Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • حافظ آباد :پولیس کی کارروائی، قتل کے 2 اشتہاری ملزم اور 2 منشیات فروش گرفتار

    حافظ آباد :پولیس کی کارروائی، قتل کے 2 اشتہاری ملزم اور 2 منشیات فروش گرفتار

    حافظ آباد،باغی ٹی وی (خبر نگارشمائلہ)وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے احکامات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے، ڈی پی او حافظ آباد عاطف نذیر کی زیر نگرانی تھانہ کسوکی پولیس نے علاقے میں کامیاب سرچ آپریشن کیا۔ اس دوران قتل کے مقدمے میں ملوث دو اشتہاری ملزمان اور منشیات فروشی میں ملوث دو بدنام زمانہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ کسوکی پولیس نے مقدمہ نمبر 334/23 جرم 302/324/109/ت پ میں مطلوب ملزمان بلال غوث اور جواد غوث کو گرفتار کیا۔ یہ دونوں ملزمان کافی عرصے سے قتل کے مقدمے میں اشتہاری تھے۔ ڈی پی او عاطف نذیر نے ڈی ایس پی صدر سرکل رانا جمیل قیصر اور ایس ایچ او کسوکی مشتاق نون کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی، جس نے چند ہی دنوں میں مطلوبہ ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    اس کے علاوہ ایس ایچ او مشتاق نون نے منشیات فروشوں کے خلاف بھی موثر کارروائی کرتے ہوئے دو بدنام زمانہ ملزمان زہیب ولد اللہ رکھا سے 1200 گرام چرس اور عمر فاروق ولد محمد سلیم سے 1420 گرام چرس برآمد کی۔ دونوں ملزمان کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    ایس ایچ او تھانہ کسوکی مشتاق نون نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈی پی او عاطف نذیر اور ڈی ایس پی صدر سرکل رانا جمیل قیصر کی قیادت میں اشتہاری ملزمان اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ منشیات فروش کسی بھی رعایت کے مستحق نہیں ہیں، کیونکہ یہ ہماری نسلوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خلاف بلا تفریق کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    اہلیان حافظ آباد نے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں پر ایس ایچ او تھانہ کسوکی مشتاق نون اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ تھانہ کسوکی پولیس جرائم کے خاتمے، خصوصاً اشتہاری ملزمان اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔

    ڈی پی او عاطف نذیر نے ڈی ایس پی صدر سرکل رانا جمیل قیصر اور ایس ایچ او کسوکی مشتاق نون کی اشتہاری ملزمان اور منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیوں کو سراہا اور انہیں مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔

  • ننکانہ: تعلیم گاہ یا لوٹ مار کا اڈہ؟ لاکھوں کی فیسیں ہڑپ،کلرک ریکارڈ سمیت فرار

    ننکانہ: تعلیم گاہ یا لوٹ مار کا اڈہ؟ لاکھوں کی فیسیں ہڑپ،کلرک ریکارڈ سمیت فرار

    ننکانہ صاحب ،باغی ٹی وی (نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) تعلیم گاہ یا لوٹ مار کا اڈہ؟ لاکھوں کی فیسیں ہڑپ،کلرک ریکارڈ سمیت فرار

    گورنمنٹ گورونانک پوسٹ گریجویٹ کالج ننکانہ صاحب میں مالی بے ضابطگیوں کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا ہے، جہاں سابق جونیئر کلرک لاکھوں روپے کی فیسوں اور مالی ریکارڈ سمیت غائب ہو گیا۔

    کالج کے قائم مقام پرنسپل ڈاکٹر محمد جمیل شاہ نے 26 دسمبر 2024 کو جاری کردہ لیٹر نمبر 1026/12/24 میں سابق کلرک مجاہد فاروق سے فوری طور پر مالی ریکارڈ، طلبہ کی فیسوں کی تفصیلات اور دیگر اثاثے واپس کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    پرنسپل کے مطابق، بی ایس زولوجی (بہار سمسٹر 2024) کے طلبہ سے وصول کی گئی لاکھوں روپے کی فیسیں تاحال کالج اکاؤنٹ میں جمع نہیں کرائی گئیں۔ مزید برآں، بی اے، ایم اے، اور بی ایس پروگرامز (2020-2024، 2021-2025، 2022-2026، 2023-2027) کا مکمل مالی ریکارڈ بھی سابق کلرک کے قبضے میں ہے۔

