Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • کراچی، ڈمپر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار زخمی، سات ڈمپرز کو لگائی گئی آگ

    کراچی، ڈمپر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار زخمی، سات ڈمپرز کو لگائی گئی آگ

    کراچی کے علاقے نارتھ کراچی میں پاور ہاؤس چورنگی کے قریب ڈمپر کی ٹکر سے ایک موٹرسائیکل سوار شخص زخمی ہوگیا۔ حادثے کے بعد مشتعل افراد نے غصے میں آکر کئی ڈمپرز کو نذر آتش کر دیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق، ایک تیز رفتار ڈمپر ناگن چورنگی فلائی اوور سے آ رہا تھا جب اس نے دو موٹرسائیکلوں کو کچل دیا۔ حادثے میں کسی کی جان نہیں گئی تاہم ایک موٹر سائیکل سوار زخمی ہو گیا۔ عینی شاہد کا کہنا ہے کہ ڈمپر کا ڈرائیور تقریباً 17 سے 18 سال کا لڑکا تھا اور وہ تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا۔ حادثے کے بعد لوگوں نے ڈمپر کو روک لیا اور ڈرائیور کو مارا پیٹا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حادثے کے بعد مشتعل افراد نے 7 ڈمپرز کو آگ لگا دی۔ ان میں سے 4 ڈمپر ناگن چورنگی اور 3 فور کے چورنگی پر جلا دیے گئے۔ بعد میں فائر بریگیڈ کی مدد سے آگ بجھا دی گئی۔پولیس نے کہا ہے کہ کراچی کے تمام اسپتالوں سے حادثات سے متعلق معلومات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ زخمی افراد کے بارے میں معلوم کیا جا سکے۔

    ڈمپر ایسوسی ایشن کے رہنما لیاقت محسود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی 11 گاڑیوں کو جلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حادثے میں کسی شخص کو نقصان پہنچا ہے تو اس کی تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ لیاقت محسود نے مزید کہا کہ ڈمپرز کو جلانے والے افراد کو گرفتار کیا جائے اور حکومت ان کی حفاظت کرے۔: ڈمپر ڈرائیوروں نے پاور ہاؤس چورنگی پر ڈمپروں کو آگ لگانے کے خلاف احتجاج شروع کر دیا۔ احتجاج کے دوران ڈرائیوروں نے سڑک پر کچرا بھی پھینک دیا جس کے باعث سہراب گوٹھ اور آلاصف اسکوائر کے قریب ٹریفک کی روانی معطل ہو گئی۔

    کراچی میں گزشتہ روز بھی ایک اور افسوسناک حادثہ پیش آیا تھا، جس میں ٹریلر کی ٹکر سے ایک موٹرسائیکل سوار جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کے مطابق یہ حادثہ کورنگی کے ویٹا چورنگی پر پیش آیا۔ولیس کے مطابق کراچی میں 99 روز میں ہیوی گاڑیوں کی ٹکر سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 78 تک پہنچ گئی ہے۔ رواں سال اب تک ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 256 ہو چکی ہے۔

  • ملتان:ایل پی جی دھماکہ,ضمانت خارج، 12 ملزمان گرفتار

    ملتان:ایل پی جی دھماکہ,ضمانت خارج، 12 ملزمان گرفتار

    ملتان(باغی ٹی وی رپورٹ)رواں سال جنوری میں انڈسٹریل اسٹیٹ میں ہونے والے المناک ایل پی جی باؤزر دھماکے کے سلسلے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ نے واقعے میں ملوث 12 ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی، جس کے فوری بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے ملزمان غیر قانونی گیس فلنگ کے کاروبار میں ملوث تھے، جو اس افسوسناک واقعے کا سبب بنا۔ واضح رہے کہ اس دھماکے کے نتیجے میں 26 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور 14 افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قریبی آبادیوں کے 20 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے تھے جبکہ 70 دیگر جزوی طور پر متاثر ہوئے تھے۔ اس دلخراش حادثے میں کئی بے زبان جانور بھی جھلس کر ہلاک ہو گئے تھے۔

    تحقیقات کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایل پی جی گیس باؤزر سے غیر محفوظ طریقے سے گیس نکال کر اس میں خطرناک حد تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ملاوٹ کرنا حادثات کا بڑا سبب بنتا ہے۔ کم قیمت اور زیادہ پریشر کے باعث کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ایل پی جی میں ملایا جاتا ہے، جس سے پریشر غیر معمولی طور پر بڑھ جاتا ہے اور دھماکے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے مرکزی ملزمان، گیس باؤزر کا ڈرائیور اور گودام کا مالک، پہلے ہی گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ اب 12 مزید ملزمان کی گرفتاری سے اس المناک واقعے کی تحقیقات میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔ یہ گرفتاری قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

