Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں کی 21 سالہ لڑکی کیساتھ اجتماعی زیادتی

    ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں کی 21 سالہ لڑکی کیساتھ اجتماعی زیادتی

    میاں چنوں میں رات کو چھپ کر لوگوں کے واش رومز کے روشن دانوں سے خواتین کی نازیبا ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے ملزم کیخلاف کارروائی،جبکہ فیصل آباد میں ڈاکوؤں نے چار گھروں میں ڈکیتی کے دوران خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

    باغی ٹی وی : ذیشان نامی شہری نے تھانہ چھب میں درخواست دی کہ اس کے گاؤں کا رہائشی وقاص نامی شخص اس کے گھر کے واش روم سے موبائل کے ذریعےاس کی بیوی کی ویڈیو بنارہا تھا،جب اسے ویڈیو بنانے سے روکا گیا تو وہ دھمکیاں دینے لگا کہ اگر کسی کو بتایا تو ملزم کے پاس اس کے گھر کی دیگر خواتین کی بھی ویڈیو موجود ہے وہ ان ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر وائرل کردے گا۔

    ڈی ایس پی میاں چنوں سلیم رتھ کے مطابق ملزم وقاص کے خلاف درخواست موصول ہو گئی ہے،ملزم کی سی سی ٹی وی ویڈیو موصول ہو گئی ہے جس میں واضع طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم واش روم کے روشن دان سے موبائل کے ذریعے ویڈیو بنا رہا ہے،ملزم کی گرفتاری کے لئے پولیس کی کارروائی جاری ہے۔

    لاہور:پی ٹی آئی کوجلسے کی اجازت نہ دینے کیٌخلاف درخواست سماعت کیلئے مکمل

    دوسری جانب فیصل آباد میں ڈاکوؤں نے چار گھروں میں ڈکیتی کے دوران خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

    ذرائع کے مطابق فیصل آباد کے علاقے نشاط آباد کے نواحی گاؤں میں ایک ساتھ 4 گھروں میں ڈکیتی کی واردات کی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ایک واردات کے دوران تین مسلح ڈاکو 21 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی بھی کرتے رہے، ڈاکو متاثرہ خاتون کے گھر سے 7 لاکھ نقدی، دس تولہ زیورات بھی لوٹ کر فرار ہوگئے،واقعے پر ریجنل پولیس آفیسر نے نوٹس لے لیا ہے، سی پی او سے رپورٹ طلب کر لی گئی ہے، واقعہ پر آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے بھی رپورٹ طلب کرلی ہے۔

    آر پی او فیصل آباد ڈاکٹر محمد عابد خان کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دی جائیں، تمام ٹیکنیکل ذرائع بروئے کار لائے جائیں تاکہ ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوائی جاسکے عورتوں کی عصمت دری کے واقعات میں ملوث ملزمان معاشرے کے ناسور ہیں۔

    پائیدار اور مضبوط ترقی کی جانب پیش قدمی اب بھی پاکستان کیلئے چیلنج ہے،آئی ایم …

  • اے این ایف کی کارروائیاں: 12 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد

    اے این ایف کی کارروائیاں: 12 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی منشیات برآمد

    اسلام آباد: تعلیمی اداروں میں طلبہ کو منشیات فروخت کرنے والے 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا،مختلف کارروائیوں کے دوران 12 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی تقریباً 15 کلوگرام منشیات برآمد کرلی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی :ترجمان اے این ایف کے مطابق ملک بھر میں تعلیمی اداروں میں طلبہ کو منشیات فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن جاری ہے اور 24 گھنٹوں کے دوران 5 مختلف کارروائیوں میں تعلیمی اداروں کے اطراف سے 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

    فراش ٹاؤن اسلام آباد کے قریب ملزم سے 150 گرام چرس اور 10 ایکسٹیسی گولیاں برآمد کرلی گئیں،لاہور میں ڈیفنس روڈ پر واقع یونیورسٹی کے قریب ملزم سے 200 گرام چرس اور 100 گرام آئس برآمد ہوئی،کنال روڈ لاہور پر واقع کالج کے قریب ملزم سے 2.4 کلوگرام چرس، 100 گرام آئس اور 50 ایکسٹیسی گولیاں برآمد ہوئیں۔