    ذرائع کے مطابق مجاہد فاروق کالج کا تمام مالی ریکارڈ اپنے گھر لے گیا ہے، جس میں بی اے، ایم اے اور بی ایس پروگرامز کی فیسوں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔ اس صورتحال نے کالج انتظامیہ کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ دوسری شفٹ کے اساتذہ کو تنخواہیں نہیں مل پا رہیں، اور اگر جلد ہی ریکارڈ واپس نہ ملا تو مزید سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

    طلبہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی فیسیں وقت پر جمع کرائی تھیں، لیکن اب انہیں خدشہ ہے کہ ان کا مستقبل خطرے میں ہے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ اعلیٰ حکام فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات کریں اور ذمہ داروں کو سخت سزا دیں۔

    پرنسپل ڈاکٹر محمد جمیل شاہ نے ڈائریکٹر ایجوکیشن لاہور ڈویژن اور ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز، ضلع ننکانہ صاحب کو خط لکھ کر معاملے کی اطلاع دی ہے اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک سنگین معاملہ ہے اور اس کی فوری تحقیقات ہونی چاہیے۔

    اس اسکینڈل نے ننکانہ صاحب کے عوام میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ تعلیمی اداروں میں بدعنوانی کا ایک افسوسناک نمونہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے میں ملوث تمام افراد کو بے نقاب کرے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دے۔

    اس اسکینڈل سے متعلق سوالات جو جواب طلب ہیں،بتایا جائے کہ

    1. مجاہد فاروق کو کس نے کالج کا ریکارڈ گھر لے جانے کی اجازت دی؟
    2. کیا اس اسکینڈل میں کوئی اور بھی ملوث ہے؟
    3. طلبہ کی فیسوں کا کیا بنے گا؟
    4. کیا اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہوں گی؟

    طلبہ اور اساتذہ نے اعلیٰ حکام سے فوری تحقیقات اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ معاملے کی شفاف تحقیقات ہو سکیں اور مستقبل میں اس طرح کی مالی بدعنوانیوں کی روک تھام ممکن ہو۔

  • شادی کا جھانسہ ، پاکستانی لڑکیوں کی چین اسمگلنگ، 3 ملزمان گرفتار

    شادی کا جھانسہ ، پاکستانی لڑکیوں کی چین اسمگلنگ، 3 ملزمان گرفتار

    اسلام آباد(باغی ٹی وی )اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایف آئی اے امیگریشن نے ایک بڑی کارروائی کے دوران پاکستانی لڑکیوں کو شادی کا جھانسہ دے کر چین سمگل کرنے والے گروہ کے تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ایف آئی اے ذرائع کے مطابق گرفتار ہونے والے ملزمان کی شناخت یوسف، عبد الرحمٰن اور محمد نعمان کے نام سے ہوئی ہے جبکہ متاثرہ لڑکی کو بھی حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا، ملزمان متاثرہ لڑکی کو شادی اور ملازمت کا جھانسہ دے کر چین سمگل کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور وہ فلائٹ نمبر CZ6034 کے ذریعے چین جا رہے تھے۔

    ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ گروہ پاکستانی لڑکیوں کو چینی شہریوں سے شادی کروا کر انہیں چین اسمگل کرنے میں ملوث ہے، اس منظم گینگ میں کئی خواتین بھی شامل ہیں جو غریب اور ضرورت مند لڑکیوں کو تلاش کر کے انہیں شادی کے لیے آمادہ کرتی تھیں۔

