Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • حافظ آباد: استری بند نہ کرنے کے باعث گھر میں خوفناک آتشزدگی، لاکھوں کا نقصان

    حافظ آباد: استری بند نہ کرنے کے باعث گھر میں خوفناک آتشزدگی، لاکھوں کا نقصان

    حافظ آباد ،باغی ٹی وی (شمائلہ خبر نگار) حافظ آباد کے کلمہ چوک کے قریب گلی مسجد بلالؓ والی میں ایک گھر میں استری بند کرنا بھول جانے کے باعث اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے گھر کو لپیٹ میں لے لیا۔

    آتشزدگی کے نتیجے میں گھر میں موجود لاکھوں روپے مالیت کا قیمتی سامان، فرنیچر اور دیگر اشیاء جل کر راکھ ہو گئیں۔ رہائشیوں کے مطابق جیسے ہی آگ بھڑکی، دھواں اور شعلے بلند ہونے لگے، جس سے اہلِ محلہ میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی افراد نے فوری طور پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 15 منٹ کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پا لیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے نہایت مستعدی سے کام لیتے ہوئے آگ کو مزید پھیلنے سے روکا، جس سے ممکنہ جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہو سکا۔

    شہریوں نے ریسکیو 1122 کی بروقت کارروائی کو سراہتے ہوئے ان کی محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ اگر ریسکیو ٹیم تاخیر سے پہنچتی تو نقصان مزید سنگین ہو سکتا تھا۔

  • اڈیالہ جیل سے فرار منشیات فروش ملزم دوبارہ گرفتار،لاپرواہی برتنے پر 2 ایس پیز سمیت 6 اہلکار معطل

    اڈیالہ جیل سے فرار منشیات فروش ملزم دوبارہ گرفتار،لاپرواہی برتنے پر 2 ایس پیز سمیت 6 اہلکار معطل

    راولپنڈی: اڈیالہ جیل سے فرار ہونے والے حوالاتی لقمان مسیح کو جیل انتظامیہ اور پولیس نے دوبارہ گرفتار کرلیا جب کہ غفلت برتنے پر 2 اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس (اے ایس پیز) سمیت 6 اہکاروں کو معطل کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : رپوٹ کے مطابق اڈیالہ جیل میں تھانہ بہارہ کہو اسلام آباد کے جنوری 2025 کے منشیات کے مقدمے میں ملوث اسیر لقمان مسیح نامی حوالاتی منگل کی شام پراسرار طور پر جیل سے فرار ہوگیا تھا ،واقعے کی اطلاع ملنے پر آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر نے رپورٹ طلب کی-

    ڈی آئی جی جیل راولپنڈی ریجن عبدل روف رانا اور سپریڈنٹ سینٹرل جیل اڈیالہ راولپنڈی عبدالغفور انجم پر مشتمل انکوائری ٹیم نے ابتدائی انکوائری کرکے رپورٹ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو ارسال کی۔

    نیب اور نجی اداروں کے درمیان مفاہمت کے 6 سمجھوتوں پر دستخط

    رپورٹ کی روشنی میں دو اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹس، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ ایڈمن بلاک الطاف حسین، اور انچارج سنٹرل ٹاور اسسٹنٹ سپرنٹنڈ نٹ سجاد حیدر شاہ سمیت چیف انچارج بیرک نمبر 6 تا 8 ہیڈوارڈرمحمد ریاض، انچارج بیرک نمبر 8 وارڈر عمران خان، دربان ون وارڈر عمار ظہور اور دربان ٹو وارڈر شیر زمان کو فرائض میں غفلت، لاپرواہی اور مس کنڈکٹ برتنے پر 90 دن کے لیے معطل کردیا گیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ،26 نومبر احتجاج،پی ٹی آئی 120 سے زائد کارکنان کی ضمانت مںظور

    اس کے ساتھ سپرٹینڈنٹ سینٹرل جیل اڈیالہ راولپنڈی عبدالغفور انجم کی سربراہی میں جیل انتظامیہ اور پولیس کی ٹیم نے ایک ساتھ قیدی کے آبائی علاقے چکوال اور موجودہ رہائشی علاقے بہارہ کہو اسلام آباد کی نگرانی شروع کروائی اور حوالات کے عزیز و اقارب کو شامل دریافت رکھا اس دوران فرار ہونے والے حوالاتی کی بہارہ کہو اسلام آباد میں موجودگی کا پتا چلنے پر جیل اتھارٹیز نے پولیس کے ساتھ چھاپہ مار کر حوالاتی کو دوبارہ گرفتار کرلیا،ملزم کے خلاف جیل سے فرار ہونے کے حوالے سے بھی قانونی کاروائی شروع کردی گی ہے۔

    خدیجہ شاہ کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

  • مصطفیٰ عامر کیس:مرکزی ملزم ارمغان کے سنسنی خیز انکشافات،آلہ قتل برآمد

    مصطفیٰ عامر کیس:مرکزی ملزم ارمغان کے سنسنی خیز انکشافات،آلہ قتل برآمد

    کراچی: نوجوان مصطفیٰ عامر کیس میں گرفتار مرکزی ملزم ارمغان غازی نے دوران تفتیش سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

    باغی ٹی وی: تفتیشی حکام نے بتایا کہ دوران تفتیش ملزم ارمغان غازی نے انکشاف کیا کہ اس نے 6 جنوری کو شیراز اور مصطفیٰ کو اپنے بنگلے پر بلایا، مصطفیٰ کے بنگلے پر پہنچنے کے بعد اس پر تشدد کیا، مصطفیٰ پر تشدد کے دوران میں نشے کی حالت میں تھاملزم ارمغا ن کی نشاندہی پر ڈیفنس خیابان مومن پر اس کے بنگلے پر کارروائی کی گئی، بنگلے کے گارڈ روم میں چھپایا گیا ڈنڈا برآمد کر لیا گیا ملزم ارمغان کی نشاندہی پرپولیس نے اس کے بنگلے سے آلہ ضرب برآمد کر لیا –

    پولیس حکام کے مطابق ملزم ارمغان نے لوہے کی راڈ سے مصطفیٰ کو 2 گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا، ملزم نے بتایا کہ تشدد کے دوران مصطفیٰ کے سر اور گھٹنوں سے خون بہنا شروع ہو گیا تھا،اس کے بعد اپنی رائفل اٹھا کر مصطفیٰ کی جانب تین فائر بھی کیے لیکن فائر مصطفیٰ کو نہیں لگے، فائر وارننگ دینے کے لیے کیے تھے مصطفیٰ کا خون بہنے پر مجھے شیراز نے روکا-

    خط سے ریلیف ملا تو تمام قیدی پھر سزائیں معاف کروائیں گے، سحرکامران

    ملزم نے انکشاف کیا کہ 8 فروری کو پولیس کے چھاپے کے دوران پولیس کو بنگلے میں داخل ہوتا دیر سے دیکھا، پولیس کو بروقت دیکھ لیتا کو پولیس سے فائرنگ کا تبادلہ اور طویل ہو سکتا تھا، شیراز کی مدد سے مصطفیٰ کو اسی کی گاڑی میں ڈال کر حب لے گئے، ہم نے مصطفیٰ کے منہ پر ٹیپ لگایا تھا اور ہاتھ پاؤں باندھ دیے تھے، حب لے جاکر گاڑی کی ڈگی کھولی تو مصطفیٰ زندہ تھا، ڈگی اور گاڑی کے شیشے کھولنے کے بعد اس پر پیٹرول چھڑکا،خیابان محافظ سے دریجی تک میں مصطفیٰ کی گاڑی خود ڈرائیو کرکے پہنچا-

    ملزم ارمغان نے انکشاف کیا کہ مصطفیٰ کو کہا ڈگی اور شیشیے کھلے ہیں ہمت ہے تو بھاگ جاؤ، مصطفیٰ نے حرکت کی کوشش کی لیکن گھٹنوں پر چوٹ کے باعث ہل نہیں پایا آگ لگنے کے فوراً بعد مجھے شیراز نے وہاں سے چلنے کا کہا، میں اور شیراز حب سے پیدل نکلے اور مختلف گاڑیوں سے لفٹ لے کر کراچی پہنچے۔

    شیر افضل مروت کو واپس لانا نہ لاناعمران خان کا فیصلہ ہو گا، سلمان اکرم راجہ

    پولیس حکام نے دعویٰ کیا کہ ارمغان خود نشہ فروخت بھی کرتا تھا اور نشہ استعمال بھی کرتا تھا، ارمغان نے نشہ فروخت کرنے کے بعد کال سینٹرکا کاروبار شروع کیا، ارمغان کے گھر سے جس خاتون کا ڈی این اے ملا تھا، اس لڑکی نشاندہی ہوگئی پولیس نے مذکورہ لڑکی کی تلاش شروع کردی، مذکورہ لڑکی نیوایئرنائٹ پر ارمغان کے تشدد سے زخمی ہوئی تھی، مصطفیٰ کو تشدد کرکے، فولڈنگ راڈ، فائرنگ کرکے یا جلا کرقتل کیا گیا، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور ڈی این اے کی رپورٹ کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا۔

    پاکستان کا آئین سماجی انصاف اور مساوات کی ضمانت دیتا ہے،وزیراعظم

    واضح رہے کہ پولیس نے چند روز قبل کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان مومن میں مصطفیٰ کی بازیابی کے لیے چھاپہ مارا تھا جس دوران گھر سےپولیس نفری پر فائرنگ کی گئی جس میں ڈی ایس پی سمیت 3 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھےپولیس کو گھر سے مغوی کا موبائل فون ملا جس کی مدد سے مرکزی ملزم کےدوست کی گرفتاری عمل میں آئی اور دوران تفتیش گرفتار ملزم شیراز نےانکشا ف کیا کہ اس نے ارمغان کےساتھ ملکر مصطفیٰ کو اس کی گاڑی کی ڈگی میں بند کر کےزندہ جلا دیاتھاپولیس کو مصطفیٰ کی گاڑی حب سےجلی ہوئی حالت میں ملی تھی –

    فضائی حادثات میں اضافہ؟ کیا فضائی سفر غیر محفوظ ہو گیا

  • ایف آئی اے امیگریشن کی سیالکوٹ ایئرپورٹ پر بڑی کارروائی، تین مسافر گرفتار

    ایف آئی اے امیگریشن کی سیالکوٹ ایئرپورٹ پر بڑی کارروائی، تین مسافر گرفتار

    سیالکوٹ،باغی ٹی وی (بیوروچیف شاہدریاض)ایف آئی اے امیگریشن کی سیالکوٹ ایئرپورٹ پر بڑی کارروائی، تین مسافر گرفتار

    تفصی کے مطابق ایف آئی اے امیگریشن نے سیالکوٹ ایئرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے بیرون ملک گداگری اور جعلی دستاویزات پر سفر کرنے والے تین مسافروں کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار ملزمان کی شناخت علی رضا، صہیب احسن اور محمد رضوان کے نام سے ہوئی۔

    محمد رضوان فلائٹ نمبر FZ 315 کے ذریعے بحرین سے سیالکوٹ پہنچا تھا، جو بیرون ملک گداگری میں ملوث پایا گیا۔ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ ملزم سعودی عرب، دبئی اور بحرین میں گداگری کرتا رہا اور عمرہ ویزا و وزٹ ویزے کی آڑ میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہا۔ ملزم کو سعودی عرب اور بحرین میں سزا بھی دی گئی تھی اور ڈی پورٹ کر دیا گیا تھا۔ پاکستان واپسی پر ایف آئی اے نے اسے گرفتار کر لیا۔

    علی رضا اور صہیب احسن فلائٹ نمبر PK 746 کے ذریعے سعودی عرب سے پاکستان پہنچے۔ امیگریشن کلیرنس کے دوران ان کے دستاویزات مشکوک پائے گئے۔ ابتدائی تفتیش میں علی رضا کے پاسپورٹ پر اٹلی کی ڈیپارچر اسٹیمپ جعلی نکلی۔ ملزم نے ایجنٹ کو 35 لاکھ روپے دے کر اٹلی جانے کی کوشش کی، تاہم کامیاب نہ ہو سکا۔ ایجنٹ نے پہلے اسے عمرہ ویزے پر سعودی عرب بھیجا اور بعد ازاں جعلی دستاویزات پر اٹلی بھیجنے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔

    صہیب اسلم کے پاسپورٹ پر گوئٹے مالا کے سفارت خانے کی اسٹیمپ جعلی نکلی اور پاسپورٹ پر دو صفحات بھی غائب تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں ملزم نے بتایا کہ اس نے وسیم شاہ نامی ایجنٹ کو 70 لاکھ روپے دے کر امریکہ جانے کی کوشش کی تھی۔ ایجنٹ مختلف اوقات میں ملزم سے 30 لاکھ روپے وصول کر چکا تھا۔ ایجنٹ نے پہلے ملزم کو وزٹ ویزے پر آذربائیجان بھجوایا لیکن وہ ایک ماہ بعد واپس آ گیا۔ بعد میں اسے عمرہ ویزے پر سعودی عرب بھجوایا گیا، جہاں اس کے پاسپورٹ پر جعلی اسٹیمپ لگائی گئی اور امریکہ بھجوانے کی کوشش کی گئی، جو ناکام رہی۔

    ایف آئی اے نے تینوں ملزمان کو گرفتار کر کے مزید قانونی کارروائی کے لیے انسدادِ انسانی سمگلنگ سرکل گوجرانوالہ منتقل کر دیا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ انسانی سمگلنگ کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

  • لڑکے کو سوشل میڈیا ایپ کا استعمال مہنگا پڑ گیا،بدفعلی کر ڈالی

    لڑکے کو سوشل میڈیا ایپ کا استعمال مہنگا پڑ گیا،بدفعلی کر ڈالی

    کراچی ،منگھوپیر میں پولیس افسر کے بھتیجے کی مبینہ طور پر شارٹ ٹرم اغوا اور بدفعلی کا واقعہ منظرعام پر آیا ہے جس کا مقدمہ نوجوان کی مدعیت میں تھانہ منگھوپیر میں درج کرلیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، متاثرہ نوجوان نے پولیس کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اویس نامی شہری نے ایک آن لائن ایپلیکیشن کے ذریعے میری معلومات حاصل کیں اور پھر خود کو میری یونیورسٹی کا طالب علم ظاہر کر کے مجھ سے دوستی کی۔نوجوان کا مزید کہنا تھا کہ اویس نے مجھے ملاقات کے لیے بلایا اور اس ملاقات میں اپنے دوست کے ساتھ مل کر اغوا کر لیا۔ اس کے بعد ملزمان نے نشہ آور اشیاء اور اسپرے کے ذریعے اسے مدہوش کردیا۔مقدمہ میں نوجوان نے دعویٰ کیا کہ ملزمان نے اس کے ساتھ غیر اخلاقی عمل کیا اور اس دوران ان کی ویڈیو بھی بنالی۔ اس ویڈیو کو اپ لوڈ کرنے کی دھمکی دے کر اس سے رقم طلب کی گئی۔ تاہم، ملزمان نے اسے رات کے وقت سرجانی کے قریب ایک سنسان علاقے میں چھوڑ کر فرار ہو گئے، اس وعدے کے ساتھ کہ رقم دینے پر ویڈیو اپ لوڈ نہیں کی جائے گی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ نوجوان ابھی تک میڈیکل کرانے کے لیے تیار نہیں ہوا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے اور انہیں جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔یہ واقعہ منگھوپیر میں آن لائن ایپلیکیشنز کے ذریعے ہونے والے جرائم کی بڑھتی ہوئی تعداد کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس سے نوجوانوں کو سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

  • باڑہ پولیس کی بڑی کارروائی،کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمد، اسمگلر گرفتار

    باڑہ پولیس کی بڑی کارروائی،کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمد، اسمگلر گرفتار

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی)باڑہ میں پولیس نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ٹریکٹر لوڈر کی ڈگھی میں چھپائی گئی بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر لی، ملزم گرفتار، مقدمہ درج۔

    تفصیلات کے مطابق ضلع بھر میں منشیات فروشوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں سرکل افسر باڑہ سوالزار خان کی نگرانی میں ایس ایچ او باڑہ ہردم گل، تکیہ چوکی انچارج حمید خان اور دیگر پولیس اہلکاروں نے علاقے برقمبرخیل میں خصوصی ناکہ بندی کے دوران ایک مشکوک ٹریکٹر لوڈر کو روکا۔ تلاشی کے دوران ٹریکٹر لوڈر کی ڈگی میں نہایت مہارت سے چھپائی گئی بھاری مقدار میں منشیات برآمد ہوئیں، جن میں 125 کلوگرام افیون اور 200 کلوگرام چرس شامل ہیں۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم اقبال خان کو گرفتار کر لیا، جسے مزید تفتیش کے لیے حوالات منتقل کر دیا گیا ہے۔

    آئی جی اور سی سی پی او نے کامیاب کارروائی پر پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور منشیات کے خلاف جاری مہم کو مزید تیز کرنے کے احکامات جاری کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ "منشیات کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پولیس ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، اور نوجوان نسل کو اس لعنت سے بچانے کے لیے کریک ڈاؤن بلا تفریق جاری رہے گا۔”

  • گھوٹکی: سی پیک روڈ پر حادثہ، مظفرگڑھ کا نوجوان جاں بحق، میاں بیوی زخمی

    گھوٹکی: سی پیک روڈ پر حادثہ، مظفرگڑھ کا نوجوان جاں بحق، میاں بیوی زخمی

    میرپور ماتھیلو ،باغی ٹی وی(نامہ نگارمشتاق لغاری) سی پیک روڈ پر حادثہ، مظفرگڑھ کا نوجوان جاں بحق، میاں بیوی زخمی

