Baaghi TV

Category: تعلیم

  • شہزاد رائے کا بی ایڈ کے لئے عمر کی حد ختم کرنے پر خوشی کااظہار

    شہزاد رائے کا بی ایڈ کے لئے عمر کی حد ختم کرنے پر خوشی کااظہار

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے معروف گلوکار اور سماجی کارکن شہزاد رائے نے بی ایڈ کے لئے عمر کی حد ختم کرنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے-

    باغی ٹی وی : معروف گلوکار و سماجی کارکن کا کہنا ہے کہ بی ایڈ کرنے کے خواہش مندوں کے لیے عمر کی حد ختم کرنا خوش آئند ہے۔
    شہزاد رائے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ نے سعید غنی کی زیر صدارت سندھ ٹیچرز ایجوکیشن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے ا فیصلہ کیا ہے کہ اب کسی بھی طالب علم پر جو بی ایڈ کرنا چاہتے ہیں اس پر عمر کی کوئی پابندی نہیں ہے-


    انہوں نے کہا کہ بی ایڈ کے لیے عمر کی حد جو پہلے 28 برس تھی اسے ختم کرنے سے طالبعلموں کے ٹیچر بننے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

    واضح رہے کہ صوبائی وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کی زیر صدارت سندھ ٹیچرز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس ہوا جس میں اراکین کی جانب سے ٹیچنگ کورس بی ایڈ کے لیے عمر کی حد میں اضافے کی تجویز دی اجلاس میں شریک شرکاء کی جانب سے مختلف رائے دی گئیں تاہم سعید غنی نے کہا کہ علم کے حصول کے لیے عمر کی پابندی نہیں ہونی چاہیے، علم کو عمر کی پابندی سے محدود کرنا درست نہیں۔

    صوبائی وزیر نے اجلاس میں شریک شرکاء سے مشاورت کرتے ہوئے بی ایڈ کرنے کے لیے عمر کی حد ختم کرنے کا اہم فیصلہ کیا بی ایڈ کے حوالے سےقانون سازی بھی جلد متوقع ہے جبکہ کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل ٹیچنگ کورس بی ایڈ کے لیے عمر کی حد 28سال مقرر تھی، جس کے باعث کئی اساتذہ کورس سے محروم رہے۔

    گود سےگورتک تعلیم حاصل کریں : ٹیچنگ کورس ‘بی ایڈ’ کیلیے عمر کی حد ختم کرنے کا فیصلہ

  • سرکاری سکول کے ہیڈ ٹیچر کلاس فورملازم نہ ہونے کی وجہ سے خود سکول سے گھاس کاٹ رہے ہیں،ویڈیو وائرل

    سرکاری سکول کے ہیڈ ٹیچر کلاس فورملازم نہ ہونے کی وجہ سے خود سکول سے گھاس کاٹ رہے ہیں،ویڈیو وائرل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا کی وجہ سے پنجاب میں ملک بھر کی طرح تعلیمی ادارے بند ہیں، سکولوں میں ہفتے میں دو دن دفاتر کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے،

    پنجاب میں تمام تعلیمی ادارے 15 ستمبر سے کھلیں گے. تعلیمی اداروں کی بندش کی وجہ سے سکولوں میں صفائی وغیرہ کا انتظام بھی نہیں ہو رہا ، ایسے میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں صارف نے لکھا ہے کہ یہ ایک گورنمنٹ پرائمری اسکول کے ہیڈ ٹیچر ہیں جو کلاس فور ملازم نہ ہونے کی وجہ سے خود سکول سے گھاس کاٹ رہے ہیں، سلام ہے ایسے بہادر اساتذہ کو جو گورنمنٹ سکولوں میں وسائل کی کمی کے باوجود اوپر لے کر جا رہے ہیں.

    https://twitter.com/ShahzadMughalpm/status/1283017730719973376?s=08

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سکول کے ہیڈ سخت گرمی میں قمیض اتار کر گھاس کاٹ رہے ہین

    سوشل میڈیا ویب ٹویٹر پر صارفین نے اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا باقی محکموں میں بھی ایسا ہوتا ہے؟ کیا کبھی آپ نے ڈاکخانے کے پوسٹ ماسٹر کو جھاڑو لگاتے دیکھا ہے؟ کیا آپ نے کسی پولیس کی چوکی کے انچارج کو لیٹرین صاف کرتے یا گھاس کاٹتے دیکھا ہے؟ ایک استاد سے ہی کیوں ایسے کام کروائے جاتے ہیں؟ کام میں کوئی برائی نہیں، لیکن استاد ہی کیوں؟