    اس گروہ کے ملزمان متاثرہ لڑکیوں کو چینی شہریوں کے ساتھ شادی پر آمادہ کرتے تھے اس کے بعد ان کا ڈیٹا اور دستاویزات ایجنٹ عبد الرحمٰن اور محمد نعمان کے حوالے کیے جاتے تھے جو چینی ایجنٹ پاول کے ساتھ رابطہ رکھتے اور بھاری رقوم کے عوض چینی کلائنٹ کا بندوبست کرتا تھا اس کے علاوہ ملزمان پاکستانی لڑکیوں کے سفری دستاویزات اور دیگر سہولیات بھی فراہم کرتے تھے۔

    تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزمان نے متاثرہ لڑکی کی والدہ سے 10 لاکھ روپے میں معاملات طے کیے تھے جن میں سے ڈیڑھ لاکھ روپے کی ادائیگی کی جا چکی تھی جبکہ ملزمان نے متاثرہ لڑکی سے بلیک میلنگ کے لیے 10 لاکھ روپے کا قرض لینے کا اشٹام بھی بنوایا تھا۔

    ایف آئی اے حکام نے تینوں ملزمان کو گرفتار کر کے مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے انسدادِ انسانی سمگلنگ سیل اسلام آباد منتقل کر دیا ہے جبکہ اس گروہ کے دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

  • سیالکوٹ:ایف آئی اے کی کارروائی، لیبیا کشتی حادثے کا مرکزی ملزم دوبارہ گرفتار

    سیالکوٹ:ایف آئی اے کی کارروائی، لیبیا کشتی حادثے کا مرکزی ملزم دوبارہ گرفتار

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہدریاض)ایف آئی اے کی کارروائی، لیبیا کشتی حادثے کا مرکزی ملزم دوبارہ گرفتار

    سیالکوٹ میں ایف آئی اے گوجرانوالہ نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے سیالکوٹ کے نواحی علاقے موریکے ججہ سے انسانی اسمگلنگ میں ملوث انتہائی مطلوب ملزم عثمان ججہ کو گرفتار کر لیا۔

    عثمان ججہ عالمی سطح پر انسانی اسمگلنگ کا ریکٹ چلاتا تھا اور یونان کشتی حادثہ سمیت 12 مختلف مقدمات میں ایف آئی اے کو مطلوب تھا۔ یونان حادثے میں چالیس پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے۔

    حادثے کے وقت عثمان ججہ سیالکوٹ جیل میں قید تھا تاہم بعد میں ضمانت پر رہا ہو کر روپوش ہوگیا۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق وہ گلگت بلتستان میں چھپا ہوا تھا اور بیمار والدہ سے ملاقات کے لیے آیا تھا جہاں اسے گرفتار کر لیا گیا۔

  • اسلام آباد: خواتین کو گاڑی سے اتار کر تشدد،ملزم گرفتار

    اسلام آباد: خواتین کو گاڑی سے اتار کر تشدد،ملزم گرفتار

    اسلام آباد میں خاتون پر تشدد کرکے 20 لاکھ روپے نقدی اور 10 تولے سونا لے کر فرار ہونے والا ملزم کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق واقعہ23فروری 2025 کو پیش آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی،مظلوم خاتون کی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ تھانہ مارگلہ میں درج کیا گیا ہے ، مقدمہ 5 دفعات کے تحت درج کیا گیا ۔مقدمہ کے متن کے مطابق خاتون کی جانب سے کہا گیا کہ جمال نامی شخص نے دوستوں کے ہمراہ ہمارا راستہ بلاک کیا ہماری گاڑی چھیننے کی کوشش کی ،میرے سمجھانے پر جمال نے بدترین تشدد کیا،مجھے میری بیٹی کو بالوں سے گھسیٹا گیا،ہمارے بیک چھین لیے گئے جس میں 20 لاکھ کیش اور 10 تولے سونا موجود تھا۔

    متن کے مطابق فرار ہوتے ہوئے ملزمان نے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں،ملزمان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ مارگلہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

    آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن نے اوگرا کے نئے قوانین کو مسترد کردیا

    طوفان الفریڈ نے آسٹریلیا میں تباہی مچا دی، موسلادھار بارشیں

    جماعت اسلامی سندھ 11مارچ کویوم باب الاسلام منائے گی

    نیوزی لینڈ کو شکست ، بھارت نے تیسری بار چیمپئنز ٹرافی اپنے نام کرلی

    بھارتی فلم دیکھنے کے بعدگاؤں والوں نے خزانے کی تلاش میں قلعہ کھود ڈالا

  • 5خواتین سےزیادتی اور ویڈیو بنانےوالےملزم کو عبرتناک سزا

    5خواتین سےزیادتی اور ویڈیو بنانےوالےملزم کو عبرتناک سزا

    آسٹریلیا میں ہندوستانی کمیونٹی کے رہنما کو 5 کوریائی خواتین کی عصمت دری کرنے کے جرم میں 40 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے،اگلے 30 سال تک کوئی پیرول نہیں ملے گا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورت کے مطابق آسٹریلیا کے ڈاؤننگ سینٹر ڈسٹرکٹ کورٹ نے جمعہ کو 43 سالہ بالیش دھنکھڑ کو سزا سنائی۔آسٹریلین ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا کہ دھنکھڑ نے خواتین کو راغب کرنے کے لیے اپنے سڈنی کے گھر میں نوکری کا جعلی اشتہار جاری کیا تھا۔ جب وہ وہاں پہنچیں تو سابق آئی ٹی کنسلٹنٹ نے خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور عصمت دری کی۔خبر میں بتایا گیا کہ ملزم نے اپنے فعل کی ویڈیو بھی بنائی تھی۔ تمام خواتین کی عمریں 21 سے 27 سال کے درمیان تھیں اور جرم کے وقت وہ یا تو بے ہوش تھیں یا ان کی حالت کافی خراب تھی۔

    بھارتی براہموس میزائل کے پاکستان میں گرنے کے 3 سال مکمل

  • ڈیرہ غازی خان : میڈیسن اسکینڈل،حکومتی یوٹرن، دباؤ یا پردہ پوشی؟ اصل مجرم کون؟

    ڈیرہ غازی خان : میڈیسن اسکینڈل،حکومتی یوٹرن، دباؤ یا پردہ پوشی؟ اصل مجرم کون؟

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ)میڈیسن اسکینڈل،حکومتی یوٹرن، دباؤ یا پردہ پوشی؟ اصل مجرم کون؟

    ڈیرہ غازی خان میں سرکاری ادویات کے اسکینڈل نے محکمہ صحت اور انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ اس اسکینڈل میں روزانہ کی بنیاد پر ڈرامائی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ پہلے چھوٹے ملازمین کو نشانہ بنایا گیا مگر اب بڑے افسران پر بھی شکنجہ کسا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں اب تک چار اعلی عہدیداران کو معطل کیا جا چکا ہے، جن میں سی ای او ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر ادریس لغاری، ڈرگ کنٹرولر فیصل محمود، سیکرٹری ڈسٹرکٹ کوالٹی بورڈ آصف عباس اور ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ڈاکٹر تحسین شامل ہیں۔ حیرت انگیز طور پر معطلی کی اصل وجہ کرپشن یا میڈیسن چوری نہیں بلکہ حکومت کو غلط معلومات فراہم کرنا بتائی جا رہی ہے۔ یہ پہلو خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ اگر افسران کرپشن میں ملوث نہیں تو انہیں کیوں ہٹایا گیا؟

    تحقیقات کے آغاز میں ڈرگ کنٹرولر فیصل محمود کو اطلاع ملی کہ جنرل بس اسٹینڈ ڈیرہ غازی خان سے سرکاری چوری شدہ ادویات مختلف شہروں میں بھیجی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے بندوں کو نگرانی پر لگا دیا اور 29 جنوری کو ایک شخص کو رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا، جس نے انکشاف کیا کہ یہ ادویات ڈی ایچ او آفس کے ملازم پرویز اختر نے فراہم کی ہیں۔ دونوں کو ادویات سمیت تھانہ گدائی پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں بھاری مقدار میں چوری شدہ ادویات برآمد ہوئیں۔ چوکی انچارج لاری اڈہ، تھانہ گدائی نے پریس کانفرنس کر کے معاملے کو ہائی لیول تک پہنچا دیا۔ اس انکشاف پر میڈیسن مافیا کے سرپرست متحرک ہو گئے۔ معاملہ دبانے کے لیے چوکی انچارج کو رشوت کی بھاری پیشکش کی گئی لیکن اس نے آفر مسترد کر دی۔ بعد ازاں ایف آئی آر میں ادویات کی بڑی مقدار کو نظر انداز کر کے محض چند سیرپ درج کیے گئے۔ اس طرح بااثر افراد نے چالاکی سے گرفتاریوں کو جوڈیشل کروا کر تفتیش رکوا دی۔

    یہ بھی پڑھیں
    ڈیرہ غازی خان :ادویات اسکینڈل، معطلیوں کی گونج، بڑی مچھلیاں محفوظ؟
    ڈیرہ غازی خان: ڈیڑھ ارب سے زائد کی ادویات کا چوری اسکینڈل، محکمہ صحت کے ذمہ دار ہی لٹیرے نکلے
    ڈیرہ غازی خان: پولیس چوکی لاری اڈہ کی کارروائی، 1 کروڑ روپے مالیت کی چوری شدہ سرکاری ادویات برآمد
    جب معاملہ سیکرٹری ہیلتھ پنجاب کے علم میں آیا تو فوری طور پر کیس اینٹی کرپشن کے حوالے کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ لیکن اس دوران سابق ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نے فائل دبائے رکھی اور کوئی باضابطہ انکوائری نہ ہوئی۔ موجودہ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن کے حکم پر کیس کی فائل دوبارہ کھلوائی اور ریگولر انکوائری سرکل آفیسر ملک عبدالمجید کے سپرد کی، جنہوں نے تحقیقات کو آگے بڑھایا۔ پہلے ایک سابق اور ایک موجودہ اسٹور کیپر کو گرفتار کیا گیا، پھر معتبر ذرائع کی اطلاعات پر مزید افراد کو حراست میں لے کر دیہی مرکز صحت سرور والی کے میڈیسن گودام پر چھاپہ مارا گیا۔ چھاپے کے دوران معلوم ہوا کہ ادویات انتہائی خفیہ طریقے سے چھپائی گئی تھیں۔

    اس انکشاف پر وزیر صحت پنجاب عمران نذیر کے دفتر سے بڑے نیوز چینلز پر خبر نشر کرائی گئی کہ ڈیرہ غازی خان میں 1 ارب 70 کروڑ روپے کی چوری شدہ سرکاری ادویات برآمد ہوئیں۔ اس خبر کے بعد حکومتی ایوانوں میں ہلچل مچ گئی، لیکن چند ہی گھنٹوں میں محکمہ صحت پنجاب نے یوٹرن لیتے ہوئے اپنی ہی خبر کو "فیک” قرار دے دیا اور چار افسران کی معطلی کے احکامات جاری کر دیے۔ معطلی کا جواز کرپشن، ملی بھگت، نااہلی یا کریمنل ایکٹ کو نہیں بلکہ صرف "غلط معلومات دینے” کو بنایا گیا۔

    دوسری جانب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور پولیس اپنی سطح پر تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن محکمہ صحت معاملے کو دبانے کے لیے اسے محکمانہ انکوائری تک محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ چند چھوٹے ملازمین کو قربانی کا بکرا بنا کر بڑے مگرمچھوں کو محفوظ رکھا جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اسکینڈل کے تانے بانے سابق ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر اطہر سکھانی سے جا ملتے ہیں، جن کے کچھ قریبی لوگ ماضی قریب میں گرین میڈیسن کے غیر قانونی کاروبار میں ملوث رہے ہیں جو سرکاری ادویات رکنی بلوچستان اور ڈیرہ غازیخان کے نواحی علاقوں قائم میڈیکل سٹوروں اور پریکٹیشنر کو بیچتے رہے ہیں۔

    اس اسکینڈل میں ایک اور بڑا تنازعہ ضبط شدہ ادویات سے جڑا ہے۔دیہی مرکزصحت سرورکے تین کمروں سے بھاری مقدار میں ادویات برآمد ہوئیں۔ محکمہ صحت پنجاب نے ابتدائی طور پر ان کی مالیت 1 ارب 70 کروڑ روپے بتائی مگر بعد میں موقف بدلا کہ یہ ادویات مختلف ڈونرز کمپنیوں اور ضلعی ہیلتھ اتھارٹی کی ملکیت تھیں، جو 15 سال سے گودام میں رکھی جا رہی تھیں۔ مزید تحقیقات کے بعد ایک اعلی سطحی ٹیم نے جس میں ڈاکٹر اطہر سکھانی بھی شامل تھے نے ریکارڈ کی جانچ کے بعد ان ادویات کو ریلیز کر دیا۔ اس عمل نے مزید شکوک و شبہات کو جنم دیا۔

    انٹی کرپشن کے سرکل آفیسر ملک عبدالمجید اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اب تک متعدد گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔ لاہور سے علی عثمان اور ظفر جبکہ ڈیرہ غازی خان سے پرویز، اکرام اللہ، اطہر شیرانی، بشیر احمد، عامر تیمور اور سراج کو ریمانڈ پر لیا گیا ہے۔ حکام نے مزید گرفتاریوں کا عندیہ دیا ہے۔ اس سلسلے میں سی ای او ڈاکٹر ادریس لغاری کو حکومتی ہدایت پر عہدہ چھوڑنا پڑا اور ان کی جگہ راجن پور کے سی ای او ڈاکٹر عبدالکریم رمدانی کو چارج دیا گیا ہے۔

    اس پورے معاملے میں کئی بنیادی سوالات اٹھتے ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا:

    اگر یہ ادویات 15 سال سے موجود تھیں تو انہیں عوام کے علاج کے لیے استعمال کیوں نہیں کیا گیا؟
    محکمہ صحت پنجاب نے ابتدا میں ایک موقف اختیار کیا، پھر اچانک اسے کیوں بدلا؟
    ڈرگ کنٹرولر فیصل محمود، جو خود مدعی تھے، انہیں کیوں معطل کیا گیا؟
    اگر یہ اسٹاک پرانا ہے تو 15 سال سے مسلسل اس میں اضافہ کیوں ہو رہا تھا؟
    اس اسٹاک کی لاگ بک اور اسٹاک رجسٹر میں بیچ نمبر اور دیگر تفصیلات کیوں چیک نہیں کی گئیں؟
    2010، 2012، 2020 اور 2022 میں یونیسیف اور دیگر انٹرنیشنل ڈونر ایجنسیوں کی جانب سے دی گئی اربوں روپے کی میڈیسن، اعلی معیار کی چاکلیٹ، بسکٹ اور فوڈ سپلیمنٹ کیوں خفیہ گوداموں میں رکھے؟
    یہ امدادی اشیا مستحق عوام میں تقسیم کیوں نہیں کی گئیں؟
    ان تمام ادوار میں سی ای او ہیلتھ اتھارٹی اور ڈی ایچ او کون تھے؟
    کیا ان افسران سے بازپرس نہیں ہونی چاہیے؟
    کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ادویات اور فوڈ سپلیمنٹ فروخت کے لیے رکھے گئے تھے، لیکن انہیں مارکیٹ میں فروخت کرنے کا موقع نہ مل سکا؟

