Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • صنعتی غفلت: فیصل آباد میں بوائلر پھٹنے کا سانحہ اور ہماری ذمہ داریاں

    صنعتی غفلت: فیصل آباد میں بوائلر پھٹنے کا سانحہ اور ہماری ذمہ داریاں

    صنعتی غفلت: فیصل آباد میں بوائلر پھٹنے کا سانحہ اور ہماری ذمہ داریاں
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ یہ سانحہ صرف کسی ایک انڈسٹری یا صنعتی شعبے کا نہیں بلکہ ان اداروں کی غفلت کا نتیجہ ہے جو فیلڈ میں عملی نگرانی کے بجائے کاغذی کارروائی کو ترجیح دیتے ہیں اور معمولی فائدے کے لیے سرکاری ایس او پیز پر سمجھوتا کر لیتے ہیں۔ آج ہم اس دل خراش واقعے کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہیں۔

    فیصل آباد کے علاقے ملک پور میں کیمیکل فیکٹری کا بوائلر دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 37 قیمتی جانیں موقع پر ہی دم توڑ گئیں۔ پورا علاقہ لرز اٹھا، درجنوں گھر اُجڑ گئے اور ایک بار پھر ہماری صنعتی دنیا میں غفلت، لاپرواہی اور ناقص حفاظتی نظام کی سنگین حقیقت سامنے آگئی۔ ایک انڈسٹریل کی گرفتاری بظاہر قانونی کارروائی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک گرفتاری سے اس نظامی خرابی کو درست کیا جا سکتا ہے؟

    یہ حادثہ ایک فیکٹری کی ناکامی نہیں بلکہ ہمارے ناکام صنعتی ڈھانچے کی عکاسی بھی ہے۔ بوائلر صنعت کا بنیادی جزو ہوتا ہے، لیکن جب اس کی مینٹیننس نظر انداز ہو جائے تو اسی سے بڑے سانحات جنم لیتے ہیں—کل کی یہ فیکٹری، آج کا حادثہ اور کل کسی اور شہر میں نیا سانحہ۔

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو ناگہانی آزمائشوں سے محفوظ رکھے، مگر صرف دعائیں کافی نہیں ہوتیں، وہاں جہاں احتیاط ترک کر دی جائے۔

    بوائلر حادثات کیوں ہوتے ہیں؟
    ہمارے ہاں بوائلر چیکنگ، سرٹیفیکیشن، ٹیسٹنگ، واٹر ٹریٹمنٹ یا آپریشنل کنٹرول—اکثر محض کاغذوں میں ہوتے ہیں۔ انجینئرنگ اصول، حفاظتی پروٹوکول اور قوانین فائلوں میں دفن رہتے ہیں۔ نتائج ہمیشہ ایک جیسے ہوتے ہیں:
    ایک لمحے کی غفلت، درجنوں زندگیاں ختم۔

    حفاظتی اقداماتجو ہر فیکٹری کے لیے لازم ہیں
    1. پریونٹیو مینٹیننس ریجیم (Preventive Maintenance)
    بوائلر کی حفاظت مشینوں سے نہیں، نظام سے قائم رہتی ہے۔
    ضروری اقدامات:

    سالانہ NDT ٹیسٹنگ (Ultrasonic, Radiographic, Hydrostatic)
    شیل، ڈرم، ٹیوبرز اور سیفٹی والو کی Integrity Assessment
    برنر، پریشر سسٹم اور فیڈ واٹر پمپ کی Quarterly سروسنگ
    سنکنائی اور اسکیلنگ سے بچاؤ کے لیے ڈی اسکیلنگ اور واٹر ٹریٹمنٹ پروگرام
    یہ سب فیکٹری کی لگژری نہیں، بقاء ہیں۔

    2. پریشر کنٹرول اور آٹومیشن
    بوائلر میں بڑھتا ہوا پریشر سب سے بڑا دشمن ہے۔
    ڈبل سیفٹی والو اور چھ ماہ بعد لازمی کیلیبریشن
    تمام پریشر، ٹیمپریچر اور واٹر لیول گیجز فنکشنل
    جدید پلانٹس کے لیے PLC-Based Interlocks
    بوائلر خطرے کی حد پر ہو تو سسٹم خود بند ہو جائے—لیکن ہمارے ہاں مشین چلتی رہتی ہے… حتیٰ کہ وہ پھٹ جائے۔

    3. واٹر لیول مینجمنٹ
    بوائلر عموماً کم پانی کی وجہ سے پھٹتا ہے۔
    Low-water cutoff switches فعال
    Trip alarms مکمل فعال
    فیڈ واٹر کے TDS، Hardness اور pH کی مسلسل مانیٹرنگ
    کم پانی = زیادہ حرارت = بوائلر بلاسٹ۔

    4. آپریشنل ڈسپلن
    بوائلر کوئی دیگچی نہیں کہ کوئی بھی چلا لے۔
    صرف لائسنس یافتہ بوائلر انجینئر یا فائر مین آپریٹ کرے
    شفٹ لاگ بک مکمل
    ہر غیر معمولی آواز یا بھاپ کے اخراج کی فوری رپورٹ
    حادثہ ہمیشہ چھوٹے سگنل دیتا ہے، مگر ہم انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔

    5. اسٹرکچر اور انسٹالیشن انٹیگریٹی
    PSQCA اور PED اسٹینڈرڈ کے مطابق انسٹالیشن
    فاؤنڈیشن، انکر بولٹس اور ریلیف لائن کی میکانیکل انٹیگریٹی
    ریلیف لائن ہمیشہ کھلی فضا میں ہونا ضروری
    بند کمرے میں دباؤ جمع ہو تو دھماکہ یقینی ہوتا ہے۔

    6. ایمرجنسی ریسپانس پروٹوکول
    حادثہ ہو یا نہ ہو، تیاری ہر وقت ضروری ہے۔
    ایمرجنسی شٹ آف سوئچ
    Fire Suppression System
    Heat Resistant PPE
    صاف، کھلا اور قابل رسائی فرار راستہ
    افسوس کہ زیادہ تر فیکٹریوں میں ایمرجنسی راستوں پر بھی تالے لگے ہوتے ہیں۔

    7. سالانہ تھرڈ پارٹی سرکاری انسپیکشن
    یہ رسمی کارروائی نہیں، بوائلر کی زندگی کا فیصلہ ہوتا ہے۔
    Boiler Fitness Certificate
    Safety Valve blow-off test
    Burner trial run
    Visual inspection
    ان ٹیسٹس کے بغیر بوائلر فٹ قرار دینا خود ایک جرم ہے۔

    8. سیفٹی کلچر،اصل بنیاد
    کسی بھی فیکٹری میں سب سے بڑا مسئلہ مشین نہیں، سوچ ہوتی ہے۔
    مستقل HSE ٹریننگ
    Near-Miss رپورٹنگ
    Toolbox Talks
    قیادت کا Safety First رویہ
    جہاں سیفٹی صرف دستخطوں تک محدود ہو، وہاں بوائلر نہیں، انسان پھٹتے ہیں۔

    فیصل آباد کا یہ سانحہ یاد دہانی ہے کہ صنعتی غفلت کے نتائج صرف حادثہ نہیں ہوتے—یہ اجڑے گھر، یتیم بچے اور ماؤں کی پوری زندگی کا ماتم بن جاتے ہیں۔ اگر ہم آج بھی نہ جاگے تو کل کسی اور فیکٹری میں یہی داستان دہرائی جائے گی۔

    حکومت، فیکٹری مالکان، انجینئرز اور ورکر،سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسے واقعات کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کیے جائیں۔
    اللہ پاک ہمیں عقل، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

  • ٹھٹھہ: عدالت میں پیش قیدی کی فرار کی کوشش، چھلانگ لگا کر زخمی

    ٹھٹھہ: عدالت میں پیش قیدی کی فرار کی کوشش، چھلانگ لگا کر زخمی

    ٹھٹھہ (بلاول سموں) عدالت کی تحویل میں موجود قیدی بشیر عرف دیو گندرو نے پہلی منزل سے چھلانگ لگا کر فرار ہونے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگیا۔ پولیس نے فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے اسے شدید زخمی حالت میں سول اسپتال مکلی منتقل کیا۔

    پولیس کے مطابق قیدی بشیر عرف دیو ولد عثمان گندرو، جس کے خلاف تھانہ ٹھٹھہ میں مقدمہ نمبر 122/2025 دفعہ 3/4 منشیات آرڈیننس کے تحت چالان کیا گیا تھا، بدین جیل سے قیدی پارٹی کے ہمراہ پیشی کے لیے لایا گیا تھا۔ پیشی کے دوران اس نے فرار ہونے کی نیت سے پہلی منزل سے چھلانگ لگائی۔

    ترجمان پولیس نے بتایا کہ فرار کی کوشش ناکام بناتے ہوئے قیدی کو دوبارہ حراست میں لے لیا گیا، جب کہ ڈاکٹرز کے مطابق اسے معمولی چوٹیں آئی ہیں اور ہڈیوں کو کوئی سنگین نقصان نہیں پہنچا۔

  • گھوٹکی: شوگر ملوں کی بندش پر آبادگار و ہاریوں کا شدید احتجاج

    گھوٹکی: شوگر ملوں کی بندش پر آبادگار و ہاریوں کا شدید احتجاج

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی ضلع میں آبادگاروں، ہاریوں اور مزدوروں نے گنے کے سرکاری نرخ نہ ملنے اور شوگر ملوں کی بندش کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ سینکڑوں افراد بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے سڑکوں پر نکل آئے اور شوگر مافیا کے خلاف نعرے بازی کی۔

    مظاہرین نے کہا کہ ضلع میں پانچ شوگر ملیں موجود ہونے کے باوجود نہ سرکاری ریٹ دیا جا رہا ہے اور نہ ہی کوئی مل مکمل طور پر چل رہی ہے، جس کے باعث ہزاروں ہاری شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ بھر کے آبادگار اور مزدور شوگر ملز مافیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں، اور ملوں کی جانب سے جان بوجھ کر تاخیر کر کے کسانوں کو کم ریٹ پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

    احتجاجی شرکا نے بتایا کہ گنے کی تیار فصل کھڑی ہے مگر شوگر ملوں کی بندش کے باعث فصل ضائع ہونے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر شوگر ملیں بحال کی جائیں، سرکاری نرخ جاری کیا جائے اور ہاریوں کے معاشی استحصال کو روکا جائے۔

  • لاہور میں جائیداد کے تنازع پر دو افراد قتل،ملزم گرفتار

    لاہور میں جائیداد کے تنازع پر دو افراد قتل،ملزم گرفتار

    مصری شاہ میں جائیداد کے تنازع پر 2 افرادکی جان لے لی گئی ہے

    پراپرٹی کے تنازع پر ہونے والے اقبال گجر قتل کیس میں لاہور پولیس نے انتہائی تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے صرف 12 گھنٹوں میں ملزم فیاض کو گرفتار کر لیا۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس پی صدر رانا حسین طاہر کی سربراہی میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی۔

    ایس ایچ او تھانہ چوھنگ اور ان کی ٹیم نے ملزم فیاض کو چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا۔پولیس نے آلۂ قتل بھی برآمد کر لیا۔تھانہ چوھنگ میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق مقتول اقبال گجر امن کمیٹی کے سابق چیئرمین تھے، جنہیں ملزم نے زمین کے تنازع پر فائرنگ کر کے قتل کیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واضح کیا "قتل جیسے سنگین جرم میں ملوث افراد کی جگہ صرف جیل ہے، کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”

  • میرپورخاص: 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف یومِ سیاہ ، احتجاجی ریلی پر پولیس کا دھاوا، متعدد رہنما و کارکن گرفتار

    میرپورخاص: 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف یومِ سیاہ ، احتجاجی ریلی پر پولیس کا دھاوا، متعدد رہنما و کارکن گرفتار

    میرپورخاص (سید شاہزیب شاہ) سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم کے خلاف یومِ سیاہ منایا گیا، جس کے سلسلے میں پوسٹ آفس چوک سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں بڑی تعداد میں رہنماؤں اور کارکنان نے شرکت کی، جو بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔

    ریلی کے مرکزی مقام پر پہنچتے ہی پولیس کی بھاری نفری نے اچانک دھاوا بول دیا، جس سے بھگدڑ مچ گئی۔ پولیس نے متعدد رہنماؤں اور کارکنان کو گرفتار کر لیا۔ گرفتار افراد میں آفتاب قریشی، لالا اظہر پٹھان، محمد خان مری سمیت دیگر کارکن شامل ہیں۔

    اس دوران کارکنان کی جانب سے پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ان کا آئینی حق ہے، جبکہ پولیس کی کارروائی غیر جمہوری اور غیر قانونی ہے۔

    پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ ریلی کی اجازت نہیں تھی، جس کے باعث کارروائی عمل میں لائی گئی۔ تاہم سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گرفتاریاں احتجاج کو دبانے کی کوشش ہیں۔

    شہر میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • سیالکوٹ:  بغیر رجسٹریشن رکشوں، ٹریفک خلاف ورزیوں،گداگروں کے خلاف جامع آپریشن کا حکم

    سیالکوٹ: بغیر رجسٹریشن رکشوں، ٹریفک خلاف ورزیوں،گداگروں کے خلاف جامع آپریشن کا حکم

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو)ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں ضلعی سطح پر گداگری، ٹریفک خلاف ورزیوں اور حادثات میں اضافے کے پیشِ نظر سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں کرنل محمد عمیر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ایوب بخاری، اسسٹنٹ کمشنرز اور متعلقہ محکموں کے افسران شریک تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے گداگروں اور ان کے گینگز کے خلاف ایک جامع اور مؤثر آپریشن شروع کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس، ٹریفک پولیس اور محکمہ سماجی بہبود مشترکہ کارروائیاں کریں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ماہ اکتوبر میں 142 بھکاری گرفتار ہوئے جبکہ 19 مقدمات درج کیے گئے، لیکن اصل نتائج رنگ لیڈرز کو پکڑے بغیر ممکن نہیں۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ بھکاریوں کے روپ میں شرپسند عناصر دہشتگردی جیسی کارروائیاں بھی کر سکتے ہیں، اس لیے بھکاری مافیا کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق اکتوبر میں 15 بچے مختلف مقامات سے بھیک مانگتے ہوئے پکڑے گئے، جن میں سے 9 کو ان کے خاندانوں اور 6 کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے ٹریفک پولیس کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ بغیر رجسٹریشن موٹر سائیکل رکشوں کے خلاف بلا تاخیر کارروائی کریں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رکشے ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بننے کے ساتھ ساتھ پھل و سبزی فروخت کر کے سڑکوں پر تجاوزات بھی پیدا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے میونسپل کارپوریشن کو احکام جاری کیے کہ ان رکشوں کو رکھنے کے لیے الگ جگہ مختص کی جائے اور رجسٹریشن کے بغیر کسی رکشے کو سڑک پر نہ چھوڑا جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ صرف اکتوبر میں 14 ٹریفک حادثات میں 14 موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہوئے، جبکہ اُن میں سے 13 افراد بغیر لائسنس کے موٹر سائیکل چلا رہے تھے۔
    انہوں نے موٹر سائیکل سواروں کے لیے ہیلمٹ کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دیا۔

    ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر بھیک مانگنے کی حوصلہ شکنی کریں اور مستحق افراد تک امداد پہنچانے کے لیے محکمہ سماجی بہبود سے رہنمائی حاصل کریں۔

  • سمبڑیال : تجاوزات کے خلاف آپریشن، متعدد تھڑے مسمار، بھاری جرمانے عائد

    سمبڑیال : تجاوزات کے خلاف آپریشن، متعدد تھڑے مسمار، بھاری جرمانے عائد

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو)اسسٹنٹ کمشنر سمبڑیال غلام فاطمہ بندیال کی سربراہی میں تجاوزات کے خلاف بڑا آپریشن کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی کی خصوصی ہدایت پر کیے گئے اس آپریشن کے دوران پانچ دکانوں کے سامنے قائم ناجائز تھڑے گرا دیے گئے جبکہ مختلف سڑکوں پر تجاوزات میں ملوث 20 افراد کا سامان موقع پر قبضے میں لے لیا گیا۔

    انتظامیہ نے کارروائی کے دوران آٹھ تجاوز کنندگان پر مجموعی طور پر 32 ہزار روپے کے جرمانے بھی عائد کیے۔ متعدد افراد کو آئندہ کے لیے سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا گیا کہ سرکاری راستوں پر قبضہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    اسسٹنٹ کمشنر غلام فاطمہ بندیال نے کہا کہ تجاوزات شہریوں کے لیے مشکلات اور ٹریفک کی روانی میں رکاوٹ بنتی ہیں، اس لیے ایسے عناصر کے خلاف بلا تعطل کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کو صاف، محفوظ اور ہموار آمد و رفت کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

  • اوکاڑہ: پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیاں، 300 کلو سے زائد ملاوٹ شدہ اشیاء تلف، مقدمات درج

    اوکاڑہ: پنجاب فوڈ اتھارٹی کی بڑی کارروائیاں، 300 کلو سے زائد ملاوٹ شدہ اشیاء تلف، مقدمات درج

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایات پر صوبے بھر میں ملاوٹ مافیا کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے سلسلے میں پنجاب فوڈ اتھارٹی اوکاڑہ کی فوڈ سیفٹی ٹیم نے دو مختلف مقامات پر کارروائیاں کرتے ہوئے مضر صحت خوراک کی تیاری میں ملوث یونٹس کا سراغ لگا کر بڑی مقدار میں ملاوٹ شدہ اشیاء تلف کر دیں۔

    پہلی کارروائی 39/3-R میں واقع ایک یونٹ پر کی گئی، جہاں ملاوٹی دیسی گھی تیار کیا جا رہا تھا۔ ٹیم نے موقع سے 200 کلو ناقص مکھن، 100 کلو ملاوٹی دیسی گھی اور 100 کلو غیر معیاری کریم ضبط کرکے فوری طور پر تلف کر دی۔ چھاپے کے دوران فیکٹری میں موجود مشینری اور آلات بھی تحویل میں لے لیے گئے، جبکہ یونٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا گیا۔

    فوڈ سیفٹی ٹیم کی دوسری کارروائی ایک مقامی سویٹس یونٹ پر کی گئی جہاں نمونوں میں ملاوٹ ثابت ہونے پر ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کر دیا گیا۔ ٹیم نے پروڈکشن کو معیار میں بہتری اور اصلاح تک فوری بند کرنے کے احکامات جاری کیے۔

    ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق یہ کارروائیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ شہریوں کو معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے۔

    ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی محمد عاصم جاوید نے کہا کہ:
    "معیار سے انحراف کرنے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ عوام کی صحت کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔”

    پنجاب فوڈ اتھارٹی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ملاوٹ یا مشکوک خوراک کی تیاری سے متعلق کسی بھی اطلاع پر فوری طور پر PFA ہیلپ لائن 1223 سے رابطہ کریں۔

  • حاصل پور میں وراثتی زمین پر مبینہ قبضے کی کوشش، انتظامیہ و پولیس خاموش تماشائی

    حاصل پور میں وراثتی زمین پر مبینہ قبضے کی کوشش، انتظامیہ و پولیس خاموش تماشائی

    پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف ام موویبل پراپرٹی آرڈیننس 2025ء کی منظوری ، کسی کی زمین پر قبضے نہ ہونے کا وعدہ مگر حٓاصل پور میں انتظامیہ کی ملی بھگت سے اولڈ وراثتی انتقال شدہ ملکیتی جگہ پرقبضہ کی کوشش
    انتظامیہ، پولیس خاموش متاثرہ خاندان نے انصاف کیلئے پریس کلب کا دروازہ کھٹکھٹا دیا،

    حاصل پور ، وراثتی انتقال شدہ ملکیتی اراضی پر مبینہ قبضے کی کوشش کے خلاف متاثرہ خاندان نے پریس کلب کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ واضح سٹے آرڈر کے باوجود قبضہ مافیا سرگرم ہے جبکہ انتظامیہ اور پولیس مکمل طور پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔متاثرہ خاندان سید ماجد حسین شاہ، سید عدنان اختر و دیگر نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف، چیف سیکریٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سے فوری نوٹس لینے اور قبضہ کرنے یا کروانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    متاثرہ خاندان کے مطابق یہ اراضی ان کے آبا و اجداد کی ملکیت ہے جو کہ کھیوٹ نمبر 183/184، کھتونی نمبر 258، 263 اور دیگر متعلقہ ریکارڈ میں درستگی کے ساتھ درج ہے۔یہ زمین مختلف کیلہ جات پر مشتمل ہے جن کی مجموعی ملکیت کئی دہائیوں سے خاندان کے پاس ہے۔2012 میں ہونے والی ڈگری استقرارِ حق اور انتقال نمبر 11048 میں بھی اس زمین کی ملکیت متاثرین کے نام پر واضح طور پر موجود ہے۔

