Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • حافظ آباد پولیس کا سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن، 49مشتبہ افراد گرفتار،

    حافظ آباد(نمائندہ باغی ٹی وی)حافظ آباد پولیس کا حساس اداروں کے ساتھ مل کر شہر کے مختلف علاقوں میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن، 49مشتبہ افراد زیر حراست۔موجودہ ملکی سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلیے حافظ آباد پولیس اور حساس اداروں نے مختلف علاقوں میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن کیا۔سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن میں پولیس،ایلیٹ فورس اور حساس اداروں کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ آپریشن کی براہ راست نگرانی ڈی پی او حافظ آباد ساجد کیانی نے کی۔ آپریشن سے قبل ڈی پی او حافظ آباد نے آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کو آپریشن کے مقاصد اور طریقہ کار سے متعلق بریفنگ بھی دی۔ سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن کے دوران مختلف علاقوں سے 49مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ ۔ سرچ اینڈ کامبنگ آپریشن ساگر روڑ،گوجرانوالہ روڑ،گڑھی اعوان،بس اسٹینڈ اور دیگر علاقوں میں کیا گیا۔سرچ آپریشن کے دوران ریلوے سٹیشن، بس سٹینڈ، ہوٹل، سرائے اور دیگر مقامات میں چیکنگ کی جا رہی ہے۔

  • شیخوپورہ میں موٹر سائیکل پھسلنے سے 3 افراد زخمی

    شیخوپورہ(نمائندہ باغی ٹی وی) دھیر دا موڑ گوجرانوالہ روڑ پر موٹرسائیکل کا ٹائر پھٹنے سے موٹر سائیکل پھسل گئی-
    حادثے سے موٹر سائیکل پر سوار 3 افراد زخمی ہو گئے-
    ریسکیو 1122 شیخوپورہ نے موقع پر پہنچ کر فورا” زخمیوں کو طبی امداد دینے کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال منتقل کر دیا-

  • فیصل آباد، ستیانہ کے قریب نہر گوگیرہ برانچ میں پڑنے والے شگاف کو بند کردیا گیا

    فیصل آباد، ڈویژنل وضلعی انتظامیہ کے زیراہتمام امدادی ٹیموں کی مسلسل جدوجہد کی بدولت چک 129گ ب ستیانہ کے قریب نہر گوگیرہ برانچ میں پڑنے والے شگاف کو بند کرکے مضبوط بنادیا گیا ہے۔امدادی کارروائیوں کی نگرانی ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی،ڈپٹی کمشنر سردار سیف اللہ ڈوگراورسی پی او اظہر اکرم نے کی۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر تاندلیانوالہ اورنگزیب،اسسٹنٹ کمشنر جنرل مصورنیازی اور دیگر محکموں کے افسران موجود تھے۔تفصیلات کے مطابق نہر میں شگاف پڑنے کے واقعہ کی اطلاع ملنے پر محکمہ انہار،مال،صحت،لائیوسٹاک،ہائی ویز،ریسکیو 1122،سول ڈیفنس،زراعت اور پولیس نے حصہ لیا۔ڈویژنل کمشنر،ڈپٹی کمشنراورسی پی اوموقع پر پہنچ گئے اور متعلقہ مشینری اور دیگر تمام وسائل کو یکجا کرکے 12گھنٹے کی طویل کوشش سے شگاف کو پُر کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ الحمدللہ واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم شگاف کے باعث فصلوں کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لئے مشترکہ سروے کیاجائے گا۔انہوں نے کہا کہ امدادی سرگرمیوں کے دوران اردگرد کی آبادیوں اور مویشیوں کو محفوظ رکھنے کے لئے بھرپور کوششیں کیں جس میں کامیابی ملی۔انہوں نے محکمہ انہار کے افسران سے کہا کہ وہ نہروں کے کناروں کی مضبوطی کاازسرنوجائزہ لیں اور اس جگہ پڑنے والے شگاف کی وجوہات کا پتہ چلا کر مستقبل میں انسدادی اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے امدادی کارروائیوں میں تعاون کرنے پر اہل دیہہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

  • سرگودھا فیکٹری میں آگ لگ گئی

    سرگودھا فیکٹری میں آگ لگ گئی

    سرگودھا(نمائندہ باغی ٹی وی ) اقبال کالونی میں شارٹ سرکٹ ہونے سے پاپڑوں والی فیکٹری میں آگ لگ گئی آگ نے کئی گھنٹوں فیکٹری کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا ریسکیو 1122 کا امدادی عملہ کاروائی کیلئے پہنچا مگر رہائشی علاقہ ہونے کی وجہ سے اہلکاروں کو شدید دشواری کا سامنا رہا علاوہ ازیں رہائشی علاقہ میں فیکٹری کا ہونا انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے یہاں لگنے والی آگ بڑی تباہی کا بھی پیش خیمہ ثابت ہو سکتی تھی

  • صحافی، انتظامیہ کا آسان ہدف۔۔۔۔۔۔۔۔

    صحافی، انتظامیہ کا آسان ہدفصحافی معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ قوموں کی تربیت کرنے، ان کی ترقی کا رخ متعین کرنے، حکومتیں بنانے اور گرانے میں قلم کا کردار سب سے زیادہ ہے لیکن آئے دن صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے واقعات نے صحافیوں میں خوف و ہراس پیدا کر رکھا ہے سرمایہ کاروں اور انتظامیہ کی جانب سےتیار کردہ صحافی یا وہ لوگ جنہوں نے اپنے مجرمانہ ریکارڈ کو چھپانے کے لیے صحافت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے وہ سچ لکھنے اور حقائق چھپانے کو مصلحت کا نام دے کر اپنا طرہ بلند رکھے ہوئے ہیں صحافیوں پر تشدد کے واقعات عموما سیاستدانوں، محکمہ صحت اور پولیس کے اہلکاروں کی جانب سے دیکھے گئے ہیں تشویش ناک عمل تو یہ ہے کہ پولیس کی جانب سے تشدد کے واقعات کی انکوائری پولیس ملازم ہی کرتا ہے ایسی صورت میں انصاف ملنا تو درکنار الٹا مدعی صحافی کو ہی مجرم ٹھہرا دیا جاتا ہے اور اس سارے عمل میں مندرجہ بالا مذکورہ اقسام کے صحافی مصلحت قرار دے کر ظالم کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں بس یہی وجہ ہے کہ صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے واقعات کو روکنے کے لیے جلد از جلد قانون سازی کے ضرورت ہے

    پاکستان پریس فاونڈیشن کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق سال 2002 سے 2019 تک صحافیوں پر تشدد کے 699 واقعات ریکارڈ کیئے گئے ہیں ان 17 سالوں میں 42 صحافیوں کو پولیس نے ہراست میں لے کر حبس بے جا میں رکھا، 22 صحافیوں کو اغواء کیا گیا ان تمام واقعات میں 185 صحافی زخمی ہوئے اور 73 صحافی پیشہ ورانہ امور انجام دیتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے

    صحافتی امور انجام دینے پر تشدد کا ایک واقعہ لیہ میں ڈان اخبار کے رپورٹر فرید اللہ چوہدری کے ساتھ بھی پیش آیا جو واضح کرتاہے کہ صحافیوں کو خود اپنے لئے انصاف کے حصول میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے فرید اللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ستمبر 2010 کے پہلے ہفتے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لیہ میں نرسنگ سکول کی طلبات نے احتجاج کیا اور کوریج کے لیے میڈیا کو کال دی ہم پریس کلب سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچے تو نرسنگ سکول کی پرنسپل وکٹوریہ نے میڈیا نمائندگان کو اندر جانے سے منع کر دیا اور ہمیں گیٹ پر روک لیا گیا اندر طلبات کا شور تھا اس لیے ہم وہیں موجود رہے تاکہ حالات کا جائزہ لے سکیں لگ بھگ دس منٹ گزرنے کے بعد ای ڈی او ہیلتھ لیہ ڈاکٹر مختار حسین شاہ ہنگامی طور پر وہاں پہنچے اور صحافیوں کو گیٹ پر ہی چھوڑ کر طلبات کے پاس چلے گئے تاکہ مسئلہ سنا جائے اورمذاکرات کیے جا سکیں۔نرسنگ سکول کی طلبات نے احتجاج کیا کہ ہم معاملہ میڈیا نمائندگان کی موجودگی میں ہی سنائیں گی ورنہ احتجاج جاری رہے گا حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجبورا ای ڈی او نے میڈیا نمائندگان کو اندر آنے کی اجازت دے دی۔ ہماری موجودگی میں نرسنگ سکول کی طلبات نے بتایا کہ فیئرویل پارٹی کے موقع پر ہماری پرنسپل وکٹوریہ نے ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مختار حسین شاہ کی بیگم( جو کہ اسی سکول میں لیکچرار تھیں) کو کچھ قیمتی تحفے دیئے اور پارٹی ختم ہونے پر وہ بھاری رقم ہمارے وظیفے سے کٹوتیاں کر کے پوری کی جا رہی ہے جو کہ ہمیں نا منظور ہے

    فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ہم میڈیا نمائندگان نے نرسنگ سکول کی طلبات کے بیانات قلم بند کر لیے اور میں نے اگلے دن ڈان اخبار میں تمام سٹوری چھاپ دی جس کے بعد مجھے بذریعہ فون دھمکیاں ملیں کہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا اور کچھ دستوں سے پیغام ملا کہ ای ڈی او کی بیوی کا نام چھپنے کی وجہ سے وہ غصے میں ہے اس لیے محتاط رہیں میں نے معاملے کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا۔ تھوڑے ہی دنوں بعد ہمارے دوست عزیز عدیل علیل تھے تو ان کی تیمارداری کے لیے رات 8 بجکر 30 منٹ پر ہمراہ غلام مصطفی جونی ایڈووکیٹ اور عبدالستار علوی کے میں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچا تیمار داری کے بعد خبر کے فالو اپ کے حوالے سے ڈان اخبار کے ڈیسک سے کال آئی تو میرے ساتھیوں نے مجھے فون پر مصروف چھوڑ کر آگے آگے چلنا شروع کر دیا بجلی نہ ہونے کہ وجہ سے اندھیرا تھا۔ کچھ لوگ میرے قریب آئے اور مجھے پوچھا کہ کیا آپ کا نام فرید اللہ ہے میں نے جواب دیا کہ ‘جی’ تو انہوں نے مجھے پر ہلہ بول دیا اور یہی کہتے رہے کہ آج تمہیں رپورٹنگ سیکھاتے ہیں ہم آج تمہیں رپورٹر بناتے ہیں ان افراد کی تعداد 6 تھی ایک نے مجھ پر چھری سے وار کیا لیکن کپڑے کھلے ہونے کے وجہ سے چھری قمیض کےدائیں جیب پر لگی اور وہاں پھنس گئی شور شرابہ ہونے اورموٹر سائیکل گرنے پر میرے ساتھیوں سمیت سب لوگ متوجہ ہوئے اور ہماری طرف لپکے لیکن اتنی دیر میں حملہ آور بھاگنے میں کامیاب ہوچکے تھے

    فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ہم نے پولیس کو کال کی اور سامان پورا کیا تو پتہ چلا کہ فرنٹ والی جیب پھٹنے کی وجہ سے جیب میں موجود 13 ہزار روپے اور موبائل غائب ہے تلاش کرنے پر موبائل تو مل گیا لیکن پیسے نہ مل سکے اس سارے واقعے کا اندراج پولیس تھانہ سٹی لیہ میں مقدمہ نمبر623/10 زیر دفعات 379/506 اور 147/148 درج کر لیا گیا ہمارے اپنے نیٹ ورک کے ذریعے ہم حملہ آوروں کے نام تلاش کرنے میں کامیاب ہوگئے اور اس وقت کے صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب محمد یعقوب مرزا نے ملزمان نامزد کروا دیئے چونکہ ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مختار حسین شاہ اس وقت کے ڈی سی او جاوید اقبال مرحوم کے قریبی دوست تھے اس لیے ڈی سی او کے توسط سے اس وقت کے ڈی پی او چوہدری محمد سلیم کو کہلوا کر بغیر انکوائری کےمیرا مقدمہ خارج کروا دیا گیا سارے معاملے کی سٹوری ڈان میں چھپی معاملہ گرم ہوا لیکن انتظامیہ کی ملی بھگت سے پردہ ڈال دیا گیا۔ وقت گزرتا رہا لگ بھگ 3 ماہ کے بعد علاقہ مجسٹریٹ نے خارج ہونے والے مقدمات کو دیکھتے ہوئے میرے مقدمے کا نوٹس لیا اور اپنی عدالت میں ہی اس معاملے کی سماعت کے لیے مجھے مدعو کر لیا پیش ہوکر میں نے بتایا کہ مقدمے کا اخراج میرے علم میں نہیں اور نہ ہی پولیس نے مجھے انکوائری کے لیے ایک سے زائد بار بلایا ہے اور یوں میرا مقدمہ دوبارہ کھول دیا گیا اور سماعت شروع ہوگئی

    فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی مقدمے کی انکوائری چل رہی تھی کہ نرسنگ سکول کی طلبہ نے ایک بار پھر احتجاج کی کال دے دی لیکن اس بار وہ صدر بازار لیہ میں دھرنا دینے کے لیے آئی تھیں انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رات کو نرسنگ سکول کی پرنسپل وکٹوریہ نوجوان طلبات کو انتظامیہ کے بڑے آفیسرز اور سیاستدانوں کی کوٹھیوں اور رہائش گاہوں پر جانے کے لیے مجبور کرتی ہے ہمیں برے کام کی دعوت دی جاتی ہے ہمیں برائی سے بچایا جائے۔ یہ یقینا بہت پریشان کن اور حیران کن خبر تھی جس نے پورے پاکستان میں کھلبلی مچادی ہر انسان ادھر متوجہ تھا اس احتجاج میں اس وقت کے پاکستان پیپلز پارٹی کے منتخب ایم پی اے افتخار بابر خان کھتران ، وزیر زراعت پنجاب ملک احمد علی اولکھ، مسلم لیگ ن کے ایم پی اے مہر محمد اعجاز اچلانہ سمیت بڑی بڑی سیاسی شخصیات نے طلبات کا ساتھ دیا ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مختار حسین شاہ فورا 3 ماہ کی چھٹیوں پر چلے گئے اور یہ دھرنا صدر بازار سے ختم ہو کر پریس کلب لیہ کے سامنے مسلسل 7 دن جاری رہا بلآخر انتظامیہ نے طلبات کے مطالبات مانے اور انہیں سکول واپس جانے کے لیے قائل کر لیا گیا البتہ یہ کیس وفاق محتسب کے پاس چلا گیا

    فریداللہ چوہدری نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ معاملے کو یہاں تک پہنچتے 2 سال لگ گئے اس دوران محکمہ ہیلتھ نے نئے صحافیوں کا ایک گروپ لانچ کیااخراجات کر کے انہیں مختلف اخبارات اور چینلز کی نمائندگی لے کر دی تاکہ محکمہ صحت کی کرپشن اور بے ضابطگیوں کے خلاف جو صحافی خبریں لگائے اس کی تردید بھی کی جاسکے اور متعلقہ صحافی کی ذات پر کیچڑ بھی اچھالا جا سکے۔ انہیں دنوں ای ڈی او ہیلتھ کے چھوٹے بھائی سید گلزار حسین شاہ نے ایل ایل بی مکمل کرنے کے بعد بار ایسوسی ایشن لیہ کو جوائن کر لیااور میرے گواہ وکیلوں کو ووٹ کے لالچ پر پیش ہونے سے قاصر کر دیا گیا مجھے معاشرتی دباو پر صلح کے لیے آمادہ کیا گیا۔ میرے گواہ منحرف ہونے کے بعد میں صلح پر مجبور ہوگیا اس لیے کمرہ عدالت میں ملزمان کی جانب سے معافی مانگنے پر انہیں معاف کردیا۔ معافی کے وقت علاقہ مجسٹریٹ مسلسل مجھے سوچنے کی مہلت لینے کا کہتے رہے اور بار بار کہا کہ مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچنے دو لیکن گواہوں کی انحراف کی وجہ سے میں مجبور تھا اس لیے معاف کر دینا ہی واحد حل بچتا تھا

