Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • اسلام آباد موٹروے پر حادثہ: ذمہ دارکون؟جاں بحق اور زخمی کون اور کہاں سےتعلق ؟موٹروے حکام نے سب کچھ بتا دیا

    اسلام آباد موٹروے پر حادثہ: ذمہ دارکون؟جاں بحق اور زخمی کون اور کہاں سےتعلق ؟موٹروے حکام نے سب کچھ بتا دیا

    اسلام آباد-آج کا دن پاکستان میں بڑے سانحات اور حادثات کے ساتھ طلوع ہو اہے .رحیم یار خاں میں ریلوے حادثہ کے بعد اب اسلام آباد موٹروے پر باہتر انٹرچینج کے قریب مسافر کوچ الٹ گئی جس کے نتیجے میں 11 مسافر جاں بحق اور 46 زخمی ہوگئے۔موٹرواے پولیس کا کہنا ہے کہ حادثہ صبح سویرے شدید بارش اور پھسلن کے باعث پیش آیا۔دوسری طرف سپرنٹنڈنٹ پولیس پوٹھوہار ٹاؤن سید علی نے بس ڈرائیور کو حادثے کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ ڈرائیور کو موسم کی خرابی کا احساس ہونا چاہیے تھا لیکن اس نے نااہلی کا مظاہرہ کیا ہے.سید علی نے بتایا کہ معلوم ہوا ہے کہ ڈرائیور اس وقت موبائل فون استعمال کررہا تھا

    سید علی کا کہنا ہے کہ پولیس نے بس ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے گرفتار کرلیا ہے۔موٹروے پولیس کے مطابق ادارے نے حادثے کے بعد انہوں نے ایم ون موٹروے پر ہر 500 میٹر پر اسپیڈ کیمرا نصب کرنے کی ہدایات بھی جاری کردیں۔ادھر موٹروے پولیس ڈی آئی جی اشفاق احمد کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کا تعلق لاہور، ننکانہ صاحب اور سوات سے ہے اس حادثے میں زخمی افراد کو ٹیکسلا ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں بعض کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے.موٹروے پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق مسافروں کی شناخت سکینہ بی بی، نورین، کنزا، خالد شہزاد، سیف الرحمٰن، اعجاز، نیاز، تاج کے نام سے کی اور کہا کہ 2 لاشوں کی شناخت ہونا ابھی باقی ہے۔

    انہوں نے متعدد عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈرائیور بس چلاتے ہوئے مسلسل موبائل فون کا استعمال کر رہا تھا جبکہ چند مسافروں کی جانب سے اسے منع کرنے پر بھی وہ باز نہیں آیا تھا۔ڈرائیور اس وقت پولیس کی حراست میں جس کے خلاف کارروائی کرکے اسے قرار واقعی سزادی جائے گی یہ کہنا تھا سپرنٹنڈنٹ پولیس پوٹھوہار ٹاؤن سید علی کا.

    پولیس کے مطابق بس ٹرالر کو اوورٹیک کرتے ہوئے بے قابو ہوگئی تھی۔ٹی ایچ کیو ہسپتال ٹیکسیلا کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹرز کے مطابق 10 لاشوں اور 8 زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا ہے جبکہ دیگر کو حسن ابدال، واہ کینٹ اور راولپنڈی کے دیگر ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔

  • قندیل بلوچ قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت کا بڑا فیصلہ

    قندیل بلوچ قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے گواہی کے لئے پیش نہ ہونے پر سب انسپکٹر کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔قندیل بلوچ قتل کیس کی سماعت کے دوران گرفتار ملزم وسیم کو سیشن کورٹ ملتان میں پیش کیا گیا۔کیس کی سماعت کے دوران گواہی کے لئے پیش نہ ہونے پر عدالت نے سب انسپکٹر نور اکبر کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے حکم کے ساتھ ساتھ ایک ماہ کی تنخواہ قرقی کے احکامات بھی جاری کئے بعدازاں عدالت نے مزید گواہوں کی شہادتوں کے لیے سماعت 17جولائی تک ملتوی کردی۔

