Baaghi TV

Category: تعلیم

  • وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور عثمان بزدار کے مابین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ گلگت بلتستان سے متعلق اہم گفتگو

    وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور عثمان بزدار کے مابین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ گلگت بلتستان سے متعلق اہم گفتگو

    لاہور5فروری: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارسے گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ بیرسٹرخالدخو رشیدکی ملاقات.
    باہمی دلچسپی کے امور، بین الصوبائی ہم آہنگی کے فروغ اور دو طرفہ تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال. وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا یوم یکجہتی کشمیر پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے نہتے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار. دونوں وزرائے اعلیٰ کی جانب سے معصوم لوگوں پر بھارتی ظلم و ستم کی شدید مذمت
    پنجاب حکومت اور گلگت بلتستان حکومت کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کی تقریب. پنجاب حکومت کی جانب سے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے چیئرمین اظفر منظور اور گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے سیکرٹری عثمان احمد نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے. معاہدے کے تحت پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ گلگت بلتستان حکومت کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سسٹم ڈویلپ کرنے میں معاونت فراہم کرے گا. پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کا کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم اور ویب پورٹل تیار کرنے میں تعاون کرے گا. وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی گلگت بلتستان حکومت کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی. گلگت بلتستان کے ہیلتھ کیئر سسٹم، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں پہلے سے بڑھ کر تعاون کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا گلگت بلتستان کے پیرامیڈیکل سٹاف اور نرسوں کو پنجاب کے نرسنگ کالجوں میں تربیت فراہم کرنے کا اعلان
    گلگت بلتستان کے پیرامیڈیکل سٹاف اور نرسوں کو پنجاب میں تربیت فراہم کریں گے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی پنجاب کے میڈیکل کالجوں میں گلگت بلتستان کے طلبا و طالبات کے کوٹے کے معاملے پر ہمدردانہ غور کی یقین دہانی۔میڈیکل کالجوں میں کوٹے کے مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کریں گے۔گلگت بلتستان انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی نئے پاکستان اور تبدیلی کے ایجنڈے کی جیت ہے۔گلگت بلتستان میں بسنے والے عوام ہمارے بہن بھائی ہیں۔پنجاب حکومت گلگت بلتستان کے مختلف شعبوں میں ترقی کیلئے ہر ممکن تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔ہم کشمیری عوام کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہیں۔دنیا کی کوئی طاقت پاکستان اور کشمیر کے عوام کے انمٹ رشتے کو جدا نہیں کر سکتی۔کشمیر کل بھی ہمارا تھا، آج بھی ہے اور کل بھی رہے گا۔ مودی سرکار نے اپنے ہاتھ معصوم کشمیر کے قیمتی لہو سے رنگے ہوئے ہیں۔کشمیر کا بچہ بچہ آزادی مانگ رہا ہے۔عثمان بزدار

    بیرسٹر خالد خورشید نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو گلگت بلتستان کی روایتی ٹوپی ”شانٹی“ پہنائی
    بیرسٹر خالد خورشید کی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو گلگت بلتستان کے دورے کی دعوت۔وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو پولو میچ دیکھنے کی بھی دعوت دی۔
    انشاء اللہ جلد گلگت بلتستان کا دورہ کروں گا۔عثمان بزدار
    گلگت بلتستان کی ترقی کیلئے جو کچھ ممکن ہوا، کریں گے۔
    وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے مختلف شعبوں میں تعاون پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا شکریہ ادا کیا
    گلگت بلتستان کے عوام کی ترقی کیلئے پنجاب حکومت کے تعاون سے بھائی چارے اور یکجہتی کو فروغ ملے گا۔
    گلگت بلتستان کے عوام کیلئے تعلیم،صحت اوردیگر سماجی شعبوں میں پنجاب حکومت کے گراں قدر تعاون پر شکرگزار ہیں۔بھارت کی شرانگیزیاں پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہیں۔ مودی سرکار اندرونی خلقشار کا شکار ہے۔پاکستانی قوم نے ہمیشہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کا ساتھ دیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پوری قوم کشمیر کاز کیلئے متحد ہے۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ پنجاب اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

  • انفارمیشن ٹیکنالوجی ضرورت وقت ،ارفع سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کے حوالے سے پیشرفت

    انفارمیشن ٹیکنالوجی ضرورت وقت ،ارفع سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کے حوالے سے پیشرفت

    ناصر سلمان وائس چیئرمین پنجاب وزیراعلی شکایت سیل اور پروفیسر عدنان چیرمین اے پی پی آئی و ممبر پاکستان امن کمیٹی کی ارفع سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک آمد ، ڈائریکٹر جنرل ارفع سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک سے ملاقات ہوئی جس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی پارک میں آئی ٹی کے حوالے سے پیشرفت اور آئی ٹی پروفیشنلز کیلئے اقدامات پر گفتگو ہوئی۔
    ارفع ٹیکنالوجی پارک میں پرائیویٹ آئی ٹی کمپنیز آئی ٹی کے حوالے سے خدمات سر انجام دے رہی ہیں، ڈی جی ارفع پارک۔

    پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے ڈیجیٹل پنجاب ویژن پر عملدرآمد کرتے ہوئے محکمے ڈیجیٹلائز کررہے ہیں،
    ارفع کریم کی آج سالگرہ پر پاکستانی قوم ارفع کریم کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، پروفیسر عدنان

    انفارمیشن ٹیکنالوجی کا فروغ وقت کی ضرورت ہے، آئی ٹی پروفیشنلز کی استعداد کار بڑھانی ہے۔ نئی سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کے اضافہ سے زیادہ آئی ٹی پراڈکٹ برآمد کی جاسکیں گی، ناصر سلمان
    حکومت پنجاب ہائر ایجوکیشن کی سفارشات پر ایمرجنگ ٹیکنالوجی یونیورسٹی سمبڑیال میں بنا رہی ہے،
    ارفع سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کے مختلف سیکشن کا معائنہ کیا ، میٹرو بس پراجیکٹ کے چیف ایگزیکٹو سید عزیر شاہ نے میٹرو بس آپریٹنگ سسٹم پر بریفننگ دی۔

  • تعلیمی اداریے  کھلتے ہی سفری اعداد و شمار میں اضافہ یومیہ ایک لاکھ 75 ہزارسے زائد مسافر

    تعلیمی اداریے کھلتے ہی سفری اعداد و شمار میں اضافہ یومیہ ایک لاکھ 75 ہزارسے زائد مسافر

    بی آر ٹی پشاور یومیہ مسافروں کے سفری اعداد و شمار میں نمایاں اضافہ, صوبائی دارالحکومت کے تعلیمی اداروں کے کھلنے کے بعد بی آر ٹی سفری اعداد و شمار میں اضافہ ہوا۔ یومیہ ایک لاکھ 75 ہزار سے زائد مسافر بی آر ٹی میں سفر کر رہے ہیں۔ بی آر ٹی سفری اعداد و شمار میں آئندہ دنوں مزید اضافہ متوقع ہے. شہریوں کو بہترین سفری سہولت دی جارہی ہے۔30 نئی بسیں جلد بی آر ٹی پشاور پہنچ جائینگی۔ مزید فیڈر روٹس سمیت ایکسپریس روٹ پر اضافی بسیں بھی چلائی جائنینگی۔ مسافروں سے گزارش ہے کہ ماسک کا استعمال لازمی کریں اور عملے سے تعاون کریں-

  • اسکول میں بچے تو نہیں بھینسیں پہنچ گئیں!

    اسکول میں بچے تو نہیں بھینسیں پہنچ گئیں!

    قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کا دادو کے گرلز ہائی اسکول غریب آباد کا اچانک دورہ

    پی ٹی آئی رہنما رجب شاہانی، غلام حیدر سیال، عامر ابڑو و دیگر رہنما بھی شریک ہوئے۔ اسکول کھلنے کے اعلان بعد اسکول میں بچے نہ پہنچے سینکڑوں بھینسیں پہنچ گئیں۔

    کروڑوں کے بجیٹ سے بننے والا دادو کا اسکول مویشیوں کے باڑی میں تبدیل ہوگیا ہے۔ کچھ ماہ قبل بھی حلیم عادل شیخ نے اسکول میں مویشیوں کی نشاندہی کی تھی۔جس کے بعد اسکول مویشیوں سے خالی کروایا گیا نااہلی کے باعث دوبارہ مویشی اسکول پہنچ گئے۔
    حلیم عادل شیخ نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے سندھ کے نااہل وزیر کی وجہ سے تعلیم تباہ ہوچکی ہے۔ تعلیم سب کے لئے کا قانون ہونے کےباوجود سندھ میں ساٹھ لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سندھ میں ہزاروں اسکول مویشوں کے باڑوں اور وڈیروں کی اوطاقوں میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ سندھ کے ستر فیصد سرکاری اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

    وزیر اعلی سندھ اور ان کی نااہل ٹیم سندھ کو تباہ کر رہی ہے۔ کرونا کے بعد اسکول کھل گئے ہیں آج ہم یہ چیک کرنے آئے تھے۔ اسکول میں بچے تو نہ پہنچ سکے البتہ مویشی ضرور پہنچ گئے ہیں۔ آج ہم یہاں دادو سے مویشیوں کو علامتی طور پر نکالتے ہیں سندھ بھر کے اسکول مویشیوں سے خالی کروائیں گے۔ سعید غنی کو ایوارڈ دیا جائے بچوں کو پڑھانے کے بعد اب بھینسیں بھی پڑھا رہے ہیں۔ نااہل ٹیم کے سربراہ بلاول زرداری بھی نااہل ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ترجمان پی ڈی ایم کی تحریک سے فارغ ہوگئے ہوں تو تھوڑا دھیان ادھر بھی دے دیں۔ سندھ کے وسائل کو لوٹ کر مسائل پیدا کرنے والے عوام کے خیر خواہ نہیں ہیں۔ پیپلزپارٹی کے ترجمان وفاق کے خلاف بغلیں بجانے کے بجائے سندھ کی عوام کے مسائل حل کرائیں۔ کرپش، چوری ، لوٹ مار کرنے والے موجودہ حکومت میں بچ نہیں سکتے حساب دینا ہوگا۔

    سندھ میں کرمنل گورنرس اور چوروں کی حکومت چل رہی ہے۔ خیرپور تھانے میں دلہہ دلہن کو اٹھا کر لے جایا جاتا ہے۔ دو لاکھ نہ دینے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دلہہ دوران حراست فوت ہوگیا۔ پیپلزپارٹی پولیس کے ڈنڈے پر حکومت چلا رہی ہے۔ سندھ میں کرپٹ افسران کو دوبارہ نوکریاں پر لگا دیا گیا۔ سندھ میں گورنمنٹ نام کی کوئی چیز نہیں رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ جاتے جاتے تمام رہ جانے والے غیر قانونی کام کر رہے ہیں۔ سندھ حکومت نے ان افسران کو ہٹانے کے بجائے ترقیاں دے دی ہیں۔ حلیم عادل شیخ کا مزید کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے سندھ کی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ وزیر اعظم کو ہم نے کہہ دیا ہے سندھ کی عوام کو رلیف دلوائیں گے پ پ نے تباہ کر دیا ہے۔ سندھ میں 13 سالوں میں 7 ہزار 88 ارب روپے سندھ حکومت نے خرچ کئے۔ 16 سو ارب روپے صرف ترقیاتی کاموں پر خرچ کئے گئے۔ 12 سو ارب روپے کرپشن کی نذر ہوگئے ہیں آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں آچکا ہے۔

    اگر اتنی رقم خرچ ہوجاتی تو آج سندھ گل گلزار ہوتا۔ آج سندھ میں صحت، تعلیم سمیت تمام بنیادی سہولیات ناپید ہوچکی ہیں۔ ایمبولنس تک عوام سے دور رکھی گئی ہیں۔ اسمبلی میں ایسی قانون بنانے گئے جس سے ان کو اپنا فائدہ تھا۔ اعجاز شاھ کو پروموشن دی گئی ان کے لئے ایک الگ قانون پاس کروایا گیا۔ بچل راھوپوٹو سمیت اپنے فرنٹ مینوں کو پروموشن دی گئی۔ ای اینڈ رولز کے تحت کرپٹ افسران کو سندھ سے خاتمہ ہونے والا ہے سندھ کے افسران ہوشیار رہیں وزیر اعلیٰ کے غیر قانونی کام نہ کریں۔ وزیر اعلیٰ جانے والے ہیں افسران کو یہیں رہنا ہے ۔ 15 گریڈ کے افسران کو ڈسٹرکٹ اکائونٹ افسران لگانے کے لئے وزیر اعلیٰ نے لکھا ہے۔ جس میں زیادہ تعداد باجاریوں اور راہوپوٹو کی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ تاریخ کے نااہل وزیر اعلیٰ ثابت ہوئے ہیں۔

    پیپلزپارٹی کے ترجمان وفاقی حکومت کی فکر چھوڑیں سندھ حکومت کی خیر منائے۔ وزیر اعظم کے حکم کے منتظر ہیں کسی بھی وقت عدم اعتماد کی تحریک لاکر سندھ سے پ پ حکومت کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ سندھ کے وسائل کو لوٹ کر مسائل پیدا کرنے والے عوام کے خیر خواہ نہیں ہیں۔

  • سربراہ پاک بحریہ کی بحریہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کی تعریف

    سربراہ پاک بحریہ کی بحریہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کی تعریف

    پاک بحریہ کے سربراہ کی بحریہ یونیورسٹی کے 44 ویں بورڈ آف گورنر ز اجلاس کی صدارت

    چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل محمدامجد خان نیازی نے بحریہ یونیورسٹی ہیڈ آفس اسلام آباد میں یونیورسٹی کے 44 ویں بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کی صدارت کی۔ بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں یونیورسٹی میں جاری مختلف منصوبہ جات زیر بحث لائے گئے۔ نیول چیف جو بحریہ یونیورسٹی کے پرو چانسلر اور بورڈ آف گورنرز کے چیئر مین بھی ہیں نے اعلیٰ اخلاقی اقدار پر مبنی معیار ی تعلیم سے طلباء کی صلاحیتیں نکھارنے پر یونیورسٹی کی کاوشوں کو سراہا۔ انھوں نے یونیورسٹی کے وژن اور مقاصد سے ہم آہنگ تعلیمی معیار میں بہتری اور میری ٹائم تحقیق میں نئے پروگرامز متعارف کروانے پر یونیورسٹی انتظامیہ کی تعریف کی۔ بحریہ یونیورسٹی میری ٹائم تحقیق میں پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے جس کا مقصد اس شعبے میں تحقیق کے فروغ سے ملکی بحری معیشت میں بہتری لانا ہے۔

    بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں بورڈ ممبران بشمول سینئر نیول آفیسرز، سیکرٹری وزارت سائنس و ٹیکنالوجی، فنانشل ایڈوائزر پلاننگ منسٹری آف فنانس، ریکٹر بحریہ یونیورسٹی اور دیگر اعلیٰ انتظامیہ نے شرکت کی۔ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کی بطور نیول چیف اور بورڈ چیئرمین بورڈ آف گورنرز کا یہ پہلا اجلاس تھا۔

  • پولیس کے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیےتعلیمی شعبے کی شمولیت ایک بڑی ترجیح!

    پولیس کے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیےتعلیمی شعبے کی شمولیت ایک بڑی ترجیح!

    ایچ ای سی اور نیشنل پولیس بیورو کا پولیس اصلاحات میں تعلیمی شعبے کا کردار بڑھانے پر اتفاق

    ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) پاکستان اور نیشنل پولیس بیورو نے پولیس اور ملک کے اعلٰی تعلیمی اداروں کے مابین تعاون بڑھانے اور متعلقہ تحقیق کے ذریعے پولیس میں اصلاحات کے حوالے سے معنی خیر رہنمائی فراہم کرنے کے لیے تعلیمی شعبے کے مؤثر کردار کی حوصلہ افزائی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس ضمن میں ایچ ای سی کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر شائستہ سہیل اور ڈائریکٹر جنرل نیشنل پولیس بیورو، وزارت داخلہ، ڈاکٹر سید اعجاز حسین نے ایک دستاویز پر دستخط کیے۔

    پولیس کے اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے حکومتی عزم کے مطابق پولیس اصلاحات اور پالیسی ساز فیصلوں میں تعلیمی شعبے کی شمولیت ایک بڑی ترجیح کے طور پر سامنے آئی ہے۔ اس معاہداتی دستاویز کے ذریعے ایچ ای سی اور نیشنل پولیس بیورو محققین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تحقیقی منصوبوں کے لیے تعاون کو فروغ دیں گے تاکہ تعلیمی اداروں کی تحقیقی استعداد کو بڑھایا جاسکے اور محتاط تحقیقی سرگرمیوں کے ذریعے اصل مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے۔

    اس تعاون کے تحت جامعات کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ نیشنل پولیس بیورو کے ساتھ مل کر مشترکہ ورکشاپس، سیمینارز، گروپ ڈسکشنز،اور مقابلہ جات کے انعقاد کے علاوہ طلباء کی کمیونٹی ورک میں شرکت کے لیے اقدامات اٹھا سکیں۔

    ایچ ای سی انڈرگریجوایٹ طلباء کے لیے ترتیب دیے جانے والے لازمی جنرل ایجوکیشن کورسز میں عوامی تحفظ، عمومی پولیس قوانین، مجرمانہ کاروائیوں کی چارہ جوئی، اور بنیادی دستوری حقوق سے متعلق مواد شامل کرے گا۔

    اسی طرح نیشنل پولیس بیورو طلباء کو جہاں اور جب ممکن ہو بغیر معاوضہ انٹرن شپ کے مواقع فراہم کرے گا۔ بیورو رازداری کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی تحقیق کے لیے جرائم پر مبنی ڈاٹا بھی مہیا کرے گا۔

  • اے این ایف کے امتحانی مرکز سے دو نوسرباز گرفتار،

    اے این ایف کے امتحانی مرکز سے دو نوسرباز گرفتار،

    کراچی: اے این ایف کے امتحانی مرکز سے دو نوسرباز گرفتار، دونوں اے این ایف کے اے ایس آئی کے لئے ہونے والے امتحان میں کسی اور کی جانب سے پیپر دے رہے تھے، دونوں ملزمان کی شناخت جمیل ڈایو اور تنویر احمد کے نام سے ہوئی ہے، ملزمان کے قبضے سے 4 عدد شناختی کارڈ اور موبائل فون بھی برآمد ہوا، ملزمان فارم فوٹوشاپ کر کے امتحانی مرکز میں داخل ہوئے، ملزم تنویر احمد سول انجینر جبکہ جمیل ڈایو وزارت خارجہ کا ملازم ہے، ملزمان کو اے این ایف انٹیلیجنس کی ٹیم نے شناخت کے بعد حراست میں لیا گیا۔ ۔

  • ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی کونسی غلط پالیسی ملک کے تعلیمی نظام کی تباہی کا باعث بن رہی ہے؟

    ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی کونسی غلط پالیسی ملک کے تعلیمی نظام کی تباہی کا باعث بن رہی ہے؟

    مورخہ31جنوری 2021
    ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ایک غلط پالیسی ملک کے تعلیمی نظام کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے’ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد کا پاکستان اکیڈمی آف سائنسز میں لیکچر دیتے ہوئے خطاب
    ڈیرہ اسماعیل خان(ہینڈ آئوٹ31جنوری2021)ہائیر ایجوکیشن کمیشن آرڈیننس سیکشن10(c)کے تحت پابند ہے کہ یونیورسٹیوں کو پوچھ کر پالیسی واضع کرے مگر ون مین شو سے چیزیں خراب ہو رہی ہیں ۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے کہ کون ہے جو سارے نظام کو درہم برہم کرنا چاہتا ہے اور بدقسمتی یہ ہے کہ وائس چانسلرز کمیٹی بھی اس میں کوئی خاطر خواہ کردار ادانہیں کررہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے پاکستان اکیڈمی آف سائنسز میں ”پاکستان کے ہائیر ایجوکیشن سیکٹرمیں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے بڑھتے مسائل” کے موضوع پر لیکچر دیتے ہوئے کیا ۔

    پاکستان اکیڈمی آف سائنسز کا فیلو بننے کے بعد اپنے پہلے لیکچر میں وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ آج کا دن میرے لئے کسی اعزاز اور خوشی سے کم نہیں کہ میں قوم کے تخلیق کاروں کے درمیان موجود ہوں۔ جنہوں نے سائنس، ٹیکنالوجی،زراعت، دفاع سمیت زندگی کے ہر شعبے میں ہمیشہ قومی تشکیل میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ اعلیٰ معیار تعلیم کے بغیر سائنس اور ٹیکنالوجی کا کوئی وجود نہیں۔اعلیٰ تعلیم معاشرے میں سماجی اور معاشی تبدیلی کے حوالے سے انجن کا کردار ادا کرتی ہے۔ جس پر اکیڈمی کو خصوصی توجہ دینا کی ضرورت ہے۔

    ڈاکٹر افتخار احمد نے مزید کہا کہ پاکستان بھی ترقی پزیر ممالک کی صف اول میں کھڑا ہے جس میں اعلیٰ تعلیم کیلئے پروفیسر ڈاکٹر عطاء الرحمن کی زیر صدارت 2002میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مجاز ادارے کا آغاز کیا۔ جس کا اولین مقصداعلیٰ تعلیم کے نفاذ سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنا تھا جیسے کہ ہارڈ ورڈ ،ایم آئی ٹی، کالٹیک اوراسٹینفورڈجیسی نامور یونیورسٹیوں سے امریکہ کو فائدہ ہواہے ۔ وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے مزید کہا کہ گزشتہ دنوں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو خیبرپختونخوا کے وائس چانسلر زنے غیر یقینی صورتحال سے بچنے کیلئے کہا تھا کہ دو سالہ پروگرام کو 2020کی بجائے2023تک توسیع دیدی جائے مگر ان کی سفارشات کو ملحوظ خاطرنہ لاتے ہوئے ہائیر ایجوکیشن نے تین ماہ کی توسیع دیتے ہوئے یہ کہا کہ 2020 کو عالمی وباء کوروناوائرس کا سال قرار دیتے ہوئے اس سال کو 15ماہ تک بڑھا رہے ہیں-

    اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر افتخار احمد نے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مروجہ پالیسی جو 18سال کی کاوشوں کے بعد وجود میں آئی اس کو بیک جنبش قلم ختم کرنا اور نئی پالیسی کو بغیر سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لئے لاگو کرنا ہائیر ایجوکیشن کمیشن آرڈیننس سیکشن 10(c)کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی ایک غلط پالیسی ملک کے تعلیمی نظام کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔

  • اقراء یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے یونیورسٹی کے کالج آف نرسنگ کا افتتاح کردیا

    اقراء یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے یونیورسٹی کے کالج آف نرسنگ کا افتتاح کردیا

    اقراء یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے یونیورسٹی کے کالج آف نرسنگ کا افتتاح کردیا

    وائس چانسلراقراء یونیورسٹی، پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے کل بروز ہفتہ یونیورسٹی کے کالج آف نرسنگ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹرمحمد مسرور اور شعبہ نرسنگ کی پرنسپل پروفیسر شہلا نعیم ظفر بھی موجودتھیں۔ یہ تقریب دوپہر دو بجے حسین لاکھانی ہسپتال،ناظم آباد میں منعقد کی گئی۔
    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر وسیم قاضی نے پاکستان میں شعبہ نرسنگ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نہ صرف یہ کہ ڈاکٹرز، بلکہ نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹا ف کی بھی کمی ہے۔ اورپچھلے سال-19 COVIDکی وبائی صورتِ حال میں یہ کمی بہت شدت کے ساتھ محسوس کی گئی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں 1500مریضوں کے لیے اوسطاً صرف ایک نرس موجود ہے۔جبکہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS)کے 2019میں کئے گئے سروے کے مطابق پاکستان بھر میں نرسوں کی کل تعداد 112,123ہے۔
    یہ اعداد وشمار بہت تشویشناک ہیں۔ پاکستان میں مریضوں کی بلند شرحِ اموات کی وجوہات میں بنیادی طبی سہولیات کے فقدان کے علاوہ طبی شعبے کے ماہرین اور متعلقہ افرادی قوت کی کمی بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔
    ڈاکٹر قاضی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان سے تعلیم وتربیت حاصل کرکے متعدد نرسیں بیرون ملک کام کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان میں افرادی قوت میں کمی کا سامنا ہے۔
    ڈاکٹر قاضی نے مزید کہا کہ اعلیٰ تعلیم وتربیت سے بہت ساری متوسط طبقے کی خواتین کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر ملازمت کے مواقع میسر آسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اُنہوں نے بتایا کہ اقرا یونیورسٹی نے نرسوں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے تعلیمی نصاب اور تربیتی طریقہء کار کو اس انداز سے ترتیب دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی امتحانات میں بھی کامیاب ہوسکیں۔اس کے علاوہ اقرا یونیورسٹی نے اپنے طلبہ وطالبات کے لئے بین الاقوامی نرسنگ فیکلٹی کا بندوبست بھی کیا ہے تاکہ ہمارے نوجوان عالمی معیا ر کے طریقہء کار اور طبی ضابطوں سے آگاہ ہوسکیں۔
    ڈاکٹر قاضی نے اقراء یونیورسٹی کے بانی چانسلر، حنیدحسین لاکھانی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اظہار خیال کیا کہ بانی چانسلرنے پاکستان میں طب کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے آج سے دو سال قبل فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسز کی بنیاد رکھی۔ جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں شعبہ فارمیسی اور شعبہ فزیوتھراپی کا آغاز کیا گیا۔طب کے تعلیمی میدان میں قدم رکھنا اور عوام الناس کو سستی طبی سہولیات فراہم کرنا حنید لاکھانی صاحب کے مرحوم والد حسین لاکھانی صاحب کا مشن تھا۔ آج نرسنگ کالج کی بنیاد رکھ کر حنید لاکھانی صاحب نے اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھایا ہے۔اور اس مشن کومزید آگے بڑھاتے ہوئے انشاء اللہ بہت جلد اقرا یونیورسٹی MBBSاور BDSڈگری پروگرام کا آغاز بھی کرے گی۔
    کیمپس کی سہولیات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر قاضی نے بتایا کہ نرسنگ کالج 8 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے جس میں طلبہ و طالبات کے لئے کیمپس کے اند ر محفوظ رہائش کا بندوبست بھی موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نرسنگ کالج کااپنا تدریسی ہسپتال ”حسین لاکھانی ہسپتال“ بھی ہے۔ 6 ایکڑ اراضی پر پھیلا یہ ہسپتال 300 بستروں پر مشتمل ہے اور جدید ترین طبی سہولیات سے آراستہ ہے۔
    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈین فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمدمسرورنے کہاکہ نرسنگ کالج ہمارے نرسنگ طلبا کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم فراہم کرنے کے لئے پوری طرح سے جدید سہولتوں اور معیاری سازوسامان سے لیس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نرسنگ کالج پاکستان نرسنگ کونسل کے ذریعہ رجسٹرڈ اور تسلیم شدہ ہے۔ محکمہ صحت سندھ نے بھی نرسنگ کالج کا دورہ کیا ہے اور اسے نرسنگ پروگرام شروع کرنے کے لئے جدید ترین طبی سہولیات سے آراستہ پایا ہے۔
    تقریب سے کالج آف نرسنگ کی پرنسپل پروفیسر شہلانعیم ظفر نے بھی خطاب کیا۔انہوں نے اس بات کابھی اعلان کیاکہ شعبہ نرسنگ کے تحتSpring 2021 میں داخلے شروع کیے جا رہے ہیں جس کے لیے نرسنگ کونسل آف پاکستان سے پہلے ہی این او سی لی جا چکی ہے۔ اس شعبے کے تحت ایک چار سالہBSN ڈگری پروگرام، ایک دوسالہPost RN BSN ڈگری پروگرام اور ایک دو سالہ CNAڈپلومہ پروگرام آفر کیا جارہا ہے۔ تقریب کے اختتام پرعصرانے سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب, عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات ، پسماندہ علاقوں میں ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کوخوب تر بنانے کا وعدہ

    وزیراعلیٰ پنجاب, عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات ، پسماندہ علاقوں میں ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کوخوب تر بنانے کا وعدہ

    لاہور30جنوری: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات جس میں صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، مشیر محمد حنیف پتافی، شہاب الدین خان، محمد شفیع، جاوید اختر لنڈ، علمدار قریشی، عبدالحئی دستی، سردار فاروق دریشک، سردار احمد علی خان دریشک، احمد شاہ کھگہ، ملک ندیم عباس بارا، سرفراز حسین اور محمد آصف شامل تھے. چیف وہپ پنجاب اسمبلی ایم پی اے سید عباس علی شاہ بھی اس موقع پر موجود تھےمنتخب نمائندوں نے وزیراعلیٰ کو اپنے علاقوں کے مسائل سے آگاہ کیا.وزیراعلیٰ عثما ن بزدار کی مسائل حل کرنے کی یقین دہانی, انہوں نے کہا کہ انکی پسماندہ علاقوں کی ترقی پر پوری توجہ ہے
    عثمان بزدارکاکہنا یہ ہے کہ عوامی نمائندوں کے مسائل کو ذاتی سمجھ کر حل کرتاہوں ، اراکین صوبائی اسمبلی میرے ساتھی ہیں اور منتخب نمائندوں کی ترجیحات کے مطابق ان کے حلقوں میں ترقیاتی کام ہوں گے۔ منتخب نمائندوں کی مشاورت سے عوام کی ترقی و خوشحالی کے پروگرام پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ ہم سب نے ٹیم ورک کے طورپر صوبے کے عوام کی خدمت کرنی ہے. وزارت اعلی صرف عہدہ نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری ہےاورعوام کی خدمت مشن اور اوڑھنا بچھونا ہے۔
    عثمان بزدارکا مزید کہنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت سابق دور کی فاش غلطیوں اور خرابیوں کو دور کر رہی ہے۔ سابق حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے باعث ملک اپنی اصل منزل سے ہٹ گیا۔ قومی وسائل کو نمائشی منصوبوں کی نذر کرکے ملک و قوم سے ظلم کیاگیا۔ سابق حکمرانوں نے عوام کے بنیادی مسائل کو یکسر نظر انداز کیا۔ عوام بنیادی ضرورتوں کو ترستے رہے اور حکمران اقتدار کے مزے لوٹتے رہے. ہماری حکومت نے عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت تمام علاقوں کی یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے۔ پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے جاری منصوبوں کی خود نگرانی کررہا ہوں. زبانی جمع خرچ کا وقت گزر چکا،اب صرف کام ہوتا ہے اور ہم عمل کرکے دکھاتے ہیں .شہروں کے ساتھ دوردراز علاقوں میں بھی ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کو خوب سے خوب تر بنائیں گے۔

    ۔اراکین پنجاب اسمبلی کا کہنا ہی کہمنتخب نمائندوں سے مشاورت کا سلسلہ خوش آئند ہے، مسائل کے حل کیلئے عثمان بزدارکی ذاتی دلچسپی پر شکرگزار ہیں وہ حقیقی معنوں میں عوامی وزیراعلیٰ ہیں.