Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • اوچ شریف: گھریلو ناچاقی، شوہر نے بیوی پر چھری سے حملہ کر دیا

    اوچ شریف: گھریلو ناچاقی، شوہر نے بیوی پر چھری سے حملہ کر دیا

    اوچ شریف(نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے موچیاں والی سولنگ، خرم پور روڈ پر گھریلو ناچاقی کے نتیجے میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ محمد صفدر نامی شخص نے اپنی بیوی سعدیہ پر تیز دھار چھری سے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں خاتون شدید زخمی ہوگئیں۔

    اطلاعات کے مطابق میاں بیوی کے درمیان کسی گھریلو مسئلے پر تلخ کلامی ہوئی جو جلد ہی پرتشدد شکل اختیار کر گئی۔ غصے میں آکر محمد صفدر نے سعدیہ پر چھری سے وار کر دیے، جس سے ان کے گلے اور ہاتھوں پر گہرے زخم آئے۔

    واقعے کے فوراً بعد ریسکیو عملے نے سعدیہ کو تشویشناک حالت میں رورل ہیلتھ سینٹر (آر ایچ سی) اوچ شریف منتقل کیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی حالت نازک ہے اور انہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

    پولیس نے واقعے کی اطلاع ملنے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم محمد صفدر کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے تاکہ واقعے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

  • اوچ شریف: چوروں نے مسجد کو بھی نہ بخشا، پانی کی موٹر لے اڑے

    اوچ شریف: چوروں نے مسجد کو بھی نہ بخشا، پانی کی موٹر لے اڑے

    اوچ شریف(نامہ نگارحبیب خان) چوروں نے مسجد کو بھی نہ بخشا، پانی کی موٹر لے اڑے

    اوچ شریف کے نواحی علاقے میں ایک دل دہلا دینے والی واردات نے مقامی لوگوں میں خوف اور غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ موہانہ والی پل کے قریب واقع ایک مسجد میں چوروں نے گھس کر وہاں سے پانی کی موٹر چوری کر لی۔ یہ موٹر مسجد میں وضو اور دیگر ضروریات کے لیے پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ تھی۔ اس گھناؤنے فعل نے نہ صرف اہلِ علاقہ کو پانی کی سہولت سے محروم کر دیا ہے بلکہ ان کے مذہبی جذبات کو بھی شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔

    مقامی لوگوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے مقدس مقام کی بے حرمتی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چوروں نے نہ صرف چوری کی ہے بلکہ ان کی عبادت میں بھی رکاوٹ ڈالی ہے۔ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری طور پر حرکت میں آئیں اور ان مجرموں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دیں۔

    علاقے کے معززین نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کی حفاظت کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات کو مزید سخت کیا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔ لوگوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ دوسروں کے لیے یہ ایک عبرت کا نشان بن جائے۔

    اس واقعے نے مقامی لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کر دیا ہے اور وہ حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

  • اوکاڑہ: مہندی کے فنکشن میں آنے والی اسٹیج ڈانسر جنسی زیادتی کے بعد قتل

    اوکاڑہ: مہندی کے فنکشن میں آنے والی اسٹیج ڈانسر جنسی زیادتی کے بعد قتل

    پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں اسٹیج ڈانسر چندہ علی کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق اوکاڑہ تھانہ گوگیرا کی حدود 34 جیڑی سے خاتون کی نعش برآمد ہوئی، معاملہ کا ڈی پی او اوکاڑہ راشد ہدایت نے واقعہ کا نوٹس لیا۔

    قتل ہونے والی لڑکی کا نام چندہ علی تھا جو سٹیج ڈانسر تھی اور کل عارف والا سے مہندی کا فنکشن کرنے اوکاڑہ آئی تھی خاتون کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کے بعد رات گئے نامعلوم ملزمان لاش کو قریبی کھیتوں میں پھینک کر فرار ہوئے۔

    13 سالہ لڑکے کے ساتھ زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار

    لواحقین کا کہنا تھا کہ ہماری بیٹی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا ہے جب کہ حکام نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد حقائق سامنے آئیں گے،ترجمان پولیس عرفان سندھو کے مطابق اطلاع پر تھانہ گوگیرہ پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کی اسپتال منتقل کیا۔

    ٹریفک حادثات میں جاں بحق افراد کے ورثا کو 12 اپریل کو پلاٹ دوں گا،گورنر سندھ

    ترجمان پولیس نے کہا کہ مزید تحقیقات جاری ہے، ڈی پی او اوکاڑہ نے ملزمان کی فوری گرفتاری کے لیے متعلقہ ایس ایچ او کو ہدایت جاری کردی ہےلاش کی شناخت نہ ہونے پر پہلے ہی پولیس کی مدعیت میں ایف ائی آر درج کی جا چکی ہے، پولیس ایپ کی مدد سے خاتون کی شناخت کی گئی، قتل کی گئی خاتون کا تعلق ضلع پاک پتن سے ہے۔