  • سیال موڑ خادثے کے نتیجے میں ڈی آئی جی جاں بحق

    سیال موڑ خادثے کے نتیجے میں ڈی آئی جی جاں بحق

    سرگودھا(نمائندہ باغی ٹی وی )موٹر وے پرسیال موڑ کے قریب پولیس کی گاڑی اور ٹریلر میں تصادم کے نتیجے میں ڈی آئی جی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ لاہور کامران یوسف ڈرائیورسمیت شہید ہو گئے ڈی آئی جی کامران یوسف سرکاری گاڑی میں لاہور سے اسلام آباد جا رہے تھےکہ اچانک حادثہ پیش آ گیا جس سے ڈی آئی جی اور ان کے ڈرائیور موقع پر جاں بحق ہو گئے

  • فیصل آباد، گھریلو کارکنان کی رجسٹریشن کا قانون لانے کا اعلان

    فیصل آباد، صوبائی وزیر محنت وانسانی وسائل انصر مجید خاں نے کہا ہے کہ گھریلو کارکنان کی رجسٹریشن کا قانون موجود ہ پنجاب حکومت کا انقلابی قدم ہے جس کی بدولت نہ صرف گھروں میں کام کرنے والے کارکنوں کو سماجی تحفظ حاصل ہوگا بلکہ گھروں کے مالکان کو تصدیق شدہ/ رجسٹرڈ افراد کو ملازم رکھنے میں آسانی و سہولت ہوگی۔انہوں یہ بات گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو جڑانوالہ روڈ پر ایک بینکوئٹ ہال میں منعقد ہوئی۔صوبائی پارلیمانی سیکرٹری برائے لیبر شکیل شاہد،ارکان صوبائی اسمبلی لطیف نذر،میاں وارث عزیز،کمشنر سوشل سیکورٹی ثاقب منان،ڈویژنل کمشنر محمود جاویدبھٹی،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر(فنانس)عاصمہ اعجاز چیمہ،اسسٹنٹ کمشنر(جنرل)مصور نیازی،ایس پی طارق سکھیرا،صدر چیمبر آف کامرس سید ضیاء علمدار حسین،ڈائریکٹرز سوشل سیکورٹی نارتھ،ایسٹ،ویسٹ محمد حسان،سردارشہزاد،احسان الحق،ڈائریکٹر لیبر ملک منور اعوان ودیگر افسران کے علاوہ مزدور رہنما بابا لطیف انصاری،محمد اسلم وفا ودیگر نمائندے اور مزدوروں و گھریلو ملازمین مرد و خواتین کی کثیر تعداد تقریب میں موجود تھی۔صوبائی وزیر محنت و انسانی وسائل نے کہا کہ گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کا قانون وزیر اعظم عمران خان کی غریب پروری اور کارکنوں کی فلاح وبہبود کے ویژن کی تکمیل ہے جسے ابتدائی طور پر فیصل آباد،لاہور،راولپنڈی اورملتان کے اضلاع سے شروع کیا جارہا ہے اور مستقبل قریب میں اسکا دائرہ پورے صوبہ پنجاب تک پھیل جائیگا۔انہوں نے بتایا کہ اس قانون کی بدولت گھریلو ملازمین کو دیگر ورکرز کی طرح صحت عامہ سمیت دیگرجملہ مراعات حاصل ہوں گی کیونکہ قبل ازیں یہ ورکرزگھروں کی چار دیواریوں کے اندر اپنی خواہشات کو دبا کر زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے اب انہیں بھی سماجی حقوق حاصل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ گھریلو ملازمین کے حقوق کے تحفظ کا یہ سفر جاری رہے گا اور انہیں تعلیمی سہولیات کے علاوہ ان کی صحت کی سکریننگ اور مختلف متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے۔انہوں نے صنعتکاروں،تاجروں،کاروباری افراد سے کہا کہ وہ اس قانون پر عملدرآمد کے لئے تعاون کریں اور شہری گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن ضرور کرائیں تاکہ آجر اور اجیر کے حقوق کا تحفظ ممکن ہوسکے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں موجودہ حکومت مزدوروں کے مفادات کے تحفظ اور انہیں آسودہ زندگی بسر کرنے کے مواقع فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے کیونکہ ان ورکرز کے خون پسینے کی محنت سے ملک میں معیشت کا پہیہ چلتا ہے جنہیں کسی صورت نظر اندا زنہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ مزدوروں کی فلاح وبہبود کے لئے ورکرز ویلفیئر فنڈ میں مزید اصلاحات لائیں گے جبکہ قانون سازی کے ذریعے کم سے کم اجرت کی ادائیگی کویقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کرپشن کا خاتمہ ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے لیبر ڈیپارٹمنٹ کے انتظامی امور کو جدت سے ہمکنار کیاجائے گا تاکہ شفافیت اور اعلیٰ نظم ونسق کو برقرار رکھا جاسکے۔