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ پرائمری سکول میں کلاس فور کا کوئی ملازم نہیں ہوتا ۔تمام پرائمری سکولوں کی خوبصورتی اور بناوٹ میں اساتذہ کی محنت شامل ہے ۔بس اساتذہ اس محنت کے بدلے عزت اور حوصلہ افزائی مانگتے ہیں ۔

    ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ دوسرے تمام department کی نسبت ٹیچرز کی تنخواہ بہت کم ہے ھمارا پاکستانی حکومت ، وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیرِ تعلیم جناب مرادراس صاحب سے درخواست ہے کہ ٹیچرز کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا جائے کیونکہ ھماری تعلیم ایم۔ایس۔سی اور تنخواہ میٹرک پاس لوگوں جتنی ہے ۔شکریہ ۔۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اساتذہ کی تنخواہوں میں نہ صرف اضافہ کیا جائے بلکہ سکول کے کاموں کے لئے کلاس فور بھی تعینات کئے جائیں ،تا کہ اساتذہ بچوں کی تعلیم پر فوکس کر سکیں

  • آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے تعلیمی ادارے فوری کھولنے کا مطالبہ کر دیا

    آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے تعلیمی ادارے فوری کھولنے کا مطالبہ کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن کی ملک بھر سے200 سے زائدرجسٹرڈ پرائیویٹ سکولزایسوسی ایشنز،مدارس،فنی تعلیمی اداروں واکیڈمیز نے کاشف مرزا کی قیادت میں مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے

    آل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نے تعلیمی ادارے14ستمبر تک بند رکھنے کے فیصلے کو مسترد کرکےسکولز و تعلیمی ادارے فوری کھولے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    کاشف مرزا کا کہنا تھا کہ حکومت ونٹر ایریاسکولز3اگست اور سمر ایریا سکولز15 اگست سے کھولے،بصورت دیگر اتحادی تنظیموں کی مشاورت سے خود کھولنے کا اعلان کریں گے۔ ملک بھر میں تعلیمی آئینی حقوق کے جائزمطالبات کیلیے پرامن احتجاج کا اعلان اورلائحہ عمل کیCEC میٹینگ میں حتمی منظوری دی گئی

    مدارس کے ملک بھر میں کامیاب تجربہ میں2 ہزار 166 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔جن میں14 ہزار 809 افراد پر مشتمل نگران عملہ خدمات سرانجام دے رہا ہے،جبکہ امتحانات میں 3 لاکھ15 ہزار 889طلبہ و طالبات مڈل تاعالمیہ یعنی ایم اے تک شرکت کررہے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان،آرمی چیف،وزیر اعظم، وزرااعلی،گورنرز سےاپیل کی کہ SOPs کے تحت دیگر شعبہ جات کی طرح سکولزوتعلیمی ادارے بھی فوری کھولے جائیں۔پرائیویٹ سکولز فیڈریشن نےعالمی معیار کے SOPs تیار اورجاری کر دیے ہیں

    کاشف مرزا کا مزید کہنا تھا کہ نجی سکولز،پیف وپیما،دیگرتعلیمی اداروں واکیڈمیزکا معاشی قتل کیا جارہا ہے۔تعلیمی اداروں کی بندش سے 50%تعلیمی ادارے مکمل بنداور10لاکھ لوگ بے روزگار ہوجائینگے۔ 2.5کروڑ پاکستانی بچے پہلے ہی اپنے آئینی حق سے محروم ہیں۔مزید 5کروڑطلباکےتعلیمی نقصان کاازالہ ناممکن ہے۔کل7.5 کروڑ پاکستانی بچوں کوآئینی تعلیمی حق سے محروم کردیاگیا،جن میں50 فیصد سے زائد تعداد لڑکیوں کی ہے۔تعلیم ہر بچے کاآئینی حق اور 25-A ریاست کا آئینی فریضہ ہے امیروں کی اولاد گھر میں ٹیوٹر اورعام انسان کا بچہ تعلیم سے محروم کیوں؟آن لائن تعلیم اورتعلیم گھر ٹی وی اک فلاپ ڈرامہ ہے

