Baaghi TV

Category: تعلیم

  • اقراء یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے یونیورسٹی کے کالج آف نرسنگ کا افتتاح کردیا

    اقراء یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے یونیورسٹی کے کالج آف نرسنگ کا افتتاح کردیا

    اقراء یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے یونیورسٹی کے کالج آف نرسنگ کا افتتاح کردیا

    وائس چانسلراقراء یونیورسٹی، پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے کل بروز ہفتہ یونیورسٹی کے کالج آف نرسنگ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ڈین پروفیسر ڈاکٹرمحمد مسرور اور شعبہ نرسنگ کی پرنسپل پروفیسر شہلا نعیم ظفر بھی موجودتھیں۔ یہ تقریب دوپہر دو بجے حسین لاکھانی ہسپتال،ناظم آباد میں منعقد کی گئی۔
    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر وسیم قاضی نے پاکستان میں شعبہ نرسنگ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نہ صرف یہ کہ ڈاکٹرز، بلکہ نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹا ف کی بھی کمی ہے۔ اورپچھلے سال-19 COVIDکی وبائی صورتِ حال میں یہ کمی بہت شدت کے ساتھ محسوس کی گئی۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) کے ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں 1500مریضوں کے لیے اوسطاً صرف ایک نرس موجود ہے۔جبکہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS)کے 2019میں کئے گئے سروے کے مطابق پاکستان بھر میں نرسوں کی کل تعداد 112,123ہے۔
    یہ اعداد وشمار بہت تشویشناک ہیں۔ پاکستان میں مریضوں کی بلند شرحِ اموات کی وجوہات میں بنیادی طبی سہولیات کے فقدان کے علاوہ طبی شعبے کے ماہرین اور متعلقہ افرادی قوت کی کمی بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔
    ڈاکٹر قاضی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان سے تعلیم وتربیت حاصل کرکے متعدد نرسیں بیرون ملک کام کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان میں افرادی قوت میں کمی کا سامنا ہے۔
    ڈاکٹر قاضی نے مزید کہا کہ اعلیٰ تعلیم وتربیت سے بہت ساری متوسط طبقے کی خواتین کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر ملازمت کے مواقع میسر آسکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اُنہوں نے بتایا کہ اقرا یونیورسٹی نے نرسوں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے تعلیمی نصاب اور تربیتی طریقہء کار کو اس انداز سے ترتیب دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی امتحانات میں بھی کامیاب ہوسکیں۔اس کے علاوہ اقرا یونیورسٹی نے اپنے طلبہ وطالبات کے لئے بین الاقوامی نرسنگ فیکلٹی کا بندوبست بھی کیا ہے تاکہ ہمارے نوجوان عالمی معیا ر کے طریقہء کار اور طبی ضابطوں سے آگاہ ہوسکیں۔
    ڈاکٹر قاضی نے اقراء یونیورسٹی کے بانی چانسلر، حنیدحسین لاکھانی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اظہار خیال کیا کہ بانی چانسلرنے پاکستان میں طب کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے آج سے دو سال قبل فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسز کی بنیاد رکھی۔ جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں شعبہ فارمیسی اور شعبہ فزیوتھراپی کا آغاز کیا گیا۔طب کے تعلیمی میدان میں قدم رکھنا اور عوام الناس کو سستی طبی سہولیات فراہم کرنا حنید لاکھانی صاحب کے مرحوم والد حسین لاکھانی صاحب کا مشن تھا۔ آج نرسنگ کالج کی بنیاد رکھ کر حنید لاکھانی صاحب نے اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھایا ہے۔اور اس مشن کومزید آگے بڑھاتے ہوئے انشاء اللہ بہت جلد اقرا یونیورسٹی MBBSاور BDSڈگری پروگرام کا آغاز بھی کرے گی۔
    کیمپس کی سہولیات کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر قاضی نے بتایا کہ نرسنگ کالج 8 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے جس میں طلبہ و طالبات کے لئے کیمپس کے اند ر محفوظ رہائش کا بندوبست بھی موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نرسنگ کالج کااپنا تدریسی ہسپتال ”حسین لاکھانی ہسپتال“ بھی ہے۔ 6 ایکڑ اراضی پر پھیلا یہ ہسپتال 300 بستروں پر مشتمل ہے اور جدید ترین طبی سہولیات سے آراستہ ہے۔
    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈین فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسز پروفیسر ڈاکٹر محمدمسرورنے کہاکہ نرسنگ کالج ہمارے نرسنگ طلبا کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم فراہم کرنے کے لئے پوری طرح سے جدید سہولتوں اور معیاری سازوسامان سے لیس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نرسنگ کالج پاکستان نرسنگ کونسل کے ذریعہ رجسٹرڈ اور تسلیم شدہ ہے۔ محکمہ صحت سندھ نے بھی نرسنگ کالج کا دورہ کیا ہے اور اسے نرسنگ پروگرام شروع کرنے کے لئے جدید ترین طبی سہولیات سے آراستہ پایا ہے۔
    تقریب سے کالج آف نرسنگ کی پرنسپل پروفیسر شہلانعیم ظفر نے بھی خطاب کیا۔انہوں نے اس بات کابھی اعلان کیاکہ شعبہ نرسنگ کے تحتSpring 2021 میں داخلے شروع کیے جا رہے ہیں جس کے لیے نرسنگ کونسل آف پاکستان سے پہلے ہی این او سی لی جا چکی ہے۔ اس شعبے کے تحت ایک چار سالہBSN ڈگری پروگرام، ایک دوسالہPost RN BSN ڈگری پروگرام اور ایک دو سالہ CNAڈپلومہ پروگرام آفر کیا جارہا ہے۔ تقریب کے اختتام پرعصرانے سے مہمانوں کی تواضع کی گئی۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب, عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات ، پسماندہ علاقوں میں ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کوخوب تر بنانے کا وعدہ