    فراڈ کے مقدمے میں اداکارہ نازش جہانگیر کی عبوری ضمانت خارج

    لطیف آباد حیدرآباد میں 2 ملزمان سے 96 بوتل شراب اور 2 کلوگرام چرس برآمد کرلی گئی، اسی طرح ٹنڈوجام حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قریب چھاپا مار کارروائی میں ملزم سے 10 کلوگرام چرس برآمد کرلی گئی،گرفتار ملزمان نے تعلیمی اداروں کے طلبہ کو منشیات فروخت کرنے کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔

    عمرے کی آڑ میں بھکاریوں کو سعودی عرب بھیجنے کا مقدمہ،ایف آئی اے و دیگر …

  • باجوڑ  : پولیس کی گاڑی سڑک کنارے نصب بم سے ٹکرا گئی

    باجوڑ : پولیس کی گاڑی سڑک کنارے نصب بم سے ٹکرا گئی

    باجوڑ کی تحصیل خار کے علاقہ بھائی چینہ میں پولیس کی گاڑی سڑک کنارے نصب بم سے ٹکرا گئی۔

    باغی ٹی وی : باجوڑ کے علاقے لوئی سم میں پولیس موبائل پر ریموٹ کنٹرول بم سے حملہ کیا گیا، جس کی زد میں آکر 5 پولیس اہل کار زخمی ہو گئے،ریموٹ کنٹرول بم کو درخت میں نصب کیا گیا تھا،واقعہ کے بعد علاقے میں سرچ آپریش شروع ہوگیا، ڈی ایس پی بھائی چینہ کے مطابق واقعہ میں 5 اہلکار زخمی ہو گئے جبکہ ایس ایچ او سمیت دیگر اہلکار محفوظ رہےریسیکیو عملے کے مطابق زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال خار باجوڑ میں منتقل کردیا گیا ہے۔ادھر پولیس نے کہا ہے کہ بم نصب کرنے والے ملزمان کی تلاش کے لیے آپریشن شروع ہوچکا ہے۔

  • پنجاب کے سرحدی علاقوں میں پولیس کا آپریشن، اشتہاریوں سمیت  39 افراد گرفتار

    پنجاب کے سرحدی علاقوں میں پولیس کا آپریشن، اشتہاریوں سمیت 39 افراد گرفتار

    کرک میں پولیس نے پنجاب اور دیگر اضلاع سے متصل سرحدی علاقوں میں مڈنائٹ سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کرکے اشتہاریوں سمیت 39 افراد کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان قتل اقدام قتل بھتہ خوری اور اغوا سمیت دیگر سنگین جرائم میں مطلوب تھے، پولیس نے ملزمان سے 11 کلاشنکوف، 5بندوقیں اور23 پستول برآمد کرلیے،آپریشن میں 11منشیات فروشوں کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرلی گئی، آپریشن کے دوران پولیس کو بکتر بند گاڑیوں، لیڈی پولیس اور کوئیک رسپانس فورس کی معاونت حاصل تھی۔

    دوسری جانب ترجمان سندھ پولیس کے مطابق کراچی شہر میں خوف کی علامت بدنام زمانہ وائٹ کرولا ڈکیت گروپ سے پولیس مقابلے میں ایک ڈاکو ہلاک اور دو فرار ہوگئے پولیس نے گاڑی قبضے میں لے لی، مقابلہ لنڈی کوتل چورنگی سےشریف آباد تک دو بدو چلتا رہا۔

    امریکا کے پاس چوائس ہے کہ وہ فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرے،روسی وزیر خارجہ

    واضح رہے کہ ملزمان وارداتوں کے لیے سفید رنگ کی کرولا گاڑی استعمال کرتے تھے اور اسی وجہ سے یہ گروہ کرولا گروپ کہلاتا تھااس سے قبل پولیس نے گلستان جوہر میں کارروائی کرتے ہوئے سفید کرولا ڈکیت گروہ کے سرغنہ سمیت 3 کارندوں کو گرفتارکرکے ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کرلیا تھا۔

