Baaghi TV

Category: جرائم و حادثات

  • گھوٹکی: پانی کے تنازع پر جھگڑا، ایک نوجوان زخمی

    گھوٹکی: پانی کے تنازع پر جھگڑا، ایک نوجوان زخمی

    گھوٹکی (نامہ نگار،مشتاق لغاری) گھوٹکی کے قریب تھانہ عادلپور کی حدود میں پانی کے حصے پر چاچڑ برادری کے دو گروپوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے میں ایک نوجوان زخمی ہو گیا۔

    یہ واقعہ گاؤں اللہ بخش چاچڑ عرف جھنڈانی چاچڑ میں پیش آیا، جہاں پانی کی تقسیم پر تنازعہ شدت اختیار کر گیا۔ جھگڑے کے دوران کلہاڑی اور مکوں کے وار سے علی گوہر چاچڑ شدید زخمی ہو گیا۔

    زخمی نوجوان کو فوری طور پر تعلقہ اسپتال گھوٹکی منتقل کیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ علی گوہر چاچڑ نے اپنے چچا عبدالحمید، عبدالجبار اور عبدالکریم چاچڑ پر حملہ کرنے کا الزام لگایا اور بتایا کہ ملزمان واردات کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی عادلپور پولیس نے رپورٹ درج کر کے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر دیے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں پانی اور زمین کے تنازعات پر جھگڑے عام ہیں، جو اکثر کشیدگی کا باعث بنتے ہیں۔

  • گوجرانوالہ:سرجیکل فیکٹری میں چوری، "تاجو خنجر گینگ” کے تین ملزمان گرفتار

    گوجرانوالہ:سرجیکل فیکٹری میں چوری، "تاجو خنجر گینگ” کے تین ملزمان گرفتار

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی،نامہ نگارمحمدرمضان نوشاہی) تھانہ سوہدرہ پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے گوجرانوالہ کی ایک سرجیکل فیکٹری میں ڈکیتی کرنے والے "تاجو خنجر گینگ” کے سرغنہ سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    گرفتار ہونے والوں میں گینگ کا سرغنہ امتیاز عرف تاجو، سلیمان اور سبحان شامل ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے 17 لاکھ 33 ہزار روپے نقد، ایک پمپ ایکشن رائفل، دو خنجر، دو پسٹل اور ایک موبائل فون برآمد کیا ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ گینگ کے سرغنہ امتیاز عرف تاجو نے اعتراف کیا ہے کہ وہ ایک نجی بینک میں سیکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتا تھا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر ڈکیتی کی وارداتیں کرتا تھا۔

    پولیس نے جدید سائنسی طریقوں کی مدد سے ملزمان کو ٹریس کیا اور انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کامیابی پر سی پی او گوجرانوالہ نے پولیس کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ شہریوں کو لوٹنے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

  • کراچی میں قتل ہونیوالے3 خواجہ سرا مرد نکلے،پوسٹ مارٹم رپورٹ

    کراچی میں قتل ہونیوالے3 خواجہ سرا مرد نکلے،پوسٹ مارٹم رپورٹ

    کراچی میں سپر ہائی وے میمن گوٹھ میں،قتل ہونیوالے3 خواجہ سرا مرد نکلے-

    کراچی میں سپر ہائی وے میمن گوٹھ ناگوری سوسائٹی کے قریب تین خواجہ سراؤں کے اندوہناک قتل کی تحقیقات جاری ہیں گزشتہ روز ملنے والی لاشوں کا رات گئے پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ تینوں مقتول خواجہ سرا بائیولوجیکل مرد تھے پولیس نے قتل کا مقدمہ مقتولین کے ساتھی محمد ظفر کی مدعیت میں درج کر لیا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق مقتولین کی شناخت مختلف ناموں سے کی گئی ہے پولیس رپورٹ کے مطابق ان میں سے دو کی اصل شناخت محمد جینل اور الیکس ریاست کے نام سے ہوئی جبکہ تیسرے مقتول کی اصل شناخت تاحال سامنے نہیں آ سکی تاہم، انہیں عینی، اسما اور ثمینہ کے ناموں سے جانا جاتا تھا۔

    ناتجربہ کاری کی وجہ سے پنجاب میں سیلاب سے تباہی کا دائرہ وسیع ہوا، شرجیل میمن

    ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ مقتولین 20 ستمبر کی شام ساڑھے سات بجے گھروں سے نکلے تھے اور رات دو بجے تک واپس نہ آئے ان کے ساتھی نے بار بار کالز کیں لیکن جواب نہیں ملا بعد ازاں واٹس ایپ گروپ کے ذریعے اطلاع ملی کہ ان کی لاشیں میمن گوٹھ سے ملی ہیں پولیس کے مطابق تینوں کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا، دو کو سینے پر اور ایک کو سر پر گولی ماری گئی۔ جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے دو خول اور کچھ ذاتی سامان بھی برآمد ہوا ہے۔

    بلدیاتی ضمنی انتخابات : سندھ کے 14 اضلاع میں بدھ کو عام تعطیل کا اعلان

    واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ نے بھی نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس کو فوری طور پر قاتلوں کی گرفتاری کے احکامات جاری کیے ہیں وزیراعلیٰ نے کہا کہ قاتلوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور پولیس جلد از جلد رپورٹ پیش کرے انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کسی معصوم شہری کے قتل کو برداشت نہیں کرے گی۔

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

  • کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ گرو کی مدعیت میں درج

    کراچی کے میمن گوٹھ تھانے میں 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا، گزشتہ روز 3 خواجہ سراؤں کو فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا جن کی لاشیں میمن گوٹھ میں سپرہائی وے سے ملی تھیں۔

    میمن گوٹھ تھانے میں 3 خواجہ سراؤں کے قتل کا مقدمہ قتل کی دفعہ 302 کے تحت ان کے گرو ظفر کی مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے،مدعی مقدمہ نے موقف اپنایا ہے کہ ہم سب خواجہ سرا ایک ہی علاقے میں مختلف کمروں میں رہائش پذیر تھے، ہمیں بذریعہ واٹس ایپ معلوم ہوا کہ ہمارے ساتھیوں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا ہےمقتولین میں ایلکس، جیئل اور اسما شامل ہیں، تینوں خواجہ سراؤں کو نامعلوم افراد نے نامعلوم وجوہات پر قتل کیا ہے۔

    پولیس کے مطابق تینوں خواجہ سراؤں کی لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثا کے حوالے کردیا گیا ہے، شواہد کی مدد سے قاتلوں کی گرفتاری کی کوششیں کی جارہی ہیں،واجہ سراؤں کے قتل کو ہائی پروفائل کیس کے طور پر دیکھ رہے ہیں، قاتلوں کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہیں۔

    واضح رہے کہ 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں گزشتہ روز میمن گوٹھ کے علاقے میں ناگوری سوسائٹی کے قریب سپر ہائی وے سے ملی تھیں،دو خواجہ سراؤں کو سینے جبکہ ایک کو سر پر ایک ایک گولی ماری گئی تھی، جائے وقوع سے نائن ایم ایم کے دو خول ملے ہیں، کرائم سین پر کوئی کیمرا نہیں لگا ہوا، خواجہ سراؤں کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی،واقعے کے بعد لاشیں جناح ہسپتال منتقل کی گئی تھیں جہاں خواجہ سراؤں نے قاتلوں کی گرفتار کے لیے احتجاج بھی کیا تھا اور ملزمان کی عدم گرفتاری کی صورت میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے کی دھمکی دی تھی۔

  • کراچی: 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں برآمد، وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ طلب کرلی

    کراچی: 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں برآمد، وزیراعلیٰ سندھ نے رپورٹ طلب کرلی

    کراچی کے علاقے میمن گوٹھ سے 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں ملی ہیں۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایم نائن موٹر وے کے ساتھ میمن گوٹھ سے 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں ملی ہیں، تینوں خواجہ سراؤں کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا، تینوں کے سر سینے اور ہاتھوں پر گولیاں لگی ہوئی ہیں، بظاہر لگتا ہے تینوں افراد سڑک کنارے لفٹ لینے کے لیے کھڑے تھے، ممکنہ طور پر تینوں کو فائرنگ کرکے قتل کیاگیا اور ملزم فرار ہوگیا۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جائے واقعے گولیوں کے دو خول ملے ہیں، تینوں لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، پوسٹ مارٹم کے بعد مزید شواہد سامنے آسکیں گے، تمام پہلوؤں پر تحقیقات کر رہے ہیں، جائے وقوعہ ویران جگہ ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ کا خواجہ سراؤں کے قتل کا نوٹس، آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی، مراد علی شاہ نے میمن گوٹھ کے قریب سے 3 خواجہ سراؤں کی لاشیں ملنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ پولیس کو قاتلوں کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