انہوں نے یقین دلایا کہ لیبر قوانین پر عملدرآمد کویقینی بنائیں گے۔صوبائی وزیر محنت نے میڈیا نمائندگان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کے قانون کی بدولت ملازمین پر تشدد کے واقعات پرقابو پایاجاسکے گا۔انہوں نے کہا کہ گھریلو ملازمین پر تشددیا چائلڈ لیبر کو برداشت نہیں کیا جاسکتا اس سلسلے میں ظلم و زیادتی کرنے والے قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے اور کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ہے۔کمشنر سوشل سیکورٹی ثاقب منان نے گھریلوملازمین کی رجسٹریشن کے قانون کے نمایاں پہلوؤں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس قانون کا اطلاق انتہائی سادہ اور آسان بنایا گیا ہے اورگھریلو ملازمین کی موبائل اپلیکیشن کے ذریعے رجسٹریشن کرائی جاسکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق پنجاب میں پونے سات لاکھ گھریلو ملازمین کام کررہے ہیں جنکی رجسٹریشن سے انہیں سماجی تحفظ حاصل ہوگا جنہیں قانون کے تحت ماہانہ تنخواہ،اوقات کار،چھٹیوں کا حق حاصل ہوگا اور آجرواجیر کے مابین تنازعات حل ہوسکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ اب تک 1217گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کی جاچکی ہے اور تیزی سے عملدرآمد کے نتیجہ میں آئندہ ماہ کے اندر یہ تعداد 50ہزارہوجائیگی۔انہوں نے مستقبل کی منصوبہ بندی کے بارے میں بتایا کہ اس قانون پر موثر انداز میں عملدرآمد کے لئے صوبائی ٹاسک فورس کام کرے گی جبکہ دیگر متعلقہ اداروں کی معاونت بھی حاصل کی جائے گی۔صوبائی پارلیمانی سیکرٹری شکیل شاہد نے کہا کہ وزیراعظم عمران خاں اوروزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار مزدورں کی زندگی میں خوشحالی لانے کے لئے کوشاں ہیں کیونکہ یہی طبقہ معاشی وسماجی تبدیلی کے لئے انقلابی کردار ادا کررہا ہے۔انہوں نے گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کے قانون کو خوش آئندقرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل کسی حکومت کو گھریلو کارکنوں کے حقوق کے تحفظ کا خیال نہیں آیا۔ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی نے کہا کہ مہذب معاشرے میں جبری مشقت کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور کارکنوں کے تحفظ کے قوانین پر عملدرآمد سے سماجی ترقی کی رفتاربہتر ہوگی۔انہوں نے بچوں کی تعلیم وتربیت اور بہترین پرورش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بہبود آبادی کے پروگرام پر عمل کرکے بچوں کا مستقبل روشن بنایا جاسکتا ہے۔این جی او”پتن“کی نمائندہ پروین لطیف انصاری نے گھریلو کارکنان کی رجسٹریشن کے قانون کے نفاذ اور عملدرآمد کوقابل تحسین قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں آگاہی مہم کا دائرہ وسیع ہونا چاہیے۔اس موقع پر گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کے لئے خصوصی کیمپ لگایا گیا تھا جس پر ان کی رجسٹریشن کے طریقہ کار کے بارے میں آگاہی دی گئی۔
    ۔۔۔///۔۔۔

  • خوشاب پولیس کی بڑی کاروائی 18 موٹر سائیکل بر آمد

    خوشاب پولیس کی بڑی کاروائی 18 موٹر سائیکل بر آمد

    سرگودہا،خوشاب(نمائندہ باغی ٹی وی )خوشاب. پولیس کی بڑی کارروائی موٹر سائیکل چور صدام گینگ کے چار ارکان گرفتار 18 موٹرسائیکل برآمد ،گینگ کے ارکان محکمہ ایکسائز خوشاب کی ملی بھگت سے چوری شدہ موٹرسائیکل کے جعلی کاغذات تیار کروا کر فروخت کردیتے ،
    ملزمان نے خوشاب سمیت دیگر اضلاع میں کاروائیاں کیں،
    ڈی پی او رانا شعیب کی ہدایت پر ملزمان کی گرفتاری کا خصوصی ٹاسک دیا گیا تھا.
    ایس ایچ اوز اور سی آئی اے نے مشترکہ کاروائی کرکے گینگ کے ارکان کو گرفتار کرکے انکے قبضہ سے چوری شدہ موٹرسائیکلیں برآمد کر لیں،ملزمان میں نوید اختر. اسامہ. عمران. ظہیراور امتیاز شامل ،گزشتہ دو ماہ میں خوشاب پولیس نے منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے 989۔6 کلو گرام ہیروئن، 071۔ 58 کلوگرام چرس
    اور 1603 لیٹر شراب برآمد کرکے 100 مقدمات درج کیے، ناجائز اسلحہ کے خلاف مہم میں 3 کلاشنکوف، 7 رائفل، 18 بندوق 43 پسٹل 2 کاربین اور 311 کارتوس برآمد کرکے 72 مقدمات درج کیے ،اشتہاری ملزمان میں اے کیٹگری کے 10 بی کیٹگری 36 جبکہ 26 عدالتی مفروران کو گرفتار کیا گیا، بہترین کارکردگی پر افسران و ملازمین کو تعریفی سرٹیفکیٹس بھی دیے جائیں گے. ڈی پی او

  • موٹروے پولیس کی بڑی کاروائی لاکھوں کی مالیت کا سامان پکڑ لیا

    موٹروے پولیس کی بڑی کاروائی لاکھوں کی مالیت کا سامان پکڑ لیا

    موٹروے پولیس نے ساٹھ لاکھ روپے مالیت کا نان کسٹم پیڈ سامان پکڑ لیا
    تفصیلات کے مطابق خفیہ اطلاع پر کاروائی کرتے ہوئے موٹروے پولیس نے کلرکہار کے قریب موٹروے پر بس نمبر LES 333 کو روکنے کا اشارہ کیا لیکن بس ڈرائیور نے بس موقع سے بھگا دی جس پر موٹروے پولیس کی جانب سے بس کا تعاقب کیا گیا کافی تگ و دو کے بعد بس ڈرائیور نے بس کو سائیڈ میں روکا اور ملزمان نے فرار ہونے کی کوشش کی
    بس میں 4 ملزمان سوار تھے جس میں سے تین ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا
    ملزمان میں عبدالقادر آدم خان اور عبدالرحیم شامل ہیں چوتھے ملزم کی تلاش جاری ہے
    مزید بس کی تلاشی لینے پر بس میں سے تقریبا 60 لاکھ مالیت کا نان کسٹم پیڈ سامان برآمد ہوا بس پشاور سے لاہور کی جانب جا رہی تھی
    ملزمان بمعہ نان کسٹم پیڈ سامان مزید قانونی کارروائی کے لئے کسٹم حکام کے حوالے کر دیا DIG موٹروے زون اشفاق احمد نے افسران کی اس کارروائی کو سراہتے ہوے
    شاباش دی اور تعریفی اسناد کے ساتھ کیش انعام کا بھی اعلان کیا

  • سیالکوٹ میں ڈکیتی اور چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتیں پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا رہی ہیں ،

    سیالکوٹ (نمائندہ باغی ٹی وی) ضلع میں ڈکیتی اور چوری کی روز بروز بڑھتی ہوئی وارداتیں پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھا رہی ہیں
    ضلع بھر میں پولیس کی جانب سے کہیں کوئی ناکہ بندی دیکھنے کو نہیں مل رہی،،،
    نہ ہی کسی تھانہ سے کسی گینگ کی گرفتاری اور مال مسروقہ کی برآمدگی کی اطلاعات ملی ہیں چند روز قبل سٹی سرکل کے تھانہ حاجی پورہ نے تین رکنی گینگ گرفتار کیا تھا اسکے علاقہ ضلع بھر کے باقی تھانوں میں خاموشی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں -پولیس کو عوام کے جان و مال کے تحفظ میں اپنی کاکردگی دکھانا ہو گی ورنہ ضلع میں قائم ڈاکو راج ضلع کو لوٹ لے گا-ضلع میں پانچ ڈی ایس پی وہ تعینات ہیں جو بطور ایس ایچ او اپنی تعیناتی کے دوران شہر میں امن قائم کئے رکھا کرتے تھے اور انکی بطور اسٹیشن ہائوس آفیسر تعیناتی سے جرائم پیشہ افراد راہ فرار اختیار کئے کرتے تھےپانچوں ڈی ایس پی ضلع کے اہم سرکل پر تعینات ہیں ڈی ایس پی سی آئی اے شاہد اکرام شیخ متعدد تھانوں میں ایس ایچ او رہے۔ڈی ایس پی صدر سرکل عرفان الحق سلہریا جس تھانے میں ایس ایچ او تعینات ہوتے جرائم پیشہ عناصر اس تھانے کی حدود سے فرار ہو جاتے۔ڈی ایس پی سٹی سرکل رانا ندیم طارق جن کو لوگ سفارش کرواتے ڈرتے تھے اور میرٹ پر کام کرتے چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ڈی ایس پی سمبڑیال رانا زاہد بھی متعدد تھانوں میں ایس ایچ او رہے( آج کل دل کے عارضے میں مبتلا ہیں اور زیر علاج ہیں۔پانچویں ڈی ایس پی پسرور سرکل شیخ الیاس شاعرانہ مزاج رکھتے ہیں اور وہ بھی سیالکوٹ کے مختلف تھانوں میں ایس ایچ او رہ چکے ہیں ۔ان تمام افسران کے ضلع میں ہونے کے باوجود موجودہ ایس ایچ اوز کی جانب سے کاکردگی نہ دکھانا اور جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری نہ ہونا موجودہ ایس ایچ اوز کی کاکردگی پر سوالیہ نشان ہےڈی ایس پی پٹرولنگ پولیس ملک نوید بھی سیالکوٹ کے مختلف تھانوں میں ایس ایچ او تعینات رہے اور جرائم پیشہ عناصر کو ٹریس کرنے میں مہارت رکھتے تھے ڈی ایس پی ٹریفک مظہر فرید بھی سیالکوٹ سے بخوبی واقف ہیں البتہ ڈی ایس پی ڈسکہ کی دوسری تعیناتی ہے

  • چکوال، ضلع کچہری میں فائرنگ،خاتون قتل، تین افراد زخمی

    چکوال، ضلع کچہری میں فائرنگ،خاتون قتل، تین افراد زخمی

    پنجاب کے ضلع چکوال میں ضلع کچہری میں فائرنگ سے ایک خاتون جاں بحق جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چکوال کی ضلع کچہری میں مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک خاتون جاں بحق جبکہ تین افراد زخمی ہو گئے، مسلح ملزمان چارمنٹ تک آتشیں اسلحہ استعمال کرتے رہے، ضلع کچہری آنے والے افراد نے لیٹ کر اپنی جانیں بچائیں.

