Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • علی پور: اوباش کی 12 سالہ لڑکے سے زیادتی ، ملزم گرفتار

    علی پور: اوباش کی 12 سالہ لڑکے سے زیادتی ، ملزم گرفتار

    علی پور (نامہ نگار) علی پور میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک اوباش نے 12 سالہ لڑکے کو اپنی حیوانی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ٹیچر کالونی کے رہائشی افضل کورائی کا 12 سالہ بھتیجا جمشید گھر سے فلٹر شدہ پانی لینے کے لیے اپنے محلے دار بشیر چوہان کے پاس گیا۔ جب تین گھنٹے گزرنے کے باوجود جمشید واپس نہ لوٹا تو اس کے اہل خانہ پریشان ہو گئے اور رشتہ داروں کے ساتھ مل کر اس کی تلاش شروع کر دی۔

    تلاش کے دوران جب وہ فتح پور روڈ پر پہنچے تو انہوں نے کھیت کی جانب سے جمشید کے چیخنے کی آواز سنی۔ جب وہ قریب پہنچے تو انہوں نے ایک خوفناک منظر دیکھا۔ اوباش بشیر چوہان فصل کے اندر جمشید کے ساتھ زیادتی کر رہا تھا۔

    لڑکے کے چچا اور دیگر رشتہ داروں نے جب بشیر چوہان کو للکارا تو وہ جمشید کو برہنہ حالت میں چھوڑ کر موقع سے فرار ہو گیا۔ فوری طور پر 15 پر کال کی گئی جس کے بعد تھانہ سٹی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

    متاثرہ لڑکے کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال علی پور منتقل کیا گیا جہاں اس کا طبی معائنہ کرایا گیا۔ پولیس نے متاثرہ لڑکے کے چچا کی مدعیت میں ملزم بشیر چوہان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے اور اسے گرفتار کر کے علاقہ مجسٹریٹ علی پور سے دو روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔ پولیس اس گھناؤنے جرم کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔

  • جتوئی میں محمد عربی کا المناک قتل

    جتوئی میں محمد عربی کا المناک قتل

    معصوم بچے کی بے رحمانہ ہلاکت نے ایک بار پھر بچوں کی حفاظت کے مسئلے کو سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔قاتل کی گرفتاری پر علاقے کے عوام اور مقتول کے والدین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    رپورٹ اور تجزیہ: ریاض جاذب
    محمد عربی کے قتل کے دلخراش واقعہ نے مقامی کمیونٹی کے ساتھ ساتھ پورے ملک کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ معصوم بچے کی بے رحمانہ ہلاکت نے ایک بار پھر بچوں کی حفاظت کے مسئلے کو سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے بلکہ یہ ہمارے معاشرے کے ہر فرد کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کس قدر محفوظ ماحول فراہم کر پا رہے ہیں۔

    محمد عربی کا دل دہلا دینے والا قتل ایک ناقابل تصور المیہ ہے۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا جس نے مبینہ طور پر جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

    گزشتہ روز جتوئی میں ایک 6 سالہ معصوم بچے محمد عربی کی لاش سورج مکھی کے کھیتوں سے ملی تھی۔یہ ایک ناقابل تصور حد تک افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے کہ جس میں ایک چھ سالہ کلی کو بے دردی سے مسل دیا گیا۔ اس معصوم جان کا سفاکانہ قتل پورے معاشرے کے لیے ایک المناک صدمہ ہے۔

    دل چیر کر رکھ دینے والی اس خبر کی تفصیلات ہیں کہ تھانہ جتوئی ضلع مظفر گڑھ پولیس کو 6 اپریل کو اطلاع موصول ہوئی کہ نزدیکی گاؤں میں ایک سورج مکھی کے کھیت میں ایک بچے کی خون آلود لاش پڑی ہوئی ہے۔

    پولیس نے اس اطلاع پر فوری رسپانس کیا اور متعلقہ تھانہ کی پولیس پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی اور کرائم سین انویسٹی گیشن یونٹ کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔

    فوری طور پر نامعلوم ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا اور پولیس ملزمان کو ٹریس کرنے میں مصروف عمل ہو گئی۔ پولیس نے علاقے کے تمام کریمنلز جن کا ریکارڈ تھانے میں درج ہے، ایسے افراد کو چیک کیا۔ مشکوک افراد میں شامل ایک نوجوان کی علاقے میں عدم موجودگی پر پولیس نے جدید ٹیکنالوجی سے اس کی لوکیشن ٹریس کی اور نشان زد لوکیشن سے اس شخص کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کی حراست میں دوران تفتیش اس نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کر لیا۔ قتل کے وقوعہ اور جائے وقوعہ کی نشاندہی کی جس کی تصدیق کی گئی۔ تفتیش اور میڈیکل رپورٹ میں بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کا انکشاف نہیں ہوا۔ سفاک قاتل سے تفتیش جاری ہے اور آلہ قتل کی برآمدگی کے لیے بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔

    سفاک قاتل کی گرفتاری پر والدین سمیت علاقے کے عوام نے آر پی او سجاد حسن خان اور ڈی پی او مظفر گڑھ سمیت مقامی پولیس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ امید ظاہر کی ہے کہ ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے جلد از جلد باقی کارروائی کو مکمل کرے گی۔ ملزم کو ایسی عبرت ناک سزا دی جائے جو آئندہ ایسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے ایک مثال ثابت ہو۔ ایسے المناک واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک معاشرے کے طور پر بچوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور مجرموں کے خلاف متحد ہوں۔

    اس گرفتاری پر علاقے کے عوام اور مقتول کے والدین نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور جلد انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ تفتیش کار ابھی تک آلہ قتل کی تلاش میں ہیں اور طبی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں کی گئی۔

    اس المناک واقعے نے پاکستان میں بچوں کے تحفظ کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ بچوں کے خلاف تشدد کے واقعات کی روک تھام کے لیے غربت کے خاتمے، تعلیم کے فروغ، نقصان دہ ثقافتی روایات کی اصلاح اور مؤثر قانون سازی کے ساتھ ساتھ ان پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔ کمیونٹی کی بیداری اور شمولیت بھی اس سلسلے میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ادارے اور افراد مل کر ایک ایسا محفوظ معاشرہ تشکیل دیں جہاں ہر بچے کو تحفظ اور امن کا ماحول میسر ہو۔

  • تیزرفتاربس نے لوڈر رکشہ کو روند ڈالا،ایک ہی خاندان کے 14 افراد جاں بحق

    تیزرفتاربس نے لوڈر رکشہ کو روند ڈالا،ایک ہی خاندان کے 14 افراد جاں بحق

    جڑانوالہ کے قریب تیزرفتاربس نے لوڈر رکشہ کو روند ڈالا، حادثے میں خواتین اور بچوں سمیت 14افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی:جڑانوالہ بے قابو بس لوڈر رکشہ پر چڑھ دوڑی، حادثے میں خواتین اور بچوں سمیت 14 افراد جان سے گئے،حادثے میں زخمی ہونے والے 12 افراد کو فوری طبی امداد دیتے ہوئے ٹی ایچ کیو ہسپتال جڑانوالہ منتقل کردیا گیا ہے، تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے ،جو عید منانے کے بعد قریبی گاؤں سے واپس آرہے تھے۔

    پولیس کے مطابق رکشہ میں 17 افراد سوار تھے، حادثہ تھانہ لونڈیا نوالہ کے علاقے اڈہ چک پانچ میں پیش آیا بدنصیب خاندان سید والا کے چک سید پور کا رہائشی تھا، تمام افراد عید اپنوں کے ساتھ منانے گئے تھے خواتین بچوں سمیت دیگرکی میتیں گاؤں پہنچنے پرکہرام مچ گیا۔

    بیساکھی میلا:پاکستان نے 6500 سے زائد بھارتی یاتریوں کو ویزے جاری کر دیئے

    رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعے کانوٹس لے لیتے ہوئے پٹرولنگ ٹیم کومعطل کردیا ہے، پولیس نے حادثے کے بعد فرارہونے والے بس ڈرائیور کوگرفتارکرلیا دوسری جانب جڑانوالہ خوفناک حادثہ میں جاں بحق افراد کی نمازجنازہ ادا کردی گئی ، نماز جنازہ میں شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

    متنازع ترین "پرموشن بورڈ” تحریر:ملک محمد سلمان

  • قصور:پکی حویلی ڈانس پارٹی کیس، ویڈیو بنانے پر پولیس اہلکار فارغ، مقدمہ درج

    قصور:پکی حویلی ڈانس پارٹی کیس، ویڈیو بنانے پر پولیس اہلکار فارغ، مقدمہ درج

    قصور (ڈسٹرکٹ رپورٹر طارق نوید سندھو) قصور کے علاقے مصطفیٰ آباد میں پکی حویلی میں ہونے والی ڈانس پارٹی کے دوران گرفتار کیے گئے مرد و خواتین کی حوالات میں ویڈیو بنانے اور اسے وائرل کرنے کے معاملے پر ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خاں نے سخت ایکشن لیتے ہوئے ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔

    ڈی پی او قصور کے احکامات پر تفتیشی سب انسپکٹر محمد صادق اور مثل رائٹر کانسٹیبل ندیم ناگی کے خلاف پیکا ایکٹ اور پولیس آرڈر 155(C) کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ دونوں اہلکاروں کو حوالات میں بند کر دیا گیا ہے جبکہ سب انسپکٹر محمد صادق کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

    اسی کیس میں ایس ایچ او تھانہ مصطفیٰ آباد انسپکٹر ثقلین بخاری کو معطل کر کے کلوز ٹو لائن کر دیا گیا ہے۔ ڈی پی او قصور نے انسپکٹر ثقلین بخاری کے خلاف نوکری سے برخاستگی کی سفارش بھی کر دی ہے۔

    ڈی پی او کے حکم پر ڈانس پارٹی کی اطلاع افسران بالا کو نہ دینے پر سکیورٹی پر مامور ایک کانسٹیبل کو بھی نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح تھانے کے محرر محمد شبیر کو حوالات میں ویڈیو بننے سے نہ روکنے پر دو سٹیجز پر تنخواہ کی تنزلی کی سزا دی گئی ہے۔

    ڈی پی او قصور محمد عیسیٰ خاں کا کہنا ہے کہ محکمہ پولیس ایک ڈسپلن فورس ہے، جہاں فرائض میں غفلت، غیر ذمہ داری یا قانون کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کا کام قانون کی پاسداری اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ قانون شکنی کرنا۔

    واضح رہے کہ پکی حویلی میں ہونے والی ڈانس پارٹی پر پولیس نے چھاپہ مار کر متعدد مرد و خواتین کو گرفتار کیا تھا، جن کی ویڈیوز حوالات میں بنائی گئیں اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد ڈی پی او قصور نے فوری نوٹس لیتے ہوئے سخت ایکشن لیا، جس کی عوامی سطح پر تعریف کی جا رہی ہے۔

  • اوچ شریف: انصاف کی پکار، بزرگ شخص کی زندگی بااثر افراد نے اجیرن کر دی

    اوچ شریف: انصاف کی پکار، بزرگ شخص کی زندگی بااثر افراد نے اجیرن کر دی

    اوچ شریف (نامہ نگارحبیب خان) پل فاروق آباد کے رہائشی بزرگ شخص ملک رشید سمیجہ نے بااثر افراد کی جانب سے زندگی اجیرن کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اسد سرفراز خان اور ایس ایچ او نوشہرہ جدید صدیق احمد ڈھڈی سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

    ملک رشید سمیجہ کا کہنا تھا کہ پولیس تھانہ نوشہرہ انہیں تحفظ فراہم کرے کیونکہ ان کے اپنے ہی جان کے دشمن بن گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی اہلیہ عظیم خاتون بی بی کے حصے میں 40 سال قبل ان کے والد اللہ رکھا کی جانب سے ایک کنال رقبہ دیا گیا تھا، جسے اب ان کی اہلیہ کے بھائی خلیل، جلیل، کالا اور دیگر غنڈہ عناصر واپس لینا چاہتے ہیں۔

    ملک رشید سمیجہ نے الزام لگایا کہ ان کے بچوں کے گزرنے کا راستہ اور گھر کی چار دیواری توڑ دی گئی ہے اور انہیں آئے روز تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور متعلقہ انتظامیہ سے سخت نوٹس لے کر ملزمان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • اوچ شریف : بھیک مانگنے کی حدود پر گداگر خواتین میں تصادم، شہری خوفزدہ، انتظامیہ غائب

    اوچ شریف : بھیک مانگنے کی حدود پر گداگر خواتین میں تصادم، شہری خوفزدہ، انتظامیہ غائب

