Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • ڈیرہ غازیخان:ڈی جی اورناز تھیٹر میں بے حیائی کا زور،انتظامیہ کی طوطاچشمی

    ڈیرہ غازیخان:ڈی جی اورناز تھیٹر میں بے حیائی کا زور،انتظامیہ کی طوطاچشمی

    ڈیرہ غازی خان(باغی ٹی وی ،نامہ نگار)ڈی جی اورناز تھیٹر میں بے حیائی کا زور،انتظامیہ کی طوطاچشمی

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازیخان شہر کے مشہور ناز تھیٹر اور ڈی جی تھیٹر میں جاری ڈراموں کی سرگرمیاں ایک نئی بحث کا آغاز کر رہی ہیں۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ ان تھیٹروں میں نہ صرف غیر قانونی سرگرمیاں جاری ہیں بلکہ ان کے آس پاس مافیا کی موجودگی نے صورت حال کو اور بھی خراب کر دیا ہے۔

    علاقے کے لوگوں نے شکایت کی ہے کہ چوہدری مشتاق، پائل چوہدری اور علی جانی جیسے افراد قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں جبکہ مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں۔ ان کے مطابق ان تھیٹروں میں آنے والے افراد کی سرگرمیوں میں شراب، چرس، اور اسلحے کی نمائش عام بات بن چکی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی ان کی سرپرستی کرنے والوں میں شامل ہے

    شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہاں پر ناچنے والی خواتین آدھے کپڑے پہن کر جسم کا نمائش کرتی ہیں، جو کہ نہ صرف بے ہودگی کی علامت ہے بلکہ اس سے فنکاروں کی عزت بھی مجروح ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ فنکاروں اور طوائفوں کی جانب سے بے ہودہ ڈرامے کیے جا رہے ہیں جو اصل آرٹسٹ کے ساتھ مذاق کرنے کے مترادف ہیں۔

    ذرائع کے مطابق آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر بھی اس معاملے میں ملوث ہیں کیونکہ انہیں ان سرگرمیوں کے بدلے مالی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔ یہ مافیا پنجاب کے مختلف شہروں سے ناچنے والی لڑکیوں کو لاتا ہے اور ان کا غلط استعمال کرتا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ یہ لڑکیاں گن پوائنٹ پر لائی جاتی ہیں اور ان کے ساتھ بدسلوکی کی جاتی ہے۔

    عوام نے مزید شکایت کی ہے کہ بجلی کی فری استعمال بھی ان غیر قانونی سرگرمیوں کا حصہ ہے جس میں واپڈا کے کچھ ملازمین بھی شامل ہیں۔ اس صورت حال نے شہریوں کو بے حد پریشان کر دیا ہے کیونکہ وہ خوف محسوس کر رہے ہیں کہ یہاں کسی بھی وقت کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔

    پولیس کو بدنام کرنے کی کوشش کے طور پر جعلی وردی میں ملبوس افراد کو بھی یہاں بٹھایا جاتا ہے۔ ان کے ذریعے عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جبکہ یہ اعلان بھی کیا جاتا ہے کہ موویز بنانا منع ہے۔

    علاقے کے عوام نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، کمشنر ڈیرہ غازی خان اور ڈپٹی کمشنر سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مافیا کے خلاف فوری کارروائی کریں اور ان غیر قانونی سرگرمیوں کے اڈوں کو بند کریں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ انہیں تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی زندگیوں میں سکون محسوس کر سکیں۔

  • اوچ شریف:اشیاء پر لکھی قیمت غائب،پرائس کنٹرول میجسٹریٹ ناکام،عوام لٹنے لگی

    اوچ شریف:اشیاء پر لکھی قیمت غائب،پرائس کنٹرول میجسٹریٹ ناکام،عوام لٹنے لگی

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان) شہر میں پرائس کنٹرول سسٹم مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے عوام ناجائز منافع خوری کا شکار ہو چکے ہیں اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں بے جا اضافہ ہو رہا ہے۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کی غفلت اور عدم دلچسپی کی بنا پر دکانداروں نے اشیاء پر درج سرکاری قیمتیں ہٹا دی ہیں اور اپنی مرضی سے من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ اس صورتحال نے عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔

    اوچ شریف اور اس کے نواحی علاقوں میں دکانداروں نے اشیاء کی قیمتوں کو بلا جواز بڑھا رکھا ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقے کے لوگ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بنیادی ضروریات کی اشیاء جیسے چائے کی پتی، دودھ، چینی اور دالوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، اور دکانداروں نے ان اشیاء پر درج سرکاری قیمتوں کو ہٹا کر اپنی مرضی کے نرخ لگا دیے ہیں۔

    شہری محمد عمران، ادریس، عبد الحمید، علی خان اور دیگر کا کہنا ہے کہ دکاندار چائے کی پتی جیسی عام چیز کی اصل قیمت کو چھپا کر اسے مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "چائے کی پتی کے ایک پیکٹ کی قیمت مارکیٹ میں 500 روپے درج ہے، لیکن دکاندار اس کو 700 روپے تک فروخت کر رہے ہیں۔ اسی طرح دودھ اور دیگر روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں بھی انتہائی بڑھا دی گئی ہیں، جس سے عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔”

    شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیاں مہنگائی کو بڑھانے کا سبب بنی ہیں۔ "حکومت کی جانب سے غریب عوام کو ریلیف دینے کے بجائے، مہنگائی کا بوجھ ان پر ڈال دیا گیا ہے۔” عبد الحمید نے کہا کہ "اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں روزانہ اضافے نے ہماری زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی، تو ہمارے لیے اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دینا بھی مشکل ہو جائے گا۔”

    شہریوں نے شکایت کی کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ "پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کی عدم توجہی کی وجہ سے دکاندار من مانی کر رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔” محمد عمران کا کہنا تھا کہ "جب ہم کسی دکاندار سے قیمتوں کے بارے میں پوچھتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں جو نرخ ٹھیک لگتا ہے، وہی وصول کریں گے۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کہیں نظر نہیں آتے، اور اگر وہ آ بھی جائیں تو صرف رسمی کارروائی کرتے ہیں۔”

    شہریوں نے حکومت اور مقامی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں اور پرائس کنٹرول سسٹم کو موثر بنائیں۔ "ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کو فعال کریں اور ان دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی کریں جو ناجائز منافع خوری کر رہے ہیں۔” علی خان نے کہا، "ہمیں امید ہے کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے گی اور ہمیں ریلیف فراہم کرے گی، ورنہ ہماری زندگیاں مزید مشکل ہو جائیں گی۔”

    دکانداروں نے اشیاء پر لکھی ہوئی قیمتیں ہٹا دی ہیں، جس سے عوام کو یہ پتہ چلانا مشکل ہو رہا ہے کہ کس چیز کی اصل قیمت کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ "پہلے دکاندار اشیاء پر لکھی ہوئی قیمتوں کے مطابق بیچا کرتے تھے، لیکن اب انہوں نے قیمتوں کو ہٹا کر اپنی مرضی کی قیمتیں مقرر کر دی ہیں، جس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہے۔”

    شہریوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوئی عملی اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ حکومت کی جانب سے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہو رہا۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر اقدامات نہ کیے تو غریب عوام کی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی اور ان کا جینا محال ہو جائے گا۔

  • ملتان: سرکاری زمین پر ڈی سی کی اجازت سے جنازہ گاہ  کی تعمیر،شہری کو جان لیوا دھمکیاں

    ملتان: سرکاری زمین پر ڈی سی کی اجازت سے جنازہ گاہ کی تعمیر،شہری کو جان لیوا دھمکیاں