    ترجمان وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مراد علی شاہ نے ہدایت کی ہے کہ خواجہ سراؤں کے قاتلوں کو ہرصورت گرفتار کر کے رپورٹ پیش کی جائےخواجہ سرا معاشرے کا وہ مظلوم طبقہ ہے جسے ہم سب نے عزت اور احترام دینا ہے، ریاست کسی بھی مظلوم اور معصوم شہری کا قتل برداشت نہیں کرے گی۔

    دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار کا کہنا ہے کہ ایس ایس پی ملیر واقعے سے متعلق ابتدائی معلومات سے آگاہ کریں، جائے وقوعہ سے شواہد کی تفتیش جدید اور ماڈرن تیکنیک کی بنیاد پر کی جائے، قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری میں انٹیلیجینس ذرائع بھی استعمال کیے جائیں۔

  • ٹھٹھہ: ‘اندھے قتل’ کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

    ٹھٹھہ: ‘اندھے قتل’ کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

    ٹھٹھہ (ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) ٹھٹھہ پولیس نے ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ولیج اگاریو پٹیل خاصخیلی میں پیش آنے والے ‘اندھے قتل’ کیس کو حل کر لیا ہے۔ پولیس نے اس واردات میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق 13 ستمبر 2025 کو کھیتوں میں علی نواز ملاح نامی شخص کی تشدد زدہ لاش ملی تھی، جس پر تھانہ ساکرو میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایس ایس پی ٹھٹھہ فاروق احمد بجارانی نے کیس کی اہمیت کے پیش نظر ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی۔

    اس ٹیم نے ایس ڈی پی او ساکرو قادر بخش خاصخیلی کی زیر نگرانی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے ملزمان سلیم ملاح اور غلام مصطفیٰ ملاح کو گرفتار کر لیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران دونوں ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

    ایس ایس پی ٹھٹھہ نے اس اہم کیس کو حل کرنے پر پولیس ٹیم کی کارکردگی کو سراہا اور انہیں تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے۔

  • میرپورخاص: چھالیہ کا بڑا چورا برآمد، ایک گرفتار

    میرپورخاص: چھالیہ کا بڑا چورا برآمد، ایک گرفتار

    میرپورخاص (نامہ نگار سید شاہزیب شاہ): میرپورخاص پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے مین پڑی میں استعمال ہونے والی چھالیہ کے چورے کی ایک بڑی کھیپ کو قبضے میں لے لیا ہے۔ ایس ایچ او تعلقہ غازی خان، راجڑ کی زیرِ نگرانی انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں تقریباً 2860 کلوگرام چھالیہ کا چورا برآمد کیا گیا اور ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

    پولیس کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ بھاری مقدار میں چھالیہ کا چورا مین پڑی کیلئے سپلائی کیا جا رہا ہے۔ اس اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے ہینو ٹرک (نمبر TTA-580) کو روکا اور اس کی تلاشی لی۔ تلاشی کے دوران، ٹرک سے 260 کٹے برآمد ہوئے، جن میں چھالیہ کا چورا بھرا ہوا تھا۔ اس کھیپ کا مجموعی وزن 2860 کلوگرام ہے۔

    پولیس نے موقع پر ہی ٹرک ڈرائیور محمد جاوید گوپانگ کو حراست میں لے لیا، جس کا تعلق ضلع مظفرگڑھ، پنجاب سے ہے۔ ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی سے علاقے میں مضر صحت اشیاء کی سپلائی کا سلسلہ روکنے میں مدد ملے گی۔

  • اوکاڑہ: پولیس کا بڑا کارنامہ، 35 لاکھ مالیت کے 71 چوری شدہ موبائل فونز برآمد

    اوکاڑہ: پولیس کا بڑا کارنامہ، 35 لاکھ مالیت کے 71 چوری شدہ موبائل فونز برآمد

    اوکاڑہ (نامہ نگار،ملک ظفر)ڈسٹرکٹ پولیس اوکاڑہ کی آئی ٹی ونگ نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ماہ کے اندر 35 لاکھ روپے مالیت کے 71 چوری اور ڈکیتی شدہ موبائل فونز برآمد کر کے ان کے اصل مالکان کے حوالے کر دیے۔

    اس سلسلے میں ڈی پی او آفس کے کمیونٹی لائنزون سینٹر میں ایک سادہ مگر پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) راشد ہدایت نے خود شہریوں کو ان کے موبائل فونز واپس کیے۔ اس موقع پر شہریوں نے پولیس کی اس شاندار کارکردگی پر خوشی کا اظہار کیا اور اوکاڑہ پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

    ڈی پی او راشد ہدایت نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پولیس کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے، جس کا فائدہ براہِ راست عوام کو ہو رہا ہے۔ انہوں نے آئی ٹی ونگ کی ٹیم اور انچارج نور صمند ناہرہ کی کاوشوں کو سراہا اور انہیں شاباش دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری رہیں گی۔

  • پنڈی بھٹیاں : ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 5 بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق

    پنڈی بھٹیاں : ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 5 بچوں سمیت 7 افراد جاں بحق

    پنڈی بھٹیاں میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے خاتون ٹیچر اور پانچ بچوں سمیت 7 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثہ سکھیکی منڈی کے محلہ فاروق اعظم میں پیش آیا، جہاں ایک رہائشی مکان میں ٹیوشن کلاسز جاری تھیں، ماں اور بیٹا بچوں کو پڑھا رہے تھے کہ اسی دوران مکان کی چھت اچانک منہدم ہو گئی، جس کے نتیجے میں وہ اور کئی طالب علم ملبے تلے دب گئے،واقعے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور متاثرین کو تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا، جہاں متعدد افراد کی اموات کی تصدیق کی گئی۔

    حادثے میں ٹیچر، ان کا بیٹا اور 5 طالب علم جاں بحق ہوئے واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر حافظ آباد، عاطف نذیر موقع پر پہنچے اور امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیاڈی پی او نے ریسکیو اداروں کو ہدایت دی کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جائے اور ملبہ ہٹانے کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائےانہوں نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت و ہمدردی بھی کی۔

    شہر میں ترقیاتی منصوبوں کا تعطل سابق حکومت کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، رانا ثنااللہ

    ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثے کے بعد ابتدائی طور پر 3 طلبہ کی اموات رپورٹ ہوئیں، تاہم زخمیوں میں سے مزید افراد دورانِ علاج دم توڑ گئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 7 ہو گئی، جن میں ٹیچر اور ان کا بیٹا بھی شامل ہیں،ریسکیو حکام نے جاں بحق ہونے والوں کی شناخت بھی جاری کی، جن میں 60 سالہ سرور بی بی، 9 سالہ عبدالرحمٰن، 5 سالہ عمر، 4 سالہ روہان اور 8 سالہ ریحان شامل ہیں۔

    گوجرانوالہ:ملازم کے قتل کا مقدمہ درج نہ کرنے پر لواحقین کا احتجاج، حافظ آباد روڈ بلاک

  • گوجرانوالہ:ملازم کے قتل کا مقدمہ درج نہ کرنے پر لواحقین کا احتجاج، حافظ آباد روڈ بلاک

    گوجرانوالہ:ملازم کے قتل کا مقدمہ درج نہ کرنے پر لواحقین کا احتجاج، حافظ آباد روڈ بلاک

    گوجرانوالہ (نامہ نگار،محمدرمضان نوشاہی) گوجرانوالہ کے علاقہ قلعہ دیدار سنگھ میں جنرل سٹور کے مالک کے تشدد سے ایک ملازم کی ہلاکت کے بعد لواحقین نے مقدمہ درج نہ ہونے پر نعش سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا۔ شدید غم و غصے میں مبتلا مظاہرین نے حافظ آباد روڈ دونوں اطراف سے بند کر دی اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

    احتجاج کے دوران ایک ناخوشگوار واقعہ بھی پیش آیا جب مظاہرین میں شامل خواتین سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے ایک شخص کو مظاہرین نے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ تاہم، مقامی ڈی ایس پی سرکل اور پولیس نے بروقت مداخلت کر کے ملزم کو مظاہرین کے ہتھے سے چھڑوا لیا۔

    تھانہ لدھیوالہ پولیس کی جانب سے قتل کا مقدمہ درج کرنے کی یقین دہانی کے بعد لواحقین نے احتجاج ختم کر دیا اور ٹریفک کی روانی بحال ہو سکی۔