وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ 50 ہزار سے زائد طلبہ MDCAT پاس کرنے کے باوجود میڈیکل کالجز میں داخلے سے محروم رہ جاتے ہیں، کیونکہ ملک میں میڈیکل کالجز کی نشستیں ناکافی ہیں۔
کراچی میں کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان کی 59ویں کنووکیشن کی تقریب میں وفاقی وزیرِ صحت بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ تقریب میں ملکی اور غیر ملکی طبی ماہرین، سینئر ڈاکٹرز اور سینکڑوں نئے اہل ڈاکٹروں کو ڈگریاں تفویض کی گئیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ صحت نے بتایا کہ ملک اپنے ڈاکٹرز کی وجہ سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کی زیادہ تعداد کی وجہ سے اہل امیدوار بیرونِ ملک جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جو ایک تعلیمی اور صحت کا بحران ہے۔ حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور میڈیکل کالجز کی سیٹس بڑھانے پر کام جاری ہے۔
سید مصطفیٰ کمال نے یہ بھی بتایا کہ قطر میں پاکستانی ڈاکٹروں کی درجہ بندی کم ہونے کے مسئلے کو سفارتی سطح پر اٹھایا گیا، جس کے بعد قطر نے پاکستانی ڈاکٹروں کے لیے امتحان کی شرط ختم کر کے سابقہ حیثیت بحال کر دی ہے۔ اب پاکستانی ڈاکٹرز اپنی ڈگری کی بنیاد پر براہِ راست قطر میں خدمات انجام دے سکیں گے۔
Category: تعلیم
50 ہزار سے زائد ایم ڈی کیٹ پاس طلبا میڈیکل کالجز میں داخلے سے محروم, وفاقی وزیر صحت

سی ایس ایس 2026 کے امتحان میں شرکت کرنے والوں کے لئے اہم ہدایات جاری
سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) 2026 کے امتحان میں شرکت کے خواہشمند امیدواروں کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن ( ایف پی ایس سی) نے اہم ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ایف پی ایس سی کے مطابق سی ایس ایس 2026 کے تحریری امتحانات کا آغاز 4 فروری 2026 سے ہوگا کمیشن نے تمام رجسٹرڈ امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ امتحان سے قبل اپنےقومی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ کی میعاد کی تصدیق کر لیں، کیونکہ میعاد ختم شدہ شناختی دستاویزات کے ساتھ امتحانی ہال میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی،تاہم شناختی کارڈ کو فوری طور پر ری نیو کروائیں۔
نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ امیدوار امتحان کے دن شناخت اور دیگر کاغذی کارروائی مکمل کرنے کے لیے کم از کم 50 منٹ پہلے امتحانی مرکز پہنچیں، جبکہ تاخیر سے آنے والوں کو ہال میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا،ایف پی ایس سی نے امتحانی ہال میں اضافی مواد، نوٹس، سٹینسلز یا غیر متعلقہ اشیا لانے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے اور صرف منظور شدہ اشیاء ساتھ لانے کی اجازت ہوگی۔
کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ ہدایات کی خلاف ورزی کی صورت میں تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے، جس میں امتحان کے لیے نااہلی بھی شامل ہو سکتی ہے۔

پنجاب میں تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی اور طلبہ کی ذہنی صحت کے لیے بڑے اقدامات
پنجاب حکومت نے تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی مضبوط بنانے اور طلبہ کی ذہنی صحت کے تحفظ کے لیے اہم اقدامات متعارف کرا دیے ہیں۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق پنجاب سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت صوبے کے 30 ہزار سے زائد اسکولوں، کالجوں اور جامعات کو سیف سٹی سسٹم سے منسلک کر دیا گیا ہے، جبکہ طلبہ کی ذہنی صحت کے لیے ایمرجنسی ہیلپ لائن بھی شروع کر دی گئی ہے۔
سیف سٹی سسٹم سے منسلک ہونے کے بعد تعلیمی ادارے روزانہ تین بار سیفٹی ایپ کے ذریعے اپنی سیکیورٹی اسٹیٹس اپڈیٹ کریں گے۔ اس مقصد کے لیے ورچوئل سینٹر فار ایجوکیشنل سیکیورٹی قائم کیا گیا ہے، جہاں ایک ایپ کے ذریعے تمام اداروں کی سیکیورٹی ایک کلک پر مانیٹر کی جا سکے گی۔
ذہنی دباؤ، ناامیدی اور خودکشی جیسے بڑھتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کے لیے پنجاب سیف سٹی نے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 بھی متعارف کرائی ہے۔ اس ہیلپ لائن پر ڈپریشن، خوف، ناامیدی یا خودکشی کے خیالات کی صورت میں خصوصی کونسلنگ فراہم کی جائے گی، جہاں ماہرِ نفسیات فوری طور پر رابطہ کر کے مدد فراہم کریں گے۔
ورلڈ ایجوکیشن ڈے کے موقع پر شہزاد رائے کا گانا سوشل میڈیا پر وائرل
معروف گلوکار، سماجی کارکن اور ایجوکیشن ایکٹیوسٹ شہزاد رائے نے ورلڈ ایجوکیشن ڈے کے موقع پر تعلیمی نظام پر طنز کرتے ہوئے نیا گانا “لیٹ ہو گئے” ریلیز کر دیا۔
“لیٹ ہو گئے” گانے کی ویڈیو میں شہزاد نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے والدین سے سوال کیا “کیا آپ نے ابھی تک اپنے بچے کو اسکول میں داخل کروا دیا ہے؟” جس پر والدین حیران ہو جاتے ہیں کہ ابھی تک جو بچہ پیدا ہی نہیں ہوا، اس کا داخلہ کیسے ممکن ہے، جواب میں شہزاد رائے کہتے ہیں “لیٹ ہوگئے” یہ منظر بچوں پر ابتدائی عمر سے ڈالے جانے والے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
ویڈیو میں شہزاد رائے مختلف کرداروں میں نظر آتے ہیں، اور بار بار جملہ “لیٹ ہو گئے” دہراتے ہیں اس انداز نے گانے کے پیغام کو مزید مؤثر اور طنزیہ بنایا ہے،ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح اعلیٰ طبقے کے اسکولوں میں چھوٹے بچوں کے داخلے کے لیے سخت انٹرویوز اور معیارات قائم کیے جاتے ہیں ، اور بچوں پر اسکول جانے سے قبل ہی دباؤ ڈالنا شروع ہو جاتا ہے ایک منظر میں چھوٹی لڑکی والدین اور نظام سے التجا کرتی ہے کہ اسے صرف جینے کے لیے کچھ وقت دیا جائے، قبل اس کے کہ توقعات اور معیار کا بوجھ اس پر ڈال دیا جائے۔
سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کا عمرہ، خبروں پر قومی اسمبلی کی وضاحت جاری
گانے میں تعلیمی نظام کے دیگر پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، جیسے زبان کا فرق اور انگریزی تعلیم کا دباؤ، جہاں بچے گھر میں اپنی مادری زبان بولتے ہیں مگر اسکول میں انگریزی میں پڑھائی ہوتی ہے، جس سے ذہنی دباؤ اور الجھن بڑھتی ہے علاوہ ازیں، ٹیوشن کلچر اور بھرپور پڑھائی کے باعث بچوں کے لیے آرام اور کھیل کود کا وقت نہ ہونا بھی واضح کیا گیا ہے، جو بچوں کی ذہنی تھکان اور روزمرہ کے دباؤ کو اجاگر کرتا ہےشہزاد رائے کا پیغام واضح ہے کہ تعلیم صرف مقابلہ بازی اور بوجھ کا ذریعہ نہیں بن سکتی، بلکہ بچوں کی فکری نشونما، خوشی اور مجموعی ترقی کا ذریعہ ہونی چاہیے۔

پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیوں میں مزید توسیع کردی گئی ہے۔
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے بتایا کہ صوبے بھر میں اسکول، کالجز اور دیگر تعلیمی ادارے اب 19 جنوری سے دوبارہ کھولے جائیں گے، جبکہ سردیوں کی چھٹیاں 18 جنوری تک برقرار رہیں گی۔
وزیر تعلیم کے مطابق سرد موسم اور طلبہ و اساتذہ کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے چھٹیوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ متعلقہ محکموں اور ماہرین سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں محفوظ ماحول میں بحال کی جاسکیں۔
محکمہ تعلیم نے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ وہ نئی تاریخ کے مطابق تعلیمی شیڈول ترتیب دیں۔
مقابلے کے امتحان سی ایس ایس 2026 کی باقاعدہ ڈیٹ شیٹ جاری
فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) نے مقابلے کے امتحان سی ایس ایس 2026 کی باقاعدہ ڈیٹ شیٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق تحریری امتحانات کا آغاز 4 فروری 2026 سے ہوگا۔
جاری کردہ شیڈول کے مطابق امتحانات کے پہلے روز امیدواروں سے انگریزی مضمون نگاری (Essay) کا پرچہ لیا جائے گا، جب کہ 5 فروری 2026 کو Precis & Composition کا امتحان منعقد ہوگا اس کے بعد جنرل نالج کے مضامین کے پرچے 6، 7 اور 8 فروری کو ہوں گے 9 فروری 2026 کو اسلامیات یا غیر مسلم امیدواروں کے لیے تقابلی مطالعۂ مذاہب کا پرچہ لیا جائے گا۔
ایف پی ایس سی کے مطابق اختیاری مضامین کے امتحانات 10 فروری سے 15 فروری 2026 تک جاری رہیں گے، جن کے پرچے مختلف گروپس کے تحت صبح اور شام کے سیشنز میں منعقد کیے جائیں گے۔
حمل کا جھانسہ: مردوں سے لاکھوں روپے بٹورنے والا گروہ پکڑا گیا
فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے تمام امیدواروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈیٹ شیٹ کے مطابق اپنی تیاری مکمل کریں اور امتحانی مراکز، رول نمبر سلپس اور دیگر جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کریں تاکہ کسی بھی قسم کی پریشانی سے بچا جا سکے۔

ملالہ یوسفزئی کا جنگ زدہ علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے 3 لاکھ ڈالر امداد کا اعلان
نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے غزہ، سوڈان اور جمہوریہ کانگو میں تنازعات سے متاثرہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے 3 لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اس امدادی رقم میں سے ایک لاکھ ڈالر غزہ، ایک لاکھ ڈالر سوڈان اور ایک لاکھ ڈالر جمہوریہ کانگو کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جہاں جاری تنازعات کے باعث لاکھوں لڑکیاں تعلیم سے محروم ہو چکی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ملالہ یوسفزئی نے ان علاقوں میں شدید حالات کا سامنا کرنے والی لڑکیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم بحران کے شکار معاشروں کے لیے امید اور مستقبل کی واحد ضمانت ہے۔
ملالہ نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ لڑکیوں کے تعلیم کے حق کا تحفظ یقینی بنائیں، جبکہ عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ جنگی جرائم کے مرتکب عناصر کو بین الاقوامی قوانین کا پابند بنایا جائے۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی حمایت کریں۔
قومی زبان اردو ہے، آئندہ انگریزی تقریر برداشت نہیں ہوگی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے شہید بے نظیر بھٹو ویمنز یونیورسٹی کی وائس چانسلر کی جانب سے انگریزی میں کی گئی تقریر پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اردو میں خطاب کی ہدایت جاری کر دی۔
پشاور میں یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وائس چانسلر کی انگریزی تقریر انہیں پسند نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور تمام سرکاری و تعلیمی تقاریب میں اسی زبان کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ آئندہ اگر انگریزی میں تقریر کی گئی تو وہ سخت ردعمل دیں گے، جبکہ تمام جامعات کو اردو میں خطاب کی ہدایات پہلے ہی دی جا چکی ہیں۔
تقریب سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے سیکیورٹی صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں 14 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، تاہم ان کے باوجود دہشت گردی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات قوم کو اعتماد میں لے کر کیے جانے چاہئیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ماضی میں قبائلی علاقوں میں غربت اور محتاجی کا یہ عالم نہیں تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے لیے بارہا قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔
پنجاب میں4 سال بعد آٹھویں کے بورڈ امتحانات کا اعلان
لاہور: پنجاب میں 4 سال بعد آٹھویں جماعت کے سالانہ بورڈ امتحانات مارچ 2026 میں ہوں گے۔
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات خان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پیکٹا کی جانب سے سالانہ بورڈ امتحانات کا شیڈول تیار کر لیا گیا اور پیکٹا کے زیر اہتمام بورڈ امتحانات 5 مارچ سے شروع ہوں گے پیکٹا کی جانب سے امتحانات کی تیاری کے لیے کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اور پنجاب بھر میں ایک پیٹرن پر امتحان منعقد کیا جائے گا،پیکٹا حکام کے مطابق تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی سے فوکل پرسنز کی نامزدگیاں منگوا لی گئی ہیں۔
دوسری جانب پنجاب حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں امتحانی نظام کو جدید ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کا اعلان کر دیا۔
اوکاڑہ: کمشنر ساہیوال کا کرسمس انتظامات کا جائزہ، سہولیات پر اطمینان
چیئرمین ٹاسک فورس برائے امتحانات پنجاب مزمل محمود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام تعلیمی بورڈز میں ای مارکنگ کا عمل متعارف کرایا جا رہا ہے، تاکہ امتحانی نظام میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے اس منصوبے کا پائلٹ مرحلہ 2026 میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے کمپیوٹر امتحانات سے شروع کیا جائے گا۔
مزمل محمود نے کہا کہ صوبے بھر کے تمام امتحانی مراکز میں ڈیجیٹل حاضری کا نظام نصب کیا جائے گا اور تمام طلبا کی حاضری بائیو میٹرک کے ذریعے لی جائے گی ڈیجیٹل اصلاحات کا یہ منصوبہ آئندہ 3 برس میں مرحلہ وار مکمل طور پر نافذ کر دیا جائے گاامتحانی نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام تعلیمی بورڈز کے لیے یکساں سوالات پر مشتمل مرکزی سوالیہ بینک بھی قائم کیا جائے گا جس سے امتحانی معیار میں بہتری اور یکسانیت پیدا ہو گی،ان اصلاحات کا مقصد نقل اور بے ضابطگیوں کا خاتمہ، امتحانی عمل میں شفافیت اور طلبا کو ایک منصفانہ نظام فراہم کرنا ہے۔

ممتاز ماہرِ تعلیم ڈاکٹر منظور احمد انتقال کر گئے
ممتاز ماہرِ تعلیم ڈاکٹر منظور احمد 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے-
پاکستان کے نامور ماہرِ تعلیم، فلسفی اور جامعہ کراچی کے سابق ڈین آف آرٹس ڈاکٹر منظور احمد پیر کے روز طویل علالت کے بعد 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔
ڈاکٹر منظور احمد کا تعلیمی سفر اور خدمات نہایت وسیع تھیں وہ نہ صرف جامعہ کراچی کے شعبہ فلسفہ کے سابق چیئرمین رہے بلکہ انہوں نے 1991ء سے 1994ء تک بطور ڈین آف آرٹس بھی گراں قدر خدمات سرانجام دیں،اس کے علاوہ وہ عثمان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ریکٹر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔
جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے ڈاکٹر منظور احمد کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہےانہوں نے ڈاکٹر منظور احمد کی تعلیمی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ہےاپنے تعزیتی پیغام میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر منظور احمد ایک مایہ ناز استاد اور مفکر تھے، ان کی تعلیمی خدمات اور علمی کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ان کا خلا پر ہونا ممکن نہیں-