    سباق صدر پریس کلب لیہ محمد یعقووب مرزا نے اس معاملے پر سماء سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے زیادہ تر واقعات انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے ہوتے ہیں اس وقت ہم گواہوں کے منحرف ہو جانے کی وجہ سے عدم پیروی کاشکار ہوگئے تھے نرسنگ سکول کی طلبات والا معاملہ قائمہ کمیٹی ویمن رائٹس کے پاس چلا گیا تھا سیکٹری کے طلب نہ ہونے پر انکوائری کمیٹی کی انچارج اے این پی کی ایم این اے نے ایڈیشنل سیکرٹری کو ڈانٹ پلائی تھی اور معاملہ وفاقی محتسب کو بھیج دیا گیا تھا کیونکہ کیس بیورو کریسی کے خلاف تھا اور پیروی طلبات نے کرنی تھی اس لیے کوئی خاطر خواہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن (ر) رانا طاہرالرحمان نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فریداللہ چوہدری پر تشدد کا واقعہ مجھ سے پہلے کا ہے مجھے اس واقعے کے حالات و واقعات کے بارے میں علم نہیں ہے صحافیوں پر تشدد کے واقعات انتہائی افسوس ناک ہیں ایجنسیز کی رپورٹ کے مطابق ہمیں علم ہوتا ہے کہ اچھے اور برے صحافی کون کون ہیں آئندہ میٹنگ میں ایماندارصحافیوں کے ساتھ اچھے رویے کو زیر بحث لایا جائے گا فریداللہ چوہدری تربیت یافتہ اور منجھے ہوئے صحافی ہیں صحافیوں پر تشدد کے واقعات عموما عدم برداشت کا نتیجہ ہیں

    چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیلتھ لیہ ڈاکٹر امیر عبداللہ نے اس واقعے کی متعلق سوال پر سماء کو بتایا کہ جن دنوں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں فرید اللہ چوہدری کے ساتھ تشدد کا واقعہ پیش آیا تو ان دنوں میں میڈیکل آفیسر تھا اس لیے وہ واقعہ مکمل طور پر یاد ہے عموما لیہ کے ہسپتالوں میں صحافیوں پر تشدد کے واقعات پیش نہیں آتے یہ اس وقت اپنی نوعیت کا شاید پہلا واقعہ تھا جس پر سب حیران تھے ہماری پوری کوشش ہے اور تمام عملے کو ہدایت بھی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائےکہ ہسپتالوں میں تشدد کے واقعات پیش نہ آئیں بلکہ صحافیوں کے معاملات با احسن طریقے سنے جائیں اور ان سے متعلق شکایات متعلقہ پریس کلب کو بھیجی جائیں اگر وہاں مسائل حل نہ ہوں تو قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

    صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب لیہ عبدالرحمان فریدی نے اس مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے سماء کو بتایا کہ صحافیوں پر تشدد اور ہراسمنٹ کے واقعات کے پیش نظر ہم اپنے صحافی بھائیوں کا بھرپور ساتھ دیتے ہیں ڈاکٹرز کی جانب سے ہمارے سینئر بزرگ صحافی عارف نعیم ہاشمی پر تشدد کے واقعے پر ڈپٹی کمیشنر اور محکمہ صحت کے آفیسران سمیت ڈاکٹرز نے بھی صحافیوں سے معافی مانگی تھی مختلف این جی اوز کے تحت صحافیوں کے لیے تربیتی ورکشاپس منعقد کرواتے رہتے ہیں انشااللہ جلد صحافیوں کی فیزیکل سیفٹی کے حوالے سے تربیتی نشست کا اہتمام کریں گے

    اسی نوعیت کا ایک واقعہ 5 اپریل 2019 کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تونسہ میں نجی ٹی وی چینل کے نمائندے غضنفر ہاشمی کے ساتھ بھی پیش آیا غضنفر ہاشمی نے سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی زیادتی کیس پر ڈاکٹرز میڈیکل رپورٹ کے لیے متاثرہ بچی کے لواحقین کو گزشتہ 14 گھنٹے سے ذلیل کر رہے تھے ہم متاثرین کی کال پر کوریج کرنے وہاں پہنچے تو ہمیں ڈاکٹرز کی جانب سے گالم گلوچ اور دھکم پیل کا سامنا کرنا پڑا جب یہ سارا معاملہ ڈپٹی کمیشنر کے نوٹس میں لایا گیا تو انہوں نے انکوائری کمیٹی بنا دی جس نے آج تک کوئی پیش رفت نہیں کی اور معاملہ سرد خانے کی نظر ہے۔ آئے دن صحافیوں کے ساتھ تشدد اور ہراسمنٹ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر جلد ازجلد قانون سازی کی ضرورت ہے پریس کلبز کے رہنماوں کو چاہیے کہ صحافیوں کی فیزیکل سیفٹی کے حوالے سے تربیتی نشستوں کا اہتمام کریں اور صحافیوں کو اطلاعات تک رسائی کے قانون (رائٹ ٹو انفارمیشن لاء) کو استعمال کرنے کی بھی تربیت دی جائے تاکہ قانون کا اطلاق موثر ہوسکے ہر شہر کے پریس کلب کے صدر کو چاہیے کہ صحافیوں پر مقدمات اور صحافیوں کی جانب سے مقدمات کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے پولیس سٹیشنز حکام کے ساتھ میٹنگز کریں اور پریس کلب ممبر شپ کے لیے سکیورٹی اداروں سے سکیورٹی کلیئرنس لازمی قرار دی جائے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی ہو سکے۔

  • لودھراں ڈکیتی کرنے والے کیمرے کی آنکھ میں

    دنیاپور (نمائندہ باغی ٹی وی) میں دن دیہاڈے تین ڈکیت ساڑھے چار لاکھ لوٹ کر فرار

    تفصیلات کے مطابق محمد افضل آرائیں نے دوکوٹہ چوک دنیاپور میں گورمے ڈسٹری بیوٹر کا گودام بنایا ہوا ہے آج دوپہر تقریبا 2 بجے کے قریب چائنا موٹر سائیکل پر تین نقاب پوش افراد اسلحہ لے کر داخل ہوئے گودام پر موجود اکاؤنٹینٹ محمد اسلم سے اسلحہ کی نوک پر ساڑھے چار لاکھ لوٹ کر شہر کی طرف فرار ہو گئے دوکوٹہ چوک میں شہر کے داخلی رستے پر خبریں آفس کے کیمرے نے تین ڈکیت اپنی آنکھ میں محفوظ کر لئے ہیں اس دوران ایک ڈکیت بغیر نقاب کے ہے جو موٹرسائیکل چلا رہا ہے

    سٹی پولیس دنیاپور اطلاع ملتے ہی وہاں پہنچ گئی ڈکیت گروپ کی تلاش جاری ہے

  • من پسند ٹھیکداروں کو نوازنے کے لئے ٹھیکدار پر تھپڑوں کی بارش کرکے اسے بھاگا دیا گیا

    ضلع مظفرگڑھ کی آبی گزر گاہوں کی ضلع کونسل ہال مظفرگڑھ میں ٹینڈرنگ کے دوران مبینہ طور پر من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے پر ایک ٹھیکیدار نے شدید احتجاج کیا،احتجاجی ٹھیکیدار کو ضلع کونسل کے دیگر ٹھیکیداروں نے تھپڑ مارے،گالیاں نکالیں اور دھکے دے کر ٹینڈرنگ کے عمل سے باہر نکال دیا.متاثرہ ٹھیکیدار نے الزام عائد کیا ہے کہ ضلع کونسل کے افسران نے من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے کے لئے بولی کے وقت ہنگامہ آرائی کروائی.تفصیلات کیمطابق ضلع کونسل ہال میں آبی گزرگاہوں کی نیلامی کا عمل ضلعی انتظامیہ کی نمائندہ سیکرٹری آر ٹی اے عروج فاطمہ،چیف آفیسر عامر سلیم بھٹی اور ایکسیئن شیخ اشتیاق کی موجودگی میں شروع ہوا تو تحصیل علی پور کے رہائشی ایک ٹھیکیدار ملک محمد جمیل بوسن کو نیلامی کا حصہ بننے سے روک دیاگیا،آفیسران کا موقف تھا کہ مذکورہ ٹھیکیدار کا لائسنس زائدالمیعاد ہوچکا ہے،اس موقع پر ٹھیکیدار اور عملے میں توتکرار شروع ہوئی تو دیگر ٹھیکیدار بھی درمیان میں آگئے،نیلامی کی شفافیت اور عمل سے اختلاف رکھنے والے ٹھیکیدار محمد جمیل بوسن کو تھپڑ رسید کیے گئے،گالیاں دی گئیں اور دھکے دیکر نیلامی کے عمل سے باہر نکال دیا گیا.متاثرہ ٹھیکدار ملک محمد جمیل بوسن نے الزام عائد کیا ہے کہ من پسند ٹھیکیدار کو نوازنے کے لئے لائسنس کے زائد المیعاد ہونے کا بہانہ بنایا گیا جبکہ لائسنس کی مدت جون 2019 کو ختم ہورہی ہے اور نئے لائسنس کی فیس بھی وہ ادا کرچکے ہیں اور فیس کے چالان ساتھ منسلک کئے تھے تاکہ کوئی اعتراض نہ لگایا جائے تاہم پھر بھی بولی میں حصہ لینے سے زبردستی روکاگیا۔متاثرہ ٹھیکیدار نے ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا.

  • ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سید فہیم شاہد نے 8قیدیوں کی رہائی کا حکم جاری کر دیا،

    حافظ آباد(نمائندہ باغی ٹی وی)ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سید فہیم شاہدنے ڈسٹرکٹ جیل کا دورہ کیا جہاں انہوں نے معمولی مقدمات میں ملوث 8قیدیوں کی رہائی کا حکم بھی صادر کیا۔ اس دوران ایڈیشنل سیشن جج نیخواتین اور بچوں کے وارڈز سمیت قیدیوں کی تمام بیرکوں کو چیک کیا جہاں انہوں نے صفائی ستھرائی سمیت تمام انتظامات کا جائزہ لیتے ہوئے قیدیوں کو جیل کے عملہ کی جانب سے دی جانیوالی سہولتوں کے بارے بھی استفسار کیا۔ بعدازاں سید فہیم شاہ نے جیل کی کچن میں جاکر قیدیوں کے دیئے جانے والے کھانے میں استعمال کی جانے والی اشیاء/میٹریل کو بھی چیک کیا۔ اور اس پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا۔ اس دوران جیل کے ہسپتال میں صرف ایک مریض پایا گیاجسے اطمینان بخش طبی سہولیات فراہم کی جارہی تھیں

  • سرگودھا خوشاب روڈ پر 5 کاروں کا ایک ساتھ خوفناک ایکسیڈینٹ

    سرگودھا خوشاب روڈ پر 5 کاروں کا ایک ساتھ خوفناک ایکسیڈینٹ

    ( نمائندہ باغی ٹی وی )سرگودھا خوشاب روڈ پر 5 کاروں کا ایک ساتھ خوفناک خادثہ پیش آگیا تفصیلات کے مطابق سرگودھا چک 71 شمالی خوشاب روڈ کے نزدیک اوور سپیڈنگ اور رش کی وجہ سے کاریں آپس میں ٹکرا گئیں جس سے 2 افراد شدید زخمی ہو گئے اور کاروں کو شدید نقصان پہنچا تاہم کسی جا نی نقان کی اطلاع نہیں عوام کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہو ئی ٹریفک کے پیش نظر اس روڈ کو ڈبل کیا جائے میانوالی خوشاب شاہ پور اور بھکر جانے والی ٹریفک اسی روڈ سے گزرتی ہے

  • جائیداد کے تنازعہ پر شوہر نے بیوی کو قتل کردیا

    مظفرگڑھ میں زمین کی ملکیت کے تنازع پر شوہر نے خنجر کے وار کرکے بیوی کو قتل کردیا۔واقعے کے بعد شوہر نے پولیس کو گرفتاری دیدی.مظفرگڑھ کے علاقے موضع غلام سرانی میں شوہر نے خںنجر کے وار کرکے اپنی بیوی کو قتل کردیا.پولیس کیمطابق بلال اور اسکی بیوی شاہین بی بی میں زمین کی ملکیت کے تنازع پر جھگڑا ہوا تھا.جھگڑے کے بعد طیش میں آکر بلال نے اپنی بیوی کو قتل کردیا،واقعے کے بعد بلال نے پولیس کو گرفتاری دیدی،خاتون کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا.پولیس کیمطابق واقعے کا مقدمہ تھانہ قریشی میں درج کیاجارہا ہے.