    واقعہ کی اطلاع ملنے پر پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی، ریسکیو 1122 حکام بھی موقع پر پہنچے اور لاش اور زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، ڈی پی او چکوال عادل میمن بھی موقع پر پہنچے اور تمام صورتحال کا جائزہ لیا، ملزمان فائرنگ کے بعد قریبی علاقہ چکوڑہ کی طرف بھاگ گئے جنہیں بعد ازاں پولیس نے گرفتار کر لیا.

    پولیس کے مطابق واقعہ دیرینہ دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے.

    ریسکیو 1122 چکوال کے ترجمان خرم منظور کے مطابق واقعہ میں پچیس سالہ اقصیٰ ولد علی اصغر سکنہ تھنیل کمال جاں بحق ہو گئی جبکہ تیس سالہ تبسم ولد اصغر سکنہ چکوال، چالیس سالہ خواجہ محمود ولد قمر سکنہ منڈے، 71 سالہ امیر خان ولد محمد خان زخمی ہوئے ہیں، جن کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال منتقل کر دیا گیا .

  • خاتون سے زیادتی کا الزام،ڈولفن فورس کے 2اہلکار گرفتار

    مظفرگڑھ میں خاتون سے مبینہ طور پر زیادتی کرنے والے ڈولفن فورس کے 2 اہلکاروں کو حراست میں لے لیاگیا،گرفتار کیے گئے اہلکاروں کو معطل بھی کردیاگیا.مظفرگڑھ کے علاقے لنگرسرائے میں خاتون کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بناڈالا گیا،موضع نواب پور ملتان کی رہائشی تسلیم مائی نے الزام عائد کیا ہے کہ سلیم سیف اللہ اور محمد امین گجر نامی ڈولفن فورس کے 2 اہلکاروں نے اسے زیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کی اور اسکی مزاحمت پر اہلکار واپس چلے گئے،تسلیم بی بی کیمطابق اہلکاروں کے جانے کے بعد محمد یونس نامی ایک اور شخص نے اسے زیادتی کا نشانہ بنایا.تسلیم بی بی کی مدعیت میں تھانہ صدر میں 2 ڈولفن پولیس اہلکاروں سلیم سیف اللہ،امین گجر سمیت محمد یونس،اجمل اور قیصر عباس 5 افراد کیخلاف مقدمہ درج کرلیاگیا ہے،پولیس ذرائع کیمطابق مقدمہ میں نامزد دونوں اہلکاروں کو حراست میں لے لیاگیا ہے جبکہ ڈی پی او صادق علی ڈوگر نے مقدمے میں نامزد ڈولفن فورس کے دونوں اہلکاروں کو معطل بھی کردیا ہے.

  • کوئٹہ:9 برسوں میں‌5 سوسے زائد کان کن ہلاک ہوگئے

    کوئٹہ:9 برسوں میں‌5 سوسے زائد کان کن ہلاک ہوگئے

    کوئٹہ:پاکستان میں پچھلے 9 سالوں میں 5سوسے زائد کان کن ہلاک ہوگئے ہیں.ان کانوں میں مزدوری کرنے والے کان کنوں کی ہر وقت شدید خطرات کا سامنا ہوتا ہے .اطلاعات کے مطابق 6 ماہ کے دوران بلوچستان میں کانوںکان کنی کے دوران 31 حادثات ہوئے جن میں کام کرنےوالے 38 کان کن ہلاک ہوگئے

    زیادہ حادثات ضلع دکی کی کوئلہ کان میں ہوئے .محکمہ معدنیات کے مطابق تمام تر حفاظتی انتظامات کے باوجود پھر بھی بہت سے حادثات ہوگئے ہیں. یاد رہے کہ دنیا بھر میں کانوں میں‌کام کرنے والوں سیکڑوں کان کن معدنیات کی تلاش میں‌اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں.