Baaghi TV

Category: تعلیم

  • بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کرپشن اسکینڈل

    بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی کرپشن اسکینڈل

    بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری کے فنانس ڈپارٹمنٹ میں کرپشن کا انکشاف
    غیر قانونی طور پر بھرتی کیے ہوئے اکائونٹ آفیسر عبد الرشید ملاح نے ملازمین کےGPF کے تقریباً 7.5ملین نکلوا کے اپنے خاص دوست کے ذریعے الفلاح بنک میں 7٪ کے عوض یعنی 15 لاکھ اپنے جیب میں ڈال دئیے اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اختر بلوچ کی آنکھوں میں دھول جھونک کر راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی۔
    پکڑے جانے پر وائس چانسلر کی خاموشی اور ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس کے ایکٹنگ چارج نوازنے پر مینجمنٹ کی لاپرواہی صاف دکھائی دے رہی ہے۔ عبدالرشید ملاح جن کی غیر قانونی بھرتی کا معاملہ اینٹی کرپشن میں چل رہا ہے، ان کی غیر قانونی تعیناتی میں ان کی اہلیہ محسنہ سکندر بطور اسسٹنٹ رجسٹرار اپنے شوہر کی مدد رہی تھیں ۔
    لیاری یونیورسٹی کے ملازمین کی 7.5 ملین GP فنڈ کے پیسے لے اڑنے کی کوشش میں اپنے خاص دوست کے ذریعے الفلاح بینک میں پیسےجمع کرواکر اور 15 لاکھ کی رشوت لے کر معاملے کو رفع دفع کرنے کی ناکام کوشش نے میاں بیوی کے ناجائز عزائم کی پول پٹی کھول دی۔ اس خرد برد کے کیس میں جہاں عبدالرشید ملاح کے خلاف مینجمنٹ کاروائی کرنے سے قاصر ہے وہیں لیاری یونیورسٹی کے ملازمین میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔

  • باچا خان یونیورسٹی انتظامیہ نے عبایا لازمی قرار دیدیا

    باچا خان یونیورسٹی انتظامیہ نے عبایا لازمی قرار دیدیا

    چارسدہ: خیبرپختونخوا میں باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ نےعبایا لازمی قرار دے دیا ہے اور اونچی ایڑی والی جوتی(ہیل) پہننے پر پابندی لگا دی ہے۔اکیڈمک کونسل اجلاس میں فیکلٹی ممبران اورطلبہ کے لیے لباس کے قواعد وضوابط کے متعلق مزید سفارشات بھی مرتب کر لی گئی ہیں۔

    ترجمان باچا خان یونیورسٹی کے مطابق طالبات کے میک اپ کرنے اور سکن ٹائٹس پہننے پربھی پابندی کی سفارشات تیار کی گئی ہیں۔ سفارشات کی حتمی منظوری سینڈیکیٹ کے اجلاس میں دی جائے گی۔سفارشات کی روشنی میں طالبات کے لیے کالے رنگ کا ڈھیلا عبایا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کالے رنگ کے ہموار چپل پہننے اور یونیورسٹی کارڈ گلے میں آویزاں کرنا لازمی ہوگا۔

    جینز، ٹائٹس، ٹی شرٹس، ٹراوزرز، میک اپ جیولری، فینسی پرس اور ہیلز پہننے پر پابندی ہوگی۔

    قبل ازیں خیبر پختونخوا کی ہزارہ ہونیورسٹی کے طلبا کیلئے بھی نئے ڈریس کوڈ کا اعلان کیا گیا تھا۔ طالبات کو زیادہ میک اپ اور زیورات پہننے سے بھی منع کیا گیا ہے جبکہ طلبہ کے لیے بھی مختصر لباس جیسا کہ شارٹس، کانوں میں بالیاں، پاؤں میں چپل اور سینڈل پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔طالبات کو صرف مخصوص رنگ کے عبایا، دوپٹے اور سکارف پہننے کی اجازت ہو گی جبکہ طلبہ کو صرف پینٹ شرٹ اور قمیض شلوار پہننے کی اجازت ہو گی۔

  • آن لائن امتحانات کیلئے احتجاج کرنے والے طلباکیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا

    آن لائن امتحانات کیلئے احتجاج کرنے والے طلباکیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا

    لاہور: آن لائن امتحانات کیلئے پر تشدد احتجاج کرنے والے نجی یونیورسٹی کے طلبا کیخلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جس میں94 نامزد جبکہ پانچ سو کو نامعلوم رکھا گیا ہے۔طلباء نے یونیورسٹی کا گیٹ جلا دیا تھا اور پولیس پر پتھراؤ بھی کیا۔ پولیس نےدو درجن سے زاد طلبا کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ دن بھر پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد طلباء زخمی بھی ہوئے۔

    پولیس کی مزید نفری بھی موقع پر پہنچی اور طلباء کو منتشر کیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق خان موقع پر پہنچے اور کہا کہ پرامن احتجاج سب کا حق ہے لیکن قانوں ہاتھ میں لینے والوں سے نمٹا جائے گا۔ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

    طلباء کے احتجاج کے باعث یونیورسٹی سے خیابان جناح روڈ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے سے گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی رہیں۔آن لائن امتحانات کے حق میں ملک کے مختلف شہروں میں طلبا نے احتجاج کیا۔ ڈیرہ غازی خان میں طلبہ نے احتجاج کیا۔

    یونیورسٹی نے امتحانات ملتوی کرنے کا فیصلہ مسترد کردیا۔ احتجاجی طلبہ کہتے ہیں، امتحان ملتوی ہونے سے چار سالہ ڈگری پانچ سال میں مکمل ہوگی اور قیمتی ایک سال ضائع ہوجائے گا۔پشاور یونیورسٹی کے طلبا نے وائس چانسلر آفس کے سامنے دھرنا دے دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کلاسز آن لائن ہوئی ہیں تو امتحان بھی آن لائن ہونا چاہیئے۔

  • سرکاری سکولوں میں جاری کاموں کو جلد ازجلد مکمل کیا جائے۔ڈی سی ننکانہ

    سرکاری سکولوں میں جاری کاموں کو جلد ازجلد مکمل کیا جائے۔ڈی سی ننکانہ

    ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بزدار حکومت کی خصوصی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر آفس کمیٹی روم میں ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ سکیموں کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے کی۔اجلاس میں چیف ایگزیکٹو آفیسر تعلیم احسن فرید،ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ طارق علی ڈھلوں،محکمہ ہائی وے،بلڈنگز سمیت دیگرمتعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی۔اس موقع پرڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ طارق علی ڈھلوں نے ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمد کو ضلع بھر میں جاری ترقیاتی سکیموں کے بارے میں تفصیلاًآگاہ کیا۔ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمدنے کہا کہ سکولوں کی اپ گریڈیشن حکومت پنجاب کا احسن قدم ہے ،سرکاری سکولوں میں جاری ترقیاتی کاموں کو جلد ازجلد مکمل کیا جائے گا، ترقیاتی سکیموں کے معیاراور کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا تمام متعلقہ افسران ضلع بھر میں جاری ترقیاتی سکیموں کو جلد از جلد مکمل کریںاور ان ترقیاتی کاموں میں استعمال ہونے والے میٹریل کے معیار پر کوئی کسی قسم کا بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اگر کسی بھی سکیم میں ناقص میٹریل استعمال ہونے کی نشاندہی ہوگئی تو ٹھیکیدار اور متعلقہ محکمے کے افسران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر راجہ منصوراحمد نے تمام متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی کاموں کی نگرانی خود کریں اورکوالٹی چیکنگ کے بغیر ٹھیکیداران کو رقم کی ادائیگی ہرگز نہ کی جائے۔

