Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • لاہور میں فائرنگ سے 3 افراد قتل

    لاہور میں فائرنگ سے 3 افراد قتل

    لاہور میں فائرنگ سے 3 افراد قتل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے علاقے امامیہ کالونی میں فائرنگ سے 3 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں،فائرنگ کی اطلاع پر پولیس اور ریسیکیو ادارے موقع پر پہنچ گئے،

    پولیس کے مطابق مقتولین کی شناخت لیاقت علی ،بشیر حسین اور اشفاق کے نام سے ہوئی،مقتول تحصیل کچہری فیروزوالہ سےمرید کے جا رہےتھے، پولیس نے لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا

    پولیس کا کہنا ہے کہ قاتلوں کی گرفتاری کے لئے ٹیم تشکیل دی جائے گی ،جلد قاتلوں کو گرفتار کر لیا جائے گا.

    نوٹ، یہ ابتدائی خبر ہے، مزید تفصیلات آنے پر اسے اپڈیٹ کر دیا جائے گا

  • سرگودہا کے علاقے میں ڈکیٹی اور چوری کی وارداتوں میں اضافے سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس

    سرگودہا کے علاقے میں ڈکیٹی اور چوری کی وارداتوں میں اضافے سے شہریوں میں شدید خوف و ہراس

    سرگودھا(نمائندہ باغی ٹی وی)شاہ نکڈر اور گردونواح میں چوری اور ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتیں عوام میں خوف و ہراس لوگ گھروں میں محصور
    تفصیل کے مطابق اج صبح دن دیہاڑے چک 157 شمالی کارہایشی محمد رمضان ولد محمد صادق جو کہ بسکٹ وغیرہ کی سیل مینی کا کام کرتا ہے جب چک 160 شمالی کے قریب پہنچا تو نامعلوم 2 موٹرسائیکل سواروں نے پیچھے سے آکر اسلحہ کے زور پر اس کو روکنے کی کوشش کی تو سیل مین نے شور مچا دیا اور موٹرسائیکل بھگایا تو ڈکیتوں نے پیچھے سے فائرنگ کھول دی فائر موٹرسائیکل کے ٹائر میں لگنے سے ٹائر برسٹ ہوگیافائرنگ کی آواز سن کر لوگوں کے جمع ہونے پر ڈکیت بھاگ گئے دوسری واردات میں نامعلوم چور محلہ پٹھان کوٹ کے رہائشی یسین کی کریانہ سٹورکی دکان کاتالہ توڑ کر سامان اور نقدی لے کر فرار ہو گئے آئے روزانہ بڑھتی ہوئی وارداتوں کی وجہ سے عوام میں خوف و ہراس پھیل چکا ہے جبک مقامی پولیس مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے علاقہ کی عوام نے ڈی پی او سرگودھا آرپی اوسرگودھا اور وزیر اعلی پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیاہے

  • منڈی بہاوالدین  ہیڈ قادر آباد کے قریب جیپ اور ٹرک میں تصادم،، سڑک کنارے کھڑی جیپ کو تیز رفتار ٹرک نے ٹکر مار دی،

    منڈی بہاوالدین ہیڈ قادر آباد کے قریب جیپ اور ٹرک میں تصادم،، سڑک کنارے کھڑی جیپ کو تیز رفتار ٹرک نے ٹکر مار دی،

    منڈی بہاوالدین
    ہیڈ قادر آباد کے قریب جیپ اور ٹرک میں تصادم،،
    سڑک کنارے کھڑی جیپ کو تیز رفتار ٹرک نے ٹکر مار دی،


    جیپ میں موجود 3 افراد زخمی، ایک زخمی کی حالت تشویشناک زخمیوں کو تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال پھالیہ منتقل کر دیا گیا،. ریسکیو ذرائع
    جیپ میں موجود زخمی افراد کا تعلق "” پھالیہ "” کہ نواحی گاؤں ” اگرویہ” سے ہے، ریسکیو ذرائع
    زخمیوں میں 2 مرد اور ایک لڑکی شامل،. لڑکی کی حالت تشویشناک، ریسکیو ذرائع
    ٹرک ڈرائیور موقع سے فرار ھونے میں کامیاب ۔

  • وردی بدل گئی لیکن کرتوت نہ بدلے، لاہور کی صبا پولیس کے کالے کرتوت سامنے لے آئی

    وردی بدل گئی لیکن کرتوت نہ بدلے، لاہور کی صبا پولیس کے کالے کرتوت سامنے لے آئی

    وردی بدل گئی لیکن کرتوت نہ بدلے، لاہور کی صبا پولیس کے کالے کرتوت سامنے لے آئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں خواتین سڑکوں پر لوٹ مار کرنے والا پولیس اہلکاروں کا گینگ منظر عام پر آگیا ،لاہورمیں 5 روز قبل فردوس مارکیٹ میں دو خواتین کو گاڑی پر پر 3 پولیس اہلکاروں نے روک لیا تھا ، دو خواتین گھر سے ماں کی دوائی لینے نکلی تھی سڑک پر اہلکاروں نے قابو کرلیا