    قصور: فارم ہاؤس پر چھاپہ، ڈانس پارٹی میں30 مرد 25 لڑکیاں گرفتار

  • 13  سالہ لڑکے کے ساتھ زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار

    13 سالہ لڑکے کے ساتھ زیادتی کرنیوالا ملزم گرفتار

    لاہور:پولیس نے خیابان ظفر کے علاقے میں 13 سالہ لڑکے کے ساتھ زیادتی کی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتا کرلیا۔

    باغی ٹی وی : لاہور پولیس کے مطابق چوکی ہلوکی پولیس نے واقعے کے حوالے سے وصول ہونے والی 15 کال پر فوری کارروائی کی اور اس دوران واقعے میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا13 سالہ بچہ خیابان ظفر میں واقع ہوٹل میں ملزم ابرار کے پاس کوکنگ کا کام سیکھ رہا تھا اور ملزم نے ورغلا کر بچے سے زیادتی کی اور موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی۔

    ایس پی ماڈل ٹاؤن اخلاق اللہ تارڑ نے بتایا کہ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا اور گرفتاری کے بعد انہیں جینڈر سیل کے حوالے کردیا گیا ہے،ایس پی ماڈل ٹاؤن نے چوکی انچارج اور ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کا استحصال کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

  • قصور: فارم ہاؤس پر چھاپہ، ڈانس پارٹی میں30 مرد 25 لڑکیاں گرفتار

    قصور: فارم ہاؤس پر چھاپہ، ڈانس پارٹی میں30 مرد 25 لڑکیاں گرفتار

    قصور ( ڈسٹرکٹ رپورٹر طارق نوید سندھو ) فارم ہاؤس پرپولیس کا چھاپہ، ڈانس پارٹی میں30 مرد 25 لڑکیاں گرفتار

    تفصیل کے مطابق تھانہ مصطفیٰ آباد پولیس نے ڈی ایس پی صدر افضل ڈوگر کی سربراہی میں ایک فارم ہاؤس پر چھاپہ مارا اور ڈانس پارٹی کے دوران نشے میں دھت 30 مردوں اور 25 لڑکیوں کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ پولیس نے فارم ہاؤس سے شراب کی بوتلیں، ڈانسنگ پلز، شیشہ پینے کا سامان اور ساؤنڈ سسٹم بھی قبضے میں لے لیا۔

    تھانہ مصطفیٰ آباد پولیس کو پکی حویلی کے قریب فارم ہاؤس پر ڈانس پارٹی کی خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی۔ ڈی پی او محمد عیسیٰ خان کی ہدایت پر ڈی ایس پی صدر کی سربراہی میں ایس ایچ او ثقلین بخاری پر مشتمل ٹیم نے بھاری نفری کے ساتھ فارم ہاؤس پر چھاپہ مارا۔ پولیس نے فارم ہاؤس کے مالک سمیت نشے میں دھت 30 مردوں اور 25 لڑکیوں کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس نے گرفتار ملزمان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

  • اوکاڑہ : والدین کی غفلت، تین بچے آگ کی لپیٹ میں آکر جاں بحق

    اوکاڑہ : والدین کی غفلت، تین بچے آگ کی لپیٹ میں آکر جاں بحق

    اوکاڑہ (نامہ نگارملک ظفر) والدین کی غفلت، تین بچے آگ کی لپیٹ میں آکر جاں بحق

    اوکاڑہ کے نواحی قصبے 31 جی ڈی میں ایک دلخراش واقعے میں، والدین کی غفلت کے باعث گھر میں آتشزدگی سے 2 کمسن بھائی اور ان کی بہن جھلس کر جاں بحق ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق قصبہ 31 جی ڈی کے رہائشی زاہرے خان کے 3 کمسن بچے ایک ہی چارپائی پر چادر اوڑھے سو رہے تھے اور گھر والوں نے مچھر سے بچاؤ کے لیے چارپائی کے قریب اُپلے جلا رکھے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اُپلوں کی آگ بستر کی چادر کو لگی جس نے تینوں بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ سے 4 سالہ شیزہ اور 2 سالہ قمر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئےجبکہ 7 سالہ عبداللہ کو تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ بھی جانبر نہ ہو سکا۔

    ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ ان کے احکامات پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد ابراہیم ارباب اور اسسٹنٹ کمشنر ممتاز سوگوار خاندان کے گھر پہنچے۔ ضلعی انتظامیہ نے جاں بحق بچوں کی تدفین کے اخراجات اٹھائے اور اپنی نگرانی میں بچوں کو سپرد خاک کیا۔

    ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ آتشزدگی سے جھلس کر فوت ہونے والے بچوں کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے حکومت پنجاب سے فوت ہونے والے بچوں کے والدین کی مالی امداد کے لیے فوری درخواست کرنے کا بھی اعلان کیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے محکمہ سول ڈیفنس کو آتشزدگی کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے موثر عوامی آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء کو فائر سیفٹی اقدامات سے آگاہ کرنے پر زور دیا۔

  • گوجرہ :کچہری کے باہر کتوں کا راج،وکیل زخمی، انتظامیہ بے بس!

    گوجرہ :کچہری کے باہر کتوں کا راج،وکیل زخمی، انتظامیہ بے بس!

    گوجرہ ،باغی ٹی وی (نامہ نگارعبدالرحمن جٹ)کچہری کے باہر کتوں کا راج،وکیل زخمی، انتظامیہ بے بس!

    گوجرہ کے اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر کے باہر آوارہ کتوں کی موجودگی نے شہریوں کے لیے خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ باغی ٹی وی کے نامہ نگار عبد الرحمن جٹ کے مطابق، یہ آوارہ کتے دفتر کے باہر موجود رہتے ہیں اور آنے جانے والے لوگوں پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ حال ہی میں، ایک وکیل میاں شرجیل اشرف اس وقت آوارہ کتوں کا نشانہ بنے جب وہ اپنی موٹر سائیکل پر دفتر جا رہے تھے۔ کتوں کے حملے کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہو کر اپنی موٹر سائیکل سے گر گئے، جس سے ان کے کندھے کی ہڈی ٹوٹ گئی اور انہیں دیگر چوٹیں بھی آئیں۔

    شہریوں نے انتظامیہ اور میونسپل کمیٹی گوجرہ کی آوارہ کتوں کو تلف کرنے میں ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تھوڑے دن پہلے، گوجرہ میں ایک شخص کتے کے کاٹنے سے ہلاک ہو گیا تھا۔ شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر گوجرہ کچہری اور شہر کے پارکوں سے آوارہ کتوں کو تلف کریں تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

  • بیوی کے قتل کا الزام،شوہر جیل میں اور بیوی کی نئے عاشق کے ساتھ رنگ رلیاں

    بیوی کے قتل کا الزام،شوہر جیل میں اور بیوی کی نئے عاشق کے ساتھ رنگ رلیاں

    کبھی کبھی حقیقت افسانے سے بھی زیادہ حیران کن ہوتی ہے، اور کرناٹک کے ضلع کوڈاگو کے ایک چھوٹے سے گاؤں بسونہلی میں پیش آنے والا واقعہ اس کی زندہ مثال ہے۔

    یہ کہانی ہے سُریش کی، جو اپنی بیوی ملیگے کے ساتھ ایک پُرامن زندگی گزار رہا تھا۔ سال 2019 میں ملیگے اچانک لاپتہ ہو گئی۔ سُریش نے ہر جگہ تلاش کیا، خاندان سے رابطے کیے، اور اُسے ڈھونڈنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اُسے کچھ لوگوں سے ملیگے کے مبینہ غیر ازدواجی تعلقات کی باتیں سننے کو ملیں، لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری۔سُریش نے اپنی بیوی سے التجا کی کہ وہ بچوں کی خاطر کم از کم رابطے میں رہے، مگر کوئی جواب نہ آیا۔ دو سال بعد، 2021 میں، اس نے کشالن نگر پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی۔

    2022 میں پولیس نے سُریش کو اطلاع دی کہ بیٹّا پورہ (تحصیل پیریا پٹنہ) کے قریب ایک انسانی ڈھانچہ ملا ہے، جو ان کی بیوی ملیگے کا ہو سکتا ہے۔ سُریش اپنی ساس کے ہمراہ موقع پر پہنچا، اور پولیس کے مطابق وہی ملیگے کی باقیات تھیں۔ دل شکستہ سُریش نے اُس ڈھانچے کی آخری رسومات ادا کیں۔مگر جلد ہی حالات نے نیا موڑ لیا۔ پولیس نے سُریش کو ہی بیوی کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ اس کی تمام تر تردیدوں کے باوجود، اُسے جیل بھیج دیا گیا۔بعد ازاں، فرانزک لیب سے آنے والی ڈی این اے رپورٹ نے ثابت کر دیا کہ وہ باقیات ملیگے کی نہیں تھیں۔ سُریش کو بے گناہ قرار دے کر رہا کر دیا گیا۔

    برسوں بعد، زندہ بیوی اور نیا عاشق
    1 اپریل 2025 کو یہ کہانی ایک اور چونکا دینے والے موڑ سے گزری، جب سُریش کے دوستوں نے ملیگے کو مدی کیری کے ایک ہوٹل میں اپنے نئے عاشق کے ساتھ دیکھا۔ وہ حیرت زدہ رہ گئے۔ انہوں نے تصاویر لے کر فوراً پولیس کو اطلاع دی۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملیگے کو حراست میں لے لیا اور اُسے میسورو کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

    اب کئی سوالات جنم لے چکے ہیں،پولیس نے بغیر مکمل فرانزک تصدیق کے سُریش کو کیسے مجرم ٹھہرایا؟ملیگے کہاں غائب تھی، اور کیوں؟اُس نے اپنے شوہر اور بچوں کو کیوں چھوڑا؟اور کیا وہ جان بوجھ کر سُریش کو پھنسانا چاہتی تھی؟یہ معاملہ اب پولیس تفتیش کے تحت ہے، مگر سُریش کی زندگی میں جو اندھیرے کے سال گزرے، اُن کا حساب شاید کوئی عدالت بھی نہ چُکا سکے۔

  • 2005میں شادی،دو بچے،پھر بھی بیوی پر شک،سر پرہتھوڑا مار کر کیا قتل

    2005میں شادی،دو بچے،پھر بھی بیوی پر شک،سر پرہتھوڑا مار کر کیا قتل

    شوہر نے بیوی پر شک کرتے ہوئے سر پر ہتھوڑا مار کر قتل کر دیا

    واقعہ بھارت کا ہے،نوئیڈا کے سیکٹر 15 میں جمعہ کے روز ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں 55 سالہ شخص نے بیوی پر ناجائز تعلقات کا شک ہونے پر اسے ہتھوڑے سے مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نوراللہ حیدر نے بحث کے دوران اپنی بیوی اسماء خان کے سر پر ہتھوڑے سے حملہ کیا، جس سے اس کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی۔پولیس حکام نے بتایا کہ مقتولہ 42 سالہ اسماء خان ایک سافٹ ویئر انجینئر تھیں اور نوئیڈا کے سیکٹر 62 میں واقع ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتی تھیں۔ وہ دہلی میں مقیم تھیں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سے انجینئرنگ میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کر چکی تھیں۔ نوراللہ حیدر، جو بہار سے تعلق رکھتا ہے، خود بھی انجینئرنگ کا گریجویٹ ہے لیکن اس وقت بیروزگار ہے۔

    دونوں کی شادی 2005 میں ہوئی تھی اور ان کے دو بچے ہیں ، ایک بیٹا جو انجینئرنگ کا طالب علم ہے اور ایک بیٹی جو آٹھویں جماعت میں پڑھتی ہے۔واقعے کی اطلاع سب سے پہلے جوڑے کے بیٹے نے پولیس کو دی، جب اُس نے 112 ایمرجنسی نمبر پر فون کیا۔ پولیس ٹیم اور فرانزک ماہرین فوراً موقع پر پہنچے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔ نوراللہ حیدر کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر پولیس رامبدن سنگھ نے میڈیا کو بتایا،”ابتدائی تفتیش سے پتا چلا ہے کہ نوراللہ کو اپنی بیوی پر ناجائز تعلقات کا شک تھا۔ ہم نے ملزم کو حراست میں لے لیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔”مقتولہ کے برادر نسبتی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا،”بیٹی نے مجھے صبح فون کر کے واقعے کے بارے میں بتایا۔ دونوں کے درمیان کئی دنوں سے جھگڑے ہو رہے تھے، لیکن کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ بات یہاں تک پہنچ جائے گی۔”پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے اور اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا واقعہ پہلے سے منصوبہ بند تھا یا اچانک جذبات کی رو میں آ کر کیا گیا اقدام،
    مزید تفصیلات آنے تک پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کا موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل شواہد بھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں تاکہ معاملے کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔

  • شادی سے چند روز قبل منگیترکی جان لینے والی دلہن گرفتار

    شادی سے چند روز قبل منگیترکی جان لینے والی دلہن گرفتار

    خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک لڑکی نے مبینہ طور پر شادی سے چند روز قبل اپنے منگیتر کو قتل کر دیا۔

    پولیس کے مطابق یہ واقعہ حیات آباد کے فیز 6 کے علاقے بونیر میں پیش آیا جہاں 27 مارچ کو نوجوان ابراراللّٰہ کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ مقتول ابراراللّٰہ کی شادی 6 اپریل کو طے تھی، اور وہ شادی کی تیاریوں میں مصروف تھا۔حیات آباد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کیا اور شواہد کی روشنی میں مقتول کی منگیتر کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق قتل میں لڑکی کا ایک مرد دوست بھی ملوث ہے جسے بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ابراراللّٰہ کو منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا گیا۔ مزید یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ملزمہ اور اس کا دوست مقتول کے ساتھ کسی تنازع کا شکار تھے، تاہم مکمل تحقیقات ابھی جاری ہیں۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے اور جلد ہی اصل محرکات اور پس منظر سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ اس اندوہناک واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے اور مقتول کے اہل خانہ انصاف کے متقاضی ہیں۔