    ملتان (نامہ نگار) سرکاری زمین پر ڈی سی کی اجازت سے جنازہ گاہ کی تعمیر،شہری کو جان لیوا دھمکیاں،چک نمبر 91 بدھلہ سنت کے رہائشی محمد سرفراز ولد قاسم نے تھانہ بدھلہ سنت کے SHO کو ایک درخواست جمع کروائی ہے، جس میں اس نے اپنی اور اہلِ علاقہ کی جان کو لاحق خطرات کے حوالے سے تحفظ کی اپیل کی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق محمد سرفراز نے اپنے محلے میں سرکاری زمین پر ڈی سی ملتان کی اجازت سے اہلِ علاقہ سے چندہ اکٹھا کر کے ایک جنازہ گاہ تعمیر کی تھی۔ تاہم اس اقدام کے بعد علاقے کے چند افراد جن میں جمیلہ مائی، محمد دانش اور نعمان شامل ہیں نے سرفراز کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔

    سرفراز کا کہنا ہے کہ انہوں نے معززینِ علاقہ کے ہمراہ کئی بار ملزمان کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے۔ حالیہ واقعہ میں ملزمان نے سرفراز کا پیچھا کیا، جس کے بعد وہ اپنی جان بچانے کے لیے اپنے گھر میں چھپ گئے۔ ملزمان ان کے گھر تک پہنچ گئے اور وہاں بھی انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ تاہم مقامی افراد محمد شہباز اور اللہ بخش کی مداخلت کے باعث سرفراز کی جان بچائی گئی۔

    مزید برآں 27 ستمبر 2024 کو سرفراز نے بتایا کہ وہ اپنے گھر سے باہر کام کے لیے جا رہے تھے جب ملزم نعمان نے انہیں دوبارہ گالم گلوچ اور دھمکیاں دیں کہ ان کی موت کا انتظام ہو چکا ہے۔

    محمد سرفراز نے پولیس سے درخواست کی ہے کہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں اور اہلِ علاقہ کو تحفظ فراہم کیا جائے، کیونکہ وہ ملزمان کے ظلم و جبر سے شدید خوفزدہ ہیں۔

    پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور مزید قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

  • تھائی لینڈ: اسکول بس میں آتشزدگی،20 سے زئاد بچوں کی ہلاکتوں کا خدشہ

    بنکاک: تھائی لینڈ میں ایک پرائمری اسکول کی بس میں خوفناک آگ بھڑک اُٹھی –

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بس میں 50 کے قریب کم سن بچے اور اساتذہ سوار تھے جو شمالی صوبے اتھائی تھانی کے سیاحتی دورے سے واپس آرہی تھی کہ تیز رفتار بس کا ٹائر پھٹ گیا جس کے نتیجے میں سڑک کنارے لگے باڑ سے ٹکرا کر الٹ گئی اور اس میں آگ بھڑک اُٹھی آگ بس کے اگلے حصے میں لگنا شروع ہوئی تھی۔

    بچے خوفزدہ ہوکر بس کے پیچھے حصے کی طرف گئے دروازے اور کھڑکیاں بند تھیں صرف 19 افراد بس سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوسکے جنھیں زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا امدادی کاموں کے دوران 3 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کی سوختہ لاشیں بس کے پچھلے حصے سے ملیں لاشیں اتنی بری جلی تھیں کہ ان کی شناخت ہونا ناممکن ہے۔

    وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ زیادہ تر بسیں انتہائی خطرناک کمپریسڈ قدرتی گیس سے چلتی ہیں جس کے مسافر بسوں میں استعمال پر پابندی ہونی چاہیے ،بس حادثے میں 20 سے زائد بچوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے جب کہ 19 نے چھلانگ لگا کر اپنی جانیں بچائیں۔

    واضح رہے کہ تھائی لینڈ میں غیر معیاری سڑکیں، گاڑیوں کی خراب حالت اور ٹریفک کے بدترین نظام کے باعث سالانہ 20 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوتی ہیں۔

  • اوچ شریف: نامعلوم کار کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار نوجوان جاں بحق

