Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • ڈیرہ غازیخان:مظفرگڑھ، دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب، انتظامیہ ہائی الرٹ

    ڈیرہ غازیخان:مظفرگڑھ، دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب، انتظامیہ ہائی الرٹ

    ڈیرہ غازیخان(باغی ٹی وی رپورٹ)مظفر، دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب، انتظامیہ ہائی الرٹ
    تفصیلات کے مطابق مظفرگڑھ میں دریائے چناب میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے پر انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری فوری طور پر مظفرگڑھ پہنچ گئے۔

    ڈپٹی کمشنر آفس میں سیلابی صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس کی صدارت کمشنر نے کی۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر عثمان طاہر جپہ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز عوید ارشاد اور میڈم انعم سمیت تمام متعلقہ محکموں کے افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ، پی ڈی ایم اے اور محکمہ انہار کو ریلیف پلان کو حتمی شکل دینے کی ہدایت دی گئی۔

    کمشنر اشفاق احمد نے فلڈ کنٹرول روم کا دورہ کیا اور پانی کے بہاؤ کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ اور ریسکیو ادارے 24 گھنٹے الرٹ رہیں گے، بندوں کی مضبوطی اور ریلیف آپریشن کے انتظامات مکمل کئے جائیں، متاثرہ علاقوں میں فوری ریلیف کیمپ قائم کئے جائیں اور عوام کو بروقت آگاہ کرنے کے لیے لوکل نیٹ ورکس کو متحرک کیا جائے۔

    ڈپٹی کمشنر عثمان طاہر جپہ نے نشیبی علاقوں کے مکینوں کو محتاط رہنے اور محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی ایم اے حکام کو ریسکیو اور ریلیف اقدامات حتمی شکل دینے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے۔

    بعد ازاں کمشنر ڈی جی خان نے دریائے چناب کے دوآبہ اور چک روہاڑی فلڈ بند کا بھی دورہ کیا، اس موقع پر چیف انجنیئر اریگیشن رانا ذوالفقار علی اور ڈپٹی کمشنر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ کمشنر کا کہنا تھا کہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں اور متاثرہ مکینوں کے بروقت انخلاء کے ساتھ ریلیف کیمپوں میں سہولیات کو یقینی بنایا جارہا ہے۔

    ڈپٹی کمشنر عثمان طاہر جپہ نے بتایا کہ 30 اگست کو دریائے چناب کا ریلہ ضلع کی حدود میں داخل ہوگا۔ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام سرکاری محکموں کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے مطابق 104 مواضعات اور 76 ہزار نفوس متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 18 ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں جہاں خوراک، علاج اور مویشیوں کی دیکھ بھال کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ اے ڈی سی آر کے مطابق ضلعی اور تحصیل سطح پر قائم کنٹرول رومز 24 گھنٹے آپریشنل ہیں۔

  • اوکاڑہ: سیلابی صورتحال، سول ڈیفنس کی ٹیمیں عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے متحرک

    اوکاڑہ: سیلابی صورتحال، سول ڈیفنس کی ٹیمیں عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے متحرک

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) سول ڈیفنس آفیسر چوہدری وقار اکبر کی زیر نگرانی محکمہ کے اہلکار اور رضاکار رات گئے تک سیلابی صورتحال کے دوران عوامی جان و مال کے تحفظ کے لیے سرگرم رہے۔ محکمہ سول ڈیفنس کی ٹیموں نے دریائے راوی سے ملحقہ ماڑی پتن کے مقام پر موضع بھوجیاں میں لوگوں کے انخلا اور محفوظ مقامات پر منتقلی کے سلسلے میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

    سول ڈیفنس کے اہلکار رات گئے تک ماڑی پتن اور گردونواح کے دیہات سے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مصروف رہے۔ اس موقع پر سول ڈیفنس آفیسر چوہدری وقار اکبر نے کہا کہ سیلابی صورتحال میں عوام کو تحفظ فراہم کرنے اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے محکمہ سول ڈیفنس کی ٹیمیں پوری طرح متحرک ہیں اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر دم تیار ہیں۔

    انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ سیلاب کے دوران اپنی حفاظت اور مال مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے انتظامیہ اور محکمہ سول ڈیفنس کی ٹیموں سے مکمل تعاون کریں۔

  • سابق ایم این اے رمیش کمار کے گھر میں ڈکیتی، ڈاکو کروڑ وں،کا سامان لے اڑے

    سابق ایم این اے رمیش کمار کے گھر میں ڈکیتی، ڈاکو کروڑ وں،کا سامان لے اڑے

    سابق رکن قومی اسمبلی رمیش کمار کے گھر میں ڈکیتی کی واردات، ڈاکو دو کروڑ روپے کا سامان لے اڑے۔

    رمیش کمار نے بتایا کہ 3 مسلح ڈاکو گھر میں داخل ہوئے اور توڑ پھوڑ کی، ڈاکو گھر سے 5 گھڑیاں، چشمے اور جوتے لے گئے جن کی مالیت دو کروڑ روپے بنتی ہے ڈاکووؤں نے ملازمین کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور ان سے میرے بارے میں تفصیلات مانگتے رہے،3 ڈاکو آپس میں پشتو زبان میں بات چیت کررہے تھے۔

    پولیس نے سابق رکن قومی اسمبلی گھر میں ڈکیتی کا مقدمہ درج کر کے ضابطے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔

    سیلاب اور بارشوں سے تباہی،قوم کو متحد ہونا ہوگا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    3 سالہ بیٹی سےمبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار باپ کی ضمانت منظور

    سیلابی ریلہ سندھ میں کب داخل ہوگا؟

  • 30 روپے کا تنازع،2 بھائیوں کو قتل کرنیوالے ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک

    30 روپے کا تنازع،2 بھائیوں کو قتل کرنیوالے ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک

    کوٹ رادھا کشن میں 30 روپے کے تنازع پر 2 بھائیوں کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔

    چند روز قبل موضع رتی پنڈی کے 2 بھائیوں 22 سالہ واجد اور 25 سالہ راشدکا ایک ریڑھی والے سے پھل خریدنے کے بعد محض 30 روپے پر جھگڑا ہوگیا تھا.ریڑھی بان تیمور اور اویس نے اپنے 5 نامعلوم ساتھیوں کے ساتھ مل کر دونوں بھائیوں کو ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس سے 22سالہ واجد موقع پر دم توڑ گیا جب کہ 25سالہ راشد دوران علاج چل بسا تھا،تاہم اب سی سی ڈی ترجمان کا بتانا ہے کہ زیرحراست ملزم اویس اور شہزاد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔

    ترجمان کے مطابق سی سی ڈی گرفتار ملزمان کو نشاندہی کے لیے رائیونڈ لےجا رہی تھی جس دوران زیر حراست ملزمان کے ساتھیوں نے انہیں چھڑوانے کے لیے فائرنگ کردی،ترجمان کا بتانا ہےکہ اس پولیس مقابلے میں گرفتار 2 ملزمان ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔

  • سیالکوٹ: صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق کا نشیبی علاقوں کا دورہ، عوام کے نقصان کے ازالے کا اعلان

    سیالکوٹ: صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق کا نشیبی علاقوں کا دورہ، عوام کے نقصان کے ازالے کا اعلان

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو) صوبائی وزیر بلدیات میاں ذیشان رفیق نے سیالکوٹ کے نشیبی علاقوں کا دورہ کیا اور رنگ پورہ چوک پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیالکوٹ کی تاریخ میں کبھی اتنی زیادہ بارش ریکارڈ نہیں ہوئی۔ صرف ایک دن میں 405 ملی میٹر اور رات کے وقت مزید 110 ملی میٹر بارش سے شہر میں ایمرجنسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

    وزیر بلدیات نے کہا کہ سیالکوٹ اس وقت ایک قدرتی آفت کا سامنا کر رہا ہے لیکن حکومتی اقدامات میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا ریلیف حکومت کی پہلی ترجیح ہے، جہاں بھی سیلاب یا خطرہ ہے وہاں سے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ لوگوں کے نقصان کا ازالہ حکومت کرے گی کیونکہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی ہیں۔

    میاں ذیشان رفیق نے کہا کہ ڈی سی آفس میں قائم کنٹرول روم دن رات کام کر رہا ہے اور نکاسی آب و ریلیف کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک نالہ ایک میں پانی کے بہاؤ کا نظام معمول پر نہیں آتا، نشیبی علاقوں میں پانی موجود رہے گا، تاہم ریلیف ٹیمیں مسلسل سرگرم ہیں۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ ضلعی انتظامیہ، واسا اور میونسپل کارپوریشن کی ٹیمیں گزشتہ 48 گھنٹوں سے فیلڈ میں مصروف ہیں اور شہریوں کو پانی سمیت بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ وزیر بلدیات نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ریلیف سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔

  • اوکاڑہ:دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ، انتظامیہ الرٹ

    اوکاڑہ:دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ، انتظامیہ الرٹ

    اوکاڑہٰ(نامہ نگارملک ظفر) دریائے راوی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھنے کے بعد ضلع اوکاڑہ میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے ایم پی اے چوہدری غلام رضا ربیرہ اور دیگر افسران کے ہمراہ دریائے راوی کے علاقے کا دورہ کیا اور صورتحال کا جائزہ لیا۔

    موضع جندراکہ کے مقام پر پانی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد محکمہ انہار کے افسران نے ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر پانی کا اخراج 2 لاکھ 29 ہزار کیوسک سے زائد جبکہ ہیڈ بلوکی پر 80 ہزار کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے۔ اگلے 24 گھنٹوں کے دوران دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔
    علاقے خالی کرانے کے احکامات: ڈپٹی کمشنر نے دریا سے ملحقہ تمام علاقوں کو فوری طور پر خالی کروانے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔

    تمام محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت: ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    عوام اور مال کا تحفظ:
    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوام اور ان کے مال کو محفوظ بنانے کے لیے تمام دستیاب وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

    ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں متحرک:
    ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کو ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کو متحرک انداز میں سرانجام دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔

  • ننکانہ صاحب: سیلابی صورتحال کے پیش نظر دریائی علاقوں میں دفعہ 144 نافذ

    ننکانہ صاحب: سیلابی صورتحال کے پیش نظر دریائی علاقوں میں دفعہ 144 نافذ

    ننکانہ صاحب(باغی ٹی وی ،نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ضلع ننکانہ صاحب میں حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر انسانی جان و مال کے تحفظ کے لیے دریائی علاقوں میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو کسی بھی ممکنہ نقصان سے بچانا ہے۔ ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق، ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ نے دفعہ 144 کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    حفاظتی انتظامات کے بغیر کشتیوں، فیریوں اور بیڑوں کے ذریعے دریائے راوی کو پار کرنے پر مکمل پابندی عائد ہے۔ پرائیویٹ آپریٹرز کو دریا عبور کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ سے (NOC) حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

    دریائے راوی اور ضلع کی تمام نہروں و ندی نالوں میں نہانے پر بھی دفعہ 144 نافذ ہوگی۔

    دریا اور نہروں کے پلوں پر غیر ضروری طور پر کھڑے ہونے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

    انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ جو افراد سیلاب زدہ علاقوں میں اپنی رہائش نہیں چھوڑیں گے، ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

    ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان ہدایات پر سختی سے عمل کریں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • لنڈی کوتل:وکلاء کا چارسدہ میں ایڈووکیٹ عاصم شاہ کے قتل پر شدید احتجاج، فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    لنڈی کوتل:وکلاء کا چارسدہ میں ایڈووکیٹ عاصم شاہ کے قتل پر شدید احتجاج، فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    لنڈی کوتل(تحصیل رپورٹر) پشاور ہائی کورٹ کے سابق ایگزیکٹو ممبر قبیس شینواری ایڈووکیٹ نے چارسدہ میں قتل ہونے والے ایڈووکیٹ میاں عاصم شاہ کاکاخیل کے بہیمانہ قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی صاف اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔

    ڈسٹرکٹ خیبر پریس کلب لنڈی کوتل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قبیس شینواری ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکلاء برادری اس بے حسی سے ہونے والے قتل پر شدید غم و غصہ میں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایڈووکیٹ عاصم شاہ کا قتل بغیر کسی وجہ کے انتہائی بے دردی سے کیا گیا ہے اور ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

    انہوں نے آئی جی پولیس خیبر پختونخواہ اور دیگر ذمہ داران سے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ قبیس شینواری ایڈووکیٹ نے متنبہ کیا کہ اگر ملزمان کو جلد گرفتار نہیں کیا گیا اور واقعے کی فوری اور صاف و شفاف تحقیقات نہیں کی گئیں تو وکلاء برادری سخت احتجاج پر مجبور ہو جائے گی۔

  • سیالکوٹ: ہیڈ مرالہ بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، پانی ساڑھے 9 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا، فوج طلب

    سیالکوٹ: ہیڈ مرالہ بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، پانی ساڑھے 9 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر گیا، فوج طلب