    یہ اسکینڈل محکمہ صحت پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا چکا ہے۔ عوام کی نظر میں یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آیا صحت کے شعبے میں مزید ایسے گھوٹالے چھپائے جا رہے ہیں؟ اس واقعے کے بعد حکومت کو صحت کے نظام میں انتظامی اصلاحات پر غور کرنا ہوگا۔ ادویات کی خریداری، ذخیرہ اور ان کے ریکارڈ کی نگرانی کو مزید سخت بنانے کے لیے نئے ضوابط متعارف کرانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

  • ڈیٹنگ ایپس پر دوستی،نشہ دے کر زیادتی ،پی ایچ ڈی طالب علم کا جرم ثابت

    ڈیٹنگ ایپس پر دوستی،نشہ دے کر زیادتی ،پی ایچ ڈی طالب علم کا جرم ثابت

    لندن اور چین میں خواتین کو نشہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنانے والا چین سے تعلق رکھنے والا پی ایچ ڈی طالب علم زین ہاؤ زو (Zhenhao Zou) مجرم قرار پایا ہے۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ اس مجرم کی مزید 50 سے زائد متاثرہ خواتین ہو سکتی ہیں اور وہ ان سے آگے آنے کی اپیل کر رہی ہے۔

    28 سالہ زو نے 2019 سے 2023 کے دوران لندن اور چین میں کم از کم 10 خواتین کو نشہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنایا۔ اندرونی لندن کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ ملزم نے 9 حملوں کی ویڈیوز بطور "یادگار” ریکارڈ کیں اور خواتین کے ذاتی سامان کو ایک "ٹرافی باکس” میں رکھا۔جیوری نے اسے 2019 سے 2023 کے دوران لندن اور چین میں 10 خواتین کے خلاف 11 جنسی زیادتیوں کا قصوروار پایا۔ ان خواتین میں سے تین لندن میں اور سات چین میں واقع ہوئی تھیں۔ دو متاثرہ خواتین کی شناخت ہو چکی ہے، جبکہ آٹھ ابھی تک نہیں مل سکیں۔

    میٹروپولیٹن پولیس کا ماننا ہے کہ زو حالیہ وقتوں میں سب سے زیادہ بدنام اور خطرناک جنسی مجرم ہو سکتا ہے اور اسے مزید جرائم کا ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔ پولیس کا خیال ہے کہ 50 سے زائد دیگر خواتین بھی اس انجینئرنگ کے طالب علم کے ہاتھوں شکار ہو سکتی ہیں، جس کی وجہ سے وہ برطانیہ میں اب تک کا سب سے بدترین جنسی مجرم بن سکتے ہیں۔ افسران کے پاس ویڈیو مواد ہے جس میں ان خواتین کو دکھایا گیا ہے جن کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی، اور ان میں سے تقریباً 25 خواتین کو برطانیہ میں اور 25 کو چین میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    تمام متاثرہ خواتین چینی نسل سے ہیں اور ان خواتین سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس کمیونٹی سے سامنے آئیں تاکہ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی تحقیقات کی جا سکیں۔

    ژو پر تین الزامات کی بھی تصدیق ہوئی ہے جن میں ویوریزم، انتہائی فحش تصاویر کا قبضہ، ایک عورت کو جھوٹے قید میں رکھنے اور جنسی جرم کے ارادے سے منشیات رکھنے کے الزامات شامل ہیں۔ ژو نے 2017 میں بیلفاسٹ منتقل ہو کر کوئینز یونیورسٹی میں مکینکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنا شروع کی تھی اور 2019 میں لندن منتقل ہو گئے تھے۔ عدالت میں جب فیصلہ سنایا گیا تو ان کے چہرے پر کوئی جذبات نہیں تھے۔