  • طلبہ کیلیے بڑی خبر،  وزیر تعلیم سندھ نے تعلیمی پالیسی 2021 کا اعلان کر دیا

    طلبہ کیلیے بڑی خبر، وزیر تعلیم سندھ نے تعلیمی پالیسی 2021 کا اعلان کر دیا

    کراچی : وزیرتعلیم سندھ سعید غنی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا اس باربچوں کو بغیر امتحانات کے پرموٹ نہیں کیا جائےگا۔تعلیمی ادارےبندہونےسےسلیبس مکمل کرنا مشکل ہوتا ہے اس لئے تمام ارکان کا اتفاق ہے کہ امتحانات جلد بازی میں نہیں کرانےچاہئیں۔

    سعیدغنی کا کہنا تھا کہ یکم فروری سےپہلےہم اپناپلان دیناچاہتےہیں لیکن یہ پہلےسےطےہے ہرجماعت میں50فیصد بچےآئیں گے اور تعلیمی اداروں سےمتعلق ایس اوپیز بھی پہلےسے طےہیں۔ 9ویں،10ویں،11ویں،12ویں جماعت کی کلاسز کا آغاز ہوچکا ہے اور ہم تعلیمی اداروں میں کروناٹیسٹنگ کی رفتاربڑھا رہے ہیں۔

    وزیرتعلیم سندھ سعیدغنی نے میڈیا کو بتایا کہ آج اکیڈمک پالیسی طے کرلی گئی ہے۔ نصاب پہلےسے40فیصدکم ہوگا۔ امتحانات میں جلدبازی نہیں کی جائے گی۔ بچوں کو60فیصدکورس پوراپڑھایں گے چاہے امتحانات میں تاخیرہی کیوں نہ کرناپڑے۔ لیکن اس بار بچوں کوبغیرامتحان کےپاس نہیں کیاجائےگا۔

    وزیرتعلیم سندھ نے کہا آج ایک کمیٹی قائم کی ہے جس میں اسکول، کالج اور تمام بورڈزکےچیئرمینزشامل ہیں۔ یہ کمیٹی رواں سال اوراگلےسال کاپوراتعلمی کلینڈردے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسٹیئرنگ کمیٹی کااگلااجلاس30 جنوری کوہوگا۔

    دوسری جانب ملتان کی جامعہ زکریا کے طلبہ نے آن لائن امتحانات کےلیے جامعہ کےمرکزی گیٹ پراحتجاج کیا جس میں یونیورسٹی انتظامیہ سےآن لائن پیپرزکروانےکامطالبہ کیا گیا تھا۔ ان کا احتجاج رنگ لے آیا اور یونیورسیٹی انتظامیہ نے تمام کورسز کے آن لائن امتحانات لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یونیورسٹی حکام کے مطابق آن لائن امتحانات کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ مطالبات تسلیم ہونے پر طلباء نے احتجاج ختم کر دیا۔

  • کون بنے گا کروڑ پتی ، ایف آئی اے سائبر کرائم کی بڑی کاروائی

    کون بنے گا کروڑ پتی ، ایف آئی اے سائبر کرائم کی بڑی کاروائی

    ملتان: ایف آئی اے سائبر کرائم کی کون بنے گا کروڑ پتی کی جعلی اسکیم چلانے والوں کے خلاف کاروائی ، ایف آئی اے کا لودھراں کے علاقہ دنیا پور میں چھاپہ ، چار ملزمان گرفتار کر لیے گئے ،

    ڈپٹی ڈائریکٹر حسن جلیل نے ملزمان کے قبضہ سے560 غیر قانونی سمیں ، 229 جعلی انگوٹھا کے نشانات ، ایک لیپ ٹاپ ، جعلی چیک برآمد کئے گئے۔

    مملزمان پیسوں کا لالچ دینے کے لئے غیر ملکی سموں کا استعمال کرتے تھے۔

  • اوپن یونیورسٹی نے امتحانی مشقیں / اسائنمنٹس جمع کرانے کا شیڈول جاری کردیا

    اوپن یونیورسٹی نے امتحانی مشقیں / اسائنمنٹس جمع کرانے کا شیڈول جاری کردیا

    اوپن یونیورسٹی نے امتحانی مشقیں / اسائنمنٹس جمع کرانے کا شیڈول جاری کردیا..

    علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے میٹرک، ایف اے اورآئی کام پروگرامزکی امتحانی مشقیں (اسائنمنٹس) جمع کرانے کا شیڈول اپنی ویب سائٹ پر جاری کردیا ہے۔شیڈول کے مطابق میٹرک، ایف اے اور آئی کام کے مکمل کریڈٹ کورسز کی پہلی اسائنمنٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ 30۔نومبر، جبکہ دوسری اسائنمنٹ جمع کرانے کی تاریخ 20۔دسمبرہے۔ پہلی اسائنمنٹ مقررہ تاریخ تک جمع نہ کرانے والے طلبہ کو مہلت دی گئی ہے، کہ وہ پہلی اسائنمنٹ اپنی دوسری اسائنمنٹ کے ساتھ20۔دسمبر تک جمع کراسکتے ہیں۔شیڈول کے مطابق تیسری اسائنمنٹ کی تاریخ 20۔جنوری اور چوتھی اسائنمنٹ جمع کرانے کی آخری تاریخ 20۔فروری 2021ء مقرر کی گئی ہے۔اسی طرح نصف کریڈٹ کورسز کی پہلی مشق جمع کرانے کی تاریخ 20دسمبر جبکہ دوسری مشق جمع کرانے کی آخری تاریخ 20 فروری 2021ء ہے۔

    واضح رہے کہ یونیورسٹی کے سمسٹر خزاں 2020کے میٹرک /ایف ا ے اور آئی کام کے داخلے کنفر م ہوچکے ہیں۔ داخلہ فارم ارسال کرنے والے امیدوار اپنے داخلے کی کنفرمیشن یونیورسٹی کی ویب سائٹ سے کرسکتے ہیں۔مذکورہ پروگرامز میں داخل طلبہ کو کتب بھی ارسا ل کی جاچکی ہیں۔ سمسٹر خزاں 2020ء کے مطالعے کی مدت نومبر 2020ء تا فروری 2021ء ہے۔طلبہ کو مطالعے میں باقاعدگی اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہےٗ اُنہیں مطالعے کے دوران ہی مشقیں حل کرنے اور مقررہ تاریخوں تک ہر صورت اپنے مقررہ ٹیوٹرز کو دستی یا بذریعہ ڈاک ارسال کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
    طلبہ اپنے کورسز کے لئیے مقرر کردہ ٹیوٹرز کا نام، پتہ اور فون نمبر ویب سائیٹ پر موجود TUTOR INFORMATION لنک سے حاصل کر سکتے ہیں

  • “تعلیم بحالی تحریک” آل پاکستان سکولزفیڈریشن نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی

    “تعلیم بحالی تحریک” آل پاکستان سکولزفیڈریشن نے ملک بھر میں احتجاج کی کال دے دی

    کاشف مرزاصدرآل پاکستان پرائیویٹ سکولزفیڈریشن کی کال پرملک بھر10 دسمبرکو“تعلیم بحالی تحریک” پرامن احتجاج وپریس کانفرنسز کااعلان: آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن،7.5کروڑپاکستانی بچوں کےآئینی تعلیمی حقوق کی خاطر،تمام ایسوسی ایشنزسے بھرپور شرکت کی اپیل

    وفاق کا10جنوری تک سکولزبند کرناتعلیم دشمنی، مسترد کرتے ہیں۔تدریس کاسلسلہ جاری رہےگا۔تادیبی کاروائیاں بند نہ ہوئیں تو لانگ مارچ ہو گا۔
    کاشف مرزا نے مزید کہا کہ آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے ثابت کیاکہ طلباء سکولزمیں مکمل محفوظ ہیں: پرائیویٹ سکولز SOPs پربھرپورعمل کر رہے ہیں،وزرا تعلیم کا اعتراف؛اعتماد کا ثبوت ہے:

    دنیا بھردوسری لہر میں کسی ملک نے مکمل سکولز بند نہ کیے،مائیکرو لاک ڈاون کاآپشن استعمال کیاجائے،سیاسی اجتماعات پرپابندی پرعمل درآمد کیا جائے!
    سیاسی اجتماعات سے کرونا پھیلا،کروڑوں پاکستانیوں کو جان کا خطرہ ہے۔UN،یونیسف،یونیسکووعالمی بنک ایڈویزری مطابق کورونامیں بھی سکولز کھلے رکھے جائیں،بند کرنے سے نقصانات زیادہ ہیں۔گیلپ سروےمطابق87%والدین بچے سکولز بجھوانا چاہتے ہیں۔

    کوویڈمیں7.5کروڑطلباکی تعلیم کاناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔WHO کی36لاکھ بچوں میں سےصرف ایک کے متاثر ہونےکے خدشہ بارے مثبت ایڈوائزری ثبوت ہیں۔
    چائلڈلیبر رجحان میں خطرناک اضافہ ہواہے۔2.5کروڑ پاکستانی بچےپہلے ہی اپنے آئینی حق سے محروم ہیں۔سکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد میں 50 فیصد سے زائد تعداد لڑکیوں کی ہے! نجی سکولزکا معاشی قتل ہے،بندش سے10000 سکولز مکمل بنداور7لاکھ ٹیچرزبےروزگارہوچکے ہیں۔تنخواہیں و90فیصد سکولز عمارتوں کےکرائے فکسُ ہیں۔وزیراعظم اساتذہ کیلیے’’تعلیمی ریلیف پیکیج‘‘ کااعلان کریں:امیروں کی اولاد گھر میں ٹیوٹر اورعام انسان کا بچہ تعلیم سے محروم کیوں؟آن لائن تعلیم وتعلیم گھر ٹی وی ڈرامہ فلاپ پروگرام ہےئتعلیم ہر بچے کاآئینی حق اور 25-A ریاست کا آئینی فریضہ ہے:آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کی وزیراعظم، چیف جسٹس، آرمی چیف، وزرااعلی،گورنرز سے اپیلSOPsکےتحت سکولز کھلےرکھے جائیں:

  • ڈائریکٹر کالجز لاہور ڈویژن ڈاکٹر ضیاءالرحمن کی ضلع بھر کے سرکاری و پرائیویٹ کالجوں کے پرنسپلز سے خصوصی بیٹھک

    ڈائریکٹر کالجز لاہور ڈویژن ڈاکٹر ضیاءالرحمن کی ضلع بھر کے سرکاری و پرائیویٹ کالجوں کے پرنسپلز سے خصوصی بیٹھک

    ننکانہ صاحب: نمائندہ باغی ٹی وی
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی خصوصی ہدایت پرضلع بھر کے تمام سرکاری و پرائیویٹ کالجوں میں کرونا ایس اوپیز پر عملدرآمد کو سو فیصد یقینی بنایا جائے گا،کرونا وائرس کے پیش نظرماسک،ہینڈ سینیٹائزرکا استعمال اور سماجی فاصلہ کا خاص خیال رکھا جائے ۔ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر کالجز لاہور ڈویژن ڈاکٹر ضیاءالرحمن نے کرونا ایس او پیزپر عملدرآمد کے سلسلہ میں ضلع بھر کے سرکاری و پرائیویٹ کالجوں کے پرنسپلز سے خصوصی ملاقات کے دوران کیا ۔ ڈائریکٹر کالجز لاہور ڈاکٹر ضیاءالرحمن نے کالجوں کی انتطامیہ کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہو کر اس کرونا وائرس سے نجات حاصل کرنے کے لئے حکومت اور ضلعی انتظامیہ کا ساتھ دیں تاکہ ملک پاکستان میں کرونا وائرس کے خاتمہ کو یقینی بنایا جا سکے ۔اس موقع پر ضلع بھر کے سرکاری و پرائیویٹ کالجوں کے پرنسپلز نے انسداد ڈینگی اور کرونا کے پیش نظر حکومتی احکامات پر عملدرآمد کے حوالے سے کیے گئے حفاظتی اقدامات بارے ڈائریکٹر کالجز ضیاءالرحمن کو تفصیل سے آگاہ کیا اور حکومتی احکامات پر سو فیصد عملدرآمد کو یقینی بنانے کی یقین دہانی کروائی ۔ڈائریکٹر کالجز لاہورڈویژن ڈاکٹر ضیاءالرحمن نے ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز حید رعلی ڈوگر کے ہمراہ گورنمنٹ گورونانک پوسٹ گریجویٹ کالج فار بوائز اور گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین میں کرونا وائر س کے پیش نظر حکومتی ایس او پیز کا جائزہ لیا۔اس موقع پر پرنسپل گورنمنٹ گو رونانک پوسٹ گریجویٹ کالج فار بوائز ممتاز احمداورپرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین ڈاکٹر نگہت خورشیدودیگر پروفیسرز بھی موجود تھے۔ ڈائریکٹر کالجز لاہور ڈاکٹر ضیاءالرحمن نے دونوں کالجوں کے کلاس رومز میں صفائی ستھرائی کا جائزہ لیتے ہوئے تسلی بخش قرار دیا اور کالجوں کی انتطامیہ کو شاباش دیتے ہوئے صفائی ستھرائی کے انتظامات میں مزید بہتری لانے کی ہدایات جاری کیں۔

  • تعلیم یافتہ اور خوشحال مکران میرا خواب ہے، ظہور بلیدی

    صوبائی وزیرخزانہ میر ظہوراحمد بلیدی نے کہاہے کہ لکھا پڑھا اور خوشحال مکران ان کا خواب ہے اس مقصد کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔کیونکہ تعلیم کسی بھی علاقے کی ترقی و خوشحالی میں ہمیشہ سے کلیدی کردار ادا کرتی آرہی ہے اس سمت میں گورنمنٹ انٹر کالج ھو شاب برائے طلباء اور گورنمنٹ انٹر کالج بلیدی برائے طلبا ء کو اپ گریڈ کرکے ڈگری کالجز کا درجہ دیا گیا ہے جس سے طلباء کا اعلیٰ تعلیم کے حصول کا خواب شرمند ہ تعبیر ہو گا اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں خضدار انجینئرنگ یونیورسٹی تربت کیمپس میں نیشنل ٹیکنالوجی کونسل نے بی۔ایس۔سی انجینئرنگ،کمپوٹر،ٹیکنکل اور میکینکل پروگراموں کی شرطیہ این اوسی بھی جاری کی ہے اور اس سب کیمپس میں عنقریب کلاسوں کا اجراء ہو گا۔اپنے ایک بیان میں صوبائی وزیر نے کہاہے کہ مکران کو دوسالوں کے کم عرصے میں ترقی کی شاہراہ پر گامزن کردیا ہے اور اپنے حلقے کے عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے وہ ہمہ وقت کوشا ں ہیں۔حلقے میں تعلیم،صحت،پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور سٹرکوں کا جال بچھا دیا گیا ہے انہو ں نے کہاکہ بلید ہ،ھو شاپ، تربت اور دیگر علاقوں میں سینکڑوں پرائمری،مڈل،ہائی سکولوں اور کالجز کے بنیادی ڈھانچوں کی بہتری اوران تعلیمی اداروں میں طلباء و طالبات کو تعلیمی سہولیات کی فراہمی پر خطیر فنڈ ز استعمال کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ تعلیم یا فتہ اور خوشحال مکران ان کا وژن ہے اور اس تناظر میں اقتدار میں آنے سے پہلے عوام سے کیے گئے وعدوں کو عملی جامع پہنانے کیلئے ہرفورم پر اقدامات کئے جارہے ہیں کالجز میں زیر تعلیم طلباء و طالبات کے مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اضافی بسیں فراہم کی گئی ہے تاکہ دور دارز علاقوں سے آنے والے طلباء و طالبات بھی علم کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