    متعلقہ کیس سول عدالت میں بعنوان "سید ماجد حسین شاہ و دیگر بنام صوبہ پنجاب و دیگر”زیرِ سماعت تھا، جس میں عدالت نے حکم امتناعی دوامی کے تحت حکم جاری کر رکھا ہے کہ کوئی بھی فریق مدعیان کی ملکیت اور قبضے میں مداخلت نہیں کرے گا۔

    متاثرہ خاندان نے الزام لگایا کہ مدعا علیہم نمبر 5 اور 6 کا اس زمین سے کوئی تعلق نہیں،مگر وہ مبینہ طور پر ضلعی انتظامیہ (مدعا علیہم نمبر 1 تا 4) کی ایماء پر زبردستی قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ریکارڈ مال میں تبدیلی کی کوشش کی جارہی ہے،تعمیرات کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں،عدالت کے حکم کے باوجود قبضہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں،پولیس علاقے میں موجود ہونے کے باوجود ’’کچھ نہیں دیکھتی‘‘متاثرہ خاندان نے کہا کہ انتظامیہ کا طرزِ عمل ثابت کرتا ہے کہ ’’قبضہ کروانے‘‘ میں کچھ عناصر براہِ راست شامل ہیں۔متاثرہ خاندان نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب، کمشنر بہاول پور اور ڈپٹی کمشنر سے درخواست کی ہے کہ قبضہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی جائے،عدالت کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے، متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے،ریکارڈ مال میں ممکنہ غیرقانونی تبدیلی روکنے کیلئے فوری ایکشن لیا جائے

    پریس کانفرنس میں متاثرین نے کہا ہم کئی نسلوں سے اس زمین کے مالک ہیں، عدالت نے بھی ہمارے حق میں حکم دیا ہے مگر قبضہ گروہ طاقت کے زور پر ہماری جائیداد چھیننا چاہتا ہے۔ سٹے آرڈر کے بعد بھی مداخلت ہو رہی ہے۔ ہمیں انصاف دیا جائے،ہ اگر انتظامیہ اور پولیس نے اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو وہ اعلیٰ عدلیہ سے بھی رجوع کریں گے۔

  • ڈیرہ غازی خان: ٹرک ڈرائیور کی ہلاکت۔کانسٹیبل پر دھکے کا الزام، سی سی ٹی وی نے نئے سوال اٹھا دیے

    ڈیرہ غازی خان: ٹرک ڈرائیور کی ہلاکت۔کانسٹیبل پر دھکے کا الزام، سی سی ٹی وی نے نئے سوال اٹھا دیے

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) تھانہ سخی سرور کی حدود میں ٹرک ڈرائیور کی ہلاکت کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ ایف آئی آر میں جاں بحق ہونے والے کلیم اللہ کے بھائی نے الزام عائد کیا تھا کہ پیٹرولنگ پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل نعمت اللہ نے دھکا دیا جس کے باعث وہ تیز رفتار APV کی زد میں آیا، تاہم سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج اس مؤقف سے مختلف صورتحال ظاہر کرتی ہے۔

    ذرائع کے مطابق مبینہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ٹرک ڈرائیور سڑک کراس کر رہا تھا اور اسی دوران ایک تیز رفتار APV اسے ٹکر مارتی ہے، تاہم فوٹیج میں کسی قسم کے دھکے یا ہاتھا پائی کے شواہد نہیں ملے۔

    یہ تضاد واقعے کے اصل حقائق پر نئے سوالات اٹھا رہا ہے۔

    شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے تاکہ حقیقی ذمہ داری کا تعین ہو سکے۔ شہریوں کے مطابق اگر فوٹیج کی روشنی میں دھکے کا الزام ثابت نہیں ہوتا تو ہیڈ کانسٹیبل نعمت اللہ کے خلاف درج مقدمہ ختم کیا جائے اور اصل غفلت برتنے والے کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

    علاقے کے سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ تیز رفتار APV کا ڈرائیور فوری گرفتار کیا جائے اور شاہراہوں پر تیز رفتاری کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے جان لیوا واقعات سے بچا جا سکے۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ فوٹیج، ایف آئی آر اور گواہان کے بیانات کو یکجا کرکے تفتیش آگے بڑھائی جا رہی ہے، جبکہ حتمی رپورٹ انکوائری مکمل ہونے کے بعد پیش کی جائے گی