    اوچ شریف (نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف کے مصروف ترین الشمس چوک پر اس وقت افراتفری پھیل گئی جب دو گداگر خواتین، شیلا اور نیلم کے درمیان اپنی ‘حدود’ کے تعین پر شدید لڑائی چھڑ گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق دونوں خواتین نے ایک دوسرے پر نہ صرف گالم گلوچ کی بلکہ جسمانی طور پر بھی حملہ آور ہوئیں، بال نوچے گئے اور دھکے دیے گئے۔

    یہ تصادم اس وقت شروع ہوا جب شیلا نے نیلم پر الزام لگایا کہ وہ اس کے ‘علاقے’ میں داخل ہو کر بھیک مانگ رہی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بحث تکرار میں بدلی اور پھر ہاتھا پائی تک جا پہنچی۔ چوک پر موجود دیگر گداگر اس تماشے کو خاموشی سے دیکھتے رہے جبکہ راہگیروں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

    حیرت انگیز طور پر مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس سارے واقعے سے بے خبر رہے یا پھر خاموش تماشائی بنے رہے۔ شہریوں نے اس غفلت پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے اور ڈی پی او اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گداگروں کی آپس کی لڑائی نہ صرف امن عامہ کے لیے خطرہ ہے بلکہ شہر کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گداگروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مصروف ترین چوکوں پر اس طرح کے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ گداگری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کی جائے تاکہ شہر کو اس لعنت سے پاک کیا جا سکے۔

  • گوجرہ: گھریلو جھگڑے پر شوہر نے بیوی کو گلا دبا کر قتل کر دیا، ملزم فرار

    گوجرہ: گھریلو جھگڑے پر شوہر نے بیوی کو گلا دبا کر قتل کر دیا، ملزم فرار

    گوجرہ (نامہ نگار عبد الرحمن جٹ)تھانہ صدر گوجرہ کی حدود میں افسوسناک واقعہ، نواحی گاؤں چک نمبر 351 ج ب میں گھریلو ناچاقی پر شوہر نے مبینہ طور پر اپنی بیوی کو گلا دبا کر قتل کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق حق نواز نامی شخص نے گھریلو تنازع پر طیش میں آ کر اپنی 3 بچوں کی ماں نسرین بی بی کو گلا گھونٹ کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی گوجرہ محمد اشرف تبسم پولیس نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔

    پولیس کے مطابق واردات کے بعد ملزم حق نواز موقع سے فرار ہو گیا، جس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    پولیس نے مقتولہ کی لاش تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے گورنمنٹ آئی کام جنرل ہسپتال گوجرہ منتقل کر دی جبکہ ابتدائی قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

  • حاصل پور:واپڈا گرڈ اسٹیشن میں آگ بھڑک اٹھی۔ریسکیو 1122 نے قابو پا لیا

    حاصل پور:واپڈا گرڈ اسٹیشن میں آگ بھڑک اٹھی۔ریسکیو 1122 نے قابو پا لیا

    اوچ شریف(نامہ نگارحبیب خان)ضلع بہاولپور کے شہر حاصل پور کے چوہان والا روڈ پر واقع واپڈا گرڈ اسٹیشن میں 7 اپریل 2025 کو صبح 4 بج کر 44 منٹ پر آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔ ریسکیو 1122 کو اطلاع ملنے پر فوری طور پر ریسکیو ٹیمیں روانہ کی گئیں، جنہوں نے صرف 6 منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچ کر کارروائی شروع کر دی۔

    ریسکیو حکام کے مطابق واپڈا گرڈ اسٹیشن کے اندر وولٹیج کنٹرول پینل میں آگ لگی۔ وہاں موجود واپڈا ڈیوٹی سٹاف نے بتایا کہ اندرونی خرابی کے باعث دھماکہ ہوا اور پینل میں آگ بھڑک اٹھی۔

    ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے ڈی سی پی (ڈرائی کیمیکل پاؤڈر) کا استعمال کرتے ہوئے فوری طور پر آگ پر قابو پالیا اور کسی بڑے نقصان سے بچا لیا۔ ریسکیو آپریشن مکمل ہونے تک جاری رہا۔

    ریسکیو آپریشن کی کمانڈ آفتاب ایف ڈی آر نے کی۔ ریسکیو آپریشن میں ریسکیو 1122 کی گاڑیاں بی پی اے-14 اور ایچ آر ایف-01 استعمال کی گئیں۔

  • فیصل آباد میں ٹریفک حادثہ، ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق

    فیصل آباد میں ٹریفک حادثہ، ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق

    فیصل آباد کے علاقے جڑانوالہ میں مسافر بس اور رکشہ میں تصادم کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق جڑانوالہ لاہور روڈ پر مسافر بس اور رکشہ میں تصادم ہوا ہے۔ حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔ اطلاعات کے مطابق پانچ افراد موقع پر جبکہ تین افراد اسپتال میں دوران علاج جاں بحق ہو ئے، حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا.جاں بحق ہونے والوں میں 14 سالہ مسکان ، 15 سالہ ایمان ، 12 سالہ فیضان اور دس سالہ نعمان، 12 سالہ حمزہ ، 14 سالہ علی زین ، 35 سالہ شازیہ ، 15 سالہ حمیرا ، 18 سالہ آمنہ ، 26 سالہ ساجد اور 35 سالہ ممتاز بی بی شامل ہیں، حادثے میں متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے ، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ریسکیو حکام کے مطابق بس اور رکشہ میں تصادم کے بعد رکشہ بس کے نیچے آگیا۔

    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کا دکھ و رنج کا اظہار
    وزیر اعلی مریم نواز شریف نے جڑانوالہ ٹریفک حادثہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ و رنج کا اظہار کیا۔انہوں نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت بھی کیا۔وزیر اعلی مریم نواز شریف نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کرنے کا حکم دیا۔

    پنجاب میں نوجوانوں کے لیے نئے پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ

    علی امین گنڈاپور اورتیمورجھگڑامیں اختلافات سامنے آگئے

    سعودی دارالحکومت میں زیرِ زمین سڑکیں بنانے کا منصوبہ

    واٹس ایپ کا چیٹ پرائیویسی سے متعلق نیا فیچر آ گیا

    بی ایل اے کی لسانی دہشت گردی کے خلاف عوام سراپا احتجاج

  • کراچی، ڈکیتی مزاحمت پر حاملہ خاتون کی ہلاکت کا معاملہ مشکوک، شوہر گرفتار

    کراچی، ڈکیتی مزاحمت پر حاملہ خاتون کی ہلاکت کا معاملہ مشکوک، شوہر گرفتار

    کراچی کے علاقے تھانہ سائٹ سپر ہائی وے صنعتی ایریا کے علاقے فقیرا گوٹھ میں ڈکیتی مزاحمت پر حاملہ خاتون کا قتل معمہ بن گیا، پولیس نے تفتیش کے دوران شک کی بنیاد پر شوہر کو حراست میں لے لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ترجمان ڈسٹرکٹ ایسٹ پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق جمعے کی دوپہر فقیرا گوٹھ پریشان چوک پر مبینہ ڈکیتی مزاحمت میں حاملہ عورت کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ابتدائی طور پہ شوہر نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کو کہیں جاتے ہوئے ڈکیتی کا نشانہ بنایا گیا جس میں ملزمان نے فائرنگ کی اور حاملہ بیوی جاں بحق ہوگئی تاہم پولیس نے جائے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور تو شک سامنے آیا کہ واقعے کے محرکات مختلف ہو سکتے ہیں۔پولیس نے واردات کا ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کی دفعہ کے تحت درج کرلیا اور اس حوالے سے تفتیش جاری رکھی۔

    ترجمان کے مطابق تفتیش کے دوران مزید شواہد جمع کیے گئے جس سے واضح ہوا کہ معاملہ ڈکیتی مزاحمت کا نہیں تھا جبکہ مقتولہ کے شوہر کی جانب سے جو جائے وقوعہ بتایا گیا وہ درست نہیں اور ہلاکت کا مقام کہیں اور ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں شوہر کے کردار کو مشکوک جانتے ہوئے اسے تحویل میں لے لیا گیا جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ خاتون کی ہلاکت گھر میں ہی ہوئی تھی جس کو ڈکیتی مزاحمت کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی جبکہ ہلاکت میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی پولیس نے قبضے میں لے لیا ہے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق ہلاکت میں استعمال ہوا اسلحہ اور پولیس تحویل میں لیے گئے شوہر کو مزید کارروائی کے لیے شعبہ تفتیش ضلع شرقی کے حوالے کیا گیا۔پولیس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ واقعے کے محرکات اور دیگر پہلوؤں کے بارے میں مزید شواہد اکٹھا کرکے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

    فلسطین اور امت مسلمہ کی بے حسی .تحریر: ارم ثناء