    کیٹھرین فیرلی، جو استغاثہ کی طرف سے مقدمہ چلانے والی وکیل ہیں، نے جیوری کو بتایا کہ زو "ایک ذہین اور دلکش نوجوان انسان کے طور پر ظاہر ہوتا ہے لیکن وہ ایک مسلسل جنسی شکار کرنے والا، ویور اور ریپسٹ ہے”۔زو، جس کا آن لائن نام پاکو تھا، اپنے ہم وطن چینی طلباء سے وی چیٹ اور ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے دوستی کرتا تھا، پھر انہیں اپنے لندن یا چین میں واقع اپارٹمنٹ میں پینے کے لئے مدعو کرتا تھا اور انہیں منشیات دے کر بے ہوش کر کے زیادتی کرتا تھا۔جیوری نے سنا کہ وہ اپنے حملوں کو خفیہ طور پر ایک موبائل ڈیوائس اور کیمروں سے فلماتا تھا، اور اس کے اپارٹمنٹ میں ایس ڈی کارڈز سے ایسی ویڈیوز ملیں جن میں وہ لندن اور چین میں بے ہوش خواتین کے ساتھ زیادتی کرتا دکھائی دے رہا تھا۔

    سینئر کراؤن پراسیکیوشن سروس کی پراسیکیوٹر سائرہ پائیک نے ان خواتین کا شکریہ ادا کیا جو اپنے "غلیظ” جرائم کی رپورٹ دینے کے لئے سامنے آئیں اور کہا کہ "زو ایک سیریل ریپسٹ ہے اور خواتین کے لئے ایک خطرہ ہے”۔

  • نوشہرہ میں بجلی میٹر کے تنازع پر فائرنگ، ماں، بھائی اور بہن قتل

    نوشہرہ میں بجلی میٹر کے تنازع پر فائرنگ، ماں، بھائی اور بہن قتل

    نوشہرہ: خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں بجلی میٹر کی ملکیت کے تنازع پر ایک شخص نے فائرنگ کرکے اپنی ماں، بھائی اور بہن کو قتل کر دیا۔ واقعہ پبی چوکی درب کے علاقے میں پیش آیا، جس نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔

    ملزم کے والد سابق واپڈا ملازم تھے، جن کے نام سے گھر پر مفت بجلی کا میٹر نصب تھا۔ مذکورہ میٹر کی ملکیت پر اکثر اہلِ خانہ میں جھگڑا رہتا تھا، جو بالآخر ایک اندوہناک سانحے میں تبدیل ہو گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق واقعے کے روز گھر میں ایک بار پھر بجلی میٹر کی ملکیت پر بحث چھڑ گئی، جو شدت اختیار کر گئی۔ اسی دوران ملزم نے طیش میں آکر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں اس کی ماں، بہن اور بھائی موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ فائرنگ کی آواز سنتے ہی قریبی لوگ جائے وقوعہ پر پہنچے، لیکن ملزم اپنے بیوی بچوں سمیت موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مقتولین کی بہن کی مدعیت میں پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزم کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ہی اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔

    اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ مقتولین نہایت شریف النفس لوگ تھے، جبکہ ملزم اکثر گھریلو تنازعات میں ملوث رہتا تھا۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور لوگ افسوس اور غم کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

  • خیرپور: ٹائر پھٹنے  سے رکشہ درخت سے جا ٹکرایا، 35 سالہ شخص جاں بحق

    خیرپور: ٹائر پھٹنے سے رکشہ درخت سے جا ٹکرایا، 35 سالہ شخص جاں بحق

    اوچ شریف ،باغی ٹی وی(نامہ نگارحبیب خان) حاصل پور روڈ پر الریاض ہوٹل کے قریب افسوسناک ٹریفک حادثہ پیش آیا، جس میں 35 سالہ شخص جاں بحق ہوگیا۔

    تفصیلات کے مطابق پٹھہ رکشے پر تقریباً 50 من سرسوں کی بوریاں لدی ہوئی تھیں کہ اچانک ٹائر برسٹ ہونے سے رکشہ بے قابو ہو کر درخت سے جا ٹکرایا۔ حادثے میں رکشہ ڈرائیور کے ساتھ بیٹھے محمد اظہر ولد غلام سرور شدید زخمی ہوئے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ جاں بحق ہونے والے کا تعلق بستی دائم احمدپور اڈا خیرپور سے تھا۔

    انتظامیہ نے ضروری قانونی کارروائی کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی۔