    صبا نامی خاتون کا کہنا ہے کہ قانون کے محافظوں نے ہمیں روکا اور دھند کرنے والی لڑکیاں سمجھتے رہے .سلطان نامی کانسٹیبل اور اہلکاروں نے نایاب حرکات کرتے رہے ،وردی میں ملبوس اہلکاروں نے ہمیں پکڑا اور نزدیکی گیسٹ ہاوس میں کپڑے اتارنے کی کوشش کرتے رہے ، پیسے نہ دینے پر ہمارے موبائل چھین کر پولیس اہلکار لے گئے .

    صبا نامی خاتون کا مزید کہنا تھا کہ ایس ایچ او نصر آباد نے موبائل فون اگلے روز اہلکاروں سے برآمد کروائے ، اے ایس پی ماڈل ٹاؤن دفتر میں انکوائری کے دوران ہمارے انگوٹھے زبردستی لگوا لئے گئے ، بہن شازیہ اور مجھے اے ایس پی ماڈل دفتر والوں دھکے دے کر باہر پھنک دیا. پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمے کی درخواست ہونے کے باوجود مقدمہ درج نہ کیا گیا.

    صبا کا مزید کہنا تھا کہ عام شہری ڈکیتی کرے تو پرچہ پولیس والے سڑکوں پر وردات کرے تو انکوائری ،ہمیں انصاف دیا جائے اور اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے .

    اے ایس پی ماڈل ٹاؤن آصف بہادر کا کہنا ہے کہ معاملہ کی انکوائری کی جاری ہے جلد حقائق سامنے آجائے گئے، خواتین کی عزت اور میرٹ کرنا اولین ترجیح ہے .

  • ڈانس کیوں روکا؟ شادی کے دوران خاتون ڈانسر کو گولی ماردی گئی

    ڈانس کیوں روکا؟ شادی کے دوران خاتون ڈانسر کو گولی ماردی گئی

    نئی دہلی :ڈانس کیوں روکا؟ شادی کے دوران خاتون ڈانسر کو گولی ماردی گئی تفصیلات کے مطابق شادی کی تقریب میں ڈانسر لڑکی سٹیج پر ڈانس کر رہی تھی، اُسے اُس وقت گولی ماری گئی جب وہ ڈانس کرتے کرتے رک گئی تھی۔

    https://www.youtube.com/watch?v=oGOn0fK7mgY

    یہ واقعہ ریاست اتر پردیش کے ایک گاؤں میں پیش آیا تھا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔ تاہم اس واقعے کی خبر میڈیا میں اس وقت آئی جب اس کی ویڈیو شیئر کی جانے لگی۔اس واقعے کی ویڈیو میں خاتون کو سٹیج پر ڈانس کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ خاتون رکتی ہیں تو گولی کی آواز سنائی دیتی ہے، پھر خاتون اپنے چہرے پر ہاتھ رکھتی ہیں اور زمین پر گر جاتی ہیں۔

    شادی کی تقریب ،فائرنگ سے دوافراد ہلاک،خوشیاں غم میں تبدیل

    یاد رہے کہ سنہ 2016 میں ریاست پنجاب میں ایک شادی میں ایک حاملہ خاتون کو اس وقت گولی مار دی گئی جب وہ ڈانس کر رہی تھیں اور وہ پیٹ میں گولی لگنے سے ہلاک ہوگئی تھیں۔اس کے علاوہ 2016 اور 2018 میں بھی ایسے بہت سے واقعات ہوئے تھے۔

    بھارت میں24 گھنٹوں کےاندرایک اورحوا کی بیٹی زیادتی کے بعد جلادی گئی

    واضح رہے کہ انڈیا میں شادیوں کے موقع پر تشدد کے واقعات پہلے بھی رپورٹ کیے گئے ہیں جہاں مہمانوں کی جانب سے اسلحے سے ہوائی فائرنگ کرنے کا رحجان بھی ہے اور ایسے میں کسی سے مخالفت ہو تو تشدد کے واقعات بھی پیش آتے ہیں۔

  • اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں!سعودیہ پلٹ شہری کے قتل کا معمہ حل

    اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں!سعودیہ پلٹ شہری کے قتل کا معمہ حل