    لبنان و فلسطین کا انتقام لینے کیلئے یمنی افواج کا امریکی بحریہ کے جہازوں …

  • گوجرہ:  رقبے کا تنازع، ایک شخص قتل،متعدد زخمی

    گوجرہ: رقبے کا تنازع، ایک شخص قتل،متعدد زخمی

    گوجرہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار عبدالرحمن جٹ) گوجرہ کے نواحی گاؤں چک نمبر 434 ج ب میں مخالفین نے تشدد کرتے ہوئے ایک شخص کو قتل کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق، محمد بوٹا اپنے بھائی شبیر حسین، بیٹے سبطین اور بھتیجے ثقلین رضا کے ہمراہ اپنے زرعی رقبے میں موجود تھا کہ اس دوران قیصر نوید اور شاہ نواز وہاں پہنچے اور عبد الستار کے ایماء پر حملہ کر دیا۔

    حملہ آوروں نے شبیر حسین پر شدید تشدد کیا جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، جبکہ محمد بوٹا اور اس کے دیگر ساتھی زخمی ہوئے۔ ملزمان تشدد کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔ پولیس نے مقتول شبیر حسین کی لاش تحویل میں لے کر گورنمنٹ آئی کم جنرل ہسپتال گوجرہ منتقل کر دی ہے۔

    واقعے کی وجہ عناد زرعی رقبے کا تنازعہ بتایا جا رہا ہے۔ مقتول اور اس کے بھائی محمد بوٹا نے اپنے زرعی رقبے کا علیحدہ نکا منظور کرایا تھا، جسے ملزمان قیصر نوید اور شاہ نواز نے قبول نہیں کیا اور اسی بنا پر یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔

    محمد بوٹا کی درخواست پر صدر پولیس گوجرہ نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

  • گوجرہ: با اثر افراد کا اپاہج عمر رسیدہ خاتون پر تشدد، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال

    گوجرہ: با اثر افراد کا اپاہج عمر رسیدہ خاتون پر تشدد، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال

    گوجرہ (باغی ٹی وی،نامہ نگار عبدالرحمن جٹ) چک نمبر 367 ج ب جلیانوالہ کی عمر رسیدہ، چلنے پھرنے سے معذور خاتون کشور سلطانہ اور اس کے خاندان کی زندگی با اثر افراد نے اجیرن کر دی۔ خاتون پر بے رحمی سے حملہ کرنے کے بعد ان کے گھر کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا، اور تشدد کے دوران ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیے گئے۔

    تفصیلات کے مطابق، کشور سلطانہ اپنی حویلی میں موجود تھی جب کہ ان کا ملازم ساجد جاوید مویشیوں کو چارا ڈال رہا تھا کہ اسی دوران گاؤں کے با اثر افراد ارشد، یاسر، اصغر، اور عادل ڈنڈوں اور سوٹوں سے مسلح ہو کر زبردستی حویلی میں گھس گئے۔ انہوں نے نہ صرف خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیے۔ ملازم ساجد جاوید نے خاتون کو بچانے کی کوشش کی تو حملہ آوروں نے اسے بھی مارا پیٹا اور زخمی کر دیا۔

    واقعے کی اصل وجہ جائیداد کا تنازعہ بتایا جا رہا ہے۔ صدر پولیس گوجرہ اس معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہے، تاہم متاثرہ خاتون نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملزمان با اثر ہونے کی وجہ سے پولیس نے ابتدائی طور پر انہیں حراست میں لیا، مگر بعد ازاں نامعلوم وجوہات کی بنا پر چھوڑ دیا گیا۔

    کشور سلطانہ نے انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور دیگر اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کا نوٹس لے کر ملزمان کو سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

  • اوچ شریف :بغیر ترپال ٹرالیاں، ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ، شہریوں میں تشویش

    اوچ شریف :بغیر ترپال ٹرالیاں، ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ، شہریوں میں تشویش

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان) اوچ شریف کی سڑکوں پر بغیر ترپال کے ریت، مٹی اور اینٹوں سے بھری ٹرالیاں چلنے لگیں جس سے سڑکوں پر گرد و غبار کا طوفان برپا ہو گیا۔

    موٹر سائیکل سواروں اور پیدل راہگیروں کی آنکھوں میں مٹی اور ککرے پڑنے لگے جبکہ شہر میں ماحولیاتی آلودگی میں سرعام اضافہ ہو رہا ہے۔ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں جس سے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوں نے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    مقامی شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹرالیاں تیز رفتاری سے سڑکوں پر دوڑتی ہیں جس سے ارد گرد کے علاقوں میں گرد و غبار پھیلتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ آلودگی کی وجہ سے سانس کی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور ماحولیاتی صحت پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    محمد رفیق، جو کہ ایک مقامی رہائشی ہیں نے بتایا کہ ہمیں روزانہ سڑکوں پر ان ٹرالیوں کے گرد و غبار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آنکھوں میں مٹی پڑنے سے دیکھنے میں مشکلات ہوتی ہیں اور اس سے سانس کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔”

    محمد عمران نے اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اگر ان ٹرالیوں کو ترپال سے نہ ڈھانپا گیا اور فوری ایکشن نہ لیا گیا تو شہر میں سانس کی بیماریوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا، اور سڑکیں حادثات کا گڑھ بن جائیں گی۔”

    شہر میں کاروباری حضرات بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک مقامی دکاندار شہزاد احمد نے کہا کہ "گرد و غبار کی وجہ سے ہمارے گاہک کم ہو گئے ہیں اور کاروبار بھی متاثر ہو رہا ہے۔ ٹرالیوں کی تیز رفتاری حادثات میں اضافہ اور ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے لوگوں کا باہر نکلنا دشوار ہو چکا ہے۔”

    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر بہاولپور سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے پر توجہ دیں اور بغیر ترپالی ٹرالیوں کے مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں تاکہ شہریوں کی صحت اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر جلد از جلد اس مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو عوام کے لیے سڑکوں پر چلنا بھی ناممکن ہو جائے گا، اور آلودگی کا مسئلہ مزید بگڑ جائے گا۔

  • سرگودھا:جرائم کاسونامی، شہری پریشان،وزیراعلیٰ سے مدد کی اپیل

    سرگودھا:جرائم کاسونامی، شہری پریشان،وزیراعلیٰ سے مدد کی اپیل

    سرگودھا (باغی ٹی وی ،سٹی رپورٹرادریس نواز چدھڑ سے) ضلع سرگودھا میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں نے شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ مجرم بے خوف ہو کر دندناتے پھر رہے ہیں اور شہری شدید عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں۔ مقامی لوگوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے علاقے میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق جنوری سے ستمبر تک ضلع بھر میں 158 سے زائد افراد قتل ہوئے ہیں۔ چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ دوران ڈکیتی قتل کے چار واقعات اور اقدامِ قتل کے 300 سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق زنا بالجبر کے 65، گینگ ریپ کے 75، بدفعلی کے 46، اور ڈکیتی کے 17 واقعات درج ہوئے ہیں۔ پولیس مقابلوں کی تعداد بھی 39 تک پہنچ چکی ہے۔

    منشیات کے استعمال، خاص طور پر آئس کے نشے کا بڑھتا ہوا رجحان بھی پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اس ابتر صورتحال نے شہریوں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ڈی پی او سرگودھا کی خاموشی پر بھی شہریوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے، جبکہ پولیس کی جانب سے مجرموں کو گرفتار کرنے میں ناکامی پر بھی شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

    سرگودھا کے شہریوں نے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور اور وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لے کر امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • اوچ شریف:ناقص گھی کی فروخت،شہریوں کی صحت کے لیے بڑا خطرہ، فوڈ اتھارٹی ناکام

    اوچ شریف:ناقص گھی کی فروخت،شہریوں کی صحت کے لیے بڑا خطرہ، فوڈ اتھارٹی ناکام

    اوچ شریف(باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان) شہر میں ناقص گھی کی بڑھتی ہوئی فروخت نے شہریوں کی صحت کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مقامی دکاندار بے خوف و خطر ملاوٹ شدہ گھی بیچ رہے ہیں جبکہ فوڈ اتھارٹی اس معاملے پر مکمل طور پر خاموش ہے۔

    شہریوں نے بتایا کہ ناقص گھی کی وجہ سے انہیں مختلف قسم کی بیماریاں ہو رہی ہیں۔ ڈاکٹر عثمان ظفر کا کہنا ہے کہ ناقص گھی ہاضمے کے مسائل کے علاوہ دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھا رہا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ جاننے کے حق دار ہیں کہ وہ کیا خرید رہے ہیں۔ انہوں نے فوڈ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مارکیٹ میں معیاری مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور ناقص گھی کی فروخت کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

    سماجی تنظیموں اور سیاسی رہنماؤں نے بھی اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کی تحقیقات کرے اور ناقص گھی کی فروخت پر پابندی لگائے۔

    شہریوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت اور فوڈ اتھارٹی نے جلد از جلد اس مسئلے کا حل نہ نکالا تو وہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔

  • ڈیرہ غازی خان: جیل،ملاقات سسٹم شفاف، الزامات بے بنیاد، سپرنٹنڈنٹ جیل

    ڈیرہ غازی خان: جیل،ملاقات سسٹم شفاف، الزامات بے بنیاد، سپرنٹنڈنٹ جیل

    ڈیرہ غازیخان (باغی ٹی وی رپورٹ ) سپرنٹنڈنٹ سینٹرل جیل محمد زبیر احمد خان چیمہ نے جیل کے ملاقات سسٹم پر لگائے گئے الزامات کو مکمل طور پر جھوٹا، من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں تمام اسیران کی ملاقاتیں باقاعدہ شیڈول کے مطابق کروائی جاتی ہیں اور یہ سسٹم مکمل طور پر کمپیوٹرائزڈ ہے۔ ملاقات کا شیڈول مین گیٹ کے باہر، ویٹنگ شیڈ کے اندر اور بیرون علاقوں میں واضح طور پر آویزاں کیا گیا ہے تاکہ اسیران کے لواحقین کو کوئی مشکل پیش نہ آئے۔

    محمد زبیر احمد خان چیمہ نے بتایا کہ ہر اسیر کی ملاقات ہفتے میں صرف ایک بار مقررہ وقت پر ہوتی ہے اور اس کا اندراج پی ایم آئی ایس (Prison Management Information System) کے ذریعے کیا جاتا ہے، جو کہ لاہور کے ہیڈ آفس سے منسلک ہے۔ ملاقات کے اس کمپیوٹرائزڈ نظام میں بغیر شیڈول کسی ملاقات کا اندراج ممکن نہیں ہے، اس لیے کسی بھی غیر متعلقہ ملاقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    سپرنٹنڈنٹ نے مزید وضاحت کی کہ جیل میں ملاقاتوں کا تمام عمل سی سی ٹی وی کیمروں کی زیر نگرانی میں ہوتا ہے، اور یہ کیمرے آئی جی آفس سے منسلک ہیں۔ ملاقات شیڈ میں تعینات ملازمین کی ڈیوٹی ہفتہ وار بنیاد پر تبدیل کی جاتی ہے، اور کوئی بھی ملازم مستقل طور پر ملاقات کے عمل پر تعینات نہیں ہوتا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جیل میں کسی بھی ملازم کو اسیران یا ان کے لواحقین سے پیسے لینے یا غیر اخلاقی رویے کی اجازت نہیں ہے۔ بلکہ یہاں تک کہ کسی ملازم کو اسیران کے لواحقین سے ہاتھ ملانے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ روزانہ ایک گھنٹے کے لیے ویٹنگ شیڈ میں موجود رہتے ہیں تاکہ اسیران کے لواحقین کے مسائل کو سن سکیں اور ان کا حل نکال سکیں۔ اس کے علاوہ مختلف اوقات میں وہ خود بھی اچانک مین گیٹ اور ملاقات شیڈ کا دورہ کرتے ہیں تاکہ ہر چیز کو شفاف اور قانون کے مطابق رکھا جا سکے۔

    محمد زبیر احمد خان چیمہ نے کہا کہ خبر میں لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے، بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔ یہ الزامات صرف ان عناصر کی جانب سے لگائے جا رہے ہیں جو جیل کے نظام کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کو تخریب کار اور جھوٹا پروپیگنڈا قرار دیا جس کا مقصد صرف انتشار پھیلانا ہے۔

    سپرنٹنڈنٹ نے آخر میں کہا کہ ان کی ٹیم کے حوصلے بلند ہیں، اور وہ پریزن رولز کی مکمل پیروی کرتے ہوئے اپنے فرائض ایمانداری اور دیانت داری سے سر انجام دیتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے فرائض منصبی میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کی بے لوث خدمت جاری رکھی جائے گی۔