    تفصیل کے مطابق گھوٹکی میں سی پیک روڈ پر پیش آنے والے حادثے میں پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ سے تعلق رکھنے والا نوجوان جاں بحق ہوگیا، جبکہ ایک مرد اور خاتون زخمی ہوئے۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ کشمور کی حدود میں پیش آیا، زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد تعلقہ اسپتال گھوٹکی سے رحیم یار خان منتقل کر دیا گیا۔

  • ننکانہ:گورنمنٹ ویمن کالج بچیکی میں اقلیتی لیکچرار کو ہراسانی کا سامنا، کارروائی التوا کا شکار

    ننکانہ:گورنمنٹ ویمن کالج بچیکی میں اقلیتی لیکچرار کو ہراسانی کا سامنا، کارروائی التوا کا شکار

    ننکانہ صاحب،باغی ٹی وی (نامہ نگاراحسان اللہ ایاز)گورنمنٹ گریجوایٹ کالج برائے خواتین بچیکی میں ہراسانی اور جانبداری کا معاملہ، اقلیتی لیکچرر کی درخواست پر کارروائی میں تاخیر

    تفصیلات کے مطابق ہراسانی اور جانبداری کے الزامات پرنسپل کو اضافی چارج ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز دینے پر تشویش معاملے کو فوری حل نہ کرنے سے حساس نوعیت کا مسئلہ بننے کا خدشہ ڈائریکٹر کالجز ملک احسن مختار سے شفاف تحقیقات اور فوری اقدام کی اپیلگورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین بچیکی ننکانہ صاحب کی لیکچرر کی جانب سے ڈائریکٹر کالجز لاہور ڈویژن، ملک احسن مختار کو جمع کرائی گئی درخواست پر 20 روز سے زائد گزر چکے ہیں، لیکن تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

    گورنمنٹ گریجوایٹ کالج برائے خواتین بچیکی میں ایک لیکچرر کی جانب سے پرنسپل اور سی ٹی آئی لیکچرر کے خلاف پیشہ ورانہ بدسلوکی اور ہراسانی کی شکایت کے باوجود انتظامیہ کی خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ لیکچرر سمرن جیت کور نے ڈائریکٹر کالجز لاہور کو تحریری درخواست میں تفصیل سے اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ کالج میں سی ٹی آئی لیکچرر نمرہ اکبر کا رویہ غیر پیشہ ورانہ ہے اور وہ جانبداری کا مظاہرہ کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں مشکلات کا سامنا ہے۔

    لیکچرر نے الزام عائد کیا کہ نمرہ اکبر کالج میں دیر سے آتی ہیں، غلط حاضری لگاتی ہیں اور اس کے باوجود پرنسپل ڈاکٹر طاہرہ بتول انہیں حاضر تصور کرتی ہیں۔ درخواست کے مطابق جب بھی مستقل اساتذہ کلاسز لینے میں تاخیر کا شکار ہوتے ہیں تو ان پر سختی کی جاتی ہے، لیکن سی ٹی آئی اسٹاف کے لیے کوئی اصول لاگو نہیں ہوتے۔ لیکچرر کا مزید کہنا تھا کہ نمرہ اکبر نے کئی مرتبہ کلاسز کے دوران مداخلت کی اور طلبہ کے سامنے انہیں ہراساں کیا۔

    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پرنسپل ڈاکٹر طاہرہ بتول کھلے عام نمرہ اکبر کی حمایت کرتی ہیں اور ان کی شکایات کو نظر انداز کر رہی ہیں۔ یہاں تک کہ جب لیکچرر سمرن جیت کور نے غیر منصفانہ رویے کی شکایت کی تو انہیں کہا گیا کہ وہ اس معاملے پر خاموش رہیں۔ درخواست کے مطابق نمرہ اکبر کو پرنسپل نے خصوصی اختیارات دے رکھے ہیں، جس کے تحت وہ مستقل اساتذہ پر نظر رکھتی ہیں اور ان کی ویڈیوز بھی بناتی ہیں۔

    لیکچرر نے اپنی درخواست میں مزید انکشاف کیا کہ ایک دن نمرہ اکبر نے مستقل اساتذہ کی حاضری رجسٹر زبردستی چھین لیا اور واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں پرنسپل نے بغیر تحقیق کے لیکچرر کے خلاف شکایات درج کرائیں اور دیگر اساتذہ کو ان کے خلاف بیان دینے کے لیے کہا۔ درخواست کے مطابق نمرہ اکبر کو کالج میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہے، اور وہ پرنسپل کی سرپرستی میں مستقل اساتذہ کو دبانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    لیکچرر نے اپنی درخواست میں ڈائریکٹر کالجز لاہور سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کروائیں تاکہ تدریسی ماحول کو پیشہ ورانہ اور منصفانہ بنایا جا سکے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اگر اس معاملے پر فوری ایکشن نہ لیا گیا تو یہ تعلیمی ادارے کے ماحول کو مزید خراب کر سکتا ہے اور اساتذہ میں بداعتمادی پیدا کر سکتا ہے۔

    سماجی و تدریسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے کو نظرانداز کیا گیا تو یہ اقلیتوں کے حقوق اور انتظامی ناانصافی جیسے حساس مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ اساتذہ اور سول سوسائٹی نے ڈائریکٹر کالجز سے فوری اور غیر جانبدارانہ اقدام اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تعلیمی ادارے میں منصفانہ اور پیشہ ورانہ ماحول کو یقینی بنایا جا سکے۔


  • غیر ملکیوں کو اغواء کرنے والے تین اغواء کار گرفتار

    غیر ملکیوں کو اغواء کرنے والے تین اغواء کار گرفتار

    صدر واہ پولیس نے ایک کامیاب کارروائی کرتے ہوئے غیر ملکیوں کو اغواء کرنے والے تین اغواء کاروں کو صرف 24 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا۔ اس کارروائی میں تینوں مغویوں کو بحفاظت بازیاب کر لیا گیا۔

    گرفتار ملزمان کی شناخت اجمل، بلال، اور عبداللہ کے نام سے ہوئی ہے۔ مغویوں میں ایک افغان فیملی کی خاتون اور ان کے دو نوجوان بیٹے شامل ہیں۔ ملزمان نے افغانستان سے آنے والی فیملی کو یورپی ملک کا ویزہ دلوانے کے بہانے بلا کر اغواء کیا تھا۔واقعہ کی اطلاع ملنے پر سی پی او سید خالد ہمدانی نے فوری طور پر نوٹس لیتے ہوئے مغویوں کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے۔ اس کے بعد ایس پی پوٹھوہار کی سربراہی میں خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

    پولیس نے متعدد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور ہیومن انٹیلی جنس کے ذریعے ملزمان کو ٹریس کیا اور انہیں گرفتار کر لیا۔سی پی او سید خالد ہمدانی نے ایس پی پوٹھوہار، ایس ڈی پی او ٹیکسلا، ایس ایچ او صدر واہ اور ان کی ٹیم کو مغویوں کی فوری بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری پر شاباش دی۔سی پی او نے کہا کہ ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کر کے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔یہ کارروائی صدر واہ پولیس کی جانب سے ایک اہم کامیابی ہے جو اغواء کے خلاف سخت اقدامات کی عکاسی کرتی ہے۔

  • اڈیالہ جیل کیوں لے جا رہے؟ ملزم منتقلی کے دوران بھاگ گیا

    اڈیالہ جیل کیوں لے جا رہے؟ ملزم منتقلی کے دوران بھاگ گیا

    اسلام آباد: منشیات فروشی کے مقدمے میں گرفتار ملزم نعمان اڈیالہ جیل منتقلی کے دوران پولیس کی حراست سے فرار ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق، ملزم کو چکوال سے اڈیالہ جیل منتقل کیا جا رہا تھا، تاہم اڈیالہ جیل پہنچنے کے دوران وہ پولیس کی حراست سے فرار ہو گیا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم نعمان نے جیل کے گیٹ پر جیل میں کام کرنے والے تعمیراتی مزدوروں کی مدد سے پولیس کی نظروں سے بچ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ کس طرح ملزم جیل کے اندرونی علاقوں تک پہنچا اور کیسے اس کی فرار کی کارروائی ہوئی۔سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم جیل کی تین چیک پوسٹوں سے گزرتے ہوئے جیل کی حدود میں داخل ہو گیا۔ پولیس نے فوری طور پر کارروائی شروع کرتے ہوئے ملزم کی گرفتاری کے لیے جیل کے ارد گرد سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور فرار میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس واقعے کی حقیقت سامنے آ سکے اور ملزم کو جلد از جلد دوبارہ گرفتار کیا جا سکے۔