    کاشف مرزا کا مزید کہنا تھا کہ کرونا سے شدید متاثرممالک میں تعلیمی ادارے کھلےہیں، چین کے صوبےووہان، برازیل، سپین ، انگلینڈ،انڈیا، ایران، بنگلہ دیش، سری لنکا سمیت امریکہ، روس، ڈنمارک،فرانس،سوئٹزرلینڈ، آسٹریا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جرمنی  ،جاپان، کوریا، سعودی عرب،اسرائیل، ہانگ کانگ وغیرہ شامل ہیں،تو پاکستانی بچےتعلیم سے محروم کیوں؟ سکولز کی ٹائمنگ صبح 7 تا10اور2شفٹ میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھ کے کلاسز جاری رکھی جا سکتی ہیں ،ٹیچرز تنخواہیں اور90فیصد اسکولزعمارتیں کے کرائے فکسُ ہیں۔بند سکولز کو بھی اوسط شرح بنیاد پریوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی ہے۔وزیراعظم ٹیچرز کیلیے ’’تعلیمی ریلیف پیکیج‘‘کااعلان کریں

    کاشف مرزا کا مزید کہنا تھا کہ بورڈ امتحانات منسوخ کرنے کی بجائے امتحانات سماجی فاصلے برقرار رکھ کر کیے جائیں۔بورڈز فیس کی مد میں 45لاکھ طلباسے وصول شدہ25ارب روپے واپس کریں ، حکومت غیرآئینی اقدامات بند کرے ۔فیسوں کے حوالےسے حکومت سندھ اورپنجاب کا فیس میں 20فی صد کمی کا نوٹیفیکیشن وآرڈیننس آئین کےآرٹیکل 18,8،5,4,3, 25 (1) ،37اور38 سےمتصادم،امتیازی وغیر قانونی ہے ، انسانیت کے جذبہ اور ملک بھرکے مستحق طلبا کے لیے کرونا ایجوکیشنل ریلیف فنڈقائم کیا،وزیر اعظم پاکستان و وزراءاعلی کو ملک بھر کے2لاکھ پرائیویٹ سکولزآئسولیشن سینٹرز اور قرنطینہ سنٹرز اور 15 لاکھ ٹیچرز بطوروالیئنٹیرز پیشکش بھی کی گئی

    کاشف مرزا کا مزید کہنا تھا کہ خودکشی کرنے والے ٹیچر کی موت اور پنجاب بھر کی تعلیمی بدانتظامی کا ذمےداروزیر تعلیم پنجاب مراد راس سمیت دیگر تعلیم دشمن وزراتعلیم کوفوری بر طرف کیا جائے ،انہوں نے چیف جسٹس پاکستان،آرمی چیف اور وزیراعظم سے داد رسی کی اپیل کی ہے

  • مولانا پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی انتقال کرگئے

    مولانا پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی انتقال کرگئے

    لاہور :ممتاز ماھر تعلیم ، بزرگ عالم دین ،مرکزی جمعیت اھل حدیث پنجاب کے سابق امیر ، سابق ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشنز ( کالجز)حکومت پنجاب ، وفاق المدارس السلفیہ پاکستان کے کنٹرولر امتحانات ، مولانا پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی ، ایک مختصر علالت کے بعد لاہور میں انتقال کرگئے ہیں.

    پروفیسر عبدالرحمٰن لدھیانوی کی نماز جنازہ لاہور میں ادا کی جائیگی بعدازاں انہیں علاقہ ماچھی وال ضلع وہاڑی میں سپردخاک کیا جائے گا. پروفیسر عبدالرحمان لدھیانوی 30 مارچ 1945 میں ہندوستانی پنجاب کے علاقہ لدھیانہ کی تحصیل سمرالا میں پیدا ہوئے. تقسیم ہند کے وقت ان کی عمر دو سال ساڑھے چار ماہ تھی

    , تقسیم ہند کے دوران ان کا خاندان بھی ہجرت کرکے ضلع وہاڑی کے علاقے بورے والا میں آبسا. پرائمری سے میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول بورے والا میں ہی حاصل کی. بعدازاں دینی تعلیم کے لئے جامعہ سلفیہ لائل پور (فیصل آباد) تشریف لے آئے ,اس کے بعد صرف و نحو کی تعلیم کے لئے رینالہ خورد اوکاڑہ چلے گئے.

    اس کے بعد لاہور دارالعلوم تقویۃ الایمان میں چلے گئے یہیں سے انہوں نے درس نظامی کی تعلیم مکمل کی. اسی دوران پروفیسر عبدالرحمان لدھیانوی نے ایف اے بھی مکمل کرلیا اور بعدازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے کرنے بعد اورنٹیئل کالج لاہور سے ایم اے عربی کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد لیکچرار تعینات ہوگئے. پروفیسر عبدالرحمان لدھیانوی تعلیمی شعبے میں مختلف سرکاری عہدوں پر فائز رہے.

    ریٹائرمنٹ کے بعد مرکزی جمعیت اہلحدیث صوبہ پنجاب کے امیر منتخب ہوئے بعد میں اس عہدے سے سبکدوش ہوکر وفاق المدارس سلفیہ سے منسلک ہوگئے اور اب تک وفاق المدارس سلفیہ سے بطور ناظم امتحانات ذمہ داری نبھا رہے تھے ,پروفیسر عبدالرحمان لدھیانوی کی وفات پر امیر مرکزی جمعیۃ اہلحدیث سینیٹر ساجد میر, سینیٹر حافظ عبدالکریم, مولانا مسعود عالم, ناظم اعلیٰ وفاق المدارس سلفیہ مولانا یاسین ظفر, علامہ ابتسام الٰہی ظہیر, علامہ ہشام الہی ظہیر, ابو یحییٰ نور پوری سمیت دیگر علماء و دینی شخصیات نے ان کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا.

  • دیگرشعبوں کی طرح پاکستانی یونیورسٹیزبھی کرونا کےخلاف مزاحمت کے میدان میں سرگرم

    دیگرشعبوں کی طرح پاکستانی یونیورسٹیزبھی کرونا کےخلاف مزاحمت کے میدان میں سرگرم

    کورونا کی وبا کے خاتمے کےلیے پاکستانی یونیورسٹیوں کے کردار سے کون واقف نہیں ، ہاں اگرفواد چوہدری کی یہ عادت مبارک ہے کہ وہ ہمیشہ دوسروں میں نقص تلاش کرتے رہتے ہیں ،لیکن میں چوہدری صاحب کے گوش گزارکردیتا ہوں کہ پاکستانی یونیورسٹیوں نے کرونا کے خلاف جنگ جیتنے کے لئے باہمی تعاون کی کوششیں بہت پہلے سے شروع کردی تھیں۔ یونیورسٹیوں کے کردارسے متعلق ترجمان کاشف ظہیرکمبوہ نے اس حوالے سے ساری حقیقت کوواضح کردیا ہے

    15 مارچ 2020 کی رات10 بجے جناب ریحان یونس ایگزیکٹو ڈائریکٹر یونیورسٹی آف سیالکوٹ (یو ایس کے ٹی) نے ڈائریکٹر اورک ، یونیورسٹی آف سیالکوٹ کو فون کیا کہ وہ کورونا وائرس کی وبا کے متعلق کچھ اہم اقدامات کا ارادہ رکھتے ہیں اوراس اہم کام کے لیے دوسرے ماہرین تعلیم اور اسٹیک ہولڈرز کو بھی ساتھ ملایں ۔ اور اس کے بعد یونیورسٹیز میں موجود مختلف سائنسدانوں، ریسرچرز اور پروفیشنل پالیسی لابنگ کرنے والے افراد پر مشتعمل ایک مضبوط گروپ تشکیل پانا شروع ہوا۔

    اگلے 02 گھنٹوں میں ، رات 12 بجے تک ، رفاہ انسٹیٹیوٹ اف پبلک پالیسی، رفاہ یونیورسٹی ، قائداعظم یونیورسٹی ، یونیورسٹی آف بلوچستان ، یونیورسٹی آف سیالکوٹ ، پنجاب یونیورسٹی ، پی یو ایم این ایچ اور دیگر اداروں کے 20 سے زائد سائنس دان مل کر تبادلہ خیال کر رہے تھے ، اور اس پر عملدرآمد کے لئے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں۔ اس کمیونٹی کے بہت سے اقدامات سامنے آئے جس سے COVID19 کا مقابلہ کرنے کے طریق کار پر ذہن سازی ہوئی۔ وہ خاموش فوجیوں کی طرح دن میں 18 گھنٹے کام کر رہے ہیں لیکن اب ان کی آواز بڑے پیمانے پر سنائی دیتی ہے۔

    فواد چوہدری صاحب ( وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی) نے گذشتہ روز ٹویٹ کیا کہ یونیورسٹیز کرونا کے خلاف آگے نہیں آرہیں۔ اس بات کا جواب دیتے ہوئے کنسورشیم کے فوکل پرسن اور رفاہ یونیورسٹی کے فکلیٹی ممبر کاشف ظہیر کمبوہ نے کنسورشیم کی خدمات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بہت اہم کام کئیے ہیں۔