    وزیراعلیٰ پنجاب, عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات ، پسماندہ علاقوں میں ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کوخوب تر بنانے کا وعدہ

    لاہور30جنوری: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے اراکین اسمبلی کی ملاقات جس میں صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، مشیر محمد حنیف پتافی، شہاب الدین خان، محمد شفیع، جاوید اختر لنڈ، علمدار قریشی، عبدالحئی دستی، سردار فاروق دریشک، سردار احمد علی خان دریشک، احمد شاہ کھگہ، ملک ندیم عباس بارا، سرفراز حسین اور محمد آصف شامل تھے. چیف وہپ پنجاب اسمبلی ایم پی اے سید عباس علی شاہ بھی اس موقع پر موجود تھےمنتخب نمائندوں نے وزیراعلیٰ کو اپنے علاقوں کے مسائل سے آگاہ کیا.وزیراعلیٰ عثما ن بزدار کی مسائل حل کرنے کی یقین دہانی, انہوں نے کہا کہ انکی پسماندہ علاقوں کی ترقی پر پوری توجہ ہے
    عثمان بزدارکاکہنا یہ ہے کہ عوامی نمائندوں کے مسائل کو ذاتی سمجھ کر حل کرتاہوں ، اراکین صوبائی اسمبلی میرے ساتھی ہیں اور منتخب نمائندوں کی ترجیحات کے مطابق ان کے حلقوں میں ترقیاتی کام ہوں گے۔ منتخب نمائندوں کی مشاورت سے عوام کی ترقی و خوشحالی کے پروگرام پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ ہم سب نے ٹیم ورک کے طورپر صوبے کے عوام کی خدمت کرنی ہے. وزارت اعلی صرف عہدہ نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری ہےاورعوام کی خدمت مشن اور اوڑھنا بچھونا ہے۔
    عثمان بزدارکا مزید کہنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت سابق دور کی فاش غلطیوں اور خرابیوں کو دور کر رہی ہے۔ سابق حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے باعث ملک اپنی اصل منزل سے ہٹ گیا۔ قومی وسائل کو نمائشی منصوبوں کی نذر کرکے ملک و قوم سے ظلم کیاگیا۔ سابق حکمرانوں نے عوام کے بنیادی مسائل کو یکسر نظر انداز کیا۔ عوام بنیادی ضرورتوں کو ترستے رہے اور حکمران اقتدار کے مزے لوٹتے رہے. ہماری حکومت نے عوام کے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت تمام علاقوں کی یکساں ترقی پر یقین رکھتی ہے۔ پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے جاری منصوبوں کی خود نگرانی کررہا ہوں. زبانی جمع خرچ کا وقت گزر چکا،اب صرف کام ہوتا ہے اور ہم عمل کرکے دکھاتے ہیں .شہروں کے ساتھ دوردراز علاقوں میں بھی ایجوکیشن اور ہیلتھ فسلیٹز کو خوب سے خوب تر بنائیں گے۔

    ۔اراکین پنجاب اسمبلی کا کہنا ہی کہمنتخب نمائندوں سے مشاورت کا سلسلہ خوش آئند ہے، مسائل کے حل کیلئے عثمان بزدارکی ذاتی دلچسپی پر شکرگزار ہیں وہ حقیقی معنوں میں عوامی وزیراعلیٰ ہیں.

  • بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کرپشن اسکینڈل

    بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کرپشن اسکینڈل

    بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے فنانس ڈپارٹمنٹ میں کرپشن کا انکشاف
    غیر قانونی طور پر بھرتی کیے ہوئے اکائونٹ آفیسر عبد الرشید ملاح نے ملازمین کےGPF کے تقریباً 7.5ملین نکلوا کے اپنے خاص دوست کے ذریعے الفلاح بنک میں 7٪ کے عوض یعنی 15 لاکھ اپنے جیب میں ڈال دئیے اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اختر بلوچ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی۔
    پکڑے جانے پر وائس چانسلر کی خاموشی اور ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس کے ایکٹنگ چارج نوازنے پر مینجمنٹ کی لاپرواہی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ عبدالرشید ملاح جن کی غیر قانونی بھرتی کا معاملہ اینٹی کرپشن میں چل رہا ہے، ان کی غیر قانونی تعیناتی میں ان کی اہلیہ محسنہ سکندر بطور اسسٹنٹ رجسٹرار اپنے شوہر کی مدد رہی تھیں ۔
    لیاری یونیورسٹی کے ملازمین کی 7.5 ملین GP فنڈ کے پیسے لے اڑنے کی کوشش میں اپنے خاص دوست کے ذریعے الفلاح بینک میں پیسےجمع کرواکر اور 15 لاکھ کی رشوت لے کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی ناکام کوشش نے میاں بیوی کے ناجائز عزائم کی پول پٹی کھول دی۔ اس خرد برد کے کیس میں جہاں عبدالرشید ملاح کے خلاف مینجمنٹ کاروائی کرنے سے قاصر ہے وہیں لیاری یونیورسٹی کے ملازمین میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔

  • باچا خان یونیورسٹی انتظامیہ نے عبایا لازمی قرار دیدیا

    باچا خان یونیورسٹی انتظامیہ نے عبایا لازمی قرار دیدیا

    چارسدہ: خیبرپختونخوا میں باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ نےعبایا لازمی قرار دے دیا ہے اور اونچی ایڑی والی جوتی(ہیل) پہننے پر پابندی لگا دی ہے۔اکیڈمک کونسل اجلاس میں فیکلٹی ممبران اورطلبہ کے لیے لباس کے قواعد وضوابط کے متعلق مزید سفارشات بھی مرتب کر لی گئی ہیں۔

    ترجمان باچا خان یونیورسٹی کے مطابق طالبات کے میک اپ کرنے اور سکن ٹائٹس پہننے پربھی پابندی کی سفارشات تیار کی گئی ہیں۔ سفارشات کی حتمی منظوری سینڈیکیٹ کے اجلاس میں دی جائے گی۔سفارشات کی روشنی میں طالبات کے لیے کالے رنگ کا ڈھیلا عبایا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کالے رنگ کے ہموار چپل پہننے اور یونیورسٹی کارڈ گلے میں آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔

    جینز، ٹائٹس، ٹی شرٹس، ٹراوزرز، میک اپ جیولری، فینسی پرس اور ہیلز پہننے پر پابندی ہوگی۔

    قبل ازیں خیبر پختونخوا کی ہزارہ ہونیورسٹی کے طلبا کیلئے بھی نئے ڈریس کوڈ کا اعلان کیا گیا تھا۔ طالبات کو زیادہ میک اپ اور زیورات پہننے سے بھی منع کیا گیا ہے جبکہ طلبہ کے لیے بھی مختصر لباس جیسا کہ شارٹس، کانوں میں بالیاں، پاؤں میں چپل اور سینڈل پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔طالبات کو صرف مخصوص رنگ کے عبایا، دوپٹے اور سکارف پہننے کی اجازت ہو گی جبکہ طلبہ کو صرف پینٹ شرٹ اور قمیض شلوار پہننے کی اجازت ہو گی۔

  • آن لائن امتحانات کیلئے احتجاج کرنے والے طلباکیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا

    آن لائن امتحانات کیلئے احتجاج کرنے والے طلباکیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا

    لاہور: آن لائن امتحانات کیلئے پر تشدد احتجاج کرنے والے نجی یونیورسٹی کے طلبا کیخلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جس میں94 نامزد جبکہ پانچ سو کو نامعلوم رکھا گیا ہے۔طلباء نے یونیورسٹی کا گیٹ جلا دیا تھا اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔ پولیس نےدو درجن سے زاد طلبا کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ دن بھر پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد طلباء زخمی بھی ہوئے۔

    پولیس کی مزید نفری بھی موقع پر پہنچی اور طلباء کو منتشر کیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق خان موقع پر پہنچے اور کہا کہ پرامن احتجاج سب کا حق ہے لیکن قانوں ہاتھ میں لینے والوں سے نمٹا جائے گا۔ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

    طلباء کے احتجاج کے باعث یونیورسٹی سے خیابان جناح روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی رہیں۔آن لائن امتحانات کے حق میں ملک کے مختلف شہروں میں طلبا نے احتجاج کیا۔ ڈیرہ غازی خان میں طلبہ نے احتجاج کیا۔

    یونیورسٹی نے امتحانات ملتوی کرنے کا فیصلہ مسترد کردیا۔ احتجاجی طلبہ کہتے ہیں، امتحان ملتوی ہونے سے چار سالہ ڈگری پانچ سال میں مکمل ہوگی اور قیمتی ایک سال ضائع ہوجائے گا۔پشاور یونیورسٹی کے طلبا نے وائس چانسلر آفس کے سامنے دھرنا دے دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کلاسز آن لائن ہوئی ہیں تو امتحان بھی آن لائن ہونا چاہیئے۔

  • سرکاری سکولوں میں جاری کاموں کو جلد ازجلد مکمل کیا جائے۔ڈی سی ننکانہ

    سرکاری سکولوں میں جاری کاموں کو جلد ازجلد مکمل کیا جائے۔ڈی سی ننکانہ

    ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بزدار حکومت کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر آفس کمیٹی روم میں ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ سکیموں کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے کی۔اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر تعلیم احسن فرید،ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ طارق علی ڈھلوں،محکمہ ہائی وے،بلڈنگز سمیت دیگرمتعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اس موقع پرڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ طارق علی ڈھلوں نے ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمد کو ضلع بھر میں جاری ترقیاتی سکیموں کے بارے میں تفصیلاًآگاہ کیا۔ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمدنے کہا کہ سکولوں کی اپ گریڈیشن حکومت پنجاب کا احسن قدم ہے ،سرکاری سکولوں میں جاری ترقیاتی کاموں کو جلد ازجلد مکمل کیا جائے گا، ترقیاتی سکیموں کے معیاراور کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا تمام متعلقہ افسران ضلع بھر میں جاری ترقیاتی سکیموں کو جلد از جلد مکمل کریںاور ان ترقیاتی کاموں میں استعمال ہونے والے میٹریل کے معیار پر کوئی کسی قسم کا بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اگر کسی بھی سکیم میں ناقص میٹریل استعمال ہونے کی نشاندہی ہوگئی تو ٹھیکیدار اور متعلقہ محکمے کے افسران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر راجہ منصوراحمد نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی کاموں کی نگرانی خود کریں اورکوالٹی چیکنگ کے بغیر ٹھیکیداران کو رقم کی ادائیگی ہرگز نہ کی جائے۔

  • طلبہ کیلیے بڑی خبر،  وزیر تعلیم سندھ نے تعلیمی پالیسی 2021 کا اعلان کر دیا

    طلبہ کیلیے بڑی خبر، وزیر تعلیم سندھ نے تعلیمی پالیسی 2021 کا اعلان کر دیا

    کراچی : وزیرتعلیم سندھ سعید غنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا اس باربچوں کو بغیر امتحانات کے پرموٹ نہیں کیا جائےگا۔تعلیمی ادارےبندہونےسےسلیبس مکمل کرنا مشکل ہوتا ہے اس لئے تمام ارکان کا اتفاق ہے کہ امتحانات جلد بازی میں نہیں کرانےچاہئیں۔

    سعیدغنی کا کہنا تھا کہ یکم فروری سےپہلےہم اپناپلان دیناچاہتےہیں لیکن یہ پہلےسےطےہے ہرجماعت میں50فیصد بچےآئیں گے اور تعلیمی اداروں سےمتعلق ایس اوپیز بھی پہلےسے طےہیں۔ 9ویں،10ویں،11ویں،12ویں جماعت کی کلاسز کا آغاز ہوچکا ہے اور ہم تعلیمی اداروں میں کروناٹیسٹنگ کی رفتاربڑھا رہے ہیں۔

    وزیرتعلیم سندھ سعیدغنی نے میڈیا کو بتایا کہ آج اکیڈمک پالیسی طے کرلی گئی ہے۔ نصاب پہلےسے40فیصدکم ہوگا۔ امتحانات میں جلدبازی نہیں کی جائے گی۔ بچوں کو60فیصدکورس پوراپڑھایں گے چاہے امتحانات میں تاخیرہی کیوں نہ کرناپڑے۔ لیکن اس بار بچوں کوبغیرامتحان کےپاس نہیں کیاجائےگا۔

    وزیرتعلیم سندھ نے کہا آج ایک کمیٹی قائم کی ہے جس میں اسکول، کالج اور تمام بورڈزکےچیئرمینزشامل ہیں۔ یہ کمیٹی رواں سال اوراگلےسال کاپوراتعلمی کلینڈردے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسٹیئرنگ کمیٹی کااگلااجلاس30 جنوری کوہوگا۔

    دوسری جانب ملتان کی جامعہ زکریا کے طلبہ نے آن لائن امتحانات کےلیے جامعہ کےمرکزی گیٹ پراحتجاج کیا جس میں یونیورسٹی انتظامیہ سےآن لائن پیپرزکروانےکامطالبہ کیا گیا تھا۔ ان کا احتجاج رنگ لے آیا اور یونیورسیٹی انتظامیہ نے تمام کورسز کے آن لائن امتحانات لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یونیورسٹی حکام کے مطابق آن لائن امتحانات کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ مطالبات تسلیم ہونے پر طلباء نے احتجاج ختم کر دیا۔

  • کون بنے گا کروڑ پتی ، ایف آئی اے سائبر کرائم کی بڑی کاروائی

    کون بنے گا کروڑ پتی ، ایف آئی اے سائبر کرائم کی بڑی کاروائی

    ملتان: ایف آئی اے سائبر کرائم کی کون بنے گا کروڑ پتی کی جعلی اسکیم چلانے والوں کے خلاف کاروائی ، ایف آئی اے کا لودھراں کے علاقہ دنیا پور میں چھاپہ ، چار ملزمان گرفتار کر لیے گئے ،

    ڈپٹی ڈائریکٹر حسن جلیل نے ملزمان کے قبضہ سے560 غیر قانونی سمیں ، 229 جعلی انگوٹھا کے نشانات ، ایک لیپ ٹاپ ، جعلی چیک برآمد کئے گئے۔

    مملزمان پیسوں کا لالچ دینے کے لئے غیر ملکی سموں کا استعمال کرتے تھے۔

  • اوپن یونیورسٹی نے امتحانی مشقیں / اسائنمنٹس جمع کرانے کا شیڈول جاری کردیا

    اوپن یونیورسٹی نے امتحانی مشقیں / اسائنمنٹس جمع کرانے کا شیڈول جاری کردیا

    اوپن یونیورسٹی نے امتحانی مشقیں / اسائنمنٹس جمع کرانے کا شیڈول جاری کردیا..

    علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے میٹرک، ایف اے اورآئی کام پروگرامزکی امتحانی مشقیں (اسائنمنٹس) جمع کرانے کا شیڈول اپنی ویب سائٹ پر جاری کردیا ہے۔شیڈول کے مطابق میٹرک، ایف اے اور آئی کام کے مکمل کریڈٹ کورسز کی پہلی اسائنمنٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ 30۔نومبر، جبکہ دوسری اسائنمنٹ جمع کرانے کی تاریخ 20۔دسمبرہے۔ پہلی اسائنمنٹ مقررہ تاریخ تک جمع نہ کرانے والے طلبہ کو مہلت دی گئی ہے، کہ وہ پہلی اسائنمنٹ اپنی دوسری اسائنمنٹ کے ساتھ20۔دسمبر تک جمع کراسکتے ہیں۔شیڈول کے مطابق تیسری اسائنمنٹ کی تاریخ 20۔جنوری اور چوتھی اسائنمنٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ 20۔فروری 2021ء مقرر کی گئی ہے۔اسی طرح نصف کریڈٹ کورسز کی پہلی مشق جمع کرانے کی تاریخ 20دسمبر جبکہ دوسری مشق جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 فروری 2021ء ہے۔

    واضح رہے کہ یونیورسٹی کے سمسٹر خزاں 2020کے میٹرک /ایف ا ے اور آئی کام کے داخلے کنفر م ہوچکے ہیں۔ داخلہ فارم ارسال کرنے والے امیدوار اپنے داخلے کی کنفرمیشن یونیورسٹی کی ویب سائٹ سے کرسکتے ہیں۔مذکورہ پروگرامز میں داخل طلبہ کو کتب بھی ارسا ل کی جاچکی ہیں۔ سمسٹر خزاں 2020ء کے مطالعے کی مدت نومبر 2020ء تا فروری 2021ء ہے۔طلبہ کو مطالعے میں باقاعدگی اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہےٗ اُنہیں مطالعے کے دوران ہی مشقیں حل کرنے اور مقررہ تاریخوں تک ہر صورت اپنے مقررہ ٹیوٹرز کو دستی یا بذریعہ ڈاک ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
    طلبہ اپنے کورسز کے لئیے مقرر کردہ ٹیوٹرز کا نام، پتہ اور فون نمبر ویب سائیٹ پر موجود TUTOR INFORMATION لنک سے حاصل کر سکتے ہیں

  • “تعلیم بحالی تحریک” آل پاکستان سکولزفیڈریشن نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی

    “تعلیم بحالی تحریک” آل پاکستان سکولزفیڈریشن نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی

    کاشف مرزاصدرآل پاکستان پرائیویٹ سکولزفیڈریشن کی کال پرملک بھر10 دسمبرکو“تعلیم بحالی تحریک” پرامن احتجاج وپریس کانفرنسز کااعلان: آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن،7.5کروڑپاکستانی بچوں کےآئینی تعلیمی حقوق کی خاطر،تمام ایسوسی ایشنزسے بھرپور شرکت کی اپیل

    وفاق کا10جنوری تک سکولزبند کرناتعلیم دشمنی، مسترد کرتے ہیں۔تدریس کاسلسلہ جاری رہےگا۔تادیبی کاروائیاں بند نہ ہوئیں تو لانگ مارچ ہو گا۔
    کاشف مرزا نے مزید کہا کہ آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے ثابت کیاکہ طلباء سکولزمیں مکمل محفوظ ہیں: پرائیویٹ سکولز SOPs پربھرپورعمل کر رہے ہیں،وزرا تعلیم کا اعتراف؛اعتماد کا ثبوت ہے:

    دنیا بھردوسری لہر میں کسی ملک نے مکمل سکولز بند نہ کیے،مائیکرو لاک ڈاون کاآپشن استعمال کیاجائے،سیاسی اجتماعات پرپابندی پرعمل درآمد کیا جائے!
    سیاسی اجتماعات سے کرونا پھیلا،کروڑوں پاکستانیوں کو جان کا خطرہ ہے۔UN،یونیسف،یونیسکووعالمی بنک ایڈویزری مطابق کورونامیں بھی سکولز کھلے رکھے جائیں،بند کرنے سے نقصانات زیادہ ہیں۔گیلپ سروےمطابق87%والدین بچے سکولز بجھوانا چاہتے ہیں۔

    کوویڈمیں7.5کروڑطلباکی تعلیم کاناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔WHO کی36لاکھ بچوں میں سےصرف ایک کے متاثر ہونےکے خدشہ بارے مثبت ایڈوائزری ثبوت ہیں۔
    چائلڈلیبر رجحان میں خطرناک اضافہ ہواہے۔2.5کروڑ پاکستانی بچےپہلے ہی اپنے آئینی حق سے محروم ہیں۔سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں 50 فیصد سے زائد تعداد لڑکیوں کی ہے! نجی سکولزکا معاشی قتل ہے،بندش سے10000 سکولز مکمل بنداور7لاکھ ٹیچرزبےروزگارہوچکے ہیں۔تنخواہیں و90فیصد سکولز عمارتوں کےکرائے فکسُ ہیں۔وزیراعظم اساتذہ کیلیے’’تعلیمی ریلیف پیکیج‘‘ کااعلان کریں:امیروں کی اولاد گھر میں ٹیوٹر اورعام انسان کا بچہ تعلیم سے محروم کیوں؟آن لائن تعلیم وتعلیم گھر ٹی وی ڈرامہ فلاپ پروگرام ہےئتعلیم ہر بچے کاآئینی حق اور 25-A ریاست کا آئینی فریضہ ہے:آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کی وزیراعظم، چیف جسٹس، آرمی چیف، وزرااعلی،گورنرز سے اپیلSOPsکےتحت سکولز کھلےرکھے جائیں: