Baaghi TV

Category: تعلیم

  • بیرون ملک میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے  ایم ڈی کیٹ لازمی قرار

    بیرون ملک میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ لازمی قرار

    پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے بیرون ممالک کے میڈیکل کالجوں میں داخلہ کے خواہشمند پاکستانی طالبعلموں کیلئے ایم ڈی کیٹ امتحان میں شرکت اور کامیابی کو لازمی قرار دے دیا۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو میں پی ایم ڈی سی کے ایگزیکٹوکمیٹی کے رکن جواد امین خان نے بتایا کہ انٹرسائنس پری میڈیکل کا امتحان پاس کرنیوالے پاکستانی طالب علم بیرون ملک کے میڈیکل کالجوں میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے داخلوں کیلئے پاکستانی ایجنٹوں کے ذریعے داخلے لیتے ہیں،ان کالجوں میں داخلے کی کیا پالیسی ہوتی ہے اس کے بارے میں پی ایم ڈی سی کو کوئی آگاہی نہیں ہوتی اور جو پاکستانی طالب علم وہاں داخلہ حاصل کرتے ہیں ان کے بارے میں بھی کوئی اعدادوشمار موجود نہیں ہوتے، ان کالجوں کے نصاب اور سہولیات کے بارے میں بھی پی ایم ڈی سی کو اگاہی نہیں ہوتی، اسی لیے پی ایم ڈی سی نے فیصلہ کیا ہے کہ بیرون ملک کے میڈیکل کالجوں میں جو طالب علم ایم بی بی ایس یا بی ڈی ایس میں داخلے کے لیے رجوع کرے گا پہلے وہ ایم ڈی کیٹ کے امتحان میں رجسٹریشن کرائے گا اور لازمی کامیابی حاصل کرے گا۔

    انہوں نے کہا کہ ان طالب علموں کے ایم ڈی کیٹ کے امتحان کے لیے پالیسی وضع کرلی گئی ہے، اس اقدام سے بیرون ملک میڈیکل کالجوں میں داخلے لینے والے طالب علموں کا نہ صرف ڈیٹا مرتب ہوگا بلکہ ایم ڈی کیٹ میں کامیابی کے بعد وہ جس ملک کے میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کریں گے انہیں ایم ڈی کیٹ کے امتحان میں کامیابی کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ان طالب علموں کی ایم ڈی کیٹ کے امتحان کے ساتھ ساتھ پی ایم ڈی سی میں رجسٹریشن بھی کی جائے گی، اس حوالے سے جلد ایک مفصل پالیسی کا اجرا پی ایم ڈی سی کرے گی، جو طالب علم اس وقت بیرون ممالک کے میڈیکل کالجوں میں بڑھ رہے ہیں ان کے حوالے سے بھی پی ایم ڈی سی اپنی پالیسی میں اصلاحات لارہی ہے۔

    ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر جواد امین خان نے انکشاف کیا کہ گزشتہ سال جوطالب علم ان چھوٹے ممالک کے کالجوں سے میڈیکل ایجوکیشن حاصل کرکے پاکستان آئے اور پی ایم ڈی کے ایکولینسی ٹیسٹ میں شرکت کی تھی ان میں سے دو فیصد سے بھی کم طالب علموں نے امتحان پاس کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ اب بیرون ممالک سے جو طالب علم میڈیکل ایجوکیشن حاصل کرکے وطن واپس آئے گا اب ان کے ایکولینسی ٹیسٹ NUMS لے گی اور کامیاب ہونے والوں کی کونسل میں بحثیت ڈاکٹر رجسٹریشن کی جاسکے گی۔

    جواد امین نے بتایا کہ کونسل نے چھوٹے چھوٹے ملکوں میں قائم میڈیکل کالجوں کی بھی انسپیکشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان چھوٹے ملکوں میں قائم میڈیکل کالجوں کی انسپیکشن پی ایم ڈی سی انسپیکٹر کریں گے، اس وقت بیرون ممالک میں فی طالب علم سالانہ 10 ہزارڈالر فیس وصول کی جاتی ہے جبکہ رہائش، کھانے پینے کے اخراجات فیس کے علاوہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح فی طالب علم کو میڈیکل ایجوکیشن کی مد میں سالانہ 50ہزار ڈالر ادا کرنے پڑتے ہیں جس سے ملک کا قیمتی زرمبادلہ ان ممالک منتقل ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ممالک کے میڈیکل نصاب پاکستان کے میڈیکل نصاب سے بالکل مختلف ہے۔

    ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے دوران گولی چلنے سے نوجوان جاں بحق

    تنخواہ دار طبقہ ملک کا تیسرا بڑا ٹیکس دہندہ بن گیا

    وزیراعظم کا پی آئی اے کے ’احمقانہ اشتہار‘ کی تحقیقات کا حکم

    کراچی، پولیس کا ضلع شرقی میں کومبنگ اور سرچ آپریشن

  • محکمہ تعلیم سندھ کا درسی کتب کا جائزہ لینے کا فیصلہ

    محکمہ تعلیم سندھ کا درسی کتب کا جائزہ لینے کا فیصلہ

    وزیر تعلیم و ترقی معدنیات سندھ سید سردار علی شاہ نے ہدایت دی ہے کہ تعلیمی سال 26-2025 کے لیے درسی کتب کا جدید ضروریات کے مطابق جائزہ لیا جائے اور اس ضمن میں ٹیکسٹ ڈیولپمنٹ کے لیے تعلیمی ماہرین اور سول سوسائٹی کے افراد کی بھی مدد لینے کے ساتھ درسی کتب میں موجود کسی قسم کے نفرت پھیلانے والے مواد کی نشاندہی بھی کی جائے تا کہ ایسی چیزوں کو درسی کتب سے نکالا جا سکے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ جامشورو میں منعقد ہونے والے اجلاس میں چیئرمین سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ پرویز احمد بلوچ اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ ٹیکسٹ ڈیولپمنٹ کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف کریکولم اسسمنٹ اینڈ ریسرچ سندھ (DCAR) کے کردار کو بڑھایا جائے تا کہ جامع ترقی کے اصولوں کے تحت طلبہ کی ذہنی، جسمانی، جذباتی اور سماجی ترقی کی ضرورت کے مطابق درسی کتب ترتیب دی جا سکیں، صوبائی وزیر نے کا کہا کہ تعلیم صرف معلومات کی ترسیل تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس سے طلبہ کو مثبت اور باشعور انسان بنانے میں مدد مل سکے۔صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے کہا کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے فریم ورک کو تبدیل کرنا ضروری ہے ٹیکسٹ بک بورڈ کا کام صرف کتب کی چھپائی اور ترسیل تک ہی محدود ہونا چاہیے، ٹیکسٹ بک بورڈ کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے اسے کمپنی ایکٹ میں تبدیل کرنے کی بھی تجویز زیر غور ہے، انہوں نے کہا کہ درسی کتب میں ایسے اسباق شامل کیے جائیں جو تخلیقی سوچ کو فروغ دیں جبکہ ہم نفرت پھیلانے والی کسی بھی بات کو اپنے کتب میں باقی نہیں رکھ سکتے، اب ہمیں نفرتوں کے سبق کو چھوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا۔سید سردار علی شاہ نے کہا کہ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنی دھرتی کی تاریخ اپنے ہیروز اور تاریخی شخصیات بشمول اس زمین سے وابستہ لوگوں کے بارے میں نہ پڑھائیں، ہمیں اپنے بچوں کو یہ پڑھانا بھی ضروری ہے کہ تاریخ میں اس خطے کا تعارف امن رواداری، اتحاد اور ایک دوسرے کا احترام کرنے والوں میں سے ہے، اپنے بچوں کو ہمیں ایک ایسی کتابیں دینا ہے جو اسے تمام مذاہب کا احترام بھی سکھائے۔ صوبائی وزیر نے ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمیں کو ہدایت کی کہ آئندہ تعلیمی سال کے لیے کتب کی چھپائی کے مر حلے کو آگے بڑھتے جلد شروع کیا جائے ۔

    جنوبی افریقہ کیخلاف ٹیسٹ میچ ،بابراعظم کوٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ

    بینظیر بھٹو کی برسی، خیرپور سے ہزاروں کارکنوں کا قافلہ روانگی کے لیے تیار

    قومی انتخابات 2024، فافن کی رپورٹ مسترد کرتے ہیں ، جماعت اسلامی

    پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی

    بلاول بھٹو کی مسیحی کمیونٹی کو کرسمس مبارک باد

  • کم عمری کی شادیاں اور چائلڈ لیبر ، محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کے حیران کن اعدادو شمار جاری

    کم عمری کی شادیاں اور چائلڈ لیبر ، محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کے حیران کن اعدادو شمار جاری

    کراچی:صوبہ سندھ میں کم عمری کی شادیوں اور چائلڈ لیبر کے حوالے سے محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے حیران کن اعدادو شمار جاری کر دیئے-

    باغی ٹی وی : محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کی جانب سے جاری کئے گئے سروے رپورٹ کے مطابق کراچی میں 2.38 فیصد کم عمر بچوں سے کام کروایا جا رہا ہے، اس کے علاوہ حیدرآباد ڈویژن میں 4.5 فیصد بچوں سے مشقت کروائے جانے انکشاف بھی ہوا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق کراچی میں 15.4 فیصد، حیدرآباد میں 17.4 فیصد، عمرکوٹ میں 40.2 فیصد کم عمری میں شادیاں ہوئیں دادو میں 42.9 فیصد، ٹھٹھہ میں 23.8 فیصد، سجاول میں 22.2 فیصد، بدین میں 30.8 فیصد کم عمری میں شادیاں ہوئی ہیں، تھرپارکر میں 36.4 فیصد، شکارپور میں 38.6 فیصد، خیرپور میں 28.8 فیصد، گھوٹکی میں 37.7 فیصد کم عمری کی شادیاں ہوئیں۔
    ترکی: بارودی مواد کے پلانٹ میں دھماکے سے 12 افراد ہلاک، 3 زخمی
    اسی طرح میرپورخاص میں 35.5 فیصد، نوشہروفیروز میں 28.8 فیصد، جامشورو میں 26.7 فیصد کم عمری کی شادیاں ہوئی ہیں جبکہ ٹنڈو الہیار میں 32.4 فیصد، ٹنڈومحمد خان میں 14.4 فیصد، سکھر میں 32.6 فیصد کم عمری میں شادیاں ہوئیں، مٹیاری میں 29.2 فیصد، جیکب آباد میں 46.3 فیصد، سانگھڑ میں میں 34.7 فیصد کم عمری میں شادیاں ہوئیں۔
    چیمپئینز ٹرافی،برطانوی اخبار نے انڈیا کرکٹ بورڈ کا پول کھول دیا

  • پنجاب: کالجزمیں موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان

    پنجاب: کالجزمیں موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان

    لاہور: ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے کالجزمیں موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی: نوٹیفکیشن کے مطابق تمام کالجزمیں24دسمبر سے 5جنوری تک چھٹیاں ہوں گی ، پنجاب کے تمام کالجز 6 جنوری 2025 سے کھلیں گے،4 سالہ بی ایس پروگرام معمول کے مطابق جاری رہیں گے، بورڈ اور یونیورسٹیز کے شیڈولڈ امتحانات بھی معمول کے مطابق ہوں گے،ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے موسم سرما کی چھٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    دوسری جانب محکمہ اسکول ایجوکیشن پنجاب نے موسم سرما کی چھٹیوں کی تاریخ تبدیل کردی،محکمہ اسکول ایجوکیشن نے سردیوں کی چھٹیوں کے نئے شیڈول کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، اسکولوں میں چھٹیاں اب رواں ماہ 20 کی بجائے 23 دسمبر سے ہوں گی،پنجاب کے تمام سرکاری و نجی اسکولوں میں چھٹیاں 10 جنوری تک جاری رہیں گی، تعطیلات کے بعد اسکول 13 جنوری سے دوبارہ کھلیں گے۔

    علاوہ ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان کر دیا گیا،اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق موسم سرما کی چھٹیاں 24 دسمبر سے 8 جنوری تک ہوں گی، چھٹیوں کی منظوری چیف جسٹس عامر فاروق نے دی،اسلام آباد ہائیکورٹ میں سردیوں کی چھٹیوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

  • خواب ہے وزیر اعلی پنجاب کی ہدایات کیمطابق تعلیم کے مسائل حل کروں،رانا سکندر

    خواب ہے وزیر اعلی پنجاب کی ہدایات کیمطابق تعلیم کے مسائل حل کروں،رانا سکندر

    چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ گرلز ہائی اسکول میں شاندار سالانہ سپورٹس ڈے کا اہتمام کیا گیا ۔

    باغی ٹی وی : والدین اور مہمانوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی،تقریب میں صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی، طالبات نے چاٹی ریس ، پچاس میٹرریس، تھری لیگ ریس، فش ریس اور دیگر کھیلوں میں حصہ لیااس موقع پر بچوں نے کراٹے اور ایروبیکس کا بھی شاندار مظاہرہ کیا، علاقائی ثقافت کے اظہار کے سلسلے میں طالبات نے چاروں صوبوں کی ثقافت پر مبنی رنگا رنگ ثقافتی پروگرام بھی پیش کیا۔

    مختلف گیمز میں پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات میں صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات اور دیگر نمایاں مہمانوں نے انفرادی پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات اور ٹیموں میں میڈلز ، انعامات اور سرٹیفیکیٹ تقسیم کئے،رانا سکندر حیات نے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کی حوصلہ افزائی کے لئے ذاتی طور پر ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا اورکہا کہ میرا خواب ہے کہ وزیر اعلی پنجاب کی ہدایات کے مطابق 76 سالہ تعلیم کے شعبہ کے درپیش مسائل کو حل کروں۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل سیکرٹری خالد محمود رسول کا کہنا تھا کہ بچوں کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنے کیلئے غیرنصابی سرگرمیوں کا انعقاد انتہائی ضروری ہے جبکہ تقریب میں چوہدری رحمت علی میموریل ٹرسٹ کے صدر ڈاکٹر سید عثمان واسطی اورپرنسپل نجم الصباح سمیت مہمانوں کی ایک کثیر تعداد بھی موجود تھی۔

    گیمز میں حصہ لینے والی کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ کھیل کود میں حصہ لینے سے ان میں خوداعتمادی پیدا ہوئی ، ایسی غیر نصابی سرگرمیوں سے ٹیم سپرٹ اور مقابلے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جو ان کی شخصیت کے لئے ضروری ہے۔

  • وفاقی وزیرتعلیم کی کراچی میں 2 جامعات کے افتتاح کی خوشخبری

    وفاقی وزیرتعلیم کی کراچی میں 2 جامعات کے افتتاح کی خوشخبری

    وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول کی کوششوں سے دسمبر میں دو مزید یونیورسٹیاں کراچی کو ملیں گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ 14 دسمبر کو کراچی میں نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کیمپس کا افتتاح ہوگا جبکہ دسمبر میں ہی نیشنل اسکلز یونیورسٹی کا کیمپس بھی کراچی کو دینے جارہے ہیں۔خالد مقبول نے کہا کہ اگلے سال مارچ میں میرپورخاص میں بھی وفاقی یونیورسٹی کے کیمپس کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس سے میرپورخاص سمیت سانگھڑ، عمر کوٹ اور تھرپارکر کے طالبعلم مستفید ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان ملک بھر میں جامعات قائم کرکے علم و آگہی کی روشنی پھیلائے گی، یونیورسٹی کیمپس کیلئے جگہیں دیکھ رکھی ہیں لیکن زمین حاصل کرنے میں مشکلات اور رکاوٹیں ہیں۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایسی جگہیں بھی ہیں جو دس دس سال سے بند پڑی ہیں لیکن انکو حاصل کرنا مشکل بنایا جارہا ہے، سندھ کو 20 یونیورسٹیاں وفاق سے دینے کا وعدہ پورا کروں گا۔

    سندھ حکومت کا 30 اضلاع میں کھلاڑیوں کے لئے ونٹر کوچنگ کیمپ کا اعلان

    باغیوں کی پیش قدمی، بشار الاسد کابینہ فرار ہونے کیلئے فوجی بیس پر جمع

    فاروق ستار سے کراچی مارکیٹوں کے نمائندہ وفود کی ملاقات

    بارات کی فائرنگ سے موت، دولہےاور والد کے خلاف مقدمہ درج

  • سندھ  حکومت نےغریب طلبا کو اسکالر شپ کے کروڑوں روپے جاری کر دیے

    سندھ حکومت نےغریب طلبا کو اسکالر شپ کے کروڑوں روپے جاری کر دیے

    کراچی میں غریب طلبا کو اسکالر شپ کے لیے 19 کروڑ 25 لاکھ 70 ہزار روپے جاری کردیے گئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ کے عشر و زکوٰۃ ڈپارٹمنٹ نے صوبے کے 20 تعلیمی اداروں کو رقم جاری کی جن میں سندھ یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی ودیگر ادارے شامل ہیں۔ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائسنز کو 85 لاکھ 34 ہزار روپے جاری کیے گئے ہیں، اسکالر شپ کمیٹیاں مستحق طلبا کو اسکالر شپ فراہم کریں گی۔سندھ یونیورسٹی کو تین کروڑ 48 لاکھ 6 ہزار روپے جاری کیے گئے ہیں، کراچی یونیورسٹی کو مستحق طلبا کے لیے 5 کروڑ 53 لاکھ 4 ہزار روپے جاری ہے۔شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کو 76 لاکھ 18 ہزار روپے جاری کیے گئے ہیں۔

    پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس معاون کا کینیا کا خیر سگالی دورہ

    اوکاڑہ: زیادہ گندم اگاؤ مہم، کسانوں کے لیے حکومتی مراعات کا اعلان

    تنگوانی:شوہر نے بیوی کو کاروکاری کے الزام میں قتل کر دیا

  • کراچی میں پہلی اے آئی روبوٹ ٹیچر نے پڑھانا شروع کردیا

    کراچی میں پہلی اے آئی روبوٹ ٹیچر نے پڑھانا شروع کردیا

    کراچی کے نجی اسکول نے پہلی بار مصنوعی ذہانت سے لیس ٹیچر متعارف کرادی جو نہ صرف بچوں کے سوالوں کے بروقت جواب دیتی ہے بلکہ انہیں جدید ٹیکنالوجی سے بھی روشناس کروا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں قائم ہیپی پیلس اسکول اصفہانی کیمپس نے پہلی اے آئی روبوٹک ٹیچر متعارف کروادی ہے، جن کی پہلی نومبر کو باقاعدہ تقرری کی گئی۔مصنوعی ذہانت سے لیس اس روبوٹک ٹیچر کا نام مس عینی رکھا گیا ہے۔اسکول میں اے آئی ٹیچر سے پڑھنے والے طلبا نے ایکسپریس نمائندہ سے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جب بھی مس عینی سے سوال کرتے ہیں تو وہ بروقت ہمارے سوالوں کے جواب دیتی ہیں اور روبوٹک کلاسز میں پڑھنے کا مزہ ہی الگ ہے۔طلبا کا کہنا تھا کہ وہ اردو اور انگریزی کے علاوہ سندھی، فرنچ اور دیگر زبانوں میں بھی سوال کرتے ہیں۔اے آئی ٹیچر کو تخلیق کرنے والے انجینئر حسان صدیقی نے بتایا کہ انھیں اس روبوٹک ٹیچر کو بنانے میں ساتھ مہینے لگے ہیں۔ اس روبوٹ کو مکمل طور پر خود تیار کیا گیا ہے، اور اس کی چھوٹی وائرنگ سے لے کر فائبر گلاس، پلاسٹک سمیت مصنوعی بال تک کراچی کے عام بازار سے خرید کر بنایا گیا ہے۔ہیپی پیلیس اسکول کے سربراہ محمد آصف خان نے کہا کہ روبوٹ ٹیکنالوجی دنیا میں عام ہے، ہم نے طلبا کو ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کیلیے اے آئی ٹیچر متعارف کروائی ہے تاکہ مختلف مضامین میں ملنے والے ٹاسک میں مس عینی مدد کرسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس روبوٹ کے مزید فیچرز کو بعد میں اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ طلبا زیادہ سے زیادہ مستفید ہوسکیں۔اس موقع پر اسکول پرنسپل مسز صدیقی نے دعوی کیا کہ اے آئی ٹیچر پاکستان میں پہلی بار متعارف کروائی گئی ہے اور ایک لاکھ کی تنخواہ پر ان کو باقاعدہ تقرری نامہ فراہم کیا گیا ہے۔ یہ اے آئی ٹیچر بیس سے زائد زبانوں میں جواب دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔
    مس عینی کی خوراک صرف وائی فائی ہے اور وہ اس پر ہی انحصار کرتی ہیں۔اسکول کی وائس پرنسپل صدف بھٹی نے کہا کہ روبوٹک مس عینی کل وقتی ٹیچر ہیں جنھیں کسی بھی موسم یا تہوار پر چھٹی نہیں ملے گی۔ مس عینی اس وقت سات مضامین پڑھا رہی ہیں اور یہ روبوٹ بنانے میں تقریبا تین لاکھ سے زائد خرچہ آیا ہے۔ وائس پرنسپل کا یہ بھی کہنا تھا کہ اے آئی ٹیچر کسی بھی استاد کا متبادل نہیں ہوسکتی تاہم یہ معاون کے طور پر ایسے تمام سوالات کے جواب دیتی ہے جو طالب علموں کی جانب سے پوچھے جاتے ہیں۔روبوٹ میں وقت کے ساتھ مزید جدت لائی جائے گی اور موشن ڈیٹیکٹر اور سینسرز لگائے جائیں گے، جس کے بعد اے آئی ٹیچر آنکھیں جھپکانے اور اشارے کرنے کے ساتھ اپنی حرکت سے ہر طالب علم کو موثر رسپانس دے سکے گی۔واضح رہے کہ اے آئی ٹیچر کے پہلے پائلٹ پروجیکٹ پر مارچ میں کام شروع کیا گیا تھا اور اسے اگست میں فائنل شکل دی گئی تھی۔ نومبر کے مہینے میں اے آئی کلاسز کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔

    ہم مستقبل کیلیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، مراد علی شاہ

  • پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران درجنوں افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں، تاہم 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود ان دعووں کا کوئی حقیقی ثبوت سامنے نہیں آ سکا۔ نہ ہی کوئی ویڈیو یا تصاویر فراہم کی گئیں، نہ ہی کسی کی شناخت یا جنازہ کی تصاویر منظر عام پر آئیں۔ اس صورت حال پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں، کہ کیا ممکن ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوں اور ان کا کوئی ثبوت نہ مل سکے؟

    پی ٹی آئی کے ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ احتجاج یا پولیس کے ساتھ تصادم کے دوران درجنوں افراد مارے گئے ہیں، تاہم اس دعوے کے بعد کسی مستند ذرائع سے ایسی کوئی معلومات یا شواہد فراہم نہیں کیے گئے، جو اس کی حقیقت کو ثابت کرتے ہوں۔عام طور پر جب کسی بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوتی ہیں، تو اس کے متعلق ویڈیوز، تصاویر اور میڈیا رپورٹس آنا معمول کی بات ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا اور مختلف نیوز چینلز کے ذریعے ایسی خبریں فوری طور پر پھیل جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومت اور متعلقہ ادارے عموماً ہلاکتوں کی تصدیق کے لیے بیان دیتے ہیں،لاشیں سامنے آتی ہیں ،جنازے ہوتے ہیں،لواحقین سامنے آتے ہیں، لیکن اس مرتبہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، جو اس دعوے کو حقیقت بناتا ہو۔

    یہ صورتحال ایک مرتبہ پھر فیک نیوز کی اہمیت اور خطرات کو اجاگر کرتی ہے۔ جب تک اس قسم کے دعووں کی صحیح اور تصدیق شدہ معلومات فراہم نہیں کی جاتیں، تب تک عوام کے درمیان انتشار اور خوف پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ، جھوٹی خبریں نہ صرف لوگوں میں افواہیں پھیلاتی ہیں بلکہ ملک کی سیاسی اور سماجی فضا کو بھی متاثر کرتی ہیں۔

    پاکستان میں فیک نیوز کے بڑھتے ہوئے مسائل کو روکنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ میڈیا کی آزادی اہم ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ حقیقت پر مبنی اور تصدیق شدہ معلومات کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ خاص طور پر ایسی خبریں جو انسانی جانوں کے نقصان سے متعلق ہوں، ان کا صحیح اور فوری تصدیق کرنا ضروری ہے۔

    فی الحال پی ٹی آئی کی جانب سے کیے گئے ہلاکتوں کے دعووں کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی، اور نہ ہی کوئی ثبوت سامنے آیا ہے۔ اس حوالے سے حکومتی یا کسی آزاد ذرائع سے کوئی بیان بھی نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔پاکستانی عوام کو ایسی خبریں نہ صرف محتاط طریقے سے سننی چاہئیں بلکہ ان کی حقیقت کی تصدیق کرنا بھی ضروری ہے۔ فیک نیوز نہ صرف عوام میں خوف اور انتشار پیدا کرتی ہے، بلکہ قومی یکجہتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ہر خبر کو تحقیق کے بعد ہی آگے پھیلائیں، تاکہ حقیقت سامنے آ سکے اور جھوٹ کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    دوسری جانب پی ٹی آئی کے مظاہرین کی جانب سے رینجرز اہلکاروں کو گاڑی کے نیچے کچلا گیا تو فوری واقعہ کی نہ صرف تصاویر سامنے آئیں بلکہ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی، تین شہدا کا نماز جنازہ بھی ادا کیا گیا، آرمی چیف اور وزیراعظم نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی، وہیں پولیس اہلکار کی شہادت ہوئی تو اسکا نام مع تصویر تمام تر تفصیلات سامنے آئین تا ہم پی ٹی آئی زبانی دعوے تو کر رہی ہے لیکن ابھی تک کوئی دستاویزی ثبوت دعووں کی تصدیق کے لئے فراہم نہیں کر سکی.

    قبل ازیں سیکیورٹی ذرائع نے اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران مظاہرین کی اموات کی خبر جھوٹی اور من گھڑت قرار دے دیا۔ سوشل میڈیا پر چند لوگوں کی جانب سے احتجاج کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شیلنگ سے کئی مظاہرین کی اموات کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ مظاہرین کی اموات کی خبر جھوٹی اور من گھڑت ہے۔سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنی ناکامیوں اور کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے من گھڑت اور جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • خواتین کو بااختیار و محفوظ ماحول دیا جائے تو بہتر پرفارم کر سکتی ہیں،وزیر تعلیم

    خواتین کو بااختیار و محفوظ ماحول دیا جائے تو بہتر پرفارم کر سکتی ہیں،وزیر تعلیم

    لاہور: وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمہ کے عالمی دن کے موقع پر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے فی میل سٹاف سے ملاقات کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی –

    باغی ٹی وی :وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے کہا کہ خواتین کو ترقی کرتا دیکھ کر دلی اطمینان ہوتا ہے خواتین کو ہر میدان میں آگے بڑھتے دیکھنے کا قائل ہوں خواتین پر تشدد قابل مذمت فعل ہے پنجاب کے تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ کے حوالے سے ٹھوس مؤقف اپنا رکھا ہے فی میل اساتذہ کی ہراسمنٹ کے خلاف خود ایکشن لےرہا ہوں اس ضمن میں ہراسمنٹ کاشکار خواتین اساتذہ کی ہراسمنٹ کے خلاف 20 سے زائد ایف آئی آر خود درج کروا چکا ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ مریم نواز کی قیادت میں تعلیمی اداروں میں خواتین اساتذہ کو محفوظ ماحول دینے کیلئے کوشاں ہیں خواتین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی پنجاب کی پہلی ای ٹرانسفر پالیسی متعارف کروائی پنجاب میں لڑکیوں کی تعلیم پر بالخصوص فوکس کیا جا رہا ہے، بچیوں کو تعلیمی سہولیات دینے کیلئے محکمہ تعلیم کو خصوصی ہدایات دے رکھی ہیں دوسری جانب تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کی سکلز ڈویلپمنٹ کیلئے بھی کام کر رہے ہیں، وائس چانسلرز، ڈائریکٹر کالجز، سی ای اوز کو بھی خواتین اساتذہ اور وزٹرز کو محفوظ ماحول کی فراہمی اور سائل خواتین کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل یقینی بنانے کی ہدایت کر رکھی ہے خواتین کو بااختیار و محفوظ ماحول دیا جائے تو بہتر پرفارم کر سکتی ہیں۔