    ہماری ٹیمز نے مارکیٹس کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ مارکیٹ میں سینٹایزر کے حوالے سے دھوکہ دہی کی جا رہی تھی۔اینٹی وائرس سینی ٹائزر میں 70 فی صد ایتھانول ہونا چاہیے۔ لیبل پر 70 فیصد ایتھانول کے فعال اجزاء دکھائے جانے والے سینٹایزر بنانے اور فروخت کرنے میں مارکیٹ میں کوئی برانڈ نہیں تھا۔ سائنس دانوں نے اس مسئلے کی نشاندہی کی ، تحریری حکمت عملی کی تجویز پیش کی اور اس پیغام کو پھیلاتے ہوئے متعلقہ اداروں کو احساس دلایا کہ کم معیار اور حفظان صحت کے اصولوں کےخلاف بنانے گئے ان برانڈز کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں۔ جس کی وجہ سے اب کچھ برانڈز نے لیبل پر 70 فیصد فعال مواد لکھنا شروع کردیا ہے۔ لیکن ابھی بھی دھوکہ دہی جاری ہے۔

    یونیورسٹیز کے رابطے میں سٹوڈنٹس کو عوام تک یہ پیغام پہنچانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ یہ شعور دیا گیا کہ ایتھنول یا آئی پی اے جیسے 70 فیصد فعال اجزا لیبل پر درج نہ ہونے والے سینیٹائزر نہیں خریدنا چاہئے۔ کیونکہ یہ ڈبلیو ایچ او اور ایف ڈی اے کے رہنما اصول ہیں۔

    کرونا کے بارے میں درست معلومات کا فقدان تھا۔

    سائنس دانوں نے اس امر کو سمجھا کہ کورونا کے بارے میں گردش کرنے والی زیادہ تر معلومات غلط ہیں۔ سائنس دانوں نے رضاکارانہ طور پر مستند معلومات کی تصدیق کی جو اب عوام کو بتائ جارہی ہیں۔ ہزاروں افراد نے اس قابل اعتماد ذریعہ سے آنے والی معلومات پر اعتماد کرنا اور ان کی تشہیر کرنا شروع کردیا۔ سائنسدانوں کی زیر نگرانی معلومات کو فیس بک پیج, ٹویٹر ، انسٹاگرام اور وٹس ایپ کےذریعے شیئر کیا جا رہا ہے۔ مزید براں اس کے علاوہ معلومات کو شیئر کرنے سے پہلے لوگ اب تصدیق کے لیے اس گروپ کو معلومات بھیجتے ہیں۔

    لوگوں کو سائنس دانوں کے اس گروپ کے ذریعہ یا صرف مستند ذرائع سے مستند معلومات تک رسائی حاصل کرنا چاہئے۔

    ڈاکٹر صاحبان کے لیے ایپ کی تیاری ایک بہت ہی ضروری عمل تھا۔

    ہم نے جب مختلف شہروں میں موجود ڈاکٹروں سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر ایک دوسرے کے ساتھ منسلک
    نہیں ہیں اور وہ تجربات کا تبادلہ کرنے اور دستیاب مریضوں کی ہسٹری سے نتائج حاصل کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

    یو نیورسٹی آف سیالکوٹ کے ڈاکٹر صبیح کی نگرانی میں ترقیاتی ٹیم کے ایک گروپ نے میڈیکل ڈاکٹروں کی نگرانی میں اینڈروئیڈ ایپ تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اور اس پر کام شروع کیا گیا ہے اور 1-2 دن میں تمام ڈاکٹر ایک دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیالات کرسکیں گے۔

    پوری دنیا میں وینٹیلیٹر کی دستیابی سب سے بڑا مسئلہ ہے

    پوری دنیا میں اموات کی ایک بڑی وجہ وینٹیلیٹروں کی کمی ہے۔ مقامی وینٹیلیٹروں کی تیاری کے لئے سائنسدانوں کی ایک ٹیم تیار کی گئی ہے ۔ سیالکوٹ میں جراحی کے آلات تیار کرنے والی ایک بڑی کمپنی نے سرمایہ کاری پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس وجہ سے قابل عمل ڈیزائن سامنے آئے ہیں۔ یونیورسٹی آف سیالکوٹ ، پٹاک ، سرگودھا انڈسٹری اور قائداعظم یونیورسٹی کی ٹیم ایک پروٹو ٹائپ وینٹی لیٹر کو تیزی سے بنانے کے لئے دن رات کام کر رہی ہے۔