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو) مون سون بارشوں اور بھارتی آبی جارحیت کے باعث دریائے چناب میں خطرناک سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ہیڈ مرالہ بیراج پر پانی کی آمد 9 لاکھ 20 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گئی ہے، جو 2014 کے تباہ کن سیلاب کی یاد دلا رہی ہے، جب اسی سطح کے پانی نے ہزاروں افراد کو متاثر کیا تھا۔

    محکمہ انہار کے مطابق ہیڈ مرالہ بیراج کی گنجائش 11 لاکھ کیوسک ہے، تاہم موجودہ بہاؤ ساڑھے 9 لاکھ کیوسک سے زیادہ ہو گیا ہے۔ اگر پانی کی سطح مزید بلند ہوئی تو ہیڈ مرالہ کے حفاظتی بند کو گجرات کی جانب سے توڑنے کا امکان ہے، جس سے متعدد دیہات زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ خانکی کے مقام پر پانی کی آمد 4 لاکھ 32 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ دریائے راوی اور ستلج میں بھی بپھرا ہوا ریلا کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیالکوٹ میں اب تک 405 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد 27 اگست کو تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ضلع بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے اور شہریوں کو گھروں میں رہنے، بلا ضرورت سفر سے گریز کرنے اور ندی نالوں کے قریب نہ جانے کی سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    دوسری طرف سیلابی صورتحال کے پیش نظر حکومت پنجاب نے فوج اور آرمی ایوی ایشن کو ریسکیو و ریلیف سرگرمیوں کے لیے طلب کر لیا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے وفاقی وزارتِ داخلہ کو خط لکھ کر فوجی دستوں کی فوری تعیناتی کی درخواست کی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی دستے اور ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز مل کر ریلیف آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔

    گجرات میں دریائے چناب کے کری شریف حفاظتی بند کے اوپر سے پانی گزرنا شروع ہو گیا ہے، جس نے بند کو توڑ کر قریبی سڑکوں کو بھی ڈبو دیا ہے، نتیجتاً ٹریفک معطل ہو گئی اور دیہاتی شدید مشکلات میں گھر گئے۔ سراخ پور، کری شریف اور خلیل پور سمیت متعدد دیہات کے مکینوں نے انتظامیہ کی تاخیر پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے کیونکہ اب تک امدادی ٹیمیں کئی متاثرہ مقامات تک نہیں پہنچ سکیں۔

    بھمبھر نالے میں طغیانی سے دادو برسالہ، گوجر کوٹلہ اور پلاوڑی دیہات کو بھی خطرہ لاحق ہے جہاں پانی کا کٹاؤ صرف 15 فٹ کے فاصلے پر رہ گیا ہے۔ شکرگڑھ کے گاؤں جرمیاں جھنڈا سے لوگوں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے، اسسٹنٹ کمشنر عدنان عاطف اور ڈپٹی کمشنر نارووال سید حسن رضا خود امدادی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

    شدید بارش اور پانی کی بلند سطح کے باعث ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اب تک دریائے راوی سے 294 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ راولپنڈی، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ اور حافظ آباد سے ریسکیو ٹیموں کو نارووال منتقل کیا گیا ہے۔ ادھر گجرات شہر میں ایک بار پھر موسلا دھار بارش سے نکاسی آب کا نظام مفلوج ہو گیا ہے اور عوام کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔

  • قلعہ دیدار سنگھ میں دلخراش واقعہ، 6 سالہ بچہ مشین میں آ کر جاں بحق

    قلعہ دیدار سنگھ میں دلخراش واقعہ، 6 سالہ بچہ مشین میں آ کر جاں بحق

    گوجرانوالہ(باغی ٹی وی،نامہ نگارمحمدرمضان نوشاہی) گوجرانوالہ کے علاقہ قلعہ دیدار سنگھ میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک 6 سالہ بچہ پلاسٹک دانہ مکسر مشین میں آ کر جاں بحق ہو گیا۔

    تفصیلات کے مطابق، محلہ محمد پورہ میں 6 سالہ معیز مشین پر بیٹھا تھا کہ اچانک اس کا ہاتھ بٹن پر لگنے سے مشین چل پڑی۔ شور کی آواز سن کر لوگ اس کی طرف دوڑے لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے ہی معیز دم توڑ چکا تھا۔

    پولیس تھانہ قلعہ دیدار سنگھ نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی کارروائی شروع کر دی ہے۔