  • اوچ شریف: ٹرک کی ٹکر سے پھٹہ رکشہ سوار غلام شبیر جاں بحق

    اوچ شریف: ٹرک کی ٹکر سے پھٹہ رکشہ سوار غلام شبیر جاں بحق

    اوچ شریف، باغی ٹی وی( نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف کے علاقے جلال پور پیر والا روڈ دھور کوٹ موڑ کے قریب ایک افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جہاں ایک تیز رفتار ٹرک نے پھٹہ رکشہ کو ٹکر مار دی۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب رکشہ روڈ کراس کر رہا تھا کہ پیچھے سے آنے والے تیز رفتار ٹرک نے رکشہ کو زور دار ٹکر مار دی، جس کے نتیجے میں رکشہ سوار 65 سالہ غلام شبیر ولد الہی بخش موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق غلام شبیر ٹرک کے نیچے آ کر بری طرح زخمی ہوا اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    حادثے میں رکشہ میں موجود ایک اور شخص کو معمولی چوٹیں آئیں، جسے مقامی افراد نے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا، جہاں اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیم اور پیٹرولنگ پولیس خیرپور ڈاہا موقع پر پہنچ گئیں اور ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد جاں بحق ہونے والے غلام شبیر کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی۔ ورثاء نے اپنی نجی گاڑی میں میت کو گھر منتقل کر دیا۔

  • میرپورخاص اور کراچی میں کے ایف سی پر حملے، 21 افراد گرفتار

    میرپورخاص اور کراچی میں کے ایف سی پر حملے، 21 افراد گرفتار

    میرپورخاص/کراچی (رپورٹ: سید شاہزیب شاہ)میرپورخاص اور کراچی میں کے ایف سی ریسٹورنٹس پر حملے، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ، 21 افراد گرفتار

    بین الاقوامی فوڈ چین کے ایف سی کے ریسٹورنٹس سندھ کے دو شہروں میرپورخاص اور کراچی میں مشتعل افراد کے نشانے پر آگئے۔ مظاہرین نے توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کی کوشش کی، جبکہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر 21 افراد کو گرفتار کرلیا۔

    تفصیلات کے مطابق میرپورخاص کے نور CNG چوک پر واقع کے ایف سی ریسٹورنٹ پر مشتعل افراد نے حملہ کر دیا، مرکزی دروازے، شیشوں اور فرنیچر کو نقصان پہنچایا اور ریسٹورنٹ کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ اطلاع ملتے ہی ایس ایس پی میرپورخاص ڈاکٹر سمیر نور چنہ پولیس ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور ہوائی فائرنگ اور شیلنگ کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ پولیس نے 11 افراد کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کر دیا اور علاقے میں اضافی نفری تعینات کردی۔

    دوسری جانب کراچی میں بھی ڈیفنس تھانے کی حدود خیابان اتحاد پر واقع کے ایف سی ریسٹورنٹ پر مشتعل افراد نے حملہ کیا، مرکزی دروازے اور شیشوں کو توڑ دیا۔ پولیس کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر کارروائی کرتے ہوئے 10 افراد کو گرفتار کرلیا، جن میں سے ایک شخص کے قبضے سے ہتھوڑا بھی برآمد ہوا۔ پولیس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر میں کے ایف سی کی تین برانچز پر حملے کیے جا چکے ہیں۔

    ایس ایس پی میرپورخاص ڈاکٹر سمیر نور چنہ نے بتایا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کراچی پولیس کا بھی کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

  • کراچی  میں مبینہ پولیس مقابلے،  4 ملزمان گرفتار

    کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے، 4 ملزمان گرفتار

    کراچی میں کورنگی اور ملیر میں مبینہ پولیس مقابلوں کے دوران زخمی سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کورنگی کے علاقے باغ کورنگی میں مبینہ پولیس مقابلہ ہوا۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران زخمی سمیت 3 ملزمان گرفتار کرلئے گئے۔ گرفتار تھانہ عوامی کالونی کی حدود سے گرفتار ملزمان عبد الخالق اور اسد مقابلے کے دوران زخمی ہوئے جنکو طبی امداد کیلئے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ ملزمان کا ساتھی رضوان جائے وقوعہ سے فرار ہوتے ہوئے پکڑا گیا۔ملزمان کے قبضے سے اسلحہ گولیاں اور موٹر سائیکل برآمد کرلی گئی ہے.

    ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار ملزمان اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔اسکے ساتھ ڈسٹرک ملیر میں تھانہ اسٹیل ٹان نے گھگر پھاٹک کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے درمیان ایک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزم نوید کو جناح اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ ملزم کے قبضے سے برآمد اسلحہ اور گولیاں تحصیل میں لے لی گئی ہیں۔ گرفتار ملزم کے حوالے سے مزید تفتیش جاری ہے۔

    کراچی بار کے صدرمبینہ حملے میں زخمی،وزیر داخلہ کا نوٹس

    کے الیکٹرک کی اربوں روپے وصولی کیلیے درخواست

    کے الیکٹرک کی اربوں روپے وصولی کیلیے درخواست

    سندھ میں رواں برس ملیریا کے 13 ہزار سے زائد کیس رپورٹ

  • چنیوٹ: فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، 500 لیٹر ملاوٹی دودھ تلف، لاکھوں جرمانہ

    چنیوٹ: فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، 500 لیٹر ملاوٹی دودھ تلف، لاکھوں جرمانہ

    چنیوٹ (خبرنگارشمائلہ) پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ملاوٹ مافیا کے خلاف جاری کارروائیوں کو تیز کرتے ہوئے چنیوٹ شہر کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر انسپیکشن کی۔ کارروائی کے دوران 106 فوڈ بزنسز کی جانچ پڑتال کی گئی، جس میں صفائی کے ناقص انتظامات اور دیگر خلاف ورزیوں پر 50 فوڈ بزنسز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔

    بھوانہ کے نواحی علاقوں میں ملک کولیکشن سینٹرز پر خصوصی چھاپے مارے گئے، جہاں 500 لیٹر سے زائد ملاوٹی اور مضر صحت دودھ موقع پر تلف کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ، ورکرز کے میڈیکل سرٹیفکیٹس کی عدم موجودگی اور صفائی کی ناقص صورتحال پر ملک کولیکشن سینٹرز مالکان پر 43000 روپے جرمانے عائد کیے گئے۔

    گوشت فروشوں کی دکانوں پر بھی کارروائی کی گئی اور گندی کونز کے استعمال اور صفائی کے اصولوں کی خلاف ورزی پر 17500 روپے جرمانے وصول کیے گئے۔ مختلف فوڈ پوائنٹس اور کریانہ سٹورز پر ایکسپائرڈ اشیاء کی موجودگی پر 18000 روپے جرمانے کیے گئے، جبکہ ایک کلو سے زائد غیر معیاری اشیاء کو موقع پر تلف کر دیا گیا۔

    ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) فوڈ اتھارٹی نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ناقص اور غیر معیاری خوراک شہریوں میں مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہے اور اس کی روک تھام کے لیے روزانہ کی بنیاد پر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوڈ اتھارٹی شہریوں کو صحت مند اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

  • گوجرہ:زمین کا تنازعہ ،35 سالہ شخص قتل، ملزمان فرار

    گوجرہ:زمین کا تنازعہ ،35 سالہ شخص قتل، ملزمان فرار

    گوجرہ (عبد الرحمن جٹ) زمین کے تنازعہ نے ایک اور جان لے لی، چک نمبر 281 ج ب کے رہائشی 35 سالہ راشد سلیم کو ٹوکے اور کسی تیز دھار آلے کے وار کر کے قتل کر دیا گیا۔ ملزمان واردات کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    اطلاعات کے مطابق راشد سلیم اپنے کھیتوں میں مکئی کی فصل کی دیکھ بھال کے لیے گیا تھا جہاں شہباز، بلال اور غفران وغیرہ نے اس پر حملہ کر دیا۔ ملزمان نے راشد سلیم پر ٹوکے اور کسی دوسرے ہتھیار سے پے در پے وار کیے جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔

    واقعے کی اطلاع ملنے پر تھانہ صدر پولیس گوجرہ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مقتول کی نعش کو اپنی تحویل میں لے کر تحصیل ہیڈ کوارٹر (ٹی ایچ کیو) ہسپتال گوجرہ منتقل کیا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد نعش ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہے اور پولیس نے مفرور ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق ملزمان مقتول کے قریبی رشتہ دار بتائے جاتے ہیں جن کے درمیان زمین کا تنازعہ چل رہا تھا۔ آخری اطلاعات تک کسی بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔

  • سیف سٹی کیمرے، شہری جرائم پر قابو، دیہاتی تھانوں کا امتحان

    سیف سٹی کیمرے، شہری جرائم پر قابو، دیہاتی تھانوں کا امتحان

    سیف سٹی کیمرے، شہری جرائم پر قابو، دیہاتی تھانوں کا امتحان
    تحریر: محمد سعید گندی
    ڈیرہ غازی خان سرکل میں گزشتہ کچھ ماہ سے چوروں اور ڈاکوؤں نے عوام کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ کوئی شہری خواہ وہ مارکیٹ میں ہو، شہر، گاؤں یا روڈ پر ہو حتیٰ کہ اپنے گھروں میں بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ ڈاکوؤں نے روزانہ کی بنیاد پر چوریوں اور ڈکیتیوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ نہ جانے یہ سلسلہ کب اور کہاں جا کر رکے گا۔ خیر، یہ تو ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے، کبھی کم اور کبھی زیادہ۔ اسے مکمل طور پر قابو کرنا مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔

    ہر پولیس افسر کا اپنا پولیسنگ کا انداز ہوتا ہے۔ ہمارے بہت سے صحافی دوست اسے "دبنگ” لکھتے ہیں۔ خیر، یہ ممکن ہے کہ کوئی ایسی کارروائیاں ہوں یا محض محبت بھرے الفاظ ہوں۔ میں ایک صحافی ہوں اور ساتھ ہی مزدور بھی۔ بہت کم کسی دفتر جانے کا اتفاق ہوتا ہے۔ الحمدللہ، جب کوئی آپ کو پہچان نہیں پاتا تو وہ آپ کے سامنے سچ بول دیتا ہے، ورنہ اگر آپ صحافی کے طور پر تعارف کروائیں گے تو وہ چائے پلائیں گے اور چلتا کریں گے۔

    کچھ دن قبل ایک اعلیٰ پولیس افسر سے اچانک ملاقات ہوئی۔ کچھ صحافی دوست وہاں پہلے سے موجود تھے۔ سوال اٹھا کہ پچھلے چند ماہ یا ایک سال میں (وقت کی تعیین ضروری نہیں) کیا ڈیرہ غازی خان میں جرائم کم ہوئے ہیں؟ ان کا جواب بالکل درست اور بغیر کسی لگی لپٹی کے تھا۔ انہوں نے کہا کہ جرائم میں اضافہ ہوا ہے، بلکہ میں کہتا ہوں کہ بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔

    اس کی وجہ جاننے کی معقول کوشش بھی کی گئی۔ ان کے مطابق، جب تک تھانوں میں سیاسی اثر و رسوخ بند نہیں ہوگا، جرائم میں کمی نہیں آئے گی۔ دوسرا اہم نکتہ یہ کہ پولیس افسران اب میرٹ پر تفتیش سے بھی گھبراتے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان ایک ایسا علاقہ ہے جہاں پولیس خود جرائم پیشہ افراد سے کنارہ کشی اختیار کرتی ہے۔ اس کے بہت سے محرکات ہیں، جو میرے خیال میں ہم سب جانتے ہیں۔

    فیک ریکوریاں بہت زیادہ ہوئی ہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ جب چوریاں اور ڈکیتیاں ہوں گی تو صاف ظاہر ہے کہ عوام کو بھی کچھ ریلیف چاہیے۔ پولیس کہیں سے بھی لا کر عوام کو کچھ نہ کچھ دکھاتی ہے، اس لیے اب یہی آپشن رہ جاتا ہے، یعنی فیک ریکوریاں۔ کیونکہ جب پولیس اصلی جرائم پیشہ افراد کو پکڑتی ہے تو مدعی عدالت میں جا کر ان کے حق میں بیان دے دیتا ہے کہ یہ ہمارا چور یا ڈاکو نہیں۔ ایسی صورت میں پولیس کیا کرے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ جیسے پولیس کے مسائل ہیں، وہ پیچھے ہٹ جاتی ہے اور مدعی بھی اپنا بچاؤ کر کے غائب ہو جاتا ہے۔

    بڑے بڑے گینگز کا خاتمہ ضروری ہے اور یہ وقت کی اہم ضرورت بھی ہے۔ سب سے پہلے عوام اور پولیس کے درمیان خلیج کو کم کرنا ہوگا۔ عوام کا پولیس پر اور پولیس کا عوام پر اعتماد ہونا لازمی ہے۔ اب ڈیرہ غازی خان میں سیف سٹی کیمرے نصب کر دیے گئے ہیں۔ ان کیمروں کے ذریعے ہم اصلی مجرم تک پہنچ سکتے ہیں۔ ان کی بدولت جو بھی چور یا ڈاکو گینگ پکڑے جائیں گے، ان کے سفارشی یا تو آئیں گے ہی نہیں، اور اگر آئیں گے تو بہت کم۔ کیونکہ پولیس ان شواہد کی بنا پر کسی کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ اندازاً 70 فیصد جرائم ان سیف سٹی کیمروں سے کم ہو جائیں گے، باقی پولیس خود بھی قابو کر لے گی۔

    ایک سوال یہ ہے کہ کوٹ مبارک، شاہ صدر دین، کالا، دراہمہ یا دیگر دور دراز کے تھانوں کے علاقوں میں سیف سٹی کیمرے نصب نہیں ہیں۔ ان تھانوں کے علاقوں میں جرائم تو کم نہیں ہوں گے۔ بہرحال، پولیس اپنا کام کر رہی ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی کریں۔

  • لنڈیکوتل پولیس کا بڑا کریک ڈاؤن، بھاری مقدار میں آئس اور ہیروئن برآمد، 3 ملزمان گرفتار

    لنڈیکوتل پولیس کا بڑا کریک ڈاؤن، بھاری مقدار میں آئس اور ہیروئن برآمد، 3 ملزمان گرفتار

    لنڈیکوتل (باغی ٹی وی) لنڈیکوتل پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں آئس اور ہیروئن برآمد کر لی، جس کے نتیجے میں تین ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خیبر رائے مظہر اقبال کی ہدایات پر جاری کریک ڈاؤن کے تحت، ایس ایچ او لنڈیکوتل عدنان آفریدی کی سربراہی میں پولیس ٹیم نے زیڑے کے مقام پر ناکہ بندی کے دوران ایک مشکوک موٹر کار کو روکا۔ تلاشی کے دوران گاڑی کے خفیہ خانوں سے 5 کلوگرام آئس اور 3 کلوگرام ہیروئن برآمد ہوئی۔

    پولیس نے موقع پر ہی ملوث ملزمان امداد، فہد اور خدایار کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں حوالات منتقل کر دیا۔ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رائے مظہر اقبال نے اس کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کو شاباش دی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی اور ضلع خیبر کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

  • ملازمت کا جھانسہ،لڑکیوں کو عصمت فروشی پر مجبور کرنے والا گروہ گرفتار

    ملازمت کا جھانسہ،لڑکیوں کو عصمت فروشی پر مجبور کرنے والا گروہ گرفتار

    راولپنڈی – تھانہ دھمیال پولیس نے ایک سنگین کیس میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے گھریلو ملازمت کا جھانسہ دے کر لڑکیوں کو جنسی استحصال اور عصمت فروشی پر مجبور کرنے والے تین افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ گرفتار شدگان میں ایک میاں بیوی اور ان کا بیٹا شامل ہے، جنہیں متاثرہ لڑکی کی درخواست پر حراست میں لیا گیا۔

    متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ اسے ایک شخص عامر عباس نے گھریلو کام کے بہانے اپنے گھر بلایا، جہاں اس کے ساتھ زیادتی کی گئی اور ویڈیو بھی بنائی گئی۔ بعد ازاں ویڈیو کے ذریعے اسے بلیک میل کرتے ہوئے جسم فروشی پر مجبور کیا گیا۔لڑکی کا مزید کہنا تھا کہ عامر عباس کے ساتھ اس کی اہلیہ ثمینہ اور فرزانہ نامی خاتون بھی اس مکروہ دھندے میں شریک تھیں۔ مدعیہ نے دعویٰ کیا کہ نہ صرف اسے، بلکہ اس کی کزن کو بھی کام کے بہانے بلایا گیا، اور اسی طرح کے حالات کا نشانہ بنایا گیا۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے عامر عباس، اس کی بیوی ثمینہ، اور بیٹے زمان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ متاثرہ لڑکی کا میڈیکل پراسیس بھی شروع کردیا گیا ہے تاکہ شواہد حاصل کیے جا سکیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق گروہ ممکنہ طور پر دیگر لڑکیوں کو بھی نشانہ بنا چکا ہے، جس کی تصدیق تحقیقات کے دوران کی جائے گی۔پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے کسی مشتبہ واقعے کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ تھانے کو دیں تاکہ اس قسم کے مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کی جاسکے۔

    یہ واقعہ معاشرے میں پھیلے ہوئے چند گھناؤنے عناصر کی نشاندہی کرتا ہے جو کمزور طبقات کو نشانہ بنا کر اپنی ہوس پوری کرتے ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