    اوچ شریف: نامعلوم کار کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار نوجوان جاں بحق

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) نامعلوم کار کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار نوجوان جاں بحق

    تفصیل کے مطابق احمد پور شرقیہ میں افسوسناک حادثہ پیش آیا جہاں 30 سالہ نوجوان بلاول بشیر نامعلوم کار کی ٹکر سے جاں بحق ہو گیا۔ یہ حادثہ چوہدری فلنگ اسٹیشن کے قریب احمد پور روڈ پر پیش آیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق، بلاول بشیر خدا بخش مہر کا رہائشی تھا۔

    ریسکیو ٹیم نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں جبکہ پولیس نے حادثے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حادثہ کار کی تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔ متوفی کی میت ضروری کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔

    مقامی انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سڑکوں پر احتیاط برتیں اور ٹریفک قوانین کی پابندی کریں تاکہ ایسے افسوسناک حادثات سے بچا جا سکے۔

  • اوچ شریف:نلکا اڈہ،عباسیہ کینال کا پل خستہ حالی کا شکار، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا

    اوچ شریف:نلکا اڈہ،عباسیہ کینال کا پل خستہ حالی کا شکار، عوام کو شدید مشکلات کا سامنا

    اوچ شریف (باغی ٹی وی ،نامہ نگارحبیب خان) نواحی علاقے نلکا اڈہ کے قریب عباسیہ کینال پر واقع پل کی حالت انتہائی خستہ ہو چکی ہے، جس سے مقامی آبادی کو آمدورفت میں شدید مسائل درپیش ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق، پل کی ٹوٹ پھوٹ اور حفاظتی جنگلوں کی عدم موجودگی نے روزانہ ہزاروں افراد کی زندگی کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔

    بشیر احمد نامی ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ "ہمیں پل عبور کرتے ہوئے ہر روز خوف محسوس ہوتا ہے۔ اگر کوئی حادثہ پیش آیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟” بچوں، بزرگوں اور مزدوروں کے لیے اس پل کا استعمال روزمرہ کا معمول ہے، لیکن خراب حالت کے باعث انہیں خطرات کا سامنا ہے۔

    علاقائی رہنماؤں نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پل نہ صرف آمدورفت کے لیے بلکہ مقامی معیشت کے لیے بھی اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقامی حکومت کی غفلت عوام میں مایوسی کا سبب بن رہی ہے اور لوگ محفوظ متبادل راستے کی تلاش میں ہیں۔ عوامی مطالبات کو نظرانداز کرنا کسی بڑی ناگہانی صورتحال کا باعث بن سکتا ہے۔

  • گوجرانوالہ: اویسو ڈکیت گینگ کے دو ارکان گرفتار، نقدی، موٹر سائیکل اور اسلحہ برآمد

    گوجرانوالہ: اویسو ڈکیت گینگ کے دو ارکان گرفتار، نقدی، موٹر سائیکل اور اسلحہ برآمد

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی،نامہ نگارمحمدرمضان نوشاہی) گوجرانوالہ پولیس نے تھانہ قلعہ دیدار سنگھ کے علاقے میں ڈکیتی اور چوری کی وارداتوں میں ملوث اویس عرف اویسو ڈکیت گینگ کے خلاف اہم کارروائی کرتے ہوئے دو ارکان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 1 لاکھ 24 ہزار 500 روپے نقدی، 2 موٹر سائیکل، 1 موبائل فون اور ناجائز اسلحہ برآمد کیا ہے۔

    یہ کامیاب کارروائی ایس ایچ او تھانہ قلعہ دیدار سنگھ انسپکٹر عبدالرحمٰن اور ان کی پولیس ٹیم نے ڈی ایس پی میاں عبدالجبار کی زیر نگرانی کی۔ کارروائی کے دوران اویس عرف اویسو اور علی رضا نامی ملزمان کو گرفتار کیا گیا جو کہ علاقے میں ڈکیتی اور موٹرسائیکل چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث تھے۔

    سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) محمد ایاز سلیم نے اس موقع پر کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کو امن و امان کی صورتحال بہتر بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ڈکیتوں، موٹرسائیکل چوروں اور سماج دشمن عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

    علاقے کے مکینوں نے پولیس کی اس کامیاب کارروائی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف علاقے میں امن کی فضا قائم ہوگی بلکہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کو بھی سخت پیغام ملے گا۔ سی پی او محمد ایاز سلیم نے ایس ایچ او انسپکٹر عبدالرحمٰن اور ان کی ٹیم کی اعلیٰ کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں شاباش دی اور آئندہ بھی اسی طرح کی کارروائیوں کی ہدایت کی۔

    پولیس حکام کے مطابق اس قسم کی کارروائیاں گوجرانوالہ میں جرائم کی روک تھام اور امن کی بحالی کے لیے ضروری ہیں اور عوام کی جان و مال کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

  • ڈیرہ غازیخان :بی ایم پی چیک پوسٹوں پر رشوت اور اثر و رسوخ کا راج

    ڈیرہ غازیخان :بی ایم پی چیک پوسٹوں پر رشوت اور اثر و رسوخ کا راج

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) بی ایم پی چیک پوسٹوں پر رشوت اور اثر و رسوخ کا راج

    تفصیلات کے مطابق بین الصوبائی چیک پوسٹ و تھانہ بواٹہ پر تعینات ایس ایچ او اقبال لغاری اور اہلکار شوکت کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ چیک پوسٹ راکھی گارج پر تعینات فیاض نامی اہلکار کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر سمگلروں اور با اثر سیاستدانوں کے مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ اہلکار مبینہ طور پر سمگلنگ کے ذریعے کمایا گیا پیسہ سیاستدانوں تک پہنچاتے ہیں جبکہ ایس ایچ اوز بے بس ہو کر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

    عوامی حلقوں نے بارڈر ملٹری پولیس کے سینئر کمانڈنٹ شاہد زمان لک اور کمانڈنٹ اسد خان چانڈیہ سے اپیل کی ہے کہ ان اہلکاروں کو چیک پوسٹوں سے فوری طور پر ہٹایا جائے تاکہ کرپشن اور لوٹ مار کا خاتمہ ہو سکے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کو چوٹی زیریں اور فورٹ منرو کے با اثر سیاستدانوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے جس کی وجہ سے موجودہ دور حکومت میں بھی ان کا تبادلہ ممکن نہیں ہو سکا۔

    مزید برآں ذرائع کا کہنا ہے کہ فیاض نامی اہلکار کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ایس ایچ اوز پر دباؤ ڈالتا ہے اور ان سے من مانی کرواتا ہے۔ اس نے یہاں تک دھمکی دی ہے کہ اگر اس کا تبادلہ کیا گیا تو وہ چوٹی جا کر تمام بڑے افسروں کو لاہور بھیج دے گا۔ عوامی حلقے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور فوری ایکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

  • اوچ شریف: موٹروے ایم 5 پر کروڑوں روپے کی چوری شدہ گاڑی اور بیٹریاں برآمد

    اوچ شریف: موٹروے ایم 5 پر کروڑوں روپے کی چوری شدہ گاڑی اور بیٹریاں برآمد

    اوچ شریف (باغی ٹی وی،نامہ نگارحبیب خان) موٹر وے ایم 5 پر پولیس کی خفیہ اطلاع پر کامیاب کارروائی میں ایک کروڑ روپے مالیت کی ہائی روف گاڑی اور 20 لاکھ روپے مالیت کی چوری شدہ بیٹریاں برآمد کر لی گئیں۔ کارروائی کے دوران ملزمان رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے، تاہم ان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، ڈی ایس پی موٹر وے ایم 5 چوہدری مسرور علی کی قیادت میں ایڈمن آفیسر محمد شفیق اشرف قسرانی اور دیگر آفیسرز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کی۔ موٹر وے پولیس نے حکمت عملی کے تحت گھیرا تنگ کیا، جسے دیکھتے ہوئے ملزمان گاڑی چھوڑ کر قریبی کھیتوں میں فرار ہو گئے۔

    موٹر وے پولیس نے ایک کروڑ روپے کی ہائی روف گاڑی اور 20 لاکھ روپے مالیت کی 23 چوری شدہ ڈرائی بیٹریوں کو تحویل میں لے کر مقدمہ درج کر دیا۔

    اس موقع پر ڈی ایس پی چوہدری مسرور علی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس نہ صرف ٹریفک قوانین کے نفاذ اور حادثات کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، بلکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھی کاروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ موٹر وے پر موثر پٹرولنگ کی بدولت سفر محفوظ ہے، اور عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی مشکوک گاڑی یا شخص کی موجودگی پر فوری طور پر ہیلپ لائن 130 پر اطلاع دیں۔

  • سچ سامنے آیا،ریاستی اداروں پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد،اندھے قتل کا قاتل گرفتار

    سچ سامنے آیا،ریاستی اداروں پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد،اندھے قتل کا قاتل گرفتار

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ)سچ سامنے آیا،ریاستی اداروں پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد،اندھے قتل کا قاتل گرفتار

    تفصیلات کے مطابق 18 اگست 2024 کو لنڈی کوتل بائی پاس پر ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں خوگا خیل سے منتخب یوتھ کونسلر اور نوجوان فٹ بال کھلاڑی لاوید شاہ کو گولی مار کر قتل کیا گیا۔ لاوید شاہ اپنے اخلاق اور ملنسار طبیعت کی وجہ سے علاقے میں ایک ہردلعزیز شخصیت کے طور پر مشہور تھے۔ انہیں فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال لنڈی کوتل اور بعد ازاں پشاور منتقل کیا گیا۔

    قتل کے بعد، پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے فوری تحقیقات کا آغاز کیا، مگر بعض ریاست مخالف عناصر نے اس سانحے کو پروپیگنڈہ کا ذریعہ بناتے ہوئے ریاست اور سیکیورٹی اداروں پر بے بنیاد الزامات لگانا شروع کر دیے۔ بجائے اس کے کہ ان عناصر نے مجرموں کی گرفتاری میں مدد کی ہوتی، انہوں نے اس واقعے کو ریاستی اداروں کے خلاف نعرے بازی اور عوام کو بھڑکانے کا موقع بنایا۔

    22 اگست کو لاوید شاہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے، جس کے بعد 25 اگست کو خیبر سپورٹس کلب کی جانب سے ان کے لیے انصاف دلانے کے لیے ایک ریلی نکالی گئی۔ اس ریلی کو بھی ریاست مخالف عناصر نے ہائی جیک کیا اور پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی۔

    پولیس نے تمام پروپیگنڈے کو نظرانداز کرتے ہوئے سائنسی بنیادوں پر تفتیش جاری رکھی۔ حالانکہ واقعہ کے وقت موجود 200 سے زائد افراد میں سے کسی نے بھی قاتلوں کی شناخت یا مدد نہیں کی، پولیس نے مسلسل محنت جاری رکھی۔ 30 ستمبر 2024 کو پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے قاتل محمد نواز ولد سمندر خان کو آلہ قتل سمیت گرفتار کر لیا۔ دوران تفتیش، قاتل نے اعتراف کیا کہ اس نے لاوید شاہ کو غیرت کے نام پر قتل کیا اور وجہِ عناد مستورات تھیں۔

    پولیس کی اس کامیاب کارروائی سے ثابت ہو گیا کہ ریاست اور اس کے ادارے عوام کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں جو ریاست مخالف پروپیگنڈے کے ذریعے مظلوم خاندانوں کے جذبات سے کھیلتے ہیں اور اپنی سیاست کو لاشوں پر قائم کرتے ہیں۔