    لاہور:اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں!سعودیہ پلٹ شہری کے قتل کا معمہ حل،اطلاعات کے مطابق لاہور کے نواحی علاقے سندرمیں دوران ڈکیتی سعودیہ پلٹ شہری کے قتل کا معمہ حل، مقتول کی بیوی نے آشنا کے ساتھ ملکر شوہر کو قتل کیا اور ڈکیتی کا ڈرامہ رچایا، پولیس نے واردات کے تینوں کرداروں کو گرفتار کر لیا۔

    میں دوستوں کی کتابیں چوری کرنے میں مشہور تھا، مراد علی شاہ کے منہ سے سچ نکل گیا

    مانگا پولیس کے مطابق مقتول کی بیوی کے عارف کے کزن فیصل کے ساتھ مراسم تھےاورخاتون نےمبینہ آشنا سے مل کر سعودیہ سے آنے والے شوہر کے قتل کا منصوبہ بنایا جبکہ ملزموں نے چالاکی سے واردات کو ڈکیتی قتل کا رنگ دینے کی کوشش کی۔

    سی ایس ایس امتحانات کیلیےعمر کی حد میں تبدیلی ؟اہم خبرآگئی

    دوران تحقیقات معلوم ہوا کہ فیصل نے طیب اورسلیم کےساتھ ملکرعارف کو گولی ماری اورنقدی اورزیورات لے گئے جبکہ اے ایس پی رائیونڈ کی نگرانی میں پولیس نے شواہد جمع کر کے تینوں ملزموں کو پکڑ لیا اورملزموں نے اعتراف جرم کرلیا، اسلحہ اور مال مسروقہ برآمد کر کے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    جھوٹ کیوں‌ بولا ؟ سی وی بھیجنے والی خاتون کو جیل بھیج دیا گیا

  • قصور میں تین کمسن بچوں کی لاشیں جنھیں زیادتی کا ینشانہ بنایا گیا تھا اور انھیں قتل کیا گیا تھا، ایک سال سے بھی کم عمر زینب کے عصمت دری اور قتل کے الزام میں عمران علی کو پھانسی دی گئی تھی۔

    عمران علی نے عوامی پھانسی کے مطالبہ کے باوجود کوٹ لکھپت جیل، لاہور کی دیواروں کے اندر پھانسی دے دی۔ اس کے باوجود اس معاشرے میں عام شائستگی اور اخلاقی تانے بانے پر ایک ناقابل بیان حملے کے ردعمل کے طور پر، قومی گفتگو میں اس کی پھانسی ناگزیر ہے اس معنی میں عوامی تھی۔ بدلہ لینے، پھانسی دینے اور خود پھانسی دینے کی فریاد، تاہم عصمت دری اور قتل کے اگلے دور کے مجرم کو روک نہیں سکی۔

    عمران علی سے پہلے جاوید اقبال تھا، جو سیریل کلر تھا ، جس نے 100 نوجوان لڑکوں کے قتل کا اعتراف کیا تھا۔ جج نے، مارچ 2000 میں اسے پھانسی پر پھانسی دیتے ہوئے لکھا، "آپ کے والدین کے سامنے گلا دبا کر قتل کیا جائے گا جس کے بچوں کو آپ نے قتل کیا تھا۔ اس کے بعد آپ کے جسم کو 100 ٹکڑوں میں کاٹ کر تیزاب میں ڈال دیا جائے گا، جس طرح آپ نے بچوں کو مارا تھا۔ "جاوید اقبال بعد میں جیل میں رہتے ہوئے ایک خودکشی میں ہلاک ہوگئے۔

    عمران علی اور جاوید اقبال کے لئے غالب گفتگو کا نکتہ ہمارے بچوں کو اگلے عمران علی یا جاوید اقبال سے بچانے کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ ایک ابتدائی غیر مہذب ناکامی کے عالم میں حکومت اور معاشرے کی حیثیت سے سخت نظر آنے کا تھا۔

    سزائے موت ہمیشہ اس کے بارے میں ہوتی ہے: قتل کی وارداتوں میں ہماری رضامندی اور صلاحیت کا مظاہرہ۔ یہ پیغام آئندہ قاتلوں اور عصمت دری کرنے والوں کو نہیں دیا گیا ہے، بلکہ بڑے پیمانے پر عوام کے لئے ہے۔

    آمرانہ ریاست اور موت کے مابین تعلقات کو فرانسیسی پارلیمنٹ میں ستمبر 1981 میں اپنی تقریر میں فرانسوا کے وزیر انصاف کے تحت فرانس کے وزیر انصاف رابرٹ بیڈینٹر نے واضح طور پر اجاگر کیا تھا۔ "یہ انصاف کے منافی ہے. یہ جذبہ انسانیت پر غالب خوف اور خوف ہے۔”

    زیادہ اہم بات یہ ہے کہ، "آزادی کے ممالک میں خاتمہ تقریبا قاعدہ ہے۔ آمریت میں ہر جگہ سزائے موت استعمال ہوتی ہے۔ دنیا کی اس تقسیم کا نتیجہ محض اتفاق سے نہیں ہوتا ہے۔ یہ ایک ارتباط کو ظاہر کرتا ہے۔ سزائے موت کی اصل سیاسی علامت یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں یہ خیال آتا ہے کہ ریاست کو شہری سے فائدہ اٹھانے کا حق حاصل ہے ، یہاں تک کہ شہری کی زندگی کو دبانے کا امکان موجود ہو۔

    ایران میں انقلاب کے بعد، ضیاءالحق کی حکومت نے آیت اللہ خمینی کے تحت پھانسی دینے کی خبروں کو عام کرنا شروع کیا۔ فروری 1979 میں رضا شاہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پاکستانی اخبارات کے آرکائیو میں موت کی سزاؤں کو سرخی کی خبروں کے طور پر اور خمینی کو "درجنوں” کی "نششت” بنا کر بتایا گیا ہے۔

    یہ قدرے عجیب لگ رہا تھا؛ پھر بھی اس کا مقصد جان بوجھ کر ریاست کے زیر اہتمام تشدد کے لئے قبولیت پیدا کرنا اور پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے پھانسی/ قتل، 5 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی منزل قائم کرنا تھا۔

    1983 میں لاہور کے ایک کمسن لڑکے پپو کے قاتل کو سرعام پھانسی دے دی گئی اور قاتل کی لاش کو تماشے کی حیثیت سے سارا دن لٹکا دیا گیا۔ بچوں یا عصمت دری اور قتل کا خاتمہ ملک یا شہر میں نہیں ہوا۔ تاہم ضیاء آمریت کے ذریعہ یہ بات پھر سے سامنے آچکی ہے کہ اس نے تشدد کا تماشا بنانے میں ٹیڑھی خوشی لی۔ کارکنوں اور صحافیوں کی فلاگنگیں اس وقت نمایاں طور پر مزید قابل تقلید ہوجاتی ہیں جب چراغ کے خطوط سے لٹکی لاشیں ملتی ہیں۔

    سزائے موت کے لئے صریح دلیل کو بڑے پیمانے پر بدنام کیا گیا ہے اور بیشتر حکومتیں، بشمول پاکستان، محتاط اور لگ بھگ ناپسندیدہ دلیل کو روکتی ہیں کیونکہ یہ سزائے موت کا مقصد نہیں ہے۔

    آرتھر کویسٹلر نے انگلینڈ میں سزائے موت کے خلاف اپنے مقدمے کے مقدمے میں اس وقت کے بارے میں لکھا تھا جب اٹھاؤ جیسیوں کو سرعام پھانسی دی جاتی تھی، اور دیگر پیکیٹ اپنی قابلیت کو استعمال کرنے کے لئے پھانسی کے مشاہدے کے لئے جمع ہونے والے ہجوم سے فائدہ اٹھاتے تھے۔ 1886 میں برسٹل جیل میں 167 مردوں میں سے ، جنھیں سرعام پھانسی کی سزا سنائی گئی، 164 نے کم از کم ایک سرعام پھانسی کا مشاہدہ کیا تھا۔

    ہجوم کے لیے قتل کی اذان حتمی خلل ہے۔ زخمی معاشرے میں جوڑ توڑ کا سب سے زیادہ مذموم فعل ہے۔ متاثرین بھیڑ کے حملوں کے سب سے زیادہ متاثرین کی طرح پسماندہ یا غریب ہیں۔

    اپنے بچوں کی حفاظت کے لئے مجرمانہ انصاف کے نظام کی اصلاح کے لئے سخت جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کو مزید ذمہ دار بنایا جاسکے ، ساختی اور معاشرتی رکاوٹوں سے نمٹنے اور مزید آزاد معاشرے کی تشکیل کی جائے۔ تاہم ، پپو یا عمران علی کو پھانسی دینا بہت زیادہ فوری، ٹھوس، آسان اور بے ایمانی ہے۔

    پھر یہ خبر عمران علی کے بارے میں بنتی ہے، انتقام اور انصاف کیسے پیش کیا گیا، اس حقیقت کی بجائے کہ زینب کو قصور سے اغوا کیا گیا تھا جہاں 2015 سے بچوں کے ساتھ زیادتی کے 700 سے زیادہ واقعات درج ہیں۔ یہ اس خون کو روشن کرنے والے لمحے کے لئے حقیقت کو واضح کردے گا۔ کہ پاکستان میں روزانہ اوسطا بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے سات نئے واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔

    اس دلیل کا اطلاق سزائے موت کے تمام معاملات پر ہوتا ہے جن میں عصمت دری، بچوں کے ساتھ بدسلوکی، دہشت گردی اور روزمرہ کے قتل شامل ہیں۔ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے میں حکومت نہ تو روکنے کی کوشش کرتی ہے اور نہ ہی انصاف کا حصول۔ یہ صرف مار دیتا ہے کیونکہ یہ کرسکتا ہے۔

  • خوفناک ٹریفک حادثہ، گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی

    خوفناک ٹریفک حادثہ، گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی

    دبئی:راس الخیمہ میں گاڑی بجلی کے کھمبے سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی ریاست راس الخیمہ رنگ روڈ پر گاڑی ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوکر بجلی کے کھمبے سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔

    کنعان چوہدری کی پاکستانی معیشت کے بارے میں پشین گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی

    پولیس کے مطابق خوش قسمتی سے حادثے کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم ڈرائیور زخمی ہوا جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ڈرائیور تیز رفتاری کے سبب گاڑی پر قابو نہ پاسکا اور گاڑی بجلی کے کھمبے سے جاٹکرائی، فائر فائٹرز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر گاڑی میں لگی آگ پر قابو پایا، گاڑی مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئی۔

    پیدا کہاں‌ ہوئے ، موت کہاں‌ آئی :موریطانیہ کے ساحل میں تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی،…

    پولیس کا کہنا ہے کہ تمام ڈرائیور ٹریفک کے قوانین کی پاسداری کریں اور گاڑی کی مینٹینس کا خیال کریں، گاڑی سے ایندھن کا رساؤ اس طرح کے حادثات کی وجہ بنتا ہے۔یاد رہے کہ اس سے قبل اسی مقام پر ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا تھا جس میں اماراتی ڈرائیور کھمبے سے گاڑی ٹکرانے کی وجہ سے جاں بحق ہوگیا تھا۔

    2019 کا آخری طاقت ور ترین سورج گرہن 26 دسمبر کو ہوگا

  • سابق ‘مِس پاکستان ورلڈ’ کار حادثےمیں جاں بحق

    سابق ‘مِس پاکستان ورلڈ’ کار حادثےمیں جاں بحق

    واشنگٹن : سابق ’مِس پاکستان ورلڈ‘ زینب نوید حیدر امریکا میں ہونے والے ایک کار حادثے میں جاں بحق ہوگئیں۔ زینب نوید نے 2012 میں ‘مس پاکستان یو ایس’ نامی تنظیم کی جانب سے کینیڈا میں منعقد ہونے والے ‘مس پاکستان ورلڈ ‘کا مقابلہ جیتا تھا اور ان دنوں وہ نیویارک میں رہائش پذیر تھیں۔

    کنعان چوہدری کی پاکستانی معیشت کے بارے میں پشین گوئی حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی

    لاہور میں پیدا ہونے والی زینب نوید نے2012 ’مس پاکستان ورلڈ‘ کا مقابلہ جیتنے کے بعد فلپائن میں ہونے والے مس ارتھ 2012 کے مقابلے میں بھی حصہ لیا تھا غیر ملکی میڈیا کے مطابق 32 سالہ زینب نوید کی ہلاکت کا واقعہ گذشتہ دنوں نیویارک میں پیش آیا

    پیدا کہاں‌ ہوئے ، موت کہاں‌ آئی :موریطانیہ کے ساحل میں تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی،…

    پولیس کے مطابق زینب نوید کی گاڑی فٹ پاتھ سے ٹکراکر الٹ گئی اور سامنے سے آتی ہوئی ٹریفک کے سامنے آگئی۔پولیس کے مطابق حادثے کے بعد زینب نوید گاڑی سے نکلنے میں کامیاب ہو گئیں تھیں تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسیں۔

    2019 کا آخری طاقت ور ترین سورج گرہن 26 دسمبر کو ہوگا

  • منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاون

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) پولیس کی منشیات فروشوں کے خلاف چلائی گئی مہم میں تھانہ ہاؤسنگ کالونی کے ایس ایچ او عمر شیراز گھمن نے سپشل ٹاسک پر بڑی کاروائی کرتے ہوئے منشیات فروش طالب کو گرفتار کرلیا جس کے قبضہ سے 7 کلو افیوان بر آمد کر کے مقدمہ درج کرلیا