    اسی طرح کے نظریات پر کام کرنے والی دوسری ٹیموں کو بھی مقامی وینٹیلیٹر بنانے کے لئے اس میں شامل ہونے کے لئے مدعو کیا گیا ہے۔

    پٹاک PITAC ابتدائی طور پر پنجاب حکومت کے جزوی لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند تھا۔ انجیر عرفان جو کے ڈائریکٹر پٹاک PITAC ہیں نے ذاتی کوششیں کیں اور پروٹو ٹائپ کی تیاری میں آسانی کے لئے پٹاک PITAC کو جزوی طور پر کھول دیا۔

    پٹاک PITAC تمام سائنس دانوں کو اور جدید نظریات کو جو وینٹلیر کے پروٹو ٹائپ بنانے میں مدد گار ہیں کا خیرمقدم کرتا ہے اور ہر قسم کی دستیاب سہولیات کی فراہمی کا یقین دلاتا ہے۔

    رضاکار وں کی ٹیم کی تیاری

    ایک اور عظیم اقدام جیسے کے وزیراعظم نے ہر ضلع میں شدید بحران کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایک ٹیم ٹائیگر فورس تیار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یونیورسٹی آف سیالکوٹ نے اپنے 1000 سے زاید سابق طلباء اور دیگر نوجوانوں پر مشتمل ایک ٹیم بنائی ہے۔ جو کے کورونا سے متعلق عوامی خدمات کے لئے تربیت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس کامیاب ماڈل کے بعد یہ ماڈل دوسرے اضلاع میں بھی تیار کیا جائے گا۔ اسی طرز پر دوسری یونیورسٹیز بھی والنٹیرز پروگرام شروع کرنے جارہی ہیں۔

    آن لائن تعلیم کا نظام

    یونیورسٹی آف سیالکوٹ نے اپنا انتظامی نظام LSM تیار کیا ہے جو بہت ہی صارف دوست ہے۔ اسی طرح رفاہ یونیورسٹی نے آن لائن نظام معلم تیار کیا ہے۔ یونیورسٹیز کے نظام کی بدولت اساتذہ اور طلبہ گھر سے آن لائن درس و تدریس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ یہ نظام اب دوسرے اداروں اور تنظیموں کو پیش کیا گیا ہے تاکہ تعلیم کا عمل چلتا رہے۔

  • آن لائن کلاسز نہیں بریک پرجانا چاہتے ہیں ، طلبا کا مطالبہ مقبول ترین ہیش ٹیگ بن گیا

    آن لائن کلاسز نہیں بریک پرجانا چاہتے ہیں ، طلبا کا مطالبہ مقبول ترین ہیش ٹیگ بن گیا

    لاہور:آن لائن کلاسز نہیں بریک پرجانا چاہتے ہیں ، طلبا کا مطالبہ مقبول ترین ہیش ٹیگ بن گیا ،باغی ٹی وی کےمطابق کرونا وائرس کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں ہونے والی تعطیلات بھی ایک اہم ایشوبن کررہ گئی ہیں ، پاکستان کے تعلیمی اداروں کے طلبا نے بھی چھوٹی کلاسز کے طالب علموں کی طرح چند دن سکون کی زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ہے

    باغی ٹی وی کےمطابق اس وقت ٹویٹرپرطلبا کی طرف سے یہ مقبول ترین ہیش ٹیگ بن کررہ گیا ہے، اس ہیش ٹیگ میں‌اس وقت بڑی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، ہیش ٹیگ ہے کہ "طلباء سمیسٹر بریک کا مطالبہ کر رہے . یونیورسٹیز کی آن لائن کلاسز چل رہی ہیں جن پر طلباء و طالبات کو اعتراض ہے اور وہ چاہ رہے ہیں کہ سمیسٹر بریک کیا جائے

    یاد رہےکہ کرونا وائرس کے پھیلاو کی وجہ سے پاکستان کے تمام تعلیمی اداروں میں چھٹیاں کردی گئیں‌تھیں ، تاہم بعد ازاں بڑی تعداد میں پرائیویٹ یونیورسٹیز،کالجزاوردوسرے تعلیمی اداروں نے آن لائن کلاسز کا بہانہ بناکرطالب علموں کو لوٹنا شروع کردیا تھا ،جس پرسخت ردعمل بھی آرہا ہےاوربڑی تعداد میں طلباکی طرف سے بالکل پرسکون رہنے کا مطالبہ بھی پکڑرہا ہے،

