کراچی کے گل پلازہ شاپنگ مال میں لگنے والی ہولناک آگ کے بعد لاپتا ہونے والے ایک نوجوان نے اپنے بھائی کو آخری فون کال میں دل دہلا دینے والے الفاظ کہے: “میں مر جاؤں گا، مجھے بچالو۔”
تفصیلات کے مطابق ہفتے کی شب گل پلازہ میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے بعد دکانداروں اور خریداروں سمیت متعدد افراد لاپتا ہو گئے۔ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں اسپتالوں، ریسکیو مراکز اور جائے حادثہ کے چکر لگا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق اب تک کم از کم 14 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ کئی افراد تاحال عمارت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔
لاپتا نوجوان کے بھائی نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آگ لگنے کے بعد اس کا بھائی دکان کے اندر لائٹ جلا بجھا کر سگنل دیتا رہا۔ فون پر بات کے دوران اس نے گھبراہٹ میں کہا: “میں مر جاؤں گا، مجھے بچالو۔”
یہ واقعہ گل پلازہ سانحے کی سنگینی اور وہاں پھنسے افراد کی بے بسی کی دردناک تصویر پیش کرتا ہے، جہاں کئی خاندان اب بھی کسی معجزے کے منتظر ہیں۔
Category: جرائم و حادثات

“میں مر جاؤں گا، مجھے بچالو” گل پلازہ سانحہ میں لاپتا نوجوان کی بھائی کو آخری کال

گل پلازہ میں آگ پر تقریباً قابو پالیا گیا ہے اور کولنگ کا عمل جاری
سانحہ گل پلازہ میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 26 ہو گئی ہے جبکہ واقعے کے بعد اب بھی 73 افراد لاپتا ہیں۔
سندھ حکومت کی ہیلپ ڈیسک کے مطابق ابتدائی طور پر 70 افراد کے لاپتا ہونے کا اندراج کیا گیا تھا، جب کہ آج مزید 3 افراد کے نام لاپتا افراد کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔ جاری فہرست کے مطابق لاپتا افراد میں کئی خواتین بھی شامل ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق گل پلازہ میں آگ پر تقریباً قابو پالیا گیا ہے اور کولنگ کا عمل جاری ہے، جبکہ ریسکیو اہلکار لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
یاد رہے کہ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب آگ لگی۔ گراؤنڈ فلور پر لگنے والی آگ تیزی سے بڑھ کر تیسری منزل تک پہنچ گئی اور خوفناک آتشزدگی سے عمارت کے کئی حصے زمین بوس ہو گئے۔
اوباڑو: مرید شاخ میں ٹرالی الٹنے سے ٹریفک کئی گھنٹے معطل، انتظامیہ کی غیر موجودگی سے شہری پریشان
گہوٹکی (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری) اوباڑو کے مرید شاخ میں گنے سے بھری ایک ٹرالی الٹنے کے باعث مرکزی سڑک مکمل طور پر بند ہو گئی، جس سے شہر بھر میں آمد و رفت متاثر ہو گئی ہے۔کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود ٹرالی کو سڑک سے نہیں ہٹایا جا سکا، جس کے باعث کاروباری مراکز بند، مزدور بے روزگار اور مریض، خواتین، بزرگ اور سکول جانے والے بچے سڑکوں پر پھنس گئے ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تعلقہ اوباڑو میں چار شوگر ملیں موجود ہونے کے باوجود گنے کی بھاری ٹرالیاں متبادل راستے استعمال نہیں کر رہیں، جس سے شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
شہریوں نے الزام لگایا کہ شہر لاوارث بن چکا ہے، نہ ٹریفک پولیس موقع پر موجود ہے اور نہ انتظامیہ کی کوئی کارروائی نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ اور شوگر مل مالکان سے فوری طور پر ٹرالی ہٹا کر ٹریفک بحال کرنے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے علیحدہ راستوں کا بندوبست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

گل پلازہ آتشزدگی: فائر فائٹر فرقان علی دوسروں کی جانیں بچاتے ہوئے شہید
کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے فائر فائٹر، 36 سالہ فرقان علی نے 17 جنوری 2026 کو گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ کے دوران اپنی جان قربان کرتے ہوئے شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔
فرقان علی ہفتے کی شب دیگر فائر فائٹرز کے ہمراہ گل پلازہ میں آگ بجھانے کے لیے پہنچے۔ صبح تقریباً پانچ بجے کے قریب، جب وہ پلازہ کی عقبی دکانوں میں آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے تھے، اچانک ایک ستون گر گیا۔ اس حادثے میں فرقان علی شدید زخمی ہوئے اور جانبر نہ ہو سکے۔
فرقان علی کا تعلق ایک فائر فائٹر خاندان سے تھا۔ ان کے والد شوکت علی بھی فائر فائٹر تھے، تاہم فالج کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ والد کے انتقال کے بعد فرقان علی نے کم عمری میں گھر کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور ان کے مشن کو اپنا مشن بنا لیا۔
سن 2018 میں وہ ڈیسیز کوٹے کے تحت فائر بریگیڈ میں بھرتی ہوئے۔ اسی دوران زندگی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوا، ان کی شادی ہوئی، اور وہ پوری دیانت داری اور فرض شناسی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے۔
فرقان علی کی قربانی کراچی کے لیے ایک ناقابلِ فراموش مثال ہے۔ وہ ان خاموش ہیروز میں شامل ہیں جو دوسروں کی جانیں بچاتے ہوئے اپنی جان نچھاور کر دیتے ہیں۔ ان کی شہادت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
گل پلازہ آگ: تاجروں کو تقریباً تین ارب روپے کا نقصان، مراد علی شاہ کا ازالے کا اعلان
کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے تاجروں کو تقریباً تین ارب روپے کا نقصان ہوا ہے، تاجر رہنما عتیق میر نے یہ اطلاع دی۔
عتیق میر نے کہا کہ ہر دکان میں پچیس سے تیس لاکھ روپے کے مال موجود تھے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ تاجروں کے لیے بولٹن مارکیٹ طرز کا ریلیف پیکج جاری کیا جائے۔ عتیق میر نے اعلان کیا کہ تاجر برادری کل یوم سوگ منائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی گل پلازہ کا دورہ کیا اور آگ، نقصانات اور ریلیف کے اقدامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ رات 10 بجے کے بعد آگ لگنے کی اطلاع ملی اور 10 بج کر 27 منٹ پر پہلا فائر ٹینڈر موقع پر پہنچا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گل پلازہ 40 سال پرانی عمارت ہے اور یہاں لوگ خریداری کے لیے آتے ہیں۔ امدادی کارروائی میں پاک بحریہ نے بھی حصہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 58 افراد لاپتا ہیں اور نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ابھی تک ان سے رابطہ نہیں کیا۔
گل پلازہ آتشزدگی، عمارت زمین بوس، درجنوں افراد تاحال لا پتا
کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی قیامت خیز آگ نے پورے شہر کو سوگ میں مبتلا کر دیا ہے۔ آگ کے نتیجے میں عمارت کا بڑا حصہ زمین بوس ہو چکا ہے، جبکہ 23 گھنٹے گزرنے کے باوجود بھڑکتے شعلوں پر مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اب بھی کم از کم 55 افراد عمارت کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ آتشزدگی کے دوران لوگ جلتے رہے اور جان بچانے کے لیے چیختے رہے، مگر مدد بروقت نہ پہنچ سکی۔
اس ہولناک حادثے میں ایک فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 30 سے زائد زخمی ہیں۔ لاپتہ افراد کی تعداد بڑھ کر 59 ہو گئی ہے۔ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے معجزے کے منتظر ہیں۔
1200 دکانوں پر مشتمل گل پلازہ کا گراؤنڈ اور میزنائن فلور مکمل طور پر جل چکا ہے، جبکہ بالائی دو منزلیں بھی راکھ بن گئیں۔ مخدوش عمارت کے کئی حصے منہدم ہو چکے ہیں اور کسی بھی وقت پوری عمارت گرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس آگ نے سیکڑوں دکانداروں کی برسوں کی محنت اور کمائی کو خاکستر کر دیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق بیسمنٹ اور عمارت کے اندرونی حصوں سے اب بھی آوازیں آ رہی ہیں، جس سے خدشہ ہے کہ مزید افراد ملبے تلے دبے ہو سکتے ہیں۔
ریسکیو ادارے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، تاہم صورتحال انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔
گل پلازہ میں لگنے والی آگ اکیس گھنٹے گزرنے کے باوجود بے قابو
کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ اکیس گھنٹے کے باوجود قابو نہ پائی جا سکی، جس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے۔
آگ نے گراؤنڈ اور میزنائن فلور کو مکمل طور پر نگل لیا، جبکہ مخدوش عمارت کے کئی حصے زمین بوس ہو گئے۔
سیکڑوں دکانداروں کی برسوں کی محنت اور کمائی راکھ ہو گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق بیسمنٹ اور اندرونی حصے سے اب بھی آوازیں آ رہی ہیں، جس سے خدشہ ہے کہ مزید افراد پھنسے ہوئے ہو سکتے ہیں۔
ویزا فراڈ اور مائیگرنٹ اسمگلنگ میں ملوث گینگ کے دو ملزمان ایف آئی اے کے ہاتھوں گرفتار
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ویزا فراڈ اور مائیگرنٹ اسمگلنگ میں ملوث ایک گینگ کے دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق یہ کارروائی امریکی سفارتخانے کی نشاندہی پر اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے انجام دی، جس کے دوران طاہر شہباز اور رب نواز کو حراست میں لیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ دونوں ملزمان کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان نے جعلسازی کے ذریعے 12 شہریوں کو امریکا بھجوانے کی کوشش کی۔
ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اس گینگ میں شامل دیگر دو ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔
گل پلازہ آتشزدگی , سنگین سوالات جواب کے منتظر
ہیں۔ آگ لگنے کی وجوہات کیا تھیں، ریسکیو کارروائی بروقت کیوں شروع نہ ہو سکی، اور عمارت میں موجود افراد کیوں مدد کے لیے پکارتے رہے؟
آگ لگنے کے بعد لاپتہ ہونے والوں میں ڈاکٹر شازیہ بھی شامل ہیں۔ ان کے کزن نے واقعے کے بعد انتظامیہ پر شدید غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ میئر کراچی، ڈپٹی کمشنر اور دیگر متعلقہ حکام کہیں نظر نہیں آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ آگ کے دوران ڈاکٹر شازیہ سے فون پر بات ہوئی، وہ مسلسل مدد کی اپیل کرتی رہیں اور صرف اتنا کہہ سکیں کہ مجھے بچا لو۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آگ بجھانے کے لیے آنے والی گاڑیاں موقع پر موجود تو تھیں مگر عملہ گاڑیوں میں بیٹھا رہا، جبکہ ایک فائر ٹینڈر میں پانی بھی ختم ہو چکا تھا۔
کزن کے مطابق مجموعی طور پر صرف چار فائر ٹینڈر عملی طور پر کام کر رہے تھے، جبکہ باقی گاڑیاں کھڑی رہیں اور صورتحال کو سنبھالنے والا کوئی نظر نہیں آیا۔
بھارت:منی پور میں اغوا اور اجتماعی زیادتی کی شکار خاتون انتقال کر گئی
منی پور کی کُکی برادری کی ایک 20 سالہ خاتون، جو 2 سال قبل نسلی جھڑپوں کے دوران اغوا اور اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئی تھی، شدید صدمے اور جسمانی ز خمیو ں کے باعث جاں بحق ہو گئی-
میڈیا رپورٹ کے مطابق منی پور کی یہ خاتون مئی 2023 میں مییتی اور کُکی برادری کے درمیان ہونے والی نسلی جھڑپوں کے دوران اغوا ہوئی تھی جولائی 2023 میں بھارتی ٹی وی سے گفتگو میں خاتون نے بتایا کہ اسے سفید بولیرو میں اغوا کیا گیا اور پھر 3 افراد نے باری باری زیادتی کی اس دوران اس نے شدید جسمانی اور نفسیاتی صدمہ برداشت کیا صبح کے وقت اسے موقع ملا اور وہ بینڈ فولڈ ہٹاکر فرار ہونے میں کامیاب ہوئی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق خاتون شدید زخمی ہونے، نفسیاتی صدمے اور رحم کے مسائل کے باوجود زندہ بچ گئی تھی، مگر علاج کے باوجود اس کی صحت بگڑ گئی اور 10 جنوری 2026 کو اس نے دم توڑ دیا اس کی والدہ نے بتایا کہ بیٹی سانس لینے میں مشکلات کا شکار تھی اور اس نے اپنی مسکراہٹ اور زندگی کی چمک کھو دی تھی۔
خاتون نے اپنی پہلی پولیس رپورٹ میں الزام لگایا کہ اغوا کرنے والے 4 افراد میں سے 3 نے اسے ہراساں اور زیادتی کا نشانہ بنایا، جبکہ کُکی تنظیموں نے الزام لگایا کہ بعض ’میرا پائی بی‘ افراد نے اسے مییتی افراد کے حوالے کیا یہ واقعہ منی پور میں جاری نسلی کشیدگی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کی ایک تلخ یاد دہانی ہے، اور اس کا اثر متاثرہ خاندانوں اور کمیونٹی پر آج بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔







