہے ہیں۔ یہ تمام کارروائی ڈی ایف او محبوب علی بھٹی کی سرپرستی اور رینج فاریسٹ آفیسر (آر ایف او) ہاشم ہنگورو کی نگرانی میں جاری ہے۔ ہاشم ہنگورو نہ صرف مختلف بیماریوں کا شکار ہیں بلکہ بینائی کی کمزوری کے باوجود حساس علاقے میں تعینات ہیں اور 160 ایکڑ رقبے پر مشتمل چوکڑی نمبر 5 سے درختوں کی غیرقانونی کٹائی کروا رہے ہیں۔

    تحقیقات سے مزید انکشاف ہوا ہے کہ ویران جنگلات کی چوکڑی نمبر 46، جو کہ 160 ایکڑ پر مشتمل ہے، کو ڈی ایف او محبوب علی بھٹی اور آر ایف او ہاشم ہنگورو نے ملی بھگت سے ایک بلوچ شخص کو 96 لاکھ روپے میں غیرقانونی طور پر فروخت کر دیا۔ یہ فروخت سپریم کورٹ کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس میں جنگلات کی زمینوں سے تجاوزات ختم کر کے شجرکاری کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔

    مقامی سیاسی و سماجی حلقوں نے اس صورت حال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر درختوں کی کٹائی بند کرائی جائے، ملوث افسران اور خریداروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے، اور چوکڑی نمبر 46 کی غیرقانونی فروخت کا نوٹس لیتے ہوئے اسے منسوخ کیا جائے۔

  • گوجرخان: 7 سالہ کرسچن بچی کے قاتل کی پولیس حراست میں ہلاکت

    گوجرخان: 7 سالہ کرسچن بچی کے قاتل کی پولیس حراست میں ہلاکت

    گوجرخان (باغی ٹی وی، نامہ نگار شیخ ساجد قیوم) تھانہ مندرہ کے علاقے میں 7 سالہ کرسچن بچی کے قتل اور زیادتی کے ملزم سنیل مسیح کو پولیس حراست سے چھڑانے کی کوشش کے دوران اس کے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک کر دیا گیا۔ ملزم سنیل جو مقتولہ کا سگا ماموں تھا کو گزشتہ رات گرفتار کیا گیا تھا۔

    پولیس کے مطابق ملزم کو آلہ جرم کی برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا جب اس کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی۔ اس فائرنگ کے دوران سنیل شدید زخمی ہوا اور ہسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گیا۔ فائرنگ کرنے والے ملزمان موقع سے فرار ہو گئے۔

    تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ملزم سنیل آئس کا عادی تھا اور مقتولہ کے گھر کے قریب رہتا تھا۔ اس نے ایسٹر کے روز بچی کو کھانے پینے کی اشیاء کا لالچ دے کر زیر تعمیر عمارت میں لے گیا، جہاں اس نے زیادتی کی کوشش کی۔ بچی کے شور مچانے پر ملزم نے قینچی سے اس کا گلا کاٹا، سر پر اینٹ سے وار کیا، اور گلا گھونٹ کر قتل کر دیا۔ سفاک ملزم نے قتل کے بعد بھی بچی سے زیادتی کی۔

    واردات کے بعد ملزم گھر واپس آیا اور فیملی کے ساتھ بچی کی تلاش میں ملوث رہا۔ اس کی مشکوک حرکات پر پولیس نے تفتیش کی تو ملزم نے جرم کا اعتراف کر لیا۔

    سی پی او سید خالد ہمدانی نے ملزم کی 24 گھنٹوں میں گرفتاری اور فائرنگ کے باوجود بہادری سے فرض کی ادائیگی پر اے ایس پی گوجرخان اور مندرہ پولیس ٹیم کو شاباش دی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچے ریڈ لائن ہیں اور ان کے خلاف جرائم ناقابل برداشت ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث ملزمان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

    پولیس ترجمان کے مطابق ملزم کے ساتھیوں کی فائرنگ سے زیر حراست ملزم ہلاک ہوا اور واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

  • راولپنڈی :7 سالہ بھانجی کےقتل اور زیادتی کیس کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    راولپنڈی :7 سالہ بھانجی کےقتل اور زیادتی کیس کا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

    راولپنڈی میں پولیس پر مبینہ حملے کے دوران بچی کے قتل اور زیادتی کے کیس میں گرفتار ملزم سنیل فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گیا، جب کہ اس کے ساتھی ملزمان فرار ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق راولپنڈی کے علاقے مندرہ میں 7 سال کی بچی کےقتل اور زیادتی کے الزام میں گرفتار ملزم ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا ملزم کو حراست سےچھڑانے کےلیے اس کے ساتھیوں نے پولیس ٹیم پرفائرنگ کی جس دوران زیر حراست ملزم اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوا جو اسپتال منتقلی کے دوران ہلاک ہوگیا،پولیس نے فرار ہونے والے دیگر ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کے قتل و زیادتی میں ملوث ملزم اس کا ماموں تھا، ملزم کو گزشتہ رات پولیس نے گرفتار کیا تھا جسے برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ اسی دوران ملزمان نے فائرنگ کردی ملزم آئس کا نشہ کرتا تھا اور مقتولہ کے گھر کے قریب ہی رہتا تھا، ملزم بچی کو زیر تعمیر عمارت میں لےگیاجہاں اس نے بچی سے زیادتی کی کوشش کی-

    علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری

    پولیس کے مطابق بچی کے شور کرنے پر ملزم نے قینچی سے بچی کا گلا کاٹا اور سر پر اینٹ سے وار کیا اور ملزم نے قتل کے بعد بچی سے زیادتی کی، ملزم واردات کے بعد گھر آگیا اور فیملی کے ساتھ بچی کو تلاش کرتا رہا، ملزم کی مشکوک حرکات پر شامل تفتیش کیا تو اس نےاعتراف جرم کرلیا۔

    ہارون نور محمد: جنہیں مادر وطن کی محبت ایک بار پھر پاکستان لے آئی

  • میرپورماتھیلو:خانپور مہر میں فائرنگ سے کورائی قبیلے کے 4 افراد جاں بحق، پولیس حدود میں الجھ گئی

    میرپورماتھیلو:خانپور مہر میں فائرنگ سے کورائی قبیلے کے 4 افراد جاں بحق، پولیس حدود میں الجھ گئی

    میرپور ماتھیلو (نامہ نگارمشتاق لغاری) خانپور مہر کے نواحی علاقے ہیکل پٹ میں ایک افسوسناک واقعے میں مسلح افراد نے کورائی برادری کے گھروں پر دھاوا بول دیا۔ اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے چار افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی شناخت گلشیر کورائی، ان کے بھائی گل میر کورائی، گلشیر کی بیوی شریفاں اور ان کی والدہ اختیاراں کورائی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ مسلح افراد نے گھر میں گھس کر ان پر براہ راست فائرنگ کی، جس سے موقع پر ہی ان کی موت واقع ہو گئی۔

    واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق اطلاع دینے کے باوجود پولیس کافی دیر تک جائے وقوعہ پر نہیں پہنچ سکی، جس کے باعث مقتولین کی لاشیں کھلے آسمان تلے پڑی رہیں۔ اس تاخیر پر علاقہ مکینوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

    ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ تھانہ مبارک پور اور تھانہ خانپور مہر کی پولیس کے درمیان علاقے کی حدود کے تعین پر تنازعہ پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ کس تھانے کی پولیس جائے وقوعہ کی ذمہ داری لے گی۔ اس مبینہ تنازعے کے باعث مقتولین کی نعشیں کئی گھنٹوں تک جائے وقوعہ پر پڑی رہیں۔

    بعد ازاں اعلیٰ پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، پولیس حکام نے اس واقعے کو پرانی دشمنی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ تاہم، انہوں نے مزید تفتیش کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ حقائق کو مکمل طور پر واضح کیا جا سکے۔

    اس دلخراش واقعے نے علاقے میں سوگ کی فضا طاری کر دی ہے اور مقتولین کے لواحقین گہرے صدمے سے دوچار ہیں۔ علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