  • قرآن پاک حفظ کرنے اور دورہ حدیث مکمل کرنے پر جامعہ تعلیم القران اکیڈمی کے 30طلباء طالبات کی دستار بندی

    قرآن پاک حفظ کرنے اور دورہ حدیث مکمل کرنے پر جامعہ تعلیم القران اکیڈمی کے 30طلباء طالبات کی دستار بندی

    راولپنڈی:قرآن پاک حفظ کرنے اور دورہ حدیث مکمل کرنے پر جامعہ تعلیم القران اکیڈمی کے 30طلباء طالبات کی دستار بندی وچادر پوشی کی گئی ۔جن میں 18 طالبات اور 12 طلباء شامل ہیں

    ۔ جامعہ تعلیم القران اکیڈمی کےبانی و مہتمم مفتی ناصر محمود عباسی کی زیر صدارت منعقدہ تقریب میں مہمان خصوصی مولانا عبدالکریم ندیم نے مرکز اہلسنت جامع مسجد سید المرسلین خانقاہ عباسیہ ڈھوک کشمیریاں راولپنڈی میں قر آن حفظ کرنے والے 12 طلباء کی دستار بندی کی ۔ تقریب ختم بخاری اوردستار بندی وچادر پوشی سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی پاکستان علماء کونسل العالمی کے سینئر نائب چیئرمین مولانا عبدالکریم ندیم کا کہنا تھا کہ علم نبوت حاصل کرنے والے ہی اصلی امت مسلمہ کا اساس اور بنیاد ہیں اور اسی پر ہی اہل اسلام اور دنیا کی بقاء ہے

    یہی وہ چیز ہے جس کی ہر ایک انسان کو ضرورت ہے ۔الحمد اللہ اس ضرورت کو پورا کرنے کےلیے دنیا بھر میں دینی مدارس قائم ہیں ۔

    مدرسہ جامعہ تعلیم القران اکیڈمی و جامع مسجد سید المرسلین علوم نبوت کو پھیلانے میں اپنا کردار ادا کررہا ہے ۔ اس وقت بھی جامعہ میں 200 سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ جبکہ18 سالوں میں ہزاروں علماء یہاں سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ملک بھر میں دینی کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں

    جس پر جامعہ تعلیم القران کےبانی و مہتمم مفتی ناصر محمود عباسی کو ان کی دینی خدمات پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ مہمان خصوصی کا کہنا تھا کہ دینی مدارس پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے ضامن ہیں اور ان مدارس کے سبب کوئی بھی دشمن پاکستان کی جانب میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ہے ۔

    تقریب میں پاکستان علماء کونسل کے نائب چیئرمین مولانا نعمان حاشر،قاری اسد جان، صاحبزادہ سعد ندیم ، مفتی عبداللہ بن عباس ،مفتی مجیب الرحمان ،مولانامحمد نعیم عباسی ،قاری عبدالرشید ،قاری امجد اقبال ،چیئرمین پختون ایکشن کمیٹی پاکستان جاوید خان بنگش اور نواب آف پسوال نوازش علی خان نے بھی شرکت کی ۔

  • کورونا وائرس نے تعلیمی نظام کوبھی تباہ کردیا :  پنجاب میں نویں جماعت کے امتحانات ملتوی

    کورونا وائرس نے تعلیمی نظام کوبھی تباہ کردیا : پنجاب میں نویں جماعت کے امتحانات ملتوی

    لاہور: کورونا وائرس نے تعلیمی نظام کوبھی تباہ کردیا ،پنجاب میں نویں جماعت کے امتحانات ملتوی کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں نویں جماعت کے امتحانات بھی ملتوی کر دیئے گئے، محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے رات گئے فیصلہ تبدیل کرلیا۔

    تفصیلات کے مطابق کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں نویں جماعت کے امتحانات بھی ملتوی کر دیئے گئے ہیں، محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے رات گئے فیصلہ تبدیل کرلیا۔

    محکمہ ہائیرایجوکیشن نے کہا ہے کہ 14 مارچ سے کوئی امتحان نہیں ہوگا، نیا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے اقدامات کرتے ہوئے محکمہ ہائیر ایجوکیشن نے تمام سرکاری اور نجی کالجز بند کرنے کاحکم دے دیا ہے۔

    تمام ہاسٹلز کو خالی کرانے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں اس کے علاوہ یونیورسٹی اسپورٹس لیگ کے تمام میچز بھی منسوخ کردیئے گئے۔

  • اگرانگریزی بولنا نہیں آتی توسیکھیں پھرفرفرانگریزی بولنے والی دادی اماں سے ، جس کی انگریزی نے دھوم مچا دی

    اگرانگریزی بولنا نہیں آتی توسیکھیں پھرفرفرانگریزی بولنے والی دادی اماں سے ، جس کی انگریزی نے دھوم مچا دی

    نئی دہلی :اگرانگریزی بولنا نہیں آتی توسیکھیں پھرفرفرانگریزی بولنے والی دادی اماں سے ، جس کی انگریزی نے دھوم مچا دی،سوشل میڈیا پرفرفر انگریزی بولنے والی دادی نے سب کو حیران و پریشان کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق مہاتما گاندھی کا انگریزی میں تعارف کروانے والی بھارتی دادی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔اس ویڈیوکوسوشل میڈیا پراس وقت بہت زیادہ لائیک کیا جارہا ہے، ادھرسوشل میڈیا پرصارفین کہ کہہ رہے ہیں کہ جس کو انگریزی بولنا نہیں آتی وہ فر فرانگریزی بولنے والی دادی اماں سے سیکھ لے

    ویڈیو بنانے والی خاتون بو ڑھی اماں سے کہتی ہیں کہ مہاتما گاندھی کے بارے میں بتائیے تو دادی تیز روانی سے انگریزی میں گاندھی کے حالاتِ زندگی کے بارے میں بتاتی ہیں اور پھر آخر میں اپنا تعارف بھی کرواتی ہیں۔

  • پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں بدعنوانی کے بڑے سکینڈل کا انکشاف، کون کون ملوث ہیں ، خبرنے تہلکہ مچادیا

    پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں بدعنوانی کے بڑے سکینڈل کا انکشاف، کون کون ملوث ہیں ، خبرنے تہلکہ مچادیا

    لاہور: پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں بدعنوانی کے بڑے سکینڈل کا انکشاف، کون کون ملوث ہیں ، خبرنے تہلکہ مچادیا ،اطلاعات کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کا سکینڈل سامنے آگیا۔ سکولز اور این جی اوز کی سرکاری افسران کی مبینہ ملی بھگت سے سرکاری خزانے کو ایک ارب روپے س زائد کا ٹیکہ لگایا گیا۔

    ذرائع کےمطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت 2 لاکھ 87 ہزار سے زائد بچے سکولوں سے غائب ہیں۔ جبکہ سرکاری ریکارڈ جعلی بچوں کو ظاہر کر نے کے بعدسالانہ ایک ارب دس کروڑ روپے سےزائد کے فنڈز ہڑپ کیے گیے۔سرکاری رپورٹ کے مطابق 2لاکھ چار ہزار بچہ سات روز سے ہی غائب پایا گیا جبکہ 83 ہزار 454 بچے ایک دن بھی سکول نہیں آیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق دو لاکھ سے زائد بچے ایسے ہیں جن کا جعلی ریکارڈ تیار کر کے سرکاری خزانے سے ماہانہ فی بچہ کے حساب سے 550 روپے تقریبا دو سال سے ہی دئیے جا رہے ہیں اور یہ بھی تحقیقات میں بات سامنے آئی ہے کہ ماہانہ 15کروڑ 80لاکھ جبکہ سالانہ تقریبا ایک ارب 89کروڑ روپے کا سرکاری خزانے کو ٹیکہ لگ رہا ہے۔

    اس حوالے سے سرکاری رپورٹ پر ایم ڈی پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی جانب سے سابق ایم ڈی کرنل (ر)عمران یعقوب جو کہ اس وقت ڈپٹی ایم ڈی کے طورپر کام کر رہے ہیں ان کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر کرنل ریٹائرڈاطہر رئوف اور ڈپٹی ایم ڈی فنانس زبیدالسلام کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب بھی مانگ لیا ہے۔

    دوسری جانب یہی افسران سمیت چیئرمین پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن واسق قیوم عباسی، سیکرٹری سکولز پنجاب مراد راس کے علم میں ہونے کے باوجود معاملات پر خاموشی اختیار کئے رکھے ہیں اور اس معاملے کو دبانے کے لئے ہر ممکن کوششیں کی جارہی ہیں۔ایم ڈی پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن شمیم آصف کا کہنا ہے کہ معاملہ ان کے علم میں ہے، تحقیقات کی جارہی ہیں،، متعلقہ افسران سے جوابات مانگ لئے ہیں۔